Surat ul Hadeed

Surah: 57

Verse: 27

سورة الحديد

ثُمَّ قَفَّیۡنَا عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیۡنَا بِعِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ وَ اٰتَیۡنٰہُ الۡاِنۡجِیۡلَ ۬ ۙ وَ جَعَلۡنَا فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ رَاۡفَۃً وَّ رَحۡمَۃً ؕ وَ رَہۡبَانِیَّۃَۨ ابۡتَدَعُوۡہَا مَا کَتَبۡنٰہَا عَلَیۡہِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوۡہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ۚ فَاٰتَیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡہُمۡ اَجۡرَہُمۡ ۚ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۷﴾

Then We sent following their footsteps Our messengers and followed [them] with Jesus, the son of Mary, and gave him the Gospel. And We placed in the hearts of those who followed him compassion and mercy and monasticism, which they innovated; We did not prescribe it for them except [that they did so] seeking the approval of Allah . But they did not observe it with due observance. So We gave the ones who believed among them their reward, but many of them are defiantly disobedient.

ان کے بعد پھر بھی ہم اپنے رسولوں کو پے درپے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام ) کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا فرمائی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت اور رحم پیدا کر دیا ہاں رہبانیت ( ترک دنیا ) تو ان لوگوں نے از خود ایجاد کر لی تھی ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا سوائے اللہ کی رضا جوئی کے ۔ سوا انہوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی پھر بھی ہم نے ان میں سے جو ایمان لائے تھےانہیں ان کا اجر دیا اور ان میں زیادہ تر لو گ نافرمان ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى اثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاتَيْنَاهُ الاِْنجِيلَ ... Then, We sent after them Our Messengers, and We sent 'Isa the son of Maryam, and gave him the Injil. referring to the Injil that Allah revealed to him, ... وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ ... And We ordained in the hearts of those who followed him, i.e., the disciples, ... رَأْفَةً ... compassion (and tenderness), ... وَرَحْمَةً ... and mercy. (toward the creatures). Allah's statement, ... وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا ... But the monasticism which they invented for themselves, refers to the monasticism that the Christian nation invented, ... مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ ... We did not prescribe for them, `We -- Allah -- did not ordain it for them, but they chose it on their own.' There are two opinions about the meaning of, ... إِلاَّ ابْتِغَاء رِضْوَانِ اللَّهِ ... only to please Allah therewith, - The first is that they wanted to please Allah by inventing monasticism. Sa`id bin Jubayr and Qatadah said this. - The second meaning is: "We did not ordain them to practice that but, rather, We ordained them only to seek what pleases Allah." Allah's statement, ... فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ... but that they did not observe it with the right observance. meaning, they did not abide by what they ordered themselves to do. This Ayah criticizes them in two ways: - first, they invented in things in their religion, things which Allah did not legislate for them. - The second is that they did not fulfill the requirements of what they themselves invented and which they claimed was a means of drawing near to Allah, the Exalted and Most Honored. An-Nasa'i -- and this is his wording - recorded that Ibn Abbas said, "There were kings after `Isa who changed the Tawrah and the Injil when there were still believers who recited Tawrah and the Injil. Their kings were told, `We were never confronted by more severe criticism and abuse than of these people.' -- they recite the Ayah, وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَأ أَنزَلَ اللَّهُ فَأُوْلَـيِكَ هُمُ الْكَـفِرُونَ And whosoever does not judge by what Allah has revealed, such are the disbelievers. (5:44), as well as, they accuse us of short comings in our actions, while still they recite. Therefore, summon them and let them recite these Ayat our way and believe in them our way.' The king summoned them and gathered them and threatened them with death if they did not revert from reciting the original Tawrah and Injil to using the corrupted version only. They said, `Why do you want us to do that, let us be.' Some of them said, `Build a narrow elevated tower for us and let us ascend it, and then give us the means to elevate food and drink to us. This way, you will save yourselves from hearing us.' Another group among them said, `Let us go about in the land and eat and drink like beasts do, and if you find us in your own land, then kill us.' Another group among them said, `Build homes (monasteries) for us in the deserts and secluded areas, where we can dig wells and plant vegetables. Then, we will not refute you and will not even pass by you.' These groups said this, even though they all had supporters among their tribes. It is about this that Allah the Exalted and Most Honored sent down this Ayah, ... وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلاَّ ابْتِغَاء رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ... (But the monasticism which they invented for themselves, We did not prescribe for them, but (they sought it) only to please Allah therewith, but that they did not observe it with the right observance.) "' Then Allah says, ... فَأتَيْنَا الَّذِينَ امَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ So, We gave those among them who believed, their (due) reward; but many of them are rebellious. Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said that the Prophet said, لِكُلِّ نَبِيَ رَهْبَانِيَّةٌ وَرَهْبَانِيَّةُ هذِهِ الاُْمَّةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَل Every Prophet has Rahbaniyyah (monasticism); Jihad in the cause of Allah, the Exalted and Most Honored, is the Rahbaniyyah of this Ummah. Al-Hafiz Abu Ya`la collected this Hadith and in this narration, the Prophet said, لِكُلِّ أُمَّةٍ رَهْبَانِيَّةٌ وَرَهْبَانِيَّةُ هذِهِ الاُْمَّةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ الله Every Ummah has Rahbaniyyah; Jihad in the cause of Allah is the Rahbaniyyah of this Ummah. Imam Ahmad recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that a man came to him and asked him for advice, and Abu Sa`id said that he asked the same of Allah's Messenger. Abu Sa`id said, "So, I advise you to - adhere by the Taqwa of Allah, because it is the chief of all matters. - Fulfill the obligation of Jihad, because it is the Rahbaniyyah of Islam. - Take care of remembering Allah and reciting the Qur'an, because it is your closeness (or status) in the heavens and your good fame on earth." Only Imam Ahmad collected this Hadith.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

271رَأْفَةً ، کے معنی نرمی اور رحمت کے معنی شفقت کے ہیں۔ پیروکاروں سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری ہیں، یعنی ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے پیار اور محبت کے جذبات پیدا کر دئیے۔ جیسے صحابہ کرام (رض) اجمعین ایک دوسرے کے لیے رحیم و شفیق تھے۔ رحماء بینہم۔ یہود، آپس میں اس طرح ایک دوسرے کی ہمدر اور غم خوار نہیں، جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکار تھے۔ 272رَهْبَانِيَّةً رھب (خوف) سے ہے یا رھبان (درویش) کی طرف منسوب ہے اس صورت میں رے پر پیش رہے گا، یا اسے رہبنہ کی طرف منسوب مانا جائے تو اس صورت میں رے پر زبر ہوگا۔ رہبانیت کا مفہوم ترک دنیا ہے یعنی دنیا اور علائق دنیا سے منقطع ہو کر کسی جنگل، صحرا میں جاکر اللہ کی عبادت کرنا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ایسے بادشاہ ہوئے جنہوں نے تورات اور انجیل میں تبدیلی کردی، جسے ایک جماعت نے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے بادشاہوں کے ڈر سے پہاڑوں اور غاروں میں پناہ حاصل کرلی۔ یہ اس کا آغاز تھا، جسکی بنیاد اضطرار پر تھی۔ لیکن انکے بعد آنے والے بہت سے لوگوں نے اپنے بزرگوں کی اندھی تقلید میں اس شہر بدری کو عبادت کا ایک طریقہ بنا لیا اور اپنے آپ کو گرجاؤں اور معبودوں میں محبوس کرلیا اور اسکے لیے علائق دنیا سے انقطاع کو ضروری قرار دے لیا۔ اسی کو اللہ نے ابتداع (خود گھڑنے) سے تعبیر فرمایا ہے۔ 3 یہ پچھلی بات کی تاکید ہے کہ یہ رہبانیت ان کی اپنی ایجاد تھی، اللہ نے اس کا حکم نہیں دیا تھا۔ 274یعنی ہم نے تو ان پر صرف اپنی رضا جوئی فرض کی تھی۔ دوسرا ترجمہ اس کا ہے کہ انہوں نے یہ کام اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لئے کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمادی کہ اللہ کی رضا، دین میں اپنی طرف سے بدعات ایجاد کرنے سے حاصل نہیں ہوسکتی، چاہے وہ کتنی ہی خوش نما ہو۔ اللہ کی رضا تو اس کی اطاعت سے ہی حاصل ہوگی۔ 5 یعنی گو انہوں نے مقصد اللہ کی رضا جوئی بتلایا، لیکن اس کی انہوں نے پوری رعایت نہیں کی، ورنہ وہ ابتداع (بدعت ایجاد کرنے) کے بجائے اتباع کا راستہ اختیار کرتے۔ 6 یہ وہ لوگ ہیں جو دین عیسیٰ پر قائم رہے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٥] رأفۃ کا لغوی مفہوم :۔ رأفۃ کا معنی ہے کسی کو تکلیف میں دیکھ کر دل پسیج جانا، دل بھر آنا۔ رقیق القلب ہونا، رقت طاری ہوجانا اور رحمت کے معنی اس تکلیف کو دور کرنے میں مدد کرنا۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) چونکہ خود رقیق القلب اور نرم دل تھے۔ ساری عمر نرم برتاؤ اور ایک دوسرے سے پیار و محبت سے رہنے کا سبق دیتے رہے لہذا آپ کی امت یعنی نصاریٰ میں بھی دو صفات سرایت کرگئی تھیں۔ [٤٦] رھبانیت کا مفہوم :۔ رَھْبَانِیّۃَ ۔ راھب ایسے خوف کو کہتے ہیں جس میں اضطراب اور احتیاط بھی شامل ہو۔ (ضد رغب) اور یہ خوف وقتی اور عارضی قسم کا نہ ہو بلکہ طویل اور مسلسل ہو۔ اور رہبانیت یا رہبانیت بمعنی مسلک خوف زدگی۔ یعنی کسی طویل اور مسلسل بےچینی رکھنے والے خوف کی وجہ سے لذات دنیا کو چھوڑ کر گوشہ نشینی اختیار کرلینا۔ آبادی سے باہر کسی جنگل وغیرہ میں کٹیا یا جھونپڑی ڈال کر عبادت الہٰی یا گیان دھیان میں مصروف ہوجانا۔ اور راہب بمعنی گوشہ نشین، درویش، بھکشو، جمع رہبان۔ اب سوال یہ ہے کہ ان نصاریٰ نے کس بات کے خوف سے ڈر کر یہ مسلک اختیار کیا تھا ؟ بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ بےدین بادشاہوں سے ڈر کر ان لوگوں نے اپنے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ راہ نکالی تھی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جب عقیدہ تثلیث سرکاری مذہب بن گیا اور اس عقیدہ کو تسلیم نہ کرنے والوں پر سختیاں ہونے لگیں تو یہ لوگ چونکہ موحد تھے اس لیے انہوں نے یہ راستہ اختیار کرلیا تاکہ لوگوں کے مظالم سے بچ سکیں۔ ممکن ہے یہ باتیں بھی کسی حد تک درست ہوں تاہم اس رہبانیت کے کچھ دوسرے اسباب بھی ہیں۔ اس لیے اگر مفسرین کے ان اقوال کو درست تسلیم کرلیا جائے تو رہبانیت کا وجود صرف نصاریٰ تک ہی محدود رہنا چاہئے تھا۔ حالانکہ یہ مسلک نصاریٰ کے علاوہ یہود، مسلمان، ہندؤوں اور سکھوں وغیرہ سب میں پایا جاتا ہے اور اسے ایک آفاقی مذہب سمجھا جاتا ہے اور مسلمانوں میں یہ مذہب دین طریقت کے نام سے موسوم ہے۔ [٤٧] رھبانیت ایک بدعت ہے :۔ اس جملہ سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ نصاریٰ نے یہ ایک بدعت ایجاد کرلی تھی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا مسلک اختیار کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ اور دوسری یہ کہ چونکہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی بنیادی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ لہذا رہبانیت کی کسی دین میں بھی گنجائش نہیں۔ اور یہ بدعت ہی شمار ہوگی۔ ضمناً اس سے بدعت کی تعریف بھی معلوم ہوگئی۔ یعنی بدعت ہر وہ کام ہے جسے دینی اور ثواب کا کام سمجھ کر دین میں شامل کرلیا جائے جبکہ شریعت میں اس کی کوئی اصل موجود نہ ہو۔ [٤٨] بدعت ہمیشہ نیکی کا کام سمجھ کی شروع کی جاتی ہے :۔ اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ ہم نے ان پر ایسے کام فرض کیے تھے جن سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہو اور یہ کام ایسا نہ تھا جو انہوں نے شروع کردیا اور دوسرا یہ کہ انہوں نے یہ مسلک بھی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ہی ایجاد کرلیا تھا۔ واضح رہے کہ جتنے بھی بدعی کام شروع کیے جاتے رہے ہیں وہ ہمیشہ نیک آرزوؤں اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کی خاطر ہی شروع کئے جاتے رہے ہیں اور یہی شیطان کا فریب ہوتا ہے جسے اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ [٤٩] دین طریقت اور چہار ترک :۔ جس مسلک کے اختیار کرنے والوں نے اپنے لیے جو ضابطے مقرر کیے تھے اور جو پابندیاں اپنے آپ پر لگائی تھیں انہیں وہ خود بھی نبھا نہ سکے۔ کیونکہ وہ پابندیاں انسان کی فطرت کے خلاف تھیں۔ ان پابندیوں کو وہ مختصر الفاظ میں چہار ترک (چارقسم کی چیزوں کو چھوڑ دینا) کا نام دیتے ہیں۔ (١) ترک دنیا یعنی دنیا کی تمام تر لذات کو چھوڑ دینا، (٢) ترک عقبیٰ یعنی آخرت کی جزاء و سزا سے بےنیاز ہوجانا، (٣) ترک اکل و نوم۔ یعنی کھانا، پینا چھوڑ دینا یا کم سے کم سے کھانا اسی طرح نیند یا آرام کرنا بھی چھوڑ دینا، اور (٤) ترک خواہش نفس۔ یعنی جو کچھ انسان کا جی چاہے اس کے برعکس کام کرنا۔ مختلف طریقوں سے جسم کی تعذیب :۔ ان لوگوں کا نظریہ تھا کہ روحانیت کے راستے میں حائل سنگ گراں ہمارا مادی جسم ہے۔ لہذا اس جسم کو مضمحل اور کمزور بنانے کے لیے طرح طرح کے عذاب دیئے جانے لگے۔ کم سے کم کھانا پینا جس سے صرف روح اور جسم کا تعلق باقی رہ سکے۔ کم سے کم سونا۔ دنیوی لذات جن سے فائدہ اٹھانے کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حق دیا تھا، اس سے کنارہ کشی کرنا، شدید سردی میں ننگے بدن باہر رات گزارنا، کہیں شدید گرمی میں کسی ایک ہی جگہ کھڑے رہنا، چپ کا روزہ رکھنا، کیچڑ میں پڑے رہنا اور اس طرح کی کئی دوسری صورتیں انہوں نے ایجاد کرلی تھی۔ گویا اپنی جان سے دشمنی ان کا پہلا اصول تھا۔ لہذا جسم کی تعذیب اور ان کے تقاضوں کی تکذیب کے ذریعہ وہ اپنے جسم کو تحلیل کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اقرباء سے پرہیز :۔ ان کا دوسرا اقدام دنیا والوں سے قطع تعلق تھا۔ ان کے خیال کے مطابق ان کے رشتہ دار اور دوسرے معاشرتی تعلقات رکھنے والے دوست احباب بھی اس راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ تھے۔ دنیوی علائق میں سے ان کو سب سے زیادہ دشمنی عورت سے تھی۔ تاریخ میں ہمیں ایسے دلدوز واقعات بھی ملتے ہیں کہ کوئی مامتا ماری ماں اپنے ایسے ہی بیٹوں کو جنگل میں دیکھنے گئی لیکن ان راہبوں نے اپنی ماں سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔ وہ انہیں صرف ایک نظر دیکھنے اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے ترستی اور التجائیں کرتی رہی لیکن ان سنگ دل راہبوں نے اس کی التجا کو ذرہ بھر وقعت نہ دی اور اسے ناکام واپس آنا پڑا۔ واقعہ جریج :۔ ایسے ہی ایک راہب ابن جریج کا واقعہ بخاری اور مسلم میں مذکور ہے۔ ابن جریج نے جنگل میں کٹیا بنا رکھی تھی۔ مامتا ماری ماں اسے ملنے آئی اور اسے پکارا۔ وہ عبادت میں مصروف تھا۔ ماں کی آواز سن کر اور اسے پہچان کر بھی وہ اپنی عبادت میں مصروف رہا اور ماں کی پکار کو کوئی اہمیت نہ دی۔ دوسرے دن پھر اس کی ماں آئی۔ پھر اس نے کوئی توجہ نہ دی۔ تیسرے دن پھر ایسا ہی واقعہ ہوا تو ماں کو اس بات کا اتنا صدمہ ہوا کہ اس کے منہ سے اپنے اس درویش بیٹے کے حق میں بےاختیار یہ بددعا نکل گئی کہ الٰہی جب تک میرا یہ بیٹا کسی فاحشہ عورت کا منہ نہ دیکھ لے اسے موت نہ آئے۔ دکھیاری ماں کے منہ سے نکلی ہوئی بددعا بھلا رائیگاں کب جاسکتی تھی ؟ ابن جریج اپنی عبادت اور خدا ترسی میں اتنا مشہور تھا کہ بنی اسرائیل کے اکثر لوگ اس سے حسد کرنے لگے تھے اور چاہتے تھے کہ ابن جریج پر کوئی ایسا الزام لگے جس سے اس کا یہ بلند مقام چھن جائے۔ اور اسی مقصد سے خفیہ مشورے بھی ہونے لگے۔ ایک بدنام زمانہ فاحشہ عورت نے، جو حسن و جمال میں اپنی نظیر نہیں رکھتی تھی، اس خدمت کو سرانجام دینے کا ذمہ لیا اور اسی غرض سے اپنے آپ کو ابن جریج پر پیش کردیا۔ جسے ابن جریج نے رد کردیا۔ اس پر یہ اپنے حسن و جمال پر ناز کرنے والی عورت سیخ پا ہوگئی اور اس بےاعتنائی اور ہتک کا انتقام لینے پر اتر آئی۔ اس نے اپنے آپ کو ایک چرواہے پر پیش کیا جس سے اسے حمل ہوگیا۔ جب بچہ پیدا ہوا تو اس نے یہ مشہور کردیا کہ یہ حمل ابن جریج راہب سے ہوا تھا۔ بس پھر کیا تھا۔ لوگ دوڑے آئے اور بلا تامل ابن جریج کو مارنا پیٹنا شروع کردیا اور اس کی کٹیا کو منہدم کردیا ابن جریج نے وجہ پوچھی تو لوگوں نے سارا ماجرا بتادیا ابن جریج کہنے لگے۔ تھوڑی دیر ٹھہرو۔ لوگ رک گئے تو اس نے وضو کیا اور عبادت میں مشغول ہوا اور اللہ سے بصد گریہ وزاری اپنی بریت کی دعا کی۔ ماں کی بددعا تو قبول ہو ہی چکی تھی۔ اب اللہ نے اس پر رحم فرما کر اس کی بھی دعا قبول فرما لی۔ پھر جب وہ لوگوں کے پاس آیا تو وہ فاحشہ عورت بمعہ بچہ وہاں کھڑی تماشا دیکھ رہی تھی۔ ابن جریج نے اس بچہ کے پیٹ میں کچو کا دے کر پوچھا کہ بتا تیرا باپ کون ہے ؟ بچہ قدرت الٰہی سے بول اٹھا :&& فلاں چرواہا && تب جاکر لوگوں نے ابن جریج کا پیچھا چھوڑا۔ ان میں سے بعض اس سے معافی مانگنے لگے اور کہنے لگے : اگر کہو تو تمہیں سونے کی کٹیابنا دیں۔ لیکن ابن جریج نے کہا : بس مجھے ویسی ہی مٹی کی کٹیا بنادو (مسلم۔ کتاب البروالصلۃ، باب تقدیم برالوالدین) ماں کی گود میں کلام کرنے والے بچے :۔ اس طویل حدیث میں ان تین بچوں کا ذکر ہے جنہوں نے ماں کی گود میں کلام کیا۔ ایک سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، دوسرے یہی ابن جریج سے منسوب بچہ اور اسی طرح ایک تیسرے بچے کا ذکر ہے۔ امام مسلم نے اس حدیث کو && والدین سے حسن سلوک && کے باب میں ذکر کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ شرعی احکام کے مقابلہ میں ایسی رہبانیت گناہ کبیرہ ہے حدیث میں اس مذکورہ واقعہ سے اس دور کے طریق رہبانیت پر پوری روشنی پڑتی ہے۔ نکاح سے پرہیز :۔ بیوی کا معاملہ اس سے بھی زیادہ نازک تھا کیونکہ نکاح اور اولاد سے انسان پر بہت سی معاشی اور معاشرتی ذمہ داریاں آپڑتی ہیں۔ لہذا یہ لوگ متاہل زندگی سے سخت نفرت کرتے تھے۔ گو اللہ نے انہیں ایسی رہبانیت کا حکم نہیں دیا تھا، تاہم انہیں اس کے جواز کے کچھ اشارے ضرور مل گئے۔ مثلاً سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی ٣٣ سالہ زندگی تبلیغ کے سلسلہ میں گھوم پھر کر ہی گزار دی اور نکاح نہیں کیا۔ خ عورتوں کا کنوارا رہنا اور بدکاری کو فروغ :۔ پھر عیسائیوں میں نکاح ثانی کی بھی گنجائش نہ تھی۔ پھر جس طرح ان راہبوں نے یہ مسلک اختیار کیا تھا کئی عورتوں نے بھی یہ سلسلہ اختیار کرلیا تھا اور ان کی الگ خانقاہیں قائم ہوگئیں اور انہوں نے ساری عمر کنواری رہنے کا عہد کر رکھا تھا مگر چونکہ یہ سب کام شریعت الٰہی کے خلاف اور فطرت کے خلاف تھے لہذا جلد ہی ایسی خانقاہیں بدکاری کے اڈوں میں تبدیل ہوگئیں۔ کئی حرامی بچے پیدا ہوتے ہی مار دیئے جاتے اور جو بچ جاتے انہیں کسی گرجا کی نذر کردیا جاتا تھا رہبانیت کی خرابی کا یہ صرف ایک پہلو ہے اور جو خرابیاں اس مسلک سے عام معاشرہ میں پیدا ہوئیں وہ یہ ہیں۔ ١۔ معاشرہ میں جو خدا ترس لوگ تھے وہ اپنی اس غلط روش کی بنا پر معاشرتی ذمہ داریوں اور دوسرے انسانی تعلقات سے ایک طرف ہوگئے جس سے اخلاق و تمدن، سیاست اور اجتماعیت کی جڑیں تک ہل گئیں۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت عیار اور ناخدا ترس لوگوں نے سنبھال لی۔ دنیا میں && فساد فی الارض && کا دور دورہ ہوگیا اور اللہ کے بھیجے ہوئے پیغام ہدایت اور ضابطہ حیات کی انہی بزرگان دین کے ہاتھوں بیخ کنی ہوئی۔ رہبانیت کے معاشرہ پر ناخوشگوار اثرات :۔ ٢۔ راہبوں کی اس روش کا دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ عام لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ دین اور دنیا دو الگ چیزیں ہیں۔ دین یا مذہب تو محض پوجا پاٹ اور گیان دھیان کا نام ہے اور مذہب کا تعلق بس اسی حد تک ہے۔ رہا دنیا کا کاروبار تو اس میں ہر شخص آزاد ہے۔ معاشرتی تعلقات یا ضابطہ اخلاق کی اگر کچھ اہمیت ہوتی تو یہ خدا رسیدہ لوگ اس سے کیوں منہ موڑ لیتے۔ پھر چونکہ ان راہبوں کی روش شریعت الٰہیہ کے برعکس تھی لہذا نتیجتاً مذہب کا شیرازہ پارہ پارہ ہوگیا۔ ٣۔ اللہ کے حضور عبادت، عاجزی، تذلل اور زہد وتقویٰ صفات محمودہ ہیں لیکن ان راہبوں نے ان صفات میں اس قدر غلو کیا اور انکار ذات اور خود شکنی اتنے جوش سے کی کہ خود نگری اور خود شناسی جو قومی زندگی کے لیے روح رواں ہے ایک جرم سمجھا جانے لگا۔ انسان کو اپنی انسانیت سے شرم آنے لگی اور وہ اپنی ترقی انسانیت میں نہیں بلکہ ترک انسانیت میں سمجھنے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے تو اسے اشرف المخلوقات بنا کر باقی کائنات اس کے لیے مسخر کردی تھی مگر وہ خود اس قدر بےاعتماد، افسردہ اور شکستہ دل ہوگیا کہ حیوانات بلکہ جمادات کو اپنے آپ پر ترجیح دینے لگا۔ ٤۔ چوتھا اثر یہ ہوا کہ معاشرہ میں باقی لوگ جن میں دینداری اور تقویٰ کے کچھ بھی اثرات پائے جاتے تھے، انہوں نے بھی ان راہبوں اور پیروں فقیروں کے آستانوں کا رخ کرلیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے لیے مخصوص عبادت گاہیں اور مسجدیں تو آہستہ آہستہ ویران ہونے لگیں اور خانقاہوں، مزاروں اور آستانوں کی رونق بڑھنے لگی۔ انہی گونا گوں مفاسد کے پیش نظر شریعت نے رہبانیت کو مذموم قرار دیا ہے اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث نبوی ملاحظہ فرمائیے :۔ ١۔ سیدنا انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا اپنی جانوں پر سختی مت کرو کیونکہ ایک قوم نے اپنی جانوں پر سختی کی تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر سختی کی (یعنی ان کا ایجاد کردہ معیار ہی ان کی جانچ کے لیے مقرر کردیا) اس قوم کا بقایا گر جوں اور خانقاہوں میں ہے پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ (ابوداؤد، کتاب الادب، باب الحسد) شرعی لحاظ سے رہبانیت مذموم ہے :۔ ٢۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : && بلاشبہ دین آسان ہے کوئی شخص دین میں (اپنے آپ پر) سختی نہ کرے کہ وہ عمل اسے عاجز کردے۔ اس پر عمل ٹھیک طرح بجا لاؤ اور میانہ روی اختیار کرو اور خوش ہوجاؤ اور صبح و شام اور آخری رات کے کچھ حصہ میں اللہ سے مدد طلب کرتے رہو && (مشکوۃ، کتاب الصلوٰۃ۔ باب القصد فی العمل) ٣۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو کے باپ نے ان کی بڑے شوق اور چاؤ سے شادی کی۔ لیکن انہوں نے اپنی بیوی سے کوئی دلچسپی نہ رکھی۔ رات عبادت میں گزار دیتے اور دن روزہ رکھ کر۔ ان کے اس رویہ سے ان کی بیوی بھی ملول تھی اور باپ بھی۔ آخر باپ نے رسول اللہ کو اس صورت حال سے مطلع کیا۔ عبداللہ بن عمرو خود بیان کرتے ہیں کہ آپ نے مجھے بلا کر فرمایا : && مجھے خبر پہنچی ہے کہ تو روزے رکھے جاتا ہے اور افطار نہیں کرتا اور نماز پڑھے جاتا ہے ایسا کر کہ روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر، قیام بھی کر اور سو بھی۔ کیونکہ تیری آنکھوں کا تجھ پر حق ہے، تیری جان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی اور بال بچوں کا بھی تجھ پر حق ہے && میں نے عرض کیا : && مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ && آپ نے فرمایا : && اچھا پھر داؤد* جیسا روزہ رکھ && میں نے پوچھا : && وہ کیا ہے ؟ فرمایا : وہ ایک دن روز رکھتے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے اور دشمن کے مقابلہ میں بھاگتے نہیں تھے && پھر آپ نے دوبارہ فرمایا :&& جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے روزہ نہیں رکھا && (بخاری، کتاب الصوم، باب حق الاہل فی الصوم) یہ حدیث بخاری میں مختلف مقامات پر کئی طرح سے مذکور ہے۔ ایک روایت میں ہے۔ && تیرے بدن اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے && (باب حق الضیف) کے الفاظ زیادہ ہیں، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے عبداللہ بن عمرو کو دائمی روزہ رکھنے سے منع فرمایا تو انہوں نے کہا، مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے، تو پہلے آپ نے فرمایا کہ اچھا تم مہینہ میں تین روزے رکھ لیا کرو۔ اللہ تعالیٰ دس گنا اجر دے گا تو یہ تمہارے پورے مہینہ کے روزے ہوجائیں گے && سیدنا عبداللہ نے کہا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے && تب آپ نے فرمایا : اچھا ایک دن روزہ رکھو اور دوسرے دن چھوڑ دو ۔ بعد میں آپ نے فرمایا : && جو دائمی روزہ رکھے اس کا کوئی روزہ نہیں && رہبانیت سے متعلق چند احادیث اور ان سے حاصل ہونے والے نتائج :۔ اس حدیث سے معلوم ہوا (١) کہ مسلسل روزے رکھنا انسان کو اتنا نحیف بنا دیتا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کے قابل نہیں رہتا، (٢) اس حدیث سے رہبانیت یا تصوف کے کئی نظریات پر زد پڑتی ہے، ایک نفس کشی یا بدن کو نحیف و نزار بنانے پر اور دوسرے صوفیا کے اس نظریہ پر کہ نفس سے جہاد، جہاد فی سبیل اللہ سے افضل ہے، (٣) ہر وہ عمل جو سنت کے خلاف ہو خواہ کتنا ہی بہتر معلوم ہوتا ہو، مردود ہے۔ ٤۔ سیدنا انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ تین آدمی آپ کی بیویوں کے گھر آئے (سیدنا علی (رض) & عبداللہ بن عمرو (رض) اور عثمان بن مظعون (رض) اور آپ کی عبادت کے بارے میں پوچھا۔ جب انہیں بتایا گیا تو انہوں نے گویا (آپ کی اتنی عبادت کو) کم سمجھا اور کہنے لگے، && کہاں ہم اور کہاں اللہ کے رسول جن کے پہلے اور پچھلے سب گناہ معاف کئے جاچکے ہیں (یعنی ہمیں ان سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے) پھر ایک نے کہا :&& میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور کبھی روزہ نہ چھوڑوں گا اور تیسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ عورتوں سے کنارہ کش رہوں گا اور کبھی شادی نہ کروں گا۔ اتنے میں آپ تشریف لے آئے، اور آپ نے انہیں واپس بلا کر پوچھا کہ کیا تم لوگوں نے یہ اور یہ باتیں کی ہیں ؟ اللہ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور پرہیزگار ہوں۔ اس کے باوجود میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں & رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جو کوئی میری سنت کو ناپسند کرے اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں && (بخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح) اس حدیث میں مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوئیں۔ (١) مجرد زندگی گزارنا، معاشرتی زندگی سے گریز تاکہ یکسوئی سے عبادت کی جاسکے، بدن کو فاقوں مار کر تزکیہ نفس کرنا اور عبادت میں خواہ کیسی ہی افضل نہ ہو، سنت نبوی سے آگے بڑھنا۔ یہ سب باتیں سنت مطہرہ کے خلاف ہیں۔ اگر صرف یہی چیزیں رہبانیت سے نکال دی جائیں تو رہبانیت کی عمارت از خود زمین بوس ہوجاتی ہے۔ (٢) آپ نے سنت کی آخری حد سے مطلع فرما دیا۔ اب جو شخص زہد، تقویٰ اور عبادت کے میدان میں آپ کی مقررہ حدود سے آگے نکلے گا تو وہ بدعت، ضلالت اور کفر ہی ہوگا اور یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بدعت ہمیشہ نیک ارادوں اور ثواب کی نیت سے ہی شروع کی جاتی ہے۔ (٣) سنت کا تارک گنہگار ہوتا ہے لیکن سنت سے زیادہ عمل کرنے والا جو شریعت کی حدود کو کم سمجھ کر اس میں اضافہ کر رہا ہے۔ وہ بدعتی، گمراہ اور گمراہ کنندہ ہے۔ بعد میں جو لوگ اس بدعت پر عمل پیرا ہوں گے حصہ رسدی اس کا گناہ بدعت جاری کرنے والے کو بھی پہنچتا رہے گا۔ [٥٠] ان رہبانیت اختیار کرنے والوں میں سے بہت سے لوگ گناہ کی آلودگیوں میں ملوث ہوگئے۔ تھوڑے ہی تھے جو خالصتاً اللہ کی عبادت میں مشغول رہے ان کو ان کے نیک عمل کا اجر مل جائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِہِمْ بِرُسُلِنَا :” قفینا “ ” قفا “ سے مشق ہے ، جس کا معنی گدی ( گردن کا پچھلا حصہ) ہے ۔ ” اثار “ ” اثر “ کی جمع ہے۔ نشان قدم ۔ مراد یہ ہے کہ پہلے رسولوں کے بعد دوسرے رسول اس طرح بھیجے جس طرح ایک گردن کے پیچھے دوسرا اس کے نشان قدم پر چلتا ہوا آرہا ہو ۔ سب کی تعلیم ایک تھی اور سب ایک ہی راستے کے مسافر تھے۔ ٢۔ وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٰتَیْنٰـہُ الْاِنْجِیْلَ : عیسیٰ (علیہ السلام) کا الگ خاص طور پر ذکر فرمایا ، کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے سب سے آخر میں وہی تشریف لائے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں انجیل عطاء فرمائی ، جس میں تورات پر عمل کی تاکید کی تھی اور اسکے بعض سخت احکام میں نرمی کا اعلان تھا ، جیسا کہ فرمایا :(وَلِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ ) ( آل عمران : ٥٠) ” اور تاکید میں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کی گئی تھیں ۔ “ البتہ وہ بھی اسی راستے پر چلنے والے تھے جس پر پہلے رسول چلتے تھے ، جس میں جہاد کی تعلیم بھی تھی۔ ٣۔ وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَۃً وَّرَحْمَۃً ط :” رافعہ “ وہ رحمت جو کسی سے تکلیف یا نقصان دور کرنے سے تعلق رکھتی ہو ، جیسا کہ فرمایا :( وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِھِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللہ ِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ج) (النور : ٢) ” اور تمہیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے ، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ “ جبکہ ” رحمۃ “ کا لفظ عام ہے ، جس میں ہر طرح کا رحم شامل ہے ، خصوصاً جس میں نفع پہنچانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ دیکھئے سورة ٔ حج کی آیت (٦٥):(ان اللہ بالناس لرء و ف رحیم) کی تفسیر ۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کرنے والوں کے دلوں میں رافت و رحمت رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب انجیل عطاء فرمائی تھی وہ بنیادی طور پر احکام کی نہیں بلکہ وعظ و تذکیر کی کتاب تھی ، جس میں انہیں خاص طور پر نرمی اور رحم کے اخلاق اختیار کرنے پر زوردیا گیا تھا ، چناچہ انہوں نے اس پر عمل کیا ، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت پر عمل نے ان میں یہ صفت مزید پختہ کردی ، چونکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کے فضل سے ہوا ، اس لیے فرمایا کہ ہم نے اس کی پیروی کرنے والوں کے دلوں میں رافت و رحمت رکھ دی۔ انجیل میں رافت و رحمت پر زور دینے کی وجہ یہ تھی عیسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کے نفوس کی اصلاح کے لیے اور ان کی دلوں سے اس سختی کو دور کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا تھا جو طویل مدتیں گزرنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں پیدا ہوچکی تھی ، جیسا کہ فرمایا :(ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً ط) (البقرۃ : ٧٤) ’ ’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں جیسے ہیں ، یا سختی میں ( ان سے بھی) بڑھ کر ہیں “۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب یہود کے برعکس آپس میں نہایت نرم اور مہربان تھے ، ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں بھی یہ وصف بہت نمایاں تھا ، جیسا کہ فرمایا :(وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ ) (الفتح : ٢٩)” اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں ، آپس میں نہات رحم دل ہیں “۔ ٤۔ وَرَہْبَانِیَّۃَ نِابْتَدَعُوْہَا :” رھب یرھب رھبا “ ( ف) ڈرنا ۔ ” راھب “ ڈرنے والا ۔ ” رھبان “ ( بروزن فعلان) ک بہت ڈرانے والا۔” رھبانیۃ “ کی نسبت اسی ” رھبان “ کی طرف ہے ، یعنی رہبان کا طریقہ اختیار کرنا ، جو شدت خوف سے شادی نہیں کرتا کہ بیوی بچے اس کی عبادت میں رکاوٹ نہ بنیں ، لوگوں سے علیحدگی اختیار کرتا ہے کہ اسے عبادت سے غافل نہ کریں ۔ کھانے پینے کی لذیذ اشیاء سے اجتناب کرتا ہے کہ دنیا کی حرص اور نفس کی خواہشوں سے بچ سکے ، اس لیے وہ آبادی سے الگ جنگل بیابان میں کٹیا بنا کر عبادت میں مصروف ہوجاتا ہے ۔ یہ طریقہ انبیاء کا طریقہ نہیں ، نہ انہوں نے اس کی تعلیم دی ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ ان کا طریقہ تو اللہ کی توحید اور اس کے دین کی طرف دعوت دینا اور لوہے کے استعمال کے ساتھ اس کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا قلع قمع کرنا ہے۔ سو جن لوگوں نے ترک دنیا کا راستہ اختیار کرکے دعوت و جہاد کا کام چھوڑ دیا ، یہ طریقہ ان کی اپنی ایجاد تھی ، اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں :(لما کان من امر عثمان بن مظعنون الذی کان من ترک النساء بعث الیہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فقال یا عثمان ! انی لم او مر بالرھبانیۃ ارغبت عن سنتیی ؟ قال لا یا رسول اللہ ! قال ان من سنتی ان اصلی وانام ، واصوم واطعم، وانکح و اطلق ، فمن رغب عن سنتی فلس منی) (سنن دارمی ، ٢، ١٧٩، ح : ٢١٦٩، قال المحقق حسین سلیم اسد الدارنی ، اسنادہ صحیح والحدیث متفق علیہ)” جب عثمان بن مظعون (رض) کے عورتوں کو ترک کرنے والا معاملہ ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا :” اے عثمان ! مجھے رہبانیت کا حکم نہیں دیا گیا ، کیا تم نے میرے طریقے سے بےرغبنتی اختیار کرلی ہے ؟ “ انہوں نے کہا : ” نہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” میرے طریقے میں سے یہ ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا ( بھی) ہوں اور روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا ( بھی) ہوں اور میں نکاح بھی کرتا ہوں اور طلاق بھی دیتا ہوں ، تو جو شخص میرے طریقے سے بےرغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں “۔ انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ تین آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کے گھروں کی طرف آئے ، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ جب انہیں ( اس کے بارے ) بتایا گیا تو گویا انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے :” کہاں ہم اور کہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو تو پہلے پچھلے سب پناہ معاف فرما دیئے ہیں “۔ تو ان میں سے ایک نے کہا : ” میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا “۔ دوسرے نے کہا : ” میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا ، کبھی روزے کے بغیر نہیں رہوں گا “۔ تیسرے نے کہا :” میں عورتوں سے الگ رہوں گا ، کبھی نکاح نہیں کروں گا “۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو آپ نے فرمایا :(انتم الذین قلتم کذا وکذا ؟ اما واللہ ! انی لا خشا کم للہ واتقاکم لہ ، لکنی اصوم و افطر ، اصلی وارقد واتزوج النساء ، فمن رغب عن سنتی فلیس منی) (بخاری ، النکاح ، باب الترغیب فی النکاح۔۔۔۔۔۔ ٥٠٦٣)” تمہی لوگوں نے یہ یہ باتیں کہی ہیں ؟ سن لو ! اللہ کی قسم ! میں تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور اس کے تقویٰ والا ہوں ، لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا ، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، تو جو میرے طریقے سے بےرغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں “۔ ٤۔ مَا کَتَبْنٰـہَا عَلَیْہِمْ : یعنی ہم نے انہیں رہبانیت کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ انہوں نے اسے خود ہی ایجاد کرلیا تھا۔ ٦۔ اِلَّا ابْتِغَآئَ رِضْوَانِ اللہ ِ : یہ سننا منقطع ہے اور ” الا “ ” لکن “ کے معنی میں ہے :” ای ما کتبنا ھا علیم لکن فعلوھا ابتغاء رضوان اللہ “ ” یعنی ہم نے انہیں اس کا حکم دیا ، مگر انہوں نے ( ترک دنیا کا) یہ کام اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیا “۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے :” لکن کتبنا علیھم ابتغاء رضوان اللہ “ یعنی ہم نے انہیں رہبانیت کا حکم تو نہیں دیا ، لیکن ہم نے انہیں اللہ کی رضا حاصل کرنے کا حکم دیا ۔ ٧۔ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ج : رہبانیت اختیار کرنے والوں کی دو طرح سے مذمت فرمائی ، ایک یہ کہ انہوں نے دین میں وہ بات ایجاد کی جس کا انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا تھا۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے رہبانیت ایجاد کر کے اپنے آپ پر ترک دنیا کی جو پابندیاں عائد کی تھیں انہیں اس طرح نہ نبھا سکے جس طرح نبھانے کا حق تھا۔ ہمارے شیخ محمد عبدہٗ لکھتے ہیں :” یعنی انہوں نے دو جرم کیے ، ایک رہبانیت (درویشی) کو دین کا جزو لا یفنک قرار دے لیا اور پھر اس درویشی کے حقوق و آداب کی بھی نگہداشت نہ کرسکے۔ چناچہ انہوں نے ابتداء میں توحید اور درویش کو ایک ساتھ نبھانے کی کوشش کی ، لیکن مسیح (علیہ السلام) کے تیسری صدی بعد سے اپنے بادشاہوں کے بہکانے میں آگئے اور تثلیت کے چکر میں پھنس کر توحید کو چھوڑ دیا ، پھر درویشی تو در کنار اصل ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ درویشی کو جاہ و ریاست طلبی کا ذریعہ بنا لیا اور باطل طریقوں سے لوگوں کا مال کھانے لگے ۔ الغرض جہاد کے فریضہ کو چھوڑ کر تصوف کی رسوم اختیار کرنا ہی رہبانیت ہے ، جس کی قرآن نے مذمت کی ہے اور پھر درویشی یا دینی پیشوائی کو ( اللہ کی رضا کے بجائے) جاہ و ریاست اور دنیا طلبی کا ذریعہ بنانا تو ناقابل عفو گناہ ہے ، جو یہود و نصاریٰ میں عام وباء کی شکل اختیار کر گیا تھا “۔ ( اشرف الحواشی) شاہ عبد القادر فرماتے ہیں :” یہ فقیری اور تارک ِ دنیا بننا نصاریٰ نے رسم نکالی ، جنگل میں تکیہ لگا کر بیٹھتے ، نہ بیوی رکھتے نہ اولاد ، نہ کماتے نہ جوڑتے ، محض عبادت میں رہنے ، خلق سے نہ ملتے ۔ اللہ نے بندوں پر یہ حکم نہیں رکھا ، مگر جب اپنے اوپر نام رکھا ترک دنیا کا ، پھر اس پردے میں دنیا چاہنی بڑا وبال ہے “۔ ( موضح ) آج کل روزانہ اخبارات میں نصرانی چرچوں میں پادریوں اور راہبوں کے زنا اور قوم لوط کے عمل کی خبریں اسی ” فما رعوھا حق رعایتھا “ کی عملی تفسیر ہیں۔ ٨۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان ” لتتبعن سنن من قبلکم “ کے مطابق امت مسلمہ میں بھی رہبانیت تصوف کی صورت میں رائج ہوگئی۔ (دیکھئے بخاری : ٣٤٥٦) دنیا میں اسلام کو غالب کرنے اور جہاد کے بجائے تک ِ دنیا کمال ٹھہرا ، تو توحید کے بجائے پیر پرستی اور قبر پرستی پھیل گئی ۔ احسان کی منزل یہ تھی کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے گویا اسے دیکھ رہا ہے ، سوا گر یہ اسے نہیں دیکھتا تو وہ اسے یقینا دیکھ رہا ہے ۔ تصوف میں اس کے بجائے کمال یہ ٹھہرا کہ شیخ کا تصور اس طرح رکھو کہ ایک لمحہ بھی دل و دماغ اور آنکھوں سے جدا نہ ہو۔ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کا قرب حاصل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑا جو نہ بتایا ہو، یہاں ان طریقوں کو چھوڑ کر نصرانی راہبوں اور ہندو جوگیوں کے طریقے اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ٹھہرے ، مثلاً روزے رکھنے کے بجائے ترک حیوانات جمالی و جلالی کیا گیا، یعنی کوئی حیوان یا اس سے نکلنے والی چیز مثلاً گوشت یا دودھ یا گھی نہ رکھا جائے ۔ قرآن مجید کی تلاوت اور مسنون اذکا ار کے بجائے سانس بند کر کے خود ساختہ وظیفوں کو ، جن کے ساتھ تصور شیخ کا شرک ہو ، ولایت کے حصول کا مستند طریقہ قرار دیا گیا ۔ محنت اور کمائی کے بجائے لوگوں کے نذر انوں یا گدائی کے ٹکڑوں پر گزر کرنا فقر کی منزل قرار پایا ۔ قرآن کی دعوت کے ساتھ جہاد کی تلوار لے کر دنیا پر اسلام کو غالب کرنے کی جدوجہد کے بجائے جنگلوں بیابانوں یا مقبروں اور خانقاہوں میں ” ہو حق “ کی ضربیں مقصد حیات قرار پائیں۔ مسجدیں ویران ہوئیں اور مقبرے آباد ہوئے اور یہ کام کرنے والوں کی پارسائی اور روحانی اقتدار کے اتنے جھوٹے قصے مشہور کیے گئے کہ نصرانی راہبوں اور ہندو جوگیوں کی ولایت کے افسانے ان کے مقابلے میں ہیچ ہوگئے۔ احبارو رہبان کے باطل طریقوں کے ساتھ لوگوں کے مال کھانے اور اللہ کی راہ سے روکنے کا کوئی طریقہ باقی نہ رہا جو یہاں اختیار نہ کیا گیا ہو ۔ جو لوگ دنیاوی مصروفیت کی وجہ سے یہ کام نہ کرسکے انہوں نے بھی کتاب و سنت پر عمل کے بجائے ان خدا رسیدہ ہستیوں کی خدمت کو نجات کے لیے کافی سمجھا اور انہیں قیامت کے دن اپنا کار ساز سمجھا اور انہیں قیامت کے دن اپنا کار ساز سمجھ کر عمل سے فارغ ہوگئے۔ نتیجہ کفار کے غلبے اور مسلمانوں کی ذلت اور غلامی کی صور ت میں سب کے سامنے ہے۔ اس کا علاج اب بھی وہی ہے جو اس مبارک سورت میں بتایا گیا ہے کہ رہبانیت کے بجائے پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق بسر کی جائے ، لوگوں کے بنائے ہوئے طریقوں کے بجائے کتاب و سنت سے ثابت اعمال کی پابندی کی جائے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے اس کی راہ میں جہاد کیا جائے اور جان و مال کی قربانی سے کسی قسم کا دریغ نہ کیا جائے ۔ کیونکہ جس طرح تورات و انجیل کی تعلیم رہبانیت کے بجائے قتال فی سبیل اللہ تھی اسی طرح قرآن مجید کی تعلیم بھی یہی ہے ، دلیل اس کی یہ آیت ہے :(اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَط یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَقف وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ ط ) (التوبۃ : ١١١)” بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں ، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے ، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں ، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں ، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے “۔ ٩۔ فَاٰ تَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْہُمْ اَجْرَہُمْ : ان میں دو قسم کے لوگ شامل ہیں ، ایک وہ جو رہبانیت اور اس کے خود ساختہ عقائد و اعمال مثلاً تثلیث ، قبر پرستی اور ترک دنیا کے بجائے صحیح ایمان و عمل پر قائم ہے ، جو تورات و انجیل سے ثابت تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کا اجر عطاء فرما دیا اور دوسرے وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ پایا اور آپ پر ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی ان کا اجر عطاء فرما دیا۔ ١٠۔ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰـسِقُوْنَ : یعنی ان میں سے بہت سے لوگ وہ تھے جو اپنی خواہش کے خلاف اللہ اور اس کے رسول کا حکم ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

. After specific mention of these two Prophets, the whole chain of prophets is referred to by the words, ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِ‌هِم بِرُ‌سُلِنَا |"Then We made Our messengers follow them one after the other|". Lastly ` Isa (علیہ السلام) has been specifically mentioned, as he was the last among the Israelite prophets. Then the Last of all prophets Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Shari&ah has a pointed reference in the next verse. The special characteristics of the disciples of Prophet ` Isa (علیہ السلام) are given in part of verse 27 as follows: وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَ‌أْفَةً وَرَ‌حْمَةً (...and placed tenderness and mercy in the hearts of his followers) In other words, Allah inculcated two qualities in the hearts of the followers of Prophet ` Isa (علیہ السلام) and his Divine Book Injil [ Gospel ]: [ 1] tenderness and [ 2] mercy. As a result, they showed tenderness and compassion to one another. Or it could mean that they showed tenderness and kindness to the entire creation of Allah. Generally, the two words ra&fah (tenderness) and rahmah (mercy) are treated as synonyms or near-synonyms, but since they are employed here in opposition to each other, some lexicologists explained that the word ra&fah is stronger in degree than the word rahmah. Others have explained that there are two requirements of tenderness and mercy. The word ra&fah means to alleviate the calamity of someone, while the word rahmah means to give to someone what he needs. In short, ra&fah is concerned with repelling harm and rahmah is concerned with deriving benefit. As &repelling harm& is normally prior to &deriving benefit&, ra&fah takes precedence over rahmah when the two words are expressed simultaneously. On this occasion, &tenderness& and &mercy& are mentioned as the special characteristics of the disciples [ Howariyyun ] of the Prophet ` Isa (علیہ السلام) . Similarly, some characteristics of the blessed Companions (رض) of the Holy Prophet Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) are given in Surah Al-Fath, one of which is رُ‌حَمَاءُ بَيْنَهُمْ (...compassionate among themselves....48:29). But another characteristic of them is given before this as: أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ‌ (...hard against the disbelievers ....48:29). The reason for this difference seems to be that there were no laws pertaining to jihad against the non-believers in the Shari&ah of the Prophet ` Isa (علیہ السلام) . Therefore, there was no occasion for them to be hard against the disbelievers. Allah knows best! Monasticism: An Analysis وَرَ‌هْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا (...As for monasticism, it was invented by them; ). The word rahbaniyyah (monasticism) is attributed to ruhban. The words rahib (singular) and ruhban (plural) mean &the one who fears&. After Prophet ` Isa (علیہ السلام) ، transgression became common. In particular, the kings and the leaders publicly defied the laws of the Gospel. When the scholars and the righteous people among them attempted to stop them from doing evil deeds, they were put to death. Those that remained, felt that they would not be able to stop them, nor did they have the power of resistance. If they lived in society, there was every likelihood that their religion too would be destroyed. Therefore, they took upon themselves in earnest that they would give up all pleasures and comforts of this life including the legitimate ones. Thus they avoided marriage, abandoned any activity to earn livelihood and any effort to build homes, and took to jungles, mountains and caves, or took to nomadic life in order to protect their religion and follow their religious duties freely and completely. They did all this out of fear of God. Therefore, they were referred to as rahib or ruhban. Their practice is referred to as rahbaniyyah. As the Christians introduced monasticism under forced circumstances in order to protect their faith, it was not reproachable in its origin. But once anyone has imposed anything on himself, it becomes binding on him, and its violation is a sin. For example, making a vow for an act of worship is not obligatory. But if a person were to vow to do an act of worship or abstain from a lawful thing, it becomes binding on him in Shari&ah to maintain the vow; its violation becomes a sin. Some of the Christian monks invented monasticism with the best of intentions, but there were others who could not endure the hardships of monastic life and soon succumbed to the pursuit of material gains and physical pleasures when the general body of people believed in them, offered them gifts and oblations. History bears ample testimony to the fact that the monks who detested the system of marriage indulged in indecent acts and fornication. (The free intermingling of men and women in monasteries turned those places into centers of evil). The current verse denounces the practice of the monks who imposed monasticism upon themselves, and once they had imposed it, they should have observed its requirements which they did not. That there was nothing wrong originally in what they had introduced as rahbaniyyah is proved by a Hadith narrated by Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud (رض) and recorded by Ibn Kathir with reference to Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir رحمۃ اللہ علیہما who have cited a lengthy narration in which the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: |"Allah has split the Children of Israel into seventy-two sects. Only three of them were saved from punishment. These are groups who, after Prophet ` Isa (علیہ السلام) ، stopped the oppressive kings and affluent and powerful transgressors from violating the Divine laws. Among those who raised the voice of Truth against them and invited them to the religion of Prophet ` Isa (علیہ السلام) ، the first group faced the oppressors with whatever power they had at their command, but they were defeated and killed. Then after them a second group stood against the tyrants and aggressors who did not have even that much fighting strength as the first group had. However they conveyed the Truth without caring for their lives. This group too was killed. Some of them were ripped apart with saws and others were burnt alive. But they, for the sake of Allah&s pleasure, bore all pains and attained salvation. Then a third group stood against them. But this group was weak: They had no resources to fight the tyrants nor could they live in that corrupt society and follow their religion. Therefore, they took to the jungles and mountains, and became monks. It is to this third group that Allah refers in the current verse وَرَ‌هْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ ; &As for monasticism, it was invented by them; We did not ordain it for them, ...&.|" This narration indicates that the people who originally adopted monasticism from among the Israelites and took care of its essentials and endured its hardships were among those who attained salvation. According to this interpretation, the present verse shows that the monasticism initially adopted by such people was not bad or evil in itself, though it was not a religious obligation either. They had made it obligatory on themselves at their own will and wish. The element of evil starts from the fact that after making it binding on themselves, most of them were not able to keep to its essentials. As a result, in keeping with the adage لِلاَکثرِ حُکمُ الکُلّ (Majority takes the status of all), the Qur&an attributed this evil aspect to the entire Israelites in that they invented it and could not practice it and did not take care of its requirements: حَقَّ رِ‌عَايَتِهَا (...but [ they adopted it ] to seek Allah&s pleasure, then could not observe it as was due 57:27). It is also learnt from the above discussion that the word ibtida&, derived from bid&ah, used in ابْتَدَعُوهَا (...it was invented by them ...) is used in its literal sense of invention, and not in its technical or religious sense of heresy. The religious concept of bid&ah (which refers to a baseless faith or practice that is made part of the religion) has been denounced in the following narration of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (Every religious innovation is deviation). The context of the verse is very clear about it. Let us first study the following sentence: وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَ‌أْفَةً وَرَ‌حْمَةً وَرَ‌هْبَانِيَّةً (And We placed in the hearts of his followers tenderness and mercy and the monasticism they had invented; We did not prescribe it for them, except to seek Allah&s pleasure. Then they did not observe it as was due...57:27) (l) The context indicates that just as &tenderness and mercy& are not evil qualities, likewise &monasticism& which they adopted is not an evil quality in itself. Otherwise Allah would not have listed it alongside the favorable qualities of &tenderness and mercy&. Scholars, like Qurtubi, who held monasticism as absolutely prohibited, had to face grammatical difficulties. They had to go out of their way to show that rahbaniyyah is not a part of the conjunctive expression joined together by the conjunction &waw& [ and ] They treated the sentence starting with |"...and monasticism...|" as a separate sentence, and understood the verb ibtada& as omittted. The interpretation adopted above renders this construction unnecessary. That is why the Holy Qur&an does not reject their adoption of monasticism in principle, but their failure to keep it up, and take care of its rights and obligations. This interpretation is possible only if the word ibtida& (invention) is taken in its literal sense. Had it been employed in its religious or technical sense, the Qur&an would have denounced adoption of monasticism in itself, because bid&ah (innovation in religion) in its technical sense is deviation. (1) It should be noted that according to the grammatical construction of this verse, it can be translated in two ways. One translation is given above in the text. The second possible translation is that which is given here. Since the following discussion is based on this second translation, we have adpted it here instead of the translation given in the text. Mu hammadTaqi Usmani Sayyidna ` Abdullan Ibn Mas` ud&s (رض) foregoing narration makes it clear that the groups that adopted monastic life attained salvation. If they were guilty of committing religious innovation, they would never have been counted among the saved ones, but rather among the deviant ones. Is rahbaniyyah (Monasticism) absolutely Prohibited or is it a relative Concept? The fact is that rahbaniyyah (translated as monasticism) generally means to give up some lawful things and pleasures. It has several stages, one of which is to treat a permissible thing as impermissible doctrinally or practically. This is distortion of religion. From this point of view, monasticism is absolutely prohibited as declared by the Holy Qur&an at several places, like verse [ 87] of Surah Al-Ma&idah that lays down the principle يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّ‌مُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكُمْ. (0 believers, do not prohibit the good things which Allah has made lawful to you...) The prohibitive verb (&do not prohibit& ) in this verse indicates that it relates to a situation where a person holds unlawful what Allah has made lawful, either in his belief or in practice, and as such it will amount to distortion or perversion of the Divine laws. The second stage is when a person does not, dogmatically or practically, turn a lawful thing into unlawful, but gives it up for some mundane or religious reason. In mundane affairs, a person might give up eating a lawful thing on account of some disease. In religious matters, a person might give up the company of people and mixing with them, lest he should commit moral sins like lying and backbiting, or he might abandon some permissible things temporarily in order to suppress his base desires. This restriction is no more than a treatment of a spiritual disease. When the treatment is over, the restriction is no longer observed. Some Sufi adepts require a novice in the initial stages of his spiritual journey to exercise ascetic discipline, such as eating little, sleeping little and mixing little with people. This brings him to a state of greater harmony and balance [ I` tidal ]. This ascetic discipline is a &means& and not an &end& in itself. When the perfect balance is attained and the nafs (inner-self) is brought under control, and there is no longer the danger of committing sins, they are asked to give up the exercise. This in fact is not monasticism but taqwa or righteousness which the religion requires and was practiced by our predecessors, the blessed Companions, their followers and the leaders in religion. The third stage is when a person does not turn a permissible thing into unlawful. However, he abstains from its use under the belief that its giving up has more virtue and carries more reward, while such use is proved through Sunnah (the practice of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) This is in fact ghuluww (over-indulgence). Many of the Prophetic Traditions prohibit ghuluww. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: لَا رَھبَانِیُّۃَ فَہ الاِسلَامِ (There is no monasticism in Islam.) This relates to a situation where someone abandons permissible things with the mistaken notion that it will bring him reward. If the Children of Israel initiated monasticism for the protection of their religion, it will fall under the second category of righteousness. But the people of the book were given to ghuluww or practicing religious fanaticism. If they turned lawful into unlawful, they fell under the first category and are guilty of committing haram. If they fall under the third category, then too they are guilty of committing something that is condemned. Allah, the Pure and Exalted, knows best!

ان کے خصوصی ذکر کے بعد پورے سلسلہ انبیاء کو ایک مختصر جملے میں بیان فرمایا (آیت) ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا، آخر میں خصوصیت کے ساتھ آخر انبیاء بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کر کے حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی شریعت کا ذکر فرمایا گیا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے ان کے حواریین کی خاص صفت یہ بتلائی گئی ( وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً ۭ وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا) یعنی جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یا انجیل کا اتباع کیا ہم نے ان کے دلوں میں رافت اور رحمت پیدا کردی، یعنی یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے پر مہربان و رحیم ہیں، یا پوری خلق خدا کے ساتھ ان کو شفقت و رحمت کا تعلق ہے، رافت و رحمت کے دونوں لفظ ایک دوسرے کے ہم معنی اور مرادف سمجھے جاتے ہیں، یہاں مقابلہ کی وجہ سے بعض حضرات نے فرمایا کہ رافت شدت رحمت کو کہا جاتا ہے گویا عام رحمت سے اس میں زیادہ مبالغہ ہے اور بعض نے فرمایا کہ کسی شخص پر رحمت و شفقت کے دو تقاضے عادةً ہوتے ہیں، ایک یہ کہ وہ اگر کسی تکلیف و مصیبت میں مبتلا ہے تو اس کی تکلیف کو دور کردیا جائے اس کو رافت کہا جاتا ہے، دوسرے یہ کہ اس کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ دے دیجائے، یہ رحمت ہے، غرض رافت کا تعلق دفع مضرت کے ساتھ ہے اور رحمت کا جلب منفعت کے ساتھ اور چونکہ دفع مضرت ہر اعتبار سے مقدم سمجھی جاتی ہے، اس لئے عموماً جب یہ دونوں لفظ یک جا بولے جاتے ہیں تو رافت کو رحمت پر مقدم بولا جاتا ہے۔ یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب جن کو حواریین کہا جاتا ہے ان کی خصوصی صفت رافت و رحمت بیان فرمائی گئی ہے، جیسا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام کی چند صفات سورة فتح میں بیان فرمائی ہیں، جن میں ایک صفت رحمآء بینھم بھی ہے، مگر وہاں اس صفت سے پہلے صحابہ کرام کی خاص صفت اشدآء علی الکفار بھی بیان فرمائی ہے، وجہ فرق کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں کفار سے جہاد و قتال کے احکام نہ تھے، اس لئے کفار کے مقابلہ میں شدت ظاہر کرنے کا وہاں کوئی محل نہ تھا واللہ اعلم۔ رہبانیت کا مفہوم اور ضروری تشریح : وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا، رہبانیت، رہبان کی طرف منسوب ہے، راہب اور رہبان کے معنی ہیں ڈرنے والا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب بنی اسرائیل میں فسق و فجور عام ہوگیا، خصوصاً ملوک اور رؤسا نے احکام انجیل سے کھلی بغاوت شروع کردی، ان میں جو کچھ علماء و صلحاء تھے انہوں نے اس بدعملی سے روکا تو ان کو قتل کردیا گیا، جو کچھ بچ رہے انہوں نے دیکھا کہ اب منع کرنے اور مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں، اگر ہم ان لوگوں میں مل جل کر رہے تو ہمارا دین بھی برباد ہوگا، اس لئے ان لوگوں نے اپنے اوپر یہ بات لازم کرلی کہ اب دنیا کی سب جائز لذتیں اور آرام بھی چھوڑ دیں، نکاح نہ کریں، کھانے پینے کے سامان جمع کرنے کی فکر نہ کریں، رہنے سہنے کے لئے مکان اور گھر کا اہتمام نہ کریں، لوگوں سے دور کسی جنگل پہاڑ میں بسر کریں، یا پھر خانہ بدوشوں کی طرح زندگی سیاحت میں گزار دیں، تاکہ دین کے احکام پر آزادی سے پورا پورا عمل کرسکیں، ان کا یہ عمل چونکہ خدا کے خوف سے تھا، اس لئے ایسے لوگوں کو راہب یا رہبان کہا جانے لگا، ان کی طرف نسبت کر کے ان کے طریقہ کو رہبانیت سے تعبیر کرنے لگے۔ ان کا یہ طریقہ چونکہ حالات سے مجبور ہو کر اپنے دین کی حفاظت کے لئے تھا اس لئے اصالةً کوئی مذموم چیز نہ تھی، البتہ ایک چیز کو اللہ کے لئے اوپر لازم کرلینے کے بعد اس میں کوتاہی اور خلاف ورزی بڑا گناہ ہے، جیسے نذر اور منت کا حکم ہے کہ وہ اصل سے تو کسی پر لازم و واجب نہیں ہوتی، خود کوئی شخص اپنے اوپر کسی چیز کو نذر کر کے حرام یا واجب کرلیتا ہے تو پھر شرعاً اس کی پابندی واجب اور خلاف ورزی گناہ ہوجاتی ہے، مگر ان میں سے بعض لوگوں نے رہبانیت کا نام رکھ کر دنیا طلبی اور عیش و عشرت کا ذریعہ بنا لیا کیونکہ عام آدمی ایسے لوگوں کے معتقد ہوئے، تحفے تحائف اور نذرانے آنے لگے، لوگوں کا ان کی طرف رجوع ہوا تو فواحش کی نوبت آنے لگی۔ قرآن کریم نے آیت مذکورہ میں ان کی اسی بات نکیر فرمائی، کہ خود ہی تو اپنے اوپر ترک لذات کو لازم کیا تھا، جو منجانب اللہ ان پر لازم نہ کیا گیا تھا اور جب لازم کرلیا تو پھر اس کی پابندی ان کو کرنا چاہئے تھی، لیکن اس کی خلاف ورزی کی۔ ان لوگوں کا یہ طریقہ اصل سے مذموم نہ تھا، حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث اس پر شاہد ہے ابن کثیر نے بروایت ابن ابی حاتم و ابن جریر ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے، جن میں سے صرف تین فرقوں کو عذاب سے نجات ملی، جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ظالم و جابر بادشاہوں اور دولت و قوت والے فاسق و فاجر لوگوں کو ان کے فسق و فجور سے روکا، ان کے مقابلہ میں حق کا کلمہ بلند کیا اور دین عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف دعوت دی، ان میں سے پہلے فرقہ نے قوت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا، مگر ان کے مقابلہ میں مغلوب ہو کر قتل کردیئے گئے، تو پھر ان کی جگہ ایک دوسری جماعت کھڑی ہوئی، جن کو مقابلہ کی اتنی بھی قوت و طاقت نہیں تھی، مگر کلمہ حق پہنچانے کے لئے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر ان کو حق کی طرف بلایا، ان سب کو بھی قتل کردیا گیا، بعض کو آروں سے چیرا گیا، بعض کو زندہ آگ میں جلایا گیا، مگر انہوں نے اللہ کی رضا کے لئے ان سب مصائب پر صبر کیا، یہ بھی نجات پا گئے، پھر ایک تیسری جماعت ان کی جگہ کھڑی ہوئی، جن میں نہ مقابلہ کی قوت تھی نہ ان کے ساتھ رہ کر خود اپنے دین پر عمل کرنے کی صورت بنتی تھی، اس لئے ان لوگوں نے جنگلوں اور پہاڑوں کا راستہ لیا اور راہب بن گئے، یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا ہے، وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل میں سے اصل رہبانیت اختیار کرنے والے جنہوں نے رہبانیت کے لوازم کی رعایت کی اور مصائب پر صبر کیا وہ بھی نجات یافتہ لوگوں میں سے ہیں آیت مذکورہ کی اس تفسیر کا حاصل یہ ہوا کہ جس طرح کی رہبانیت ابتداً اختیار کرنے والوں نے اختیار کی تھی وہ اپنی ذات سے مذموم اور بری چیز نہ تھی، البتہ وہ کوئی حکم شرعی بھی نہیں تھا، ان لوگوں نے اپنی مرضی و خوشی سے اس کو اپنے اوپر لازم کرلیا تھا، برائی اور مذمت کا پہلو یہاں سے شروع ہوا کہ اس التزام کے بعد بعض لوگوں نے اس کو نبھایا نہیں اور چونکہ تعداد ایسے ہی لوگوں کی زیادہ ہوگئی تھی، اس لئے للاکثر حکم الکل، یعنی اکثریت کے عمل کو کل کی طرف منسوب کردینا عرف عام ہے، اس قاعدہ کے موافق قرآن نے عام بنی اسرائیل کی طرف یہ منسوب کیا کہ انہوں نے جس رہبانیت کو اپنے اوپر لازم کرلیا تھا اس کو نبھایا نہیں اور اس کی شرائط کی رعایت نہیں کی، اسی کو فرمایا (فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَــتِهَا) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس رہبانیت کے متعلق جو قرآن نے فرمایا ابتدعوہا یعنی اس کو انہوں نے ایجاد کرلیا، اس لفظ ابتداع جو بدعت سے مشتق ہے وہ اس جگہ اپنے لغوی معنی یعنی اختراع و ایجاد کے لئے بولا گیا ہے، شریعت کی اصطلاحی بدعت مراد نہیں ہے جس کے بارے میں حدیث میں ارشاد ہے کل بدعة ضلالة ” یعنی ہر بدعت گمراہی ہے “۔ قرآن کریم کے نسق و نظم میں غور کریں تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے سب سے پہلے تو اس جملے پر نظر ڈالے (آیت) وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً ۭ وَرَهْبَانِيَّةَۨ، جس میں حق تعالیٰ نے اپنی نعمت کے اظہار کے سلسلے میں فرمایا کہ ہم نے ان کے دلوں میں را فت، رحمت، رہبانیت پیدا کردی، نسق کلام بتلاتا ہے کہ جس طرح را فت و رحمت مذموم نہیں اسی طرح ان کی اختیار کردہ رہبانیت بھی اپنی ذات سے کوئی مذموم چیز نہ تھی ورنہ مقام امتنان میں را فت و رحمت کے ساتھ رہبانیت کا ذکر کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، اسی لئے جن حضرات نے مطلقاً رہبانیت کو مذموم و ممنوع قرار دیا ان کو اسی جگہ رہبانیت کے عطف میں غیر ضروری تاویل کرنا پڑی کہ اس کو را فت و رحمت مذموم نہیں اسی طرح ان کی اختیار کردہ رہبانیت بھی اپنی ذات سے کوئی مذموم چیز نہ تھی ورنہ مقام امتنان میں را فت و رحمت کے ساتھ رہبانیت کا ذکر کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی اسی لئے جن حضرات نے مطلقاً رہبانیت کو مذموم و ممنوع قرار دیا ان کو اس جگہ رہبانیت کے عطف میں غیر ضروری تاویل کرنا پڑی کہ اس کو را فت و رحمت پر عطف نہیں مانا بلکہ ایک مستقل جملہ یہاں محذوف قرار دیا یعنی ابتداعوا ( کما فعلہ القرطبی) لیکن مذکورہ تفسیر پر اس تاویل کی کوئی ضرورت نہیں رہتی، آگے بھی قرآن کریم نے ان کے اس ابتداع پر کوئی نکیر اور رد نہیں فرمایا بلکہ نکیر اس پر کی گئی کہ انہوں نے اس اختیار کردہ رہبانیت کو نبھاہا نہیں، اس کے حقوق و شرائط کی رعایت نہیں کی، یہ بھی جب ہی ہوسکتا ہے کہ ابتداع کو لغوی معنی میں لیا جائے، شرعی اور اصطلاحی معنی ہوتے تو قرآن خود اس پر بھی نکیر کرتا، کیونکہ بدعت اصطلاحی خود ایک گمراہی ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود کی مذکورہ حدیث سے اور بھی یہ بات واضح ہوگئی کہ ترہب اختیار کرنے والی جماعت کو نجات یافتہ جماعتوں میں شمار فرمایا، اگر یہ بدعت اصطلاحی کے مجرم ہوتے تو نجات یافتہ میں شمار نہ ہوتے بلکہ گمراہوں میں شمار کئے جاتے۔ کیا رہبانیت مطلقاً مذموم و ناجائز ہے، یا اس میں کچھ تفصیل ہے ؟ صحیح بات یہ ہے کہ لفظ رہبانیت کا عام اطلاق ترک لذات و ترک مباحات کے لئے ہوتا ہے، اس کے چند درجے ہیں، ایک یہ کہ کسی مباح و حلال چیز کو اعتقاداً یا عملاً حرام قرار دے، یہ تو دین کی تحریف و تغیر ہے، اس معنی کے اعتبار سے رہبانیت قطعاً حرام ہے اور آیت قرآن (یایھا الذین امنوا لاتحرموا طیبت ما احل اللہ لکم) اور اس کی امثال میں اسی کی ممانعت و حرمت کا بیان ہے، اس آیت کا عنوان لاتحرموا خود یہ بتلا رہا ہے کہ اس کی ممانعت اس لئے ہے کہ یہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو اعتقاداً یا عملاً حرام قرار دے رہا ہے جو احکام الٰہیہ میں تبدیل و تحریف کے مترادف ہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ مباح کے کرنے کو اعتقاداً یا عملاً حرام قرار نہیں دیتا، مگر کسی دنیوی یا دینی ضرورت کی وجہ سے اس کو چھوڑنے کی پابندی کرتا ہے، دنیوی ضرورت جیسے کسی بیماری کے خطرہ سے کسی مباح چیز سے پرہیز کرے اور دینی ضرورت یہ کہ یہ محسوس کرے کہ میں نے اس مباح کو اختیار کیا تو انجام کار میں کسی گناہ میں مبتلا ہوجاؤں گا، جیسے جھوٹ، غیبت وغیرہ سے بچنے کے لئے کوئی آدمی لوگوں سے اختلاط ہی چھوڑ دے، یا کسی نفسانی رذیلہ کے علاج کے لئے چند روز بعض مباحات کو ترک کر دے اور اس ترک کی پابندی بطور علاج و دوا کے اس وقت تک کرے جب تک یہ رذیلہ دور نہ ہوجائے، جیسے صوفیائے کرام مبتدی کو کم کھانے، کم سونے، کم اختلاط کی تاکید کرتے ہیں کہ یہ ایک مجاہدہ ہوتا ہے نفس کو اعتدال پر لانے کا جب نفس پر قابو ہوجاتا ہے کہ ناجائز تک پہنچنے کا خطرہ نہ رہے تو یہ پرہیز چھوڑ دیا جاتا ہے، یہ درحقیقت رہبانیت نہیں، تقویٰ ہے جو مطلوب فی الدین اور اسلاف کرام صحابہ وتابعین اور ائمہ دین سے ثابت ہے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ کسی مباح کو حرام تو قرار نہیں دیتا مگر اس کا استعمال جس طرح سنت سے ثابت ہے اس طرح کے استعمال کو بھی چھوڑنا ثواب اور افضل جان کر اس سے پرہیز کرتا ہے، یہ ایک قسم کا غلو ہے، جس سے احادیث کثیرہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے اور جس حدیث میں لا رھبانیة فی الا سلام آیا ہے ” یعنی اسلام میں رہبانیت نہیں “ اس سے مراد ایسا ہی ترک مباحات ہے کہ ان کے ترک کو افضل وثواب سمجھے، بنی اسرائیل میں جو رہبانیت اول شروع ہوئی وہ اگر حفاظت دین کی ضرورت سے تھی تو دوسری قسم یعنی تقویٰ میں داخل ہے لیکن اہل کتاب میں غلو فی الدین کی آفت بہت تھی، وہ اس غلو میں پہلے درجہ سے تحریم حلال تک پہنچے تو حرام کے مرتکب ہوئے اور تیسرے درجہ تک رہے تو بھی ایک مذموم فعل کے مجرم بنے، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِہِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاٰتَيْنٰہُ الْاِنْجِيْلَ۝ ٠ۥۙ وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَۃً وَّرَحْمَۃً۝ ٠ ۭ وَرَہْبَانِيَّۃَۨ ابْتَدَعُوْہَا مَا كَتَبْنٰہَا عَلَيْہِمْ اِلَّا ابْتِغَاۗءَ رِضْوَانِ اللہِ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَايَــتِہَا۝ ٠ ۚ فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْہُمْ اَجْرَہُمْ۝ ٠ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ۝ ٢٧ قفا القَفَا معروف، يقال : قَفَوْتُهُ : أصبت قَفَاهُ ، وقَفَوْتُ أثره، واقْتَفَيْتُهُ : تبعت قَفَاهُ ، والِاقْتِفَاءُ : اتّباع القفا، كما أنّ الارتداف اتّباع الرّدف، ويكنّى بذلک عن الاغتیاب وتتبّع المعایب، وقوله تعالی: وَلا تَقْفُ ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ [ الإسراء/ 36] أي : لا تحکم بالقِيَافَةِ والظنّ ، والقِيَافَةُ مقلوبة عن الاقتفاء فيما قيل، نحو : جذب وجبذ وهي صناعة وقَفَّيْتُهُ : جعلته خلفه . قال : وَقَفَّيْنا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ [ البقرة/ 87] . والقَافِيَةُ : اسم للجزء الأخير من البیت الذي حقّه أن يراعی لفظه فيكرّر في كلّ بيت، والقَفَاوَةُ : الطّعام الذي يتفقّد به من يعنی به فيتّبع . ( ق ف و ) القفا کے معنی گدی کے ہیں اور قفرتہ کے معنی کسی کی گدی پر مارنا اور کسی کے پیچھے پیچھے چلنا یہ دونوں محاورہ ہے استعمال ہوتی ہے قفوت الژرہ واقتفیتہ کے معنی کیس کے پیچھے چلنے کے ہیں دوسرے کا مصدر اقتفاء ہے ۔ جس کے اصل معنی کسی کی قفا کا اتباع کرنے کے ہیں ۔ لیکن کنایہ کے طور پر کیس کی غیبت اور عیب جوئی کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلا تَقْفُ ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ [ الإسراء/ 36] اور ( اے بندے ) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ ۔ یعنی محض قیافہ اور ظن سے کام نہ لو بعض کے نزدیک قیافہ کا لفظ بھی اقتفاء سے مقلوب ہے ۔ جیسے جذب وحیذا ور یہ ( قیافہ ) ایک فن ہے ۔ اور قفیتہ کے معنی کیس کو دوسرے کے پیچھے لگانے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَقَفَّيْنا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ [ البقرة/ 87] اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے ، القافیۃ مصر عہ کے جز وا خیر کو کہا جاتا ہے جس کے حرف روی کی ہر شعر میں رعایت رکھی جاتی ہے ۔ القفاوۃ وہ کھانا جس سے مہمان کی آؤ بھگت کی جائے ۔ أثر أَثَرُ الشیء : حصول ما يدلّ علی وجوده، يقال : أثر وأثّر، والجمع : الآثار . قال اللہ تعالی: ثُمَّ قَفَّيْنا عَلى آثارِهِمْ بِرُسُلِنا «1» [ الحدید/ 27] ، وَآثاراً فِي الْأَرْضِ [ غافر/ 21] ، وقوله : فَانْظُرْ إِلى آثارِ رَحْمَتِ اللَّهِ [ الروم/ 50] . ومن هذا يقال للطریق المستدل به علی من تقدّم : آثار، نحو قوله تعالی: فَهُمْ عَلى آثارِهِمْ يُهْرَعُونَ [ الصافات/ 70] ، وقوله : هُمْ أُولاءِ عَلى أَثَرِي [ طه/ 84] . ومنه : سمنت الإبل علی أثارةٍأي : علی أثر من شحم، وأَثَرْتُ البعیر : جعلت علی خفّه أُثْرَةً ، أي : علامة تؤثّر في الأرض ليستدل بها علی أثره، وتسمّى الحدیدة التي يعمل بها ذلک المئثرة . وأَثْرُ السیف : جو هره وأثر جودته، وهو الفرند، وسیف مأثور . وأَثَرْتُ العلم : رویته «3» ، آثُرُهُ أَثْراً وأَثَارَةً وأُثْرَةً ، وأصله : تتبعت أثره . أَوْ أَثارَةٍ مِنْ عِلْمٍ [ الأحقاف/ 4] ، وقرئ : (أثرة) «4» وهو ما يروی أو يكتب فيبقی له أثر . والمآثر : ما يروی من مکارم الإنسان، ويستعار الأثر للفضل ( ا ث ر ) اثرالشیئ ۔ ( بقیہ علامت ) کسی شی کا حاصل ہونا جو اصل شیئ کے وجود پر دال ہوا اس سے فعل اثر ( ض) واثر ( تفعیل ) ہے اثر کی جمع آثار آتی ہے قرآن میں ہے :۔ { ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا } [ الحدید : 27] پھر ہم نے ان کے پیھچے اور پیغمبر بھیجے { وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ } [ غافر : 21] اور زمین میں نشانات بنانے کے لحاظ سے { فَانْظُرْ إِلَى آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ } [ الروم : 50] تم رحمت الہی کے نشانات پر غور کرو اسی سے ان طریق کو آثار کہا جاتا ہے جس سے گذشتہ لوگوں ( کے اطوار وخصائل ) پر استدلال ہوسکے جیسے فرمایا { فَهُمْ عَلَى آثَارِهِمْ يُهْرَعُونَ } [ الصافات : 70] سو وہ انہیں کے نقش قدم پر دوڑتے چلے جاتے ہیں ۔ { هُمْ أُولَاءِ عَلَى أَثَرِي } [ طه : 84] وہ میرے طریقہ پر کار بند ہیں ۔ اسی سے مشہور محاورہ ہے سمنت الابل علی آثارۃ اثرمن شحم فربہ شدند شتراں پر بقیہ پیہ کہ پیش ازیں بود اثرت البعیر ۔ میں نے اونٹ کے تلوے پر نشان لگایا تاکہ ( گم ہوجانے کی صورت میں ) اس کا کھوج لگایا جا سکے ۔ اور جس لوہے سے اس قسم کا نشان بنایا جاتا ہے اسے المئثرۃ کہتے ہیں ۔ اثرالسیف ۔ تلوار کا جوہر اسکی عمدگی کا کا نشان ہوتا ہے ۔ سیف ماثور ۔ جوہر دار تلوار ۔ اثرت ( ن ) العلم آثرہ اثرا واثارۃ اثرۃ ۔ کے معنی ہیں علم کو روایت کرنا ۔ در اصل اس کے معنی نشانات علم تلاش کرنا ہوتے ہیں ۔ اور آیت ۔ { أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ } ( سورة الأَحقاف 4) میں اثارۃ سے مراد وہ علم ہے جس کے آثار ( تاحال ) روایت یا تحریر کی وجہ سے باقی ہوں ایک قراۃ میں اثرۃ سے یعنی اپنے مخصوص علم سے المآثر انسانی مکارم جو نسلا بعد نسل روایت ہوتے چلے آتے ہیں ۔ اسی سے بطور استعارہ اثر بمعنی فضیلت بھی آجاتا ہے ۔ عيسی عِيسَى اسم علم، وإذا جعل عربيّا أمكن أن يكون من قولهم : بعیر أَعْيَسُ ، وناقة عَيْسَاءُ ، وجمعها عِيسٌ ، وهي إبل بيض يعتري بياضها ظلمة، أو من الْعَيْسِ وهو ماء الفحل يقال : عَاسَهَا يَعِيسُهَا «2» . ( ع ی س ) یہ ایک پیغمبر کا نام اور اسم علم ہے اگر یہ لفظ عربی الاصل مان لیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اس عیس سے ماخوذ ہو جو کہ اعیس کی جمع ہے اور اس کی مؤنث عیساء ہے اور عیس کے معنی ہیں سفید اونٹ جن کی سفیدی میں قدرے سیاہی کی آمیزش ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے عیس سے مشتق ہو جس کے معنی سانڈ کے مادہ منو یہ کے ہیں اور بعیر اعیس وناقۃ عیساء جمع عیس اور عاسھا یعسھا کے معنی ہیں نر کا مادہ سے جفتی کھانا ۔ ( ابْنُ ) أصله : بنو، لقولهم في الجمع : أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] ، يا بنيّ لا تعبد الشیطان، وسماه بذلک لکونه بناء للأب، فإنّ الأب هو الذي بناه وجعله اللہ بناء في إيجاده، ويقال لكلّ ما يحصل من جهة شيء أو من تربیته، أو بتفقده أو كثرة خدمته له أو قيامه بأمره : هو ابنه، نحو : فلان ابن الحرب، وابن السبیل للمسافر، وابن اللیل، وابن العلم، قال الشاعر أولاک بنو خير وشرّ كليهما وفلان ابن بطنه وابن فرجه : إذا کان همّه مصروفا إليهما، وابن يومه : إذا لم يتفكّر في غده . قال تعالی: وَقالَتِ الْيَهُودُ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، وَقالَتِ النَّصاری: الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ [ التوبة/ 30] وقال تعالی: إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي [هود/ 45] ، إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] ، وجمع ابْن : أَبْنَاء وبَنُون، قال عزّ وجل : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً [ النحل/ 72] ، وقال عزّ وجلّ : يا بَنِيَّ لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ [يوسف/ 67] ، يا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ الأعراف/ 31] ، يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، ويقال في مؤنث ابن : ابْنَة وبِنْت، وقوله تعالی: هؤُلاءِ بَناتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ [هود/ 78] ، وقوله : لَقَدْ عَلِمْتَ ما لَنا فِي بَناتِكَ مِنْ حَقٍّ [هود/ 79] ، فقد قيل : خاطب بذلک أکابر القوم وعرض عليهم بناته «1» لا أهل قریته كلهم، فإنه محال أن يعرض بنات له قلیلة علی الجمّ الغفیر، وقیل : بل أشار بالبنات إلى نساء أمته، وسماهنّ بنات له لکون کلّ نبيّ بمنزلة الأب لأمته، بل لکونه أكبر وأجل الأبوین لهم كما تقدّم في ذکر الأب، وقوله تعالی: وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَناتِ [ النحل/ 57] ، هو قولهم عن اللہ : إنّ الملائكة بنات اللہ . الابن ۔ یہ اصل میں بنو ہے کیونکہ اس کی جمع ابناء اور تصغیر بنی آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا ۔ يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ ( گویا ) تم کو ذبح کررہاہوں ۔ يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] کہ بیٹا خدا کے ساتھ شریک نہ کرنا ۔ يا بنيّ لا تعبد الشیطانبیٹا شیطان کی عبادت نہ کرنا ۔ اور بیٹا بھی چونکہ اپنے باپ کی عمارت ہوتا ہے اس لئے اسے ابن کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ باپ کو اللہ تعالٰٰ نے اس کا بانی بنایا ہے اور بیٹے کی تکلیف میں باپ بمنزلہ معمار کے ہوتا ہے اور ہر وہ چیز جو دوسرے کے سبب اس کی تربیت دیکھ بھال اور نگرانی سے حاصل ہو اسے اس کا ابن کہا جاتا ہے ۔ نیز جسے کسی چیز سے لگاؤ ہوا است بھی اس کا بن کہا جاتا جسے : فلان ابن حرب ۔ فلان جنگ جو ہے ۔ ابن السبیل مسافر ابن اللیل چور ۔ ابن العلم پروردگار وہ علم ۔ شاعر نے کہا ہے ع ( طویل ) یہ لوگ خیر وزر یعنی ہر حالت میں اچھے ہیں ۔ فلان ابن بطنہ پیٹ پرست فلان ابن فرجہ شہوت پرست ۔ ابن یومہ جو کل کی فکر نہ کرے ۔ قرآن میں ہے : وَقالَتِ الْيَهُودُ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، وَقالَتِ النَّصاری: الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ [ التوبة/ 30] اور یہود کہتے ہیں کہ عزیز خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے میں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں ۔ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي [هود/ 45] میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے ۔ إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] کہ اب آپکے صاحبزادے نے ( وہاں جاکر ) چوری کی ۔ ابن کی جمع ابناء اور بنون آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً [ النحل/ 72] اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کئے يا بَنِيَّ لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ [يوسف/ 67] کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا ۔ يا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ الأعراف/ 31] ( 3 ) اے نبی آدم ہر نماز کے وقت اپنے تیئں مزین کیا کرو ۔ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے نبی آدم ( دیکھنا کہیں ) شیطان تمہیں بہکانہ دے ۔ اور ابن کی موئث ابنۃ وبنت اور ان کی جمع اور ابن کی موئث ابنۃ وبنت اور ان کی جمع بنات آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ هؤُلاءِ بَناتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ [هود/ 78] ( جو ) میری ) قوم کی ) لڑکیاں ہیں تمہارے لئے جائز اور ) پاک ہیں ۔ لَقَدْ عَلِمْتَ ما لَنا فِي بَناتِكَ مِنْ حَقٍّ [هود/ 79] تمہاری ۃ قوم کی ) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اکابر قوم خطاب کیا تھا اور ان کے سامنے اپنی بیٹیاں پیش کی تھیں ۔ مگر یہ ناممکن سی بات ہے کیونکہ نبی کی شان سے بعید ہے کہ وہ اپنی چند لڑکیاں مجمع کثیر کے سامنے پیش کرے اور بعض نے کہا ہے کہ بنات سے ان کی قوم کی عورتیں مراد ہیں اور ان کو بناتی اس لئے کہا ہے کہ ہر نبی اپنی قوم کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے بلکہ والدین سے بھی اس کا مرتبہ بڑا ہوتا ہے جیسا کہ اب کی تشریح میں گزر چکا ہے اور آیت کریمہ : وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَناتِ [ النحل/ 57] اور یہ لوگ خدا کے لئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں ۔ کے مونی یہ ہیں کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتی ہیں ۔ (بقیہ حصہ کتاب سے ملاحضہ فرمائیں)

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (وجعلنا فی قلوب الذین اتبعوہ رافۃ ورحمۃ ورھبانیۃ ن ابتدعوھا، اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں ہم نے شفقت اور نرمی رکھ دی تھی اور رہبانیت کہ انہوں نے خود ایجاد کرلیا تھا) تا آخر آیت۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ بتادیا کہ انہوں نے رہبانیت کو عبادت کے طور پر خود ایجاد کیا پھر اس رہبانیت کی رعایت نہ کرنے پر ان کی مذمت کی چناچہ ارشادہوا (فما رعوھا حق رعایتھا، انہوں نے اس کی پوری پوری رعایت نہیں کی) ابتداع یعنی ایجاد کبھی تو قول کے ذریعے ہوتی ہے یعنی بندہ ایک چیز کی اپنی جانب سے نذر مان لیتا ہے اور اسے اپنے اوپر واجب کردیتا ہے اور کبھی فعل کے ذریعے ہوتی ہے یعنی بندہ ایک چیز کی نذر مان کر اسے شروع کردیتا ہے۔ آیت کا عموم ان دونوں صورتوں کو متضمن ہے۔ یہ چیز اس امر کی مقتضی ہے کہ جو شخص کسی عبادت کو قولاً یا فعلاً شروع کرے اس پر اس کی رعایت اور اس کا اتمام واجب ہوجاتا ہے۔ اس بنا پر جو شخص نماز یا روزہ یا حج یا اسی طرح کی کوئی اور عبادت شروع کرلے اس پر اس کا اتمام واجب ہوگا۔ اب اس کا اتمام اس پر اسی صورت میں لازم ہوگا جب وہ چیز اس پر واجب ہوجائے گی۔ اس لئے اگر وہ اسے فاسد کردے گا تو اس پر اس کی قضا واجب ہوجائے گی۔ حضرت ابوامامہ باہلی (رض) سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے کچھ نئی عبادتیں ایجاد کرلیں جنہیں اللہ نے ان پر واجب نہیں کیا تھا وہ ان عبادتوں کے ذریعے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن پھر انہوں نے ان کی پوری پوری رعایت نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ترک پر ان لوگوں کی مذمت کی اور فرمایا (ورھبانیۃ ن ابتدعوھا) تا آخر آیت۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور نوح کے ایک ہزار دو سوبیالیس سال بعد ابراہیم کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب جاری رکھی کہ ان میں انبیاء ہوتے رہے اور کتاب نازل ہوتی رہی، نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں میں کچھ تو کتاب اور رسول پر ایمان لے آئے اور بہت سے کافر تھے۔ اور پھر حضرت نوح اور ابراہیم کے بعد ان کی اولاد میں اور رسولوں کو یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے اور پھر ان تمام رسولوں کے بعد رسول اکرم سے پہلے عیسیٰ کو بھیجا اور ہم نے ان کو انجیل دی اور جن لوگوں نے عیسیٰ کی پیروی کی تھی ہم نے ان کے دلوں میں شفقت و رحم پیدا کردیا کہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے رہتے ہیں۔ اور انہوں نے رہبانیت کو خود ایجاد کرلیا تھا انہوں نے اس کے لیے دبور کے صوصے تیار کرلیے تھے تاکہ اس میں راہب بن کر بیٹھ جائیں اور بولس یہودی کے فتنے سے بچے رہیں اور ہم نے اس رہبانیت کو ان پر واجب نہ کیا تھا مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے اس کو اختیار کرلیا تھا یا یہ کہ انہوں نے ان گرجاؤں کو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے بنا لیا تھا باقی ان کا بنانا ہم نے ان پر ضروری قرار نہیں دیا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے حق رہبانیت کی پوری حفاظت نہ کی سو ان میں جو لوگ ایمان لائے ہم نے ان کو ایمان و عبادت کے صلہ میں دگنا ثواب دیا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین عیسوی کی مخالفت نہیں کی اور ان میں سے اہل یمن میں چوبیس آدمی باقی رہ گئے تھے جو کہ رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ پر ایمان لائے اور آپ کے دین میں داخل ہوئے اور ان راہبوں میں زیادہ تر کافر تھے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دین عیسوی کی مخالفت کی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧{ ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٰتَـیْنٰـہُ الْاِنْجِیْلَ } ” پھر ہم نے بھیجے ان کے نقش قدم پر اپنے بہت سے رسول (علیہ السلام) اور پھر ان کے پیچھے بھیجا ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو اور اسے ہم نے انجیل عطا فرمائی “ آیت ٢٦ اور ٢٧ میں حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم اور دوسرے انبیاء و رسل - کا ذکر تمہید کے طور پر آیا ہے۔ موضوع کے اعتبار سے اصل میں یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ کرنا مقصود ہے جن کے پیروکاروں نے رہبانیت کی ابتدا کی تھی۔ { وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَــۃً وَّرَحْمَۃً } ” اور جن لوگوں نے اس کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں بڑی نرمی اور رحمت پیدا کردی۔ “ رافت اور رحمت ملتے جلتے مفہوم کے دو الفاظ ہیں۔ رافت دراصل وہ انسانی جذبہ ہے جس کے تحت انسان کسی کو تکلیف میں دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے۔ بقول امیر مینائی ؎ خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے ! یعنی یہ جذبہ ٔ رافت ہی ہے جس کی وجہ سے انسان کسی کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے ‘ جبکہ رحمت کا جذبہ انسان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ دوسرے انسان کی تکلیف دور کرنے کے لیے کوشش کرے۔ گویا رافت کا جذبہ بنیادی طور پر انسان کے دل میں تحریک پیدا کرتا ہے اور اس کے ردّعمل (reflex action) کا اظہار جذبہ رحمت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے رافت اور رحمت باہم تکمیلی (complementary) نوعیت کے جذبات ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے گویا تصدیق فرمائی گئی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والوں کے دلوں کو خصوصی طور پر رافت و رحمت کے جذبات سے مزین کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خود بھی مزاج کے اعتبار سے انتہائی نرم اور رقیق القلب تھے ‘ آپ (علیہ السلام) کی شخصیت میں سختی کا عنصر بالکل نہیں تھا۔ آپ (علیہ السلام) کی شخصیت کے اس پہلو کا اندازہ اس مثال سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دفعہ آپ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا تو پوچھا کہ کیا تم چوری کر رہے ہو ؟ اس نے کہا نہیں میں چوری تو نہیں کر رہا ۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : اچھا تو پھر میری آنکھ نے غلط دیکھا ہے۔ چناچہ آپ (علیہ السلام) کی شخصیت کے زیر اثر آپ (علیہ السلام) کے حواریین کی طبیعتوں میں بھی رافت ‘ رحمت ‘ رقت ِ قلب اور شفقت کے غیر معمولی جذبات پیدا ہوگئے تھے۔ یہ جذبات بلاشبہ اپنی جگہ مستحسن ہیں۔ خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے سورة التوبہ میں فرمایا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل ایمان کے حق میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں : { بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ ۔ } (رافت اور رء وف ایک ہی مادے سے ہیں) ۔ بہرحال شیطان نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں کے مزاج کی نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے ان جذبات کا رخ رہبانیت کی طرف موڑ دیا۔ { وَرَھْبَانِیَّۃَ نِابْتَدَعُوْھَا } ” اور رہبانیت کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کی تھی “ { مَا کَتَـبْنٰـھَا عَلَیْھِمْ اِلاَّ ابْتِغَآئَ رِضْوَانِ اللّٰہِ } ” ہم نے اسے ان پر لازم نہیں کیا تھا مگر اللہ کی خوشنودی کی تلاش میں “ اس فقرے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ رہبانیت انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اختیار کی تھی ‘ اس میں ان کی کسی بدنیتی کا عنصر شامل نہیں تھا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم نے تو ان پر کچھ لازم نہیں کیا تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی رضا تلاش کریں ۔ لیکن انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے نفس کشی (self annihilation) ‘ ترکِ دنیا ‘ رہبانیت اور تجرد (بغیر نکاح کے) کی زندگی بسر کرنے کا راستہ اختیار کرلیا۔ بہرحال حقیقت میں یہ اللہ کی رضا کا راستہ نہیں تھا۔ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا درست راستہ تو جہاد کا راستہ ہے : { وَابْتَغُوْا اِلَـیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَجَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ } (المائدۃ : ٣٥) ” اللہ کا قرب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو ! “ یعنی باطل کو ملیامیٹ کرنے ‘ حق کو غالب کرنے ‘ ظلم و ناانصافی کو اکھاڑ پھینکنے اور عدل و قسط کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے مجاہد بن جائو ! اس راستے پر چلتے ہوئے جان و مال کی قربانیاں دو ‘ فاقے برداشت کرو اور ہر طرح کی تکالیف و مشکلات کا سامنا کرو۔ بہرحال شیطان نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو اللہ کے مقرب بننے اور اس کی رضا تلاش کرنے کا یہ راستہ ان کی نظروں سے اوجھل کر کے رہبانیت کے راستے پر ڈال دیا تاکہ اللہ کے نیک اور مخلص بندے تمدن کے معاملات سے لاتعلق رہیں اور معاشرے کے اندر ابلیسیت کے ننگے ناچ کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہ ہو۔ دنیا میں ظالموں اور شریروں کو کھلی چھوٹ حاصل ہو اور ان کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہو۔ علامہ اقبال نے ” ابلیس کی مجلس شوریٰ “ میں اس کی بہترین تعبیر کی ہے کہ ابلیس نے اپنے چیلے چانٹوں کو ہدایات دیتے ہوئے ” مومن “ کے بارے میں کہا کہ ؎ مست رکھو ذکر و فکر صبح گا ہی میں اسے پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے ! { فَمَا رَعَوْھَا حَقَّ رِعَایَتِھَا } ” پھر وہ اس کی رعایت بھی نہ کرسکے جیسا کہ اس کی رعایت کرنے کا حق تھا۔ “ دراصل انسان کے لیے اپنے اوپر کوئی غیر فطری پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلینا تو آسان ہے مگر پھر ساری عمر اس فیصلے کو نبھانا بہت مشکل ہے۔ یہی مشکل رہبانیت کا راستہ اختیار کرنے والے لوگوں کو پیش آئی۔ راہب اور راہبائیں بظاہر تو مجرد زندگی بسر کرنے کا عہد کرتے لیکن پھر فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر زناکاریوں میں ملوث ہوجاتے۔ ان کے اس طرزعمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ راہب خانوں کے تہہ خانے حرامی بچوں کے قبرستان بن گئے۔ History of Christian Monasticism پر لکھی گئی کتابوں میں اس بارے میں لرزہ خیز تفصیلات ملتی ہیں۔ دراصل انسان کے جنسی جذبے کو غیر فطری طور پر دبانا ایسا ہی ہے جیسے بہتے دریا پر بند باندھنا۔ دریا کے پانی کو مناسب راستہ دے کر تو اس پر بند باندھا جاسکتا ہے لیکن دریا کے پورے پانی کو روکنا کسی طور پر بھی ممکن نہیں۔ ظاہر ہے اگر کہیں کوئی ایسی کوشش ہوگی تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ یہ لوگ خود تسلیم کرتے ہیں کہ انسان کا جنسی جذبہ بہت منہ زور ہے۔ سگمنڈ فرائڈ عیسائیوں کے گھر کا آدمی ہے اور اس کی گواہی گویا ” شَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا “ کا درجہ رکھتی ہے۔ انسان کے جنسی جذبے کو وہ تمام جذبات پر غالب اور باقی تمام جذبات کا محرک قرار دیتا ہے۔ اگرچہ میں ذاتی طور پر فرائڈ کے اس تجزیے سے متفق نہیں ہوں اور میری یہ رائے اکیلے فرائڈ یا اس کے اس تجزیے کے بارے میں ہی نہیں ‘ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ بیشتر مغربی فلاسفر انسانی زندگی پر فلسفیانہ بحث کے دوران اکثر غلط بینی اور کج روی کا شکار ہوگئے ہیں۔ جیسے فرائڈ کو ہر طرف سیکس ہی سیکس نظر آیا ‘ کارل مارکس کی نظریں انسان کے پیٹ پر مرکوز ہو کر رہ گئیں ‘ جبکہ ایڈلر صاحب کو انسان کے بڑا بننے کا جذبہ (urge to dominate) ہی ہر طرف چھایا ہوا دکھائی دیا۔ بہرحال مذکورہ فلاسفرز نے اپنے اپنے مطالعے اور تجزیے میں انسانی زندگی کے کسی ایک پہلو پر ضرورت سے زیادہ زور دیا ہے اور بہت سے دوسرے اہم پہلوئوں کو بالکل ہی نظر انداز کردیا ہے۔ لہٰذا ان کی ایسی آراء جزوی طور پر ہی درست تسلیم کی جاسکتی ہیں۔ بہرحال اگر یہ درست نہ بھی ہو کہ انسان کا جنسی جذبہ اس کے تمام جذبوں پر غالب اور اس کے باقی تمام جذبوں کا محرک ہے تو بھی اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ انسان کا یہ جذبہ بہت منہ زور ہے اور اس کو غیر فطری طریقے سے قابو میں لانا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس جذبے کو نظم و ضبط میں لانے کے لیے نکاح کا فطری راستہ تجویز کیا ہے۔ رہبانیت کے لیے اختیار کیے گئے طور طریقے زیادہ تر چونکہ غیر فطری تھے اس لیے اسے اختیار کرنے والے لوگ اس کا حق ادا کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ { فَاٰ تَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْھُمْ اَجْرَھُمْ } ” تو ہم نے ان میں سے ان لوگوں کو ان کا اجر دیا جو ایمان لے آئے۔ “ ایک رائے کے مطابق یہ عیسائیوں کے ان لوگوں کا ذکر ہے جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے کے زمانے میں صاحب ایمان تھے ‘ لیکن اس سے ایک مفہوم یہ بھی نکلتا ہے کہ ان میں سے جو لوگ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لا کر مسلمان ہوگئے انہیں ان کا اجر دیا جائے گا۔ { وَکَثِیْـرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ } ” لیکن ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

51 The words in the Text are rafat and rahmat, which are almost synonymous: But when they are used together, rafat implies the compassion that a person feels on seeing another person in pain and distress, and rahmat is the feeling under which be tries to- help him. As the Prophet Jesus was highly compassionate and merciful towards the people, his this trait of character deeply influenced his disciples: therefore, they treated the people with pity ant-sympat by and served them with aII their heart and soul. 52 The root rahb (from which rabaniyyat or ruhbaniyyat is derived) means fear; thus rahbaniyyat means a mode of life which reflects fear and terror, and ruhbaniyyat means the mode of life of the terrified. As a term it implies a person's abandoning the world out of fear (whether it is the fear of somebody's tyranny, or far of the worldly temptations and distractions, or fear of one's personal weaknesses) and taking refuge in the jungles and mountains, or living alone as a hermit. 53 The words in the original can havc two meanings: (I) "That We did not enjoin monasticism rahbanit) upon them: We enjoined upon them only the seeking of Allah's good pleasure:" and (2) that monasticism was not enjoined by Us: they of their own accord enjoined it on themselves, to seek Allah's good pleasure." In both cases this verse makes it explicit that monasticism is an unIslamic crced, and it has never been part of the true Faith. The same thing has been stated by the Holy Prophet thus: "There is no monasticism in Islam." (Musnad Ahmed). In another Hadith the Holy Prophet said: "The monasticism of this Ummah is to fight in the way of Allah." (Musnad Ahmed Musnad'Abi Ya'la That is, he way for this Ummah to attain to spiritual piety lies not in abandoning the world but in fighting in Allah's way: this Ummah does not flee to the jungles and mountains out of fear of temptations and distractions but counteracts them by resort to fighting in Allah's way. According to a tardition related both by Bukhari ant by Muslim, one of the Companions said that he would keep up Prayers throughout the night; another said that he would fast perpetually without ever observing a break; and a third one said the he would never marry and would have nothing to do with women. When the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) came to know of what they had resolved, he said: 'By God, I fear Allah the most and remain conscious of Him at all times; yet my way is that I observe the fast as well as break it; I keep up the Prayer during the night as well as have sleep; and I marry the women also. The one who dces not follow my way, does not belong to me " .Hadrat Anas says that the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) used to say: "Do not be- hard and severe to yourselves lest AIIah should be hard and severe to you. A community had adopted this way of severity towards itself; then Allah also seized it in severity. Look, the remainder of them are found in the monasteries and churches. " (Abu Da 'ud). 54 That is, they were involved in a double error: first, they imposed on themselves the restrictions which Allah had not imposed; second, They did not observe in the right spirit the restrictions that they had imposed upon themselves with a view to attain to Allah's goodwill, and conducted themselves in a way as to earn Allah's wrath instead of His good pleasure. To understand this theme fully we should havc a look at the history of Christian Monasticism. Until 200 years after the Prophet Jesus (peace be upon him) the Christian Church knew no monasticism. Its germs, however, were found in Christianity from the very beginning. To look upon asceticism as a moral ideal and to regard celibacy as superior to matrimonial and mundane life is the basis of monasticism. Both these existed in Christianity from the beginning. Owing to the sanctification of celibacy in particular, it was considered undesirable for those the performed religious services in the church to marry, have children and be involved in domestic chores; so much so that by the 3rd century monasticism began to spread like an epidemic in Christiandom. Historically, it had three main causes!: First, sensuality, immorality and worship of the world had so permeated the ancient polytheistic society that in their zeal to counteract it the Christian scholars adopted the extremist way instead of the way of moderation. They so stressed chastity that the relationship between man and woman by itself came to be looked upon as filthy, even if it was within marriage. They reacted so violently to mammonism that to possess property of any kind ultimately was considered a sin for a religious person and to live like a poor man and ascetic the criterion of moral excellence. Likewise, in their reaction to the sensualism of the polytheistic society they touched the other extreme. They made withdrawal from pleasure and all material comforts, self denial and curbing of the desires the object of morality and regarded torturing the body by different sorts of harsh discipline as the climax and proof of a person's spirituality. Secondly, when Christianity started achieving successes and spreading rapidly among the common people, the Church in its zeal to attract more and more adherents went on imbibing every evil that was prevalent in society. Thus, saint-worship replaced the ancient deities. Images of Christ and Mary began to be worshipped instead of the idols of Horus and Isis. Chrismas took the place of Saturnalia. Christian monks began to practise every kind of occult art like curing the sick by amulets and magic incantations, taking omens and fortune-telling, driving out spirits, etc. as were prevalent in ancient days. Likewise, since the COmmOn people looked upon a ditty and naked person who lived in a cave or den As a holy and godly man, this very concept of saintlihood became prevalent in the Christian Church, and legends of their miraculous powers began to abound in the memoirs of the Christian saints, Thirdly, the Christians possessed no detailed law and definite traditions and practices to determine the bounds of religion. They had given up Mosaic Law and the Gospel by itself afforded no perfect code of guidance. Therefore, the Christian doctors went on permitting every kind of innovation to enter the religion partly under the influence of alien philosophies, customs and practices and partly under their personal preference and whim. Monasticism was one such innovation. Christian scholars and doctors of law took its philosophy and rules and practices from the Buddhist monks, Hindu Yogis and ascetics, Egyptian Anchorites, Iranian Manicheans, and the followers of Plato and Plotinus, and made the same the means ant methods of attaining self-purification, spiritual loftiness and nearness to AIIah. Those who committed this error were not ordinary men. From the 3rd to the 7th century (i.e.. till about the time the Qur'an began to be revealed) the religious personalities who were recognized as the foremost scholars and religious guides and leaders of Christendom, both in the East and in the West,-St. Athanasius, St. Basil, St. Gregory of Bazianzus, St. Chrysostom, St. Ambrose, St. Jerome, St. Augustine St. Benedict, St. Gregory the Great-all were monks themselves and great upholders of monasticism. It was under their influence that monasticism became popular in the Church. Historically, monasticism among the Christians started from Egypt. Its founder was St. Anthony (A.D. 250 -350) who is regarded as the father of Christian Monasticism. He set up the first monastery at Pispir (now Der al Memum) in the Fayum. Later he established another monastery on the coast of the Rod Sea, which is now called Der Mar Antonius The basic cults of Christian Monasticism are derived from his writings and instructions. After this beginning the monastic movements spread like a f flood in Egypt and monasteries for monks and nuns were set up everywhere in the land in some of which lived three thousand monks at a time. In 325 another ascetic, pachomius, appeared in Egypt, who founded ten major monasteries and nunneries for the monks and nuns. The monastic movement then began to spread in Palestine and Syria and different countries of Africa and Europe. The Christian Church in the beginning experienced some confusion in connection with monasticism, for although it recognized abandonment of the world, celibacy and voluntary poverty as an ideal of spiritual life, yet it could not declare marriage, producing children and possessing property or money to be sinful as the monks did. Subsequently, under the influence of holy men like St. Athanasius (d. 373), St. Basil (d. 379), St. Augustine (d. 430) and Gregory the Great (d. 609) many of the monastic rules became part and parcel of the Church. This monastic innovation has some characteristics which are briefly as follows: (1) Inflicting pain on the body by severe exercises and novel methods. In this thing every monk tried to surpass the other. The achievements of these holy men as related in the memoirs of the Christian saints are to this effect: St. Macarius of Alexandria constantly carried on himself a weight of 80 pounds. For six months he slept in a swamp while poisonous flies preyed on his naked body. His disciple, St. Eusebius, even surpassed his master in suffering severities and rigours. He moved about carrying a weight of 150 pounds, and lay in a dry well for three years. St. Saba ate the maize that would start stinking having. been soaked in water for a whole Month. St. Bassarion lay in thorny bushes for 40 days and did not rest his back on the ground for 40 years. St. Pachomius passed 15 years of his life, and according to another tradition 50 years, without rating his back on the round St. John remained standing in worship for three years during which he neither sat nor (ay down; he would only recline at times against a rock. His food consisted of the offering that was brought for him every Sunday. St. Simeon Styiltes (390-449) who is counted among the most illustrious Christian saints, used to observe an un-broken 40 days fast and smiling. Owing to such concepts the bond of marriage between man and woman came to be looked upon as filthy. A monk was forbidden even to look at a woman, not to speak of marriage, and was required to abandon his wife if he was married. As for men it was also impressed on the women that if they wished to enter the Kingdom of Heaven, they should shun marriage and remain spinsters and if they were married, they should separate from their husbands. St. Jerome, the distinguished Christian scholar, ruled that the woman who remained a spinster as a nun for the sake of Christ, was the bride of Christ, and her mother was the mother-in-law of Christ, i.e. God. Elsewhere St. Jerome says: "To cut asunder the bond of marriage with the axe of chastity is the primary duty of the true devotee of God. " The first impact these teachings had on a Christian man or Christian woman, under religious fervour, was that his or her married life was ruined. And since there was no provision for divorce or separation in Christianity, the husband and the wife would separate from each other while they remained bound in wed-lock. St. Nilus was father of two children. When he came under the spell of monasticism, he immediately separated from his wife. St. Ammon, on the first night of his marriage, gave his bride a sermon on the filthiness of the marriage bond and then the two between themselves decided to keep aloof from each other throughout life. St. Abraham abandoned his wife on the very first night of marriage. The same was done by St. Alexis. The memoirs of the Christian saints are full of such incidents. The Church continued to resist in one way or the other these extremist concepts for three centuries. In those days it was not required of a priest to be single and unmarried. If he was married before being appointed a minister, he could keep his wife. However, he was forbidden to marry after his appointment. Moreover, a person could not be appointed a minister if he had married a widow, or a divorced woman, or had two wives, or possessed a concubine. Gradually, by the 4th century, the concept became firm that for a married person it was odious to perform religious services in the Church. The Council of Gengra (A.D. 362) was the last one in which such ideas wen held as anti-religious, but a little lour in 386, Roman Synod counselled the priests to avoid marriage relations and the following year Pope Siricius decreed that the priest who married, or continued to have sex relations with his wife if already married should be dismissed from office. Illustrious scholars like St. Ambrose, and St. Augustine upheld this decision most fervently, and after a little resistance it became fully enforced in the Western Church. In this period several councils were convened to consider the complaints to the effect that the people who were already marred were having "illicit" relations with their wives even after their appointment to perform religious duties. Consequently, with a view to reform them, rules were made to the effect that they should sleep in the open, should never meet their wives in private, and should meet them only in the presence of at (cast two other men. St. Gregory has made mention of a wonderful priest who did not have any relation with his wife for 40 years, and when the woman approached him at his death-bed, he rebuked her, saying: 'Woman. keep away !" (4) The most painful and pathetic chapter of ascetic monasticism is that it cut asunder man's relations with his parents, with his brothers and sisters, and even his children For the Christian saints love of the parents for son, love of the brothers and sisters for brother and love of the children for father also was sinful. They believed it was necessary for man to break off aII those relations for the sake of spiritual progress. In the biographies of the Christian saints one comes across highly pathetic and heart-rending incidents. A monk, St. Evagrius, had been undergoing severe exercises in the desert for many years. Suddenly one day letters reached him from his father and mother, who were passing their days in great agony without him. The saint, fearing that the letters might arouse feelings of human love in his heart, cast the letters immediately into the fire, without even opening them. The mother and sister of St. Theodorus came to the monastery where he was staying, with recommendatory letters from many priests, and desired to have only a glimpse of him, but the saint refused to come out before them. St. Marcus' mother went to the monastery to sec him. She somehow obtained the abbot's permission for it and requested him to order her son to come out before her, but the son was adamant to her prayers. At last, be implemented the abbot's orders by appearing before his mother disguised and with closed eyes. Thus, neither was the mother able to recognize her son, nor the son saw his mother. Another saint, St. Poemen ant his six brothers lived in a desert tnonastery of Egypt. Years later their old mother came to know of their whereabouts and went to sec them in the monastery. As soon as the brothers saw their mother coming, they hurried into their cell and shut the door. The mother started crying and wailing outside saying: "I have travelled in this old age from a distant place only to have a glimpse of you. There will be no harm if only I see you. Am I not your mother ?" But the saints did not open the door and told the mother that they would meet her in the next world. Even more painful and piteous is the story of St. Simeon Stylites, who left his parents and remained away from them without any trace of his where abouts for 27 years. The father died of grief. When the fame of the son's piety and holiness spread the mother, who was still living in agony, came to know of his whereabouts. She came to the monastery to see him but women were not allowed to enter. She prayed that either the son should call her in, or he should himself conic out to let her have a glimpse of him, but "the saint" before Easter every year. Once he kept standing on one leg for a whole year. Often he would leave his monastery and retire to a well. Later he got a 60 foot high pillar erected near Antioch, which was three feet wide at the top and railed round. He spent the last 30 years of his life on this pillar and remained permanently exposed to the elements. His disciples carried food to him by ladder and removed his filth. He had even tied himself to the pillar by a string, which cut into his flesh; when the flesh became rotten, it bred worms; whenever a worm fell out, he would restore it to the sore, saying: "Eat what God has given you Crowds of pilgrims flocked to him from far and near. When he died the Christian world proclaimed that he was the best model of a Christian saint. The memoirs of the Christian saints of this period are full of such instances. One particular saint had the characteristic that he observed silence for 30 years: he was never seen speaking. Another had tied himself to a rock; another roamed the jungles and lived on grass; another moved about carrying a heavy load; another kept his limbs and body tied in fetters and chains; some saints lived in the dens of beasts, or in dry wells, or in old graves; and some others remained naked and concealed their private parts under long hair and would crawl on the ground. After death the bones of the illustrious saints were preserved in monastery. I saw a full library decked with such bones in St. Catherine's monastery at the foot of Mount Sinai. There were skulls and foot-bones and handbones arranged separately. A glass-case contained the whole skeleton of a saint. (2) Their second characteristic was that they were dirty and strictly cleanliness and bodily care. Washing or applying water to the body was regarded as opposed to God-worship, for according to them puriflcation of the body was tantamount to pollution of the soul. St. Athanasius has faithfully described this virtue of St. Anthony that he never washed his feet during life. St. Abraham from the day he entered Christianity neither washed his face nor feet for 50 years. A famous nun Virgin Sylvia, never allowed any part of her body except the fingers to become wet with water throughout life It is said of 130 nuns of 8 convent that they never washed their feet and would shudder with horror at a mere reference to bath. (3) Monasticism practically forbade married life and ruthlessly discarded the institution of marriage. All religious writings of the 4th and 5th centuries are replete with the thought that celibacy is the highest moral virtue, and chastity meant that one should strictly abstain from sexual relation even if it was between husband and wife. The perfection of a pure spiritual life lay in complete self-denial, with no desire for physical pleasure. It was . necessary to suppress any carnal desire because it strengthened animality. For them pleasure and sin were synonymous so much so that being happy was regarded as being forgetful of God. St. Basil forbade even laughing refused to oblige her. The woman lay at the entrance for three days and three nights and at last breathed her last in the same state. Then the holy man emerged from his seclusion, mourned his mother's death and prayed for her forgiveness. In the same harsh way these saints treated their sisters and children. There is the story of Mutius, a prosperous man by aII means. Drawn out suddenly by the religious impulse, he took his 8-year-old son and went to a monastery. But for the sake of his progress to holiness it was necessary that he should give up love of his son. Therefore, first the son was separated from him Then the innocent child was subjected to harsh treatment before his very eyes and he watched it patiently. Then, the. abbot of the monastery ordered him to go and Cast the child into the river. He became ready even for this; then right at the time when he was going to throw the child into the river, the monks saved the child's life. then it was admitted that he had actually attained td the rank of a holy man. The viewpoint of Christian monasticism in these matters was that the one who sought love of God, should break off all relations of human love that bound him in the world to his parents, his brothers and sisters and his children. St. Jerome says, "Even if your nephew clings to you with his hands round your neck; even if your mother calls you back in the name of having suckled you; even if your father obstructs your way and lies down before you, you should hasan out to the banner of the cross, trampling the body of your father, without shedding a tear. Ruthlessness in this mater is piety itself." St. Gregory writes, "A young monk who could not give up love of his parents, left the monastery one night in order to pay them a visit. God punished him for this error, for as soon as he returned to the monastery, he died. His body was buried in the grave but the earth did not accept it. He was placed in the grave again and again, and the earth threw him out every time. At last, St. Benedict placed a sacred offering on his chest, and then the grave accepted him." Of a nun it is said that for three days after her death, she remained subject to a torment because she had not been able to cleanse her heart of her mother's lout. About a saint it is written that he never treated anyone harshly except his relatives. (5) Their practice of meting out ruthless, cruel and harsh treatment to their nearest relatives, made their human feeling dead, with the result that they would treat with utmost enmity those with whom they had any religious differences. By the beginning of the 4th century, 80 to 90 religious sects had arisen in Christianity. St. Augustine has made mention of 88 sects of his own time, each of which regarded the other with extreme hatred. And the fire of this hatred also was fanned by the monks, who were always in the forefront to hahtt and destroy the opponent sects by their machinations. Alexandria was a great cenur of this sectarian conflict. There, in the beginning the Bishop of the Arian sect attacked the Athanasius party. Virgin nuns were dragged out of their convents, stripped naked and beaten with thorny branches and branded in order to make them give up their creed. Then, when the Roman Catholics came to power in Egypt, they treated the Arian' sect likewise; so much so that according to the prevalent view Arius himself also was poisoned. Once on the same city of Alexandria the monks of St.' Cyril created a turmoil They seized a nun of the opponent sect and took her into their church; they killed her, backed her body to pieces, and cast it into the fire. Rome was not any different from this. In 366, at the death of Pope Liberius, two sects nominated their respective candidates for papacy; this resulted in great bloodshed; so much so that in one day 137 dead bodies were taken out from one church. (6) Side by side with this retreat from the world and life of seclusion and poverty, wealth of the world also was amassed most avariciously. By the b-ginning of the 5th century the condition was that the bishop of Rome lived in his palace like kings, and when his conveyance emerged in the city, it would be as stately and splendid as of the emperor himself. St. Jerome complains of the conditions of his time (later part of the 4th century) saying that the feast hosted by many of the bishops out-classed the feasts of the governors. The flow of wealth to monasteries and churches had assumed the proportions of a deluge by the beginning of the 7th century (the age of the revelation of the Qur'an). It had been deeply impressed on the minds that a person who happened to commit a grave sin could be redeemed only by making an offering at a saint's shrine, or a sacrifice at the altar of a church or monastery. Then the same world and its luxuries and comforts abstention from which was the mark of distinction of the monks, lay at their feet. The factor which, in particular, caused this decline was that when the common people developed extreme reverence for the monks because of their undergoing severe exercises of self-discipline and self-denial, hosts of world seeking people also donned the monk's garments and entered their ranks. Then under the garb of feigned poverty they turned acquisition of worldly wealth and possessions into a flourishing business. (7) In the matter of chastity also monasticism was repeatedly defeated in its fight against nature and defeated well and proper. In the monasteries some exercises of self-mortification were such as required the monks and nuns to live together in one and the same place, and they had often to pass the night in the same bed in their enthusiasm for more and more temptations. St. Evagarius, the well-known monk, has praised the self-control acquired by the Palestinian monks, saying: "They had mastered their passion so completely that although they bathed with the women together, looked at their bodice, touched them, even embraced them, yet they remained invincible to nature." Although bathing was an odious thing in monasticism, such baths were also taken for the sake of exercise in self-control. At last, about the same Palestine, St. Gregory of Nyssa (d. 396) writes that it bas become a centre of wickedness and immorality. Human nature avenges itself on those who fight it. Monasticism fought it and ultimately fell in the pit of immorality the story of which is a most shameful blot on the religious history of the 8th to 11th centuries. An Italian bishop of the 10th century writes: "If the penal law for misconduct is practically enforced against those who perform religious services in the church, none would escape punishment except the boys, and if the law to remove illegitimate children from religious services was also enforced, there might perhaps be left no boy among the attendants of the church. " Books of the medieval authors are replete with the complaints that the nunneries had become houses of prostitution. Within their four walls newborn babies were being massacred; the priests and religious attendants of the church had developed illicit connections even with forbidden relatives; the crime of the mtnatural act had spread like an epidemic in the monasteries; and the practice of confession had become a means of immorality in the churches. From these details one can fully appreciate what corruption of Christianity is the Qur'iin alluding to when it says: "The Christians themselves invented monasticism, but they did not observe it as it should have been observed."

سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :51 اصل الفاظ ہیں رافت اور رحمت ۔ یہ دونوں لفظ قریب قریب ہم معنی ہیں مگر جب یہ ایک ساتھ بولے جاتے ہیں تو رافت سے مراد وہ رقیق القلبی ہوتی ہے جو کسی کو تکلیف و مصیبت میں دیکھ کر ایک شخص کے دل میں پیدا ہو ۔ اور زحمت سے مراد وہ جذبہ ہوتا ہے جس کے تحت وہ اس کی مدد کی کوشش کرے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ نہایت رقیق القلب اور خلق خدا کے لیے رحیم و شفیق تھے ۔ اس لیے ان کی سیرت کا یہ اثر ان کے پیروؤں میں سرایت کر گیا کہ وہ اللہ کے بندوں پر ترس کھاتے تھے اور ہمدردی کے ساتھ ان کی خدمت کرتے تھے ۔ سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :52 اس کا تلفظ رَہْبانیت بھی کیا جاتا ہے اور رُہبانیت بھی ۔ اس کا مادہ رَہب ہے جس کے معنی خوف کے ہیں ۔ رَہبانیت کا مطلب ہے مسلک خوف زدگی ، اور رُہبانیت کے معنی ہیں مسلک خوف زدگان ۔ اصطلاحاً اس سے مراد ہے کسی شخص کا خوف کی بنا پر ( قطع نظر اس سے کہ وہ کسی کے ظلم کا خوف ، یا اپنے نفس کی کمزوریوں کا خوف ) تارک الدنیا بن جانا اور دنیوی زندگی سے بھاگ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں پناہ لینا یا گوشہ ہائے عزلت میں جا بیٹھنا ۔ سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :53 اصل الفاظ ہیں اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللہ ۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہم نے ان پر اس رہبانیت کو فرض نہیں کیا تھا بلکہ جو چیز ان پر فرض کی تھی وہ یہ تھی کہ وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ یہ رہبانیت ہماری فرض کی ہوئی نہ تھی بلکہ اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے اسے خود اپنے اوپر فرض کر لیا تھا ۔ دونوں صورتوں میں یہ آیت اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ رہبانیت ایک غیر اسلامی چیز ہے اور یہ کبھی دین حق میں شامل نہیں رہی ہے ۔ یہ بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے کہ : لَا رَھبَانیّۃ فی الاسْلام ، اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں ( مسند احمد ) ۔ ایک اور حدیث میں حضور نے فرمایا رھبانیۃ ھٰذہ الامّۃ الجھاد فی سبیل اللہ ، اس امت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللہ ہے مسند احمد ۔ مسند ابی یَعلیٰ ) ۔ یعنی اس امت کے لیے روحانی ترقی کا راستہ ترک دنیا نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے ، اور یہ امت فتنوں سے ڈر کر جنگلوں اور پہاڑوں کی طرف نہیں بھاگتی بلکہ راہ خدا میں جہاد کر کے ان کا مقابلہ کرتی ہے ۔ بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ صحابہ میں سے ایک صاحب نے کہا میں ہمیشہ ساری رات نماز پڑھا کروں گا ، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور کبھی ناغہ نہ کروں گا ، تیسرے نے کہا میں کبھی شادی نہ کروں گا اور عورت سے کوئی واسطہ نہ رکھوں گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ باتیں سنیں تو فرمایا اماد اللہ انی لأخشاکم للہ واتقاکم لَہ لکنی اصوم و اُفطر واُصلی و ارقد و اتزوج النساء فمن رغب عن سنتی فلیس منی خدا کی قسم میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرتا اور اس سے تقویٰ کرتا ہوں ۔ مگر میرا طریقہ یہ ہے کہ روزہ رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا ، راتوں کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ۔ جس کو میرا طریقہ پسند نہ ہو اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے لا تشددوا علیٰ انفسکم فیشدد اللہ علیکم فان قوما شددوا فشدد اللہ علیہ فتلک بقایاھم فی الصوامع والدیار ۔ اپنے اوپر سختی نہ کرو کہ اللہ تم پر سختی کرے ۔ ایک گروہ نے یہی تشدد اختیار کیا تھا تو اللہ نے بھی پھر اسے سخت پکڑا ۔ دیکھ لو ، وہ ان کے بقایا راہب خانوں اور کنیسوں میں موجود ہیں ۔ ( ابوداؤد ) ۔ سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :54 یعنی وہ دہری غلطی میں مبتلا ہو گئے ۔ ایک غلطی یہ کہ اپنے اوپر وہ پابندیاں عائد کیں جن کا اللہ نے کوئی حکم نہ دیا تھا ۔ اور دوسری غلطی یہ کہ جن پابندیوں کو اپنے نزدیک اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ سمجھ کر خود اپنے اوپر عائد کر بیٹھے تھے ان کا حق ادا نہ کیا اور وہ حرکتیں کیں جن سے اللہ کی خوشنودی کے بجائے الٹا اس کا غضب مول لے بیٹھے ۔ اس مقام کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ایک نظر مسیحی رہبانیت کی تاریخ پر ڈال لینی چاہیے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد دو سو سال تک عیسائی کلیسا رہبانیت سے ناآشنا تھا ۔ مگر ابتدا ہی سے مسیحیت میں اس کے جراثیم پائے جاتے تھے اور وہ تخیلات اس کے اندر موجود تھے جو اس چیز کو جنم دیتے ہیں ۔ ترک و تجرید کو اخلاقی آئیڈیل قرار دینا اور درویشانہ کو شادی بیاہ اور دنیوی کاروبار کی زندگی کے مقابلے میں اعلیٰ و افضل سمجھنا ہی رہبانیت کی بنیاد ہے ، اور یہ دونوں چیزیں مسیحیت میں ابتدا سے موجود تھیں ۔ خصوصیت کے ساتھ تجرد کو تقدس کا ہم معنی سمجھنے کی وجہ سے کلیسا میں مذہبی خدمات انجام دینے والوں کے لیے یہ بات ناپسندیدہ خیال کی جاتی تھی کہ وہ شادی کریں ، بال بچوں والے ہوں اور خانہ داری کے بکھیڑوں میں پڑیں ۔ اسی چیز نے تیسری صدی تک پہنچتے پہنچتے ایک فتنے کی شکل اختیار کر لی اور رہبانیت ایک وبا کی طرح مسیحیت میں پھیلنی شروع ہوئی ۔ تاریخی طور پر اس کے تین بڑے اسباب تھے : ایک یہ کہ قدیم مشرک سوسائٹی میں شہوانیت ، بد کرداری اور دنیا پرستی جس شدت کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی اس کا توڑ کرنے کے لیے عیسائی علماء نے اعتدال کی راہ اختیار کرنے کے بجائے انتہا پسندی کی راہ اختیار کی ۔ انہوں نے عفت پر اتنا زور دیا کہ عورت اور مرد کا تعلق بجائے خود نجس قرار پا گیا ، خواہ وہ نکاح ہی کی صورت میں ہو ۔ انہوں نے دنیا پرستی کے خلاف اتنی شدت برتی کہ آخر کار ایک دین دار آدمی کے لیے سرے سے کسی قسم کی املاک رکھنا ہی گناہ بن گیا اور اخلاق کا معیار یہ ہو گیا کہ آدمی بالکل مفلس اور ہر لحاظ سے تارک الدنیا ہو ۔ اسی طرح مشرک سوسائٹی کی لذت پرستی کے جواب میں وہ اس انتہا پر جا پہنچے کہ ترک الذات ، نفس کو مارنا اور خواہشات کا قلع قمع کر دینا اخلاق کا مقصود بن گیا ، اور طرح طرح کی ریاضتوں سے جسم کو اذیتیں دینا آدمی کی روحانیت کا کمال اور اس کا ثبوت سمجھا جانے لگا ۔ دوسرے یہ کہ مسیحیت جب کامیابی کے دور میں داخلہ ہو کر عوام میں پھیلنی شروع ہوئی تو اپنے مذہب کی توسیع و اشاعت کے شوق میں کلیسا ہر اس برائی کو اپنے دائرے میں داخل کرتا چلا گیا جو عام لوگوں میں مقبول تھی ۔ اولیاء پرستی نے قدیم معبودوں کی جگہ لے لی ۔ ہورس ( Horus ) اور آئسس ( Isis ) کے مجسموں کی جگہ مسیح اور مریم کے بت پوجے جانے لگے ۔ سیٹرنیلیار ( Saturnalia ) کی جگہ کرسمس کا تہوار منایا جانے لگا ۔ قدیم زمانے کے تعویذ گنڈے ، عملیات ، فال گیری و غیب گوئی جن بھوت بھگانے کے عمل ، سب عیسائی درویشوں نے شروع کر دیے ۔ اسی طرح چونکہ عوام اس شخص کو خدا رسیدہ سمجھتے تھے جو گندا اور ننگا ہو اور کسی بھٹ یا کھوہ میں رہے ، اس لیے عیسائی کلیسا میں ولایت کا یہی تصور مقبول ہو گیا اور ایسے ہی لوگوں کی کرامتوں کے قصوں سے عیسائیوں کے ہاں تذکرۃ الاولیاء قسم کی کتابیں لبریز ہو گئیں ۔ تیسرے یہ کہ عیسائیوں کے پاس دین کی سرحدیں متعین کرنے کے لیے کوئی مفصل شریعت اور کوئی واضح سنت موجود نہ تھی ۔ شریعت موسوی کو وہ چھوڑ چکے تھے ، اور تنہا انجیل کے اندر کوئی مکمل ہدایت نامہ نہ پایا جاتا تھا ۔ اس لیے مسیحی علماء کچھ باہر کے فلسفوں اور طور طریقوں سے متاثر ہو کر اور کچھ خود اپنے رجحانات کی بنا پر طرح طرح کی بدعتیں دین میں داخل کرتے چلے گئے ۔ رہبانیت بھی انہی بدعتوں میں سے ایک تھی ۔ مسیحی مذہب کے علماء اور ائمۃ نے اس کا فلسفہ اور اس کا طریق کار بدھ مذہب کے بھکشوؤں سے ہندو جوگیوں اور سنیاسیوں سے ، قدیم مصری فقراء ( Anchorites ) سے ، ایران کے مانویوں سے ، اور افلاطینوس کے پیرو اشراقیوں سے اخذ کیا اور اسی کو تزکیہ نفس کا طریقہ ، روحانی ترقی کا ذریعہ ، اور تقرب الی اللہ کا وسیلہ قرار دے لیا ۔ اس غلطی کے مرتکب کوئی معمولی درجہ کے لوگ نہ تھے ۔ تیسری صدی سے ساتویں صدی عیسوی ( یعنی نزول قرآن کے زمانے ) تک جو لوگ مشرق اور مغرب میں مسیحیت کے اکابر علماء ، بزرگ ترین پیشوا اور امام مانے جاتے ہیں ، سینٹ اَتھانا سیوس ، سینٹ باسل ، سینٹ گریگوری نازیا نزین ، سینٹ کرائی سُوسٹم ، سینٹ اَیمبروز ، سینٹ جیروم ، سینٹ آگسٹائن ، سینٹ بینیڈکٹ ، گریگوری اعظم ، سب کے سب خود راہب اور رہبانیت کے زبردست علمبردار تھے ۔ انہی کی کوششوں سے کلیسا میں رہبانیت نے رواج پایا ۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں میں رہبانیت کا آغاز مصر سے ہوا ۔ اس کا بانی سینٹ اینتُھنی ( St. Anthony ) تھا جو 250 میں پیدا ہوا اور 350 میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ اسے پہلا مسیحی راہب قرار دیا جاتا ہے ۔ اس نے فَیُّوم کے علاقے میں پَسپیر کے مقام پر ( جو اب دیرالمیمون کے نام سے معروف ہے ) پہلی خانقاہ قائم کی ۔ اس کے بعد دوسری خانقاہ اس نے بحر احمر کے ساحل پر قائم کی جسے اب دیر مارُ انْطُونیوس کہا جاتا ہے ۔ عیسائیوں میں رہبانیت کے بنیادی قواعد اس کی تحریروں اور ہدایات سے ماخوذ ہیں ۔ اس آغاز کے بعد یہ سلسلہ مصر میں سیلاب کی طرح پھیل گیا اور جگہ جگہ راہبوں اور راہبات کے لیے خانقاہیں قائم ہو گئیں جن میں سے بعض میں تین تین ہزار راہب بیک وقت رہتے تھے ۔ 325 میں مصر ہی کے اندر ایک اور مسیحی ولی پاخومیوس نمودار ہوا جس نے دس بڑی خانقاہیں راہبین و راہبات کے لیے بنائیں ۔ اس کے بعد یہ سلسلہ شام و فلسطین اور افریقہ و یورپ کے مختلف ملکوں میں پھیلتا چلا گیا ۔ کلیسائی نظام کو اول اول اس رہبانیت کے معاملہ میں سخت الجھن سے سابقہ پیش آیا ، کیونکہ وہ ترک دنیا اور تجرد اور غریبی و مفلسی کو روحانی زندگی کا آئیڈیل تو سمجھتا تھا ، مگر راہبوں کی طرح شادی بیاہ اور اولاد پیدا کرنے اور ملکیت رکھنے کو گناہ بھی نہ ٹھہرا سکتا تھا ۔ بالآخر سینٹ اَتھانا سیوس ( متوفی 373 ء ) سینٹ باسِل ( متوفی 379 ء ) ، سینٹ آگسٹائن ( متوفی 430 ء ) اور گریگوری اعظم ( متوفی 609 ء ) جیسے لوگوں کے اثر سے رہبانیت کے بہت سے قواعد چرچ کے نظام میں باقاعدہ داخل ہو گئے ۔ اس راہبانہ بدعت کی چند خصوصیات تھیں جنہیں ہم اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں : ( 1 ) سخت ریاضتوں اور نت نئے طریقوں سے اپنے جسم کو اذیتیں دینا ۔ اس معاملہ میں ہر راہب دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتا تھا ۔ عیسائی اولیاء کے تذکروں میں ان لوگوں کے جو کمالات بیان کیے گئے ہیں وہ کچھ اس قسم کے ہیں : اسکندریہ کا سینٹ مکاریوس ہر وقت اپنے جسم پر 80 پونڈ کا بوجھ اٹھائے رکھتا تھا ۔ 6 مہینے تک وہ ایک دلدل میں سوتا رہا اور زہریلی مکھیاں اس کے برہنہ جسم کو کاٹتی رہیں ۔ اس کے مرید سینٹ یوسیبیوس نے پِیْر سے بھی بڑھ کر ریاضت کی ۔ وہ 150 پونڈ کا بوجھ اٹھائے پھرتا تھا اور 3 سال تک ایک خشک کنویں میں پڑا رہا ۔ سینٹ سابیوس صرف وہ مکئی کھاتا تھا جو مہینہ بھر پانی میں بھیگ کر بدبو دار ہو جاتی تھی ۔ سینٹ بیساریون 40 دن تک خاردار جھاڑیوں میں پڑا رہا اور 40 سال تک اس نے زمین کو پیٹھ نہیں لگائی ۔ سینٹ پا خومیوس نے 15 سال ، اور ایک روایت کے مطابق پچاس سال زمین کو پیٹھ لگائے بغیر گزار دیے ۔ ایک ولی سینٹ جان تین سال تک عبادت میں کھڑا رہا ۔ اس پوری مدت میں وہ نہ کبھی بیٹھا نہ لیٹا ۔ آرام کے لیے جس ایک چٹان کا سہارا لے لیتا تھا اور اس کی غذا صرف وہ تبرک تھا جو ہر اتوار کو اس کے لیے لایا جاتا تھا ۔ سینٹ سِیمیون اِسٹائلائٹ ( 390 449 ء ) جو عیسائیوں کے اولیائے کبار میں شمار ہوتا ہے ، ہر ایسٹر سے پہلے پورے چالیس دن فاقہ کرتا تھا ۔ ایک دفعہ وہ پورے ایک سال تک ایک ٹانگ پر کھڑا رہا ۔ بسا اوقات وہ اپنی خانقاہ سے نکل کر ایک کنویں میں جا رہتا تھا ۔ آخر کار اس نے شمالی شام کے قلعہ سیمان کے قریب 60 فیٹ بلند ایک ستون بنوایا جس کا بالائی حصہ صرف تین فیٹ کے گھیر میں تھا اور اوپر کٹہرا بنا دیا گیا تھا ۔ اس ستون پر اس نے پورے تیس سال گزار دیے ۔ دھوپ ، بارش ، سردی ، گرمی سب اس پر سے گزرتی رہتی تھیں اور وہ کبھی ستون سے نہ اترتا تھا ۔ اس کے مرید سیڑھی لگا کر اس کو کھانا پہنچاتے اور اس کی گندگی صاف کرتے تھے ۔ پھر اس نے ایک رسی لے کر اپنے آپ کو اس ستوں سے باندھ لیا یہاں تک کہ رسی اس کے گوشت میں پیوست ہو گئی ، گوشت سڑ گیا اور اس میں کیڑے پڑ گئے ۔ جب کوئی کیڑا اس کے پھوڑوں گر جاتا تو وہ اسے اٹھا کر پھر پھوڑے ہی میں رکھ لیتا اور کہتا کھا جو کچھ خدا نے تجھے دیا ہے مسیحی عوام دور دور سے اس کی زیارت کے لیے آتے تھے ۔ جب وہ مرا تو مسیحی عوام کا فیصلہ یہ تھا کہ وہ عیسائی ولی کی بہترین مثال تھا ۔ اس دور کے عیسائی اولیاء کی جو خوبیاں بیان کی گئی ہیں وہ ایسی ہی مثالوں سے بھری پری ہیں ۔ کسی ولی کی تعریف یہ تھی کہ 30 سال تک وہ بالکل خاموش رہا ور کبھی اسے بولتے نہ دیکھا گیا ۔ کسی نے اپنے آپ کو ایک چٹان سے باندھ رکھا تھا ۔ کوئی جنگلوں میں مارا مارا پھرتا اور گھاس پھونس کھا کر گزارا کرتا ۔ کوئی بھاری بوجھ ہر وقت اٹھائے پھرتا ۔ کوئی طوق و سلاسل سے اپنے اعضا جکڑے رکھتا ۔ کچھ حضرات جانوروں کے بھٹوں ، یا خشک کنوؤں ، یا پرانی قبروں میں رہتے تھے ۔ اور کچھ دوسرے بزرگ ہر وقت ننگے رہتے اور اپنا ستر اپنے لمبے لمبے بالوں سے چھپاتے اور زمین پر رینگ کر چلتے تھے ۔ ایسے ہی ولیوں کی کرامات کے چرچے ہر طرف پھیلے ہوئے تھے اور ان کے مرنے کے بعد ان کی ہڈیاں خانقاہوں میں محفوظ رکھی جاتی تھیں ۔ میں نے خود کوہ سینا کے نیچے سینٹ کیتھرائن کی خانقاہ میں ایسی ہی ہڈیوں کی ایک پوری لائبریری سجی ہوئی دیکھی ہے جس میں کہیں اولیاء کی کھوپڑیاں قرینے سے رکھی ہوئی تھیں ، کہیں پاؤں کی ہڈیاں ، اور کہیں ہاتھوں کی ہڈیاں ۔ اور ایک ولی کاتو پورا ڈھانچہ ہی شیشے کی ایک الماری میں رکھا ہوا تھا ۔ ( 2 ) ان کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہر وقت گندے رہتے اور صفائی سے سخت پرہیز کرتے تھے ۔ نہانا یا جسم کو پانی لگانا ان کے نزدیک خدا پرستی کے خلاف تھا ۔ جسم کی صفائی کو وہ روح کی نجات سمجھتے تھے ۔ سینٹ اتھاناسیوس بڑی عقیدت کے ساتھ سینٹ اینتُھنی کی یہ خوبی بیان کرتا ہے کہ اس نے مرتے دم تک کبھی اپنے پاؤں نہیں دھوئے ۔ سینٹ ابراہام جب سے داخل مسیحیت ہوا ، پورے 5 سال اس نے نہ منہ دھویا نہ پاؤں ۔ ایک مشہور راہبہ کنواری سلوِیا نے عمر بھر اپنی انگلیوں کے سوا جسم کے کسی حصے پانی نہیں لگنے دیا ۔ ایک کانونٹ کی 130 راہبات کی تعریف میں لکھا ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے پاؤں نہیں دھوئے ، اور غسل کا تو نام سن کر ہی ان کے بدن پر لرزہ چڑھ جاتا تھا ۔ ( 3 ) اس رہبانیت نے ازدواجی زندگی کو عملاً بالکل حرام کر دیا اور نکاح کے رشتے کو کاٹ پھینکنے میں سخت بیدردی سے کام لیا ۔ چوتھی اور پانچویں صدی کی تمام مذہبی تحریریں اس خیال سے بھری ہوئی ہیں کہ تجرد سب سے بڑی اخلاقی قدر ہے ، اور عفت کے معنی یہ ہیں کہ آدمی جنسی تعلق سے قطعی احتراز کرے خواہ وہ میاں اور بیوی کا تعلق ہی کیوں نہ ہو ۔ پاکیزہ روحانی زندگی کا کمال یہ سمجھا جاتا تھا کہ آدمی اپنے نفس کو بالکل مار دے اور اس میں جسمانی لذت کی کوئی خواہش تک باقی نہ چھوڑے ۔ ان لوگوں کے نزدیک خواہش کو مار دینا اس لیے ضروری تھا کہ اس سے حیوانیت کو تقویت پہنچتی ہے ، ان کے نزدیک لذت اور گناہ ہم معنی تھے ، حتیٰ کہ مسرت بھی ان کی نگاہ میں خدا فراموشی کی مترادف تھی ۔ سینٹ باسل ہنسنے اور مسکرانے تک کو ممنوع قرار دیتا ہے ۔ ان ہی تصورات کی بنا پر عورت اور مرد کے درمیان شادی کا تعلق ان کے ہاں قطعی نجس قرار پا گیا تھا ۔ راہب کے لیے ضروری تھا کہ وہ شادی کرنا تو در کنار ، عورت کی شکل تک نہ دیکھے ، اور اگر شادی شدہ ہو تو بیوی کو چھوڑ کر نکل جائے ۔ مردوں کی طرح عورتوں کے دل میں بھی یہ بات بٹھائی گئی تھی کہ وہ اگر آسمانی بادشاہت میں داخل ہونا چاہتی ہیں تو ہمیشہ کنواری رہیں ، اور شادی شدہ ہوں تو اپنے شوہروں سے الگ ہو جائیں ۔ سینٹ جِیروم جیسا ممتاز مسیحی عالم کہتا ہے کہ جو عورت مسیح کی خاطر راہبہ بن کر ساری عمر کنواری رہے وہ مسیح کی دلہن ہے اور اس عورت کی ماں کو خدا ، یعنی مسیح ، کی ساس ( Mother-in-law of God ) ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ ایک اور مقام پر سینٹ جیروم کہتا ہے کہ عفت کی کلہاڑی سے ازدواجی تعلق کی لکڑی کو کاٹ پھینکنا سالک کا اولین کام ہے ۔ ان تعلیمات کی وجہ سے مذہبی جذبہ طاری ہونے کے بعد ایک مسیحی مرد یا ایک مسیحی عورت پر اس کا پہلا اثر یہ ہوتا تھا کہ اس کی خوش گوار ازدواجی زندگی ہمیشہ کے لیے ختم کے لیے ختم ہو جاتی تھی ۔ اور چونکہ مسیحیت میں طلاق و تفریق کا راستہ بند تھا ، اس لیے نکاح کے رشتے میں رہتے ہوئے میاں اور بیوی ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے تھے ۔ سینٹ نائلس St. Nitus دو بچوں کا باپ تھا ۔ جب اس پر رہبانیت کا دورہ پڑا تو اس کی بیوی روتی رہ گئی اور سہ اس سے الگ ہو گیا ۔ سینٹ اَمون ( St. Ammon ) نے شادی کی پہلی رات ہی اپنی دلہن کو ازدواجی تعلق کی نجاست پر وعظ سنایا اور دونوں نے بالاتفاق طے کر لیا کہ جیتے جی ایک دوسرے سے الگ رہیں گے ۔ سینٹ ابراہام شادی کی پہلی رات ہی اپنی بیوی کو چھوڑ کر فرار ہو گیا ۔ یہی حرکت سینٹ ایلیکسس ( St. Alexis ) نے کی ۔ اس طرح کے واقعات سے عیسائی اولیاء کے تذکرے بھرے پڑے ہیں ۔ کلیسا کا نظام تین صدیوں تک اپنے حدود میں ان انتہا پسندانہ تصورات کی کسی نہ کسی طرح مزاحمت کرتا رہا ۔ اس زمانے میں ایک پادری کے لیے مجرد ہونا لازم نہ تھا ۔ اگر اس نے پادری کے منصب پر فائز ہونے سے پہلے شادی کر رکھی ہو تو وہ بیوی کے ساتھ رہ سکتا تھا ، البتہ تقرر کے بعد شادی کرنا اس کے لیے ممنوع تھا ۔ نیز کسی ایسے شخص کو پادری مقرر نہیں کیا جا سکتا تھا جس نے کسی بیوہ یا مطلقہ سے شادی کی ہو ، یا جس کی دو بیویاں ہوں ، یا جس کے گھر میں لونڈی ہو ۔ رفتہ رفتہ چوتھی صدی میں یہ خیال پوری طرح زور پکڑ گیا کہ جو شخص کلیسا میں مذہبی خدمات انجام دیتا ہو اس کے لیے شادی شدہ ہونا بڑی گھناؤنی بات ہے ۔ 362 کی گنگرا کونسل ( Council of Gengra ) آخری مجلس تھی جس میں اس طرح کے خیالات کو خلاف مذہب ٹھیرایا گیا ۔ مگر اس کے تھوڑی ہی مدت بعد 386 کی رومن سیناڈ ( Synod ) نے تمام پادریوں کو مشورہ دیا کہ وہ ازدواجی تعلقات سے کنارہ کش رہیں ، اور دوسرے سال پوپ سائر یکیس ( Siricius ) نے حکم دے دیا کہ جو پادری شادی کرے ، شادی شدہ ہونے کی صورت میں اپنی بیوی سے تعلق رکھے ، اس کو اس منصب سے معزول کر دیا جائے ۔ سینٹ جیروم ، سینٹ ایمبروز ، اور سینٹ آگسٹائن جیسے اکابر علماء نے بڑے زور شور سے اس فیصلے کی حمایت کی اور ٹھوڑی سے مزاحمت کے بعد مغربی کلیسا میں یہ پوری شدت کے ساتھ نافذ ہو گیا ۔ اس دور میں متعدد کو نسلیں ان شکایات پر غور کرنے کے لیے منعقد ہوئیں کہ جو لوگ پہلے سے شادی شدہ تھے وہ مذہبی خدمات پر مقرر ہونے کے بعد بھی اپنی بیویوں کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھتے ہیں ۔ آخر کار ان کی اصلاح کے لیے یہ قواعد بنائے گئے کہ وہ کھلے مقامات پر سوئیں ، اپنی بیویوں سے کبھی علیحدگی میں نہ ملیں ، اور ان کی ملاقات کے وقت کم از کم دو آدمی موجود ہوں ۔ سینٹ گریگوری ایک پادری کی تعریف میں لکھتا ہے کہ 40 سال تک وہ اپنی بیوی سے الگ رہا حتیٰ کہ مرتے وقت جب اس کی بیوی اس کے قریب گئی تو اس نے کہا ، عورت ، دور ہٹ جا ! ( 4 ) سب سے زیادہ درد ناک باب اس رہبانیت کا یہ ہے کہ اس نے ماں باپ ، بھائی بہنوں کی محبت ، اور باپ کے لیے اولاد تک سے آدمی کا رشتہ کاٹ دیا ۔ مسیحی ولیوں کی نگاہ میں بیٹے کے لیے ماں باپ کی محبت ، بھائی کے لیے بھائی بہنوں کی محبت ، اور باپ کے لیے اولاد کی محبت بھی ایک گناہ تھی ۔ ان نزدیک روحانی ترقی کے لیے یہ ناگزیر تھا کہ آدمی ان سارے تعلقات کو توڑ دے ۔ مسیحی اولیاء کے تذکروں میں اس کے ایسے ایسے دل دوز واقعات ملتے ہیں جنہیں پڑھ کر انسان کے لیے ضبط کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ایک راہب ایوا گریَس ( Evagrius ) سالہا سال سے صحرا میں ریاضتیں کر رہا تھا ۔ ایک روز یکایک اس کے پاس اس کی ماں اور اس کے باپ کے خطوط پہنچے جو رسوں سے اس کی جدائی میں تڑپ رہے تھے ۔ اسے اندیشہ ہوا کہ کہیں ان خطوں کو پڑھ کر اس کے دل میں انسانی محبت کے جذبات نہ جاگ اٹھیں ۔ اس نے ان کو کھولے بغیر فوراً آگ میں جھونک دیا ۔ سینٹ تھیوڈورس کی ماں اور بہن بہت سے پادریوں کے سفارشی خطوط لے کر اس خانقاہ میں پہنچیں جس میں وہ مقیم تھا اور خواہش کی کہ وہ صرف ایک نظر بیٹے اور بھائی کو دیکھ لیں ۔ مگر اس نے ان کے سامنے آنے تک سے انکار کر دیا ۔ سینٹ مارکس ( St. Marcus ) کی ماں اس سے ملنے کے لیے اس کی خانقاہ میں گئی اور خانقاہ کے شیخ ( Abbot ) کی خوشامدیں کر کے اس کو راضی کیا کہ وہ بیٹے کو ماں کے سامنے آنے حکم دے ۔ مگر بیٹا کسی طرح ماں سے نہ ملنا چاہتا تھا ۔ آخر کار اس نے شیخ کے حکم کی تعمیل اس طرح کی کہ بھیس بدل کر ماں کے سامنے گیا اور آنکھیں بند کرلیں اس طرح نہ ماں نے بیٹے کو پہچانا ، نہ بیٹے نے ماں کی شکل دیکھی ۔ ایک اور ولی سینٹ پوئمن ( St. Poemen ) اور اس کے 6 بھائی مصر کی ایک صحرائی خانقاہ میں رہتے تھے ۔ برسوں بعد ان کی بوڑھی ماں کو ان کا پتہ معلوم ہوا اور وہ ان سے ملنے کے لیے وہاں پہنچی ۔ بیٹے ماں کو دور سے دیکھتے ہی بھاگ کر اپنے حجرے میں چلے گئے اور دروازہ بند کر لیا ۔ ماں باہر بیٹھ کر رونے لگی اور اس نے چیخ چیخ کر کہا میں اس بڑھاپے میں اتنی دور چل کر صرف تمہیں دیکھنے آئی ہوں ، تمہارا کیا نقصان ہو گا اگر میں تمہاری شکلیں دیکھ لوں ۔ کیا میں تمہاری ماں نہیں ہوں ؟ مگر ان ولیوں نے دروازہ نہ کھولا اور ماں سے کہہ دیا کہ ہم تجھ سے خدا کے ہاں ملیں گے ۔ اس سے بھی زیادہ درد ناک قصہ سینٹ سیمیون اِسٹائلاٹٹس ( St. Simeon Stylites ) کا ہے جو ماں باپ کو چھوڑ کر 27 سال غائب رہا ۔ باپ اس کے غم میں مر گیا ۔ ماں زندہ بھی بیٹے کی ولایت کے چرچے جب دور و نزدیک پھیل گے تو اس کو پتہ چلا کہ وہ کہاں ہے ۔ بے چاری اس سے ملنے کے لیے اس کی خانقاہ پر پہنچے ۔ مگر وہاں کسی عورت کو داخلے کی اجازت نہ تھی ۔ اس نے لاکھ منت سماجت کی کہ بیٹا یا تو اسے اندر بلالے یا باہر نکل کر اسے اپنی صورت دکھا دے ۔ مگر اس ولی اللہ نے صاف انکار کر دیا ۔ تین رات اور تین دن وہ خانقاہ کے دروازے پر پڑی رہی اور آخر کار وہیں لیٹ کر اس نے جان دے دی ۔ تب ولی صاحب نکل کر آئے ۔ ماں کی لاش پر آنسو بہائے اور اس کی مغفرت کے لیے دعا کی ۔ ایسی ہی بے دردی ان ولیوں نے بہنوں کے ساتھ اور اپنی اولاد کے ساتھ برتی ۔ ایک شخص کیوٹیس ( Mutius ) کا قصہ لکھا ہے کہ وہ خوشحال آدمی تھا ۔ یکایک اس پر مذہبی جذبہ طاری ہوا اور وہ اپنے 8 سال کے اکلوتے بیٹے کو لے کر ایک خانقاہ میں جا پہنچا ۔ وہاں اس کی روحانی ترقی کے لیے ضروری تھا کہ وہ بیٹے کی محبت دل سے نکال دے ۔ اس لیے پہلے تو بیٹے کو اس سے جدا کر دیا گیا ۔ پھر اس کی آنکھوں کے سامنے ایک مدت تک طرح طرح کی سختیاں اس معصوم بچے پر کی جاتی رہی اور وہ سب کچھ دیکھتا رہا ۔ پھر خانقاہ کے شیخ نے اسے حکم دیا کہ اسے لے جا کر اپنے ہاتھ سے دریا میں پھینک دے ۔ جب وہ اس حکم کی تعمیل کے لیے بھی تیار ہو گا تو عین اس وقت راہبوں نے بچے کی جان بچائی جب وہ اسے دریا میں پھینکنے لگا تھا ۔ اس کے تسلیم کر لیا گیا کہ وہ واقعی مرتبہ ولایت کو پہنچ گیا ہے ۔ مسیحی رہبانیت کا نقطہ نظر ان معاملات میں یہ تھا کہ جو شخص خدا کی محبت چاہتا ہو اسے انسانی محبت کی وہ ساری زنجیریں کاٹ دینی چاہییں جو دنیا میں اس کو اپنے والدین ، بھائی بہنوں اور بال بچوں کے ساتھ باندھتی ہیں ۔ سینٹ جیروم کہتا ہے کہ اگرچہ تیرا بھتیجا تیرے گلے میں بانہیں ڈال کر تجھ سے لپٹے ، اگر چہ تیری ماں اپنے دودھ کا واسطہ دے کر تجھے روکے ، اگر چہتیرا باپ تجھے روکنے کے لیے تیرے آگے لیٹ جائے ، پھر بھی تو سب کو چھوڑ کر اور باپ کے جسم کو روند کر ایک آنسو بہائے بغیر صلیب کے جھنڈے کی طرف دوڑ جا ۔ اس معاملہ میں بے رحمی ہی تقویٰ ہے ۔ سینٹ گریگوری لکھتا ہے کہ ایک نوجوان راہب ماں باپ کی محبت دل سے نہ نکال سکا اور ایک رات چپکے سے بھاگ کر ان سے مل آیا ۔ خدا نے اس قصور کی سزا اسے یہ دی کہ خانقاہ واپس پہنچتے ہی وہ مر گیا ۔ اس کی لاش زمین میں دفن کی گئی تو زمین نے اسے قبول نہ کیا ۔ برا بار قبر میں ڈالا جاتا اور زمین اسے نکال کر پھینک دیتی ۔ آخر کار اینٹ بینیڈکٹ نے اس کے سینے پر تبرک رکھا تب قبر نے اسے قبول کیا ۔ ایک راہبہ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ مرنے کے بعد تین دن عذاب میں اس لیے مبتلا رہی کہ وہ اپنی ماں کی محبت دل سے نہ نکال سکی تھی ۔ ایک دلی کی تعریف میں لکھا ہے کہ اس نے کبھی اپنے رشتہ داروں کے سوا کسی کے ساتھ بے دردی نہیں برتی ۔ ( 5 ) اپنے قریب ترین رشتہ داروں کے ساتھ بے رحمی ، سنگدلی اور قساوت برتنے کی جو مشق یہ لوگ کرتے تھے اس کی وجہ سے ان کی انسانی جذبات مر جاتے تھے اور اسی کا نتیجہ تھا کہ جن لوگوں سے انہیں مذہبی اختلاف ہوتا تھا ان کے مقابلے میں یہ ظلم و ستم کی انتہا کر دیتے تھے ۔ چوتھی صدی تک پہنچتے پہنچتے مسیحیت میں 80 ۔ 90 فرقے پیدا ہو چکے تھے ۔ سینٹ آگسٹائن نے اپنے زمانے میں 88 فرقے گنائے ہیں ۔ یہ فرقے ایک دوسرے کے خلاف سخت نفرت رکھتے تھے ۔ اس نفرت کی آگ کو بھڑکانے والے بھی راہب ہی تھے اور اس آگ میں مخالف گروہوں کو جلا کر خاک کر دینے کی کوششوں میں بھی راہب ہی پیش پیش ہوتے تھے ۔ اسکندریہ اس فرقہ وارانہ کشمکش کا ایک بڑا اکھاڑا تھا ۔ وہاں پہلے ایرین ( Arian ) فرقے کے بشپ نے اتھا ناسیوس کی پارٹی پر حملہ کیا ، اس کی خانقاہوں سے کنواری راہبات پکڑ پکڑ نکالی گئیں ، ان کو ننگا کر کے خاردار شاخوں سے پٹیا گیا اور ان کے جسم پر داغ لگائے گئے تاکہ وہ اپنے عقیدے سے توبہ کریں ۔ پھر جب مصر میں کیتھولک گروہ کو غلبہ حاصل ہوا تو اس نے ایرین فرقے کے خلاف یہی سب کچھ کیا ، حتیٰ کہ غالب خیال یہ ہے کہ خود ایریس ( Arius ) کو بھی زہر دے کر مار دیا گیا ۔ اسی اسکندریہ میں ایک مرتبہ سینٹ سائر ( St. Cyril ) کے مرید راہبوں نے ہنگامہ عظیم برپا کیا ، یہاں تک کہ مخالف فرقے کی ایک راہبہ کو پکڑ کر اپنے کلیسا میں لے گئے ، اسے قتل کیا ، اس کی لاش کی بوٹی بوٹی نوچ ڈالی اور پھر اسے آگ میں جھونک دیا ۔ روم کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہ تھا ۔ 366 میں پوپ لبیریس ( Liberius ) کی وفات پر دو گروہوں نے پا پانی کے لیے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کیے ۔ دونوں کے درمیان سخت خونریزی ہوئی ۔ حتیٰ کہ ایک دن میں صرف ایک چرچ سے 137 لاسیں نکالی گئیں ۔ ( 6 ) اس ترک و تجرید اور فقر و درویشی کے ساتھ دولت دنیا سمیٹنے میں بھی کمی نہ کی گئی ۔ پانچویں صدی کے آغاز ہی میں حالت یہ ہو چکی تھی کہ روم کا بشپ بادشاہوں کی طرح اپنے محل میں رہتا تھا اور اس کی سواری جب شہر میں نکلتی تھی تو اس کے ٹھاٹھ باٹھ قیصر کی سواری سے کم نہ ہوتے تھے ۔ سینٹ جیروم اپنے زمانے ( چوتھی صدی کے آخری دور ) میں شکایت کرتا ہے کہ بہت سے بشپوں کی دعوتیں اپنی شان میں گورنروں کی دعوتوں کو شرماتی ہیں ۔ خانقاہوں اور کنیسوں کی طرف دولت کا یہ بہاؤ ساتویں صدی ( نزول قرآن کے زمانے ) تک پہنچتے پہنچتے سیلاب کی شکل اختیار کر چکا تھا ۔ یہ بات عوام کے ذہن نشین کرادی گئی تھی کہ جس کسی سے کوئی گناہ عظیم سرزد ہو جائے اس کی بخشش کسی نہ کسی ولی کی درگاہ پر نذرانہ چڑھانے ، یا کسی خانقاہ یا چرچ کو بھینٹ دینے ہی سے ہو سکتی ہے ۔ اس کے بعد وہی دنیا راہبوں کے قدموں میں آ رہی جس سے فرار ان کا طرہ امتیاز تھا ۔ خاص طور پر جو چیز اس تنزل کی موجب ہوئی وہ یہ تھی کہ راہبوں کی غیر معمولی ریاضتیں اور ان کی نفس کشی کے کمالات دیکھ کر جب عوام میں ان کے لیے بے عقیدت پیدا ہو گئی تو بہت سے دنیا پرست لوگ لباس درویشی پہن کر راہبوں کے گروہ میں داخل ہو گئے اور انہوں نے ترک دنیا کے بھیس میں جلب دنیا کا کاروبار ایسا چمکایا کہ بڑے بڑے طالبین دنیا ان سے مات کھا گئے ۔ ( 7 ) عفت کے معاملہ میں بھی فطرت سے لڑ کر رہبانیت نے بارہا شکست کھائی اور جب شکست کھائی تو بری طرح کھائی ۔ خانقاہوں میں نفس کُشی کی کچھ مشقیں ایسی بھی تھیں جن میں راہب اور راہبات مل کر ایک ہی جگہ رہتے تھے اور بسا اوقات ذرا زیادہ مشق کرنے کے لیے ایک ہی بستر پر رات گزارتے تھے ۔ مشہور راہب سینٹ ایوا گریس ( St. Evagrius ) بڑی تعریف کے ساتھ فلسطین کے ان راہبوں کے ضبط نفس کا ذکر کرتا ہے جو اپنے جذبات پر اتنا قابو پا گئے تھے کہ عورتوں کے ساتھ یک جا غسل کرتے تھے اور ان کی دید سے ، ان کے لمس سے ، حتیٰ کہ ان کے ساتھ ہم آغوشی سے بھی ان کے اوپر طرف غلبہ نہ پاتی تھی غُسل اگرچہ رہبانیت میں سخت ناپسندیدہ تھا مگر نفس کشی کی مشق کے لیے اس طرح کے غسل بھی کر لیے جاتے تھے ۔ آخر کار اسی فلسطین کے متعلق نیسا ( Nyssa ) کا سینٹ گریگوری متوفی 396 لکھتا ہے کہ وہ بد کرداری کا اڈا بن گیا ہے ۔ انسانی فطرت کبھی ان لوگوں سے انتقام لیے بغیر نہیں رہتی جو اس سے جنگ کریں ۔ رہبانیت اس سے لڑ کر بالآخر بد اخلاقی کے جس گڑھے میں جا گری اس کی داستان آٹھویں صدی سے گیارہویں صدی عیسوی تک کی مذہبی تاریخ کا بد نما ترین داغ ہے ۔ دسویں صدی کا ایک اطالوی بشپ لکھتا ہے کہ اگر چرچ میں مذہبی خدمات انجام دینے والوں کے خلاف بد چلنی کی سزائیں نافذ کرنے کا قانون عملاً جاری کر دیا جائے تو لڑکوں کے سوا کوئی سزا سے نہ بچ سکے گا ، اور اگر حرامی بچوں کو بھی مذہبی خدمات سے الگ کر دینے کا قاعدہ نافذ کیا جائے تو شاید چرچ کے خادموں میں کوئی لڑکا تک باقی نہ رہے ۔ قرون متوسطہ کے مصنفین کی کتابیں ان شکایتوں سے بھری ہوئی ہیں کہ راہبات کی خانقاہیں بد اخلاقی کے چکلے بن گئی ہیں ، ان کی چار دیواریوں میں نو زائیدہ بچوں کا قتل عام ہو رہا ہے ، پادریوں اور چرچ کے مذہبی کارکنوں میں محرمات تک سے ناجائز تعلقات اور خانقاہوں میں خلاف وضع فطری جرائم تک پھیل گئے ہیں ، اور کلیساؤں میں اعتراف گناہ ( Confession ) کی رسم بد کرداری کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے ۔ ان تفصیلات سے صحیح طور پر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید یہاں رہبانیت کی بدعت ایجاد کرنے اور پھر اس کا حق ادا نہ کرنے کا ذکر کر کے مسیحیت کے کس بگاڑ کی طرف اشارہ کر رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

23: یوں تو شفقت اور رحم دلی سارے ہی انبیائے کرام کی تعلیمات میں شامل رہی ہے لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات میں اس پر بہت زیادہ زور دیا گیا تھا، اور بظاہر ان کی شریعت میں جہاد اور قتال کے احکام بھی نہیں تھے، اس لیے ان کے متبعین میں شفقت و رحمت ہی کا پہلو بہت نمایا تھا۔ 24: رہبانیت کا مطلب ہے دنیا کی لذتوں سے الگ رہنا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے کے کافی عرصے بعد عیسائیوں نے ایک خانقاہی نظام ایسا بنایا تھا کہ جو لوگ اس میں داخل ہوجاتے، وہ دنیا سے الگ تھلگ رہتے تھے، نہ شادی کرتے تھے، نہ دنیا کی کسی لذت میں حصہ لیتے تھے، ان کے اس خانقاہی نظام کو رہبانیت کہا جاتا ہے، اس کی ابتداء اس طرح ہوئی تھی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سچے پیروکاروں پر مختلف بادشاہوں نے بڑے ظلم ڈھائے تو انہوں نے اپنے دین کو بچانے کے لئے شہروں سے دور رہنا شروع کردیا، جہاں دنیا کی عام سہولیات میسر نہیں تھیں، اور رفتہ رفتہ اسی مشکل طرز زندگی کو بذات خود عبادت سمجھ لیا، اور بعد کے لوگوں نے وسائل دستیاب ہونے کے باوجود ان کو چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس مشکل طرز زندگی کا ہم نے انہیں حکم نہیں دیا تھا۔ 25: مطلب یہ ہے کہ شروع میں انہوں نے رہبانت کا طریقہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہی اپنایا تھا ؛ لیکن بعد میں وہ اس کی پوری رعایت نہیں رکھ سکے، رعایت نہ رکھنے کے دوپہلو ہیں ایک یہ کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے ان پر لازم نہیں کیا تھا انہوں نے اسے لازم سمجھ لیا ؛ حالانکہ دین میں اپنی طرف سے کسی ایسی بات کو لازم سمجھنا جائز نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ نے لازم نہ فرمائی ہو، اور دوسرے یہ کہ جو باتیں انہوں نے اپنے ذمے لازم کی تھیں، ان کی عملی طور پر پابندی نہ کرسکے، چونکہ یہ پابندیاں انسانی فطرت کے خلاف تھیں اس لئے رفتہ رفتہ بشری تقاضوں نے زور دکھایا، اور مختلف حیلوں بہانوں سے یا خفیہ طور پر ان لذتوں کا حصول شروع ہوگیا، پابندی تو نکاح پر بھی تھی ؛ لیکن اس پابندی کے نتیجے میں بدکاری کی وبائیں پھوٹ پڑیں اور جس مقصدع سے رہبانیت شروع کی گئی تھی وہ سراسر ناکام ہو کر رہ گیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(57:27) ثم۔ پھر۔ (تراضی فی الوقت) قفینا۔ ماضی جمع متکلم ۔ تقفیۃ (تفعیل) مصدر بمعنی پیچھے بھیجنا۔ پیچھے کہہ دینا۔ اس کا مادہ قفا ہے۔ قفا کے معنی گردن اور سر کا پچھلا حصہ (گدی) قفو، قفو کے معنی کسی کے پیچھے چلنا۔ پیروی کرنا۔ اس معنی میں مجرد (باب نصر) سے مستعمل ہے۔ تقفیۃ دو مفعول چاہتا ہے۔ دونوں مفعولوں پر کبھی حرف جر نہیں ہوتا۔ جیسے کہ فقیت زیدا عمرا میں نے زید کو عمر کے پیچھے بھیجا۔ کبھی مفعول دوئم پر ب آتا ہے۔ جیسے کہ آیت ہذا میں :۔ ثم قفینا علی اثارھم برسلنا۔ ہم نے ان کے قوموں کے نشان پر (یعنی بالکل ان کے پیچھے پیچھے) اپنے رسول بھیجے۔ اور کبھی مفعول اول حذف کردیا جاتا ہے۔ جیسے وقفینا بعیسی ابن مریم ہم نے (پیغمبروں کے پیچھے) عیسیٰ بن مریم کو بھیجا ۔ آیت زیر غور۔ اثارھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اثار جمع ہے اثر کی۔ نقش قدم۔ ان کے نشانات قدم ۔ ان کے نشانات۔ وجعلنا فی قلوب الذین اتبعوہ رأفۃ ورحمۃ : واؤ عاطفہ جعلنا ماضی جمع متکلم فی حرف جار الذین اسم موصول ۔ جمع مذکر۔ اتبعوا ماضی جمع مذکر غائب صلہ اپنے موصول کا۔ دونوں مل کر مضف الیہ۔ قلوب مضاف کے۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور اتبعوہ میں ہ ضمیر مفعول فعل اتبعوا کی۔ رافۃ ورحمۃ ہر دو مفعول فعل جعلنا کے۔ ترجمہ :۔ اور ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں اس کی (حضرت عیسیٰ کی) پیروی کی نرمی اور مہربانی رکھ دی۔ ورھبانیۃ ن ابتدعوھا۔ اور رھنابیۃ اسے انہوں نے خود ایجاد کرلیا تھا ۔ ای وابتدء وارھبانیۃ (روح المعانی) ما کتبناھا علیہم۔ ہم نے اسے (یعنی رہبانیۃ کو) ان پر واجب نہیں کیا تھا۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب : رھبانیۃ کے لئے ہے۔ اور ھم ضمیر جمع مذکر غائب حضرت عیسیٰ کے پیروکاروں کے لئے (الذین اتبعوہ) ۔ کتب علی۔ فرض کرنا ۔ واجب کرنا۔ الا ابتغاء رضوان اللہ۔ یہ استثناء منقطع ہے بلکہ طلب رضائے الٰہی کو ہم نے واجب کیا تھا۔ ابتغاء (افتعال) کے وزن پر مصدر ہے۔ تلاش کرنا۔ چاہنا۔ رضوان ، رضی، یرضی کا مصدر ہے۔ رضا مندی۔ خوشنودی رھبانیۃ۔ رھب یرھب رھب (باب سمع) کا مصدر سے ماخوذ ہے۔ جس کا مطلب خوف اور ڈر ہے۔ یعنی وہ مسلک یا طرز زندگی جو خوف اور ڈر پر مبنی ہو۔ امام راغب (رح) کے مطابق اس کا مطلب ہے :۔ فرط خوف سے عبادات و ریاضات میں حددرجہ غلو کرنا۔ علامہ پانی پتی (رح) کے نزدیک رہبانیت ہے انتہائی عبادت و ریاضت۔ لوگوں سے قطع تعلق، مرغوبات و خواہشات کا ترک اور اس حد تک ترک کہ مباح کو بھی چھوڑ دیا جائے دن بھر روزہ۔ رات بھر عبادت، نکاح سے لاتعلقی، دائمی تجرد۔ لسان العرب میں ہے :۔ رہبانیت : دنیا کے مشاغل کو ترک کردینا۔ اس کی لذتوں کو نظر انداز کردینا۔ اہل دنیا سے عزلت گزینی۔ اپنے آپ کو طرح طرح کی مشقتوں میں مبتلا کردینا۔ ان میں سے بعض لوگ اپنے آپ کو خصی کردیا کرتے تھے۔ اور اپنے آپ کو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کردیتے تھے۔ فما رعوھا حق رعایتھا : ما نافیہ ہے۔ رعوا ماضی جمع مذکر غائب رعایۃ (باب فتح) مصدر سے۔ بمعنی نباہ کرنا۔ دھیان کرنا۔ نگہداشت کرنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع رھبانیۃ ہے۔ پھر وہ نباہ نہ سکے جیسا کہ اس کے نباہنے کا حق تھا۔ فاتینا : ف پس اتینا ماضی جمع متکلم ایتاء (افعال) مصدر ہم نے دیا۔ ہم نے بخشا ، ہم نے عطا کیا۔ الذین امنوا جو لوگ ایمان لائے۔ مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر صحیح طور پر ایمان لائے۔ اور رہبانیت کے تقاضوں کو پورا کیا۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے۔ الذین امنوا مفعول ہے اتینا کا۔ منھم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب کا مرجع وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اتباع کا دعویٰ کرتے تھے۔ اجرہم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کا اجر۔ وکثیر منھم فسقون ۔ اور ان میں سے اکثر فاسق و فاجر تھے۔ کہ انہوں نے ترک دنیا کو حصول مال و جاہ کا ذریعہ بنا لیا۔ راہ اعتدال سے بھٹک گئے۔ اور فسق و فجور کی غلاظتوں میں ڈوب گئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی دنیا کو چھوڑ دینا، شادی نہ کرنا اور خلقت سے الگ ہو کر جنگلوں اور غاروں میں رہنا بسنا۔7 یعنی انہوں نے دو جرم کئے ایک رہبانیت درویشی کو دین کا جزو لاینفک قرار دے لیا اور پھر اس درویشی کے حقوق و آداب کی بھی نگہداشت نہ کرسکے۔ چناچہ انہوں نے ابتداء میں توحید اور درویشی کو ایک ساتھ نبھانے کی کوشش کی لیکن حضرت مسیح کے تیسری صدی بعد سے اپنے بادشاہوں کے بہکانے میں آگئے۔ اور تثلیث کے جر میں پھنس کر توحید کہ چھوڑ دیا۔ پھر درویشی تو درکنار اصل ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ درویشی کو جاہ ریاست طلبی کا ذریعہ بنالیا اور ابطل طریقوں سے لوگوں کے مال کھانے لگے۔ القرض جہاد کے فریضہ لو چھوڑ کر تصرف کی رسوم اتخیار کرنا ہی رہبانیت ہے جس کی قرآن نے مذمت کی ہے اور پھر درویشی یا دینی پیشوائی کو جاہ و ریاست اور دنیا طلبی نصاریٰ میں عا مو با کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ فقیری تا اور تارک دنیا بننا نصاریٰ نے رسم نکالی، جنگل میں تکیہ لگا کر بیٹھتے نہ جو رکھتے نہ بیٹا کماتے نہ جوڑے محض عبادت میں رہتے۔ نہ کرنے نہ جوڑتے محض عبادت میں رہتے۔ خلق سے نہ ملنے اللہ نے بندوسوں پر یہ حکم نہیں رکھا مگر جب اپنے اوپر نام رکھا ترک دنیا کا پھر اس پردے میں دنیا چاہنی بڑا وبال ہے۔ (موضع)8 حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرماا : ایماندار رہنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان لائے اور بےایمانی سے مراد وہ ہیں جنہوں نے مجھ سے کفر کیا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی جس غرض سے اس کو اختیار کیا تھا اور وہ غرض طلب رضا حق تھی اس کا اہتمام نہیں کیا، یعنی احکام کی بجا آوری نہ کی، گو صورة رہبان رہے، اور بعضے بجا آوری احکام میں سرگرم رہے۔ 5۔ یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کی بعثت کا مقصد۔ اللہ تعالیٰ نے نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد وقفے وقفے کے بعد بیشمار انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ ان کے آخر اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور انہیں انجیل کے ساتھ بڑے بڑے معجزات عطا فرمائے جن لوگوں نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کی اتباع کی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نرمی اور شفقت پیدا فرمادی۔ عیسائیوں نے از خود اپنے لیے رہبانیت ایجاد کرلی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر لازم قرار نہیں دیا تھا۔ انہوں نے اسے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ پر فرض کرلیا جس کا وہ حق ادا نہ کرسکے۔ جس طرح انہیں حق ادا کرنا چاہیے تھا۔ ان میں جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ نے انہیں اجر سے سرفراز فرمایا لیکن ان کی اکثریت نافرمان تھی۔ رہبانیت کا مادہ رہب ہے جس کا معنٰی خوف ہے۔ ” رَہبانیّت “ کا مطلب ہے مسلک خوفزدگی اور ” رُہبانیّت “ کا معنٰی مسلک خوفزدگان ہے۔ اصطلاحاً اس سے مراد کسی شخص کا خوف کی بنا پر تارک الدنیا بن جانا اور دنیوی زندگی سے الگ تھلگ ہونا ہے۔ رَأْفَۃً کا معنٰی : عربی ڈکشنری کے لحاظ سے ” رَأْفَۃً “ کا معنٰی دوسرے کی تکلیف دیکھ کر تڑپ جانا اور رحمت کا معنٰی شفقت اور کسی دوسرے کی مدد کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نہایت ہی مشفق اور نرم دل پیدا فرمایا۔ اس وقت کا تقاضا تھا کہ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کی جائے کیونکہ یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی بار بار نافرمانی کرکے اپنے لیے سختیاں پیدا کرلی تھیں، اس سختی کے خاتمے کے لیے شریعت عیسوی میں نرمی اور شفقت کا پہلو غالب رکھا گیا۔ اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے امتی کو یہ تعلیم اور تلقین کی کہ اگر تیرے چہرے پر کوئی تھپڑ مارے تو تجھے بدلہ لینے کی بجائے اپنے چہرے کا دوسرا رخ اس کے سامنے کردینا چاہیے تاکہ وہ شرمندہ ہوجائے۔ اسی تعلیم کا اثر تھا اور ہے کہ عیسائیوں میں اپنے آپ کو نصاریٰ کہلوانے والے مسلمانوں کے بارے میں نسبتاً نرم گوشہ رکھتے ہیں جس کا ذکر یوں کیا گیا ہے۔ (لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُہْبَانًا وَّ اَنَّہُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ ) (المائدۃ : ٨٢) ” یقیناً آپ ایمان داروں کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ عداوت رکھنے والے یہود کو اور ان لوگوں کو پائیں گے جو شرک کرتے ہیں اور یقیناً آپ ایمانداروں کے ساتھ دوستی میں ان کو قریب پائیں گے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں کیونکہ ان میں عالم اور راہب ہیں جو تکبر نہیں کرتے۔ “ رہبانیت : حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد عیسائیوں نے اللہ تعالیٰ کی قربت چاہنے کے لیے رہبانیت اختیار کرلی حالانکہ ان پر فرض نہیں کی گئی تھی۔ رہبانیت کو اپنے آپ پر فرض قرار دینے کے باوجود اس کے تقاضے پورے نہ کرسکے۔ رہبانیت اختیار کرنے والوں کی غالب اکثریت نے اپنے آپ پر کچھ حلال چیزوں کو حرام کرلیا اور کچھ حرام چیزوں کو جائز قرار دیا۔ جس طرح ہمارے ہاں صوفیائے کرام نے تصوف اختیار کرنے کے بعد طریقت کے نام پر اپنے طور پر کچھ باتوں کو حلال سمجھا اور کچھ کو اپنے لیے حرام قرار دیا۔ شادی سے اجتناب کرنا : رہبانیت اختیار کرنے کی وجہ سے جو لوگ پاد ری اور پوپ بنے انہوں نے اپنے آپ پر یہ پابندی لگا لی کہ وہ زندگی بھر کسی عورت سے نکاح نہیں کریں گے۔ اسی اصول کے پیش نظر آج بھی شادی کرنے والا شخص پادری، پوپ اور بشپ نہیں بن سکتا۔ اس پابندی کے باوجود شروع سے لے کر آج تک اس منصب پر فائز ہونے والے پادری اور پوپ اخلاقی جرائم کے مرتکب ہوئے یہاں تک کہ ان کے بارے میں لواطت زدگی کے سکینڈل بھی زبان زد عام ہوتے رہے ہیں۔ دین اسلام اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی شریعت میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھلے الفاظ میں اس سے منع کیا ہے۔ (عَنْ أَنَسٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ لِکُلِّ أَمَۃٍ رَہْبَانِیَّۃًوَرَہْبَانِیَّۃُ ہَذِہِ الْأُمَّۃِ الْجِہَادُ فِی سَبِیل اللہِ ) (رواہ البیہقی فی شعب الایمان : باب الجھاد) ” حضرت انس (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر امت کے لیے رہبانیت کا ایک انداز تھا میری امت کی رہبانیت اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔ “ بدعت کی مذّمت : جو کام قرآن وسنت سے ثابت نہیں اسے دین اور ثواب سمجھ کر کرنا بدعت ہے بیشک وہ کام کتنا ہی اچھا دکھائی کیوں دیتاہو۔ ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں داخل کرنے والی ہے کیونکہ بدعتی شخص عملاً اور اعتقاداً دین کو نامکمل سمجھتا ہے اس لیے نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ جمعہ کی ابتدا میں یہ الفاظ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَا خَطَبَ ۔۔ یقول أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیثِ کِتَاب اللّٰہِ وَخَیْرُ الْہُدَی ہُدَی مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٍ ) ( رواہ مسلم : کتاب الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ) ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی خطبہ دیتے تو ارشاد فرماتے۔۔۔ بلاشبہ سب سے بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے اور ہدایت کا بہترین راستہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے اور برے کاموں میں سے بدترین کام بدعت ایجاد کرنا ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَےْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ) (رواہ مسلم : باب نَقْضِ الأَحْکَامِ الْبَاطِلَۃِ وَرَدِّ مُحْدَثَاتِ الأُمُورِ ) ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے ہمارے دین میں نئی بات ایجاد کی جو دین میں نہیں ہے وہ ٹھکرا دی جائے گی۔ “ (عَنْ حُذَیْفَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لاَ یَقْبَلُ اللَّہُ لِصَاحِبِ بِدْعَۃٍ صَوْمًا وَلاَ صَلاَۃً وَلاَ صَدَقَۃً وَلاَ حَجًّا وَلاَ عُمْرَۃً وَلاَ جِہَادًا وَلاَ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً یَخْرُجُ مِنَ الإِسْلاَمِ کَمَا تَخْرُجُ الشَّعَرَۃُ مِنَ الْعَجِینِ ) (رواہ ابن ماجہ : باب اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ ، قال الالبانی صحیح) ” حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ بدعتی آدمی کا روزہ، نماز، حج، عمرہ، جہاد، اور کوئی چھوٹی بڑی نیکی قبول نہیں کرتا۔ ایسا شخص اسلام سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد انبیائے کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا سلسلہ جاری رکھا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو انجیل عطا فرمائی۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کے سچے پیروکاروں میں مسلمانوں کے بارے میں نرمی رکھ دی ہے۔ ٤۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کے پیروکاروں نے رہبانیت کی بدعت ایجاد کی۔ ٥۔ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت سے پہلے جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور اس کے تقاضے پورے کرتے رہے اللہ تعالیٰ انہیں دوہرا اجر عطا فرمائے گا۔ ٦۔ عیسائیوں کی غالب اکثریت ہمیشہ سے ” اللہ “ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمان رہی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو انجیل اور معجزات عطا فرمائے : ١۔ مٹی سے پرندہ بنا کر اڑانا، مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو باذن اللہ اچھا کرنا۔ ( آل عمران : ٤٩) ٢۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کلمۃ اللہ ہیں اور دنیا و آخرت میں عزت پانے والے ہیں۔ (آل عمران : ٤٥) ٣۔ ” اللہ “ نے عیسیٰ ابن مریم کو معجزات سے نوازا اور روح القدس کے ساتھ اس کی مدد فرمائی۔ (البقرۃ : ٨٧) ٤۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بن باپ کے پیدا ہونا۔ (آل عمران : ٤٧) ٥۔ روح القدس کی تائید حاصل ہونا۔ (البقرۃ : ٢٥٣) ٦۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا۔ (النساء : ١٥٨) ٧۔ پیدائش کے چند دن بعد اپنی نبوت کا اعلان کرنا۔ (مریم : ٣٠) ٨۔ گود میں اپنی والدہ کی براءت کا اعلان کرنا۔ (آل عمران : ٤٧) ٩۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا لوگوں کو انکی کھانے پینے اور ذخیرہ کی ہوئی چیزوں کے بارے مطلع کرنا۔ (آل عمران : ٤٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اور اس طویل تاریخ کی آخری کڑی نبوت محمدی سے پہلے یہ رہی۔ ثم قفینا ................ ابن مریم (٧٥ : ٧٢) ” اس کے بعد ہم نے پے درپے اپنے رسول بھیجے اور ان سب کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو مبعوث کیا “۔ یعنی نوح اور ابراہیم کی اولاد میں پے درپے رسول بھیجے اور ان میں سے آخری کڑی عیسیٰ ابن مریم کی تھی۔ یہاں حضرت عیسیٰ کے پیروکاروں کی ممتاز صفت بھی بیان کردی جاتی ہے۔ وجعلنا .................... ورحمة (٧٥ : ٧٢) ” اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ان کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا۔ “ یہ ترس اور رحم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا نتیجہ تھا۔ کیونکہ آپ نے لوگوں کی روحانی تربیت پر زور دیا۔ اور ظاہر ہے کہ روحانی تربیت اور روحانی صفائی کے نتیجے میں ترس اور رحم بیدار ہوجاتا ہے۔ جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات کا صحیح اتباع کیا وہ رحم دل ہوتے تھی۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی عیسائیوں کی اس صفت کی طرف اشارہ ہے۔ ابتدائی دور کے عیسائیوں نجاشی اور وفد نجران کے لوگوں کا رویہ بھی اسلام کے ساتھ ہمدردانہ رہا۔ اور اسی طرح دوسرے متفرق افراد بھی ان میں دارالاسلام آئے اور اسلام قبول کیا۔ جب تک وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحیح متبعین میں سے رہے۔ قرآن کریم یہاں مسیح (علیہ السلام) کے متبعین کی ایک دوسری صفت کو بھی بیان کرتا ہے لیکن اس پر ایک خوبصورت تنقید بھی کرتا ہے۔ ورھبانیة .................... رضوان اللہ (٧٥ : ٧٢) ” اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا۔ مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی تھی “ راجح تفسیر یہ ہے کہ تاریخ مسیحیت میں جو رہبانیت نظر آتی ہے وہ مسیح کے بعض پیروکاروں نے اختیار کرلی تھی۔ اور یہ انہوں نے اللہ کی رضا جوئی کے لئے اختیار کرلی تھی۔ یہ انہوں نے زندگی کی آلودگیوں سے دوری کے لئے اختیار کرلی تھی اللہ نے اسے ان پر فرض نہ کیا تھا۔ لیکن جب انہوں نے اسے اختیار کرلیا۔ اپنے اوپر واجب کرلیا تو پھر ان کا فرض تھا کہ وہ اس کا حق ادا کرتے۔ اور پاکیزگی ، بلندی ، عفت ، قناعت اور ذکر وفکر کے جو تقاضے وہ رکھتی تھی اسے یہ پورا کرتے۔ کیونکہ انہوں نے رضائے الٰہی کے لئے اسے ایجاد کیا تھا۔ لیکن ہوا یوں کہ یہ رہبانیت محض رسم ہوکر رہ گئی اسم سے خالی ہوگئی۔ لوگوں نے اسے پیشہ بنا لیا اور حقیقی روح سے خالی ہوگئی۔ چند رہبان کے سوا کسی نے اس کا جو حق ادا نہ کیا۔ فما رعوھا ................ فسقون (٧٥ : ٧٢) ” اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے ان کا اجر ہم نے ان کو عطا کیا ، مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ “ اللہ کا قانون یہ نہیں ہے کہ لوگوں کی ظاہری شکلوں کو دیکھ کر فیصلہ کرے۔ نہ رسم و رواج کو دیکھے۔ اللہ لوگوں کی نیت کو دیکھتا ہے لوگوں کے اعمال کو دیکھتا ہے۔ وہ نیت اور عمل پر فیصلے کرتا ہے۔ اور کسی کی نیت اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو دلوں کی بات جانتا ہے۔ اب آخری پکار ان لوگوں کے نام ہے جو ایمان لائے ہیں۔ اور دین اور رسالت کی تاریخ اور امم اسلامیہ کی کڑیوں میں سے آخری کڑی ہے اور جنہوں نے اب قیامت تک انبیاء کی دعوت کا بوجھ اٹھانا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

نصاریٰ کا رہبانیت اختیار کرنا پھر اسے چھوڑ دینا : ﴿ وَ رَهْبَانِيَّةَ ا۟بْتَدَعُوْهَا ﴾ (اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا اتباع کرنے والوں نے رہبانیت کو جاری کردیا) ۔ علامہ بغوی (رض) نے معالم التنزیل میں حضرت ابن مسعود (رض) سے نقل کیا ہے کہ میں ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا آپ نے فرمایا اے ابن ام عبد (یہ ابن مسعود (رض) کی کنیت ہے) تم جانتے ہو کہ بنی اسرائیل نے رہبانیت کہاں سے اختیار کی ؟ عرض کی اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ظالم بادشاہوں کا غلبہ ہوگیا، گناہوں میں لگ گئے جن پر اہل ایمان ناراض ہوئے، اہل ایمان نے نے ان سے تین بار جنگ کی اور ہر مرتبہ شکست کھائی جب ان میں سے تھوڑے سے رہ گئے تو کہنے لگے کہ اگر اسی طرح مقابلہ کرتے رہے تو یہ لوگ ہمیں فنا کردیں گے اور دین حق کی دعوت دینے والا کوئی نہ رہے گا، لہٰذا ہم زمین میں منتشر ہوجائیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس نبی کو بھیج دے جس کی آمد کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے وعدہ فرمایا ہے لہٰذا وہ پہاڑوں کے غاروں میں منتشر ہوگئے اور رہبانیت اختیار کرلی پھر ان میں بعض دین حق پر جمے رہے بعض کافر ہوگئے اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت کریمہ ﴿ وَ رَهْبَانِيَّةَ ا۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا ﴾ تلاوت فرمائی۔ (معالم التنزیل صفحہ ٣٠١: ج ٤) علامہ بغوی (رض) نے اس روایت کی کوئی سند ذکر نہیں کی اور کسی کتاب کا حوالہ بھی نہیں دیا۔ اس میں جو اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جب ان کے لیے قتال جائز نہیں تھا تو جنگ کیوں کی ؟ اس کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ ممکن ہے ان پر حملہ کیا گیا ہو جس کیو جہ سے انہوں نے مجبور ہوکر جوابی کارروائی کی ہو۔ (واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں جو احکام تھے ان سے آگے بڑھ کر نصاریٰ نے ایسی چیزیں نکال لی تھیں جن کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہیں دیا گیا تھا یہ چیزیں نفس کو مشقت میں ڈالنے والی تھیں، یہ لوگ نکاح نہیں کرتے تھے، کھانے پینے میں اور پہننے میں کمی کرتے تھے، تھوڑا بہت کھاتے تھے جس سے صرف زندہ رہ جائیں، پہاڑوں میں گرجے بنا لیتے تھے وہیں پر زندگیاں گزارتے تھے، ان کے اس عمل کو رہبانیت اور ان کو راہب کہا جاتا ہے۔ انہی راہبوں نے حضرت سلمان فارسی (رض) کو سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کی خبر دی تھی اور انہی کی نشاندہی سے وہ مدینہ منورہ پہنچے تھے جس کا ذکر سورة الاعراف کی آیت ﴿يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ ﴾ کے ذیل میں گزر چکا ہے ان لوگوں نے عوام سے اور ملوک سے علیحدگی اختیار کرلی تھی کیونکہ اہل دنیا ان کو مجبور کرتے تھے کہ ہماری طرح رہو، یہ رہبانیت کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں دیا گیا تھا انہوں نے خود رہبانیت کو اختیار کرلیا تھا اور یہ سمجھا تھا کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے : قال البغوی فی معالم التنزیل ورھبانیة ن ابتدعوھا من قبل انفسھم ما کتبنا علیھم الا ابتغاء رضوان اللہ یعنی ولکنھم ابتغوا رضوان اللہ بتلک الرھبانیة صفحہ ٣٠٠: ج ٤ وفی روح المعانی منصوب بفعل مضمر یفسرہ الظاھر ای وابتدعوا رھبانیۃ ابتدعوا فھو من باب الاشتغال۔ راہب لوگ اپنی رہبانیت پر چلتے رہے پھر ان میں بھی دنیا داری گھس گئی ان کے نفوس نے انگڑائی لی اور عوام الناس کی طرح یہ لوگ بھی دنیا داری پر اتر آئے ان لوگوں کو انتظار تھا کہ آخر الانبیاء سیدنا محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ہوجائے تو ہم ان پر ایمان لائیں پھر جب آپ کی بعثت ہوگئی اور آپ کو پہچان بھی لیا تو ان پر ضد سوار ہوگئی کہ ہم اپنے ہی دین پر رہیں گے ان میں سے تھوڑے لوگ ایمان لائے جن کے بارے میں فرمایا ﴿ فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ ١ۚ﴾ (سو ان میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ان کا اجر ہم نے ان کو دے دیا) ﴿ وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ ٠٠٢٧﴾ (اور ان میں بہت سے لوگ نافرمان ہیں) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری سے پہلے یہ لوگ دین بھی بدل چکے تھے انجیل شریف بھی گم کرچکے تھے توحید کو چھوڑ کر تثلیث کا عقیدہ بنا لیا تھا۔ تین خدا ماننے لگے تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے بھی قائل ہوگئے تھے جبکہ اس سے پہلے یہ جانتے تھے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر زندہ اٹھا لیا، جب آپ کے قتل کے قائل ہوئے تو یہ عقیدہ رکھ لیا کہ ان کا قتل ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوگیا اس عقیدہ کی بنیاد پر ان کے پادری اتوار کے دن اپنے ماننے والوں کو چرچ میں بلا کر گناہوں کی معافی کرنے لگے، پرانے نصاریٰ کو رومن کیتھولک کہا جاتا ہے ان میں سے ایک فرقہ علیحدہ ہوا جسے پروٹسٹنٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ منکرات، محرمات اور معاصی کے ارتکاب میں بہت زیادہ آگے بڑھ گئے جس کا انشاء اللہ تذکرہ ہم ابـھی کریں گے۔ موجودہ نصاریٰ کی بدحالی اور گناہگاری، دنیا کی حرص اور مخلوق خدا پر ان کے مظالم : نصاریٰ نے اپنے رسول سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا اتباع نہ کیا تو ان میں رحمت و شفقت نہ رہی اور نہ وہ سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اب یہودیوں کی طرح وہ بھی اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں کافر تو ہیں ہی کفر کے ساتھ ساتھ دوسرے گناہوں میں موجودہ دور کے تمام انسانوں سے بہت آگے ہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کو یہی لوگ گناہ والی زندگی سکھاتے ہیں، ننگے پہناوے، زناکاری، شراب خوری، جوا وغیرہ یہ سب نصاریٰ کے کرتوت ہیں چونکہ انہوں نے اپنا یہ عقیدہ بنا لیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قتل (جس کے وہ جھوٹے مدعی ہیں) ہمارے گناہوں کا کفارہ بن گیا اس لیے ہر گناہ کرلیتے ہیں ان کے ملکوں میں نکاح ختم ہوتا جا رہا ہے، مردوں اور عورتوں میں دوستی کا رواج ہے، بےحیائی کے کام ہو رہے ہیں۔ بےباپ کے بچوں کی کثرت ہے اور بےنکاح کے مرد اور عورت کے ملاپ کو ان کے ملکوں کی پارلیمنٹ نے قانونی طور پر جائز کر رکھا ہے، بلکہ یورپ کے بعض ملکوں نے اپنے ہم جنسوں سے استلذاذ کو بھی جائز قرار دے دیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ جو بات پارلیمنٹ پاس کر دے پوپ اس کے خلاف ذرا سا بھی لب نہیں ہلا سکتے، کیا حضرت مسیح (علیہ السلام) نے یہ فرمایا تھا کہ زنا کو عام کرلینا اور اسے قانونی جواز دے دینا یورپ اور امریکہ کے ممالک کے دیکھا دیکھی ایشیا اور افریقہ کے ممالک بھی انہیں کی راہ پر چلنے لگے ہیں پوری دنیا کو گناہگاری کی زندگی سکھانے کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے نام سے اپنی نسبت ظاہر کرتے ہیں حالانکہ حضرت مسیح (علیہ السلام) اس دین سے بری ہیں جو مسیحیت کے دعویداروں نے اپنا رکھا ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی، پاک دامن رہنے کو فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ میرے بعد ایک نبی آئیں گے ان پر ایمان لانا، وہ نبی تشریف لے آئے یعنی محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسیحی ان پر ایمان نہیں لاتے۔ یہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے فرمان کی صریح خلاف ورزی کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں مشنریوں کا جال پھیلا رکھا ہے اور مسلمانوں کو اپنے بنائے ہوئے دین کی طرف دعوت دیتے ہیں جبکہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔ (متی کی انجیل) بہت سی تحریفات و تغیرات کے باوجود اب بھی انجیل یوحنا میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بشارتیں موجود ہیں۔ باب نمبر ١٤ میں ہے کہ ” میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں لیکن مددگار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔ “ پھر چند سطر کے بعد ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کی پیشین گوئی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں ” اور پھر تھوڑی دیر میں مجھے دیکھ لو گے اور یہ اس لیے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں “ ﴿ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ﴾ کی طرف اشارہ ہے جو قرآن مجید میں سورة نساء میں مذکور ہے۔ پھر چند سطر کے بعد دنیا میں تشریف لانے کا ذکر ہے اس کے الفاظ یہ ہیں : ” میں نے تم سے یہ باتیں اس لیے کہیں کہ تم مجھ میں اطمینان پاؤ، دنیا میں مصیبتیں اٹھاتے ہو لیکن خاطر جمع رکھو میں دنیا پر غالب آیا ہوں۔ “ اے نصر انیو ! حضرت مسیح (علیہ السلام) نے جو فرمایا کہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا ہوں تم ان کے سوا کسی کے پاس نہ جانا، دنیا بھر میں مشنریاں قائم كركے اس کی خلاف ورزی نہ کرو اور دین اسلام قبول کرو۔ قرآن مجید میں حضرت مسیح کے دنیا سے اٹـھائے جانے کا اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیثوں میں ان کے دوبارہ تشریف لانے کا اور طبعی موت سے وفات پانے کا ذکر ہے موجودہ انجیل کی عبارتوں سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے، مسیحیوں پر لازم ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی باتیں مانیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں اور اپنے بنائے ہوئے دین پر نہ جمے رہیں اور مسلمانوں کو اپنے کفریہ دین کی دعوت نہ دیں، تعصب میں آکر اپنی آخرت برباد نہ کریں۔ یہود و نصاریٰ کا حق سے انحراف اور اسلام کے خلاف متحدہ محاذ یہود و نصاریٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچان لیا لیکن بہت کم ایمان لائے۔ یہودی مدینہ منورہ ہی میں رہتے تھے بلکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ منورہ میں اسی لئے آکر آباد ہوئے تھے کہ یہاں آخر الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیں گے ہم ان پر ایمان لائیں گے لیکن آپ کی تشریف آوری کے بعد آپ کو پہچان لینے کے باوجود ایمان نہیں لائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖٞ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ ٠٠٨٩﴾ چند ہی یہودیوں نے اسلام قبول کیا جن میں عبداللہ بن سلام (رض) بھی تھے انہوں نے فرمایا عرفت ان وجھہ لیس بوجہ کذاب کہ میں نے آپ کا چہرہ انور دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ چہرہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ (مشکوۃ المصابیح صفحہ ١٦٨) نصاریٰ کو بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا علم ہے حبشہ کا نصرانی بادشاہ نجاشی اور اس کے علاوہ بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے لیکن عام طور پر نصاریٰ بھی اسلام سے منحرف رہے اور آج تک منحرف ہیں۔ ہندوستان کے مشرکوں نے لاکھوں کی تعداد میں اسلام قبول کیا لیکن نصاریٰ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ اکاد کا افراد مسلمان ہوتے رہتے ہیں لیکن عموماً انکار پر ہی تلے ہوئے ہیں، اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں جہاں کہیں مسلمان غریب ہوں وہاں مال تقسیم کر کے مانوس کرتے ہیں اور سکول ہسپتال کھول کر مشنریاں قائم کر کے کفر کی دعوت دیتے ہیں (جس دین کی دعوت مال کا لالچ دے کر ہو اس کے باطل ہونے کے لیے یہی کافی ہے) سورة آل عمران کی آیت ﴿ فَمَنْ حَآجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ﴾ کی تفسیر میں نصاریٰ نجران کا واقعہ گزر چکا ہے۔ وہ لوگ مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے مباہلہ کی گفتگو ہوئی ان کا جو سب سے بڑا تھا اس نے کہا واقعی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی مرسل ہیں اگر ان سے مباہلہ کرو گے تو تمہارا ناس ہوجائے گا اگر تمہیں اپنا دین چھوڑنا نہیں ہے تو ان سے صلح کرلو اور اپنے شہروں کو واپس چلو۔ یہ لوگ مباہلہ پر راضی نہ ہوئے اور اپنے دین پر قائم رہے، یہ جانتے ہوئے کہ محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقعی اللہ کے رسول ہیں ایمان نہ لائے اور ایمان سے رو گردانی کر بیٹھے اور آج تک ان کا یہی طریقہ رہا ہے، حضرات علماء کرام نے بار ہامناظروں میں ان کو شکست دی ان کی موجودہ انجیل میں تحریف ثابت کی، بار ہا ان کے دین کو مصنوعی خود ساختہ دین ثابت کردیا ہے، لیکن وہ دنیاوی اغراض سیاسیہ اور غیر سیاسیہ کی وجہ سے دین اسلام کو قبول نہیں کرتے اور دنیا بھر میں فساد کر رہے ہیں جس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مباہلہ کی دعوت دی تھی اس وقت سے لے کر آج تک ان کا یہی طریقہ رہا ہے۔ یہودی نصاریٰ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے دین کو غلط جانتے ہیں لیکن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف آپس میں گٹھ جوڑ ہے اور اسلام کے مٹانے کے لیے دونوں نے اتحاد کر رکھا ہے لیکن پھونکوں سے یہ چراغ نہیں بجھایا جاسکتا ﴿ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ٠٠٨﴾ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ﴿ وَ جَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً ﴾ (اور جنہوں نے عیسیٰ بن مریم کا اتباع کیا ان کے دلوں میں ہم نے شفقت اور رحمت رکھ دی) جن لوگوں نے اتباع کیا تھا ان میں رحمت و شفقت تھی اب تو ان سے جھوٹی نسبت رکھنے والوں نے کئی سو سال سے پورے عالم کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے ملک گیری کے حرص نے ان سے ایشیائی ممالک پر حملے کرائے، ملکوں پر قبضے كئے ١٨٥٧ ء میں ہندوستان کے لوگوں کو کس طرح ظلم کا نشانہ بنایا ؟ تاریخ دان جانتے ہیں اور ہیروشیما پر جنہوں نے بم پھینکا تھا کیا یہ وہی لوگ نہ تھے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف نسبت کرتے ہیں ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد اللہ تعالیٰ رسول بھیجے گا جس کا نام احمد ہوگا کچھ عرصے تک ان کی آمد کے انتظار میں رہے جب وہ تشریف لے آئے تو ان کی رسالت کا انکار کردیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِيْنٌ٠٠٧٦﴾ نصاریٰ اپنی کتاب بھی کھو بیٹھے اس میں تحریف کردی اور بالکل ہی گم کردی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع بھی نہ کیا ہدایت سے بھی رہ گئے اور رحمت اور شفقت بھی دلوں سے نکل گئی، اب تو تین خداؤں کا عقیدہ ہے اور کفارہ کا سہارا ہے اور ہر گناہ میں لت پت ہیں نہ ان میں رہبان ہیں نہ قسیسین ہیں جو ان کے مذہب کے بڑے ہیں وہ بھی ان کی حکومتوں اور سیاستدانوں کا موڈ دیکھتے ہیں، کوئی حق کلمہ نہیں کہہ سکتے اور گناہوں پر نکیر نہیں کرسکتے، سیدھے لفظوں میں یہ لوگ بھی اپنی حکومتوں کے آلہء کار ہیں۔ فائدہ : رہبانیت کا اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کو حکم نہیں دیا تھا لیکن انہوں نے یہ سمجھ کر اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہے اپنے طور پر اختیار کرلی تھی پھر اس کو نباہ بھی نہ سکے، رہبانیت کو بھی چھوڑ بیٹھے اور جو شریعت انہیں دی گئی تھی اس کی بھی پاسداری نہ کی، بلکہ اسے بدل دیا اعمال صحیحہ صالحہ پر تو کیا قائم رہتے توحید کے قائل نہ رہے تین خدا مان لئے، پھر ان میں سے ایک خدا کے مقتول ہونے کا عقیدہ بنا لیا اور یہ سمجھ لیا کہ ان کا قتل ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوگیا۔ یہ رہبانیت نہ ان کے لئے مشروع تھی نہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلاۃ والتحیہ کے لئے مشروع ہے۔ شریعت محمدیہ میں آسانی رکھی گئی ہے تنگی نہیں ہے۔ سورة البقرہ میں فرمایا : ﴿ يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ﴾ (اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اور سختی کا ارادہ نہیں فرماتا) ۔ اور سورة الاعراف میں فرمایا : ﴿ وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ وَ يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ ﴾ (رسول نبی امی ان کے لئے پاکیزہ چیزیں حلال وخبیث چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے اور ان پر جو بوجھ کے طوق تھے ان کو دور کرتا ہے) ۔ سورة المائدہ میں فرمایا ﴿ مَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ ﴾ (اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے) سورة الحج میں فرمایا ﴿ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ﴾ (اللہ نے تمہیں چن لیا اور تم پر کوئی تنگی نہیں ڈالی) ان آیات میں اس بات کی تصریح ہے کہ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ایسے احکام مشروع نہیں كئے گئے جن میں تنگی ہو، نصاریٰ کی طرح رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت یا فضیلت نہیں ہے۔ حضرت عثمان بن مظعون (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ہمیں خصی ہونے یعنی قوت مردانہ زائل کرنے کی اجازت دیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ ہم میں سے نہیں ہیں جو کسی کو خصی کرے یا خود خصی بنے، بلاشبہ میری امت کا خصی ہونا (یعنی بیوی نہ ہونے کی صورت میں شہوت کو دبانا) یہ ہے کہ روزے رکھا کریں اس کے بعد عرض کیا کہ ہمیں سیاحت (یعنی سیر وسفر) کی اجازت دیجئے آپ نے فرمایا بیشک میری امت کی رہبانیت یہ ہے کہ نماز کے انتظار میں مسجدوں میں بیٹھے رہا کریں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٢٩) معلوم ہوا کہ اس امت کو نصاریٰ والی رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت نہیں قدرت ہوتے ہوئے نکاح نہ کرنا، معاش کا انتظام نہ کرنا، مخلوق پر نظر رکھنا، مانگ کر کھانا، سردی گرمی سے بچنے کا انتظام نہ کرنا، بیوی بچوں کے حقوق ادانہ کرنا، ان چیزوں کی شریعت محمد یہ میں اجازت نہیں ہے۔ شریعت کے مطابق زندگی گزاریں، حرام مال نہ کمائیں، شریعت کے مطابق لباس پہنیں، اسراف (فضول خرچی) اور ریا کاری خود نمائی نہ ہو، کھانے پینے میں حلال و حرام کا خیال ہو کسی کا حق نہ دبائیں کسی طرح کی خیانت نہ کریں اگر کوئی شخص شریعت کے مطابق اچھا لباس پہن لے تو اس کی گنجائش ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : کلوا و اشرابوا وتصدقوا مالم یخالط اسراف ولا مخیلة۔ (مشکوۃ المصابیح ص ٣٧٧) یعنی کھاؤ اور پیو اور صدقہ کرو اور پہنو جب تک کہ اس میں اسراف (فضول خرچی) اور شیخی بگھا رنانہ ہو۔ اگر کوئی شخص سادگی اختیار کرے معمولی لباس پہنے تو یہ بھی درست ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سادگی پسند تھی، عموماً آپ کا یہی عمل تھا۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جس نے قدرت ہوتے ہوئے خوبصورتی کا کپڑا تواضع کی وجہ سے پہننا چھوڑا۔ اللہ تعالیٰ اسے کرامت کا جوڑا پہنائے گا اور جس نے اللہ کے لئے نکاح کیا اللہ تعالیٰ اسے شاہانہ تاج پہنائے گا۔ (مشکوٰۃ صفحہ ٣٧٧) واضح رہے کہ سادہ کپڑے لوگوں سے سوال کرنے کے لئے یا بزرگی اور درویشی کا رنگ جمانے کے لئے نہ ہوں اور اس کو طلب دنیا کا ذریعہ بنانا مقصود نہ ہو۔ مومن بندہ فرض اور نفل نماز پڑھے فرض اور نفل روزے رکھے راتوں کو کھڑے ہو کر نفلی نمازیں پڑھے۔ یہ چیزیں رہبانیت میں نہیں آتی ہیں۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی سختی فرمائے گا، ایک جماعت نے اپنی جانوں پر سختی کی اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی فرما دی۔ یہ انہیں لوگوں کے بقایا ہیں جو گرجوں میں موجود ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿ رَهْبَانِيَّةَ ا۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ ﴾ (رواہ ابودؤد صفحہ ٣١٦: ج ٢) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ تین شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کا مقصد یہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اندرون خانہ عبادت کے بارے میں معلومات حاصل کریں جب ان کو آپ کی عبادت کے بارے میں باخبر کردیا گیا تو انہوں نے اسے کم سمجھا ان کے دلوں میں یہ بات آئی کہ ہم کہاں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہاں آپ کا تو اللہ تعالیٰ نے اگلا پچھلا سب معاف کردیا یہ تھوڑی عبادت آپ کے لئے کافی ہوسکتی ہے ہمیں تو بہت زیادہ ہی عبادت کرنی چاہئے پھر ان میں سے ایک نے کہا میں تو ہمیشہ راتوں رات نماز پڑھوں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا بےروزہ نہ ہوں گا تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے علیحدہ رہوں گا کبھی نکاح نہیں کروں گا، یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے آپ نے فرمایا کیا تم لوگوں نے ایسا ایسا کہا ہے ؟ اللہ کی قسم میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے بڑھ کر متقی ہوں لیکن میں (نفلی) روزے بھی رکھتا ہوں بےروزہ بھی رہتا ہوں، رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، سو جو شخص میری سنت سے ہٹے وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔ (رواہ البخاری صفحہ ٧٥٨: ج ٢) یاد رہے کہ شریعت محمد یہ کے آسان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عمل کرنے والے اس پر عمل کرسکتے ہیں، یہ مطلب نہیں ہے کہ نفس کی خواہش کے مطابق جو چاہو کرلو۔ اگر ایسا ہوتا تو شریعت میں حلال و حرام کی تفصیلات ہی نہ ہوتیں، نہ نماز فرض ہوتی، نہ گرمی کے زمانوں میں رمضان کے روزہ رکھنے کا حکم ہوتا، نہ جہاد کا حکم ہوتا نہ حج کا، خوب سمجھ لیں، شریعت اسلامیہ کے آسان ہونے کا مطلب جو ملحدین نے نکالا ہے کہ جو چاہو کرلو یہ ان کی گمراہی ہے۔ حضرت ابو امامہ (رض) نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کی ایک جماعت میں نکلے وہاں راستہ میں ایک غار پر گزر ہوا وہاں پانی تھا اور سبزی تھی ایک شخص کے دل میں یہ بات آئی کہ وہیں ٹھہر جائے اور دنیا سے علیحدہ ہو کر زندگی گزارے، اس نے اس بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت چاہی، آپ نے فرمایا بیشک میں یہودیت اور نصرانیت لے کر نہیں بھیجا گیا لیکن میں ایسی شریعت لے کر بھیجا گیا ہوں جو بالکل سیدھی ہے اور آسان ہے قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے ایک صبح یا ایک شام کو اللہ کی راہ میں چلا جانا، دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سب سے افضل ہے اور جہاد کی صف میں تمہارا کھڑا ہوجانا ساٹھ سال کی نماز سے افضل ہے۔ (رواہ احمد کمافی مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٣٣٤) دیکھو اپنی شریعت کو آسان بھی بتایا اور ساتھ ہی جہاد کی صف میں کھڑا ہونے کی فضیلت بیان فرما دی۔ شریعت اسلامیہ میں اعتدال ہے، نہ دنیا داری ہے، نہ ترک دنیا ہے۔ شریعت کے مطابق حلال چیز سے استفادہ کرنا حلال ہے۔ خبائث اور انجاس سے پرہیز کریں تواضع مامور بہ ہے سادگی مرغوب ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

29:۔ ” ثم قفینا “ ان کے بعد ہم پے در پے پیغمبر بھیجتے رہے یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں سب سکے بعد ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اس پر کتاب انجیل نازل کی جس میں مسئلہ توحید اور دیگر احکام شریعت کا بیان تھا جن لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں محبت و الفت پیدا کردی اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے نہایت محبت و مودت کا سلوک کرتے تھے۔۔ ” ورھبانیۃ ابتدعوہا “ رھبانیۃ، عزلت، ریاضت، لوگوں سے علیحدگی اختیار کر کے اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجانا، اس کا ناصب علی شریطۃ التفسیر محذوف ہے۔ منصوب بفعل مضمر یفسرہ الظاہر ای وابتدعوا رھبانیۃ (روح ج 27 ص 190) ۔ ” الا ابتغاء وجہ اللہ “ کتبناھا میں ضمیر مفعول سے بدل ہے یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین میں سے ایک جماعت نے رہبانیت از خود اختراع کی تھی ہم نے سرے سے ان پر فرض کی ہی نہ تھی ہم نے تو ان پر اللہ کی رضا جوئی فرض کی تھی لیکن جو چیز انہوں نے اپنی طرف سے اپنے اوپر لازم کرلی تھی آخر وہ اس کا بھی حق ادا نہ کرسکے اور رہبانیت پر پورے نہ اتر سکے۔ والمعنی ما کتبنا علیہم الا ابتغاء رضوان اللہ (قرطبی ج 17 ص 263) ۔ یا استثناء منقطع ہے۔ یعنی رہبانیت کو ہم نے ان پر فرض نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے خودہی اللہ کی رضا جوئی کے لیے اسے اپنے اوپر لازم کرلیا تھا، لیکن پھر اس کا حق ادا نہ کرسکے۔ استثناء منقطع ای مافرضناھا نحن علیھم راسا ولکن ابتدعوھا والزموا انفسہم بھا ابتغاء رضوان اللہ تعالیٰ (روح) ۔ یا استثناء متصل ہے یعنی رہبانیت کو انہوں نے اختراع کیا اور ہم نے رضا الٰہی حاصل کرنے کے لیے ان پر اس کو مقرر کردیا۔ استثناء متصل والمعنی انا ماتعبدناہم بھا الا علی وجہ ابتغاء مرضاۃ اللہ تعالیٰ (کبیر) ۔ ابتدا میں جن لوگوں نے رہبانیت اختیار کی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ نہ تو جہاد کی طاقت رکھتے تھے اور نہ امر بالمعروف کی تو انہوں نے عزلت اختیار کرلی مگر بعد میں لوگ اس کی رعایت نہ کرسکے۔ 30:۔ ” فاتینا الذین امنوا “ اس سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخلص جان نثار حواریین مراد ہیں جنہوں نے دین حق کی خاطر جہاد کی اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے اور دین عیسوی کے سچے متبع تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابن مسعود ! بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے ان میں سے صرف تین فرقے بچے باقی سب ہلاک اور جہنمی ہوئے اول وہ جنہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کیا اور دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد کی اور کفار سے جہاد کیا۔ ان لوگوں کے بارے میں وارد ہے ” فایدنا الذین امونا علی عدوھم فاصبحوا ظاہرین “ (صف رکوع 2) ۔ دوم وہ جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتے، لیکن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے تھے۔ سوم وہ جو ان دونوں کاموں کی طاقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے عزلت اور رہبانیت اختیار کی اور اللہ کی عبادت میں مصروف ہوگئے۔ یا ابن مسعود اما علمت ان بنی اسرائیل تفرقوا (ثنتین و) سبعین فرقۃ کلہا فی النار الا ثلاث فرق، فرۃ امنت بعیسی (علیہ السلام) وقاتلوا اعداء اللہ فی نصرتہ حتی قتلوا، وفرقۃ لم یکن لھا طاقۃ بالقتال، فامروا بالمعروف ونھو عن المنکر، وفرقۃ لم یکن لہا طاقۃ بالامرین، فلبسوا العباء وخرجو الی القفار والفیافی (روح ج 27 ص 192 و کبیر ج 8 ص 145 واللظ لہ بتغیر) ۔ ” وکثیر منہم فاسقون “ ان تینوں فرقوں کے علاوہ باقی اکثریت راہ راست سے ہٹ کر کفر و شرک اور تثلیث میں مبتلا ہوگئی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(27) پھران رسولوں کے پیچھے ہم اور رسولوں کو پے درپے بھیجتے رہے اور ان رسولوں کے بعد ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور ہم نے اس کو انجیل عطا فرمائی اور جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کی اور عیسیٰ ابن مریم کی اتباع کی ہم نے ان کے قلوب میں شفقت اور رحم پیدا کیا اور رہبانیت اور گوشہ نشینی یعنی رک دنیا کو خود انہوں نے ایجاد کیا ہم نے اس رہبانیت اور گوشہ نشینی کو ان پر فرض اور ان پر لازم نہیں کیا تھا۔ مگر ہاں یہ ضرور ہے کہ انہوں نے رہبانیت مذکورہ کو اور گوشہ نشینی کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے اختیارا اور ایجاد کیا تھا لیکن ترک دنیا اور گوشہ نشینی کی رعایت کا جو حق تھا ویسا نباہ نہ سکے، پھر جو لوگ ان میں سے نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تو ہم نے ان کو ان کا اجروثواب عطا فرمایا اور اکثر ان راہبوں میں سے نافرمان ہیں۔ یعنی رسولوں کے بھیجنے کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا اور ان کو مستقل شریعت اور کتاب عطا فرمائی یہ عیسیٰ بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں پھر کچھ لوگ تو ان پر ایمان لے آئے اور کچھ لوگوں نے ایمان لانے سے انکار کیا۔ جیسا کہ عام قاعدہ ہے۔ پھر جو لوگ ایمان لائے تھے ان میں سے بعض نے اپنے دین کے تحفظ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے ترک دینا اور گوشہ نشینی کا طریقہ اختیار کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رہبانیت کا حکم نہیں دیا تھا نہ رہبانیت کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر لازم کیا تھا لیکن کچھ لوگوں نے اس کا اختراع کرلیا اگرچہ اس ترک دنیا کے پورے پورے حق ادا نہیں کرسکے اور گوشہ نشینی اور ترک دنیا کو نباہ نہ سکے۔ جولوگ انجیل پر ایمان لائے تھے ان میں انجیل کی تعلیم کا یہ اثرہوا کہ ان کے قلوب میں شفقت اور رحمت پیدا کردی گئی جیسا کہ انجیل کی تعلیم سے ظاہ رہے۔ بہرحال جو لوگ رہبانیت کے پابند تھے اور راہب کہلاتے تھے ان میں سے بعض لوگ نبی آخرالزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اور شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کرلیا تو جن راہبوں نے دین حق کو قبول کرلیا ان کو اللہ تعالیٰ نے ان کے اجروثواب عنایت فرمائے اور بہت سے ان راہبوں میں نافرمان اور فاسق ہوئے، یعنی انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا آگے پھر ان کو ایمان قبول کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔