Surat ul Hadeed

Surah: 57

Verse: 12

سورة الحديد

یَوۡمَ تَرَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ یَسۡعٰی نُوۡرُہُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ بِاَیۡمَانِہِمۡ بُشۡرٰىکُمُ الۡیَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ۚ۱۲﴾

On the Day you see the believing men and believing women, their light proceeding before them and on their right, [it will be said], "Your good tidings today are [of] gardens beneath which rivers flow, wherein you will abide eternally." That is what is the great attainment.

۔ ( قیامت کے ) دن تو دیکھے گا کہ مومن مردوں اور عورتوں کا نور انکے آگے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا آج تمہیں ان جنتوں کی خوشخبری ہے جنکے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں ہمیشہ کی رہائش ہے ۔ یہ ہے بڑی کامیابی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Believers are awarded a Light on the Day of Resurrection, according to Their Good Deeds Allah the Exalted states, يَوْمَ تَرَى الْمُوْمِنِينَ وَالْمُوْمِنَاتِ ... On the Day you shall see the believing men and the believing women -- Allah the Exalted states that the believers who spend in charity will come on the Day of Resurrection with their light preceding them in the area of the Gathering, according to the level of their good deeds. As reported from Abdullah bin Mas`ud who explained this ayah: ... يَسْعَى نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ... their light running forward before them, "They will pass over the Sirat according to their deeds. Some of them will have a light as large as a mountain, some as a date tree, some as big as a man in the standing position. The least among them has a light as big as his index finger, it is lit at times and extinguished at other times." Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir collected this Hadith. Ad-Dahhak commented on the Ayah, "Everyone will be given a light on the Day of Resurrection. When they arrive at the Sirat, the light of the hypocrites will be extinguished. When the believers see this, they will be concerned that their light also will be extinguished, just as the light of the hypocrites was. This is when the believers will invoke Allah, `O our Lord! Perfect our light for us."' Allah's statement, وَبِأَيْمَانِهِم (and in their right hands), Ad-Dahhak said: "Their Books of Records." As Allah said: فَمَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ So whosoever is given his record in his right hand. (17:71) Allah said, ... بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الاَْنْهَارُ ... Glad tidings for you this Day! Gardens under which rivers flow, meaning, it will be said to them, "Receive glad tidings this Day, of gardens beneath which rivers flow, ... خَالِدِينَ فِيهَا ... to dwell therein forever!, you will remain therein forever," ... ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ Truly, this is the great success! The Condition of the Hypocrites on the Day of Resurrection Allah said,

اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہو گا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہو گا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہو گا جو کبھی روشن ہوتا ہو گا اور کبھی بجھ جاتا ہو گا ( ابن جریر ) حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہو گا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعا دور ہے ۔ بعض اس سے کم بعض اس سے کم یہاں تک کہ بعض وہ بھی ہوں گے جن کے نور سے صرف ان کے دونوں قدموں کے پاس ہی اجالا ہو گا ۔ حضرت جنادہ بن ابو امیہ فرماتے ہیں لوگو ! تمہارے نام مع ولدیت کے اور خاص نشانیوں کے اللہ کے ہاں لکھے ہوئے ہیں اسی طرح تمہارا ہر ظاہر باطن عمل بھی وہاں لکھا ہوا ہے قیامت کے دن نام لے کر پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ اے فلاں یہ تیرا نور ہے اور اے فلاں تیرے لئے کوئی نور ہمارے ہاں نہیں ۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں اول اول تو ہر شخص کو نور عطا ہو گا لیکن جب پل صراط پر جائیں گے تو منافقوں کا نور بجھ جائے گا اسے دیکھ کر مومن بھی ڈرنے لگیں گے کہ ایسا نہ ہو ہمارا نور بھی بجھ جائے تو اللہ سے دعائیں کریں گے کہ یا اللہ ہمارا نور ہمارے لئے پورا پورا کر ۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اس آیت سے مراد پل صراط پر نور کا ملنا ہے تاکہ اس اندھیری جگہ سے با آرام گذر جائیں ۔ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے پہلے سجدے کی اجازت قیامت کے دن مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کا حکم بھی مجھے ہو گا میں آگے پیچھے دائیں بائیں نظریں ڈالوں گا اور اپنی امت کو پہچان لوں گا تو ایک شخص نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آپ کی امت تک کی تمام امتیں اس میدان میں اکٹھی ہوں گی ان میں سے آپ اپنی امت کی شناخت کیسے کریں گے؟ آپ نے فرمایا بعض مخصوص نشانیوں کی وجہ سے میری امت کے اعضاء وضو چمک رہے ہوں گے یہ وصف کسی اور امت میں نہ ہو گا اور انہیں ان کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کے چہرے چمک رہے ہوں گے اور ان کا نور ان کے آگے آگے چلتا ہو گا اور ان کی اولاد ان کے ساتھ ہی ہو گی ۔ ضحاک فرماتے ہیں ان کے دائیں ہاتھ میں ان کا عمل نامہ ہو گا جیسے اور آیتوں میں تشریح ہے ۔ ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے چپے چپے پر چشمے جاری ہیں جہاں سے کبھی نکلنا نہیں ، یہ زبردست کامیابی ہے ۔ اس کے بعد کی آیت میں میدان قیامت کے ہولناک دل شکن اور کپکپا دینے والے واقعہ کا بیان ہے کہ سوائے سچے ایمان اور کھرے اعمال والوں کے نجات کسی کو منہ دکھائے گی ۔ سلیم بن عامر فرماتے ہیں ہم ایک جنازے کے ساتھ باب دمشق میں تھے جب جنازے کی نماز ہو چکی اور دفن کا کام شروع ہوا تو حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا لوگو! تم اس دنیا کی منزل میں آج صبح شام کر رہے ہو نیکیاں برائیاں کر سکتے ہو اس کے بعد ایک اور منزل کی طرف تم سب کوچ کرنے والے ہو وہ منزل یہی قبر کی ہے جو تنہائی کا ، اندھیرے کا ، کیڑوں کا اور تنگی اور تاریکی والا گھر ہے مگر جس کے لئے اللہ تعالیٰ اسے وسعت دے دے ۔ یہاں سے تم پھر میدان قیامت کے مختلف مقامات پر وارد ہو گے ۔ ایک جگہ بہت سے لوگوں کے چہرے سفید ہو جائیں گے اور بہت سے لوگوں کے سیاہ پڑ جائیں گے ، پھر ایک اور میدان میں جاؤ گے جہاں سخت اندھیرا ہو گا وہاں ایمانداروں کو نور تقسیم کیا جائے گا اور کافر و منافق بےنور رہ جائے گا ، اسی کا ذکر آیت ( او ظلمات ) الخ ، میں ہے پس جس طرح آنکھوں والے کی بصارت سے اندھا کوئی نفع حاصل نہیں کر سکتا منافق و کافر ایماندار کے نور سے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے گا ۔ تو منافق ایمانداروں سے آرزو کریں گے کہ اس قدر آگے نہ بڑھ جاؤ کچھ تو ٹھہرو جو ہم بھی تمہارے نور کے سہارے چلیں تو جس طرح یہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ مکر و فریب کرتے تھے آج ان سے کہا جائے گا کہ لوٹ جاؤ اور نور تلاش کر لاؤ یہ واپس نور کی تقسیم کی جگہ جائیں گے لیکن وہاں کچھ نہ پائیں گے ، یہی اللہ کا وہ مکر ہے جس کا بیان آیت ( اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا ١٤٢؁ۡۙ ) 4- النسآء:142 ) ، میں ہے ۔ اب لوٹ کر یہاں جو آئیں گے تو دیکھیں گے کہ مومنوں اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل ہو گئی ہے جس کے اس طرف رحمت ہی رحمت ہے اور اس طرف عذاب و سزا ہے ۔ پس منافق نور کی تقسیم کے وقت تک دھوکے میں ہی پڑ رہے گا نور مل جانے پر بھید کھل جائے گا تمیز ہو جائے گی اور یہ منافق اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائیں گے ۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ جب کامل اندھیرا چھایا ہوا ہو گا کہ کوئی انسان اپنا ہاتھ بھی نہ دیکھ سکے اس وقت اللہ تعالیٰ ایک نور ظاہر کرے گا مسلمان اس طرف جانے لگیں گے تو منافق بھی پیچھے لگ جائیں گے ۔ جب مومن زیادہ آگے نکل جائیں گے تو یہ انہیں ٹھہرانے کے لئے آواز دیں گے اور یاد دلائیں گے کہ دنیا میں ہم سب ساتھ ہی تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی پردہ پوشی کے لئے ان کے ناموں سے پکارا جائے گا لیکن پل صراط پر تمیز ہو جائے گی مومنوں کو نور ملے گا اور منافقوں کو بھی ملے گا لیکن جب درمیان میں پہنچ جائیں گے منافقوں کا نور بجھ جائے گا یہ مومنوں کو آواز دیں گے لیکن اس وقت خود مومن خوف زدہ ہو رہے ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ہر ایک آپادھاپی میں ہو گا ، جس دیوار کا یہاں ذکر ہے یہ جنت و دوزخ کے درمیان حد فاصل ہو گی اسی کا ذکر آیت ( وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ۚ وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۣ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ 46؀ ) 7- الاعراف:46 ) میں ہے ۔ پس جنت میں رحمت اور جہنم میں عذاب ۔ ٹھیک بات یہی ہے لیکن بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کی دیوار ہے جو جہنم کی وادی کے پاس ہو گی ، ابن عمر سے مروی ہے کہ یہ دیوار بیت المقدس کی شرقی دیوار ہے جس کے باطن میں مسجد وغیرہ ہے اور جس کے ظاہر میں وادی جہنم ہے اور بعض بزرگوں نے بھی یہی کہا ہے ، لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کا مطلب یہ نہیں کہ بعینہ یہی دیوار اس آیت میں مراد ہے بلکہ اس کا ذکر بطور قرب کے معنی میں آیت کی تفسیر میں ان حضرات نے کر دیا ہے اس لئے کہ جنت آسمانوں میں اعلیٰ علین میں ہے اور جہنم اسفل السافلین میں حضرت کعب احبار سے مروی ہے کہ جس دروازے کا ذکر اس آیت میں ہے اس سے مراد مسجد کا باب الرحمت ہے یہ بنو اسرائیل کی روایت ہے جو ہمارے لئے سند نہیں بن سکتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دیوار قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کے درمیان علیحدگی کے لئے کھڑی کی جائے گی مومن تو اس کے دروازے میں سے جا کر جنت میں پہنچ جائیں گے پھر دروازہ بند ہو جائے گا اور منافق حیرت زدہ ظلمت و عذاب میں رہ جائیں گے ۔ جیسے کہ دنیا میں بھی یہ لوگ کفر و جہالت شک و حیرت کی اندھیروں میں تھے ، اب یہ یاد دلائیں گے کہ دیکھو دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے جمعہ جماعت ادا کرتے تھے عرفات اور غزوات میں موجود رہتے تھے واجبات ادا کرتے تھے ۔ ایماندار کہیں گے ہاں بات تو ٹھیک ہے لیکن اپنے کرتوت تو دیکھو گناہوں میں نفسانی خواہشوں میں اللہ کی نافرمانیوں میں عمر بھر تم لذتیں اٹھاتے رہے اور آج توبہ کرلیں گے کل بد اعمالیوں چھوڑ دیں گے اسی میں رہے ۔ انتظار میں ہی عمر گزاری دی کہ دیکھیں مسلمانوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اور تمہیں یہ بھی یقین نہ آیا کہ قیامت آئے گی بھی یا نہیں؟ اور پھر اس آرزو میں رہے کہ اگر آئے گی پھر تو ہم ضرور بخش دیئے جائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی طرف یقین خلوص کے ساتھ جھکنے کی توفیق میسر نہ آئی اور اللہ کے ساتھ تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ہی رکھا ۔ یہاں تک کہ آج تم جہنم واصل ہو گئے ۔ مطلب یہ ہے کہ جسموں سے تو تم ہمارے ساتھ تھے لیکن دل اور نیت سے ہمارے ساتھ نہ تھے بلکہ حیرت و شک میں ہی پڑے رہے ریا کاری میں رہے اور دل لگا کر یاد الٰہی کرنا بھی تمہیں نصیب نہ ہوا ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ یہ منافق مومنوں کے ساتھ تھے نکاح بیاہ مجلس مجمع موت زیست میں شریک رہے ۔ کہ خبردار ان کا رنگ تم پر نہ چڑھ جائے ۔ اصل و فرع میں ان سے بالکل الگ رہو ، ابن ابی حاتم میں ہے حضرت ربیع بن ابو عمیلہ فرماتے ہیں قرآن حدیث کی مٹھاس تو مسلم ہی ہے لیکن میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک بہت ہی پیاری اور میٹھی بات سنی ہے جو مجھے بیحد محبوب اور مرغوب ہے آپ نے فرمایا جب بنو اسرائیل کی الہامی کتاب پر کچھ زمانہ گذر گیا تو ان لوگوں نے کچھ کتابیں خود تصنیف کرلیں اور ان میں وہ مسائل لکھے جو انہیں پسند تھے اور جو ان کے اپنے ذہن سے انہوں نے تراش لئے تھے ، اب مزے لے لے کر زبانیں موڑ موڑ کر انہیں پڑھنے لگے ان میں سے اکثر مسائل اللہ کی کتاب کے خلاف تھے جن جن احکام کے ماننے کو ان کا جی نہ چاہتا تھا انہوں نے بدل ڈالے تھے اور اپنی کتاب میں اپنی طبیعت کے مطابق مسائل جمع کر لئے تھے اور انہی پر عامل بن گئے ، اب انہیں سوجھی کہ اور لوگوں کو بھی منوائیں اور انہیں بھی آمادہ کریں کہ ان ہی ہماری لکھی ہوئی کتابوں کو شرعی کتابیں سمجھیں اور مدار عمل انہیں پر رکھیں اب لوگوں کو اسی کی دعوت دینے لگے اور زور پکڑتے گئے ، یہاں تک کہ جو ان کی ان کتابوں کو نہ مانتا اسے یہ ستاتے تکلیف دیتے مارتے پیٹتے بلکہ قتل کر ڈالتے ، ان میں ایک شخص اللہ والے پورے عالم اور متقی تھے انہوں نے ان کی طاقت سے اور زیادتی سے مرعوب ہو کر کتاب اللہ کو ایک لطیف چیز پر لکھ کر ایک نر سنگھے میں ڈال کر اپنی گردن میں اسے ڈال لیا ، ان لوگوں کا شر و فساد روز بروز بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ بہت سے ان لوگوں کو جو کتاب اللہ پر عامل تھے انہوں نے قتل کر دیا ، پھر آپس میں مشورہ کیا کہ دیکھو کہ یوں ایک ایک کو کب تک قتل کرتے رہیں گے؟ ان کا بڑا عالم اور ہماری اس کتاب کو بالکل نہ ماننے والا تمام بنی اسرائیل میں سب سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عامل فلاں عالم ہے اسے پکڑو اور اس سے اپنی یہ رائے قیاس کی کتاب منواؤ اگر وہ مان لے گا تو پھر ہماری چاندی ہی چاندی ہے اور اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کر دو پھر تمہاری اس کتاب کا مخالف کوئی نہ رہے گا اور دوسرے لوگ خواہ مخواہ ہماری ان کتابوں کو قبول کرلیں گے اور انہیں ماننے لگیں گے ، چنانچہ ان رائے قیاس والوں نے کتاب اللہ کے عالم و عامل اس بزرگ کو پکڑوا منگوایا اور اس سے کہا کہ دیکھ ہماری اس کتاب میں جو ہے اسے سب کو تو مانتا ہے یا نہیں؟ ان پر تیرا ایمان ہے یا نہیں؟ اس اللہ ترس کتاب اللہ کے ماننے والے عالم نے کہا اس میں تم نے کیا لکھا ہے؟ ذرا مجھے سناؤ تو ، انہوں نے سنایا اور کہا اس کو تو مانتا ہے؟ اس بزرگ کو اپنی جان کا ڈر تھا اس لئے جرات کے ساتھ یہ تو نہ کہہ سکا کہ نہیں مانتا بلکہ اپنے اس نرسنگھے کی طرف اشارہ کر کے کہا میرا اسپر ایمان ہے وہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا اشارہ ہماری اس کتاب کی طرف ہے ۔ چانچہ اس کی ایذاء رسانی سے باز رہے لیکن تاہم اس کے اطوار و افعال سے کھٹکتے ہی رہے یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہوا تو انہوں نے تفتیش شروع کی کہ ایسا نہ ہو اس کے پاس کتاب اللہ اور دین کے سچے مسائل کی کوئی کتاب ہو آخر وہ نرسنگھا ان کے ہاتھ لگ گیا پڑھا تو اس میں اصلی مسائل کتاب اللہ کے موجود تھے اب بات بنالی کہ ہم نے تو کبھی یہ مسائل نہیں سنے ایسی باتیں ہمارے دین کی نہیں چنانچہ زبردست فتنہ برپا ہو گیا اور بہتر گروہ ہو گئے ان سب میں بہتر گروہ جو راستی پر اور حق پر تھا وہ تھا جو اس نرسنگھے والے مسائل پر عامل تھا ۔ حضرت ابن مسعود نے یہ واقعہ بیان فرما کر کہا لوگو تم میں سے بھی جو باقی رہے گا وہ ایسے ہی امور کا معائنہ کرے گا اور وہ بالکل بےبس ہو گا ان بری کتابوں کے مٹانے کی اس میں قدرت نہ ہو گی ، پس ایسے مجبوری اور بےکسی کے وقت بھی اس کا یہ فرض تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پر یہ ثابت کر دے کہ وہ ان سب کو برا جانتا ہے ۔ امام ابو جعفر طبری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عتریس بن عرقوب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابو عبد اللہ جو شخص بھلائی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے وہ ہلاک ہوا آپ نے فرمایا ہلاک وہ ہو گا جو اپنے دل سے اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے ، پھر آپ نے بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بیان فرمایا ۔ پھر ارشاد باری لیکن اب یہاں بالکل الگ کر دیئے گئے ۔ سورہ مدثر کی آیتوں میں ہے کہ مسلمان مجرموں سے انہیں جہنم میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ آخر تم یہاں کیسے پھنس گئے اور وہ اپنے بد اعمال گنوائیں گے ۔ تو یاد رہے کہ یہ سوال صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لئے ہو گا ورنہ حقیقت حال سے مسلمان خوب آگاہ ہوں گے ۔ پھر یہ جیسے وہاں فرمایا تھا کہ کسی کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی ، یہاں فرمایا آج ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں قبول نہ کیا جائے گا نہ منافقوں سے نہ کافروں سے ان کا مرجع و ماویٰ جہنم ہے وہی ان کے لائق ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بدترین جگہ ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

121یہ عرصہ محشر میں پل صراط میں ہوگا، یہ نور ان کے ایمان اور عمل صالح کا صلہ ہوگا، جس کی روشنی میں وہ جنت کا راستہ آسانی سے طے کرلیں گے۔ امام ابن کثیر اور امام ابن جریر وغیرہما نے وَ بِاَیْمَانِھِمْ کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ ان کے دائیں ہاتھوں میں ان کے اعمال نامے ہوں گے۔ 2 یہ وہ فرشتے کہیں گے جو ان کے استقبال اور پیشوائی کے لیے وہاں ہوں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨] نور ایمانی کا انحصار ایمان کی کمی بیشی پر :۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت پیش آئے گا جب میدان محشر میں فیصلہ کے بعد مومن مردوں اور عورتوں کو جنت کا پروانہ راہداری مل جائے گا۔ پھر یہ بھی معلوم ہے کہ جنت کو جو راستہ جاتا ہے وہ جہنم سے ہو کرجاتا ہے اور ہر جنتی کو لازماً جہنم پر وارد ہونا ہوگا۔ (١٩: ٧١) اور پل صراط سے گزرنا ہوگا اور اس راستہ میں سخت تاریکی ہوگی۔ وہاں مومنوں کے اعمال صالحہ کا نور ہی کام آئے گا۔ جس قدر کسی کا ایمان پختہ اور نیک اعمال زیادہ ہوں گے اتنا ہی اس کا نور یا روشنی بھی زیادہ ہوگی۔ بعض روایات میں ہے کہ کچھ مومنوں کی روشنی اتنی دور تک پہنچے گی جیسے مدینہ اور عدن کا درمیانی فاصلہ ہے۔ بعض کا نور مدینہ سے صنعاء تک کے فاصلہ تک پہنچ رہا ہوگا اور بعض ایسے بھی ہوں گے جن کی روشنی ان کے اپنے قدموں سے آگے نہیں بڑھے گی اس روشنی کی کمی بیشی کی ایک توجیہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جس شخص کی کوششوں سے اسلام جتنی دور تک پھیلا ہوگا اور لوگوں کو ہدایت حاصل ہوئی ہوگی اس نسبت سے اس کے نور میں کمی بیشی ہوگی۔ [١٩] نیک اعمال اور دائیں جانب کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ اہل جنت کو اعمال نامہ بھی دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک شخص اندھیرے میں روشنی کا کوئی آلہ مثلاً لالٹین، لیمپ یا ٹارچ عموماً اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر چلتا ہے۔ اس کی روشنی سامنے اور دائیں ہاتھ تو خوب پڑتی ہے۔ مگر بائیں ہاتھ یا پیچھے بھی روشنی پڑتی تو ہے مگر بہت کم۔ یہی صورت حال اس دن ہوگی اور آگے جو روشنی پڑے گی اس کا تعلق دل سے ہے جس قدر کسی کا دل ایمان کی پختگی اور اس کے نور سے منور ہوگا اتنی ہی زیادہ اس کے آگے روشنی ہوگی اور دائیں طرف کی روشنی کا تعلق اس کے اعمال صالحہ سے ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ۔۔۔۔۔: یعنی قیامت ے دن جب سورج لپیٹ دیا جائے گا ( دیکھئے تکویر : ١) اور چاند بےنور ہوجائے گا ( دیکھئے قیامہ : ٨) اور ستارے بکھر کر گرجائیں گے ( دیکھئے انفطار : ٢) تو اس وقت سب لوگ سخت اندھیرے میں ہوں گے جہنم کے اوپر صراط ( پل) رکھا جائے گا جس پر سے ہر ایک کو گزرنا ہوگا ، جیسا کہ فرمایا :(وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَاج کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ) (مریم : ٧١)” اور تم میں سے جو بھی ہے اس وارد ہونے والا ہے ، یہ ہمیشہ سے تیرے رب کے ذمے قطعی بات ہے ، جس کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ “ وہاں روشنی صرف ایمان اور عمل صالح کی ہوگی ، جتنا ایمان کامل ہوگا اتنی ہی روشنی تیز ہوگی ۔ کافر اور منافق دنیا میں گمراہی کے اندھیرے میں رہے تو وہاں بھی وہ اندھیرے میں ہوں گے۔ مومن مردوں اور عورتوں کی روشنی ان کے ایمان و عمل کے مراتب کے مطابق ان کے آگے اور دنئیں جانب دوڑا رہی ہوگی اور وہاں انہیں یہ کہہ کر جنت کی بشارت دی جائے گی :(بُشْرٰکُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَاط ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) ( الحدید : ١٢)” آج تمہیں ایسے باغوں کی خوش خبری ہے جن کے تلے نہریں چلتی ہیں ، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہو، یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے “۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Believers will be awarded Light on the Day of Resurrection يَوْمَ تَرَ‌ى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَىٰ نُورُ‌هُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِم (On the Day when you will see the believing men and the believing women, their light proceeding in front of them and to their right hands,....57:12) &The day& refers to the &Day of Resurrection&. The fact of &light running before them& will take place just prior to people&s passing over the bridge of sirat. The details are given in a Tradition reported by Sayyidna Abu Umamah Bahili (رض) Ibn Kathir has cited it on the authority of Ibn Abi Hatim (رح) . The Tradition is lengthy. It recounts that Sayyidna Abu Umamah Bahili (رض) attended a funeral in Damascus. When it was over, he reminded people about death, the grave, the Resurrection and the Hereafter. A few of the statements are reproduced below in translation: |"Then you will be transferred from the graves to the plane of gathering where there will be different stages and spots to stand or wait. Then there will come a stage when some faces will brighten up and others will be darkened by the Divine command. Then there will come a stage when people - believers and non-believers - all will assemble on the Plane of Gathering. An intense darkness will prevail and nobody will be able to see anything. Thereafter light will be distributed. (Another report of Ibn Abi Hatim (رح) ، reported by Ibn Kathir, which he narrates on the authority of Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud (رض) says that each believer will receive the light commensurate with his deeds; some will have light as large as a mountain, some as a date tree, some as big as the height of a man. The least among them will have a light as big as his index finger; it will lit at times and extinguished at other times.) Sayyidna Abu Umamah Bahili (رض) then went on to say that the hypocrites and the infidels would not receive any light. The Holy Qur&an exemplifies it thus: أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ‌ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ ۚ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَ‌جَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَ‌اهَا ۗ وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ اللَّـهُ لَهُ نُورً‌ا فَمَا لَهُ مِن نُّورٍ‌ &or their deeds are like layers of darkness in a vast deep sea overwhelmed by a wave, above which there is another wave-layers of darkness, one above the other. When one puts forth his hand, he can hardly see it. And the one to whom Allah does not give light can have no light at all.|" (24:40) From this narration, it is learnt that the infidels and the hypocrites will be deprived of the light from the very beginning point where Allah will distribute light to the believing men and women after the intensely dark spot. But Tabrani reports a Tradition on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) عنہما that the Messenger of Allah said: |"Allah will send light to every believer at the bridge, and also to every hypocrite, but when the hypocrites reach the bridge, their light will be snatched away.|" (Ibn Kathir) This shows that the hypocrites will initially receive light, but when they reach the bridge, they will be deprived of it. Be that as it may, whether they will be deprived of light initially or it will be extinguished later on after receiving it at an earlier stage, they will plead to the believers: &Please wait for us! Let us take advantage of your light, because we were with you in the world when we performed salah, paid zakah, performed Hajj and even participated in jihad expeditions?& The request will be declined. The rejoinder to this plea is forthcoming in full details. It is in keeping with the characteristic of the hypocrites that they should first be shown the light, then it should be extinguished to leave them in total darkness, just as they behaved deceitfully in the world, as the Qur&an states: يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ Surely, the hypocrites [ try to ] deceive Allah while He is the One who leaves them in deception ... [ 4:142] Imam Baghawi says that &deception& here means that first the light will be sent to them, but it will be snatched away from them just in the nick of time when they will be needing it most crucially. At that crucial moment, the believers too will fear lest their light should be snatched away. As a result, they would implore thus: يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّـهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ ۖ نُورُ‌هُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَ‌بَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَ‌نَا وَاغْفِرْ‌ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ |"...on the Day when Allah will not disgrace the Prophet and those who believed with him. Their light will run before them and to their right hands. They will say, |"Our Lord, perfect for us our light, and forgive us. Indeed you are powerful over everything.|" [ 66:8] (Mazhari) Muslim, Ahmad and Darqutni record on the authority of Sayyidna Jabir Ibn ` Abdullah the Prophetic Hadith that at first, light will be given to both believers and hypocrites, but when the latter would reach the bridge, it will be snatched away from the hypocrites. Mazhari reconciles the two versions thus: There are two types of hypocrites, one of whom appeared in the time of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . This type will be treated like the infidels. The non-believers will not receive light from the very outset. Likewise, the hypocrites of the time of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) will be deprived of the light from the very outset. The second type of hypocrites appeared after the time of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، but they cannot be so called in the true sense of the word because revelation ended with the departure of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and without definitive evidence on the basis of revelation no one can be labeled, identified or classified as a munafiq [ hypocrite ]. The munafiq manifests the form of a man of faith in his outward practice, but his inner dimension is completely devoid of faith and belief. There is no way of knowing this for common people. However, Allah is fully aware of his inner and outer dimensions. He will treat each one accordingly. The munafiqs will be shown the light in the beginning, but when they would arrive at the bridge, their light will be put out and they will be groping in total darkness. In this category of munafiqs fall those people of this Ummah who distort the Qur&an and Hadith twisting their meanings to suit their own purposes. We seek Allah&s refuge from it. Causes of Light and Darkness on the Plane of Gathering Tafsir Mazhari, on this occasion, has, on the basis of Qur&an and Hadith, described the causes of light and darkness on the Plane of Gathering. Below, we reproduce those causes the knowledge of which is more important than pure academic research, in the hope that Allah will grant us light: [ 1] The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"Give glad tidings to those who go to the mosque in the darkness of night that they will receive perfect light on the Day of Judgment.|" (Reported by Abu Dad and Tirmidhi from Buraidah, and Ibn Majah from Anas (رض) . This Hadith is also reported by Sahl Ibn Sa&d, Zaid Ibn Harithah, Ibn ` Abbas, Ibn &Umar, Harithah Ibn Wahb, Abu &Umamah, Abu-ad-Darda, Abu Musa, Abu Hurairah, ` A&ishah (رض) [ 2] The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: مَن حَافَظَ عَلَی الصَّلَوَاتِ کَانَت لَہُ ، نُوراً وَّ بُرھَاناً وَّ نَجَاۃً یَّومَ القِیٰمۃِ وَمَن لَّم یُحافِظُ عَلیِھَا لَم یَکُن لَّہُ ، نُوراً وَّ لَا بُرھَاناً وَّلَا نَجَاۃً کَانَ یَومَ القِیامَۃِ مَعَ قَارُون وَ ھَامَانَ وَ فِرعَونَ ۔ |"He who takes care of his five daily prayers [ that is, performs them regularly fulfilling all their essentials ], it will serve as light, proof and salvation for him on the Day of Judgment. He who fails to take care of it, there will be no light, nor proof or salvation for him on the Day of Judgment. The latter will be in the company of Qarun, Haman and Fir&aun.|" (Reported by Ahmad and Tabarani from Ibn Umar (رض) [ 3] The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"Whoever recites Surah Al-Kahf, there will be so much of light for him on the Day of Judgment that it will spread from his place to Makkah.|" In another narration, |"Whoever recites Surah Al-Kahf on a Friday, light will extend from his feet to the heights of the heaven on the Day of Judgment.|" (Reported by Tabaram from Abu Said (رض) [ 4] The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"Whoever recites just a single verse of the Qur&an, it will be a light for him on the Day of Judgment.|" (Reported by Ahmad from Abu Hurairah (رض) [ 5] The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"Whoever sends salah (durud) to me, it shall be the cause of light on the Bridge of Sirat.|" (Reported by Dailami from Abu Hurairah (رض) [ 6] The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said when detailing the rules of Hajj: |"The hair, that falls on the ground at the time of shaving it when coming out of the state of ihram, will be a light for him on the Day of Judgment|" (Tabarani from Ubadah Ibn Samit (رض) [ 7] The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"Stoning the jamarat in Mina will be a light on the Day of Judgment.|" (Musnad of Bazzar from Ibn Masud (رض) [ 8] The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"He whose hair turns gray in Islam, it will be a light for him on the Day of Judgment.|" (Tabarani, with a good chain, from Abu Hurairah (رض) [ 9] The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"He who shoots even one arrow in Allah&s way while fighting in jihad, it will be a light for him on the Day of Judgment.|" (Bazzar with a good chain from Abu Hurairah (رض) [ 10] The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"He who remembers Allah in the marketplace will receive light for every strand of hair on the Day of Judgment.|" (Baihaqi in Shu` ab-ul-&Iman with an interrupted chain from Ibn Umar (رض) [ 11] The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"He who alleviates the calamity of a Muslim, Allah will create two compartments of light for him at the bridge which will brighten up a whole world. No one besides Allah knows its number.|" (Tabarani from Abu Hurairah (رض) [ 12] The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: اِیَّاکُم وَ الظُلمَ فَاِنَّہ، ھُوَ الظُلُمٰتُ یَوم القِیامَۃِ |"Beware of zulm [ injustice ] because that will yield zulumat [ layers of darkness ] on the Day of Judgment.|" (Bukhari and Muslim from Ibn Umar (رض) ، Muslim from Jabir (رض) and Hakim from Abu Hurairah and Ibn ` Umar (رض) ، and Tabarani from Ibn Ziyad (رض) .

خلاصہ تفسیر ( وہ دن بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جس دن آپ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑتا ہوگا ( یہ نور پل صراط پر سے گزرنے کے لئے ان کے ہمراہ ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ بائیں طرف بھی ہوگا، کذا فی الدر المنثور، تو تخصیص داہنی طرف کی شاید اس لئے ہو کہ اس طرف نور زیادہ قوی ہو اور نکتہ اس تخصیص میں شاید یہ ہو کہ یہ علامت ہو ان کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جانے کا اور سامنے نور ہونا تو ایسے موقع پر عادت عامہ ہے اور ان سے کہا جاوے گا کہ) آج تم کو بشارت ہے ایسے باغوں کی جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے (اور) یہ بڑی کامیابی ہے (ظاہر یہ ہے کہ یہ بات بھی اسی وقت کہی جاوے گی اور اس وقت بطور خبر دینے کے کہی جا رہی ہے اور بُشْرٰىكُمُ کہنے والے غالباً فرشتے ہیں، لقولہ تعالیٰ تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا الخ باحق تعالیٰ خود اس خطاب سے مشرف فرما دیں اور یہ وہ دن ہوگا) جس روز منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے (پل صراط پر) کہیں گے کہ (ذرا) ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں (یہ اس وقت ہوگا جبکہ مسلمان اپنے اعمال و ایمان کی برکت سے بہت آگے بڑھ جاویں گے اور منافقین جو کہ پل صراط پر مسلمانوں کے ساتھ چڑھائے جاویں گے پیچھے اندھیرے میں رہ جاویں گے، خواہ ان کے پاس پہلے ہی سے نور نہ ہو، یا جیسا کہ در منثور کی ایک روایت میں ہے کہ ان کے پاس بھی قدرے نور ہو اور پھر وہ گل ہوجاوے اور حکمت عطاء نور میں یہ ہو کہ دنیا میں ظاہری اعمال کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کے ساتھ رہا کرتے تھے مگر باعتبار اعتقاد کے دل سے جدا تھے، اس لئے ان کو اولاً ان اعمال ظاہری کی وجہ سے نور مل جاوے مگر پھر دل میں ایمان و تصدیق نہ ہونے کے سبب وہ نور مفقود ہوجاوے، و نیز ان کے خداع اور دھوکہ کی جزا بھی یہی ہے کہ اول ان کو نور مل گیا پھر خلاف گمان مفقود ہوگیا، غرض وہ مسلمانوں سے ٹھہرنے کو کہیں گے) ان کو جواب دیاجاوے گا (یہ جواب دینے والے خواہ فرشتے ہوں یا مومنین ہوں) کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر (وہاں سے) روشنی تلاش کرو (حسب روایت در منثور اس پیچھے سے مراد وہ جگہ ہے جہاں ظلمت شدیدہ کے بعد پل صراط پر چڑھنے کے وقت نور تقسیم ہوا تھا یعنی نور تقسیم ہونے کی جگہ وہ ہے وہاں جا کرلو، چناچہ وہ ادھر جاویں گے جب وہاں بھی کچھ نہ ملے گا، پھر ادھر ہی آویں گے) پھر (مسلمانوں کے پاس نہ پہنچ سکیں گے بلکہ) ان (فریقین) کے درمیان میں ایک دیوار قائم کردی جاوے گی جس میں ایک دروازہ (بھی) ہوگا (جس کی کیفیت یہ ہے کہ) اس کے اندرونی جانب میں رحمت ہوگی اور بیرونی جانب کی طرف عذاب ہوگا (حسب روایت در منثور یہ دیوار اعراف ہے اور اندرونی جانب سے مومنین کی طرف والی جانب اور بیرونی جانب سے مراد کافروں کی طرف والی جانب اور رحمت سے مراد جنت اور عذاب سے مراد دوزخ ہے اور شاید یہ دروازہ بات چیت کے لئے ہو یا اسی دروازہ میں سے جنت کا راستہ ہو اور زیادہ تحقیق اعراف کی سورة اعراف کے رکوع پنجم میں گزری ہے، غرض جب ان میں اور مسلمانوں میں دیوار حائل ہوجاوے گی اور یہ خود تاریکی میں رہ جاویں گے تو اس وقت) یہ (منافق) ان (مسلمانوں) کو پکاریں گے کہ کیا (دنیا میں) ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (یعنی اعمال اور طاعات میں تمہارے شریک رہا کرتے تھے، تو آج بھی رفاقت کرنا چاہئے) وہ (مسلمان) کہیں گے کہ (ہاں) تھے تو سہی لیکن (ایسا ہونا کس کام کا کیونکہ محض ظاہر میں ساتھ تھے اور باطنی حالت تمہاری یہ تھی کہ) تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا اور (وہ گمراہی یہ تھی کہ تم پیغمبر اور مسلمانوں سے عداوت رکھتے تھے اور ان پر حوادث واقع ہونے کے) تم منتظر (اور متمنی) رہا کرتے تھے اور (اسلام کے حق ہونے میں) تم شک رکھتے تھے اور تم کو تمہاری بیہودہ تمناؤں نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا، یہاں تک کہ تم پر خدا کا حکم آپہنچا (مراد بیہودہ تمناؤں سے یہ ہے کہ اسلام مٹ جاوے گا اور یہ کہ ہمارا مذہب حق ہے اور موجب نجات ہے اور مراد حکم خدا سے موت ہے، یعنی عمر بھر ان ہی کفریات پر مصر رہے توبہ بھی نہ کی) اور تم کو دھوکہ دینے والے (یعنی شیطان) نے اللہ کے ساتھ دھوکہ میں ڈال رکھا تھا (وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ہم پر مواخذہ نہ کرے گا حاصل مجموعہ کا یہ ہے کہ ان کفریات کی وجہ سے تمہاری معیت ظاہریہ نجات کے لئے کافی نہیں) غرض آج نہ تم سے کوئی معاوضہ لیا جاوے گا اور نہ کافروں سے (یعنی اول تو معاوضہ دینے کے واسطے تمہارے پاس کوئی چیز ہے نہیں، لیکن بالفرض اگر ہوتی بھی تب بھی مقبول نہ ہوتی کیونکہ دار الجزاء ہے دار العمل نہیں اور) تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے وہی تمہاری (ہمیشہ کے لئے) رفیق ہے اور وہ (واقعی) برا ٹھکانا ہے (یہ قول فالیوم الخ یا تو مومنین کا ہو یا حق تعالیٰ کا اس تمام تر بیان سے ثابت ہوگیا کہ جس ایمان میں طاعات ضروریہ کی کمی ہو وہ گو کالعدم نہیں، لیکن کامل بھی نہیں، اس لئے اگلی آیات میں اس کی تکمیل کے لئے بصورت عتاب کے مسلمانوں کو حکم فرماتے ہیں کہ) کیا ایمان والوں (میں سے جو لوگ طاعات ضروریہ میں کمی کرتے ہیں جیسے گناہ گار مسلمانوں کی حالت ہوتی ہے تو کیا ان) کے لئے (اب بھی) اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل خدا کی نصیحت کے اور جو دین حق (منجانب اللہ) نازل ہوا ہے (کہ وہی نصیحت خداوندی ہے) اس کے سامنے جھک جاویں (یعنی دل سے عزم پابندی طاعات ضروریہ و ترک معاصی کا کرلیں اور اس کو خشوع بمعنی سکون اس لئے کہا کہ دل کا حالت مطلوبہ پر رہنا سکون ہے اور معصیت کی طرف جانا مشابہ حرکت کے ہے) اور (خشوع بالمعنی المذکور میں دیر کرنے سے جس کا حاصل توبہ میں دیر کرنا ہے وہ) ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان کے قبل کتاب (آسمانی) ملی تھی (یعنی یہود و نصاریٰ کہ انہوں نے بھی برخلاف مقتضائے اپنی کتابوں کے شہوات و معاصی میں انہماک شروع کیا) پھر (اسی حالت میں) ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا (اور توبہ نہ کی) پھر (اس توبہ نہ کرنے سے) ان کے دل (خوب ہی) سخت ہوگئے (کہ ندامت و ملامت اضطراری بھی نہ ہوتی تھی) اور (اس کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسی قساوت کی بدولت) بہت سے آدمی ان میں سے (آج) کفار ہیں (کیونکہ معصیت پر اصرار اور اس کو اچھا سمجھنا اور نبی برحق کی عداوت اکثر سبب کفر بن جاتا ہے، مطلب یہ کہ مسلمان کو جلدی توبہ کرلینا چاہئے، کیونکہ بعض اوقات پھر توبہ کی توفیق نہیں رہتی اور بعض اوقات کفر تک نوبت پہنچ جاتی ہے، آگے فرماتے ہیں کہ اگر تم لوگوں کے دلوں میں معاصی سے کوئی خرابی کم و بیش پیدا ہوگئی ہو تو اس کو اس وہم کی بناء پر توبہ سے مانع نہ سمجھو کہ اب توبہ سے کیا اصلاح ہوگی بلکہ) یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ ( کی ایسی شان ہے کہ وہ) زمین کو اس کے خشک ہوئے پیچھے زندہ کردیتا ہے (بس اسی طرح توبہ کرنے پر اپنی رحمت سے قلب مردہ کو زندہ اور درست کردیتا ہے، پس مایوس نہ ہونا چاہئے کیونکہ) ہم نے تم سے (اس کے) نظائر بیان کردیئے ہیں تاکہ تم سمجھو (نمونہ سے مراد جیسا مدارک میں ہے احیاء ارض ہے اور شاید جمع لانا بوجہ تکرار وقوع کے ہو، آگے فضیلت انفاق مذکورہ بالا کی ارشاد ہے یعنی) بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور یہ (صدقہ دینے والے) اللہ کو خلوص کے ساتھ قرض دے رہے ہیں وہ صدقہ (باعتبار ثواب کے) ان کے لئے بڑھا دیا جائے گا اور (مضاعفتہ کے ساتھ) ان کے لئے اجر پسندیدہ (تجویز کیا گیا) ہے (تفسیر اس کی ابھی گزر چکی ہے) اور (آگے فضیلت ایمان مذکورہ بالا کی ارشاد ہے کہ) جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر (پورا) ایمان رکھتے ہیں (یعنی جن میں ایمان اور تصدیق اور پابندی اطاعت مکمل درجہ میں ہو) ایسے ہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں (جس کا بیان سورة نساء کے رکوع نہم میں آ چکا ہے، یعنی یہ مراتب کمال ایمان کامل ہی کی بدولت نصیب ہوتے ہیں اور شہید کا حاصل باذل نفس فی اللہ ہے، یعنی جو اپنی جان کو اللہ کی راہ میں پیش کر دے گو قتل نہ ہو کیونکہ وہ اختیار سے خارج ہے) ان کے لئے (جنت میں) ان کا اجر (خاص) اور (صراط پر) ان کا نور ( خاص) ہوگا اور (آگے کفار کا ذکر فرماتے ہیں کہ) جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا یہی لوگ دوزخی ہیں۔ معارف و مسائل يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ ، یعنی وہ دن یاد رکھنے کے قابل ہے جس دن آپ مومن مرد اور مومن عورتوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف ہوگا الخ۔ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے اور یہ نور عطا ہونے کا معاملہ پل صراط پر چلنے سے کچھ پہلے پیش آئے گا، اس کی تفصیل ایک حدیث میں ہے جو حضرت ابو امامہ باہلی سے مروی ہے، ابن کثیر نے اس کو بحوالہ ابن ابی حاتم نقل کیا ہے، حدیث طویل ہے جس میں ابو امامہ کا دمشق میں ایک جنازہ میں شریک ہونا اور فارغ ہونے کے بعد لوگوں کو موت اور آخرت کی یاد دلانے کے لئے موت اور قبر پھر حشر کے کچھ حالات بیان فرمانا مذکور ہے، اس کے چند جملوں کا ترجمہ یہ ہے کہ :۔ |" پھر تم قبروں سے میدان حشر کی طرف منتقل کئے جاؤ گے، جس میں مختلف مراحل اور مواقف ہوں گے، ایک مرحلہ ایسا آئے گا کہ بحکم خداوندی کچھ چہرے سفید اور روشن کردیئے جاویں گے اور کچھ چہرے کالے سیاہ کردیئے جاویں گے، پھر ایک مرحلہ ایسا آوے گا کہ میدان حشر میں جمع ہونے والے سب لوگوں پر جن میں مومن و کافر سب ہوں گے، ایک شدید ظلمت اور اندھیری طاری ہوجائے گی، کسی کو کچھ نظر نہ آئے گا، اس کے بعد نور تقسیم کیا جائے گا ہر مومن کو نور عطا کیا جائے گا (ابن ابی حاتم ہی کی دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے منقول ہے کہ مومن میں یہ نور بقدر ان کے اعمال کے تقسیم ہوگا، کسی کا نور مثل پہاڑ کے، کسی کا کجھور کے درخت کے مثل، کسی کا قامت انسانی کے برابر ہوگا، سب سے کم نور اس شخص کا ہوگا جس کے صرف انگوٹھے میں نور ہوگا اور وہ بھی کبھی روشن ہوجائے گا کبھی بجھ جائے گا، ابن کثیر) پھر حضرت ابوامامہ باہلی نے فرمایا کہ منافقین اور کفار کو کوئی نور نہ دیا جائے گا اور فرمایا کہ اسی واقعہ کو قرآن کریم نے ایک مثال کے عنوان سے اس آیت میں بیان فرمایا ہے : (اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ۭ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ ۭ اِذَآ اَخْرَجَ يَدَهٗ لَمْ يَكَدْ يَرٰىهَا ۭ وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ ) (النور :40) اور فرمایا کہ مومنین کو جو نور عطا ہوگا ( اس کا حال دنیا کے نور کی طرح نہیں ہوگا کہ جہاں کہیں نور ہو اس کے پاس والے بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں) بلکہ جس طرح کوئی اندھا آدمی دوسرے بصیر آدمی کے نور بصر سے نہیں دیکھ سکتا اسی طرح مومنین کے اس نور سے کوئی کافر یا فاسق فائدہ نہیں اٹھا سکے گا (ابن کثیر) حضرت ابو امامہ باہلی کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس موقف میں ظلمت شدیدہ کے بعد حق تعالیٰ کی طرف مومن مردوں اور مومن عورتوں میں نور تقسیم ہوگا اسی وقت سے کافر اور منافق اس نور سے محروم رہیں گے، ان کو کسی قسم کا نور ملے ہی گا نہیں۔ مگر طبرانی نے حضرت ابن عباس سے ایک مرفوع روایت یہ نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ :۔ پل صراط کے پاس اللہ تعالیٰ ہر مومن کو نور عطا فرما دیں گے اور ہر منافق کو بھی مگر جس وقت یہ پل صراط پر پہنچ جائیں گے تو منافقین کا نور سلب کرلیا جائے گا (ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ منافقین کو بھی ابتداء میں نور دیا جائے گا، مگر پل صراط پر پہنچ کر یہ نور سلب ہوجاوے گا، بہرحال خواہ ابتداء ہی سے ان کو نور نہ ملا ہو یا مل کر بجھ گیا ہو، اس وقت وہ مومنین سے درخواست کریں گے کہ ذرا ٹھہرو ہم بھی تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھا لیں کیونکہ ہم دنیا میں بھی نماز، زکوٰة، حج، جہاد سب چیزوں میں تمہارے شریک رہا کرتے تھے، تو ان کو اس درخواست کا جواب نامنظوری کی شکل میں دیا جائے گا، جس کا بیان آگے آتا ہے اور منافقین کے مناسب حال تو یہی ہے کہ پہلے ان کو بھی مسلمانوں کی طرح نور ملے پھر اس کو سلب کرلیا جائے جس طرح وہ دنیا میں خدا و رسول کو دھوکا دینے کی ہی کوشش میں لگے رہے تھے، ان کے ساتھ قیامت میں معاملہ بھی ایسا ہی کیا جائے گا جیسے کسی کو دھوکہ دینے کے لئے کچھ روشنی دکھلا کر بجھا دی جائے، جیسا کہ ان کے بارے میں قرآن کریم کا یہ ارشاد ہے يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ |" یعنی منافقین اللہ کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ ان کو دھوکہ دینے والا ہے |" امام بغوی نے فرمایا کہ اس دھوکہ سے یہی مراد ہے کہ پہلے نور دے دیا جائے گا مگر عین اس وقت جب نور کی ضرورت ہوگی سلب کرلیا جائے گا اور یہی وہ وقت ہوگا جبکہ مومنین کو بھی یہ اندیشہ لگ جائے گا کہ کہیں ہمارا نور بھی سلب نہ ہوجائے، اس لئے وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ہمارے نور کو آخر تک پورا کردیئے جس کا ذکر اس آیت میں ہے (يَوْمَ لَا يُخْزِي اللّٰهُ النَّبِيَّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ۚ نُوْرُهُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا الایتہ) (مظہری) مسلم، احمد اور دار قطنی میں حضرت جابر بن عبداللہ کی مرفوع حدیث میں بھی آیا ہے کہ شروع میں مومن و منافق دونوں کو نور دیا جائے گا پھر پل صراط پر پہنچ کر منافقین کا نور سلب ہوجائے گا۔ اور تفسیر مظہری میں ان دونوں روایتوں کی تطبیق اس طرح بیان کی ہے کہ اصل منافقین جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تھے ان کو تو شروع ہی سے کفار کی طرح کوئی نور نہ ملے گا، مگر وہ منافقین جو اس امت میں بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہوں گے جن کو منافقین کا نام تو اس لئے نہیں دیا جاسکے گا کہ وحی کا سلسلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ختم ہوچکا اور کسی کے بارے میں بغیر وحی قطعی کے یہ حکم نہیں لگایا جاسکتا کہ وہ دل سے مومن نہیں، صرف زبان کا اقرار ہے، اس لئے امت میں کسی کو یہ حق نہیں کہ کسی کو منافق کہے، علم میں منافق ہیں گو ظاہر میں ان کی منافقت نہیں کھلی ان کے ساتھ یہ معاملہ ہوگا کہ شروع میں ان کو بھی نور دے دیا جائے گا بعد میں سلب کرلیا جائے۔ اس قسم کے منافقین امت کے وہ لوگ ہیں جو قرآن و حدیث میں تحریف کر کے ان کے معانی کو بگاڑتے اور اپنے مطلب کے موافق بناتے ہیں، نعوذ باللہ منہ۔ میدان حشر میں نور اور ظلمت کے اسباب : اس جگہ تفسیر مظہری میں قرآن و حدیث سے محشر کی ظلمت و نور کے اسباب بھی بیان کردیئے ہیں جو علمی تحقیقات سے زیادہ اہم ہیں وہ نقل کرتا ہوں (لعل اللہ تعالیٰ یرزقنا نوراً ) (1) ابوداؤد و ترمذی نے حضرت بریدہ اور ابن ماجہ نے حضرت انس سے یہ مرفوع حدیث روایت کی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ :۔ |" خوشخبری سنا دو ان لوگوں کو جو اندھیری راتوں میں مسجد کی طرف جاتے ہیں، قیامت کے روز مکمل نور کی |" اور اسی مضمون کی روایات حضرت سہل بن سعد، زید بن حارثہ، ابن عباس، ابن عمر، حارثہ ابن وہب، ابوامامہ، ابوالدردا، ابوسعید، ابوموسیٰ ، ابوہریرہ، عائشہ صدیقہ وغیرہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی منقول ہیں (مظہری) (2) مسند احمد اور طبرانی میں حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (من حافظ علی الصلوات کانت لہ نورا و برھانا ونجاة یوم القیمة و من لم یحافظ علیھا لم یکن لہ نورا ولابرھانا ولا نجاة و کان یوم القیامة مع قارون وھامان و فرعون) جو شخص پانچوں نمازوں کی محافظت کرے گا (یعنی ان کے اوقات اور آداب کو پابندی کے ساتھ بجا لائے گا) اس کے لئے یہ نماز قیامت کے روز نور اور برہان اور نجات بن جائے گی اور جو اس پر محافظت نہ کرے گا تو اس کے لئے نور ہوگا نہ برہان اور نہ نجات اور وہ قارون اور ہامان اور فرعون کے ساتھ ہوگا۔ (3) اور طبرانی نے حضرت ابوسعید سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو سورة کہف پڑھے گا قیامت کے روز اس کے لئے اتنا نور ہوگا جو اس کی جگہ سے مکہ مکرمہ تک پھیلے گا اور ایک روایت میں ہے کہ جو شخص جمعہ کے روز سورة کہف پڑھے گا قیامت کے روز اس کے قدموں سے آسمان کی بلندی تک نور چمکے گا۔ (4) امام احمد نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص قرآن کی ایک آیت بھی تلاوت کرے گا وہ آیت اس کے لئے قیامت کے روز نور ہوگی۔ (5) دیلمی نے حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ مجھ پر درود بھیجنا پل صراط پر نور کا سبب بنے گا۔ (6) طبرانی نے حضرت عبادہ بن صامت سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کے احکام بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حج وعمرہ کے احرام سے فارغ ہونے کے لئے جو سر منڈایا جاتا ہے تو اس میں جو بال زمین پر گرتا ہے وہ قیامت کے روز نور ہوگا۔ (7) مسند بزار میں حضرت ابن مسعود سے مرفوعاً روایت ہے کہ منیٰ میں جمرات کی رمی کرنا قیامت کے روز نور ہوگا۔ (8) طبرانی نے بسند جید حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ جس شخص کے بال حالت اسلام میں سفید ہوجاویں وہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگا۔ (9) بزار نے بسند جید حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد میں ایک تیر بھی پھینکے گا اس کے لئے قیامت میں نور ہوگا۔ (10) بیہقی نے شعب الایمان میں بسند منقطع حضرت ابن عمر سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ بازار میں اللہ کا ذکر کرنے والے کو اس کے ہر بال کے مقابلے میں قیامت کے روز ایک نور ملے گا۔ (11) طبرانی نے حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی مصیبت و تکلیف کو دور کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے پل صراط پر نور کے دو شعبے بنا دے گا جس سے ایک جہان روشن ہوجائے گا جس کی تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ (12) بخاری و مسلم نے حضرت ابن عمر سے اور مسلم نے حضرت جابر سے اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عمر سے اور طبرانی نے ابن زیاد سے روایت کیا ہے کہ ان سب نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (ایاکم والظلم فانہ ھو الظلمت یوم القیمة) یعنی تم ظلم سے بہت بچو، کیونکہ ظلم ہی قیامت کے روز ظلمات اور اندھیری ہوگی۔ نعوذ باللہ من الظلمات و نسالہ النور التام یوم القیامتہ

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُہُمْ بَيْنَ اَيْدِيْہِمْ وَبِاَيْمَانِہِمْ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا۝ ٠ ۭ ذٰلِكَ ہُوَالْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۝ ١٢ ۚ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ سعی السَّعْيُ : المشي السّريع، وهو دون العدو، ويستعمل للجدّ في الأمر، خيرا کان أو شرّا، قال تعالی: وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] ، وقال : نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8] ، وقال : وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] ، وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] ، وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] ، إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] ، وقال تعالی: وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] ، كانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً [ الإسراء/ 19] ، وقال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأكثر ما يستعمل السَّعْيُ في الأفعال المحمودة، قال الشاعر : 234- إن أجز علقمة بن سعد سعيه ... لا أجزه ببلاء يوم واحد «3» وقال تعالی: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ [ الصافات/ 102] ، أي : أدرک ما سعی في طلبه، وخصّ المشي فيما بين الصّفا والمروة بالسعي، وخصّت السّعاية بالنمیمة، وبأخذ الصّدقة، وبکسب المکاتب لعتق رقبته، والمساعاة بالفجور، والمسعاة بطلب المکرمة، قال تعالی: وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ سبأ/ 5] ، أي : اجتهدوا في أن يظهروا لنا عجزا فيما أنزلناه من الآیات . ( س ع ی ) السعی تیز چلنے کو کہتے ہیں اور یہ عدو ( سرپٹ دوڑ ) سے کم درجہ ( کی رفتار ) ہے ( مجازا ) کسی اچھے یا برے کام کے لئے کوشش کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو ۔ نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8]( بلکہ ) ان کا نور ( ایمان ) ان کے آگے ۔۔۔۔۔۔ چل رہا ہوگا ۔ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] اور ملک میں فساد کرنے کو ڈوڑتے بھریں ۔ وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں ( فتنہ انگریزی کرنے کے لئے ) دوڑتا پھرتا ہے ۔ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی ۔ إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] تم لوگوں کی کوشش طرح طرح کی ہے ۔ وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] تو اس کی کوشش رائگاں نی جائے گی لیکن اکثر طور پر سعی کا لفظ افعال محمود میں استعمال ہوتا ہے کسی شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) 228 ) ان جز علقمہ بن سیف سعیہ لا اجزہ ببلاء یوم واحد اگر میں علقمہ بن سیف کو اس کی مساعی کا بدلہ دوں تو ایک دن کے حسن کردار کا بدلہ نہیں دے سکتا اور قرآن میں ہے : ۔ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ [ الصافات/ 102] جب ان کے ساتھ دوڑ نے کی عمر کو پہنچا ۔ یعنی اس عمر کو پہنچ گیا کہ کام کاج میں باپ کا ہاتھ بٹا سکے اور مناسب حج میں سعی کا لفظ صفا اور مردہ کے درمیان چلنے کے لئے مخصوص ہوچکا ہے اور سعاد یۃ کے معنی خاص کر چغلی کھانے اور صد قہ وصول کرنے کے آتے ہیں اور مکاتب غلام کے اپنے آپ کو آزاد کردانے کے لئے مال کمائے پر بھی سعایۃ کا لفظ بولا جاتا ہے مسا عا ۃ کا لفظ فسق و محور اور مسعادۃ کا لفظ اچھے کاموں کے لئے کوشش کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ سبأ/ 5] اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں اپنے زعم باطل میں ہمیں عاجز کرنے کے لئے سعی کی میں سعی کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے ہماری نازل کر آیات میں ہمارے عجز کو ظاہر کرنے کے لئے پوری طاقت صرف کر دالی ۔ نور ( روشنی) النّور : الضّوء المنتشر الذي يعين علی الإبصار، وذلک ضربان دنیويّ ، وأخرويّ ، فالدّنيويّ ضربان : ضرب معقول بعین البصیرة، وهو ما انتشر من الأمور الإلهية کنور العقل ونور القرآن . ومحسوس بعین البصر، وهو ما انتشر من الأجسام النّيّرة کالقمرین والنّجوم والنّيّرات . فمن النّور الإلهي قوله تعالی: قَدْ جاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتابٌ مُبِينٌ [ المائدة/ 15] ، وقال : وَجَعَلْنا لَهُ نُوراً يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُماتِ لَيْسَ بِخارِجٍ مِنْها [ الأنعام/ 122] ( ن و ر ) النور ۔ وہ پھیلنے والی روشنی جو اشیاء کے دیکھنے میں مدد دیتی ہے ۔ اور یہ دو قسم پر ہے دینوی اور اخروی ۔ نور دینوی پھر دو قسم پر ہے معقول جس کا ادراک بصیرت سے ہوتا ہے یعنی امور الہیہ کی روشنی جیسے عقل یا قرآن کی روشنی دوم محسوس جسکاے تعلق بصر سے ہے جیسے چاند سورج ستارے اور دیگر اجسام نیزہ چناچہ نور الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ قَدْ جاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتابٌ مُبِينٌ [ المائدة/ 15] بیشک تمہارے خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے ۔ وَجَعَلْنا لَهُ نُوراً يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُماتِ لَيْسَ بِخارِجٍ مِنْها [ الأنعام/ 122] اور اس کے لئے روشنی کردی جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہوسکتا ہے ۔ جو اندھیرے میں پڑا ہو اور اس سے نکل نہ سکے ۔ «بَيْن»يدي و «بَيْن» يستعمل تارة اسما وتارة ظرفا، فمن قرأ : بينكم [ الأنعام/ 94] ، جعله اسما، ومن قرأ : بَيْنَكُمْ جعله ظرفا غير متمکن وترکه مفتوحا، فمن الظرف قوله : لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ الحجرات/ 1] ، وقوله : فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْواكُمْ صَدَقَةً [ المجادلة/ 12] ، فَاحْكُمْ بَيْنَنا بِالْحَقِّ [ ص/ 22] ، وقوله تعالی: فَلَمَّا بَلَغا مَجْمَعَ بَيْنِهِما [ الكهف/ 61] ، فيجوز أن يكون مصدرا، أي : موضع المفترق . وَإِنْ كانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثاقٌ [ النساء/ 92] . ولا يستعمل «بين» إلا فيما کان له مسافة، نحو : بين البلدین، أو له عدد ما اثنان فصاعدا نحو : الرجلین، وبین القوم، ولا يضاف إلى ما يقتضي معنی الوحدة إلا إذا کرّر، نحو : وَمِنْ بَيْنِنا وَبَيْنِكَ حِجابٌ [ فصلت/ 5] ، فَاجْعَلْ بَيْنَنا وَبَيْنَكَ مَوْعِداً [ طه/ 58] ، ويقال : هذا الشیء بين يديك، أي : متقدما لك، ويقال : هو بين يديك أي : قریب منك، وعلی هذا قوله : ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ [ الأعراف/ 17] ، ولَهُ ما بَيْنَ أَيْدِينا وَما خَلْفَنا [ مریم/ 64] ، وَجَعَلْنا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا [يس/ 9] ، مُصَدِّقاً لِما بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْراةِ [ المائدة/ 46] ، أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] ، أي : من جملتنا، وقوله : وَقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ نُؤْمِنَ بِهذَا الْقُرْآنِ وَلا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ [ سبأ/ 31] ، أي : متقدّما له من الإنجیل ونحوه، وقوله : فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذاتَ بَيْنِكُمْ [ الأنفال/ 1] ، أي : راعوا الأحوال التي تجمعکم من القرابة والوصلة والمودة . ويزاد في بين «ما» أو الألف، فيجعل بمنزلة «حين» ، نحو : بَيْنَمَا زيد يفعل کذا، وبَيْنَا يفعل کذا، بین کا لفظ یا تو وہاں استعمال ہوتا ہے ۔ جہاں مسافت پائی جائے جیسے ( دو شہروں کے درمیان ) یا جہاں دو یا دو سے زیادہ چیزیں موجود ہوں جیسے اور واھد کی طرف مضاف ہونے کی صورت میں بین کو مکرر لانا ضروری ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَمِنْ بَيْنِنا وَبَيْنِكَ حِجابٌ [ فصلت/ 5] اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے فَاجْعَلْ بَيْنَنا وَبَيْنَكَ مَوْعِداً [ طه/ 58] ۔ تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کرلو ۔ اور کہا جاتا ہے : / یعنی یہ چیز تیرے قریب اور سامنے ہے ۔ اسی معنی میں فرمایا : ۔ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ [ الأعراف/ 17] پھر ان کے آگے ۔۔۔۔۔ ( غرض ہر طرف سے ) آؤنگا ۔ ولَهُ ما بَيْنَ أَيْدِينا وَما خَلْفَنا [ مریم/ 64] جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو پیچھے ۔۔۔ سب اسی کا ہے ۔ وَجَعَلْنا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا [يس/ 9] اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنادی ۔ اور ان کے پیچھے بھی ۔ مُصَدِّقاً لِما بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْراةِ [ المائدة/ 46] جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے ۔ أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] کیا ہم سب میں سے اسی نصیحت ۃ ( کی کتاب ) اتری ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ نُؤْمِنَ بِهذَا الْقُرْآنِ وَلا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ [ سبأ/ 31] اور جو کافر ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان کتابوں ) کو جو اس سے پہلے کی ہیں ۔ میں سے انجیل اور دیگر کتب سماویہ مراد ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذاتَ بَيْنِكُمْ [ الأنفال/ 1] خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ صلہ رحمی ، قرابت ، دوستی وغیرہ باہمی رشتوں کا لحاظ کرد جو باہم تم سب کے درمیان مشترک ہیں اور بین کے م، ابعد یا الف کا اضافہ کرکے حین کے معنی میں استعمال کرلینے ہیں يمین ( دائیں طرف) اليَمِينُ : أصله الجارحة، واستعماله في وصف اللہ تعالیٰ في قوله : وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ [ الزمر/ 67] علی حدّ استعمال الید فيه، و تخصیص اليَمِينِ في هذا المکان، والأرض بالقبضة حيث قال جلّ ذكره : وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] «1» يختصّ بما بعد هذا الکتاب . وقوله :إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْيَمِينِ [ الصافات/ 28] أي : عن الناحية التي کان منها الحقّ ، فتصرفوننا عنها، وقوله : لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ [ الحاقة/ 45] أي : منعناه ودفعناه . فعبّر عن ذلک الأخذ باليَمِينِ کقولک : خذ بِيَمِينِ فلانٍ عن تعاطي الهجاء، وقیل : معناه بأشرف جو ارحه وأشرف أحواله، وقوله جلّ ذكره : وَأَصْحابُ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 27] أي : أصحاب السّعادات والمَيَامِنِ ، وذلک علی حسب تعارف الناس في العبارة عن المَيَامِنِ باليَمِينِ ، وعن المشائم بالشّمال . واستعیر اليَمِينُ للتَّيَمُّنِ والسعادة، وعلی ذلک وَأَمَّا إِنْ كانَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 90- 91] ، وعلی هذا حمل : 477- إذا ما راية رفعت لمجد ... تلقّاها عرابة باليَمِين ( ی م ن ) الیمین کے اصل معنی دایاں ہاتھ یا دائیں جانب کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ [ الزمر/ 67] اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لیپٹے ہوں گے ۔ میں حق تعالیٰ کی طرف یمن نسبت مجازی ہے ۔ جیسا کہ ید وغیر ہا کے الفاظ باری تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوتے ہیں یہاں آسمان کے لئے یمین اور بعد میں آیت : ۔ وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی ۔ میں ارض کے متعلق قبضۃ کا لفظ لائے میں ایک باریک نکتہ کی طرف اشارہ ہے جو اس کتاب کے بعد بیان ہوگا اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْيَمِينِ [ الصافات/ 28] تم ہی ہمارے پاس دائیں اور بائیں ) اسے آتے تھے ۔ میں یمین سے مراد جانب حق ہے یعنی تم جانب حق سے ہمیں پھیرتے تھے اور آیت کریمہ : ۔ لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ [ الحاقة/ 45] تو ہم ان کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے ۔ میں دایاں ہاتھ پکڑ لینے سے مراد روک دینا ہے جیسے محاورہ ہے : ۔ یعنی فلاں کو ہجو سے روک دو ۔ بعض نے کہا ہے کہ انسان کا دینا ہاتھ چونکہ افضل ہے سمجھاجاتا ہے اسلئے یہ معنی ہو نگے کہ ہم بہتر سے بہتر حال میں بھی اسے با شرف اعضاء سے پکڑ کر منع کردیتے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَصْحابُ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 27] اور دہنے ہاتھ والے ۔ میں دہنی سمت والوں سے مراد اہل سعادت ہیں کو ین کہ عرف میں میامن ( با برکت ) ) کو یمین اور مشاے م ( منحوس ) کو شمالی کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے اور استعارہ کے طور پر یمین کا لفظ بر کت وسعادت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَأَمَّا إِنْ كانَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 90- 91] اگر وہ دائیں ہاتھ والوں یعنی اصحاب خیر وبر کت سے ہے تو کہا جائیگا تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام اور ایس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( 426 ) اذا ما رایۃ رفعت ملجد تلقا ھا عرا بۃ بالیمین جب کبھی فضل ومجد کے کاموں کے لئے جھنڈا بلند کیا جاتا ہے تو عرابۃ اسے خیر و برکت کے ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] . ( ب ش ر ) البشر التبشیر کے معنی ہیں اس قسم کی خبر سنانا جسے سن کر چہرہ شدت فرحت سے نمٹما اٹھے ۔ مگر ان کے معافی میں قدر سے فرق پایا جاتا ہے ۔ تبیشتر میں کثرت کے معنی ملحوظ ہوتے ہیں ۔ اور بشرتہ ( مجرد ) عام ہے جو اچھی وبری دونوں قسم کی خبر پر بولا جاتا ہے ۔ اور البشرتہ احمدتہ کی طرح لازم ومتعدی آتا ہے جیسے : بشرتہ فابشر ( یعنی وہ خوش ہوا : اور آیت کریمہ : { إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ } ( سورة آل عمران 45) کہ خدا تم کو اپنی طرف سے بشارت دیتا ہے میں ایک قرآت نیز فرمایا : لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ قالَ : أَبَشَّرْتُمُونِي عَلى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ قالُوا : بَشَّرْناكَ بِالْحَقِّ [ الحجر/ 53- 54] مہمانوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ بولے کہ جب بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے اب کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں ۔ { فَبَشِّرْ عِبَادِ } ( سورة الزمر 17) تو میرے بندوں کو بشارت سنادو ۔ { فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ } ( سورة يس 11) سو اس کو مغفرت کے بشارت سنادو استبشر کے معنی خوش ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ( اور شہید ہوکر ) ان میں شامل ہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں ۔ وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] اور اہل شہر ( لوط کے پاس ) خوش خوش ( دورے ) آئے ۔ اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی ۔ وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری سے کرآئے ۔ يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] زہے قسمت یہ تو حسین ) لڑکا ہے ۔ وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے رذریعہ بشارت ) بنایا جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ جری الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] وقال تعالی: جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] ، وقال : وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] ، وقال تعالی: فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] ، وقال : إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] ، أي : السفینة التي تجري في البحر، وجمعها : جَوَارٍ ، قال عزّ وجلّ : وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] ، وقال تعالی: وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] ، ويقال للحوصلة : جِرِّيَّة «2» ، إمّا لانتهاء الطعام إليها في جريه، أو لأنها مجری الطعام . والإِجْرِيَّا : العادة التي يجري عليها الإنسان، والجَرِيُّ : الوکيل والرسول الجاري في الأمر، وهو أخصّ من لفظ الرسول والوکيل، وقد جَرَيْتُ جَرْياً. وقوله عليه السلام : «لا يستجرینّكم الشّيطان» يصح أن يدّعى فيه معنی الأصل . أي : لا يحملنّكم أن تجروا في ائتماره وطاعته، ويصح أن تجعله من الجري، أي : الرسول والوکيل ومعناه : لا تتولوا وکالة الشیطان ورسالته، وذلک إشارة إلى نحو قوله عزّ وجل : فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] ، وقال عزّ وجل : إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] . ( ج ر ی ) جریٰ ( ض) جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] اور تاکہ کشتیاں چلیں فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے اور آیت کریمہ ؛ إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم لو گوں کو کشتی میں سوار کرلیا ۔ میں جاریۃ سے مراد کشتی ہے اس کی جمع جوار آتی ہے جیسے فرمایا ؛۔ وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] اور جہاز جو اونچے کھڑے ہوتے ہیں ۔ وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں ( جو ) گویا یا پہاڑ ہیں ۔ اور پرند کے سنکدانہ کو جریۃ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ کھانا چل کر وہاں پہنچتا ہے اور یا اس لئے کہ وہ طعام کا مجریٰ بنتا ہے ۔ الاجریات عاوت جس پر انسان چلتا ہے ۔ الجری وکیل ۔ یہ لفظ رسول اور وکیل سے اخص ہی ۔ اور جرمت جریا کے معنی وکیل بنا کر بھینے کے ہیں اور حدیث میں ہے :۔ یہاں یہ لفظ اپنے اصل معنی پر بھی محمول ہوسکتا ہے یعنی شیطان اپنے حکم کی بجا آوری اور اطاعت میں بہ جانے پر تمہیں بر انگیختہ نہ کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ جری بمعنی رسول یا وکیل سے مشتق ہو اور معنی یہ ہونگے کہ شیطان کی وکالت اور رسالت کے سرپر ست مت بنو گویا یہ آیت کریمہ ؛ فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] شیطان کے مددگاروں سے لڑو ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے اور فرمایا :إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] یہ ( خوف دلانے والا ) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈرتا ہے ۔ تحت تَحْت مقابل لفوق، قال تعالی: لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] ، وقوله تعالی: جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ، تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ [يونس/ 9] ، فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] ، يَوْمَ يَغْشاهُمُ الْعَذابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ العنکبوت/ 55] . و «تحت» : يستعمل في المنفصل، و «أسفل» في المتصل، يقال : المال تحته، وأسفله أغلظ من أعلاه، وفي الحدیث : «لا تقوم الساعة حتی يظهر التُّحُوت» «4» أي : الأراذل من الناس . وقیل : بل ذلک إشارة إلى ما قال سبحانه : وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] . ( ت ح ت) تحت ( اسم ظرف ) یہ فوق کی ضد ہے قرآن میں ہے :۔ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] تو ( ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے ۔ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ( نعمت کے ) باغ میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے آواز دی ۔ تحت اور اسفل میں فرق یہ ہے کہ تحت اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری کے نیچے ہو مگر اسفل کسی چیز کے نچلا حصہ کو جیسے ۔ المال تحتہ ( مال اس کے نیچے ہے ) اس کا نچلا حصہ اعلیٰ حصہ سے سخت ہے ) حدیث میں ہے (48) لاتقوم الساعۃ حتیٰ یظھر النحوت کہ قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ تا وقی کہ کمینے لوگ غلبہ حاصل نہ کرلیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حدیث میں آیت کریمہ ؛۔ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] اور جب یہ زمین ہموار کردی جائے گی اور جو کچھ اس میں سے اسے نکلا کر باہر ڈال دے گی ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ نهر النَّهْرُ : مَجْرَى الماءِ الفَائِضِ ، وجمْعُه : أَنْهَارٌ ، قال تعالی: وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، ( ن ھ ر ) النھر ۔ بافراط پانی بہنے کے مجری کو کہتے ہیں ۔ کی جمع انھار آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ فوز الْفَوْزُ : الظّفر بالخیر مع حصول السّلامة . قال تعالی: ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] ، فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] ، ( ف و ز ) الفوز کے معنی سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرلینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] یہی بڑی کامیابی ہے ۔ فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] تو بیشک بڑی مراد پایئکا ۔ یہی صریح کامیابی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

محمد قیامت کے دن جبکہ آپ سچے ایمان دار مردوں اور سچی ایمان دار عورتوں کو دیکھیں گے کہ پل صراط پر ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں اور بائیں روشن ہوگا تو ان سے فرشتے پل صراط پر کہیں گے آج تمہارے لیے خوشخبری ہے ایسے باغوں کی جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ شہد پانی اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کو موت آئے گی اور حقیقت میں یہ بڑی کامیابی ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں حاصل کیں اور دوزخ اور اس کی مصیبتوں سے محفوظ رہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢{ یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ } ” جس دن تم دیکھو گے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو کہ ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے سامنے اور ان کے داہنی طرف “ بعض مفسرین کی رائے کے مطابق ” یَوْمَ “ سے پہلے ” اُذْکُرْ “ محذوف ہے۔ یعنی ذرا تصور کرو اس دن کا جس دن مومن مردوں اور مومن عورتوں پر یہ عنایت خاص ہوگی۔ ان کے سامنے ان کے ایمان کا نور ہوگاجب کہ داہنی طرف اعمالِ صالحہ کی روشنی ہوگی۔ (یہ مضمون سورة التحریم میں مکرر آئے گا۔ وہاں اس پر ‘ ان شاء اللہ ‘ قدرے تفصیل سے گفتگو ہوگی۔ ) { بُشْرٰٹکُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا } ” (ان سے کہا جائے گا : ) آج تمہارے لیے بشارت ہے ان جنتوں کی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ‘ تم رہو گے اس میں ہمیشہ ہمیش۔ “ { ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۔ } ” یقینا یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

17 This and the following verses show that the Light on the Day of Judgement will be specifically meant for the righteous believers only. As for the disbelievers and the hypocrites and the wicked people, they will be wandering about in the darkness as they had been in the world. The light there will be the light of righteous deeds. The sincerity of the faith and the piety of the character and conduct will turn into light that will lend brightness to the personality of the virtuous. The brighter the deed the more luminous will be his person, and when he will walk towards Paradise, his light will be running forward before him. The best explanation of it is Qatadah's mursal tradition in which he says; "The Holy Prophet (upon whom be Allah's peace and blessings) said: "The light of some one will be so .strong and sharp that it will be running on before him equal to the distance between Madinah and `Aden, of another equal to the distance between Madinah and San'a, and of another even less than that; to much so that there will be a believer whose light will Dot extend beyond his steps." (Ibn Jarir). In other words, the intensity of the light of a person will be proportionate to the extent of the good done and spread by him in the world, and the beams of his light will be running on before him in the Hereafter extending as far as his good will have extended in the world. Here, a question may arise in the mind of the reader "One can understand the meaning of their light running on before the believers but what does their light running on only on their right hand mean? Will there be darkness on their left side? The answer is: When a man is walking with a light on his right hand, his left side also will be bright, though the fact of the matter is that the light will be on his right hand. This has been explained by the Hadith, which Hadrat Abu Dharr and Abu Darda' have reported, saying that the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace;) said: "I shall recognize the righteous people of my Ummah by their light which will be running on before them and on their right and on their left." Hakim, Ibn Abi Hatim, Ibn Marduyah).

سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :17 اس آیت اور بعد والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ میدان حشر میں نور صرف مومنین صالحین کے لیے مخصوص ہو گا ، رہے کفار و منافقین اور فساق و فجار ، تو وہ وہاں بھی اسی طرح تاریکی میں بھٹک رہے ہوں گے جس طرح دنیا میں بھٹکتے رہے تھے ۔ وہاں روشنی جو کچھ بھی ہو گی ، صالح عقیدے اور صالح عمل کی ہو گی ۔ ایمان کی صداقت اور سیرت و کردار کی پاکیزگی ہی نور میں تبدیل ہو جائے گی جس سے نیک بندوں کی شخصیت جگمگا اٹھے گی جس شخص کا عمل جتنا تابندہ ہو گا اس کے وجود کی روشنی اتنی ہی زیادہ تیز ہو گی اور جب وہ میدان حشر سے جنت کی طرف چلے گا تو اس کا نور اس کے آگے آگے دوڑ رہا ہو گا ۔ اس کی بہترین تشریح قتادہ کی وہ مرسل روایت ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی کا نور اتنا تیز ہو گا کہ مدینہ سے عدن تک کی مسافت کے برابر فاصلے تک پہنچ رہا ہو گا ، اور کسی کو نور مدینہ سے صنعاء تک ، اور کسی کا اس سے کم ، یہاں تک کہ کوئی مومن ایسا بھی ہو گا جس کا نور اس کے قدموں سے آگے نہ بڑھے گا ( ابن جریر ) ۔ بالفاظ دیگر جس کی ذات سے دنیا میں جتنی بھلائی پھیلی ہو گی اس کا نور اتنا ہی تیز ہو گا ، اور جہاں جہاں تک دنیا میں اس کی بھلائی پہنچی ہو گی میدان حشر میں اتنی ہی مسافت تک اس کے نور کی شعاعیں دوڑ رہی ہوں گی ۔ یہاں ایک سوال آدمی کے ذہن میں کھٹک پیدا کر سکتا ہے ۔ وہ یہ کہ آگے آ گے نور کا دوڑنا تو سمجھ میں آتا ہے ، مگر نور کا صرف دائیں جانب دوڑنا کیا معنی؟ کیا ان کے بائیں جانب تاریکی ہو گی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایک شخص اپنے دائیں ہاتھ پر روشنی لیے ہوئے چل رہا ہو تو اس سے روشن تو بائیں جانب بھی ہو گی مگر امر واقعہ یہی ہو گا کہ روشنی اس کے دائیں ہاتھ پر ہے ۔ اس بات کی وضاحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث کرتی ہے جسے حضرت ابوذر اور ابوالدرداء نے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا اَعرفہم بنورھم الذی یسعیٰ بین ایدیھم و عن اَیمانہم و عن شمائلہم میں اپنی امت کے صالحین کو وہاں ان کے اس نور سے پہچانوں گا جو ان کے آگے اور ان کے دائیں اور بائیں دوڑ رہا ہو گا ( حاکم ، ابن ابی حاتم ، ابن مردویہ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: اس سے مراد غالباً وہ وقت ہے جب تمام لوگ پل صراط سے گذر رہے ہوں گے، وہاں ہر انسان کا ایمان اس کے سامنے نور بن کر اسے راستہ دکھائے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٢۔ ١٥۔ معتبر سند ٣ ؎ سے طبرانی اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پل صراط پر گزرنے کے وقت اندھیرا ہوگا اس لئے ہر ایماندار مرد اور ورت کو ان کے عملوں کے موافق میدان محشر نور دے کر پل صراط پر گزرنے کا حکم ہوگا اور فرشتے ان کو پل صراط سے گزرتے ہی جنت میں داخل ہونے خوش خبری دیں گے۔ غرض اسی نور کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور یہ حدیث اس کی تفسیر ہے۔ منافقوں کے دل میں نور ایمان نہیں ہے۔ اسی واسطے ان کو یا تو سرے سے نور نہ دیا جائے گا یا دیا جائے گا تو ایسا کہ جلدی سے بجھ جائے گا اس لئے کچھ دور تک تو یہ منافق لوگ ایماندار لوگوں کے نور کی جھلک میں راستہ چلیں گے۔ پھر ایمانداروں کے سواریوں پر اور ان کے پیدل ہونے کے سبب سے جب یہ منافق لوگ اندھیرے میں پیچھے رہ جائیں گے تو اس وقت یہ منافق لوگ ایمانداروں سے کہیں گے ذرا ٹھہر جاؤ تاکہ تمہاری روشنی سے بھی کچھ جھلک پا کر اس اندھیرے کو طے کرلیں فرشتے ان منافقوں کو جھڑک کر جواب دیں گے کہ پیچھے پلٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو۔ فرشتوں کے اس جواب کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو یہ کہ پلٹ کر میدان محشر میں جاؤ۔ جہاں سب کو نور ملا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ پلٹ کر دنیا میں جاؤ اور نفاق سے توبہ کرو جب کچھ نور ملے۔ فرشتوں کا یہ جواب ایک جھڑکی کے طور پر ہوگا ورنہ انکو معلوم ہے کہ میدان محشر میں اب کچھ نور مل سکتا ہے نہ دوبارہ دنیا میں جانا ہوسکتا ہے۔ یہ باتیں ہو ہی رہی ہوں گی کہ اتنے میں ایماندار لوگوں اور منافقوں کے درمیان میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے دیوار کھڑی کردی جائے گی۔ جس کے پرلی طرف جنت ہوگی اور ورلی طرف جہنم بعض سلف کا قول ہے کہ یہ دیوار وہی اعراف ہے جس کا ذکر سورة اعراف میں گزرا۔ اس دیوار کے حائل ہوجانے کے وقت منافق لوگ ایماندار لوگوں سے پکار کر کہیں گے کہ اس وقت ہمارا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہئے کیونکہ دنیا میں تم ہمارے ساتھی تھے۔ اس کے جواب میں ایماندار لوگ کہیں گے کہ تم اوپری طور پر ہمارے ساتھ تھے دل سے تو تم بچلے ہوئے تھے اور اہل اسلام کی برائی چاہتے تھے۔ اور دین کی باتوں کی طرف سے ایک شک کی حالت میں پڑے ہوئے تھے اور طرح طرح کی بےاصل آرزؤں میں اپنی عمر گزارتے تھے مثلاً یہ خیال کرتے تھے کہ اہل اسلام کو کافروں کے ہاتھ سے کچھ ضرور بھی پہنچا تو ہم امن میں رہیں گے کیونکہ ہمارا میل جول دونوں جانب سے ہے یہاں تک کہ اسی شیطانی بہکاوے میں تم مرگئے اس لئے آج تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے جو بہت برا ٹھکانا ہے جس سے کچھ بدلہ دے کر بھی تمہارا چھٹکارا نہیں ہوسکتا۔ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ قیامت کے دن ساری زمین بھر کے برابر سونا بھی نجات کے لئے کافی نہ ہوگا مسند امام احمد صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم وغیرہ میں صحابہ کی ایک جماعت سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ کلمہ گو آدمی خالص نیت سے ایک کھجور بھی اللہ کے نام پردے گا تو قیامت کے دن دوزخ کی آگ سے نجات پانے کے لئے تھوڑی سی خیرات بھی اس کے کام آئے گی۔ اس کا حاصل یہ نکلا کہ شرک و نفاق ایسی چیز ہے کہ اس کے سبب سے قیامت کے دن زمین بھر کے سونا بھی نجات کے لئے کارآمد نہیں اور توحید ایسی چیز ہے جس کے سبب سے قیامت کے دن ایک کھجور بھی نجات کے لئے کارآمد ہے۔ صحیح ١ ؎ حدیثوں میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ریا کاری کو چھوٹا شرک فرمایا ہے اس لئے جس طرح آدمی کو شرک و نفاق سے بچنا چاہئے۔ اسی طرح ریا کاری سے بھی اسے بچنا چاہئے۔ (٣ ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی الحشر وغیرہ ص ٧٤٨ ج ٤۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری باب اتقوا النار و لوبش ثمرۃ ص ١٩٠ ج ١ و صحیح مسلم باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ ص ٣٢٦ ج ١۔ ) (١ ؎ مشکوۃ شریف باب فی الریاء والسمعۃ فصل ثالث ص ٤٥٦۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(57:12) یوم : فعل محذوف کا مفعول ہے ای اذکر یوم۔ یاد کر اس دن کو جب ۔۔ یسعی : مضارع واحد مذکر غائب۔ سعی (باب فتح) مصدر۔ دوڑتا ہوا۔ یا تیزی سے چل رہا ہوگا۔ بین ایدیہم : بین مضاف ہے اور اس کی اضافت ایدی کی طرف ہے۔ ایدی مضاف الیہ مضاف ہے۔ ہم مضاف الیہ۔ ان کے ہاتھ، بین ایدیہم ان کے سامنے ان کے قریب۔ ایمانھم : مضاف مضاف الیہ۔ ایمان جمع ہے یمین کی۔ دایاں ہاتھ ایمان مجازا بمعنی قسمیں بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :۔ واقسموا باللہ جھد ایمانھم (6:109) اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں۔ کسی معاہدہ میں معاہدہ کو پکا کرنے کے لئے فریقین قسم کھا کر ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں اسی فعل سے یمین بمعنی حلف مستعار لیا گیا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ یاد کر وہ دن جب تو مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھے گا کہ ان (کے ایمان) کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں طرف چل رہا ہوگا۔ بشرکم الیوم جنت تجری۔۔ اس سے پہلے ویقول لہم الملئکۃ (فرشتے ان سے کہیں گے) عبارت مقدرہ ہے، خوشخبری ہے تم کو آج کے دن۔ جنت تجری من تحتھا الانھر ۔۔ ای لکم جنت ۔۔ الخ تمہارے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں خلدین فیھا : جنت سے حال ہے، درآں حالیکہ تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔ الفوز العظیم : موصوف وصفت۔ بڑی کامیابی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 ” اور اسی کی رہنمائی میں چل کر وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ “ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ یہ نور پر شخص کے ایمان اور عمل صالح کے مطابق ہوگا جس کا ایمان جس قدر پختہ اور عمل جس قدر زیادہ ہوگا اسی قدر اس کا نور زیادہ ہوگا۔ قتادہ سے مرسلام وہی ہے کہ بعض مومن ایسے ہوں گے جن کا نور مدینہ سے صنعا تک پھیلا ہوگا۔ ضحاک اور قتادہ کہتے ہیں کہ نور آگے ہوگا اور ان کے داہنے ہاتھ میں ان کے اعمال نامے ہونگے ابن کثیر یہ مطلب اس صورت میں ہے جب و بایمانھم کو بین ایدھم سے الگ جملہ قرار دیا جائے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یہ نور پل صراط پر سے گزرنے کے لئے ان کے ہمراہ ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے، انفاق فی سبیل اللہ کرنے اور قتال فی سبیل اللہ میں شامل ہونے والوں کے لیے روشن مستقبل کی نوید۔ قیامت کے دن جب جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا تو اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت عطا فرمائیں گے۔ جب مومن اور مومنات جنت میں جانے لگیں گے تو اس سے پہلے ایک ایسامرحلہ آئے گا جس وقت کوئی چیز دکھائی اور سجھائی نہیں دے گی۔ جنتی جونہی جنت کی طرف رواں دواں ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اور دائیں طرف ہر چیز روشن فرمادیں گے ہر جنتی اپنے اعمال کے مطابق جنت کے راستہ کو منور پائے گا، جونہی جنتی جنت کے دروازوں کے قریب جائیں گے تو ملائکہ انہیں سلام کرتے ہوئے خوش آمدید کہیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے لیے جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور ہر جنتی اپنے مقام اور اعمال کے مطابق جنت کے مخصوص دروازے سے داخل ہو کر اپنے مقام پر پہنچ جائے گا، جنت میں نہریں اور آبشاریں جاری ہوں گی اس جنت میں جنتی ہمیشہ رہیں گے اور یہ سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ ” اے ایمان والو ! اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ، ہوسکتا ہے کہ اللہ تمہاری برائیاں دور کر دے اور تمہیں ایسی جنت میں داخل فرما دے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لائے ہیں ذلیل نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا اور وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لیے مکمل کر دے اور ہماری بخشش فرما تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “ (التحریم : ٨) (عَنْ نُعَیْمٍ الْمُجْمِرِ قَالَ رَقِیتُ مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَلَی ظَہْرِ الْمَسْجِدِ ، فَتَوَضَّأَ فَقَالَ إِنِّی سَمِعْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ إِنَّ أُمَّتِی یُدْعَوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ غُرًّا مُحَجَّلِینَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یُطِیلَ غُرَّتَہُ فَلْیَفْعَلْ ) (رواہ البخاری : باب فَضْلِ الْوُضُوءِ ) ” حضرت نعیم مجمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ابوہریرہ (رض) کے ساتھ مسجد کی چھت پر چڑھا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے وضو کیا پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کو قیامت کے دن جب بلایا جائے گا تو وضو کرنے کی وجہ سے ان کے پانچ کلیان یعنی ہاتھ پاؤں اور چہرے چمکتے ہوں گے۔ پھر حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ تم سے جو اپنی چمک کو زیادہ کرنے کی طاقت رکھتا اسے ایسا کرنا چاہیے۔ “ (اللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا وَفِی بَصَرِی نُورًا وَفِی سَمْعِی نُورًا وَعَنْ یَمِینِی نُورًا وَعَنْ یَسَارِی نُورًا وَفَوْقِی نُورًا وَتَحْتِی نُورًا وَأَمَامِی نُورًا وَخَلْفِی نُورًا وَاجْعَلْ لِیّ نُورًا) (رواہ البخاری، کتاب الدعوات، باب الدعا اذا انتبدہ بالیل) ” اے اللہ میرے دل میں نور پیدا فرمادے میری نگاہ میں بھی نور، میرے کا نوں میں بھی نور، میرے دائیں بھی نور، میرے بائیں بھی نور، میرے اوپر بھی نور، میرے نیچے بھی نور، میرے آگے بھی نور، میرے پیچھے بھی نور، اور میرے لیے نور ہی نور فرما دے۔ “ مسائل ١۔ قیامت کے دن ہر ایماندار مومن اور مومنہ اپنے ایمان کے مطابق روشنی پائیں گے۔ ٢۔ جس کو جنت میں داخلہ نصیب ہوا وہ کامیاب ٹھہرے گا۔ تفسیر بالقرآن بڑی کامیابی پانے والے لوگ : ١۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں، مومنات سے ہمیشہ کی جنت اور اپنی رضا مندی کا وعدہ فرمایا ہے یہ بڑی کامیابی ہے۔ (التوبہ : ٧٢، ٨٩، ١٠٠) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین سے جنت کے بدلے ان کے مال و جان خرید لیے ہیں، یہ بڑی کامیابی ہے۔ (التوبہ : ١١١) ٣۔ اے اللہ نیک لوگوں کو برائی سے بچا جو برائی سے بچ گیا اس پر تیرا رحم ہوا یہ بڑی کامیابی ہے۔ (المومن : ٩) ٤۔ مومنوں کا جہنم کے عذاب سے بچنا اللہ کے فضل سے ہوگا اور یہی کامیابی ہے۔ (الدخان : ٥٧) ٥۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یہ کھلی کامیابی ہے۔ (الجاثیہ : ٣٠) ٦۔ مومنوں کے لیے ہمیشہ کی جنت ہے جس میں پاک صاف مکان ہوں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔ (الصف : ١٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن مومنین مومنات کو نور دیا جائے گا منافقین کچھ دور ان کے ساتھ چل کر اندھیرے میں رہ جائیں گے ان آیات میں مومنین و مومنات اور منافقین و منافقات کی حالت بتائی ہے جس کا قیامت کے دن ظہو ہوگا اہل ایمان کے بارے میں فرمایا کہ اے مخاطب تم قیامت کے دن مومنین و مومنات کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے داہنی طرف دوڑ رہا ہوگا ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہارے لیے ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں تم ہمیشہ رہو گے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُۚ٠٠١٢﴾ (یہ بڑی کامیابی ہے) ۔ قیامت کے دن حاضر تو سبھی ہوں گے، مومن بھی منافق بھی کھلے ہوئے کافر بھی اور وہ لوگ بھی جو دنیا میں شرک کرتے تھے، کافروں اور مشرکوں کو تو نور ملے گا ہی نہیں وہ تو اندھیرے ہی میں رہیں گے اور مسلمانوں کو نور دیا جائے گا وہ اس کے ذریعہ پل صراط سے گزریں گے اور منافق مردو عورت پیچھے رہ جائیں گے اور اتنے پیچھے ہوجائیں گے کہ بالکل اندھیرے میں رہ جائیں گے، یہ لوگ مومنین سے کہیں گے کہ ذرا ٹھہرو ہمیں بھی مہلت دو ہم بھی تمہارے ساتھ تمہاری روشنی میں چلے چلیں انکو جواب دیا جائے گا۔ ﴿ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا ﴾ (کہ اپنے پیچھے لوٹ جاؤ وہیں روشنی تلاش کرو) وہ پیچھے لوٹیں گے تو ذرا بھی روشنی نہ پائیں گے اور ساتھ ہی ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جو مومنین اور منافقین کے درمیان آڑ بن جائے گی اب تو وہ لوگ نہ مومنین تک واپس پہنچ سکیں گے اور نہ مومنین کی روشنی سے استفادہ کرسکیں گے۔ منافقین مومنین سے پکار کر کہیں گے ﴿اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ﴾ (کیا دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نہ تھے) تمہاری طرح نماز پڑھتے تھے اور تمہارے ساتھ جہاد میں جایا کرتے تھے جب ہم اسلامی اعمال میں تمہارے ساتھ تھے تو آج ہمیں اندھیرے میں چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو ؟ مومنین جواب دیں گے بلیٰ (ہاں دنیا میں تم ہمارے ساتھ تھے) یہ بات ٹھیک ہے ﴿ وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ ﴾ (لیکن تم نے اپنی جانوں کو فتنہ میں ڈالا) یعنی گمراہی میں پھنسے رہے ﴿ وَ تَرَبَّصْتُمْ﴾ (اور تم نے انتظار کیا) کہ دیکھو مسلمانوں پر کب کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے) ﴿ وَ ارْتَبْتُمْ ﴾ (اور تم اسلام کے حق ہونے میں شک کرتے تھے) ﴿ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِيُّ ﴾ (اور تمہیں تمہاری آرزوؤں نے دھوکہ میں ڈالا) تم سمجھتے تھے کہ یہ اسلام اور اس کے ماننے والوں کو چند دن کا مسئلہ ہے نہ یہ دین چلنے والا ہے اور نہ اس کے ماننے والے آگے بڑھنے والے ہیں اگر تم اسلام کو سچا جانتے تو اس پر مرمٹتے لیکن تم ظاہر میں اسلام کا دعویٰ کرتے تھے اور دل سے اس دین کے مخالف تھے اس لیے اس کے مٹ جانے کی آرزوئیں رکھتے تھے ﴿ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ ﴾ (یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا) یعنی تمہیں موت آگئی جب موت آجائے تو توبہ بھی نہیں ہوسکتی ﴿ وَ غَرَّكُمْ باللّٰهِ الْغَرُوْرُ ٠٠١٤﴾ (اور دھوکہ دینے والے یعنی شطان نے تمہیں دھوکے میں ڈالا) اور تمہارا ناس کھو دیا، اب تو تمہیں عذاب ہی میں جانا ہے، آج تم اور کھلے کافر مستحق عذاب ہونے میں برابر ہو تمہارے چھٹکارہ کا کوئی راستہ نہیں ﴿ فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ١ؕ﴾ (آج نہ تم سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جو کھلے کافر تھے) ﴿ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ ١ؕ﴾ (تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے) ﴿هِيَ مَوْلٰىكُمْ ١ؕ﴾ (وہ تمہاری رفیق ہے) ﴿ وَ بِئْسَ الْمَصِيْرُ ٠٠١٥﴾ (اور وہ برا ٹھکانہ ہے) ۔ یہ تشریح اور توضیح تفسیر در منثور کی روایات کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔ ﴿نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ بِاَيْمَانِهِمْ ﴾ جو فرمایا ہے اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ اہل ایمان کے دائیں اور سامنے نور ہوگا اس سے بائیں طرف نور ہونے کی نفی نہیں ہے کیونکہ حدیث شریف میں بائیں طرف نور ملنے کا بھی تذکرہ ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حضرت نوح (علیہ السلام) کی امت سے لے کر آپ کی امت تک بہت سی امتیں گزری ہوں گی ان کے درمیان میں آپ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ ان کے چہرے روشن ہوں گے اور ہاتھ پاؤں سفید ہوں گے انکی یہ کیفیت وضو کرنے کی وجہ سے ہوگی میری امت کے علاوہ کسی دوسری امت کے لیے یہ نشانی نہ ہوگی اور میں انہیں اس طرح بھی پہچان لوں گا کہ ان کے چہروں پر سجدہ کے اثر ہوں گے اور اس طرح بھی پہچان لوں گا کہ ان کے سامنے اور دائیں اور بائیں تینوں طرف نور ہوگا۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک صفحہ ٤٧٨: ج ٢ وقال صحیح الاسناد وسکت علیہ الذھبی) ۔ ﴿فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ﴾ (سو ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا) ﴿بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ٠٠١٣﴾ (اس کے اندر والے حصہ میں رحمت ہوگی اور باہر کی جانب عذاب ہوگا) ۔ یہ کون سی دیوار ہے جس کا الفاظ بالا میں تذکرہ فرمایا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ دیوار اعراف ہے جو مومنین اور کفار (بشمول منافقین) کے درمیان حائل کردی جائے گی اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے اعراف کے علاوہ کوئی دوسری دیوار مراد ہے صاحب معالم التنزیل صفحہ ٩٩٦: ج ٤ لکھتے ہیں : وھو حائط بین الجنة والنار یعنی وہ ایک دیوار ہوگی جو جنت اور دوزخ کے درمیان حائل ہوگی اس دیوار میں جو دروازہ ہوگا وہ کس لیے ہوگا اور کب تک رہے گا اس بارے میں کوئی تصریح واضح طور پر نہیں ملتی ممکن ہے کہ یہ وہی دروازہ ہو جس کے ذریعہ اہل جنت اہل دوزخ سے گفتگو کرسکیں جیسا کہ سورة الصافات میں ﴿قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ ٠٠٥٤ فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِيْ سَوَآءِ الْجَحِيْمِ ٠٠٥٥﴾ فرمایا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دروازہ مستقل نہ ہو مومنین کے جنت میں جاتے وقت (جبکہ منافقین ان سے علیحدہ ہوجائیں گے) یہ دروازہ کھلا رہے اور بعد میں بند کردیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ فائدہ : مومنین کے نور کا سورة التحریم میں بھی تذکرہ فرمایا ہے ﴿يَوْمَ لَا يُخْزِي اللّٰهُ النَّبِيَّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ١ۚ نُوْرُهُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ بِاَيْمَانِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ٠٠٨﴾ (جس دن اللہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے رسوانہ کرے گا ان کا نور ان کی داہنی طرف اور انکے آگے دوڑتا ہوگا، وہ یوں دعا کرتے رہتے تھے کہ اے ہمارے رب ہمارے نور کو پورا فرما دے اور ہمیں بخش دے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اعمال صالحہ سراپا نور ہیں : اعمال صالحہ سراسر نور کا ذریعہ بنیں گے۔ بعض اعمال کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ نور کا سبب ہونے کی خصوصی تصریح بھی احادیث شریفہ میں وارد ہوئی ہے۔ حضرت بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہ قیامت کے دن نور تام یعنی پورے نور کی خوشخبری سنا دو ان لوگوں کو جو اندھیروں میں مسجدوں کی طرف چلتے ہیں۔ (رواہ الترمذی و ابوداود رواہ ابن ماجہ من سہل بن سعد وانس) حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ جس نے نماز کی پابندی کی اس کے لیے وہ قیامت کے روز نور ہوگی اور اس کے ایمان کی دلیل ہوگی اور اس کی نجات (کا سامان) ہوگی اور جس نے نماز کی پابندی نہ کی اس کے لیے نماز نہ نور ہوگی نہ (ایمان کی) دلیل ہوگی نہ نجات کا سامان ہوگی، اور یہ شخص قیامت کے روز قارون اور اس کے وزیر ہامان اور (مشہور مشرک) ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ (مسند احمد ج ٢: ١٢٩) حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے جمعہ کے دن سورة الکہف پڑھی اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن ہوگا۔ (رواہ البیہقی فی السنن الکبریٰ ٢٤٩: ج ٣) حضرت عمر و بن شعیب (رض) سے روایت ہے وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم سفید بال مت اکھاڑو کیونکہ وہ مسلمان کا نور ہے جو کوئی مسلمان ہونے کی حالت میں بوڑھا ہوا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے بدلے نیکی لکھے گا اور اس کے لیے اس کے بدلہ میں ایک گناہ معاف کرے گا اور اس کا ایک درجہ بلند کرے گا۔ (یہ نیکی اور گناہ کی معافی صرف بڑھاپے کی وجہ سے ہوگی) ۔ (رواہ ابوداؤد وکمافی المشکوۃ صفحہ ٣٨٢)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

13:۔ ” یوم تری “ ظرف، لہ اجر کریم کے متعلق مقدر سے متعلق ہے اور یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے جو اللہ کی راہ میں دل کھول کر مال خرچ کرتے ہیں۔ قیامت کے دن جب مومنین پل صراط پر سے گذریں گے اس وقت ان کے آگے اور ان کی دائیں جانب روشنی ہوگی جس میں وہ پل صراط پر سے صحیح سلامت گذر جائیں گے یہ روشنی ایمان اور اعمال صالحہ نماز، روزہ، حج، زکوۃ، انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ کی ہوگی۔ اس لیے اعمال صالحہ کے مطابق ان کی روشنی کم و بیش ہوگی۔ عن ابن مسعود یوتون نورہم علی قدر اعمالہم (قرطبی ج 17 ص 244) ۔ ” بشراکم الیوم “ اس سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہے۔ جنت کے دروازوں پر فرشتے ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوں گے اور ان سے کہیں گے تمہیں نعمتوں کو باغات مبارک ہوں جن میں ہر قسم کے مشروبات کی نہریں بہہ رہی ہیں اور یہ تمہارا دائم ٹھکانہ ہے تم ان میں ہمیشہ رہو گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ای یقال لہم ذلک والقائل الملائکۃ الذین یتلقونہم (روح ج 27 ص 175) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(12) وہ دن قابل ذکر ہے جس دن آپ ایماندار مردوں اور ایمان دار عورتوں کو اس حال میں دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب تیز رفتار سے چلتا ہوگا اور دوڑتا ہوگا کہا جائیگا کہ آج تم کو ایسے باغوں کی خوشخبری ہو جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ نور اور بشارت ہی تو بڑی کامیابی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس وقت پل صراط پر چلیں گے سخت اندھیرا ہوگا اپنے ایمان کی روشنی آگے ہوگی اور داہنے کو نیک عمل داہنی طرف جمع ہوتے ہیں۔ خلاصہ : یہ ہے کہ پل صراط پر گزرنے ہی میں نیکوں کو بشارتیں ملنے لگیں گی۔