Surat ul Hadeed

Surah: 57

Verse: 21

سورة الحديد

سَابِقُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا کَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۲۱﴾

Race toward forgiveness from your Lord and a Garden whose width is like the width of the heavens and earth, prepared for those who believed in Allah and His messengers. That is the bounty of Allah which He gives to whom He wills, and Allah is the possessor of great bounty.

۔ ( آؤ ) دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسماں و زمین کی وسعت کے برابر ہے یہ ان کے لئے بنائی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں ایمان رکھتے ہیں ۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاء وَالاْاَرْضِ ... Race with one another in hastening towards forgiveness from your Lord, and Paradise the width whereof is as the width of the heaven and the earth, Allah the Exalted said in another Ayah, وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ And march forth in the way (to) forgiveness from your Lord, and for Paradise as wide as the heavens and the earth, prepared for those who have Taqwa. (3:133) Allah said here, ... أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ امَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُوْتِيهِ مَن يَشَاء وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ prepared for those who believe in Allah and His Messengers. That is the grace of Allah which He bestows on whom He is pleased with. And Allah is the Owner of great bounty. meaning, "This, that Allah has qualified them for, is all a part of His favor, bounty and compassion." We mentioned a Hadith collected in the Sahih in which the poor emigrants said to the Messenger, "O Allah's Messenger! The wealthy people will get higher grades and permanent enjoyment." He asked, Why is that? They said, "They pray like us and fast as we do. However, they give in charity, whereas we cannot do that, and that free servants, whereas we cannot afford it." The Prophet said, أَفَلَ أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ سَبَقْتُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلاَ يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلاَّ مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ تُسَبِّحُونَ وَتُكَبِّرُونَ وَتُحَمِّدُونَ دُبُرَ كُلِّ صَلَةٍ ثَلَثًا وَثَلَثِين Shall I tell you of a good deed that, if you acted upon, you would catch up with those who have surpassed you, none would overtake you and be better than you, except those who might do the same. Say, "Glorious is Allah," "Allah is Most Great," and "Praise be to Allah," thirty three times each after every prayer. They later came back and said, "Our wealthy brethren heard what we did and they started doing the same." Allah's Messenger said, ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُوْتِيهِ مَنْ يَشَاء This is the favor of Allah that He gives to whom He wills.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

211یعنی اعمال صالحہ اور توبۃ النصوح کی طرف کیونکہ یہی چیزیں مغفرت رب کا ذریعہ ہیں۔ 212اور جس کا عرض اتنا ہو، اس کا طول کتنا ہوگا ؟ کیونکہ طول عرض سے زیادہ ہی ہوتا ہے 213ظاہر ہے اس کی چاہت اسی کے لیے ہوتی ہے جو کفر و معصیت سے توبہ کر کے ایمان وعمل صالح کی زندگی اختیار کرلیتا ہے اسی لیے وہ ایسے لوگوں کو ایمان صالحہ کی توفیق سے بھی نوازتا دیتا ہے۔ 214وہ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے جس کو وہ کچھ دے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لے اسے کوئی نہیں دے سکتا۔ تمام خیر اسی کے ہاتھ میں ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٦] جنت کی وسعت :۔ یہاں یہ فرمایا کہ جنت کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے اور سورة آل عمران کی آیت نمبر ١٣٣ میں فرمایا کہ جنت کا عرض تمام آسمانوں اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ حالانکہ ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک بھی لاکھوں میل کا فاصلہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں جنت کا رقبہ بتانا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ مح اور تاً استعمال ہوئے ہیں اور اس سے مقصود صرف جنت کی وسعت کا تصور دلانا ہے۔ جو یہ ہے کہ زمین و آسمان کو تو تم دیکھ ہی رہے ہو جنت ان سب آسمانوں اور زمین سے بھی بہت بڑی ہوگی۔ لہذا تم دنیا کے بجائے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اور اگر تم سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو تمہارے گناہ اور لغزشیں بھی اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا اور اتنی وسیع و عریض جنت بھی عطا فرمائے گا۔ رہی یہ بات ہے کہ جس جنت کی وسعت یہاں بیان ہو رہی ہے یہ سب اہل جنت کا حق ہوگا، یا ہر جنتی کو اتنی وسیع و عریض جنت ملے گی ؟ تو استقصاء سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہر جنتی کی ایک مخصوص رہائش گاہ ہوگی جیسا کہ رسول اللہ نے معراج کی رات کو جنت میں سیدنا عمر کا محل دیکھ تھا۔ البتہ سیروتفریح کے لحاظ سے ہر جنتی اتنی وسیع و عریض جنت میں جہاں چاہے گا جاسکے گا۔ اور اس آمدورفت میں اسے کوئی مشکل حائل نہ ہوگی نہ ہی اسے گاڑیوں یا جہازوں کی ضرورت پیش آئے گی۔ [٣٧] جنت صرف اللہ کی مہربانی سے ملے گی :۔ یہ مضمون پہلے بھی متعدد مقامات پر گزر چکا ہے کہ جنت کسی شخص کو اس کے اعمال کے بدلہ کے طور پر نہیں بلکہ محض اللہ کے فضل و کرم سے ملے گی۔ اعمال صالحہ کا بدلہ زیادہ سے زیادہ یہی ہوسکتا ہے کہ اسے دوزخ کے عذاب سے بچا لیا جائے اور یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں بلکہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ && میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی شخص کو اس کا عمل بہشت میں نہیں لے جاسکتا ؟ && صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا && یا رسول اللہ ! کیا آپ کے اعمال بھی آپ کو بہشت میں نہیں لے جاسکیں گے۔ فرمایا : && ہاں میرے اعمال بھی مجھے بہشت میں نہیں لے جاسکیں گے الا یہ کہ اللہ اپنے فضل اور اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے && (بخاری۔ کتاب المرضیٰ ۔ باب تمنی المریض الموت)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ :’ سابقوا “ ” سبق یسبق سبقا “ (ض، ن) سے باب مفاعلہ کا امر حاضر ہے۔ اس میں مقابلے کا مفہوم پایا جاتا ہے ، یعنی ایک دوسرے کے مقابلے میں ایسے اعمال کی طرف آگے بڑھو جن سے تم مغفرت اور جنت کے مستحق بن سکو ۔ مثلاً میدان قتال کی پہلی صفت میں ہونا ، امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ میں شامل ہونا اور اللہ کی راہ میں دوسروں سے بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا وغیرہ ۔ یہ آیت سورة ٔ آل عمران کی آیت (١٣٣) سے ملتی جلتی ہے ، اس کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔ ٢۔ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ :” السمائ “ کا لفظ یہاں بطور جنس استعمال ہوا ہے ، مراد تمام آسمان ہیں ۔ دلیل اس کی سورة ٔ آل عمران کی یہ آیت ہے :(وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ لا )” اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دوڑو اپنے رب کی جانب سے بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین ( کے برابر) ہے “۔ ٣۔ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِ اللہ ِ وَرُسُلِہٖ ط : یہاں اتنا ہی ذکر ہے کہ جنت ایمان والوں کے لیے تیار کی گئی ہے ، جبکہ سورة ٔ آل عمران (١٣٣ تا ١٣٥) میں ان ایمان والوں کے چند اعمال کا بھی ذکر ہے جن کی وجہ سے وہ اللہ کے فضل کے حق دار ٹھہرتے ہیں ۔ ان میں پہلا عمل خوشی اور تکلیف میں خرچ کرنا ہے ، جس کا ذکر یہاں ” انفقوا “ میں گزر چکا ہے۔ ٤۔ ذٰلِکَ فَضْلُ اللہ ِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط ۔۔۔۔۔۔: اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں داخلہ محض اللہ کے فضل کے ساتھ ہوگا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں اور انسان جتنے بھی عمل کرلے وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ ایک نعمت کا بھی بدل نہیں ہوسکتے۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرما رہے تھے :(لن یدخل احدا عملہ لخنہ، قالوولا انت یا رسول اللہ ؟ قال لا ، ولا انا الا ان یتغمدنی اللہ بفضل ورحمۃ) ( بخاری لم منی ، باب تغنی المریض الموت : ٥٦٧٣)” کسی بھی شخص کو اس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا “۔ لوگوں نے کہا : ’ ’ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو بھی نہیں ؟ “ فرمایا :” نہیں ، مجھے بھی نہیں، الایہ کہ اللہ مجھے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے “۔ البتہ اعمال صالحہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے حصول کا سبب بنتے ہیں ، دیکھئے سورة ٔ اعراف (٤٣) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَ‌ةٍ مِّن رَّ‌بِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْ‌ضُهَا كَعَرْ‌ضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْ‌ضِ (Compete each other in proceeding towards forgiveness from your Lord and to Paradise, the width of which is like the width of the sky and the earth ...57:21) The competition or race referred to in this verse may have either of the two meanings: [ 1] No one has a guarantee for the continuance of his life, health and strength. One should not procrastinate, delay, defer, or put off performing righteous deeds for future, because the time might not come on account of illness, any inability or even death. One should race against inability, weakness and death, so that one may accumulate the treasure of good deeds that may lead one to Paradise before such inabilities may arrive and stop one from the good deeds. [ 2] Another meaning may be to compete with one another in good deeds, as Sayyidna ` Ali (رض) advises: |"Be among the first ones to go to the mosque and the last ones to come out.|" Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud (رض) advises: |"Go forward to be in the first line of jihad.|" Sayyidna Anas (رض) states: |"Try to be present for the first takbir of the congregational prayer.|" [ Ruh ] The verse under comment defines that Paradise will be as wide as the heaven and the earth. A similar verse occurs in Surah Al-` Imran [ 3:133] where the word &skies& is plural, whereas here the word sama& (sky) is singular, from which we gather that both the words, the singular as well as the plural, refer to all the seven heavens, meaning if the vastness of the seven heavens and the earth are put together, that will be the width of Paradise. Obviously, the length of anything is greater than its breadth. This shows that the length of Paradise is greater than the length of the seven heavens and earth. Sometimes the word width or breadth is used in the general sense of &vastness& irrespective of its length. In both cases, the purport of the verse is to describe that Paradise is very vast, so vast that it can accommodate the entire heavens and the earth in its vastness. ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّـهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (That is the bounty of Allah that He gives to whomever He wills, and Allah is the Lord of the great bounty...57:21) The foregoing verse enjoined upon us to march forth and compete each other in marching to Paradise and its bounties. This could give rise to the thought that Paradise and its eternal pleasures and delights are the direct result of our actions. This verse clarifies the point that good actions are not necessarily the sufficient cause for the attainment of Paradise. Man&s life-long actions cannot be an adequate price even for the bounties he has received in this world, let alone the everlasting bounties of Paradise and its eternal blessings. Anyone who enters Paradise will do so out of Allah&s grace and mercy, as is mentioned in a Prophetic Hadith, recorded in Sahilhain on the authority of Sayyidna Abu Hurairah (رض) who reports that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: |"No one will attain salvation by means of his actions only.|" The Companions enquired: |"Not even you, 0 Messenger of Allah?|" He replied: |"No, not even I will attain Paradise because of my actions, unless Allah bestows His grace and compassion on me.|" [ Mazhari ]

(آیت) سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ، یعنی مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمان و زمین کے عرض کے برابر ہے۔ مسابقت کرنے سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ عمر اور صحت وقدرت کا کچھ بھروسہ نہیں، نیک اعمال میں سستی اور ٹال مٹول نہ کرو ایسا نہ ہو کہ پھر کوئی بیماری یا عذر آ کر تمہیں اس کام کے قابل نہ چھوڑے، یا موت ہی آجائے تو حاصل مسابقت کا یہ ہے کہ عجز و ضعف اور موت سے مسابقت کرو کہ ان کے آنے سے پہلے پہلے ایسے اعمال کا ذخیرہ کرلو جو جنت تک پہنچانے کا ذریعہ بن سکیں۔ اور مسابقت کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ نیک اعمال میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو جیسا کہ حضرت علی نے اپنی نصائح میں فرمایا کہ ” تم مسجد میں سب سے پہلے جانے والے اور سب سے آخر میں نکلنے والے بنو “ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ جہاد کی صفوف میں سے پہلی صف میں رہنے کے لئے بڑھو، حضرت انس نے فرمایا کہ جماعت نماز میں پہلی تکبیر میں حاضر رہنے کی کوشش کرو (روح) جنت کی تعریف میں فرمایا کہ اس کا عرض آسمان و زمین کے برابر ہوگا، سورة آل عمران میں بھی اسی مضمون کی آیت پہلے آ چکی ہے، اس میں لفظ سٰموٰت جمع کے ساتھ آیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ آسمان سے مراد ساتوں آسمان ہیں اور معنی یہ ہیں کہ ساتوں آسمانوں اور زمین کی وسعت کو ایک جگہ جمع کرلو تو وہ جنت کا عرض ہو، یعنی چوڑائی اور یہ ظاہر ہے کہ طول ہر چیز کا اس کے عرض سے زائد ہوتا ہے، اس سے ثابت ہوا کہ جنت کی وسعت ساتوں آسمانوں اور زمین کی وسعت سے بڑھی ہوئی ہے اور لفظ عرض کبھی مطلق و سعت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اس میں طویل کا مقابلہ مقصود نہیں ہوتا، دونوں صورتوں میں جنت کی عظیم الشان وسعت کا بیان ہوگیا۔ (آیت) ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ، اس سے پہلی آیت میں جنت اور اس کی نعمتوں کے لئے مسابقت اور کوشش کا حکم تھا، اس سے کسی کو یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ جنت اور اس کی لازوال نعمتیں ہمارے عمل کا ثمرہ اور ہمارا عمل اس کے لئے کافی ہے، اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے اعمال حصول جنت کے لئے علت کافیہ نہیں ہیں، جن پر عطاء جنت کا مرتب ہونا لازمی ہی ہو، انسان کے عمر بھر کے اعمال تو ان نعمتوں کا بدلہ بھی نہیں ہو سکتے جو دنیا میں اس کو مل چکی ہیں، ہمارے یہ اعمال جنت کی لازوال نعمتوں کی قیمت نہیں بن سکتے، جنت میں جو بھی داخل ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان ہی سے داخل ہوگا، جیسے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی مرفوع حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں کسی کو صرف اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا، صحابہ نے عرض کیا کہ کیا آپ بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہاں میں بھی اپنے عمل سے جنت حاصل نہیں کرسکتا بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت ہوجاوے (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ۝ ٠ ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ ٠ ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۝ ٢١ سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] ، ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرنے لگ گئے ۔ وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] اور دونوں دوڑتے ہوئے دروز سے پر پہنچنے ۔ مجازا ہر شے میں آگے بڑ اجانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] تو یہ ہم سے اس کیطرف سبقت نہ کرجاتے ۔ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ عرض أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ، ( ع ر ض ) العرض اعرض الشئی اس کی ایک جانب ظاہر ہوگئی عرضت العود علی الاناء برتن پر لکڑی کو چوڑی جانب سے رکھا ۔ عرضت الشئی علی فلان اولفلان میں نے فلاں کے سامنے وہ چیزیں پیش کی ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ عد ( اعداد) والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] ، أي : عِدَّةَ الشّهر، وقوله : أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] ، فإشارة إلى شهر رمضان . وقوله : وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] ، فهي ثلاثة أيّام بعد النّحر، والمعلومات عشر ذي الحجّة . وعند بعض الفقهاء : المَعْدُودَاتُ يومُ النّحر ويومان بعده «1» ، فعلی هذا يوم النّحر يكون من المَعْدُودَاتِ والمعلومات، والعِدَادُ : الوقت الذي يُعَدُّ لمعاودة الوجع، وقال عليه الصلاة والسلام :«ما زالت أكلة خيبر تُعَادُّنِي» «2» وعِدَّانُ الشیءِ : عهده وزمانه . ( ع د د ) العدد الاعداد تیار کرنا مہیا کرنا یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعددت ھذا لک کے منعی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے کہ تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] اور جہاں تک ہوسکے ( فوج کی جمیعت سے ) ان کے ( مقابلے کے لئے مستعد رہو ۔ اور جو ) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں ۔ أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] اور ہم نے جھٹلا نے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اعتدت بھی اسی ( عد ) سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] تم روزوں کا شمار پورا کرلو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم ماہ رمضان کی گنتی پوری کرلو ۔ أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] گنتی کے چند روز میں ماہ رمضان کی طرف اشارہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] اور گنتی کے دنوں میں خدا کو یاد کرو ۔ میں سے عید قربان کے بعد کے تین دن مراد ہیں اور معلومات سے ذوالحجہ کے دس دن بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ایام معدودۃ سے یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن مراد ہیں اس صورت میں یوم النحر بھی ان تین دنوں میں شامل ہوگا ۔ العداد اس مقرر وقت کو کہتے ہیں جس میں بیماری کا دورہ پڑتا ہو ۔ آنحضرت نے فرمایا مازالت امۃ خیبر تعادنی کہ خیبر کے دن جو مسموم کھانا میں نے کھایا تھا اس کی زہر بار بار عود کرتی رہی ہے عد ان الشئی کے معنی کسی چیز کے موسم یا زمانہ کے ہیں أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ، وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] ، وقال : ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ، وقد استعار أصحاب المعاني الذّات، فجعلوها عبارة عن عين الشیء، جو هرا کان أو عرضا، واستعملوها مفردة ومضافة إلى المضمر بالألف واللام، وأجروها مجری النّفس والخاصّة، فقالوا : ذاته، ونفسه وخاصّته، ولیس ذلک من کلام العرب . والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد نحو : وبئري ذو حفرت وذو طویت ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ اور مونث کے لئے ذات کا صیغہ استعمال ہوتا ہے اس کا تثنیہ ذواتا اور جمع ذوات آتی ہے ۔ اور یہ تمام الفاظ مضاف ہوکر استعمال ہوتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ( یعنی جبرئیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے ۔ وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] اور رشتہ داروں ۔ وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] اور ہر ساحب فضل کو اسکی بزرگی ( کی داو ) دیگا ۔ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] رشتہ داروں اور یتیموں ۔ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے ۔ وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے ہیں ۔ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت ( یعنی بےہتھیار ) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے ۔ ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ان دونوں میں بہت سے شاخیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں ۔ علمائے معانی ( منطق وفلسفہ ) ذات کے لفظ کو بطور استعارہ عین شے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور یہ جو ہر اور عرض دونوں پر بولاجاتا ہے اور پھر کبھی یہ مفرد یعنی بدون اضافت کت استعمال ہوتا ہے ۔ اور کبھی اسم ضمیر کی طرف مضاف ہو کر اور کبھی معرف بلالم ہوکر ۔ اور یہ لفظ بمنزلہ نفس اور خاصہ کے بولا جاتا ہے ۔ اور نفسہ وخاصتہ کی طرح ذاتہ بھی کہاجاتا ہے ۔ مگر یہ عربی زبان کے محاورات سے نہیں ہے ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( الوافر ) یعنی کنواں جسے میں نے کھودا اور صاف کیا ہے ۔ عظیم وعَظُمَ الشیء أصله : كبر عظمه، ثم استعیر لكلّ كبير، فأجري مجراه محسوسا کان أو معقولا، عينا کان أو معنی. قال : عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] ، قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] ، ( ع ظ م ) العظم عظم الشئی کے اصل معنی کسی چیز کی ہڈی کے بڑا ہونے کے ہیں مجازا ہر چیز کے بڑا ہونے پر بولا جاتا ہے خواہ اس کا تعلق حس سے یو یا عقل سے اور عام اس سے کہ وہ مادی چیز ہو یا معنو ی قرآن میں ہے : ۔ عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] بڑے سخت دن کا عذاب ) تھا ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] کہہ دو کہ وہ ایک سخت حادثہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اب سب کو اللہ تعالیٰ خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے تم اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف دوڑو اور نیز اعمال صالحہ کر کے ایسی جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمان و زمین کو اگر ملا دیا جائے تو اس کی وسعت کے برابر ہے اور وہ تمام امتوں میں سے اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور یہ مغفرت و خوشنودی اور جنت اللہ کا فضل ہے وہ جو اس کا اہل ہوتا ہے اس کو عنایت کرتے ہیں اور اللہ بڑے فضل والے ہیں کہ صلہ میں جنت عطا کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١{ سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ } ” ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ “ دنیا کمانے میں تو تم لوگ خوب مسابقت کر رہے ہو۔ اس میدان میں تو تم ہر وقت ع ” ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں ! “ کی فکر میں لگے رہتے ہو۔ عارضی دنیا کی اس مسابقت کو چھوڑو ‘ اپنی یہی صلاحیتیں اللہ کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے صرف کرو۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے محنت کرو اور اس منزل میں بہتر سے بہتر مقام پانے کے لیے دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔ جنت کی وسعت کی مثال کے لیے یہاں ” کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ “ جبکہ سورة آل عمران کی آیت ١٣٣ میں ” عَرْضُھَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضُ “ کے الفاظ آئے ہیں۔ موجودہ دور میں سائنس کی حیرت انگیز ترقی کے باوجود ابھی تک ارض و سماء کی وسعت کے بارے میں انسان کا علم نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہرحال اب تک میسر ہونے والی معلومات کے مطابق اس کائنات میں ارب ہا ارب کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں کی وسعت اور ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں کے فاصلے کو کروڑوں نوری سالوں پر محیط تصور کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہر کہکشاں میں اَن گنت ستارے ‘ ہمارے نظام شمسی (solar system) جیسے بیشمار نظام اور ہماری زمین جیسے لاتعداد سیارے ہیں۔ اسی طرح ہر ستارے کی جسامت اور ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک کے فاصلے کا اندازہ بھی نوری سالوں میں کیا جاسکتا ہے۔ یہاں اس آیت میں آسمان اور زمین کی وسعت سے مراد پوری کائنات کی وسعت ہے جس کا اندازہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ بہرحال اس مثال سے جنت کی وسعت کے تصور کو انسانی ذہن کی سطح پر ممکن حد تک قابل فہم بنانا مقصود ہے۔ اس حوالے سے میرا گمان یہ ہے (واللہ اعلم ! ) کہ قیامت برپا ہونے کے بعد پہلی جنت اسی زمین پر بنے گی اور اہل جنت کی ابتدائی مہمانی (نُزُل) بھی یہیں پر ہوگی۔ اس کے بعد اہل جنت کے درجات و مراتب کے مطابق ان کے لیے آسمانوں کے دروازے کھولے جائیں گے۔ اس حوالے سے سورة الاعراف کی اس آیت میں واضح فرما دیا گیا ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْھَا لَا تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآئِ…} (آیت ٤٠) کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے اور ان کے بارے میں تکبر کرنے والوں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ بہرحال اس کے بعد اہل جنت کو ان کے مراتب کے مطابق اس جنت میں منتقل کردیا جائے گا جس کی وسعت کا یہاں ذکر ہوا ہے۔ اہل جنت کو وہاں جانے کے لیے کسی راکٹ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اسی انداز سے آسمانوں پر لے جائے گا جیسے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر معراج میں زمین سے ساتویں آسمان تک چلے گئے تھے اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ساتویں آسمان سے زمین پر آتے ہیں۔ { اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ } ” وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ “ ” اِعداد “ (بابِ افعال) کے معنی ہیں کسی خاص مقصد کے لیے کسی چیز کو تیار کرنا۔ یعنی وہ جنت بڑے اہتمام سے تیار کی گئی ہے ‘ سجائی اور سنواری گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ { ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ } ” یہ اللہ کا فضل ہے جس کو بھی وہ چاہے گا دے گا۔ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ “ ” فَضْل “ سے مراد ہے اللہ کی طرف سے بغیر استحقاق کے دی جانے والی شے۔ اس کے بالمقابل اجرت اور اجر کے الفاظ عام استعمال ہوتے ہیں ‘ جن کا مطلب ہے بدلہ ‘ جو کسی محنت اور مزدوری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں بالعموم جہاں بھی جنت کا تذکرہ آیا ہے وہاں لفظ ” فَضْل “ استعمال ہوا ہے۔ گویا قرآن مجید کا تصور یہ ہے کہ انسان مجرد اپنے عمل کے ذریعے سے جنت کا مستحق نہیں بن سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کی دست گیری نہ کرے۔٭ اب اگلی آیت میں دنیوی زندگی میں پیش آنے والی تکالیف و مشکلات کو قابل برداشت بنانے کا نسخہ بتایا جا رہا ہے۔ دراصل اہل ایمان کو جس راستے کی طرف بلایا جا رہا ہے وہ بہت کٹھن اور صبر آزما راستہ ہے۔ یہ انفاق ‘ جہاد اور قتال کا راستہ ہے اور اس کی منزل ” اقامت دین “ ہے ‘ جس کا ذکر آگے آیت ٢٥ میں آ رہا ہے ۔ اس اعتبار سے آیت ٢٥ اس سورت کے ذروئہ سنام (climax) کا درجہ رکھتی ہیں۔ بہرحال اہل ایمان جب اس راستے پر گامزن ہوں گے تو آزمائشیں ‘ صعوبتیں اور پریشانیاں قدم قدم پر ان کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے جس کا ذکر قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ سورة البقرۃ میں ارشادِربانی ہے : { وَلَنَبْلُوَنَّـکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِط } (آیت ١٥٥) ” اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے “۔ جبکہ سورة آل عمران میں اس قانون کا ذکر ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : { لَتُـبْـلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْقف وَلَـتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ مِنْ قَـبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْآ اَذًی کَثِیْرًاط } (آیت ١٨٦) ” (مسلمانو ! یاد رکھو) تمہیں لازماً آزمایا جائے گا تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی ‘ اور تمہیں لازماً سننا پڑیں گی بڑی تکلیف دہ باتیں ان لوگوں سے بھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان سے بھی جنہوں نے شرک کیا “۔ چناچہ مشکلات و مصائب کی اس متوقع یلغار کے دوران اہل ایمان کو سہارا دینے کے لیے یہ نسخہ بتایاجا رہا ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

37 Musabagat (from which sabiqu of the original is derived) means to compete and vie with each other in order to excel. The meaning is: "Give up your rivalries with one another for amassing wealth, and pleasures and benefits, of the world and instead make the forgiveness of your Lord and Paradise the object of your struggle and rivalries.' 38 Some commentators have taken the word ard in 'arduha ka- 'ard-is- sama '-I wal-ard in the sense of breadth, but actually this word has been used here in the meaning of spaciousness and extensiveness. In Arabic the word ard is not only used for breadth, as a counterpart of length, but also for spaciousness, as it has been used in Ha Mim As-Sajdah: 51: fa-dhu du'a in 'arid: "Then he is full of wordy supplications." Besides, one should also understand that the object here is not to foretell the area or extent of Paradise, but to give an idea of its vastness and extensiveness. Here its vastness has been described as the vastness of the heaven and earth, and in Surah . AI-'Imran it has been said: "Hasten to follow the path that leads to your Lord's forgiveness and to Paradise whose vastness is that of the universe, which has been prepared for the righteous "' (v. 133) When both these verses are read together, one gets the idea that the; gardens and palaces man will receive in Paradise will only serve as his dwelling-place t but the entire universe will be his home He will not be restricted to one place as be is in this world, where just for reaching the Moon, his nearest neighbour in space, he has had to struggle hard for years and expend excessive resources only to overcome the difficulties of a short journeny. There the whole universe will be accessible to him: he will be able to see whatever he would desire from his station and be able to visit whichever place he would like easily.

سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :37 اصل میں لفظ سَابِقُوْا استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم محض دوڑو کے لفظ سے ادا نہیں ہوتا ۔ مسابقت کے معنی مقابلے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنے کے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ تم دنیا کی دولت اور لذتیں اور فائدے سمیٹنے میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی جو کوشش کر رہے ہو اسے چھوڑ کر اس چیز کو ہدف مقصود بناؤ اور اس کی طرف دوڑنے میں بازی جیت لے جانے کی کوشش کرو ۔ سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :38 اصل الفاظ ہیں عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ۔ بعض مفسرین نے عرض کو چوڑائی کے معنی میں لیا ہے ۔ لیکن دراصل یہاں یہ لفظ وسعت و پہنائی کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ عربی زبان میں لفظ عرض صرف چوڑائی ہی کے لیے نہیں بولا جاتا جو طول کا مد مقابل ہے ، بلکہ اسے مجرد وسعت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے ، جیسا کہ ایک دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ ، انسان پھر لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے ( حٰم السجدہ ۔ 51 ) ۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اس ارشاد سے مقصود جنت کا رقبہ بتانا نہیں ہے بلکہ اس کی وسعت کا تصور دلانا ہے ۔ یہاں اس کی وسعت آسمان و زمین جیسی بتائی گئی ہے ، اور سورہ آل عمران میں فرمایا گیا ہے سَارِعُوْآ اِلیٰ مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقَیْنَ ( آیت ۔ 133 ) ۔ دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور اس مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت ساری کائنات ہے ، جو مہیا کی گئی ہے متقی لوگوں کے لیے ۔ ان دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھنے سے کچھ ایسا تصور ذہن میں آتا ہے کہ جنت میں ایک انسان کو جو باغ اور محلات ملیں گے وہ تو صرف اس کے قیام کے لیے ہوں گے ، مگر در حقیقت پوری کائنات اس کی سیر گاہ ہو گی ۔ کہیں وہ بند نہ ہو گا ۔ وہاں اس کا حال اس دنیا کی طرح نہ ہو گا کہ چاند جیسے قریب ترین سیارے تک پہنچنے کے لیے بھی وہ برسوں پاپڑ بیلتا رہا اور اس ذرا سے سفر کی مشکلات کو رفع کرنے میں اسے بے تحاشا وسائل صرف کرنے پڑے ۔ وہاں ساری کائنات اس کے لیے کھلی ہو گی ، جو کچھ چاہے گا اپنی جگہ سے بیٹھے بیٹھے دیکھ لے گا اور جہاں چاہے گا بے تکلف جا سکے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(57:21) سابقوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ سباق ومسابقۃ (مفاعلۃ) مصدر دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا۔ یہاں خطاب جمیع الناس سے ہے ، یعنی اے لوگو ! ایمان خوف اور امید اور اعمال صالحہ کے ساتھ اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی تیزی سے بڑھو وجنۃ۔ واؤ عاطفہ جنۃ معطوف جس کا عطف مغفرۃ پر ہے۔ عرضھامضاف مضاف الیہ ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع جنۃ ہے۔ جس کا عرض (طول کی ضد) یا عرض بمعنی وسعت ہے۔ مبتدا کعرض السماء والارض : ک تشبیہ کا ہے۔ آسمان اور زمین کے عرض کی مانند مبتداء کی خبر۔ جملہ عرضھا کعرض السماء والارض صفت ہے جنۃ کی ۔ ارشاد ہے : کہ جنت کا پھیلاؤ آسمان اور زمین کی طرح ہے۔ سدی نے کہا ہے کہ :۔ اس سے مراد چوڑائی ہے جو طول کے مخالف جہت کو ہوتی ہے ، یعنی سات آسمانوں اور سات زمینوں کو اگر برابر کرکے ملا دیا جائے تو جنت کا عرض اس کے برابر ہوگا۔ (متن میں السماء اور الارض واحد آیا ہے یعنی آسمان اور زمین کے پھیلاؤ کے برابر) جب جنت کا عرض اتنا ہے تو اس کی لمبائی کا کیا ٹھکانہ ہوگا۔ طول تو عرض سے بڑا ہوتا ہی ہے۔ اعدت۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب اعداد (افعال) مصدر وہ تیار کی گئی ہے ۔ اعدت للذین امنوا باللہ ورسلہ یہ جملہ صفت ثانی ہے جنۃ کی۔ ذلک : یعنی وعدہ جنت و مغفرت۔ فضل اللہ مضاف مضاف الیہ یہ اللہ کا فضل ہے یعنی یہ مغفرت اور جنت میں داخل کرنا اللہ کی مہربانی ہے۔ اللہ جس کو چاہے گا اپنی مہربانی سے نوازے گا۔ اللہ تعالیٰ پر کسی کا وجوبی حق نہیں ہے۔ یؤتیہ، یأتی مضارع واحد مذکر غائب۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر جس کا مرجع فضل ہے۔ وہ اسے دیتا ہے من یشائ : من موصولہ یشاء صلہ۔ جس کو وہ چاہتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی وہ نیک کام کرو جن سے تمہیں اپنے مالک کی خوشنودی اور معافی نصیب ہو۔3 جب جنت کا عرض اس قدر ہے تو اس کے طول کے کیا کہنے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : لعب۔ کھیل کود۔ لھو۔ کھیل تماشا۔ تفاخر۔ آپس میں فخر کرنا۔ اپنی بڑائیاں کرنا۔ تکاثر۔ ایک دوسرے سے کثرت میں آگے بڑھنا۔ غیث۔ بارش۔ یھیج۔ زور پکڑتا ہے۔ مصفر۔ زرد۔ حطام۔ چورہ چورہ۔ تشریح : فرمایا کہ اگر غور کیا جائے تو آدمی کی زندگی کے انقلابات اور تبدیلیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ اس دنیا میں اس کا قیام عارضی اور وقتی ہے اس کی کسی حالت کو بھی قرار نہیں ہے۔ ہر چیز فنا ہوتی رہتی ہے کسی چیز اور کسی حالت کو ہمیشگی حاصل نہیں ہے مثلاً آدمی بچپن میں ایسی بےمقصد، فضول اور بیکار چیزوں سے کھیلتا ہے کہ جوانی میں قدم رکھتے ہی اس کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ بچپن میں اس کی باتیں کس قدر بےربط اور اس کے کام کیسے مضحکہ خیز تھے جن چیزوں کو وہ اہمیت دیتا تھا اور جن کھلونوں سے وہ کھیلتا تھا جوانی میں اس کے لئے بےحقیقیت ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جب بڑھاپا آتا ہے تو جوانی کی غلطیوں کو یاد کرکے ہنستا ہے یا شرمندہ ہوتا ہے اور بڑھاپے کی عمر میں سوائے آپس کے فخر یہ قصے یا کہانیوں کے یا اپنی اولاد کی کثرت، مال و دولت کے اعداد و شمار کے اور کچھ بھی نہیں رہتا مرنے سے پہلے اسے اس بات کا شدت سے احساس پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ زندگی بھر جن چیزوں کو مال و دولت کو اور اولاد کو بڑی اہمیت دیتا تھا ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زندگی بھر سائے کے پیچھے بھاگنے اور دوڑنے والو ! اگر دوڑنا ہے تو اس جنت کی طرف دوڑو جو اتنی وسیع ہے اور اس کا پھیلائو اتنا زبردست ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین بھی اس میں سما جائیں گے۔ اور پھر وہاں کی ہر نعمت ہمیشہ کے لئے ہے۔ آدمی وہاں ہمیشہ جوان رہے گا۔ ہر خوشی کو دوام ملے گا وہ جو چاہے گا اس کو وہاں عطا کیا جائے گا۔ زندگی بھر وہ جس سکون کے لئے بےچین رہتا تھا وہ صرف جنت ہی میں نصیب ہوگا۔ فرمایا کہ دنیا کی زندگی کی مثال تو ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش برسنے کے بعد اس نباتات اگتی ہیں ہر طرف سرسبزی و شادابی پھیل جاتی ہے وہ کاشتکار جس نے محنت کرکے زمین میں دانا ڈالا تھا جب وہ دانہ ابھر کر پودا یا درخت بن جاتا ہے تو اس کی خوشی کا ٹھکانا نہیں رہتا لیکن جہاں گرم ہوائیں چلیں اور پودوں کی پتیاں خشک ہو کر چورہ چورہ ہوئیں تو سرسبزی و شادابی ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے۔ اسی طرح آدمی کا حال ہے کہ وہ ابھرتا ہے، خوبصورت اور حسین نظر آتا ہے جب جوانی گذر کر بڑھاپا آتا ہے تو وہی خوبصورتیاں جو اس کو مدہوش اور مست کردیتی تھیں اب ان میں کوئی ایسی دلچسپی نہیں رہتی بلکہ اس کی زندگی کی یہ ویرانی اس کو شدید الجھن میں ڈالے رکھتی ہے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا دنیا کی زندگی سوائے فریب نظر کے اور کیا ہے ؟ آخرت میں انسان کے لئے دو چیزیں ہوں گی (1) شدید ترین عذاب (2) یا اللہ کی رضا و مغفرت۔ بد نصیب کفار و مشرکین کو شدید عذاب دیا جائے گا اور صالح اہل ایمان لوگوں کو جنت کی راحتوں کے ساتھ ساتھ اللہ کی رضا اور اس کی مغفرت بھی نصیب ہوگی۔ اہل ایمان سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ جنت کی طلب میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جائیں تاکہ ان کو سکون نصیب ہو۔ لیکن یہ جب ہی نصیب ہوگا جب اللہ اور اس کے رسول کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کی جائے گی۔ وہ جنتیں اتنی عظیم اور وسیع ہوں گی کہ ساتوں آسمان اور زمین بھی اس میں سما جائیں تب بھی کوئی فرق نہ پڑے گا۔ یہ اللہ کا فضل و کرم جس پر بھی ہوجائے وہی خوش نصیب ہے اور اللہ تو اپنے بندوں پر فضل و کرم ہی کرتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یعنی اس سے کم کی نفی ہے زیادہ کی نفی نہیں۔ 7۔ اس میں اشارہ ہے کہ اپنے اعمال پر کوئی مغرور نہ ہو اور اپنے اعمال پر استحقاق جنت کا مدعی نہ ہو، یہ محض فضل ہے جس کا مدار مشیت پر ہے، مگر ہم نے اپنی رحمتوں سے ان عملوں کے کرنے والوں کے ساتھ مشیت متعلق کرلی ہے، اگر ہم چاہتے تو مشیت نہ کرتے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : دنیا کے مال پر فخر کرنے اور اس کی طلب میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی بجائے اپنے رب کی بخشش اور جنت میں آگے بڑھنے کی کوشش کیجیے۔ یہ بات سورة آل عمران کی آیت ١٣٣ میں بیان ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صرف نیکی کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ نیکیوں میں آگے بڑھنے اور جنت کی طرف سبقت لے جانے کا حکم دیا ہے۔ جس قوم اور معاشرے میں نیکی اور اپنے مقصد کے لیے آگے بڑھنے کا جذبہ ختم ہوجائے بالآخر وہ قوم مردگی کا شکار ہوجاتی ہے۔ زندہ اور بیدار قومیں اپنی منزل کے حصول کے لیے نئے جذبوں اور تازہ ولولوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے مسلسل منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ مسلمانوں کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کی جنت کا حصول ہے اس لیے قرآن مجید نے ایک سے زائد مقامات پر ترغیب دی ہے کہ اس کے لیے آگے بڑھو اور بڑھتے ہی چلے جاؤ۔ اس فرمان کی روشنی میں صحابہ کرام (رض) ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرنے کے لیے حضرت عمر فاروق (رض) یہ سوچ کر مسجد نبوی سے اٹھے کہ اس مرتبہ ابوبکر صدیق (رض) سے صدقہ کرنے میں آگے بڑھ جاؤں گا۔ جب عمر فاروق اور ابوبکر صدیق (رض) اپنا اپنا حصہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرفاروق (رض) سے پوچھا کہ کتنا مال جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کررہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کل مال کا آدھا حصہ پیش کررہا ہوں۔ ابوبکر صدیق (رض) سے استفسار کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ پورے کا پورا مال آپ کی خدمت میں پیش کردیا گیا ہے۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ میں ابوبکر صدیق (رض) سے سبقت نہیں لے جاسکتا۔ (رواہ الترمذی : باب مناقب ابی بکر وعمر (رض) ، قال البانی حسن) (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِيْ ظِلِّھَا ماءَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَأُوْا إِنْ شِءْتُمْ (وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ) (رواہ البخاری : باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ گھوڑے پر سوار شخص اس کے سائے میں سو سال تک چل سکتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو ( اور سائے ہیں لمبے لمبے) ۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ (رض) عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) (رواہ مسلم : باب فی صفۃ خیام الجنۃ .....) ” حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے پاس وہی جائے گا۔ کوئی اور انہیں نہیں دیکھ سکے گا۔ “ قرآن مجید کا مقصد جنت کا طول و عرض بتانا نہیں بلکہ اس کی وسعت و کشادگی کا تصور دینا ہے۔ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ اللَّہُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ التَّوَّابِینَ وَاجْعَلْنِی مِنَ الْمُتَطَہِّرِینَ فُتِحَتْ لَہُ ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یَدْخُلُ مِنْ أَیِّہَا شَاءَ ) (رواہ الترمذی : باب فیما یقال بعد الوضوء، قال الالبانی ھذاحدیث صحیح) ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ ! مجھے توبہ کرنے والوں میں اور پاک صاف رہنے والوں میں شامل فرما۔ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہاں سے چاہے داخل ہوجائے۔ “ مسائل ١۔ لوگو ! اپنے رب کی بخشش اور جنت کے لیے آگے بڑھو ! ٢۔ جنت کی چوڑائی زمین و آسمانوں سے کشادہ ہے۔ ٣۔ جنت ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں۔ ٤۔ جنت کا حصول اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ممکن نہیں۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے فضل فرماتا ہے وہ بڑے فضل والا ہے۔ تفسیر بالقرآن جنت اور بخشش کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہیے : ١۔ اللہ کی مغفرت اور جنت کی کوشش کرو۔ (الحدید : ٢١) ٢۔ نیکی کے حصول میں جلدی کرو۔ (البقرۃ : ١٤٨) ٣۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے سب سے اعلیٰ ہوں گے۔ (فاطر : ٣٢) (الواقعہ : ١٠، ١١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سابقو الی ................ العظیم (٧٥ : ١٢) ” دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے ، جو مہیا کی گئی ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ، اور اللہ بڑے فضل والا ہے “۔ یہ مقابلہ سامان لہو ولعب جمع کرنے میں نہیں ہے ، یہ بہت سا مال جمع کرنے کا بھی نہیں ہے یہ ان لوگوں کا مقابلہ ہے جنہوں نے اپنی گردن سے دنیا کی غلامی کا طوق اتار پھینکا ہے ، اور انہوں نے لہو ولعب کا میدان بچوں کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ اور ان کی نظریں کسی اونچے افق پر ہیں۔ اور ان کا ہدف اس دنیا سے بھی ذرا آگے ہے۔ وجنة ............ والارض (٧٥١٢) ” اس جنت کی طرف جس کا عرض اور وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ “ بعض مفسرین نے ، اس زمانے میں جب اس کائنات کی وسعتوں کے بارے میں ہماری معلومات محدود تھیں یہ رائے اختیار کی تھی کہ اس آیت سے مراد مجازاً بہت زیادہ وسعت ہے ، اسی طرح ان لوگوں نے بعض احادیث نبوی کو بھی مجازاً محمول کیا تھا۔ اسی طرح وہ حدیث جس میں کہا گیا ہے کہ جنت میں بالا خانوں والوں کو اہل جنت اس قدر بلند دیکھیں گے جس طرح ایک چمکدار تارا افق پر نظر آتا ہے ، مشرق میں یا مغرب میں ، اس سے مراد بھی اہل تفسیر زبادہ بلندی لیتے تھے لیکن آج انسانوں کی بنائی ہوئی نہایت ہی چھوٹی دوربینیں اس کائنات کی جو وسعت ہمیں بتاتی ہیں وہ محیرالعقول اور سر چکرادینے والی ہے ، جنت کی وسعت کے بارے میں احادیث ، اور وہ احادیث جن میں بالاخانے افق کے ستاروں جیسے بلند نظر آئیں ، ایسے حقائق نظر آتے ہیں جو عقل کے بہت قریب بلکہ مشاہدے کے بہت ہی قریب ہیں اور اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ قرآنی آیات یا احادیث جو جنت کی وسعت کے بارے میں ہیں ان کو مجاز پر محمول کیا جائے۔ جنت میں اس طویل و عریض مملکت میں ہر وہ شخص پہنچ سکتا ہے جو اس کا ارادہ کرے۔ ہر شخص اسے آگے بڑھ کر حاصل کرسکتا ہے لیکن اس کا بیعانہ اللہ اور رسولوں پر ایمان لانا ہے۔ ذلک فضل ................ العظیم (٧٥ : ١٢) ” یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “ اللہ کا فضل بےحد و حساب اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ فضل ان تمام لوگوں کے لئے کھلا ہے جو اس میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ اللہ کے اس فضل کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھیں۔ اس محدود الاطراف زمین ہی میں نہیں بلکہ اللہ کی لامحدود کائنات میں۔ ایک نظریاتی شخص کا فریضہ ہے کہ وہ اس عظیم کائنات کے ساتھ معاملہ کرے اور اپنے نفس ، اپنے نقطہ نظر ، اپنے تصور ، اپنی ترجیحات اور اپنے شعورکو اس تنگ اور محدود دنیا کے اندر محدود نہ کرے ، جب تک نظریاتی لوگ اپنے نقطہ نظر کو وسیع نہ کریں گے وہ اسلامی نظریہ حیات کی کوئی قابل قدر خدمت نہ کرسکیں گے۔ اس لئے کہ اسلامی نظریہ حیات لوگوں کی حقارتوں ، ذلتوں اور خود غرضیوں سے متصادم ہوتا ہے۔ اور وہ لوگوں کی گمراہی اور کج روی کے ساتھ بھی متصادم ہوتا ہے۔ پھر باطل قوت ہر وقت ایک نظریاتی شخص کا مقابلہ کرتی ہے اور وہ چونکہ زمین کے ایک حصے پر قابض ہوتی ہے اس لئے اس کے مقابلے میں وہی شخص کھڑا ہوسکتا ہے جس کا معاملہ ایک عظیم کائنات سے ہو اور اس زمین سے زیادہ وسیع تر نقطہ نظر رکھتا ہو۔ اور وہ اس فانی دنیا سے آگے باقی دنیا میں کچھ مقاصدواہداف رکھتا ہو ، یعنی رضائے الٰہی۔ اس زمین کے مقاصد اور معیار کبھی بھی ایک نظریاتی شخص کے لئے اعلیٰ مقاصد اور نصب العین نہیں ہوسکتے ان کی اہمیت ایک مومن کے لیے اسی قدر ہوتی ہے ، جس قدر زمین کی حیثیت بمقابلہ کائنات ہوتی ہے۔ یہ پوری زمین نہ ازلی ہے اور انہ ابدی ہے۔ زمین اور اللہ کی کائنات کے درمیان کوئی نسبت ہی نہیں ہے ، زمین چھوٹی اور اس کے مقاصد بہت چھوٹے ہیں۔ چناچہ ایک مومن کا نقطہ نظر بہت ہی وسیع اور بہت ہی بلند ہوتا ہے۔ اگرچہ زمین بہت خوب صورت طویل و عریض نظر آئے۔ اس لئے نظریاتی شخص اس حقیقت سے معاملہ کرتا ہے جو لامحدود ہوتی ہے اور زمین پر حدود وقیود وارد ہوتی ہے ، وہ اس حقیقت سے مقابلہ کرتا ہے جو ازلی اور ابدی موجود ہے۔ اور یہ عظیم حقیقت عالم آخرت کے وسیع میدان میں ہوتی ہے۔ اس دنیا کی بعض حقیر قدروں میں اگر کمی بیشی ہو بھی جائے تو ایمانی قدروں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جن لوگوں کے پیش نظر ان اعلیٰ قدروں کا حصول ہوتا ہے وہ اللہ کے مختار بندے ہوتے ہیں اور اس دنیا کی محدود قدروں سے آزاد ہوتے ہیں۔ اب چوتھی چٹکی آتی ہے۔ یہ ایک گہرا احساس دلاتی ہے ، اس بات کا اس دنیا میں جو کچھ بھی پیش آتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور جنت کی طرف مسابقت کرنے کا حکم : پھر جب یہ دنیا فانی بھی ہے اور دنیاوی مال ومتاع دھوکہ کا سامان بھی ہے تو سمجھداری اسی میں ہے کہ اللہ کی مغفرت کی طرف دوڑیں اور اس کی رضا مندی کے لیے عمل کریں۔ ارشاد فرمایا ﴿ سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ﴾ (اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسان و زمین کی وسعت کے برابر ہے) ۔ ﴿ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ ١ؕ﴾ (یہ جنت ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور ان کے رسولوں پر ایمان لے آئے) ۔ ﴿ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ ١ؕ﴾ (یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہے عطا فرمائے) ﴿ وَ اللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ٠٠٢١﴾ (اور اللہ بڑے فضل والا ہے) سَابِقُوْۤا فرما کر یہ فرمایا کہ آپس میں مسابقت رکھو یعنی اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور جنت حاصل کرنے کے لیے خوب دوڑ دھوپ کرو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھو اعمال آخرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا مندوب اور محبوب ہے کیونکہ اس میں کسی فریق کو نقصان نہیں ہوتا ہر شخص کو اللہ اپنے ایمان کا اور اعمال صالحہ کا اجر عطا فرمائے گا۔ کسی کی محنت میں سے کٹوتی کر کے کسی دوسرے کو ثواب نہیں دیا جائے گا ہر شخص اپنا اپنا ثواب لے گا، ہاں اعمال میں اخلاص ہو ریا کاری کا جذبہ نہ ہو۔ یہاں سورة الحدید میں سابقوا (ایک دوسرے سے آگے بڑھو) فرمایا اور سورة آل عمران میں سارعوا فرمایا ہے جس کا معنی ہے کہ آپس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں جلدی کرو، اس میں یہ بتا دیا کہ اعمال صالحہ میں دیر نہ لگاؤ، جو نیک کام کرسکتے ہو کر گزرو آج کا کام کل پر نہ ڈالو، نفس و شیطان سمجھائے گا کہ یہ کام کل کو کرلیں گے ان دونوں کی بات نہ مانو اعمال صالحہ میں جلدی کرو آگے بڑھو، موقع اور فرصت کے مطابق عمل خیر کرتے رہو کار خیر ابھی کرلو پھر کل کو بھی کرلینا، یہاں ﴿عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ ﴾ فرمایا ہے اور سورة آل عمران میں ﴿ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ ﴾ فرمایا ہے انسانوں کے سامنے چونکہ آسمان و زمین میں ہی طول و عرض کے اعتبار سے سب سے بڑی چیز ہے اس لیے جنت کی وسعت بتانے کے لیے تقریب الی الفھم کے طور پر ارشاد فرمایا کہ جنت کی چوڑائی ایسی ہے جیسے آسمان و زمین کی چوڑائی ہے ورنہ جنت تو بہت بڑی چیز ہے حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں سو درجے ہیں سارے جہاں اگر ان میں سے ایک درجہ میں جمع ہو جائی تو سب کے لیے کافی ہوگا۔ (رواہ الترمذی) اور ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ادنیٰ جنتی کو جو جنت دی جائے گی اسے پوری دنیا اور اس جیسی دس گنا وسیع جنت عطا کی جائے گی۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٤٩٢: عن البخاری و مسلم) جنت ایمان والوں کے لیے تیار کی گئی ہے : اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ ١ؕ (جنت ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر) اس میں یہ بتادیا کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو قبول نہ کیا رسولوں کو جھٹلایا اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان نہ لائے ایسے لوگ جنت سے محروم ہوں گے اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والے خواہ کسی رسول کے امتی ہوں سب جنت کے مستحق ہیں۔ ﴿ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ ١ؕ ﴾ (یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے) ﴿ وَ اللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ٠٠٢١﴾ (اور اللہ بڑے فضل والا ہے) اس میں یہ واضح فرما دیا کہ جن لوگوں کو جنت دی جائے گی یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگا اپنا ذاتی استحقاق کسی کا نہیں ہے، لہٰذا کوئی شخص اپنے اعمال پر مغرور نہ ہو۔ ایمان کی دولت سے نوازنا بھی اسی کی مہربانی ہے پھر اعمال کو قبول کرنا بھی فضل ہے اور جنت عطا فرمانا بھی فضل ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24:۔ ” سابقوا الی مغفرۃ “ انفاق فی سبیل اللہ کی مزید ترغیب ہے۔ اگر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عوض تمہیں دنیا میں نہیں ملا تو کیا ہوا، اللہ تعالیٰ آخرت میں تمہیں اس کا اجر دے گا، تمہارے گناہ معاف فرمائیگا اور جنت میں تمہیں مربعے عطا فرمائیگا۔ تمہیں اتنا وسیع و عریض جنت عطا ہوگا جس کی صرف چوڑائی زمین و آسمان کی مجموعی وسعت کے برابر ہوگی۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علی ہو سلم پر ایمان لائیں۔ اور ان کے احکام کی دل و جان سے تعمیل کریں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے وہ جسے چاہے اس سے نواز دے اور بڑے فضل و کرم کا مالک ہے اس کے یہاں کوئی کمی نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) تم اپنے پروردگار کی بخشش و مغفرت اور اس جنت کی طرف لپکو اور بڑھے چلو اور بڑھنے میں جلدی کرو جس جنت کا عرض ایسا ہے جیسا آسمان و زمین کا پھیلائو اور جس کی وسعت ایسی ہے جیسے آسمان و زمین کی وسعت وہ جنت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ پر اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں یہ مغفرت اور جنت اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا احسان ہے وہ اپنا فضل جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے اور بڑے فضل و احسان کا مالک ہے۔ اوپر کی آیت میں مغفرت اور رضوان کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں اس کی طرف بڑھے چلنے کا ذکر ہے۔ یعنی بھلائیوں میں سبقت کرو اور قدم بڑھائے چلو۔ یہ مغفرت اور جنت کی طرف بڑھنا یا یہ جنت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور فضل ان کی مشیت پر ہے اس لئے اپنی بھلائیوں پر تکیہ اور بھروسہ نہ کرلو اگر چہ اس نے اپنی رحمت سے نیک عمل کرنے والوں سے اپنی مشیت متعلق کرلی ہے اس لئے جنت کی امیدرکھو اور اس کی گرفت سے ڈرتے رہو آگے ایک اور مرتبے کا ذکر ہے۔