Surat ul Hadeed

Surah: 57

Verse: 20

سورة الحديد

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمۡ وَ تَکَاثُرٌ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ ؕ کَمَثَلِ غَیۡثٍ اَعۡجَبَ الۡکُفَّارَ نَبَاتُہٗ ثُمَّ یَہِیۡجُ فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ یَکُوۡنُ حُطَامًا ؕ وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۙ وَّ مَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانٌ ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۲۰﴾

Know that the life of this world is but amusement and diversion and adornment and boasting to one another and competition in increase of wealth and children - like the example of a rain whose [resulting] plant growth pleases the tillers; then it dries and you see it turned yellow; then it becomes [scattered] debris. And in the Hereafter is severe punishment and forgiveness from Allah and approval. And what is the worldly life except the enjoyment of delusion.

خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر ( و غرور ) اور مال واولاد میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیادہ بتلانا ہے جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وہ خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وہ بالکل چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

This Life of this World is Fleeting Enjoyment Allah the Exalted degrades the significance of this life and belittles it by saying, اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الاَْمْوَالِ وَالاَْوْلاَدِ ... Know that the life of this world is only play and amusement, pomp and mutual boasting among you, and rivalry in respect of wealth and children. meaning, this is the significance of this life to its people, just as He said in another Ayah, زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَتِ مِنَ النِّسَأءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَـطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالاَنْعَـمِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَـعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَأَبِ Beautified for men is the love of things they covet; women, children, much of gold and silver (wealth), branded beautiful horses, cattle and well-tilled land. This is the pleasure of the present world's life; but Allah has the excellent return with Him. (3:14) Allah the Exalted also sets a parable for this life, declaring that its joys are fading and its delights are perishable, saying that life is, ... كَمَثَلِ غَيْثٍ ... Like a rain (Ghayth), which is the rain that comes down to mankind, after they had felt despair. Allah the Exalted said in another Ayah, وَهُوَ الَّذِى يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُواْ And He it is Who sends down the Ghayth (rain) after they have despaired. (42:28) Allah's statement, ... أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ... thereof the growth is pleasing to the tiller; meaning that farmers admire the vegetation that grows in the aftermath of rain. And just as farmers admire vegetation, the disbelievers admire this life; they are the most eager to acquire the traits of life, and life is most dear to them, ... ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ... afterwards it dries up and you see it turning yellow; then it becomes straw. meaning, that vegetation soon turns yellow in color, after being fresh and green. After that, the green fades away and becomes scattered pieces of dust. This is the parable of this worldly life, it starts young, then matures and then turns old and feeble. This is also the parable of mankind in this life; they are young and strong in the beginning. In this stage of life, they look youthful and handsome. Slowly, they begin growing older, their mannerism changes and their strength weakens. They then grow old and feeble; moving becomes difficult for them, while doing easy things becomes beyond their ability. Allah the Exalted said, اللَّهُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفاً وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَأءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ Allah is He Who created you in (a state of) weakness, then gave you strength after weakness, then after strength gave (you) weakness and grey hair. He creates what He wills. And He is the All-Knowing, the All-Powerful. (30:54) This parable indicates the near demise of this life and the imminent end of it, while in contrast, the Hereafter is surely coming. Those who hear this parable should, therefore, be aware of the significance of the Hereafter and feel eagerness in the goodness that it contains, ... وَفِي الاْخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُور But in the Hereafter (there is) a severe torment, and (there is) forgiveness from Allah and (His) pleasure. And the life of this world is only a deceiving enjoyment. meaning, surely, the Hereafter that will certainly come contains two things either severe punishment or forgiveness from Allah and His good pleasure. Allah the Exalted said, وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُور (And the life of this world is only a deceiving enjoyment). meaning, this life is only a form of enjoyment that deceives those who incline to it. Surely, those who recline to this life will admire it and feel that it is dear to them, so much so, that they might think that this is the only life, no life or dwelling after it. Yet, in reality, this life is insignificant as compared to the Hereafter. Imam Ahmad recorded that Abdullah said that the Messenger of Allah said, لَلْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذلِك Paradise is nearer to any of you than the strap on his shoe, and so is the (Hell) Fire. Al-Bukhari collected this Hadith through the narration of Ath-Thawri. This Hadith indicates the close proximity of both good and evil in relation to mankind. If this is the case, then this is the reason Allah the Exalted encouraged mankind to rush to perform acts of righteousness and obedience and to avoid the prohibitions. By doing so, their sins and errors will be forgiven and they will acquire rewards and an exalted status. Allah the Exalted said,

دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے امر دنیا کی تحقیر و توہین بیان ہو رہی ہے کہ اہل دنیا کو سوائے لہو و لعب زینت و فخر اور اولاد و مال کی کثرت کی چاہت کے اور ہے بھی کیا ؟ جیسے اور آیت میں ہے ( زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَاۗءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۭ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ 14؀ ) 3-آل عمران:14 ) ، یعنی لوگوں کے لئے ان کی خواہش کی چیزوں کو مزین کر دیا گیا ہے جیسے عورتیں بچے وغیرہ پھر حیات دنیا کی مثال بیان ہو رہی ہے کہ اس کی تازگی فانی ہے اور یہاں کی نعمتیں زوال پذیر ہیں ۔ غیث کہتے ہیں اس بارش کو جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد برسے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ ۭ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ 28؀ ) 42- الشورى:28 ) ، اللہ وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش برساتا ہے ۔ پس جس طرح بارش کی وجہ سے زمین سے کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ لہلہاتی ہوئی کسان کی آنکھوں کو بھی بھلی معلوم ہوتی ہیں ، اسی طرح اہل دنیا اسباب دنیوی پر پھولتے ہیں ، لیکن نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہی ہری بھری کھیتی خشک ہو کر زرد پڑ جاتی ہے پھر آخر سوکھ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے ۔ ٹھیک اسی طرح دنیا کی ترو تازگی اور یہاں کی بہبودی اور ترقی بھی خاک میں مل جانے والی ہے ، دنیا کی بھی یہی صورتیں ہوتی ہیں کہ ایک وقت جوان ہے پھر ادھیڑ ہے پھر بڑھیا ہے ، ٹھیک اسی طرح خود انسان کی حالت ہے اس کے بچپن جوانی ادھیڑ عمر اور بڑھاپے کو دیکھتے جائیے پھر اس کی موت اور فنا کو سامنے رکھے ، کہاں جوانی کے وقت اس کا جوش و خروش زور طاقت اور کس بل؟ اور کہاں بڑھاپے کی کمزوری جھریاں پڑا ہوا جسم خمیدہ کمر اور بےطاقت ہڈیاں؟ جیسے ارشاد باری ہے آیت ( اللہ ھوالذی خلقکم من ضعف ) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد قوت دی پھر اس وقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا کر دیا وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور وہ عالم اور قادر ہے ۔ اس مثال سے دنیا کی فنا اور اس کا زوال ظاہر کر کے پھر آخرت کے دونوں منظر دکھا کر ایک سے ڈراتا ہے اور دوسرے کی رغبت دلاتا ہے ، پس فرماتا ہے عنقریب آنے والی قیامت اپنے ساتھ عذاب اور سزا کو لائے گی اور مغفرت اور رضامندی رب کو لائے گی ، پس تم وہ کام کرو کہ ناراضگی سے بچ جاؤ اور رضا حاصل کر لو سزاؤں سے بچ جاؤ اور بخشش کے حقدار بن جاؤ ، دنیا صرف دھوکے کی ٹٹی ہے اس کی طرف جھکنے والے پر آخر وہ وقت آ جاتا ہے کہ یہ اس کے سوا کسی اور چیز کا خیال ہی نہیں کرتا اسی کی دھن میں روز و شب مشغول رہتا ہے بلکہ اس کمی والی اور زوال والی کمینی دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے لگتا ہے ، شدہ شدہ یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ بسا اوقات آخرت کا منکر بن جاتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک کوڑے برابر جنت کی جگہ ساری دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے ۔ پڑھو قرآن فرماتا ہے کہ دنیا تو صرف دھوکے کا سامان ہے ( ابن جریر ) آیت کی زیادتی بغیر یہ حدیث صحیح میں بھی ہے واللہ اعلم ۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے تم میں سے ہر ایک سے جنت اس سے بھی زیادہ قریب ہے جتنا تمہارا جوتی کا تسمہ اور اسی طرح جہنم بھی ( بخاری ) پس معلوم ہوا کہ خیر و شر انسان سے بہت نزدیک ہے اور اس لئے اسے چاہئے کہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرے اور برائیوں سے منہ پھیر کر بھاگتا رہے ۔ تاکہ گناہ اور برائیاں معاف ہو جائیں اور ثواب اور درجے بلند ہو جائیں ۔ اسی لئے اس کے ساتھ ہی فرمایا دوڑو اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی جنس کے برابر ہے ، جیسے اور آیت ( وسارعوا الی مغفرۃ ) میں ہے اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف سبقت کرو جس کی کشادگی کل آسمان اور ساری زمینیں ہیں جو پارسا لوگوں کے لئے بنائی گی ہیں ۔ یہاں فرمایا یہ اللہ رسول پر ایمان لانے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے ، یہ لوگ اللہ کے اس فضل کے لائق تھے اسی لئے اس بڑے فضل و کرم والے نے اپنی نوازش کے لئے انہیں چن لیا اور ان پر اپنا پورا احسان اور اعلیٰ انعام کیا ۔ پہلے ایک صحیح حدیث بیان ہو چکی ہے کہ مہاجرین کے فقراء نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مالدار لوگ تو جنت کے بلند درجوں کو اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو پا گئے آپ نے فرمایا یہ کیسے؟ کہا نماز روزہ تو وہ اور ہم سب کرتے ہیں لیکن مال کی وجہ سے وہ صدقہ کرتے ہیں غلام آزاد کرتے ہیں جو مفلسی کی وجہ سے ہم سے نہیں ہو سکتا آپ نے فرمایا آؤ میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاؤں کہ اس کے کرنے سے تم ہر شخص سے آگے بڑھ جاؤ گے مگر ان سے جو تمہاری طرح خود بھی اس کو کرنے لگیں ، دیکھو تم ہر فرض نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو اور اتنی ہی بار اللہ اکبر اور اسی طرح الحمد اللہ ۔ کچھ دنوں بعد یہ بزرگ پھر حاضر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مال دار بھائیوں کو بھی اس وظیفہ کی اطلاع مل گئی اور انہوں نے بھی اسے پڑھنا شروع کر دیا آپ نے فرمایا یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

201یعنی اہل کفر کے لئے جو دنیا کے کھیل کود میں ہی مصروف رہے اور اسی کو انہوں نے حاصل زندگی سمجھا۔ 202یعنی اہل ایمان وطاعت کے لئے، جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ نہیں سمجھا، بلکہ اسے عارضی، فانی اور دارالا متحان سمجھتے ہوئے اللہ کی ہدایات کے مطابق اس میں زندگی گزاری۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٥] انسانی اور نباتاتی زندگی کا تقابل :۔ اس آیت میں انسان کی دنیاوی زندگی کا نباتات کی زندگی سے تقابل پیش کیا گیا ہے اور بعض مفسرین نے اس زندگی کو چار مراحل میں تقسیم کرکے ان دونوں قسم کی زندگی کا تقابل بتایا ہے۔ مثلاً یہ کہ انسان اپنا بچپن کھیل کود میں گزار دیتا ہے۔ پھر جب اس پر جوانی آتی ہے تو اس کا محبوب مشغلہ اپنے آپ کو بن سنور کر پیش کرنا ہوتا ہے تاکہ اگر وہ مرد ہے تو وہ عورتوں کی توجہ کا مرکز بنے اور عورت ہے تو مردوں کے لیے دلکشی کا باعث ہو۔ پھر جب اس عمر سے گزرتا ہے تو اس کو && ہمچو ما دیگرے نیست && قسم کی چیز بننے کی خواہش لاحق ہوتی ہے اور آخری عمر میں اس کی ہوس میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔ وہ اپنی ذات کی خوش حالی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اپنی اولاد کے لیے جان کھپانا شروع کردیتا ہے حتیٰ کہ اسے موت آلیتی ہے۔ نباتات کا بھی یہی حال ہے۔ پیدا ہوتی ہے اپنے کسانوں یا مالکوں کو خوش کرتی ہے اور ان کی کئی توقعات اس سے وابستہ ہوتی ہیں۔ پھر اس پر جوانی کا دور آتا ہے تو ہر ایک کا دل موہ لیتی ہے پھر تھوڑی ہی دیر بعد اس پر بڑھاپا آجاتا ہے اور وہ زرد پڑنے لگتی ہے۔ اور انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ جانوروں کی خوراک بنتا ہے باقی پاؤں تلے روندا جاتا ہے اور اس مثال سے سمجھانا یہ مقصود ہے کہ جیسے نباتات کی بہار بھی عارضی چیز ہے اور خزاں بھی۔ اسی طرح انسان کی زندگی کی خوشحالیاں بھی عارضی چیزیں ہیں اور تنگدستی اور مصائب بھی۔ اس کے مقابلہ میں جنت کی بہار اور اس کی تمام تر نعمتیں بھی دائمی اور مستقل ہیں اور اس کی خزاں یعنی جہنم اور اس کا عذاب مصیبتیں بھی دائمی اور مستقل ہیں۔ لہذا انسان کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ عارضی اور ناپائیدار چیزوں کے حصول کے بجائے دائمی اور مستقل چیزوں کو اپنا مطمح نظر بنائے اور انہیں کے لیے تمام تر تگ ودو کرے۔ اور جو شخص دنیا کی دلکشیوں میں کھو گیا اور اس کی بہار پر مست ہوگیا وہ بہت بڑے دھوکے میں پڑگیا۔ اصل دانشمندی یہ ہے کہ انسان اس دنیا کی زندگی کو محض کھیل کود سمجھنے کی بجائے اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی سمجھے اور اپنی عاقبت کو سنوارنے کی کوشش کرے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ اِعْلَمُوْٓا : پچھلی آیات سے اس آیت کی مناسبت یہ ہے کہ نفاق کا سبب اور اللہ کی راہ میں جہاد سے گریز اور مال خرچ کرنے سے دریغ کا باعث دنیا کی زندگی کی محبت ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کی حقیقت بیان فرمائی۔ ٢۔ اَنَّمَا الْحَیٰـوۃُ الدُّنْیَا :” الحیوۃ الدنیا “ سے مراد انسان کے وہ کام ہیں جو وہ اس زندگی میں صرف دنیا میں حاصل ہونے والے فوائد کے لیے کرتا ہے ، ورنہ اس زندگی میں وہ آخرت کے لیے اعمال صالحہ کے ذریعے سے ہمیشہ کی سعادت بھی حاصل کرسکتا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃًج وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (النحل : ٩٧)” جو بھی نیک عمل کرے ، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے ، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انہیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے ، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے “۔ ٣۔ لَعِبٌ وَّلَھْوٌ : اس کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ عنکبوت (٦٤) کی تفسیر۔ ٤۔ وَّزِیْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌم بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ط : یہ سچے اور مخلص اہل ایمان یعنی صدیقین و شہداء کے مقابلے میں ایمان سے محروم دنیا دار لوگوں کا حال ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام خواہشوں اور دلچسپیوں کا ذکر ان پانچ باتوں میں فرما دیا ہے ۔ شاہ عبد القادر (رح) تعالیٰ لکھتے ہیں :” آدمی کو اول عمر میں کھیل چاہیے ، پھر تماشا ، پھر بناؤ سنگھار، پھر ساکھ بڑھانا اور نام و نمود حاصل کرنا اور جب مرنا قریب ہو تو مال اور اولاد کی فکر کرنا کہ میرے بعد میرا گھر بنا رہے ہیں اور اولاد آسودگی سے زندگی بسر کرے۔ یہ سب دھوکے کا سامان ہے ، آگے کچھ اور کام آئے گا ( ایمان اور عمل صالح ) یہ کچھ کام نہ آئے گا۔ “ موضح بتصرف) ٥۔ کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ ۔۔۔۔۔:” غیث “ بارش ، جیسا کہ فرمایا :(وَہُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْم بَعْدِ مَا قَنَطُوْا ) (الشوریٰ : ٢٨)” اور وہی ہے جو بارش برساتان ہے ، اس کے بعد کہ وہ ناامید ہوچکے ہوتے ہیں “۔” الکفار “ سے مراد یہاں کاشت کار ہیں ، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :(یعجب الزراع) ( الفتح : ٢٩)” کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے۔ “ کیونکہ کفر کا معنی چھپانا ہے اور کاشت کار بیج کو زمین میں چھپا دیتا ہے۔ آیت کے دوسرے الفاظ اور تمثیل کی تشریح کے لیے دیکھئے سورة ٔ یونس (٢٤) ، زمر (٢١) اور سورة ٔ کہف ( ٤٥) کی تفسیر۔ اس کے علاوہ دیکھئے سورة ٔ آل عمران (١٤، ١٥) کی تفسیر ۔ بعض مفسرین نے ” الکفار “ سے مراد حقیقی کافر لیے ہیں ، ان کے مطابق اگرچہ بارش سے اگنے والی کھیتی مومن و کافر سبھی کو خوش کرتی ہے ، مگر کفار کا ذکر خصوصاً اس لیے فرمایا کہ وہ اس پر زیادہ خوش ہوتے ہیں ، کیونکہ ان کی خوشی کا تمام سرمایہ حیات دنیا ہے۔ ٦۔ وَفِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَّمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللہ ِ وَرِضْوَانٌ ط : یعنی بات صرف اتنی نہیں کہ دنیا کی زندگی ختم ہو اور جان چھوٹ جائے ، بلکہ اصل معاملہ اس کے بعد آخرت کا اور اس کی ہمیشہ کی زندگی کا ہے کہ وہاں دو میں سے ایک بات سے ہر حال میں واسطہ پڑنے والا ہے ، ایک طرف شدید عذاب ہوگا اور دوسری طرف اللہ کی بخشش اور اس کی زبردست رضا ہوگی ، ” رضوان “ مصدر میں مبالغے کا مفہوم ہے۔ ٧۔ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ : یعنی جس نے ساری جدوجہد دنیا کی زندگی بنانے کے لیے کی وہ دھوکے میں پڑگیا ، کیونکہ اس نے جو کچھ کمایا دنیا کی زندگی ختم ہونے کے ساتھ ختم ہوگیا اور آخرت میں اس کے لیے کچھ باقی نہ رہا ۔ البتہ ایسے لوگوں کے لیے دنیا کی زندگی دھوکا نہیں جنہوں نے اسے آخرت کے حصو ل کا بذریعہ بنایا ، کیونکہ ان کے اعمال دنیا کے فنا ہونے کے باوجود باقی رہنے والے ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِیْنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَالْبٰـقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّخَیْرٌ اَمَلًا ) (الکہف : ٤٦)” مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب میں بہتر اور امید کی رو سے زیادہ اچھی ہیں “۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Life of this World is Fleeting Enjoyment The preceding verses described the conditions of the inmates of Paradise and those of the inhabitants of Hell, which will materialize in the Hereafter and will be permanent and eternal. Since the basic cause for one&s deprivation of the bounties of the Hereafter and his being seized by the divine punishment is his involvement in the temporary pleasures of this worldly life that tempt him to forget the life to come, the verse under comment describes the reality of the worldly life and its being unreliable. The verse depicts the involvements of a human being that he cheerfully enjoys from the inception of his life up to its end. The verse summarizes these involvements in the same order in which they occur. From the inception to the end of his life, man leads his life in the following order: la&ib [ play ], lahw [ amusement ], zinah [ show of beauty ], tarakhur [ exchange of boastful claims ] and takathur [ competition of increase in riches and children ]. The word la&ib (play) refers to a play that has no purpose at all, like the movements of little children. The lahw [ amusement or pastime ] is a game or sport meant initially for amusement and enjoyment, but it may serve also some other subsidiary purpose like physical exercise. It includes all the sports of the bigger children such as playing with a ball or swimming or target-shooting. Prophetic Traditions have termed swimming and target-shooting as good sports. The early stage of one&s life is spent in play and amusement. Then comes a stage in his youth when man wants to adorn his body and dress and to show their beauty, which is described in the verse as &zinah&. Then comes a stage in which man is tempted to prove his superiority over his mates and to make boastful claims. In old age, a keen competition and rivalry sets in to amass wealth and multiply children. When man goes through a particular phase of life, he feels satisfied with it. But when that phase is over, he realizes its absurdity and hollowness and takes to the next phase of life. For example, a child is most fascinated with his phase of life and regards the stage of la&ib (play) the goal of his life. Should someone snatch one of his toys, he feels as much aggrieved as a big man is grieved by his valuable wealth and property being usurped. However, when he grows a little bigger, he realizes the things he deemed to be the goal of his life were nothing but some useless and absurd activities. The same thing happens in one&s youth when he is attracted by adorned beauties. In old age, man gathers wealth and multiplies children. Power, prestige, pride and position are his capital goods and investments to wield dominance in life. The Qur&an reminds him that this phase too will pass away. The next stage is barzakh [ grave ] followed by the Day of Resurrection. Man needs to think about those stages or phases of life because they are really eternal without an end. Allah has described the fleeting enjoyment of this world in such an order that the appropriate parable given in verse [ 20] follows naturally. کمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ‌ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَ‌اهُ مُصْفَرًّ‌ا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا (...[ All this is ] like a rain, the vegetation of which attracts the farmers, then it withers, and you see it turning yellow, then it becomes straw....57:20) The word ghaith means &rain&. The word kuffar, being the plural of kafir, is generally used as opposed to mu&minin [ believers ], in the sense of non-believers, but its literal sense carries the meaning of &farmers& also. Some scholars have taken the word here in this literal sense, explicating that the farmers are happy to see the vegetation that grows in the aftermath of rain. Other commentators have taken the word kuffar in its popular sense of non-believers, explaining the verse to mean that the non-believers are attracted by the greenery. This explanation may be criticized on the ground that being happy with the greenery is not confined to non-believers, but also the believers admire the lush vegetation when it abounds in vigorous growth. The commentators have appraised the criticism thus: There is a world of difference between the happiness and admiration of a believer and that of a non-believer. A believer&s pleasure is directed towards Allah. He believes that everything is the outcome of Allah&s power, wisdom and mercy. He does not make it the goal of his life; he gives up the cherished and precious things of this mortal world in consideration for the higher, eternal things of the life yet to come in the Hereafter. That is the goal of his life he worries about. Therefore, any believer who fulfills the requirements of his faith is not attracted, even by the biggest wealth in this world as a kafir does. That is why the attraction by the vegetation is attributed to a non-believer. In short, the parable means that in the wake of rain vegetation of all sorts grows, and it pleases the farmers, especially the non-believers. But the vegetation soon turns yellow in colour, after being fresh and green. After that, the green fades away and become scattered particles of dust. This is example of mankind in this life. They are young and strong in the beginning. In this stage of life, they look youthful and handsome. Gradually, old age overcomes them which does away with all their beauty and freshness until they die and become dust. This parable indicates the end of this life, while in contrast, the Hereafter is surely coming, the significance of which is given in the following words: وَفِي الْآخِرَ‌ةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَ‌ةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرِ‌ضْوَانٌ(...And in the Hereafter there is a [ Allah&s ] pleasure [ for the believers and the righteous ] ...57:20). In the Hereafter the people will certainly have to face one of two things: [ 1] severe punishment for the non-believers; and [ 2] forgiveness of Allah, His mercy and His good pleasure. Punishment has been mentioned here first, because the preceding verses described the behavior of the infidels that they are over-absorbed in worldly pleasures, the outcome of which is also severe chastisement. As opposed to this outcome, two things have been laid down for the believers: [ 1] Divine forgiveness; and [ 2] Divine pleasure. This indicates that forgiveness of sins is though a boon that saves one from the punishment, yet in addition to being saved from the punishment, he will attain Paradise and its eternal favors. This will be the manifestation of Divine pleasure. وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُ‌ورِ‌ (And the worldly life is nothing but a material of delusion....57:20) The current phrase states concisely the reality of this world. Having seen and understood all that has been explained in the foregoing verses about the transitory nature of this world, sound and intelligent people can come to only one conclusion: that is, the life of this world is a material of delusion; it is not a capital that may be useful in odd times. Therefore, after knowing the reality of the worldly life and the punishment of the Hereafter, a reasonable man should not be over-involved in worldly pleasures, and should be eager to obtain the bounties of the Hereafter. This is what the next verses say.

خلاصہ تفسیر تم خوب جان لو کہ (آخرت کے مقابلہ میں) دنیوی حیات (ہرگز قابل اشتغال چیز نہیں کیونکہ) محض لہو و لعب اور (ایک ظاہری) زینت اور باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا (قوت و جمال اور دنیوی ہنر و کمال میں) اور اموال اور اولاد میں ایک کا دوسرے سے اپنے کو زیادہ بتلانا ہے (یعنی مقاصد دنیا کے یہ ہیں کہ بچپن میں لہو و لعب کا غلبہ رہتا ہے اور جوانی میں زینت و تفاخر کا اور بڑھاپے میں مال و دولت آل واولاد کو گنوانا اور یہ سب مقاصد فانی اور خوب و خیال محض ہیں جس کی مثال ایسی ہے) جیسے مینہ (برستا) ہے کہ اس کی پیداوار (کھیتی) کاشتکاروں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر وہ (کھیتی) خشک ہوجاتی ہے سو اس کو تو زرد دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے ( اسی طرح دنیا چند روزہ بہار ہے پھر زوال و اضمحلال، یہ تو دنیا کی حالت ہوئی) اور آخرت (کی کیفیت یہ ہے کہ اس) میں (دو چیزیں ہیں ایک تو کفار کے لئے) عذاب شدید ہے اور (دوسری اہل ایمان کے لئے) خدا کی طرف سے مغفرت اور رضا مندی ہے ( اور یہ دونوں باقی ہیں، پس آخرت تو باقی ہے) اور دنیوی زندگانی محض (فانی ہے، جیسے فرض کرو کہ ایک) دھوکہ کا اسباب ہے (ومر تفسیرہ فی آل عمران قریباً من الاخیر، پس جب متاع دنیا فانی اور دولت آخرت باقی ہے جو ایمان کی بدولت نصیب ہوتی ہے تو تم کو چاہئے کہ) تم اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف دوڑو اور (نیز) ایسی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کے برابر ہے (یعنی اس سے کم کی نفی ہے، زیادہ کی نفی نہیں اور) وہ ان لوگوں کے واسطے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں (اور) یہ (مغفرت و رضوان) اللہ کا فضل ہے وہ اپنا فضل جس کو چاہیں عنایت کریں اور اللہ بڑے فضل والا ہے ( اس میں اشارہ ہے کہ اپنے اعمال پر کوئی مغرور نہ ہو اور اپنے اعمال پر استحقاق جنت کا مدعی نہ ہو، یہ محض فضل ہے جس کا مدار ہماری مشیت پر ہے، مگر ہم نے اپنی رحمت سے ان عملوں کے کرنے والوں کے ساتھ مشیت متعلق کرلی، اگر ہم چاہتے تو مشیت نہ کرتے کہ القدرة تتعلق بالضدین) معارف و مسائل سابقہ آیات میں اہل جنت کے اور اہل جہنم کے حال کا بیان تھا، جو آخرت میں پیش آئے گا اور دائمی ہوگا اور آخرت کی نعمتوں سے محروم اور عذاب میں گرفتار ہونے کا بڑا سبب انسان کے لئے دنیا کی فانی لذتیں اور ان میں منہمک ہو کر آخرت سے غفلت ہونا ہے، اس لئے ان آیات میں دنیا فانی کا ناقابل اعتماد ہونا بیان کیا گیا ہے۔ پہلے ابتدا عمر سے آخر تک جو کچھ دنیا میں ہوتا ہے اور جس میں دنیا دار منہمک و مشغول اور اس پر خوش رہتے ہیں اس کا بیان ترتیب کے ساتھ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی کا خلاصہ بہ ترتیب چند چیزیں اور چند حالات ہیں پہلے لعب پھر لہو پھر زینت پھر تفاخر، پھر مال واولاد کی کثرت پر ناز و فخر۔ لعب وہ کھیل ہے جس میں فائدہ مطلق پیش نظر نہ ہو، جیسے بہت چھوٹے بچوں کی حرکتیں اور لہو وہ کھیل ہے جس کا اصل مقصد تو تفریح اور دل بہلانا اور وقت گزاری کا مشغلہ ہوتا ہے، ضمنی طور پر کوئی ورزش یا دوسرا فائدہ بھی اس میں حاصل ہوجاتا ہے جیسے بڑے بچوں کے کھیل، گیند، شن اوری یا نشانہ بازی وغیرہ، حدیث میں نشانہ بازی اور تیرنے کی مشق کو اچھا کھیل فرمایا ہے، زینت بدن اور لباس وغیرہ کی معروف ہے، ہر انسان اس دور سے گزرتا ہے کہ عمر کا بالکل ابتدائی حصہ تو خالص کھیل یعنی لعب میں گزرتا ہے، اس کے بعد لہو شروع ہوتا ہے، اس کے بعد اس کو اپنے تن بدن اور لباس کی زینت کی فکر ہونے لگتی ہے اس کے بعد ہم عصروں ہم عمروں سے آگے بڑھنے اور ان پر فخر جتلانے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے۔ اور انسان پر جتنے دور اس ترتیب سے آتے ہیں غور کرو تو ہر دور میں وہ اپنے اسی حال پر قانع اور اسی کو سب سے بہتر جانتا ہے، جب ایک دور سے دوسرے کی طرف منتقل ہوجاتا ہے تو سابقہ دور کی کمزوری اور لغویت سامنے آجاتی ہے، بچے ابتدائی دور میں جن کھیلوں کو اپنا سرمایہ زندگی اور سب سے بڑی دولت جانتے ہیں، کوئی ان سے چھین لے تو ان کو ایسا ہی صدمہ ہوتا ہے جیسا کہ کسی بڑے آدمی کا مال و اسباب اور کوٹھی بنگلہ چھین لیا جائے لیکن اس دور سے آگے بڑھنے کے بعد اس کو حقیقت معلوم ہوجاتی ہے کہ جن چیزوں کو ہم نے اس وقت مقصود زندگی بنایا ہوا تھا وہ کچھ نہ تھیں، سب خرافات تھیں، بچپن میں لعب، پھر لہو میں مشغولیت رہی جوانی میں زینت اور تفاخر کا مشغلہ ایک مقصد بنا رہا، بڑھاپا آیا، اب مشغلہ تکاثر فی الاموال والاود کا ہوگیا، کہ اپنے مال و دولت کے اعداد و شمار اور اولاد و نسل کی زیادتی پر خوش ہوتا رہے ان کو گنتا گناتا رہے، مگر جیسے جوانی کے زمانے میں بچپن کی حرکتیں لغو معلوم ہونے لگی تھیں بڑھاپے میں پہنچ کر جوانی کی حرکتیں لغو و ناقابل التفات نظر آنے لگیں، اب بڑے میاں کی آخری منزل بڑھاپا ہے، اس میں مال کی بہتات، اولاد کی کثرت و قوت اور ان کے جاہ و منصب پر فخر سرمایہ زندگی اور مقصود اعظم بنا ہوا ہے، قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ حال بھی گزر جانے والا ہے اور فانی ہے، اگلا دور برزخ پھر قیامت کا ہے اس کی فکر کرو کہ وہ ہی اصل ہے، قرآن کریم نے اس ترتیب کے ساتھ ان سب مشاغل و مقاصد و دنیویہ کا زوال پذیر، ناقص، ناقابل اعتماد ہونا بیان فرما دیا اور آگے اس کو ایک کھیتی کی مثال سے واضح فرمایا :۔ (آیت) كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا، غیث کے معنی بارش کے ہیں اور لفظ کفار جو مومنین کے مقابلہ میں آتا ہے اس کی یہ معنی تو معروف و مشہور ہی ہیں، اس کے ایک دوسرے لغوی معنی کاشتکار کے بھی آتے ہیں، آس آیت میں بعض حضرات نے یہی معنی مراد لئے ہیں اور مطلب آیت کا یہ قرار دیا ہے کہ جس طرح بارش سے کھیتی اور طرح طرح کی نباتات اگتی ہیں اور جب وہ ہری بھری ہوتی ہیں تو کاشتکار ان سے خوش ہوتا ہے اور بعض دوسرے حضرات مفسرین نے لفظ کفار کو اس جگہ بھی معروف معنی میں لیا ہے کہ کافر لوگ اس سے خوش ہوتے ہیں اس پر جو یہ اشکال ہے کہ کھیتی ہری بھری دیکھ کر خوش ہونا تو کافر کے ساتھ مخصوص نہیں، مسلمان بھی اس سے خوش ہوتا ہے، اس کا جواب حضرات مفسرین نے یہ دیا ہے کہ مومن کی خوشی اور کافر کی خوشی میں بڑا فرق ہے، مومن خوش ہوتا ہے تو اس کی فکر کا رخ حق تعالیٰ کی طرف پھرجاتا ہے، وہ یقین کرتا ہے کہ یہ سب کچھ اس کی قدرت و حکمت اور رحمت کا نتیجہ ہے وہ اس چیز کو زندگی کا مقصود نہیں بناتا، پھر اس خوشی کے ساتھ اس کو آخرت کی فکر بھی ہر وقت لگی رہتی ہے، اس لئے جو مومن ایمان کے تقاضہ کو پورا کرتا ہے دنیا کی بڑی سے بڑی دولت پر بھی وہ ایسا خوش اور مگن اور مست نہیں ہوتا جیسا کافر ہوتا ہے، اس لئے یہاں خوشی کا اظہار کفار کی طرف منسوب ہے۔ آگے اس مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ کہ یہ کھیتی اور دوسری نباتات پھول پھلواریاں جب ہری بھری ہوتی ہیں تو سب دیکھنے والے خصوصاً کفار بڑے خوش اور مگن نظر آتے ہیں مگر آخر کار پھر وہ خشک ہونا شروع ہوتی ہے پہلے زرد پیلی پڑجاتی ہے پھر بالکل خشک ہو کر چورا چورا ہوجاتی ہے یہی مثال انسان کی ہے کہ شروع میں تروتازہ حسین خوبصورت ہوتا ہے، بچپن سے جوانی تک کے مراحل اسی حال میں طے کرتا ہے، مگر آخر کار بڑھاپا آجاتا ہے جو آہستہ آہستہ بدن کی تازگی اور حسن و جمال سب ختم کردیتا ہے اور بالآخر مر کر مٹی ہوجاتا ہے، دنیا کی بےثباتی اور زوال پذیر ہونے کا بیان فرمانے کے بعد پھر اصل مقصود آخرت کی فکر کی طرف توجہ دلانے کے لئے آخرت کے حال کا ذکر فرمایا۔ (آیت) وَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ، یعنی آخرت میں انسان ان دو حالوں میں سے کسی ایک میں ضرور پہنچے گا، ایک حال کفار کا ہے ان کے لئے عذاب شدید ہے، دوسرا حال مومنین کا ہے ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رحمت ہے۔ یہاں عذاب کا ذکر پہلے کیا گیا کیونکہ دنیا میں مست و مغرور ہونا جو پہلی آیات میں مذکور ہے اس کا نتیجہ بھی عذاب شدید ہے اور عذاب شدید کے مقابلہ میں دو چیزیں ارشاد فرمائیں، مغفرت اور رضوان، جس میں اشارہ ہے کہ گناہوں اور خطاؤں کی معافی ایک نعمت ہے جس کے نتیجہ میں آدمی عذاب سے بچ جاتا ہے مگر یہاں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ عذاب سے بچ کر پھر جنت کی دائمی نعمتوں سے بھی سر فراز ہوتا ہے، جس کا سبب رضوان یعنی حق تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ اس کے بعد دنیا کی حقیقت کو ان مختصر الفاظ میں بیان فرمایا (آیت) وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ یعنی ان سب باتوں کو دیکھنے سمجھنے کے بعد ایک عاقل وبصیر انسان کے لئے اس کے سوا کوئی نتیجہ دنیا کے بارے میں نہیں رہ سکتا کہ وہ ایک دھوکہ کا سرمایہ اصلی سرمایہ نہیں جو آڑے وقت میں کام آسکے، پھر آخرت کے عذاب وثواب اور دنیا کی بےثباتی بیان فرمانے کا لازمی اثر یہ ہونا چاہئے کہ انسان دنیا کی لذتوں میں منہمک نہ ہو آخرت کی نعمتوں کی فکر زیادہ کرے اس کا بیان اگلی آیات میں اس طرح آیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَہْوٌ وَّزِيْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ۝ ٠ ۭ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُہٗ ثُمَّ يَہِيْجُ فَتَرٰىہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا۝ ٠ ۭ وَفِي الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ۝ ٠ ۙ وَّمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانٌ۝ ٠ ۭ وَمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۝ ٢٠ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى [ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] ، وقوله : وَآتَيْناهُ فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ النحل/ 122] ، وتارة عن الأقرب، فيقابل بالأقصی نحو : إِذْ أَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوى [ الأنفال/ 42] ، وجمع الدّنيا الدّني، نحو الکبری والکبر، والصّغری والصّغر . وقوله تعالی: ذلِكَ أَدْنى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهادَةِ [ المائدة/ 108] ، أي : أقرب لنفوسهم أن تتحرّى العدالة في إقامة الشهادة، وعلی ذلک قوله تعالی: ذلِكَ أَدْنى أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ [ الأحزاب/ 51] ، وقوله تعالی: لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ [ البقرة/ 220] ، متناول للأحوال التي في النشأة الأولی، وما يكون في النشأة الآخرة، ويقال : دَانَيْتُ بين الأمرین، وأَدْنَيْتُ أحدهما من الآخر . قال تعالی: يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَ [ الأحزاب/ 59] ، وأَدْنَتِ الفرسُ : دنا نتاجها . وخصّ الدّنيء بالحقیر القدر، ويقابل به السّيّئ، يقال : دنیء بيّن الدّناءة . وما روي «إذا أکلتم فدنّوا» «2» من الدّون، أي : کلوا ممّا يليكم . دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی ۔ اور آیت کریمہ ؛وَآتَيْناهُ فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ النحل/ 122] اور ہم نے ان کو دینا بھی خوبی دی تھی اور آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی اقرب آنا ہے اوراقصی کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ إِذْ أَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوى[ الأنفال/ 42] جس وقت تم ( مدینے کے ) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر ۔ الدنیا کی جمع الدنیٰ آتی ہے جیسے الکبریٰ کی جمع الکبر والصغریٰ کی جمع الصغر۔ اور آیت کریمہ ؛ذلِكَ أَدْنى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهادَةِ [ المائدة/ 108] اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت ادا کریں ۔ میں ادنیٰ بمعنی اقرب ہے یعنی یہ اقرب ہے ۔ کہ شہادت ادا کرنے میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھیں ۔ اور آیت کریمہ : ذلِكَ أَدْنى أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ [ الأحزاب/ 51] یہ ( اجازت ) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ضدی ہیں ۔ بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ [ البقرة/ 220] تا کہ تم سوچو ( یعنی ) دنای اور آخرت کی باتوں ) میں غور کرو ) دنیا اور آخرت کے تمام احوال کی شامل ہے کہا جاتا ہے ادنیت بین الامرین وادنیت احدھما من الاخر ۔ یعنی دوچیزوں کو باہم قریب کرنا ۔ یا ایک چیز کو دوسری کے قریب کرتا ۔ قرآن میں ہے : يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَ [ الأحزاب/ 59] کہ باہر نکلاکریں تو اپنی چادریں اپنے اوپر ڈٖال لیا کریں َ ادنت الفرس ۔ گھوڑی کے وضع حمل کا وقت قریب آپہنچا ۔ الدنی خاص ک حقیر اور ذیل آدمی کو کہا جاتا ہے اور یہ سیئ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے کہا کاتا ہے :۔ ھودنی یعنی نہایت رزیل ہے ۔ اور حومروی ہے تو یہ دون سے ہیے یعنی جب کھانا کھاؤ تو اپنے سامنے سے کھاؤ ۔ لعب أصل الکلمة اللُّعَابُ ، وهو البزاق السائل، وقد لَعَبَ يَلْعَبُ لَعْباً «1» : سال لُعَابُهُ ، ولَعِبَ فلان : إذا کان فعله غير قاصد به مقصدا صحیحا، يَلْعَبُ لَعِباً. قال : وَما هذِهِ الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ [ العنکبوت/ 64] ، ( ل ع ب ) اللعب ۔ اس مادہ کی اصل لعاب ہے جس کے معنی منہ سے بہنے والی رال کے ہیں اور ننعب ( ف) یلعب لعبا کے معنی لعاب بہنے کے ہیں لیکن لعب ( س ) فلان یلعب لعبا کے معنی بغیر صحیح مقصد کے کوئی کام کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَما هذِهِ الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ [ العنکبوت/ 64] لهو [ اللَّهْوُ : ما يشغل الإنسان عمّا يعنيه ويهمّه . يقال : لَهَوْتُ بکذا، ولهيت عن کذا : اشتغلت عنه بِلَهْوٍ ] . قال تعالی: إِنَّمَا الْحَياةُ الدُّنْيا لَعِبٌ وَلَهْوٌ [ محمد/ 36] ، وَما هذِهِ الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ [ العنکبوت/ 64] ، ويعبّر عن کلّ ما به استمتاع باللهو . قال تعالی: لَوْ أَرَدْنا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْواً [ الأنبیاء/ 17] ومن قال : أراد باللهو المرأة والولد فتخصیص لبعض ما هو من زينة الحیاة الدّنيا التي جعل لهوا ولعبا . ويقال : أَلْهاهُ كذا . أي : شغله عمّا هو أهمّ إليه . قال تعالی: أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] ، رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ النور/ 37] ولیس ذلک نهيا عن التّجارة وکراهية لها، بل هو نهي عن التّهافت فيها والاشتغال عن الصّلوات والعبادات بها . ألا تری إلى قوله : لِيَشْهَدُوا مَنافِعَ لَهُمْ [ الحج/ 28] ، لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُناحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 198] ، وقوله تعالی: لاهِيَةً قُلُوبُهُمْ [ الأنبیاء/ 3] أي : ساهية مشتغلة بما لا يعنيها، واللَّهْوَةُ : ما يشغل به الرّحى ممّا يطرح فيه، وجمعها : لُهًا، وسمّيت العطيّة لُهْوَةً تشبيها بها، واللَّهَاةُ : اللّحمة المشرفة علی الحلق، وقیل : بل هو أقصی الفم . ( ل ھ و ) اللھو ۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اہم کاموں سے ہتائے اور بازر کھے یہ لھوت بکذا ولھیت عن کذا سے اسم ہے جس کے معنی کسی مقصد سے ہٹ کر بےسود کام میں لگ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنَّمَا الْحَياةُ الدُّنْيا لَعِبٌ وَلَهْوٌ [ محمد/ 36] جان رکھو کہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے ۔ پھر ہر وہ چیز جس سے کچھ لذت اور فائدہ حاصل ہو اسے بھی لھو کہہ دیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لَوْ أَرَدْنا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْواً [ الأنبیاء/ 17] اگر ہم چاہتے کہ کھیل بنائیں تو ہم اپنے پاس سے بنا لیتے ۔ اور جن مفسرین نے یہاں لھو سے مراد عورت یا اولادلی ہے انہوں نے دنیاوی آرائش کی بعض چیزوں کی تخصیص کی ہے جو لہو ولعب بنالی گئیں ہیں ۔ محاورہ ہے : الھاۃ کذا ۔ یعنی اسے فلاں چیز نے اہم کام سے مشغول کردیا ۔ قرآن میں ہے : أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] لوگوتم کو کثرت مال وجاہ واولاد کی خواہش نے غافل کردیا ۔ رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ النور/ 37] یعنی ایسے لوگ جن کو خدا کے ذکر سے نہ سود اگر ی غافل کرتی ہے اور نہ خرید وفروخت ۔ اس آیت سے تجارت کی ممانعت یا کر اہتبیان کرنا مقصود نہیں ہے ۔ بلکہ اس میں پروانہ دار مشغول ہو کر نماز اور دیگر عبادات سے غافل ہونے کی مذمت کی طرف اشارہ ہے نفس تجارت کو قرآن نے فائدہ مند اور فضل الہی سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : لِيَشْهَدُوا مَنافِعَ لَهُمْ [ الحج/ 28] تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لئے حاضر ہوں ۔ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُناحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 198] اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ ( حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت ) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو ۔ اور آیت کریمہ : لاهِيَةً قُلُوبُهُمْ [ الأنبیاء/ 3] ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ ان کے دل غافل ہو کر بیکار کاموں میں مشغول ہیں ۔ اللھوۃ ۔ آٹا پیستے وقت چکی میں ایک مرتبہ جتنی مقدار میں غلہ ڈالا جائے ۔ اس لھوۃ کہا جاتا ہے اس کی جمع لھاء آتی ہے ۔ پھر تشبیہ کے طور پر عطیہ کو بھی لھوۃ کہدیتے ہیں ۔ اللھاۃ ( حلق کا کوا ) وہ گوشت جو حلق میں لٹکا ہوا نظر آتا ہے ۔ بعض نے اس کے معنی منہ کا آخری سرا بھی کئے ہیں ۔ (بقیہ حصہ کتاب سے ملاحضہ فرمائیں)

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

خوب سمجھ لو کہ جو کچھ دنیوی زندگی میں ہے وہ محض لہو و لعب ہے نمائش وزینت اور حسب و نسب میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور اموال و اولاد میں خود کو ایک دوسرے سے زیادہ بتانا مگر یہ سب چیزیں فانی اور خواب خیال ہیں جیسا کہ بارش برستی ہے کہ اس کی پیداوار کاشت کروں کا اچھی معلوم ہوتی ہے۔ چند روز میں رنگت تبدیل ہو کر سوکھ کر چورا ہوجاتی ہے، یہی دنیا کا حال ہے کہ وہ بھی گھاس کی طرح باقی نہیں رہے گی۔ باقی جو اطاعت خداوندی کو چھوڑے اور حقوق اللہ سے منع کرے اس کے لیے آخرت میں شدید عذاب ہے اور جو اطاعت خداوندی کی تکمیل کرے اور اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے اس کے لیے تو پھر مغفرت اور رضا مندی ہے باقی جو کچھ دنیوی بقا اور فنا ہے وہ محض ایک دھوکا کا سامان ہے جیسا کہ گھر کا ہانڈی پیالہ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠{ اِعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَھْوٌ وَّزِیْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌ بَیْنَـکُمْ وَتَـکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ } ” خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل ‘ دل لگی کا سامان اور ظاہری ٹیپ ٹاپ ہے اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش ہے۔ “ گزشتہ سطور میں دنیا کی محبت کو گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ُ حب ِدنیا انسان کو اللہ کے راستے پر چلنے سے ایسے روک دیتی ہے جیسے ایک گاڑی کو اس کی بریک جامد و ساکت کردیتی ہے۔ اب اس آیت میں اس بریک یعنی حب دنیا کی اصل حقیقت کو بےنقاب کیا گیا ہے۔ تو آیئے اس آیت کے آئینے میں دیکھئے انسانی زندگی کی حقیقت کیا ہے ؟ انسانی زندگی کا آغاز کھیل کود (لعب) سے ہوتا ہے ۔ بچپن میں انسان کو کھیل کود کے علاوہ کسی اور چیز سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ باپ امیر ہے یا غریب ‘ اس کا کاروبار ٹھیک چل رہا ہے یا مندے کا شکار ہے ‘ بچے کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ‘ اسے تو کھیلنے کو دنے کا موقع ملتے رہنا چاہیے اور بس۔ پھر جب وہ لڑکپن کی عمر (teenage) کو پہنچتا ہے تو اس کا کھیل کود محض ایک معصوم مشغولیت تک محدود نہیں رہتا ‘ بلکہ اس میں کسی نہ کسی حد تک تلذذ (sensual gratification) کا عنصر بھی شامل ہوجاتا ہے۔ اس مشغولیت کو آیت میں لَـھْو کا نام دیا گیا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ عام طور پر قرآن میں انسان کی دنیوی زندگی کی حقیقت بیان کرنے کے لیے لَہْو و لَعب کی ترکیب استعمال ہوئی ہے ‘ لیکن یہاں ان الفاظ کی ترتیب بدل دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں عمر کی تقسیم کے حساب سے انسانی زندگی کے مراحل کا ذکر ہو رہا ہے اور اس حوالے سے لعب یعنی کھیل کود کا مرحلہ پہلے آتا ہے جبکہ اس میں لَـہْو کا عنصر بعد کی عمر میں شامل ہوتا ہے۔ جوانی کی اسی عمر میں انسان پر اپنی شخصیت کی ظاہری ٹیپ ٹاپ (زِیْنَۃ) کا جنون سوار ہوتا ہے ۔ عمر کے اس مرحلے میں وہ شکل و صورت کے بنائو سنگھار ‘ ملبوسات وغیرہ کی وضع قطع ‘ معیار اور فیشن کے بارے میں بہت حساس ہوجاتا ہے۔ پھر اس کے بعد جب عمر ذرا اور بڑھتی ہے تو تَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْکا مرحلہ آتا ہے ۔ یہ انسانی زندگی کا چوتھا اور اہم ترین مرحلہ ہے۔ اس عمر میں انسان پر ہر وقت تفاخر کا بھوت سوار ہوتا ہے ‘ اور وہ عزت ‘ شہرت ‘ دولت ‘ گھر ‘ گاڑی وغیرہ کے معاملے میں خود کو ہر قیمت پر دوسروں سے برتر اور آگے دیکھنا چاہتا ہے ۔ اس کے بعد جب عمر ذرا ڈھلتی ہے تو تَـکَاثُــرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِکا دور آتا ہے۔ اس دور میں انسان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ تفاخر کے دور میں تو سوچ یہ تھی کہ کچھ بھی ہوجائے مونچھ نیچی نہیں ہونی چاہیے ‘ لیکن اب سوچ یہ ہے کہ مال آنا چاہیے ‘ مونچھ رہے یا نہ رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس عمر میں پہنچ کر انسان اپنے مفاد کے معاملے میں بہت حقیقت پسند (realistic) ہوجاتا ہے ‘ بلکہ جوں جوں بڑھاپے کی طرف جاتا ہے ‘ اس کے دل میں مال و دولت کی ہوس بڑھتی چلی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک مرحلے پر اسے خود بھی محسوس ہوجاتا ہے کہ اب وہ پائوں قبر میں لٹکائے بیٹھا ہے مگر اس کی ھَلْ مِنْ مَّزِیْد کی خواہش ختم ہونے میں نہیں آتی۔ انسان کی اسی کیفیت کو سورة التکاثر میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : { اَلْھٰٹکُمُ التَّـکَاثُرُ - حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ۔ } ” (لوگو ! ) تم کو (مال کی) کثرت کی طلب نے غافل کردیا ‘ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ “ بہرحال وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ‘ لیکن عمر کے ہر مرحلے میں کسی ایک چیز کی دھن اس کے ذہن پر سوار رہتی ہے ۔ اس موضوع پر یہ قرآن حکیم کی واحد آیت ہے اور اس اعتبار سے بہت اہم اور منفرد ہے ‘ مگر حیرت ہے کہ انسانی زندگی کے نفسیاتی مراحل کے طور پر اسے بہت کم لوگوں نے سمجھا ہے۔ آیت کے اگلے حصے میں انسانی اور نباتاتی زندگی کے مابین پائی جانے والی مشابہت اور مماثلت کا ذکر ہے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے کہ نباتاتی سائیکل (Botanical cycle) اور انسانی زندگی کے سائیکل (Human life cycle) دونوں میں بڑی گہری مشابہت اور مناسبت ہے۔ اس تشبیہہ سے انسان کو دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر تم اپنی زندگی کی حقیقت سمجھنا چاہتے ہو تو کسان کی ایک فصل کے سائیکل کو دیکھ لو۔ اس فصل کے دورانیہ میں تمہیں اپنی پیدائش ‘ جوانی ‘ بڑھاپے ‘ موت اور مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے کا حقیقی نقشہ نظر آجائے گا۔ { کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہٗ } ” (انسانی زندگی کی مثال ایسے ہے) جیسے بارش برستی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی روئیدگی کسانوں کو بہت اچھی لگتی ہے “ { ثُمَّ یَھِیْجُ } ” پھر وہ کھیتی اپنی پوری قوت پر آتی ہے “ { فَتَرٰٹہُ مُصْفَرًّا } ” پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوجاتی ہے “ { ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَامًا } ” پھر وہ کٹ کر چورا چورا ہوجاتی ہے۔ “ اس تشبیہہ کے آئینے میں انسانی زندگی کی مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتا ہے تو خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ پھر وہ جوان ہو کر اپنی پوری قوت کو پہنچ جاتا ہے۔ پھر عمر ڈھلتی ہے تو بالوں میں سفیدی آجاتی ہے اور چہرے پر جھریاں پڑجاتی ہیں۔ پھر موت آنے پر اسے زمین میں دبادیا جاتا ہے جہاں وہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے ۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تشبیہہ صرف دنیوی زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہے۔ تم اشرف المخلوقات ہو ‘ نباتات نہیں ہو ‘ تمہاری اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جو کہ دائمی اور ابدی ہے اور اس کی نعمتیں اور صعوبتیں بھی دائمی اور ابدی ہیں۔ لہٰذا عقل اور سمجھ کا تقاضا یہی ہے کہ تم اپنی آخرت کی فکر کرو۔ { وَفِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَّمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٌ } ” اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور (یا پھر) اللہ کی طرف سے مغفرت اور (اس کی) رضا ہے۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے ابتدائی دور کا ایک خطبہ ” نہج البلاغہ “ میں نقل ہوا ہے۔ اس کے اختتامی الفاظ یوں ہیں : (… ثُمَّ لَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ، ثُمَّ لَتُجْزَوُنَّ بِالْاِحْسَانِ اِحْسَانًا وَبِالسُّوْئِ سُوْئً ، وَاِنَّھَا لَجَنَّـۃٌ اَبَدًا اَوْ لَنَارٌ اَبَدًا ) (١) ”… پھر لازماً تمہارے اعمال کا حساب کتاب ہوگا اور پھر لازماً تمہیں بدلہ ملے گا اچھائی کا اچھا اور برائی کا برا۔ اور وہ جنت ہے ہمیشہ کے لیے یا آگ ہے دائمی۔ “ { وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ۔ } ” اور دنیا کی زندگی تو سوائے دھوکے کے ساز و سامان کے اور کچھ نہیں ہے۔ “ تمہاری دنیوی زندگی کی حقیقت تو بس یہی ہے ‘ لیکن تم ہو کہ اس حقیقت کو فراموش اور نظر انداز کیے بیٹھے ہو۔ تمہارے دل میں نہ اللہ کی یاد ہے اور نہ آخرت کی فکر۔ بس تم اس عارضی اور دھوکے کی زندگی کی آسائشوں میں مگن اور اسی کی رنگینیوں میں گم ہو۔ یاد رکھو ! یہ طرز عمل غیروں کی پہچان تو ہوسکتا ہے ‘ ایک بندئہ مومن کے ہرگز شایانِ شان نہیں ہے۔ بقول علامہ اقبال : ؎ کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

36 To understand this theme fully one should keep the following verses of the Qur'an in mind: Imran; 14- 15, Yunus: 24-25, ibrahim: 18, AI-Kahf: 45-46, An-Nur: 39. In aII those verses the truth that has been impressed on the mind is: The life of this world is a temporary life: its spring as well as its autumn is temporary, Them is much here to allure man. but this, in fact, consists of base and insignificant things which man because of his shallowness of mind regards as great and splendid and is deluded into thinking that in attaining them lies supreme success, The truth however is that the highest benefits and means of pleasure and enjoyment that one can possibly attain in the world, arc indeed bast and insignificant and confined to a few years of temporary life, and can be destroyed by just one turn of fate. Contrary to this, the lift hereafter is a splendid and eternal life: its benefits are great and permanent and its losses too are great and permanent. The one who attains Allah's forgiveness and His goodwill there, will indeed have attained the everlasting bliss beside which the whole wealth of the world and its kingdom become pale and insignificant. And the one who is seized in God's torment there, will come to know that he had made a bad bargain even if he had attained aII that he regarded as great and splendid in the world.

سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :36 اس مضمون کو پوری طرح سمجھنے کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات کو نگاہ میں رکھنا چاہیے ۔ سورہ آل عمران ، آیات 14 ۔ 15 ۔ یونس ، 24 ۔ 25 ۔ ابراہیم ، 18 ۔ الکہف ، 45 ۔ 46 ۔ النور ، 39 ۔ ان سب مقامات پر جو بات انسان کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ دنیا کی زندگی دراصل ایک عارضی زندگی ہے ۔ یہاں کی بہار بھی عارضی ہے اور خزاں بھی عارضی ۔ دل بہلانے کا سامان یہاں بہت کچھ ہے ، مگر در حقیقت وہ نہایت حقیر اور چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جنہیں اپنی کم ظرفی کی وجہ سے آدمی بڑی چیز سمجھتا ہے اور اس دھوکے میں پڑ جاتا ہے کہ انہی کو پا لینا گویا کامیابی کے منتہیٰ تک پہنچ جانا ہے ۔ حالانکہ جو بڑے سے بڑے فائدے اور لطف و لذت کے سامان بھی یہاں حاصل ہونے ممکن ہیں وہ بہت حقیر اور صرف چند سال کی حیات مستعار تک محدود ہیں ، اور ان کا حال بھی یہ ہے کہ تقدیر کی ایک ہی گردش خود اسی دنیا میں ان سب پر جھاڑو پھیر دینے کے لیے کافی ہے ۔ اس کے بر عکس آخرت کی زندگی ایک عظیم اور ابدی زندگی ہے ۔ وہاں کے فائدے بھی عظیم اور مستقل ہیں اور نقصان بھی عظیم اور مستقل ۔ کسی نے اگر وہاں اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی پالی تو اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہ نعمت نصیب ہو گئی جس کے سامنے دنیا بھر کی دولت و حکومت بھی ہیچ ہے ۔ اور جو وہاں خدا کے عذاب میں گرفتار ہو گیا اس نے اگر دنیا میں وہ سب کچھ بھی پا لیا ہو جسے وہ اپنے نزدیک بڑی چیز سمجھتا تھا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ وہ بڑے خسارے کا سودا کر کے آیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

16: یہاں اللہ تعالیٰ نے ان دلچسپوں کا ذکر فرمایا ہے، جن سے انسان اپنی زندگی کے مختلف مرحلوں میں دل لگاتا ہے، بچپن میں ساری دلچسپی کھیل کود سے ہوتی ہے، اور جوانی کے دور میں زیب وزینت اور سجاوٹ کا شوق پیدا ہوتا ہے، اور اس زیب وزینت اور دنیا کے ساز وسامان میں ایک دوسرے کے سامنے اپنی برتری جتانے اور اس پر فخر کرنے کا ذوق ہوتا ہے، پھر بڑھاپے میں مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کو ہی انسان دلچسپی کا مرکز بنالیتا ہے، اور ہر مرحلے میں انسان جس چیز کو اپنی دلچسپی کی معراج سمجھتا ہے اگلے مرحلے میں وہ بے حقیقت معلوم ہونے لگتی ہے ؛ بلکہ بعض اوقات انسان اس پر ہنستا ہے کہ میں نے کس چیز کو اپنی زندگی کا حاصل سمجھا ہوا تھا، آخرت میں پہنچ کر انسان کو پتہ چلے گا کہ یہ ساری دلچسپیاں بے حقیقت تھیں اور اصل حاصل کرنے کی چیز تو یہ آخرت کی خوش حالی تھی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٠۔ ٢١۔ اوپر کی آیتوں میں دنیا کی زندگی پر فریفتہ ہو کر ہنسی مذاق میں پڑجانے کی ممانعت بھی ہے اور صدقہ خیرات کی رغبت ان آیتوں میں کھیتی کی مثال دے کر دنیا کی زندگی کی ناپائیداری کا حال سمجایا گیا ہے کہ جس طرح مینہ کے برس جانے سے اول اول کھیتی خوب سر سبز ہوتی ہے۔ جس سے کاشت کاروں کا دل بہت خوش ہوتا ہے پر چند روز میں وہ سب سر سبزی جا کر ان سرسبز پیڑوں پر زردی چھا جاتی ہے آخر کو وہ سب پیڑ کٹ جاتے ہیں۔ اور ان کا نام و نشان بھی زمین پر کہیں باقی نہیں رہتا۔ یہی حال انسان کی زندگی کا ہے کہ بچپنے سے اخیر جوانی تک قوت جسمانی بڑھتی جاتی ہے اور مال اور اولاد کی زیادتی کا آپس میں فخر دن بدن زیادہ ہوتا جاتا ہے مگر اس سب کی وہی حالت ہے جس طرح بچے کھیل کی کوئی چیز بناتے ہیں اور دم بھر میں اس کو توڑ پھوڑ کر برابر کردیتے ہیں اسی طرح کوئی دن میں انسان کی نہ وہ قوت جسمانی رہتی ہے نہ مال اولاد کی زیادتی کا کچھ ثمرہ باقی رہتا ہے۔ کیونکہ مال و اولاد دنیا میں ہی رہ جاتے ہیں اور مال و اولاد پر فخر کرنے والے دنیا سے خالی ہاتھ اٹھ جاتے ہیں اس واسطے اس دھوکے کی ٹٹی دنیا میں جنہوں نے کچھ عقبیٰ کا سامان کرلیا۔ ان سے ان کا خدا راضی و خوش رہے گا اور ان کے گناہ معاف فرما کر انکو جنت میں داخل کرے گا۔ ورنہ سخت عذاب کا سامنا ہے۔ اب آخر کو فرمایا کہ جب دنیا کی زندگی ایسی بےبنیاد ہے تو اس پر فریفتہ نہیں ہونا چاہئے اور یہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ بڑا صاحب فضل ہے تھوڑی سی عمر کی دوڑ دھوپ کے اجر میں وہ بہت کچھ دے سکتا ہے۔ بعض آیتوں اور حدیثوں میں جنت کا ذکر اللہ کے فضل اور اللہ کی رحمت کے ساتھ ہے اور بعض میں نیک عملوں کی جزا کے ساتھ اس کا سبب یہ ہے کہ پیدا کرنے کی صحت سے رکھنے اور رزق دینے کی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں انسان پر اس قدر ہیں کہ ان بیشمار نعمتوں کے مقابلہ میں انسان کی تھوڑی سی عمر کے نیک عمل جنت کے مستحق ہونے کے لئے کافی نہیں۔ اس لئے جنت میں داخل ہونے کا حق تو ہر ایک کو محض اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوگا۔ رہا جنت کے عالی درجہ اور متوسط اور رادنیٰ درجہ کا ملنا یہ درجہ بندی عملوں کے موافق ہوگی۔ چناچہ صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے عمل کے سبب سے جنت میں نہیں داخل ہوسکتا۔ صحابہ کے عرض کیا کہ حضرت آپ بھی آپ نے فرمایا جب تک اللہ کا فضل اور اس کی رحمت میرے شامل حال نہ ہو۔ میں بھی فقط عملوں کے سبب سے جنت میں نہیں جاسکتا اور یہ تو سورة واقعہ میں گزر چکا ہے کہ عملوں میں سبقت کرنے والے لوگوں کو عالی درجہ کی جنت ملے گی اور داہنے ہاتھ والے عام نیک لوگوں کو اس سے نیچے کے درجہ کی جنت ملے گی۔ اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں سے یہ بات صاف کھل جاتی ہے کہ جنت کا داخل ہونا اللہ کی رحمت سے ہوگا۔ اور جنت کی درجہ بندی عملوں کے موافق ہوگی اور اس بات کے کھل جانے کے بعد جن آیتوں اور حدیثوں میں جنت کا ذکر اللہ کے فضل اور رحمت کے ساتھ ہے۔ ان میں اور عملوں کی جزا میں جنت کے ملنے والی آیتوں اور حدیثوں میں پوری مطابقت بھی پیدا ہوجاتی ہے بخاری ١ ؎ و مسلم میں بھی ابو سعید خدری کی شفاعت کی بہت بڑی حدیث ہے۔ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جب ملائکہ انبیاء صلحاء سب کی شفاعت سے گناہ گار لوگ جنت میں داخل ہو چکیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا سب کی شفاعت تو ہوچکی ‘ اب ارحم الراحمین باقی ہے یہ فرما کر ایسے کلمہ گو دوزخیوں کو ایک لپ بھر کر دوزخ سے جنت میں ڈالے گا جنہوں نے عمر بھر کوئی نیک عمل نہیں کیا اب بعض آیتوں اور حدیثوں میں جنتیوں کے ذکر کے ساتھ ایمان اور نیک عمل دونوں کا جو ذکر ہے اور بعض میں محض ایمان کا ان میں اس صحیح حدیث سے پوری مطابقت ہوجاتی ہے۔ اوپر گزر چکا ہے ٢ ؎ ہے کہ ساتوں آسمان کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جس طرح ایک جنگل کے میدان کے مقابلے میں آدمی کی انگلی کا ایک چھلہ۔ اور سلف کی روایتوں کے موافق جنت کرسی میں ہے اس لئے جنت کا عرض آسمان و زمین کے برابر ہونا اور طول کا اس سے بھی بڑا ہونا کچھ تعجب کی بات نہیں۔ (٢ ؎ صحیح مسلم کتاب التفسیر ٤٢١ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صححت مسلم باب الجنۃ وصفۃ نعیمھا و اھلھا ٣٧٨ ج ٢۔ ) (٣ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی فضل الشھداء عند اللہ ص ٢٣٤ ج ١ و مشکوٰۃ شریف کتاب الجھاد فی فضائلہ فضل ثالث ص ٣٣٥۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری باب القصد و المداومۃ علی العمل ص ٩٥٧ ج ٢۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری کتاب الرد علی الجھمیۃ ص ١١٠٦ ج ٢ و صیحت مسلم باب اثبات رویۃ المومنین فی الرخرۃ ربھم الخ ص ١٠٢ ج ١۔ ) (٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٣٨٥ ج ٤۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(57:20) اعلموا امر جمع مذکر حاضر، علم (باب سمع) مصدر۔ تم (اچھی طرح) جان لو ۔ انما : بےشک، تحقیق، بجز اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل۔ ما کافہ ہے حصر کے معنی دیتا ہے اور ان کو عمل سے روکتا ہے۔ خوب جان لو کہ دنیاوی زندگی بجز لعب و لہو ۔۔ کے کچھ نہیں۔ لعب : کھیل ، کود۔ بازی، باب سمع سے مصدر ہے اس کا ماخذ لعاب ہے بمعنی بہتا ہوا تھوک۔ یعنی رال۔ لعب کے معنی ہیں رال کا ٹپک پڑنا۔ اکثر کھیلنے کودنے والے اور بےشعور بچوں کی رال بہا کرتی ہے۔ نیز رال بہنے میں قصد اور ارادہ کو دخ (رح) نہیں ہوتا۔ اس لئے بیہودہ کام۔ بےمقصد حرکت اور کھیل کود پر لعب کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ لہوکھیل۔ غفلت باب نصر سے مصدر ہے لہوہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اہم کاموں سے ہٹائے اور باز رکھے۔ دل بہلاوہ زینۃ : ظاہری سجاوٹ۔ زیبائش ، آرائش، وغیرہ ، اسم ہے۔ تفاخر۔ فخر سے بروزن تفاعل مصدر ہے۔ تفاخر بینکم تمہاری باہمی خود ستائی۔ بڑائی مارنی، اترانا، فخر کرنا۔ تکاثر فی الاموال والاولاد۔ مال اور اولاد کی کثرت پر باہم مقابلہ کرنا۔ تکاثر بروزن تفاعل مصدر ہے۔ بمعنی دولت و جاہ، عزت و مرتبہ، مال و اولاد کی کثرت پر باہم جھگڑنا۔ مقابلہ کرنا۔ کمثل غیث ای مثلہا کمثل غیث : دنیاوی زندگی کی مثال (اس) بارش کی (یا کھیتی) کی طرح ہے۔ غیث کے لفظی معنی مینہ کے ہیں۔ اس جگہ اس سے مراد کھیتی ہے اسے علم بیان میں تسمیۃ الشیء باسم سببہ کہتے ہیں ۔ اعجب الکفار نباتہ : اعجب ماضی واحد مذکر غائب۔ اعجاب (افعال) مصدر سے اس نے خوش کیا۔ اس کو بھایا۔ اس کی اصل معنی اچنبھے میں ڈالنے کے ہیں۔ اور مجازاً بھانے اور خوش لگنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ الکفار : کھیتی کرنے والے۔ الکفر کے اصل معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں اور رات کو بھی کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے اسی طرح کاشتکار بھی چونکہ زمین میں بیج کو چھپاتا ہے اسی لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے۔ کفر یا کفران نعمت سے ہے یعنی نعمت کی ناشکری کرکے اسے چھپانے کے ہیں۔ نباتہ : مضاف مضاف الیہ۔ نبات روئیدگی۔ پیداوار، ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع غیث ہے ۔ اعجب الکفار نباتہ : جس (کھیتی) کی ہریالی کا شتکار کے دل کو خوش کرتی ہے ۔ ثم : تراخی فی الوقت کے لئے۔ پھر۔ یہیج : مضارع واحد مذکر غائب ھیج (باب ضرب) مصدر۔ خشک ہوجاتی ہے۔ سوکھ جاتی ہے۔ یوم ھیج لڑائی یا بارش یا ابر یا آندھی کا دن۔ ھائجۃ وہ زمین جس کی کھیتی یا گھاس سوکھ گئی ہو۔ ثم یھیج پھر کسی آفت یا حادثہ کی وجہ سے وہ خشک ہوجاتی ہے (تفسیر مظہری) ۔ فترہ : ف تعلیل کا ۔ تری تو دیکھتا ہے یا دیکھے گا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع غیث ہے۔ مصفرا۔ اسم مفعول واحد مذکر، اصفرار (افعلال) مصدر۔ صفر مادہ، زرد، پیلا پڑا ہوا۔ ثم : پھر۔ یکون حطاما : ای صالطاما : پھر وہ ہوجائے ریزہ ریزہ ۔ چورا۔ روندن۔ جو چیز چورا چورا ہوکر ریزہ ریزہ ہوجائے اور روندی جانے لگے ۔ حطام کہلاتی ہے۔ حطم (باب ضرب) مصدر سے مشتق ہے بمعنی توڑ ڈالنا۔ وفی الاخرۃ عذاب شدید : یعنی دنیوی حیات کے جو احوال اوپر بیان ہوئے جنہوں نے ان کی طرف توجہ دی دنیا میں اور ان سے سبق حاصل کرکے آخرت کا بندوبست نہ کیا اس کے نتیجے کے طور پر ان کے لئے سخت عذاب ہوگا۔ ومغفرۃ من اللہ ورضوان : اور جنہوں نے دنیوی زندگی کی بےثباتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی سرعت زوال اور قلیل المنفعت چیزوں سے اعتراض کیا اور اخروی زندگی کی طلب میں مشغول رہے ان کے لئے اللہ کی مغفرت اور خوشنودی ہوگی۔ وفی الاخرۃ عذاب شدید : من اقبل علیہا ولم یطلب بھا الاخرۃ ومغفرۃ ورضوان لمن اعرض عنھا وقصد بھا الاخرۃ (روح البیان) ۔ وما الحیوۃ الدنیا میں ما نافیہ ہے۔ الامتاع الغرور۔ اور انہیں ہے دنیوی زندگی مگر متاع فریب ۔ نرا دھوکہ ہی دھوکہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یہ سچے اور مخلص اہل ایمان کے مقابلے میں دنیا دار لوگوں کا حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام خواہشوں اور دلچسپیوں کا ذکر ان پانچ باتوں میں فرمایا دیا ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں ” آدمی کو اول عمر میں کھیل چاہیے پھر تماشا پھر بنائو درست کرنا (یعنی بنئاو سنگھار کی فکر) پھر ساکھے کرنے اور نام حاصل کرنا (یعنی ساکھ بڑھانا اور نام و نمود حاصل کرنا اور جب مرنا قریب آوے تب فکر مال اور اولاد کا کہ پیچھے میرا گھر بنا رہے آسودہ یہ سب دغا کی جنس سے آگے کام آئے گا کچھ اور یعنی ایمان اور عمل صالح یہ کچھ کام نہ آوے گا۔ “6 جیسے دنیا داروں کو ان کی جوانی اور مالداری خوش کرتی ہے۔7 یہی حال دنیا کی زندگی کا ہے۔ بس چند روز بہار ہے آخر زوال اور پھر فنا ہے۔ 1 جس نے دنیا سے دل لگایا وہ دھوکے میں پڑگیا اور اس نے اپنی آخرت تباہ کرلی۔ البتہ ایسے لوگوں کے لئے دنیا کی زندگی دھوکا نہیں ہے جنہوں نے اسے آخرت کا ذریعہ بنایا۔ آخرت کے ماقبلہ میں دنیا کی بےوقعتی کا ذکر بہت سی احادیث میں مذکور ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٢٠ تا ٢٥۔ اسرار ومعارف۔ یہ جان رکھو کہ حیات دنیا محض کھیل ہے بچپن کے کام خود انسان کو جوانی میں محض فضول نظر آتے ہیں اور جوانی کی حرکات بڑھاپے میں اسی طرح موت کے بعد سب فضول لگیں گے کہ یہ محض ذاتی نمائش میں رجھا لینے والی چیزوں میں سے جیسے کہ بارش ہوا اور کھیتیاں سرسبز ہوں تو کافر کو خوش کرتی ہیں اور انہیں میں الجھ جاتا ہے یعنی خوش مومن بھی ہوتا ہے مگر اس کی خوشی اللہ کا شکر ادا کرنے کا سبب بنتی ہے جبکہ کافر کے لی باعث غفلت پھر اس پر جوبن آتا ہے پھر زردی مائل ہو کر آخر سوکھ کر گھاس پھوس کی طرح تنکے بکھر جاتے ہیں جبکہ ان اعمال کے نتائج آخرت میں ظاہر ہوں گے کہ کفر پر بہت سخت عذاب ہے اور ایمان پر اللہ کی بخشش اور اس کی رضا جو بہت اعلی مقام ہے ۔ دنیا کی زندگی کی یہی حقیقت ہے ورنہ تو وہ دھوکادینے والی اور اللہ کی یاد سے غافل کردینے والی ہے ۔ اللہ کی بخشش اور رضا کو پانے کے لیے بہترین کوشش کرو اور اسے اولیت دو اور ایسے کام کرنے میں جلدی کرو جن کے نتیجے میں جنت نصیب ہوجورضائے الٰہی کا مظہر ہے اور جس کی وسعت اس قدر ہے کہ ارض وسما سے اس کا عرض بڑھا ہوا ہے اور اسے محض اللہ اور اس کے رسول مقبول پر ایمان لانے والوں کے لیے سنوارا گیا ہے اور یہ اللہ کریم کا بہت بڑا کرم ہے وہ جسے چاہے نوازے اور جس پر چاہے احسان عظیم فرمائے کہ وہ بہت ہی بڑے فضل کا مالک ہے دنیا ایک طے شدہ نظام ہے اور ہر ایک کو اس کا نصیبہ ملتا ہے اگر زمین پر کوئی مصیبت آتی ہے یعنی اجتماعی نقصان ہوتا ہے یاذاتی نقصان ہوتا ہے مال جان یا صحت کا تو یہ اللہ کا طے شدہ فیصلہ ہے جو اس نے تمہیں پیدا کرنے سے قبل نظام جہاں کے بارے میں لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا یہ قضائے مبرم ہے اور اللہ کے لیے اس کا نافذ فرمانا کچھ مشکل نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ ہر حال میں نفع ہو یا نقصان صحت ہو یابیماری بس آخرت اور اللہ کی رضامندی کے کاموں میں لگا رہے نہ تو نقصان میں اس قدر کھوجائے کہ اللہ یاد نہ رہے اور نہ نفع اور مال دولت میں اس کی عظمت کو فراموش کرے کہ ایسے شیخی خوروں کو اور دولت دینا پہ اترانے والوں کو اللہ پسند نہیں فرماتا کہ خود بھی بخل کا شکار ہوں کہ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو اس کی راہ میں استعمال نہ کریں اور دوسروں کو ایسا کرنے سے روکیں اور بخل کا درس دیں۔ ان کا طرز عمل تو ایسا ہے جیسے کسی نے اللہ کی عظمت سے منہ موڑ لیا ہو اور جو کوئی اللہ کی راہ سے پھرجائے اللہ کو اس کی پرواہ نہیں کہ غنی ہے تمام کمالات کا مالک ہے یقینا ہم نے انبیاء ورسل کو دنیا میں بھیجا کتاب اور میزان کے ساتھ یعنی دنیا اور آخرت کے تمام علوم و اعمال میں حق و انصاف اور صداقت وعدل قائم کرنے کے لیے تاکہ لوگوں میں عدل اور راست بازی قائم کریں اور ہم نے پیدا کردیا لوہا اور فولاد یعنی اسلحہ اور سامان حرب کے اسباب لوگوں کے نفع کی خاطر کہ انبیاء ورسل کتاب اللہ سے احکام بیان فرماتے ہیں ۔ تعلیم وتربیت اور جہاد۔ اور میزان سے مراد ہر ایک کے حقوق کی تعیین ہے تاکہ ہر فرد بشر کو اس کا حق باعزت و آرام ملے اور ساتھ جہاد اور جنگی اسلحہ کی ایجاد کا مقصد دوروں کو غلام بنانا اقوام مغرب کی طرح ان کے حقوق چھیننا نہیں بلکہ جو تعلیم وتربیت سے نہ مانیں اور ظلم و زیادتی سے باز نہ آئیں انہیں بزور شمشیر روکاجائے نیز لوہے سے لوگوں کی ایجادات اور کاروبار کے دسرے راستے بھی ان کے نفع حاصل کرنے کے لیے اس میں رکھے ہیں اور اللہ ان لوگوں سے خوب آگاہ ہے یعنی انہیں کبھی ضائع نہیں فرمائے گا جو اس کے دین اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں غلامی کرتے ہیں اور غائبانہ ایمان لاکر قربان ہونے کو بےقرار ہوتے ہیں اور بیشک اللہ بہت طاقت والا اور غالب ہے کہ ہر دوعالم میں اپنے بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

1

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی مقاصد دنیا کے یہ ہیں کہ بچپن میں لہو ولعب کا غلبہ رہتا ہے، اور جوانی میں ذہنیت و تفاخر کا اور بڑھاپے میں مال و دولت و آل اولاد کو گنوانا اور یہ سب مقاصد فانی اور خواب و خیال محض ہیں۔ 5۔ اسی طرح دنیا چند روزہ بہار ہے، پھر زوال و اضمحلال۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : لوگ جس دنیا کی خاطر اپنے رب کے ارشادات کا انکار اور ان کی تکذیب کرتے ہیں اس دنیا کی حیثیت اور حقیقت۔ اے لوگو ! یہ حقیقت اچھی طرح جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل، تماشا، زیب وزینت، فخر و غرور، مال اور اولاد میں تقابل اور تفاخر کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس دنیا کی مثال بارش کی طرح ہے جب بارش ہوتی ہے تو اس سے فصلیں اگتی اور لہلہا اٹھتی ہیں جس سے زمیندار خوش ہوتا ہے۔ اس کے سامنے کھیتی پروان چڑھتی ہے، رنگ پکڑتی ہے پھر اس کا رنگ زرد ہوجاتا ہے پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے یہی مثال دنیا دار شخص کی ہے کہ وہ زندگی بھر کماتا رہتا ہے لیکن موت کے وقت اس کے پاس حسرت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بڑی حسرتوں کے ساتھ خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور جونہی اس کی آنکھ بند ہوتی ہے وہ آخرت کے شدید عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جس نے دنیا اور اس کی لذّات پر فریفتہ ہونے کی بجائے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی بسر کی اس کے لیے اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا مندی ہے۔ لوگو ! غور کرو کہ دنیا کی زندگی کے مال و اسباب دھوکہ اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔ اس آیت مبارکہ میں دنیا اور اس کے اسباب کے بارے میں چار الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور یہی دنیا کی حقیقت ہے۔ ١۔ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشا ہے : کھیل، تماشے کی اچھی اور بری کئی اقسام ہیں کھیل اور تماشا آپس میں مترادف الفاظ ہیں جو ہر زبان میں اسی طرح استعمال ہوتے ہیں کھیل اور تماشے کے الفاظ ایسے کام پر بولے جاتے ہیں جو وقت گزارنے اور دل بہلانے کے لیے ہوتا ہے ان میں بہتر سے بہتر جو کھیل تماشا ہوتا ہے اس کے بھی دائمی اور مستقل نتائج نہیں ہوتے، ہر زبان میں کھیل اور تماشے کے الفاظ کسی بامقصد اور مستقل کام کے لیے استعمال نہیں ہوتے ان الفاظ کو عارضی اور محض وقت گزارنے والے کام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کھیل، تماشا بظاہر کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو پوری زندگی کھیل میں نہیں گزاری جاسکتی ہے، یہی دنیا اور اس کے اسباب کی حقیقت ہے کہ اگر انسان کی زندگی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں نہ ہو تو پوری کی پوری زندگی بےمقصد ہوجاتی ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیہٖ ) (رواہ الترمذی : کتاب الزہد) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول یعنی بےفائدہ باتوں کو چھوڑ دے۔ “ ٢۔ دنیا کا مال اور اسباب زیب وزینت کا باعث ہیں : اللہ تعالیٰ نے انسان کو طبعی طور پر جمالیاتی حس عطا فرمائی ہے جس بنا پر اپنے چہرے اور وجود کو سنوارنا، بہتر سے بہترین لباس زیب تن کرنا، اچھی سے اچھی سواری رکھنا اور رہائش اور بودوباش کے اعتبار سے خوبصورت سے خوبصورت ہونے کی خواہش رکھنا اور کوشش کرنا اس کی فطرت میں سمودیا گیا ہے۔ بیشک شریعت کے دائرہ میں رہ کر زیب وزینت اختیار کرنا جائز ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک موقع پر ایک پراگندہ بال اور گندے لباس والے شخص کو دیکھا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ لیکن اس کا یہ معنٰی نہیں کہ مرد ہو یا عورت وہ دنیا کی زیب وزینت پر ہی فریفتہ ہو کر رہ جائے اور شریعت کی حدود اور اخلاقی قیود کو پامال کرتا چلا جائے ایسا شخص قیامت کے دن شدید عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَا یَدْخُلُ الجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ فَقَالَ رَجُلٌ اِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ اَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَ نَعْلُہٗ حَسَنًا قَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی جَمِیْلٌ یُّحِبُّ الجَمَالَ اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ ) (رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ الْکِبْرِ وَبَیَانِہِ ) ” حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا، وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے کہا کہ بیشک ہر شخص پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اور جوتے اچھے ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب صورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر حق بات کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “ ٣۔ دنیا کا مال واسباب تفاخر کا باعث ہیں : شریعت نے دنیا کی ترقی میں ایک دوسرے سے سبقت کرنے سے منع نہیں کیا البتہ اس بات کو ہرگز پسند نہیں کیا کہ مالدار، غریب پر، حاکم محکوم پر، طاقت ور کمزور پر، اکثریت رکھنے والا اقلیت پر فخرو غرور کا مظاہرہ کرے۔ شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو کوئی نعمت عطافر مائے تو وہ دوسروں پر فخر کرنے کی بجائے تواضع اور انکساری اختیار کرے۔ فخر و غرور کرنے سے انسان دو سروں کی نگاہوں میں حقیر بنتا ہے اور تواضع اختیار کرنے سے آدمی کا احترام بڑھتا ہے۔ ٤۔ تکاثر : تکاثر کا معنٰی ہے مال و اسباب میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا۔ دین اسلام نے اخلاقی قیود کے اندر رہ کر مال و اسباب میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے سے نہیں روکا۔ قرآن مجید نے اس تکاثر کی نفی کی ہے جس میں اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات کو پس پشت ڈال کر انسان مال، افرادی قوت، اقتدار، اختیار اور دیگر اسباب میں آگے بڑھنے کی کوشش کرے یہ تکاثر انسان کو دنیا میں اخلاقی طور پر اور آخرت میں انجام کے حوالے سے تباہ کردیتا ہے جس کی قرآن مجید نے ان الفاظ میں مذمت کی ہے۔ (اَلْہٰکُمُ التَّکَاثُرُ ) (التکاثر : ١) ” تمہیں مال کی ہوس نے ہلاکت میں ڈال رکھا ہے۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَوْ أَنَّ لِإِبْنِ آدَمَ وَادِیًا مِّنْ ذَھَبٍ أَحَبَّ أَنْ یَکُوْنَ لَہٗ وَادِیَانِ وَلَنْ یَمْلَأَ فَاہُ إِلَّا التُّرَابُ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ ) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب مایتقی من فتنۃ المال) ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر آدم کے بیٹے کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں۔ اس کے منہ کو مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ اللہ جس پر چاہتا ہے کرم فرماتا ہے۔ “ دنیا کے مال و اسباب کو اس کھیتی اور نباتات کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو بارش کے بعد زمین سے نکلتی اور لہلہاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ جسے دیکھ کر زمیندار خوش ہوتا ہے لیکن کچھ مدت کے بعد ہری بھری کھیتی زردی کا لباس پہن لیتی ہے اور بالآخر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔ موسم خزاں میں باغ خالی ٹہنیوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ گندم کی فصل پر غور فرمائیں کہ پکنے کے وقت جڑ سے لے کر سٹے تک زرد ہوجاتی ہے۔ صحرا کے رہنے والے اس مثال کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ویرانی کے وقت زمین پر نظر نہیں ٹکتی۔ مگر بارش کے بعد وہ زمین یوں دکھائی دیتی ہے جیسے اس نے سبز چادر اوڑھ لی ہو۔ لیکن تھوڑے دنوں کے بعد اس پر اگنے والی جڑی بوٹیاں اور گھاس خود بخود گل سڑ جاتے ہیں، یہی حال اس شخص کا ہوگا جس نے دنیا کی عیش و عشرت سے فائدہ اٹھایا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کی۔ موت کے بعد اس کا کمایا ہوا مال اس کے لیے بےکار ثابت ہوگا اور آخرت میں اسے شدید عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ نَامَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَلَی حَصِیرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِی جَنْبِہِ فَقُلْنَا یَا رَسُول اللَّہِ لَوِ اتَّخَذْنَا لَکَ وِطَاءً فَقَالَ مَا لِی وَمَا للدُّنْیَا مَا أَنَا فِی الدُّنْیَا إِلاَّ کَرَاکِبٍ اِسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَکَہَا) (رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی أَخْذِ الْمَال، قال الشیخ البانی صحیح) ” حضرت عبد اللہ (رض) فرماتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چٹائی پر سوئے تو آپ کے پہلو پر چٹائی کے نشان پڑگئے۔ ہم نے عرض کی اللہ کے رسول ! ہم آپ کے لیے اچھا سا بستر تیار کردیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میرا دنیا کے ساتھ تعلق ایک مسافر جیسا ہے جو کسی درخت کے نیچے تھوڑا سا آرام کرتا ہے پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دیتا ہے۔ “ مسائل ١۔ دنیا کی زندگی کھیل تماشا، زیب وزینت، فخر و غرور اور مال و اولاد میں تفاخر کے سوا کچھ نہیں۔ ٢۔ دنیا کی زندگی ایسی نباتات کی طرح ہے جو بارش کے بعد اگتی ہے لیکن ایک وقت کے بعد ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔ ٣۔ دنیا کے مال واسباب پر فخر کرنے والے شدید عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ ٤۔ دنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ہے جس نے اپنے آپ کو اس دھوکے سے بچا لیا اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کرے گا اور اس پر راضی ہوگا۔ تفسیر بالقرآن دنیا اور آخرت کا تقابل : ١۔ دنیا کھیل اور تماشا ہے۔ (الانعام : ٣٢) ٢۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ (الرعد : ٢٦) ٣۔ دنیا عارضی اور آخرت پائیدار ہے۔ (المؤمن : ٣٩) ٤۔ مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ (الکہف : ٤٦) ٥۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا بہت کمتر ہے۔ (التوبہ : ٣٨) ٦۔ جو چیز تم دیے گئے ہو یہ تو دنیا کا سامان اور زینت ہے۔ (القصص : ٦٠) ٧۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر دھوکے کا سامان۔ (آل عمران : ١٨٥) ٨۔ دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔ (الحدید : ٢٠) ٩۔ مال اور اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں۔ (التغابن : ١٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اعلموا ................ متاع الغرور (٧٥ : ٠٢) ” خوب جان لو یہ دنیا کی زندگی اس کے سو کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال واولاد میں ایک دوسری سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی۔ پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کی برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں “۔ اس دنیا کی زندگی کو اگر دنیا کے پیمانوں سے ناپا تولا جائے ، تو ظاہری نظروں میں وہ ایک عظیم امر نظر آتا ہے۔ اور بہت ہی بڑا مسئلہ ہے لیکن اس دنیا کو اگر پوری کائنات کے زاویہ سے دیکھا جائے اور آخرت کے میزان کے مطابق اسے تولا جائے تو وہ ایک بہت ہی معمولی چیز ہے۔ یہاں قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ دنیا آخرت کے مقابلہ بازیچہ اطفال ہے۔ کیونکہ اصل جہاں تو آخرت ہے جہاں انسانوں کو اس دنیا کے اختتام پر جانا ہے۔ کھیل ، تماشا ، زینت ، برتری جتانا ، اور ہر چیز میں کثرت حاصل کرنا دنیا کی تمام بھرپور جدوجہد اور تمام مصروفیات کے پیچھے بس یہی کچھ ہے اس دنیا کے اس تمام کھیل کو قرآن اپنے مخصوص انداز میں ایک منظر کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ کمثل ................ نباتہ (٧٥ : ٠٢) ” اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشتکار خوش ہوگئے۔ “ کفار سے مراد یہاں کاشتکار ہیں۔ کفر کا لغوی معنی چھپانا ہے۔ اور لغوی اعتبار سے کاشتکار کو کفار کہا جاتا ہے کہ وہ بیج کو زمین میں چھپاتا ہے لیکن یہاں اشارہ کفر کی طرف بھی ہے کہ وہ دنیاوی زندگی پر خوش ہوتا ہے۔ ثم ................ مصفرا (٧٥ : ٠٢) ” پھر وہ کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ زرد ہوگئی “۔ اور کٹنے کے لئے تیار ہوگئی ۔ کیونکہ اس سرسبزی کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور بہت جلدی وہ کٹنے کے وقت کو پہنچ جاتی ہے۔ ثم ............ حطاما (٧٥ : ٠٢) ” پھر وہ بھسن بن کر رہ جاتی ہے۔ “ اب اسکرین پر یہ حرکت اور دوڑ دھوپ ختم ہوجاتی ہے۔ فصل کٹنے کے منظر کے ساتھ حیات دنیا کا منظر بھی ختم ہوجاتا ہے۔ رہی آخرت تو اس کی شان ہی الگ ہے۔ آخرت کی شان یہ ہے کہ اس کا خیال رکھا جائے اور اسے اہمیت دی جائے۔ اور اس کو پیش نظر رکھ کر تیاری کی جائے۔ وفی الاخرة ................ ورضوان (٧٥ : ٠٢) ” اس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ “ آخرت اس طرح چند لمحات میں گزرنے والی نہیں ہے جس طرح یہ دنیا چند لمحات میں گزر جاتی ہے۔ یہ دنیا کی طرح نہیں ہے کہ ایک دانہ ہے۔ وہ اگا اور پھر بھس بن گیا۔ اور ختم بلکہ آخرت میں تو حساب و کتاب ہے اور پھر دوام ہے۔ لہٰذا اس کا انجام یہ ہونا چاہئے۔ ومالحیوة ................ الغرور (٧٥ : ٠٢) ” اور دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں۔ “ اس سامان زندگی کی کوئی ذاتی حقیقت نہیں ہے۔ یہ دھوکہ ہے۔ یہ انسان کو لہو ولعب میں مشغول رکھتا ہے اور اس کی زندگی بالآخر دھوکے کا شکار ہوتی ہے۔ انسان اگر سنجیدگی سے تلاش حقیقت کرنے نکلے تو یہ زندگی ایک دھوکہ ہی ہے۔ لیکن زندگی کو اسلام اور قرآن نے جس معنی میں متاع غرور کیا ہے اسے اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کا منشا یہ نہیں ہے کہ دنیا کے معاملات سے انسان لاتعلق ہوجائے اور ترک دنیا کرلے۔ نہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ دنیا کی تعمیروترقی میں دلچسپی نہ لی جائے۔ اور یہاں انسان نے اللہ کے نائب ہونے کے حوالے جو ذمہ داری ادا کرنی ہے اسے ادا نہ کرے۔ بلکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ دنیا کی قدروقیمت اور اس کی حقیقت کے بارے میں انسانی شعور کو درست کیا جائے۔ اور انسان کو بتایا جائے کہ اس دنیا کی حقیقی قدر و قیمت کیا ہے۔ وہ یہ کہ دنیا ایک زائل ہونے والی اور ہر انسان سے رہ جانے والی ایک عارضی جگہ ہے۔ اس کی جاذبیت اور اس کی اہمیت بھی اسی قدر ہونا چاہئے۔ جن لوگوں سے یہ سورت مخاطب تھی وہ پہلے مومن تھے اور ان کے ذمہ کچھ ایمانی تقاضے تھے اور دنیا کے بارے میں ان کا تصور اور شعور درست کرنا ضروری تھا تاکہ وہ ایمانی فرائض سرانجام پاسکیں۔ ہر مومن اپنے عقیدے اور نظریہ کے حوالے سے اس تصور کا محتاج ہے۔ اگر مومن نے اپنے عقیدے اور نظریہ حیات کو یہاں قائم کرنا ہے تو اسے اپنے دل کو اس دنیا سے متعلق صاف کرنا ہوگا۔ چناچہ اسلام ان کو ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا ایک نیا میدان دیتا ہے۔ وہ ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا حقیقی میدان ہے۔ وہ مقصدجس کا تعلق ان کے انجام سے متعلق ہے۔ اور جس کا تعلق عالم بقا اور دار آخرت ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دنیاوی زندگی لہو ولعب ہے، اور آخرت میں عذاب شدید اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضا مندی ہے ان آیات میں دنیا کی حالت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ دنیا والی زندگی لہو ولعب ہے اور ظاہری زینت ہے، ٹیپ ٹاپ کی وجہ سے نظروں کو بھاتی ہے اور نفوس کو بھلی لگتی ہے، جن کے پاس زیادہ دنیا ہو وہ آپس میں ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر کرتے ہیں اور اموال واولاد کی کثرت پر مقابلہ کرتے ہیں، تفاخر اور تکاثر ان چیزوں کے خالق ومالک کی طرف متوجہ ہونے نہیں دیتا جسے سورة تکاثر میں بیان فرمایا ہے : ﴿اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ٠٠١ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ٠٠٢﴾ کثرت پر مقابلہ کرنا تم کو غافل رکھتا ہے یہاں تک کہ قبرستان میں پہنچ جاؤ گے) ۔ دنیا کی ظاہری تھوڑی سی تھوڑے دن کی نظروں میں بھانے والی زندگی کی ایک مثال بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ دیکھو تمہارے سامنے بارشیں ہوتی ہیں۔ ان سے زمین سرسبز ہوجاتی ہے، کھیتی اگتی ہے، پودے نکلتے ہیں، گھاس پھونس پیدا ہوتا ہے ہری بھری زمین دیکھنے میں بڑی اچھی لگتی ہے، کاشتکار اسے دیکھ دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں، کچھ دن ہری بھری رہنے کے بعد وہ پیلی پڑجاتی ہے پھر خشک ہوجاتی ہے، ہرا رنگ ختم ہوجاتا ہے، زردی آجاتی ہے، پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے، جو اس کھیتی کا انجام ہوتا ہے (کہ اخیر میں چورا ہوکر رہ جانا) دنیا کی یہی حالت ہے، دنیا والوں کو دنیا بہت مرغوب اور محبوب ہے لیکن اس کے انجام کی طرف سے غافل ہیں، حرام سے حلال سے دھوکہ سے فریب سے، خیانت سے، چوری سے، لوٹ مار سے، اور طرح طرح کے حیلوں سے دنیا کماتے ہیں اور جمع کرکے رکھتے ہیں، اگر مال حلال بھی ہو تو اس میں سے فرائض واجبات ادا نہیں کرتے، نوٹوں کی گڈیاں مرغوب ہیں، بھری ہوئی تجوریاں محبوب ہیں، بہت کم بندے ہیں جو کمانے اور خرچ کرنے میں حلال کا خیال کرتے ہیں اور اس بارے میں گناہوں سے بچتے ہیں، عموماً لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ کسب دنیا کو اپنے لیے وبال ہی بنا لیتے ہیں اور آخرت کے سخت عذاب کو اپنے سر لے لیتے ہیں اسی کو فرمایا ﴿ وَ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ١ۙ ﴾ (اور آخرت میں سخت عذاب ہے) ان کے برخلاف وہ بندے بھی ہیں، جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں حرام سے بچتے ہیں حلال کماتے ہیں۔ (اگرچہ تھوڑا سا ہو) حلال ہی کے مواقع میں خرچ کرتے ہیں اور آخرت کے اجور اور ثمرات کے لیے اپنی جیب اور تجوری سے مال نکالتے ہیں ان کا مال ان کے لیے مغفرت کا اور اللہ کی رضا مندی کا سبب بن جاتا ہے، یہ وہ مبارک بندے ہیں جنہوں نے فانی دنیا کو اپنی باقی رہنے والی آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنالیا، اسی کو فرمایا ﴿ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ٠٠٢٠﴾ (اور دنیا والی زندگی محض دھوکہ کا سامان ہے) یہ ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے نہ یہ زندگی باقی رہے گی نہ اس کا کمایا ہوا اسباب و سامان باقی رہے گا جس نے اس پر بھروسہ کیا باقی رہنے والی آخرت سے غافل ہوا وہ آخرت میں مارا گیا سمجھدار بندے وہی ہیں جو اس سے دل نہ لگائیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

22:۔ ” اعلموا انما الحیوۃ “ یہ ترغیب انفاق کا چوتھا طریق ہے۔ مصدروں پر تنوین تنکیر، ان افعال کی حقارت اور قلت کے اظہار کے لیے ہے۔ تائید : متاع قلیل ثم ماواھم جہنم (آل عمران رکوع 20) ۔ تنوین تنکیر تحقیر و تقلیل کے لیے کلام میں اکثر آتی ہے (رضی) اللہ کی راہ میں خرچ کی ہوئی دولت کا معاوضہ اگر دنیا میں بصورت اضافہ دولت نہ ملا تو بھی مضائقہ نہیں۔ یہ دنیا چیز ہی کیا ہے۔ محض چند روزہ کھیل تماشا ہے، وقتی زینت و آرائش ہے اور یہاں حسب و نسب کی شرافت اور مال و اولاد کی کثرت و فراوانی پر ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنی برتری ثابت کرنے اور اپنی بڑائی پر فخر کے سوا کیا ہے ؟ اگر تمہیں دنیا ہی میں اس کا عوض مل جاتا تو تم اپنی فضول باتوں میں اس کو اڑا دیتے۔ اس کا اجر وثواب محفوظ ہے جو آخرت میں تمہیں ملے گا دنیا کی یہ چہل پہل آنی فانی ہے اس میں دل نہ لگاؤ آخرت کی فکر کرو۔ 23:۔ ” کمثل غیث “ یہ دنیا کی حقا ارت اور فانی ہونے کی تمثیل ہے۔ ” الکفار “ سے کاشت کار مراد ہیں کیونکہ انہیں اپنا کھیت سرسبز و شاداب دیکھ کر انتہائی خوشی ہوتی ہے اس صورت میں یہ لفظ اپنے لغوی معنوں پر محمول ہوتی ہے۔ اس صورت میں یہ لفظ اپنے لغوی معنوں پر محمول ہوگا یعنی بیج کو زمین میں چھپانے والے۔ علی ماروی عن ابن مسعود، لانھم یکفرون ای یسترون البذر فی الارض (روح ج 27 ص 184) ۔ یا اس سے مراد کافر لوگ مراد ہیں اور ان کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ کفار دنیا کی زینت کو دیکھ کر اس میں گم ہوجاتے ہیں، لیکن مومنین دنیا کی ہر خوبصورت چیز سے اللہ تعالیٰ کی قدرت و وحدانیت پر استدلال کرتے ہیں۔ جیسا کہ ابو نواس نے گل نرگس کی تعریف میں کہا ہے عیون من لجین شاخصات اطرافہا ذھب سبیل علی قضب الزبرجد شاھدات (بان اللہ لیس شریک) (روح) دنیا کی نا پائیداری کی مثال ایس ہے۔ جیسے بارش کی وجہ سے زمین پر سرسبزر و شاداب نباتات لہلہانے لگے اور دیکھنے والے انہیں دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سمائیں۔ یہاں تک کہ نبات اپنے جوبن پر پہنچ جائے۔ اس کے بعد تم دیکھو گے کہ اس کا رنگ زرد ہورہا ہے آخر جب وہ پک جائے گی تو کاٹ ڈالی جائے گی اسی طرح اس دنیا کی زینت و آرائش بھی چند روزہ ہے۔ ” وفی الاخرۃ عذاب شدید “ جو لوگ آخرت سے بیخبر ہو کر دنیا میں منہمک ہوجائیں گے۔ آخرت میں ان کے لیے سخت ترین عذاب ہوگا۔ ” و مغفرۃ من اللہ ورضوان “ اور جن لوگوں نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی، اللہ کے احکام کے سامنے سر جھکا دیا اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا ان کو اللہ کی طرف سے بخشش اور رضائے الٰہی کا پروانہ ملے گا۔ ” وما الحیوۃ الدنیا “ جو شخص دنیا کی زندگی کو عیش و طرب میں گذار دے اور آخرت سے غافل ہوجائے اس کے لیے دنیا فریب کا سامان ہے اور اگر حیات دنیا میں آخرت کے لیے تیار کرتا رہا تو یہ زندگی ایک بہتر زندگی تک پہنچانے کا ذریعہ بن جائے گی۔ متاع الغرور ای لمن عمل لہا ولم یعمل للاخرۃ فمن اشتغل فی الدنیا بطلب الاخرۃ فھی لہ بلاغ الی موھو خیر منہ (خازن ج 7 ص 36) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(20) خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی تو بس یہی ایک جی کا بہلانا اور کھیل ہے اور ظاہری آرائش اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور اموال اور اولاد میں ایک کا دوسرے سے اپنے کو زیادہ بتلانا اور مال و اولاد کی زیادہ طلبی اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش اور برکھا کہ اس کی نباتات کاشت کاروں کو خوش کرتی ہے۔ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے پھر اے مخاطب تو اس کو دیکھتا ہے کہ وہ زرد پڑگئی پھر وہ چوراچورا ہوجاتی ہے اور آخرت کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں سخت عذاب اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش اور رضامندی و خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی نہیں ہے مگر ایک سرمایہ فریب اور دھوکے کی ٹٹی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آدمی کو اول عمر میں کھیل چاہیے پھر تماشا پھر بنائو درست کرنا پھر ساکھے کرنے اور نام حاصل کرنا اور مرنا قریب آوے تب فکر مال اور اولاد کہ پیچھے میرا گھر بنا رہے آسودہ یہ سب دغا کی جنس ہے آگے کام آوے گا کچھ اور یہ کچھ کام نہ آوے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ کھیل کود، بےہودہ شغل اور مشاغل اور آراستگی بڑے بڑے سامان شادی بیا ہوں میں تفاخر ایک دوسرے کے مقابلے میں شہرت اور مال واولاد کی کثرت یہ تمام دنیوی زندگی کا خلاصہ ہے اور یہ سب ایسا ہی ہے مینہ برسا کھیتی اگی وقت پر مزید پانی نہ ملنے سے زرد ہوگی خشک ہوئی اور ہوا میں چورا چورا ہوکر اڑتی پھری اور معاملہ تمام ختم ہوگیا تو یہ زندگی سوائے اس کے ایک دھوکے کا سودا ہے اس سے زیادہ اور کیا ہے۔ رہا عالم آخرت جس کو دارالجزاء کہتے ہیں وہاں نافرمان لوگوں کے لئے سخت ترین عذاب اور فرمانبرداروں کے لئے بخشش اور پروردگار عالم کی رضامندی اور خوشنودی اب آگے مغفرت کی جانب لپکنے اور مغفرت کا سامان مہیا کرنے کی ترغیب ہے۔