Surat ul Hadeed

Surah: 57

Verse: 26

سورة الحديد

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ جَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّۃَ وَ الۡکِتٰبَ فَمِنۡہُمۡ مُّہۡتَدٍ ۚ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۶﴾

And We have already sent Noah and Abraham and placed in their descendants prophethood and scripture; and among them is he who is guided, but many of them are defiantly disobedient.

بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم ( علیہما السلام ) کو ( پیغمبر بنا کر ) بھیجا اور ہم نے دونوں ان کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب جاری رکھی تو ان میں سے کچھ تو راہ یافتہ ہوئے اور ان میں سے اکثر نافرمان رہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Many of the Nations of the Prophets were Rebellious Allah says, وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا وَإِبْرَاهِيمَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ فَمِنْهُم مُّهْتَدٍ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ And indeed, We sent Nuh and Ibrahim, and placed in their offspring Prophethood and Scripture. And among them there are some who are guided; but many of them are rebellious. Allah the Exalted states that since He sent Nuh, peace be upon him, all the Prophets and Messengers He sent after that were from his offspring. All the revealed Divine Books and all the Messengers that received revelation after Ibrahim, Allah's Khalil, peace be upon him, were from Ibrahim's offspring. Allah the Exalted said in another Ayah: وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ and placed in their offspring Prophethood and Scripture. (29:27) The last among the Prophets of the Children of Israel was `Isa, son of Mary, who prophesied the good news of the coming of Muhammad, peace and blessings be upon them both. Allah the Exalted said,

حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی فضیلت حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس فضیلت کو دیکھئے کہ حضرت نوح کے بعد سے لے کر حضرت ابراہیم تک جتنے پیغمبر آئے سب آپ ہی کی نسل سے آئے اور پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد جتنے نبی اور رسول آئے سب کے سب آپ ہی کی نسل سے ہوئے جیسے اور آیت میں ہے ( وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ 26؀ ) 57- الحديد:26 ) یہاں تک کہ بنو اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم کی خوش خبری سنائی ۔ پس نوح اور ابراہیم صلوات اللہ علیہما کے بعد برابر رسولوں کا سلسلہ رہا حضرت عیسیٰ تک جنہیں انجیل ملی اور جن کی تابع فرمان امت رحمدل اور نرم مزاج واقع ہوئی ، خشیت الٰہی اور رحمت خلق کے پاک اوصاف سے متصف ۔ پھر نصرانیوں کی ایک بدعت کا ذکر ہے جو ان کی شریعت میں تو نہ تھی لیکن انہوں نے خود اپنی طرف سے اسے ایجاد لی تھی ، اس کے بعد کے جملے کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ ان کا مقصد نیک تھا کہ اللہ کی رضا جوئی کے لئے یہ طریقہ نکالا تھا ۔ حضرت سعید بن جبیر حضرت قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے ۔ دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا ہاں ہم نے ان پر صرف اللہ کی رضا جوئی واجب کی تھی ۔ پھر فرماتا ہے یہ اسے بھی نبھا نہ سکے جیسا چاہیے تھا ویسا اس پر بھی نہ جمے ، پس دوہری خرابی آئی ایک اپنی طرف سے ایک نئی بات دین اللہ میں ایجاد کرنے کی دوسرے اس پر بھی قائم نہ رہیں کی ، یعنی جسے وہ خود قرب اللہ کا ذریعہ اپنے ذہن سے سمجھ بیٹھے تھے بالآخر اس پر بھی پورے نہ اترے ۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو پکارا آپ نے لبیک کہا آپ نے فرمایا سنو بنی اسرائیل کے بہتر گروہ ہو گئے جن میں سے تین نے نجات پائی ، پہلے فرقہ نے تو بنی اسرائیل کی گمراہی دیکھ کر ان کی ہدایت کے لئے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر ان کے بڑوں کو تبلیغ شروع کی لیکن آخر وہ لوگ جدال و قتال پر اترے آئے اور بادشاہ اور امراء نے جو اس تبلیغ سے بہت گھبراتے تھے ان پر لشکر کشی کی اور انہیں قتل بھی کیا قید بھی کیا ان لوگوں نے تو نجات حاصل کر لی ، پھر دوسری جماعت کھڑی ہوئی ان میں مقابلہ کی طاقت تو نہ تھی تاہم اپنے دین کی قوت سے سرکشوں اور بادشاہوں کے دربار میں حق گوئی شروع کی اور اللہ کے سچے دین اور حضرت عیسیٰ کے اصلی مسلک کی طرف انہیں دعوت دینے لگے ، ان بدنصیبوں نے انہیں قتل بھی کرایا آروں سے بھی چیرا اور آگ میں بھی جلایا جسے اس جماعت نے صبر و شکر کے ساتھ برداشت کیا اور نجات حاصل کی ، پھر تیسری جماعت اٹھی یہ ان سے بھی زیادہ کمزور تھے ان میں طاقت نہ تھی کہ اصل دین کے احکام کی تبلیغ ان ظالموں میں کریں اس لئے انہوں نے اپنے دین کا بچاؤ اسی میں سمجھا کہ جنگلوں میں نکل جائیں اور پہاڑوں پر چڑھ جائیں عبادت میں مشغول ہو جائیں اور دنیا کو ترک کر دیں انہی کا ذکر رہبانیت والی آیت میں ہے ، یہی حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے اس میں تہتر فرقوں کا بیان ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اجراء نہیں ملے گا جو مجھ پر ایمان لائیں اور میری تصدیق کریں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ایسے ہیں جو مجھے جھٹلائیں اور میرا خلاف کریں ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں نے حضرت عیسیٰ کے بعد توریت وانجیل میں تبدیلیاں کر لیں ، لیکن ایک جماعت ایمان پر قائم رہی اور اصلی تورات و انجیل ان کے ہاتھوں میں رہی جسے وہ تلاوت کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ ان لوگوں نے ( جنہوں نے کتاب اللہ میں رد و بدل کر لیا تھا ) اپنے بادشاہوں سے ان سچے مومنوں کی شکایت کی کہ یہ لوگ کتاب اللہ کہہ کر جس کتاب کو پڑھتے ہیں اس میں تو ہمیں گالیاں لکھی ہیں اس میں لکھا ہوا ہے جو کوئی اللہ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق حکم نہ کرے وہ کافر ہے اور اسی طرح کی بہت سی آیتیں ہیں ، پھر یہ لوگ ہمارے اعمال پر بھی عیب گیری کرتے رہتے ہیں ، پس آپ انہیں دربار میں بلوایئے اور انہیں مجبور کیجئے کہ یا تو وہ اسی طرح پڑھیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں اور ویسا ہی عقیدہ ایمان رکھیں جیسا ہمارا ہے ورنہ انہیں بدترین عبرت ناک سزا دیجیے ، چنانچہ ان سچے مسلمانوں کو دربار میں بلوایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ یا تو ہماری اصلاح کردہ کتاب پڑھا کرو اور تمہارے اپنے ہاتھوں میں جو الہامی کتابیں انہیں چھوڑ دو ورنہ جان سے ہاتھ دھو لو اور قتل گاہ کی طرف قدم بڑھاؤ ، اس پر ان پاک بازوں کی ایک جماعت نے کہا کہ تم ہمیں ستاؤ نہیں تم اونچی عمارت بنا دو ہمیں وہاں پہنچا دو اور ڈوری چھڑی دیدو ہمارا کھانا پینا اس میں ڈال دیا کرو ہم اوپر سے گھسیٹ لیا کریں گے نیچے اتریں گے ہی نہیں اور تم میں آئیں گے ہی نہیں ، ایک جماعت نے کہا سنو ہم یہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں جنگلوں اور پہاڑوں میں نکل جاتے ہیں تمہاری بادشاہت کی سرزمین سے باہر ہو جاتے ہیں چشموں ، نہروں ، ندیوں ، نالوں اور تالابوں سے جانوروں کی طرح منہ لگا کر پانی پیا کریں گے اور جو پھول پات مل جائیں گے ان پر گزارہ کرلیں گے ۔ اس کے بعد اگر تم ہمیں اپنے ملک میں دیکھ لو تو بیشک گردن اڑا دینا ، تیسری جماعت نے کہا ہمیں اپنی آبادی کے ایک طرف کچھ زمین دیدو اور وہاں حصار کھینچ دو وہیں ہم کنویں کھود لیں گے اور کھیتی کر لیا کریں گے تم میں ہرگز نہ آئیں گے ۔ چونکہ اس اللہ پرست جماعت سے ان لوگوں کی قریبی رشتہ داریاں تھیں اس لئے یہ درخواستیں منظور کر لی گئیں اور یہ لوگ اپنے اپنے ٹھکانے چلے گئے ، لیکن ان کے ساتھ بعض اور لوگ بھی لگ گئے جنہیں دراصل علم و ایمان نہ تھا تقلیداً ساتھ ہو لیے ، ان کے بارے میں یہ آیت ( وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ اِلَّا ابْتِغَاۗءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَــتِهَا 27؀ ) 57- الحديد:27 ) نازل ہوئی ، پس جب اللہ تعالیٰ نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اس وقت ان میں سے بہت کم لوگ رہ گئے تھے آپ کی بعثت کی خبر سنتے ہی خانقاہوں والے اپنی خانقاہوں سے اور جنگلوں والے اپنے جنگلوں سے اور حصار والے اپنے حصاروں سے نکل کھڑے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ پر ایمان لائے ، آپ کی تصدیق کی جس کا ذکر اس آیت میں ہے ( یا ایھا الذین امنوا برسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ ویجعل لکم نورا تمشون بہ ) الخ ، یعنی ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تمہیں اللہ اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا ( یعنی حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے کا اور پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا ) اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو ( یعنی قرآن و سنت ) تاکہ اہل کتاب جان لیں ( جو تم جیسے ہیں ) کہ اللہ کے کسی فضل کا انہیں اختیار نہیں اور سارا فضل اللہ کے ہاتھ ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے ۔ یہ سیاق غریب ہے اور ان دونوں پچھلی آیتوں کی تفسیر اس آیت کے بعد ہی آ رہی ہے ، انشاء اللہ تعالیٰ ابو یعلی میں ہے کہ لوگ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کی خلافت کے زمانہ میں آئے ، آپ اس وقت امیر مدینہ تھے جب یہ آئے اس وقت حضرت انس نماز ادا کر رہے تھے اور بہت ہلکی نماز پڑھ رہے تھے جیسے مسافرت کی نماز ہو یا اس کے قریب قریب جب سلام پھیرا تو لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نے فرض نماز پڑھی یا نفل؟ فرمایا فرض اور یہی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی ، میں نے اپنے خیال سے اپنی یاد برابر تو اس میں کوئی خطا نہیں کی ، ہاں اگر کچھ بھول گیا ہوں تو اس کی بابت نہیں کہہ سکتا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی ، ایک قوم نے اپنی جانوں پر سختی کی اور ان پر بھی سختی کی گئی پس ان کی بقیہ خانقاہوں میں اور گھروں میں اب بھی دیکھ لو ترک دنیا کی ہی وہی سختی تھی جسے اللہ نے ان پر واجب نہیں کیا تھا ۔ دوسرے دن ہم لوگوں نے کہا آیئے سواریوں پر چلیں اور دیکھیں اور عبرت حاصل کریں ۔ حضرت انس نے فرمایا بہت اچھا ہم سوار ہو کر چلے اور کئی ایک بستیاں دیکھیں جو بالکل اجڑ گئی تھیں اور مکانات اوندھے پڑے ہوئے تھے تو ہم نے کہا ان شہروں سے آپ واقف ہیں؟ فرمایا خوب اچھی طرح بلکہ ان کے باشندوں سے بھی انہیں سرکشی اور حسد نے ہلاک کیا ۔ حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے اور سرکشی اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ۔ آنکھ کا بھی زنا ہے ہاتھ اور قدم اور زبان کا بھی زنا ہے اور شرمگاہ اسے سچ ثابت کرتی ہے یا جھٹلاتی ہے ۔ مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نبی کیلئے رہبانیت تھی اور میری امت کی رہبانیت اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ہے ۔ ایک شخص حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کچھ وصیت کیجئے ۔ آپ نے فرمایا تم نے مجھ سے وہ سوال کیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا ۔ میں تجھے وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرتے رہنے کی ، یہی تمام نیکیوں کا سر ہے اور تو جہاد کو لازم پکڑے رہ یہی اسلام کی رہبانیت ہے اور ذکر اللہ اور تلاوت قرآن پر مداومت کر ۔ وہی آسمان میں ، زمین میں تیری راحت و روح ہے اور تیری یاد ہے ۔ یہ روایت مسند احمد میں ہے واللہ تعالیٰ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٤] نبوت کا ضابطہ :۔ نبوت کا ضابطہ یہ ہے کہ انسان کی پیدائش سے پیشتر یہ جنوں میں جاری تھی۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ لہذا آدم کی پیدائش پر یہ انسانوں میں منتقل ہوگئی اور پہلے نبی خود سیدنا آدم ( علیہ السلام) تھے۔ بعد میں یہ سلسلہ صرف نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں محدود کردیا گیا۔ اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد انہی کی اولاد سے مختص ہوگیا۔ بعد میں جتنے بھی انبیاء (علیہم السلام) مبعوث ہوئے سب سیدنا ابراہیم ہی کی اولاد سے تھے۔ تمام انبیاء اپنی اولاد اور اپنی امت کو کفر و شرک اور افتراق و انتشار سے بچنے کی تاکید کرتے رہے مگر تھوڑے ہی لوگ ایسے تھے جنہوں نے انبیاء کی وصیت اور نصیحت کو قبول کیا۔ ورنہ لوگوں کی اکثریت کفر و شرک میں ہی مبتلا ہوگئی اور امت واحدہ کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کردیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰہِیْمَ ۔۔۔۔: اس آیت میں پہلے نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) کی بہت بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ دوسرے تمام انبیاء (علیہم السلام) انہی کی اولاد سے تھے ، اس کے بعد اس میں بینات اور کتاب و میزان لے کر آنے والے تمام انبیاء کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کی امتوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان میں بگاڑ کا باعث کیا تھا۔ ٢۔ فَمِنْہُمْ مُّہْتَدٍج وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰـسِقُوْنَ :” من “ تبعیض کے لیے ہے ، یعنی ان میں سے بعض راہ راست پر چلنے والے ہیں اور ان کے زیادہ لوگ نافرمان ہیں ۔ یعنی ان کے بگاڑ کا اصل باعث یہ تھا کہ وہ اپنی خواہش کے خلاف کسی کا حکم ماننے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ ایمان اور عمل صالح والے لوگ کم اور نافرمان لوگ ہمیشہ زیادہ رہے ہیں ۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ص (٢٤) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Many of the Nations of the Prophets (علیہم السلام) were Rebellious In the preceding verses it was mentioned that in order to give guidance to the world and to establish justice therein, Allah sent His Messengers and revealed to them the divine books and set up Balance. The current verses give specific names of some of those Divine Messengers. Among them, Prophet Nuh (علیہ السلام) stands first in the list, because he is second &Adam (علیہ السلام) in the sense that all human beings after the Deluge were from his progeny. Then the Prophet Ibrahim Khalil-ullah (علیہ السلام) is mentioned as he is the father of the prophets and recognized as an ideal for all the divine religions. It has been made plain here that all the Prophets and Messengers (علیہ السلام) sent after these two prophets were from their offspring. Out of many branches of the progeny of Nuh (علیہ السلام) ، the branch singled out for prophet-hood was that of Prophet Ibrahim Khalil-ullah (علیہ السلام)

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (مخلوق کی اسی اصلاح آخرت کے لئے) نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ہم نے ان کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب جاری رکھی (یعنی ان کی اولاد میں بھی بعضے پیغمبر اور ان میں سے بعضے صاحب کتاب بنائے) سو (جن جن لوگوں کے پاس یہ پیغمبر آئے) ان لوگوں میں بعضے تو ہدایت یافتہ ہوئے اور بہت سے ان میں نافرمان تھے ( اور یہ مذکور پیغمبر تو صاحب شریعت مستقلہ تھے، ان میں بعضے صاحب کتاب بھی تھے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) ، جو حضرت نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم دونوں کی اولاد میں تھے اور بعض اگرچہ صاحب کتاب نہیں تھے جیسے ہود اور صالح (علیہ السلام) کہ ان کا صاحب کتاب ہونا منقول نہیں مگر شریعت ان کی مستقل تھی، بہرحال بہت سے نبی تو صاحب شریعت مستقلہ بھیجے) پھر ان کے بعد اور رسولوں کو ( جو کہ صاحب شریعت مستقلہ نہ تھے) یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے ( جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تورات کے احکام کی تعمیل کرانے کے لئے بہت سے پیغمبر آئے) اور ان کے بعد (پھر ایک صاحب شریعت مستقلہ کو یعنی) عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور ہم نے ان کو انجیل دی اور ( ان کی امت میں دو قسم کے لوگ ہوئے ایک ان کا اتباع کرنے والے یعنی ان پر ایمان لانے والے اور دوسرے انکار کرنے والے) اور جن لوگوں نے ان کا اتباع کیا تھا (یعنی قسم اول) ہم نے ان کے دلوں میں شفقت اور رحم ( ایک دوسرے کے ساتھ جو کہ اخلاق حمیدہ میں سے ہے) پیدا کردیا (کقولہ تعالیٰ فی الصحابتہ (آیت) رحمآء بینہم اور شاید بوجہ اس کے کہ ان کی شریعت میں جہاد نہ تھا، اس کے مقابل کی صفت (آیت) اشدآء علی الکفار ذکر نہیں فرمائی، غرض غالب ان پر شفقت و رحمت تھی) اور (ہماری طرف سے تو ان لوگوں کو صرف احکام میں اتباع کرنے کا حکم ہوا تھا، لیکن ان متبعین میں بعضے وہ ہوئے کہ) انہوں نے رہبانیت کو خود ایجاد کرلیا (رہبانیت کا حاصل نکاح اور جائز لذتوں اور اختلاط کا چھوڑنا ہے اور اس کے ایجاد کا سبب یہ ہوا تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب لوگوں نے احکام الٰہیہ کو چھوڑنا شروع کیا تو بعضے اہل حق بھی تھے جو اظہار حق کرتے رہتے تھے، یہ بات خواہش نفسانی والوں کو مشکل معلوم ہوئی اور انہوں نے اپنے بادشاہوں سے درخواست کی کہ ان لوگوں کو مجبور کیا جاوے کہ ہمارے ہم مشرب بن کر رہیں جب ان کو مجبور کیا گیا تو انہوں نے درخوست کی کہ ہم کو اجازت دی جاوے کہ ہم ان لوگوں سے کوئی تعلق و غرض نہ رکھیں اور آزاد انہ زندگی بسر کریں خواہ گوشہ میں بیٹھ کر یا سفر و سیاحت میں عمر گزار کر، چناچہ اسی پردہ چھوڑ دیئے گئے (کذافی الدرالمنثور) اس مقام پر یہی ذکر ہے کہ انہوں نے رہبانیت کو ایجاد کرلیا) ہم نے ان پر اس کو واجب نہ کیا تھا لیکن انہوں نے حق تعالیٰ کی رضا کے واسطے (اپنے دین کو محفوظ رکھنے کے لئے) اس کو اختیار کرلیا تھا سو ( پھر ان راہبوں میں زیادہ وہ ہوئے کہ) انہوں نے اس (رہبانیت) کی پوری رعایت نہ کی (یعنی جس غرض سے اس کو اختیار کیا تھا اور وہ غرض اللہ کی رضا جوئی تھی اس کا اہتمام نہیں کیا یعنی اصل احکام کی بجا آوری نہ کی، گو صورةً رہبان اور احکام کی بجا آوری کا اظہار کرتے رہے، اس طرح رہبانوں میں دو قسم کے لوگ ہوگئے، احکام کی رعایت کرنے والے اور رعایت نہ کرنے والے اور ان میں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معاصر تھے ان کے حق میں رعایت احکام کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاویں اس لئے عہد مبارک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں احکام کی رعایت و اہتمام کرنے والے وہ لوگ ہوئے جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ پر ایمان سے گریز کیا وہ احکام کی رعایت نہ کرنے والوں میں شامل ہوئے) سو ان میں سے جو (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر) ایمان لائے ہم نے ان کو ان کا اجر (وعدہ کیا ہوا) دیا (مگر ایسے کم تھے) اور زیادہ ان میں نافرمان ہیں ( کہ آپ پر ایمان نہیں لائے اور چونکہ اکثریت نافرمانوں کی تھی اس لئے سب ہی کی طرف رعایت نہ کرنا منسوب کردیا گیا کہ فما رعوہا فرمایا، معلوم ہوا کہ یہ نفی رعایت اکثر کے اعتبار سے ہے اور قلیل جو ایمان لائے تھے ان کا بیان آخر آیت میں فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ میں بیان فرمایا۔ یہاں تک عیسائیوں میں سے ایمان لانے والوں اور نہ لانے والوں کی دو قسموں کا ذکر تھا آگے ایمان والوں کا حکم ہے کہ) اے (عیسیٰ (علیہ السلام) پر) ایمان رکھنے والو ! تم اللہ سے ڈرو اور ( اس ڈر کے مقتضیٰ پر عمل کرو یعنی) اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاؤ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی رحمت سے (ثواب کے) دو حصے دے گا ( جیسے سورة قصص میں (آیت) اولئک یوتون اجرہم مرتین الآیتہ ہے) اور تم کو ایسا نور عنایت کرے گا کہ تم اس کو لئے ہوئے چلتے پھرتے ہو گے (یعنی ایسا ایمان دے گا جو ہر وقت ساتھی رہے گا یہاں سے پل صراط تک) اور تم کو بخش دے گا (کیونکہ اسلام سے زمانہ کفر کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں) اور اللہ غفور رحیم ہے (اور یہ دولتیں تم کو اس لئے عنایت کرے گا) تاکہ ( جس وقت ان عطایا کا ظہور ہو یعنی قیامت کے روز اس وقت) اہل کتاب کو (یعنی جو ایمان نہیں لائے ان کو) یہ بات معلوم ہوجاوے کہ ان لوگوں کو اللہ کے فضل کے کسی جزو پر بھی (بغیر ایمان لائے) دسترس نہیں اور یہ (بھی معلوم جاوے) کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہئے دیدے (چنانچہ اس کی مشیت اس کے فضل کے ساتھ مسلمانوں سے متعلق ہوئی تو انہی کو عنایت فرما دیا) اور اللہ بڑے فضل والا ہے (مطلب یہ کہ ان کا غرور اور زعم ٹوٹ جاوے کہ وہ حالت موجودہ میں بھی اپنے کو فضل کا مورد اور مغفرت کا محل سمجھتے ہیں ) معارف و مسائل سابقہ آیات میں اس عالم کی ہدایت اور اس میں قسط یعنی عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے انبیاء و رسول اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کرنے کا عمومی ذکر تھا، مذکور الصدر آیات میں ان میں سے خاص خاص انبیاء و رسل کا ذکر ہے، پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کا کہ وہ آدم ثانی ہیں اور بعد طوفان نوح کے دنیا میں باقی رہنے والی سب مخلوق ان کی نسل سے ہے، دوسرے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کا جو ابوالانبیاء اور قدوة الخلائق ہیں ان دونوں کے ذکر کے ساتھ یہ اعلان فرمایا دیا کہ آئندہ جتنے انبیاء اور آسمانی کتابیں دنیا میں آئیں گی وہ سب انہی دونوں کی ذریت میں ہوں گی، یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی وہ شاخ اس فضیلت کے لئے مخصوص کردی گئی جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں، یہی وجہ ہے کہ بعد میں جتنے انبیاء مبعوث ہوئے اور جتنی کتابیں نازل ہوئیں وہ سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰہِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِہِمَا النُّبُوَّۃَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْہُمْ مُّہْتَدٍ۝ ٠ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ۝ ٢٦ نوح نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس . ( ن و ح ) نوح ۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ کرنا نوح کے اصل معنی عورتوں کے ماتم کدہ میں جمع ہونے کے ہیں اور یہ تناوح سے مشتق ہے جس کے معنی ثقابل کے ہیں جیسے بجلان متنا وحان دو متقابل پہاڑ ۔ ریحان یتنا وحان وہ متقابل ہوائیں ۔ النوائع نوحہ گر عورتیں ۔ المنوح ۔ مجلس گریہ ۔ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة «2» ، وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» «3» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه بالهمز ليَغُضَّ منه . والنَّبْوَة والنَّبَاوَة : الارتفاع، ومنه قيل : نَبَا بفلان مکانُهُ ، کقولهم : قَضَّ عليه مضجعه، ونَبَا السیفُ عن الضَّرِيبة : إذا ارتدَّ عنه ولم يمض فيه، ونَبَا بصرُهُ عن کذا تشبيهاً بذلک . ( ن ب و ) النبی بدون ہمزہ کے متعلق بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ یہ اصل میں مہموز ہے لیکن اس میں ہمزہ متروک ہوچکا ہے اور اس پر وہ مسلیمۃ بنی سوء کے محاورہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر بعض علما نے کہا ہے کہ یہ نبوۃ بمعنی رفعت سے مشتق ہے اور نبی کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر معزز اور بلند اقداد کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ :۔ وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] اور ہم نے ان کو بلند در جات سے نوازا کے مفہوم سے سمجھاتا ہے پس معلوم ہوا کہ نبی بدوں ہمزہ ( مہموز ) سے ابلغ ہے کیونکہ ہر منبا لوگوں میں بلند قدر اور صاحب مرتبہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص نے آنحضرت کو ارہ بغض ا نبی اللہ کہہ کر کر پکارا تو آپ نے فرمایا لست ینبی اللہ ولکن نبی اللہ کہ میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ نبی اللہ ہوں ۔ النبوۃ والنباوۃ کے معنی بلندی کے ہیں اسی سے محاورہ ہے ۔ نبا بفلان مکا نہ کہ اسے یہ جگہ راس نہ آئی جیسا کہ قض علیہ مضجعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی بےچینی سے کروٹیں لینے کے ہیں نبا السیف عن لضربیۃ تلوار کا اچٹ جانا پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر نبا بصر ہ عن کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے کرا ہت کرنے کے ہیں ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو اهْتِدَاءُ يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، وقال : فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] ، فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] ، فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . ويقال المُهْتَدِي لمن يقتدي بعالم نحو : أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] تنبيها أنهم لا يعلمون بأنفسهم ولا يقتدون بعالم، وقوله : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] فإن الِاهْتِدَاءَ هاهنا يتناول وجوه الاهتداء من طلب الهداية، ومن الاقتداء، ومن تحرّيها، وکذا قوله : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] وقوله : وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] فمعناه : ثم أدام طلب الهداية، ولم يفترّ عن تحرّيه، ولم يرجع إلى المعصية . وقوله : الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ [ البقرة/ 157] أي : الذین تحرّوا هدایته وقبلوها وعملوا بها، وقال مخبرا عنهم : وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] . الاھتداء ( ہدایت پانا ) کا لفظ خاص کر اس ہدایت پر بولا جاتا ہے جو دینوی یا اخروی کے متعلق انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور در یاؤ کے اندھیروں میں ان سے رستہ معلوم کرو ۔ إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کرسکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں ۔ لیکن کبھی اھتداء کے معنی طلب ہدایت بھی آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو ۔ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] سو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہ راست پر چلو ۔ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پالیں ۔ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہوجائیں ۔ المھتدی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی عالم کی اقتدا کر رہا ہے ہو چناچہ آیت : ۔ أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ کسی کی پیروی کرتے ہوں ۔ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ نہ وہ خود عالم تھے اور نہ ہی کسی عالم کی اقتداء کرتے تھے ۔ اور آیت : ۔ فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] تو جو کوئی ہدایت حاصل کرے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے ۔ میں اھتداء کا لفظ طلب ہدایت اقتدا اور تحری ہدایت تینوں کو شامل ہے اس طرح آیت : ۔ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] اور شیطان نے ان کے اعمال انہین آراستہ کر کے دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آتے ۔ میں بھی سے تینوں قسم کی ہدایت کی نفی کی گئی ہے اور آیت : ۔ وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] اور جو توبہ کرلے اور ایمان لائے اور عمل نیک کرے پھر سیدھے راستہ پر چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں ۔ میں اھتدی کے معنی لگاتار ہدایت طلب کرنے اور اس میں سستی نہ کرنے اور دوبارہ معصیت کی طرف رجوع نہ کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ«1» [ البقرة/ 157] اور یہی سیدھے راستے ہیں ۔ میں مھتدون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت الہیٰ کو قبول کیا اور اس کے حصول کے لئے کوشش کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا چناچہ انہی لوگوں کے متعلق فرمایا ۔ وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] اے جادو گر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بیشک كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ فسق فَسَقَ فلان : خرج عن حجر الشّرع، وذلک من قولهم : فَسَقَ الرُّطَبُ ، إذا خرج عن قشره «3» ، وهو أعمّ من الکفر . والفِسْقُ يقع بالقلیل من الذّنوب وبالکثير، لکن تعورف فيما کان کثيرا، وأكثر ما يقال الفَاسِقُ لمن التزم حکم الشّرع وأقرّ به، ( ف س ق ) فسق فسق فلان کے معنی کسی شخص کے دائر ہ شریعت سے نکل جانے کے ہیں یہ فسق الرطب کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی گدری کھجور کے اپنے چھلکے سے باہر نکل آنا کے ہیں ( شرعا فسق کا مفہوم کفر سے اعم ہے کیونکہ فسق کا لفظ چھوٹے اور بڑے ہر قسم کے گناہ کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے اگر چہ عرف میں بڑے گناہوں کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے اور عام طور پر فاسق کا لفظ اس شخص کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو احکام شریعت کا التزام اور اقرار کر نیکے بعد تمام یا بعض احکام کی خلاف ورزی کرے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم نے آدم کے آٹھ سو سال بعد نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وہ ان کو ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کرتے رہے مگر ان کی قوم پھر بھی ایمان نہیں لائی، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کو طوفان کے ذریعے ہلاک کردیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اس سورة مبارکہ کا اصل مضمون تدریجاً آگے بڑھتا ہوا آیت ٢٥ پر اپنے نقطہ عروج (climax) پر پہنچ گیا ہے۔ اب آئندہ آیات میں گویا اس مضمون کا ضمیمہ اور تکملہ آ رہا ہے (قبل ازیں کبھی میں بغرض تفہیم اس کے لیے anti climax کی اصطلاح استعمال کرتا رہا ہوں ‘ لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ اصطلاح مناسب نہیں ہے) ۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر مناسب ہوگا کہ متعلقہ آیات کے مطالعے سے پہلے اس مضمون کی روح کو اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے۔ ظاہر ہے زمین پر اللہ کے قانون کی حکمرانی اور معاشرے میں عدل و انصاف کی ترویج شیطان پر بہت بھاری ہے۔ اس لیے اس نے اس ” انقلاب “ کا راستہ روکنے کے لیے یہ چال چلی کہ مخلص اہل ایمان کی توجہ ترک دنیا اور رہبانیت کی طرف مبذول کرا دی ‘ تاکہ اسے انسانوں کے معاشرے میں ننگا ناچ ناچنے کی کھلی چھٹی مل جائے۔ اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کی محبت ‘ دنیا سے بےرغبتی اور آخرت کی طلب کے جذبے کا نتیجہ تو یہ نکلنا چاہیے کہ وہ اللہ کی فوج کے سپاہی بن کر اقامت دین کی جدوجہد کے علمبردار بن جائیں اور نتائج سے بےپرواہوکر ہر زماں ‘ ہر مکاں شیطانی قوتوں کے خلاف برسرپیکار رہیں ‘ لیکن شیطان نے ایسے لوگوں کو رہبانیت کا سبق پڑھادیا کہ اللہ والوں کا دنیا کے جھمیلوں سے کیا واسطہ ؟ انہیں تو چاہیے کہ وہ دنیا اور علائق دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں کی غاروں میں بیٹھ کر اللہ کی عبادت کریں اور اللہ کے ہاں اپنے درجات بلند کریں۔ ظاہر ہے ایسی رہبانیت دین کی اصل روح کے خلاف ہے ۔ غلبہ دین کی جدوجہد کی راہ میں مصیبتیں جھیلنے ‘ اس میدان میں شیطانی قوتوں سے نبردآزما ہونے کے لیے مال و جان کی قربانیاں دینے اور خانقاہوں میں بیٹھ کر عبادت و ریاضت کی سختیاں برداشت کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کی سختیاں برداشت کرنے سے معاشرے سے ظلم وناانصافی کا خاتمہ ہوتا ہے ‘ انسانیت عدل و انصاف کے ثمرات سے بہرہ ور ہوتی ہے اور ماحول میں فلاح و خوشحالی کے پھول کھلتے ہیں ‘ جبکہ رہبانیت کی راہ میں اٹھائی گئی تکالیف سے دنیا اور اہل دنیا کو کسی قسم کا فائدہ پہنچنے کا کوئی امکان نہیں۔ بہرحال شیطان کا یہ وار عیسائیت کے حوالے سے بہت کارگر ثابت ہوا۔ اس کے نتیجے میں عیسائیوں کے ہاں نہ صرف خانقاہی نظام کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی بلکہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ” رہبانیت “ اعلیٰ ترین ذریعہ اور وسیلہ قرار پائی۔ History of Christian Monasticism) پر لکھی گئی یورپین مصنفین کی بڑی بڑی ضخیم کتابیں عیسائی راہبوں اور رہبانیت کے بارے میں عجیب و غریب تفصیلات سے بھری پڑی ہیں۔ ) اس کے بعد اسلام میں جب خلافت کی جگہ ملوکیت نے لے لی اور احیائِ خلافت کی چند کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں تو مسلمانوں کے ہاں بھی رہبانیت کے طور طریقے رائج ہونا شروع ہوگئے۔ اس کی عملی صورت یہ سامنے آئی کہ مخلص اہل ایمان اور اہل علم لوگ بادشاہوں اور سلاطین کے رویے کی وجہ سے امت کے اجتماعی معاملات سے لاتعلق ہو کر گوشہ تنہائی میں جا بیٹھے۔ البتہ ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں نے ان سے اکتسابِ فیض کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اس طرح رفتہ رفتہ اہل اللہ اور اہل علم کی مسندوں نے خانقاہوں کی شکل اختیار کرلی۔ سلاطین وامراء نے اپنے مفاد کے لیے ان خانقاہوں کی سرپرستی کرنی شروع کردی۔ ایسی خانقاہوں کے لیے بڑی بڑی جاگیریں مختص کردی گئیں تاکہ خانقاہ اور اس سے متعلقہ تمام لوگوں کے اخراجات احسن طریقے سے پورے ہوتے رہیں اور یہ لوگ حکومت کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کے بجائے اطمینان کے ساتھ چلہ کشیوں اور اپنی روحانی منازل طے کرنے میں مصروف و مشغول رہیں۔ دوسری طرف ان خانقاہوں سے متعلقہ لوگوں کے ہاں بھی رفتہ رفتہ دین و دنیا کا یہ تصور جڑ پکڑتا گیا کہ حکومت کرنا اور اجتماعی معاملات نپٹانا سلاطین و امراء کا کام ہے ‘ ہمیں ان معاملات سے کیا سروکار ؟ ہمارا کام تو دینی تعلیمات کی اشاعت اور لوگوں کی روحانی اصلاح کرنا ہے ‘ تاکہ وہ اچھے مسلمان اور اللہ کے مقرب بندے بن سکیں۔ یوں دین اسلام کا اصل تصور دھندلاتا گیا اور اس کی جگہ خانقاہی نظام کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی۔ دین کا درست تصور اور انبیاء و رسل کی بعثت کا اصل مقصد تو وہی ہے جو ہم گزشتہ آیت میں پڑھ چکے ہیں : { لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ } ” تاکہ لوگ عدل و انصاف پر قائم ہوجائیں۔ “ چناچہ آئندہ آیات میں ایک تو یہ نکتہ واضح کیا گیا ہے کہ انسانیت نے ” رہبانیت “ کا غلط موڑ کب اور کیسے مڑا ‘ اور ساتھ ہی مسلمانوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اے مسلمانو ! بیشک دنیا سے بےرغبتی اختیار کرنا اور دنیا کے مقابلے میں آخرت بنانے کی فکر اختیار کرنا ہی دین کا اصل جوہر ہے ‘ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم راہب بن کر تمدن کی زندگی کو خیرباد کہہ دو ‘ بن باس لے لو ‘ اور جنگلوں میں جا کر چلے کاٹنا شروع کر دو ‘ پہاڑوں کی چوٹیوں اور غاروں میں جا کر تپسیائیں کرو ‘ یا خانقاہوں میں گوشہ نشین ہو جائو۔ تمہیں تو دنیا کی منجدھار میں رہتے ہوئے دوسروں کو زندگی کی ضمانت فراہم کرنی ہے۔ تمہیں تو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے دنیا میں حق کا بول بالا کرنا ہے ۔ ظلم و ناانصافی کو جڑ سے اکھاڑ کر معاشرے میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرنا ہے ‘ اور اپنے ارد گرد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں مظلوم کو اس کا حق ملے اور ظالم کو سر چھپانے کی جگہ نہ مل سکے۔ اس کے لیے تمہارے سامنے اُسوئہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام کا قائم کردہ معیار بطور نمونہ موجود ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرب کے معاشرے کو حق و انصاف کا جو معیارعطا کیا تھا اس کی جھلک حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی اس تقریر میں بھی دیکھی جاسکتی ہے جو آپ (رض) نے لوگوں سے بیعت خلافت لینے کے فوراً بعد کی تھی۔ آپ (رض) نے بحیثیت امیر المومنین اپنے پہلے خطاب میں عدل و انصاف کے بارے میں اپنی ترجیح واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا : ” لوگو ! تمہارا کمزور شخص میرے نزدیک بہت قوی ہوگا جب تک کہ میں اسے اس کا حق نہ دلوا دوں اور تمہارا قوی شخص میرے نزدیک بہت کمزور ہوگا جب تک کہ میں اس سے کسی کا حق وصول نہ کرلوں “۔ اسی طرح اس ضمن میں حضرت ربعی بن عامر (رض) کے وہ الفاظ بھی بہت اہم ہیں جو آپ (رض) نے ایرانی افواج کے سپہ سالار رستم کو مخاطب کرتے ہوئے کہے تھے ۔ قادسیہ کے محاذ پر اسلامی افواج کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) نے جنگ سے پہلے ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے حضرت ربعی بن عامر (رض) کو بھیجا تھا۔ رستم نے ان سے سوال کیا تھا کہ تم لوگ یہاں کیا لینے آئے ہو ؟ اس پر انہوں نے اپنے مشن کی وضاحت ان الفاظ میں کی تھی : اِنَّ اللّٰہ ابتعثنا لنخرج العباد من عبادۃ العباد الی عبادۃ ربِّ العباد ‘ ومن ضیق الدُّنیا الی سِعَۃ الآخرۃ ومن جور الادیان الی عدل الاسلام ” ہمیں اللہ نے بھیجا ہے تاکہ ہم بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر بندوں کے رب کی غلامی میں لے آئیں ‘ اور انہیں دنیا کی تنگی سے نکال کر آخرت کی کشادگی سے ہم کنار کریں ‘ اور باطل نظاموں سے نجات دلا کر اسلام کے عادلانہ نظام سے روشناس کرائیں۔ “ یہ ہے اس مضمون کا لب لباب جو اس سورت کے آخر میں مرکزی مضمون کے ضمیمے کے طور پر بیان ہوا ہے۔ اب اگلی آیت سے اس مضمون کی تمہید شروع ہو رہی ہے۔ آیت ٢٦{ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰھِیْمَ } ” ہم نے ہی بھیجا تھا نوح (علیہ السلام) کو بھی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی “ { وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِھِمَا النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ } ” اور ہم نے انہی دونوں کی نسل میں رکھ دی نبوت اور کتاب “ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب کے بعد انسانیت کی نسل حضرت نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں حضرت سام ‘ حضرت حام اور حضرت یافث سے چلی تھی۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد جو انبیاء بھی آئے وہ آپ (علیہ السلام) ہی کی نسل سے تھے۔ البتہ قرآن میں صرف سامی رسولوں کا تذکرہ ہے ‘ آپ (علیہ السلام) کے دوسرے دو بیٹوں کی نسلوں میں مبعوث ہونے والے پیغمبروں کا ذکر قرآن میں نہیں آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خود بھی حضرت نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے تھے ‘ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں جو انبیاء و رسل - آئے ان کا ذکر قرآن میں تخصیص کے ساتھ آپ (علیہ السلام) کی نسل یا ذریت کے حوالے سے ہوا ہے۔ آج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو گزرے تقریباً پانچ ہزار برس ہوچکے ہیں۔ اس دوران آپ (علیہ السلام) کی اولاد کہاں کہاں پہنچی اور کس کس علاقے میں آباد ہوئی ‘ یہ اپنی جگہ تحقیق کا ایک مستقل موضوع ہے ‘ لیکن اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی نسل جس جس علاقے میں بھی آباد ہوئی ان تمام علاقوں میں انبیاء آتے رہے۔ { فَمِنْھُمْ مُّھْتَدٍ وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ } ” تو ان ( کی نسل) میں کچھ تو ہدایت یافتہ بھی ہیں ‘ لیکن ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

48 Now it is being told what corruptions appeared among those who believed in the Prophets who came to the world before the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) with the Signs and the Book and the Criterion. 49 that is, whichever Messenger came with Allah's Book, was from the progeny of the Prophet Noah and, after him, from the progeny of the Prophet Abraham. 50 'Became transgressors" became disobedient.

سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :48 اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو رسول بینات اور کتاب اور میزان لے کر آئے تھے ان کے ماننے والوں میں کیا بگاڑ پیدا ہوا ۔ سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :49 یعنی جو رسول بھی اللہ کی کتاب لے کر آئے وہ حضرت نوح کی ، اور ان کے بعد حضرت ابراہیم کی نسل سے تھے ۔ سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :50 یعنی نافرمان ہو گئے ، اللہ کی اطاعت کے دائرے سے نکل گئے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٦۔ ٢٧۔ اوپر رسولوں کا ذکر مبہم طور پر تھا۔ ان آیتوں میں ان کے سلسلہ کا ذکر ہے صاحب شریعت نبیوں کا سلسلہ نوح (علیہ السلام) سے شروع ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد پر وہ سلسلہ ختم ہوتا ہے اس لئے فرمایا کہ نبوت اور کتاب آسمانی کا سلسلہ ان ہی دو رسولوں کے خاندان میں رکھا گیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ جن دو خاندانوں میں نبوت رکھی گئی ہے ان خاندانوں کے لوگوں کا یہ حال ہے کہ کچھ تو ان میں سے راہ راست پر رہے اور اکثر بےراہ اور نافرمان ہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو بنی اسرائیل اور اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کو بنی اسماعیل کہتے ہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے پوتے اور اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے بیٹے ہیں۔ بنی اسماعیل میں فقط نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اور بنی اسرائیل میں حضرت ابراہیم کی اولاد کی ایک شاخ کے اور انبیاء ہوئے ہیں۔ بنی اسرائیل کی نبوت کا سلسلہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ختم ہوتا ہے۔ کیونکہ حضرت مریم کے خاندان کی طرف سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں ہیں۔ اس واسطے خاص طور پر عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام بھی فرمایا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ چلنے والوں سے مراد حضرت عیسیٰ کی پیروی کرنے والے حواری اور حواریوں کے قدم بقدم چلنے والے وہ سچے عیسائی ہیں جو اسی اکاسی برس کے قریب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انجیل کے پورے پابند رہے کیونکہ اس کے بعد پولس یہودی نے فریبی عیسائی بن کر عیسائی دین میں طرح طرح کا اختلاف ڈال دیا۔ چناچہ اس کی تفصیل سورة توبہ میں گزر چکی ہے۔ حواری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وہ بارہ اصحاب ہیں جو پہلے پہل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور دین عیسائی کے پھیلانے میں انہوں نے کوشش کی۔ حواری کے معنی مددگاروں کے ہیں۔ انجیل میں خوش اخلاقی اور بنی آدم کو کسی طرح کی ایذا نہ پہنچانے کی تاکید ہے۔ اس واسطے جب تک عیسائیوں کے چند فرقے نہیں ہوئے تھے تو یہ لوگ بڑی نرم دلی اور خوش اخلاقی کا برتاؤ آپس میں رکھتے تھے۔ جب پولس یہودی کے بہکانے سے ان میں چند مختلف فرقے ہوگئے تو پھر یہ بات جاتی رہی اور ان میں بڑی خونریزی آپس میں ہوئی جس کا ذکر اس وقت کی تاریخ کی کتابوں میں ہے۔ رہبانیت کے معنی عبادت الٰہی میں مصروف ہونے اور ترک دنیا کردینے کے ہیں۔ معتبر سند سے تفسیر ابن ١ ؎ ابی حاتم مستدرک حاکم وغیرہ میں عبد اللہ بن مسعود کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد عیسائی دین میں طرح طرح کی خرابی پڑگئی اور ظالم بادشاہوں نے دین دار عیسائیوں کو طرح طرح سے تنگ کیا تو ان دین دار عیسائیوں نے جنگل کا رہنا اور ترک دنیا کرکے سخت عبادت میں مصروف رہنا اختیار کیا۔ اس عبادت میں بعض طریقے ایسے سخت تھے جن حکم انجیل میں نہیں تھا پھر آخر کو یہ لوگ اپنے قرار داد پر قائم نہیں رہے اور ظالم بادشاہوں سے میل جول رکھنے لگے۔ آیت کے جس ٹکڑے میں عیسائیوں کی رہبانیت کا اور پھر ان کے اس پر قائم نہ رہنے کا ذکر ہے۔ یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔ شریعت محمدی میں اس طرح کی عبادت کی ممانعت ہے جو آدمی پر شاق ہو اور شاق ہونے کے سبب سے آدمی ہمیشہ اس کو نباہ نہ سکے۔ چناچہ صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم وغیرہ میں حضرت عائشہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آدمی کو اپنی طاقت کے موافق ایسی عبادت کرنی چاہئے جس کو وہ ہمیشہ نباہ سکے کیونکہ جو عیادت ہمیشہ کی جائے وہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس عبادت میں ایسی مشقت ہو جس کے سبب سے اس کا ہمیشہ جاری رہنا دشوار ہو۔ ایسی عبادت اللہ کو پسند نہیں ہے۔ اب آگے فرمایا کہ ان لوگوں میں سے اکثر لوگ تو بےراہ ہوگئے لیکن جو لوگ راہ راست پر رہے وہ پورا اجر پائیں گے۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٣١٥ ج ٤۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری باب القصد والمدا ومۃ علی العمل ص ٩٥٧ ج ٢ و صحیح مسلم باب فضیلۃ عمل الدائم الخ ص ٢٢٦ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(57:26) جعلنا : ماضی جمع متکلمحبل (باب فتح) مصدر سے بمعنی ہم نے رکھا ہم نے بنایا۔ ہم نے ٹھیرایا۔ ہم نے کیا۔ ہم نے مقرر کیا امام راغب (رح) تحریر فرماتے ہیں :۔ ھعل ایسا لفظ ہے جو تمام افعال کے لئے عام ہے۔ یہ فعل ، صنع اور اس کی قسم کے عام الفاظ سے اعم ہے۔ ذریتھما۔ مضاف مضاف الیہ۔ ذریۃ اولاد۔ ھما ضمیر تثنیہ مؤنث، مذکر غائب ان دونوں کی اولاد۔ آیت کا ترجمہ ہے :۔ اور ہم نے (حضرت) نوح (حضرت) ابراہیم (علیہما السلام) کو (پیغمبر بناکر) بھیجا۔ اور ان دونوں کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (کے سلسلے) کو (وقتا فوقتا) جاری رکھا۔ (ترجمہ فتح محمد جالندھری) ۔ کتاب مثلاً توریت (حضرت موسیٰ پر) انجیل (حضرت عیسیٰ پر) زبور (حضرت داؤد پر) ۔ فمنھم : پس ان میں سے بعض ، من تبعیضیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب ذریتھما ہے (ان دونوں کی اولاد ہے) یا وہ لوگ جن کی ہدایت کے لئے پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا۔ مھتد۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اھتداء (افتعال) مصدر۔ ھدی مادہ۔ ہدایت پانے والے ۔ ہدایت یافتہ۔ فسقون اسم فاعل واحد مذکر۔ فسق (باب ضرب و نصر) مصدر۔ بدکردار۔ راستی سے نکل جانے والے۔ اللہ کے نافرمان۔ شریعت کی اصطلاح میں : حدود شریعت سے نکل جانے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 چننچہ حضرت ابراہیم کے بعد جتنے پیغمبر آئے سب انہی کی اولاد میں سے تھے5 یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بڑے نرم اور مہران تھے آیت میں تعریف صحبا ہکرام کی فرمائی گی ہے۔ دیکھیے اس الفتح آیت 29)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٢٦ تا ٢٩۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے مخلوق کی ہدایت واصلاح کے لیے نوح (علیہ السلام) کو بھیجا اور ابراہیم (علیہ السلام) جیسے رسول بھیجے جو صاحب شریعت تھے اور مستقل شریعت لے کرمبعوث ہوئے تھے پھر ان کی نسلوں میں مسلسل آنے والے لوگوں ک لیے نبوت کو جاری فرمایا اور کتب الٰہی کے علوم ہمیشہ انسانوں تک پہنچتے رہے خو ش نصیبوں نے ہدایت کی راہ اختیار کی جبکہ ان میں سے اکثر نافرمان ہوگئے مگر سلسلہ نبوت جاری رہا اور نبی یکے بعد دیگرے مبعوث ہوتے رہے تاآنکہ پھر ایک مستقل شریعت عطا فرما کر عیسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور انہیں انجیل عطا فرمائی جسے کچھ لوگوں نے مانا اور کچھ نے انکار کردیا ۔ اخذ برکات دل کا فعل ہے۔ مگر ماننے والوں کے دلوں میں ہم نے نرمی شفقت اور محبت ورحمت پیدا فرمائی کہ کمالات نبوت اور برکات رسالت توقلب اور دل ہی اخذ کرتا ہے پھر انہوں نے رہبانیت کی ابتدا کی جو ان پر فرض نہ کی گئی تھی انہوں نے اپنی پسند سے اختیار کی۔ یعنی ترک لذات اور مباحات۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ عیسائیوں کے تین طبقے ہوئے ہیں۔ رہبانیت : پہلاطبقہ جس نے کفار سے مقابلہ اور قتال کیا اور شہید ہوئے دوسرے وہ جن میں قتال کی قوت نہ تھی مگر باطل کو باطل کہا اور اثبات حق کی کوشش کی اور ایذائیں برداشت کیں شہید ہوئے ۔ تیسرے وہ جو اس قابل بھی نہ تھے مگر کافرانہ ماحول سے سمجھوتہ نہ کیا اور آبادیوں کو چھوڑ کر شادیاں نہ کیں گھر نہ بسائے اور یوں اپنا دین بچانے کی کوشش کی مگر پھر اس کی کماحقہ رعایت نہ کرسکے اور بعد والوں نے ترک دنیا کو حصول دنیا کا ذریعہ بنالیا اور بظاہر غریب اور فقیر آنے والوں نے خزانے جمع کرلیے۔ حالانکہ حق یہ تھا کہ اس کی حدود نبھاتے مگر اس میں ناکام رہے۔ لارھبانیۃ فی الاسلام۔ اسلام اور رہبانیت۔ اگر کوئی شرعا حلال اور مباح چیز کو حرام یاناجائز سمجھتے تو یہ کفر ہے اور دین کی تحریف میں داخل ہے دوسرے یہ کہ کسی مباح کو حرام قرار نہ دے مگر کسی مذہبی یا دنیاوی غرض سے چھوڑ دے جیسے بیماری میں پرہیز یا جھوٹ وغیرہ سے بچنے کے لیے کم آمیزی یامجاہدہ کے طور پر کم کھانایاکم سونا تو یہ ایک مقصد کے حصول کا حیلہ ہے جب نصیب ہوجائے تو چھوڑ دے یہ تقوی یاحصول تقوی کی کوشش ہے اور تیسرے یہ کہ کسی مباح کو حرام تو نہیں جانتا مگر کسی شے کا استعمال جیسے سنت سے ثابت ہے ویسے بھی نہ کرے اور اس کو نیکی خیال کرے تو یہ غلو ہے جس سے احادیث مبارکہ میں منع فرمایا گیا ہے۔ سو ان میں سے جو ایمان پر ثابت قدم رہے ہم نے انہیں بہترین اجر سے نوازا مگر ان کی اکثریت بدکار ہی نکلی اے ایمان والو اللہ سے حیا کرو اور اللہ اور رسول اللہ پر واقعی ایمان لے آؤ۔ آپ پر ایمان لاناضروری ہے۔ کہ اہل کتاب اگرچہ پہلے سے ایمان والے ہیں مگر آپ کی بعثت کے بعد آپ پر ایمان ضرور لاؤ ورنہ پہلابھی مقبول نہ رہے گا اور کافر شمار ہوگے لیکن اگر آپ پر ایمان لے آؤ تو پہلے والی نیکیاں بھی کام آئیں گی اور ان پر بھی اجر پاکر دوہرا ثواب پانے والے بن جاؤ گے ۔ کافر کی نیکی۔ یہاں سے علماء نے اثبات فرمایا ہے کہ اگر کوئی کافر بھی ایمان قبول کرے تو پہلے دور میں کیے گئے اچھے اعمال پر ثواب پاتا ہے اور وہ تمہیں ایسا نور مرحمت فرمادے گا جو دار دنیا میں دل کو روشن کریگا اور نیک اعمال کی توفیق ہوگی۔ قبر اور برزخ کا چراغ اور پل صراط پر کام آئے گا کہ ہمیشہ اس کی روشنی میں چلو گے اور تمہاری خطائیں معاف فرمادے گا کہ کافر کو قبول اسلام اور مومن کو توبہ گناہ سے پاک کردیتی ہے یہ سب اس لیے بیا ن ہوا کہ اہل کتاب یہ تصور نہ کرلیں کہ بنی اسرائی سے نبوت رخصت ہوئی اور اب وہ کوئی بھلائی حاصل نہیں کرسکتے۔ اور یہ کہ کمالات تو اللہ کے دست قدر ت میں ہیں جسے چاہے نواز دے اور جس کو جو چا ہے عطا کرے کہ وہ بہت بڑے فضل کا مالک ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ر بط کلام : اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول مبعوث فرمائے ان کی بعثت کا مقصد لوگوں کے القسط قائم کرنا تھا۔ القسط سے پہلی مراد ” اللہ “ کی توحید کا اقرار اور اس کے تقاضے پورے کرنا، رسولوں میں نمایاں ترین رسول حضرت نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) آدم ثانی ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ابوالانبیاء کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جو رسول مبعوث کیے گئے ان میں ہمہ جہت صفات کے اعتبار سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور تبلیغ کے دورانیہ کے حوالے سے حضرت نوح (علیہ السلام) سب سے ممتاز ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے لیے مبعوث کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) انھیں ساڑھے نو سو سال سمجھاتے رہے، قوم نے سمجھنے کی بجائے نوح (علیہ السلام) کو بار بار یہ کہا کہ ہم تیرے کہنے پر ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ (نوح : ٢٤) یاد رہے یہ اس قوم کے سب سے بڑے بت تھے۔ یہ قوم کے فوت شدہ بزرگوں کے تخیلاتی مجسمے تھے جو انہوں نے اپنے فوت شدہ بزرگوں کی یاد میں بنائے ہوئے تھے۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کو یہ بھی دھمکی دی کہ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے پتھر مار مار کر مار ڈالیں گے۔ (الشعراء : ١١٦) اس کے ساتھ ہی یہ کہنے لگے کہ اے نوح ! تیرے اور ہمارے درمیان جھگڑا طول پکڑ گیا ہے اس لیے جس عذاب کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے اسے لے آؤ اگر تو وا قعی ہی سچا ہے۔ (ہود : ٣٢) تب جا کر اللہ تعالیٰ نے ظالموں پر گرفت فرمائی اور انھیں ڈبکیاں دے دے کر غرق کیا۔ البتہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو ایک کشتی کے ذریعے بچا لیا اور ڈوبنے والوں کو آنے ولوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سب سے نمایاں ہیں خاندان نبوت میں انہیں ابوالانبیاء کا اعزاز اور مقام حاصل ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جتنے بھی انبیاء مبعوث کیے گئے ان کی غالب اکثریت ابراہیم کی نسل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے دو بیٹے تھے جن میں اسماعیل بڑے اور اسحاق ( علیہ السلام) چھوٹے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے صرف اور صرف نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا۔ بنی اسرائیل کے باقی انبیائے کرام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے ابراہیم ابوالانبیاء کے شرف سے مشرف ہوئے۔ ان کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کا سلسلہ جاری فرمایا جن میں کچھ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو آسمانی کتب سے سرفراز کیا گیا، باقی اپنے سے پہلے نبی کی تائید کرتے رہے ان انبیاء کی اولاد یعنی نسل میں کچھ لوگ ہدایت یافتہ تھے لیکن ان کی اکثریت نافرمانوں پر مشتمل تھی۔ نبی سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے جو بنی اسرائیل کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔ ان کے عظیم معجزات دیکھنے کے باوجود بنی اسرائیل کی غالب اکثریت نافرمان رہی اور آج بھی ان کی غالب اکثریت اپنے رب کی نافرمان اور نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور رسالت کے منکر ہیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت عطا فرمائی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کچھ شخصیات کو نبوت اور کتاب سے سرفراز فرمایا۔ ٣۔ حضرت نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور نافرمان بھی۔ تفسیر بالقرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں چند شخصیات کے اسماء گرام جن کو نبوت اور کتاب عطا کی گئی : ١۔ ہم نے ابراہیم کو اسحاق و یعقوب عطا کیے اور ہم نے ان کو نبوت عطا کی۔ (العنکبوت : ٢٧) ٢۔ حضرت اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) اللہ کے منتخب کردہ نبی ہیں۔ (ص : ٤٥ تا ٤٧) ٣۔ ہم نے اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) کو ہدایت سے نوازا۔ ( الانعام : ٨٤) ٤۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آیات دے کر بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : ٥) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل، یسع، یونس اور لوط ( علیہ السلام) کو جہاں والوں پر فضیلت دی۔ (الانعام : ٨٦) ٦۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بعد ان کے بیٹے حضرت یوسف کو نبی بنایا گیا۔ ( یوسف : ٢٢) ٧۔ حضرت داؤد کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نبی بنایا۔ ( النمل : ١٦) ٨۔ فرشتوں نے زکریا (علیہ السلام) سے کہا اللہ تجھے یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو نیکو کار اور پیغمبروں میں سے ہوں گے۔ (آل عمران : ٣٩) ٩۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ ( الفتح : ٢٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولقد .................... والکتب (٧٥ : ٦٢) ” ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی “ رسولوں کا ایک ہی شجرہ نسب ہے جس کی شاخیں ایک ہی جڑ کے ساتھ پیوستہ ہیں۔ انسانیت کے آغاز ہی سے یہ شجرہ چلا ہے۔ نوح (علیہ السلام) سے ، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ، اور ان کے بعد پھر انسانوں کو پھیلنے کے ساتھ رسالتیں بھی پھیل گئیں۔ لیکن جن نسلوں میں یہ نبوت اور کتاب چلتی رہی وہ نسلیں ایک جیسی نہ تھیں۔ فمنھم .................... فسقون (٦٤ : ٦٢) ” پھر ان کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہوگئے۔ “ یہ نہایت ہی مختصر تبصرہ طویل انسانی تاریخ پر۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا ان کی ذریت میں نبوت جاری رکھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل دی اور ان کے متبعین میں شفقت اور رحمت رکھ دی ان آیات میں حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی رسالت کا تذکرہ فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ ہم نے ان دونوں کی ذریت میں نبوت جاری رکھی۔ ان کی ذریت میں ہدایت قبول کرنے والے بھی تھے اور بہت سے فاسق یعنی نافرمان تھے، پھر فرمایا کہ ہم نے ان کے بعد یکے بعد دیگرے رسول بھیجے اور ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا جن کو انجیل بھی عطا فرمائی، بہت سے لوگوں نے ان کا بھی اتباع کیا ان کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول کیا ان کے دین پر چلتے رہے ان کو حواریین کہا جاتا تھا (جیسا کہ سورة آل عمران اور سورة الصف میں ان کا تذکرہ فرمایا) ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے رحمت اور شفقت رکھ دی تھی آپس میں محبت تھی اور دوسروں پر بھی رحم کھاتے تھے، مشہور ہے کہ ان کی شریعت میں جہاد مشروع نہ تھا اس لیے ﴿اَشِدَّآئُ عَلَی الْكفَّار﴾ والی صفت ان میں نہیں تھی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

28:۔ ” ولقد ارسلنا نوح “ یہ گذشتہ آیت میں اجمال کی تفصیل ہے ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) کو رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کی اولاد میں بھی رسالت و نبوت اور وحی کا سلسلہ جاری کردیا اور ان کی اولاد میں ہزاروں پیغمبر مبعوث کیے لیکن اس کے باوجود ان کی ساری اولاد ہدایت پر قائم نہ رہی۔ ان میں سے کچھ تو انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات کے مطابق ہدایت اور توحید پر قائم رہے مگر اکثر صراط مستقیم سے بھٹک کر کفر و شرک اور گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ ای خارجون عن الصراط المستقیم (روح) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(26) اور بلا شبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت کا اور کتاب کا سلسلہ جاری رکھا سو ان کی امت میں سے بعض ہدایت یافتہ ہوئے اور اکثر ان میں سے نافرمان رہے۔ پیغمبروں کے سلسلے میں خاص طور پر حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہما السلا م کا ذکر فرمایا کیونکہ تمام پیغمبرانہی کی اولاد میں سے ہوئے ہیں بعض ان میں سے دو تھے جو مستقل کتاب اور مستقل شریعت رکھتے تھے بعض پر وحی نازل ہوتی تھی لیکن مستقل کتاب ان کو نہیں ملی تھی۔ بعض حضرات نے کتاب کا ترجمہ وحی کیا ہے اور بعض نے کتاب سے کتابت مراد لی ہے بہرحال ان دونوں کی اولاد میں نبوت، کتاب یا وحی یاکتابت کا سلسلہ جاری رکھا پھر ان انبیاء کی امتوں میں سے کچھ راہ یافتہ ہوئے اور اسلام پابند رہے اور کچھ بےحکم رہے جو ایمان نہیں لائے۔