Surat ul Hadeed

Surah: 57

Verse: 6

سورة الحديد

یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ ؕ وَ ہُوَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۶﴾

He causes the night to enter the day and causes the day to enter the night, and he is Knowing of that within the breasts.

وہی رات کو دن میں لے جاتا ہے اور وہی دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے اور سینوں کے بھیدوں کا وہ پورا عالم ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ... He merges night into day, and merges day into night, meaning, He does what He wills with His creatures. He alternates the night and day and measures them by His wisdom, as He wills. Sometimes, He makes the night longer than the day, and sometimes the opposite. Sometimes, He makes the length of night and day equal. Sometimes, He makes the season winter, then changes it to spring, then summer then autumn. All this He does by His wisdom and His due measure of everything in His creation, ... وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ and He has full knowledge of whatsoever is in the breasts. He knows the secrets, no matter how concealed they are.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ ۔۔۔۔: اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ آل عمران (٢٧) ، حج (٦١) ، لقمان (٢٩) ، ہود (٥) اور سورة ٔ رعد (١٠) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّہَارِ وَيُوْلِجُ النَّہَارَ فِي الَّيْلِ۝ ٠ ۭ وَہُوَعَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۝ ٦ ولج الوُلُوجُ : الدّخول في مضیق . قال تعالی: حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] ، وقوله : يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ [ الحج/ 61] فتنبيه علی ما ركّب اللہ عزّ وجلّ عليه العالم من زيادة اللیل في النهار، وزیادة النهار في اللیل، وذلک بحسب مطالع الشمس ومغاربها . ( و ل ج ) الولوج ( ض ) کے معنی کسی تنک جگہ میں داخل ہونے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے ۔ اور آیت : ۔ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ [ الحج/ 61]( کہ خدا ) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ۔ میں اس نظام کائنات پت متنبہ کیا گیا ہو جو اس عالم میں رات کے دن اور دن کے رات میں داخل ہونے کی صورت میں قائم ہے اور مطالع شمسی کے حساب سے رونما ہوتا رہتا ہے ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ صدر الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ، وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] ، ثم استعیر لمقدّم الشیء كَصَدْرِ القناة، وصَدْرِ المجلس، والکتاب، والکلام، وصَدَرَهُ أَصَابَ صَدْرَهُ ، أو قَصَدَ قَصْدَهُ نحو : ظَهَرَهُ ، وكَتَفَهُ ، ومنه قيل : رجل مَصْدُورٌ: يشكو صَدْرَهُ ، وإذا عدّي صَدَرَ ب ( عن) اقتضی الانصراف، تقول : صَدَرَتِ الإبل عن الماء صَدَراً ، وقیل : الصَّدْرُ ، قال : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] ، والْمَصْدَرُ في الحقیقة : صَدَرٌ عن الماء، ولموضع المصدر، ولزمانه، وقد يقال في تعارف النّحويّين للّفظ الذي روعي فيه صدور الفعل الماضي والمستقبل عنه . ( ص در ) الصدر سینہ کو کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] میرے پروردگار اس کا م کے لئے میرا سینہ کھول دے ۔ اس کی جمع صدور آتی ہے جیسے فرمایا : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] اور جو بھید دلوں میں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے ۔ وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں ۔ پھر بطور استعارہ ہر چیز کے اعلیٰ ( اگلے ) حصہ کو صدر کہنے لگے ہیں جیسے صدرالقناۃ ( نیزے کا بھالا ) صدر المجلس ( رئیس مجلس ) صدر الکتاب اور صدرالکلام وغیرہ صدرہ کے معنی کسی کے سینہ پر مارنے یا اس کا قصد کرنے کے ہیں جیسا کہ ظھرہ وکتفہ کے معنی کسی کی پیٹھ یا کندھے پر مارنا کے آتے ہیں ۔ اور اسی سے رجل مصدور کا محاورہ ہے ۔ یعنی وہ شخص جو سینہ کی بیماری میں مبتلا ہو پھر جب صدر کا لفظ عن کے ذریعہ متعدی ہو تو معنی انصرف کو متضمن ہوتا ہے جیسے صدرن الابل عن الماء صدرا وصدرا اونٹ پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹ آئے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے ۔ اور مصدر کے اصل معنی پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹنا کے ہیں ۔ یہ ظرف مکان اور زمان کے لئے بھی آتا ہے اور علمائے نحو کی اصطلاح میں مصدر اس لفظ کو کہتے ہیں جس سے فعل ماضی اور مستقبل کا اشتقاق فرض کیا گیا ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور وہی رات کے اجزا کو دن میں داخل کرتا اور بڑھاتا ہے اور دن کو رات میں داخل کر کے اسے بڑھاتا ہے اور وہ دلوں کی باتوں تک کو بھی جو کچھ ان میں نیکی یا برائی ہے جانتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦{ یُوْلِجُ الَّـیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّـیْلِ } ” وہ پرو لاتا ہے رات کو دن میں اور پرولاتا ہے دن کو رات میں۔ “ یہ مضمون ان ہی الفاظ کے ساتھ قرآن حکیم میں متعدد بار آیا ہے۔ { وَہُوَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ } ” اور وہ جانتا ہے اس کو بھی جو سینوں کے اندر ہے۔ “ نوٹ کیجیے ! ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر بہت تکرار کے ساتھ ہوا ہے ‘ پہلے فرمایا : { وَہُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ ۔ } پھر فرمایا : { یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْہَا…} (آیت ٤) اور اب یہاں اس آیت میں بتایا گیا کہ وہ سینوں کے رازوں کا بھی علم رکھتا ہے۔ ان چھ ابتدائی آیات پر مشتمل یہ ُ پرشکوہ تمہید گویا ایک اعلان ہے کہ خبردار ! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم یہ کس کا کلام پڑھ رہے ہو ‘ کس سے ہم کلام ہو رہے ہو ! ان تمہیدی آیات میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت ‘ اس کی قدرت ‘ اس کی بادشاہی اور خصوصی طور پر اس کے علم کا تعارف ہے۔ یہ گویا توحید فی العقیدہ کا بیان ہے۔ توحید کا یہ عقیدہ عملی میدان میں بندوں سے کیا تقاضا کرتا ہے اس کا ذکر اب آگے آ رہا ہے۔ چناچہ اگلی آیات میں توحید کے دو بنیادی تقاضے بتائے گئے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: سورۃ آل عمران : 27 میں اس کی تشریح گذر چکی ہے۔ مزید دیکھئے سورۃ حج : 61، سورۃ لقمان : 29 اور سورۃ فاطر : 13

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(57:6) یولج : مضارع واحد مذکر غائب۔ ایلاج (افعال) مصدر۔ وہ داخل کرتا ہے یولج الیل فی النھار (وہی داخل کردیتا ہے رات کو دن میں) یعنی رات کو گھٹا کر دن کو بڑھاتا ہے اور دن کو گھٹا کر رات کو لمبا کرتا ہے۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ رات ہوتی ہے چاروں طرف اندھیرا غالب ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ رات کی تاریکی کم ہوتی جاتی ہے اور دن کی آمد آمد ہوجاتی ہے حتی کہ رات بالکل ختم ہوجاتی ہے ۔ اور دن کی بادشاہت ہوجاتی ہے۔ پھر ان کی روشنی آہستہ آہستہ ماند پڑتی جاتی ہے اور رات کا تسلط ہوتا جاتا ہے تاآنکہ دن مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے اور رات کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ ذات الصدور۔ مضاف مضاف الیہ۔ جو سینوں میں ہے۔ یعنی دلوں کا بھید، سینوں کے پوشیدہ راز۔ ذات : ذو کا مؤنث ہے اس کی جمع ذوات ہے اور یہ ہمیشہ مضاف ہو کر استعمال ہوتا ہے۔ صدور جمع ہے سدر کی، سینہ، وہ خوب جانتا ہے جو سینوں میں (پوشیدہ) ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 کجا کہ اس سے تمہاری اعمال پوشیدہ رہیں، اگرچہ وہ دلوں میں آنے والے خیالات وساوس پر اس وقت تک مئواخذہ نہیں کرتا جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے۔ (وقد مرنی خاتم سورة البقر)7 یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور آنحضرت کی رسالت کا اقرار کرو۔ یہ کفار عرب سے خطاب ہے۔ اگر یہ خطاب مسلمانوں سے ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم اللہ و رسول پر ایمان میں مزید پختگی پیدا کرو اور اس پر برقرار رہو۔ کما فی اھدنا الصراط المستقیم

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یولج اللیل ............ الصدور (٧٥ : ٦) ” وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔ “ رات کا دن میں داخل ہونا اور دن کا رات میں داخل ہونا ایک مسلسل حرکت ہے ، لیکن یہ نہایت ہی لطیف حرکت ہے ، بظاہر پرسکون نظر آتی ہے۔ اس کے معنی چاہے یہ ہوں کہ رات اور دن چھوٹے بڑے ہوتے رہتے ہیں ، رات کا ایک حصہ دن کو دیا جاتا ہے یا دن کا ایک حصہ چھوٹا کرکے رات کو دیا جاتا ہے ، یا طلوع و غروب کے وقت ان کا باہم تداخل مراد ہو ، لیکن یہ ایک مسلسل لطیف حرکت ہے۔ اور دلوں کے اندر ایک حرکت ہے۔ اور یہ خیال کی حرکت ہے۔ اور یہ ہر وقت دل میں ہوتی ہے۔ دلوں والی ہے ، یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ یہ انسانی شعور کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، جو رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ، نہایت ہی لطیف شعور ہے اور یہ شعور کہ اللہ دلوں کے لطیف ترین اور مخفی تصورات کو بھی جانتا ہے ، ایک عظیم چیز ہے ! اس سورت کا یہ پہلا پیراگراف انسانی احساس کو اس قدر تیز کردیتا ہے کہ اب وہ ہدایات لینے کے لئے تیار ہے۔ لہٰذا اب اسلامی جماعت کو حکم دیا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ اور مناسب وقت میں انفاق فی سبیل اللہ کا مظاہرہ کرو۔ یہ ہدایت ایسے حالات میں دی جاتی ہے کہ انسان کا اندرونی اور اس کے قلب کی طرف جانے والے تمام راستوں کے دروازے کھلے ہیں ، اس کا شعور بیدار ہے ، وہ سننے کے لئے بےتاب ہے۔ چناچہ ایسی حالت میں یہ پکار آتی ہے۔ لیکن یہ بھی اپنے اندر نہایت اثر انداز ہونے والے دلائل ، اور جھنجھوڑنے والی تنبیہات کے ساتھ آتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور وہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور دل کی تمام پوشیدہ اور مخفی باتوں کو جانتا ہے۔ یعنی رات کے اجزاء دن میں شامل کردیتا ہے جس سے دن بڑا ہوجاتا ہے اور جب دن کے اجزا رات میں شامل کردیتا ہے تو رات بڑی ہوجاتی ہے جیسا کہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے اور وہ سینوں تک کی تمام باتیں جانتا ہے۔