(1) Zihar is a term denoting a custom of the Arabs in the days of Ignorance. In case of disagreement with their wives they used to say to them, |"You are for me like the back of my mother.|" After saying this, they used to take their wives as their real mothers in being prohibited for them, and the ties of marriage were held to have been broken for good, with no possibility of their restoration. These verses have been revealed in a similar case where a husband (Aus ibn. Samit) had declared ?ihar against his wife (Khawlah) who approached the Holy Prophet and complained about her husband. The custom of the days of Ignorance was condemned, and the rules of Shari&ah about zihar were laid down by these verses. (Muhammad Taqi Usmani) Commentary Cause of Revelation The initial verses of this Surah refer to a particular incident: Sayyidna Aus Ibn Samit (رض) said to his wife Sayyidah Khaulah bint Tha&labah (رض) which, literally, means &You are to me like the back of my mother.& Its underlying meaning is &You are unlawful to me for cohabitation just like my mother.& Such an utterance, in the days of ignorance, amounted to divorce - even worse because it was taken to imply that the husband is rescinding all marital ties with his wife and, in addition, he is classifying her within the prohibited degree or permanently forbidden women like his mother. According to pre-Islamic custom, reunion with the wife was possible after divorce, but not after zihar, as she became permanently and absolutely forbidden. When this incident took place, the aggrieved lady went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) complaining about her husband and seeking redress for her problem according to Shari&ah. Up to that point in time the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had not received any revelation concerning that legal issue. Therefore, he pleaded his inability to do anything to help her in the absence of a revealed ordinance and said to her: مَٓا اُمِرتُ فِی شَانکِ بِشَیءِ حَتّی الاٰنِ |"I have not yet received any ordinance regarding your matter.|" However he expressed his opinion according to common custom and said: مَا اَرَاکِ اِلَّا قَد حُرمتِ عَلَیہِ |"In my opinion, you have become forbidden to him.|" Having heard this ruling, she pleaded: |"0 Allah&s Messenger! He spent my wealth, exhausted my youth and my womb bore abundantly for him. When I became old, unable to bear children, he pronounced the zihar formula on me. Where shall I go and how will my children do their living?|" According to another version, she said: مَا ذَکَرَ طَلَاقاً |"My husband did not mention the word &divorce&, so how can this be counted as &divorce&?|" According to another version, she pleaded to Allah: اَللَّھُمَّ اِنِّی اَشکُوا الیکَ |"0 Allah! I direct my complaint to You . This was the cause of the revelation of verses [ 1-6] (Al-Durarul Manthur and Ibn Kathir) which clearly state that Allah heard Sayyidah Khaulah&s (رض) complaint and revealed the rule of Shari&ah to redress her grievances. Allah not only made matters easy for her, but the rule has been eternally enshrined in the Holy Qur&an for all sensible people to follow. The noble Companions (رض) greatly respected Sayyidah Khaulah (رض) because her case has been the cause of the revelation of the current set of verses, which abolished once and for all the long-standing social evil that was practiced in Arabia. Once Sayyidna ` Umar Faruq (رض) ، the Great, was on his way with some of the blessed Companions when he came across a woman who stopped him. He instantly stopped and listened attentively to her with his head bent down. He did not move till she completed what she wanted to say. Some of the noble Companions (رض) said: |"0 Commander of the Faithful! You have held back such a large group of people for such a long time on account of this old lady!|" Sayyidna ` Umar (رض) said: |"Do you know who this lady is? She is Sayyidah Khaulah (رض) the lady whose complaint was heard in the seventh heaven. So, how can ` Umar not listen to her? She should be heard for a longer period of time and with greater attention. By Allah! If she did not take leave of her own accord, I would have stood with her here till the nightfall.|" [ Ibn Kathir ] قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ (Allah has heard....1) The reference in the verse is to Sayyidah Khaulah (رض) the wife of Sayyidna Aus Ibn Samit (رض) ، as mentioned above. Thus this verse and the rest of the verses lay down not only the rule of Shari` ah pertaining to zihar and redress the grievances of women placed in such awkward situation, but the first verse also is in honour of the pleading lady which consoles her, in that it says that Allah was listening to her words when she was pleading her case. The word mujadalah means &to plead, argue or dispute consistently and convincingly about one&s problem or case&. According to some narratives, when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) pleaded his inability to do anything for her, as noted above, the aggrieved lady uttered spontaneously that &you receive ordinances in all matters, then how is it that no ordinance was revealed to you in my case?& Thus the verse was revealed: وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ |"...and was complaining to Allah...[ 1] |". [ Qurtubi ] Sayyidah ` A&ishah (رض) is reported to have said: |" Pure is He, Whose hearing encompasses all things. I heard what Khaulah bint Tha&labah (رض) said about her husband while some of it I could not hear despite being so close to her in the same room, but Allah heard all her conversation and said : قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ &Allah has heard...&.|" [ Bukhari, Ibn Kathir ]
سبب نزول اس سورت کی ابتدائی آیات کے نزول کا سبب ایک خاص واقعہ ہے کہ حضرت اوس بن الصامت نے ایک مرتبہ اپنی بیوی خولہ کو یہ کہہ دیا کہ انت علی کظہر امی ” تو میرے حق میں ایسی ہے جیسے میری ماں کی پشت یعنی حرام ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے زمانہ جاہلیت میں یہ لفظ ابدی اور دائمی حرمت کے لئے بولے جاتے تھے، جو طلاق مغلظہ سے بھی زیادہ سخت ہے، حضرت خولہ یہ واقعہ پیش آنے پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس کا حکم شرعی معلوم کرنے کے لئے حاضر ہوئیں، اس وقت تک اس خاص مسئلے کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی تھی، اس لئے آپ نے قول مشہور کے موافق ان سے فرما دیا ما اراک الا قد حرمت علیہ یعنی میری رائے میں تو تم اپنے شوہر پر حرام ہوگئیں، وہ یہ سن کر واویلا کرنے لگیں کہ میری جوانی سب اس شوہر کی خدمت میں ختم ہوگئی، اب بڑھاپے میں انہوں نے مجھ سے یہ معاملہ کیا، میں کہاں جاؤ ں ؟ میرا اور میرے بچوں کا گزارہ کیسے ہوگا ؟ اور ایک روایت میں ہے کہ خولہ نے یہ عرض کیا کہ ما ذکر طلاقاً یعنی میرے شوہر نے طلاق کا تو نام بھی نہیں لیا تو پھر طلاق کیسے ہوگئی اور ایک روایت میں ہے کہ خولہ نے اللہ تعالیٰ سے فرمایا کہ اللھم انی اشکو الیک اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے خولہ سے یہ فرمایا مآ امرت فی شانک بشی حتی الان یعنی ابھی تک تمہارے مسئلے کے متعلق مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا (ان سب روایات میں کوئی تضاد و تعارض نہیں، سبھی اقوال صحیح ہو سکتے ہیں) اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، (کذافی الدر المنثور و ابن کثیر) اس لئے اس سورت کی ابتدائی آیات میں اس خاص مسئلے کا جس کا نام ظہار ہے حکم شرعی بیان فرمایا گیا، جس میں حق تعالیٰ نے حضرت خولہ کی فریاد سنی اور ان کے لئے آسانی فرما دی، ان کی وجہ سے حق تعالیٰ نے قرآن میں یہ مستقل احکام نازل فرما دیئے، اسی لئے حضرات صحابہ ان کا بڑا احترام کرتے تھے، ایک روز فاروق اعظم ایک مجمع کے ساتھ چلے جا رہے تھے، یہ عورت خولہ سامنے آ کر کھڑی ہوگئیں، کچھ کہنا چاہتی تھیں حضرت عمر نے راستہ میں ٹھہر کر ان کی بات سنی، بعض لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس بڑھیا کی خاطر اتنے بڑے مجمع کو روکے رکھا، تو آپ نے فرمایا کہ خبر ہے یہ کون ہے ؟ یہ وہ عورت ہے جس کی بات اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سنی، میں کون تھا کہ ان کی بات کو ٹال دیتا، واللہ اگر یہ خود ہی رخصت نہ ہوجاتی تو میں رات تک ان کے ساتھ یہیں کھڑا رہتا (ابن کثیر) خلاصہ تفسیر بیشک اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے معاملے میں جھگڑتی تھی (مثلاً یہ کہتی تھی ما ذکر طلاقاً یعنی اس نے طلاق کا صیغہ تو ذکر نہیں کیا پھر حرمت کیسے ہوگئی) اور (اپنے رنج و غم کی) اللہ تعالیٰ سے شکایت کرتی تھی (مثلاً یہ کہا تھا اللھم انی اشکو الیک) اور اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا ( اور) اللہ تعالیٰ (تو) سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے (تو اس کی بات کو کیسے نہ سنتا اور قد سمع اللہ سے خدا تعالیٰ کا مقصود اپنے لئے سمع ثابت کرنا نہیں بلکہ عورت کی تکلیف کو ختم کرنا اور اس کی عاجزی کو قبول کرنا ہے) تم میں جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کرتے ہیں (مثلاً یوں کہہ دیتے ہیں انت علی کظہر امی) وہ (بیبیاں) ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں تو بس وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے ( اس لئے یہ الفاظ کہنے سے یہ عورتیں ان کی مائیں نہیں ہوگئیں تاکہ ہمیشہ کی حرمت مثل ماں کے ثابت ہوجائے اور کوئی دوسرا سبب بھی دائمی حرمت کا کسی دلیل سے متحق نہیں، مثلاً تحریم نسب، رضاع یا مصاہرة وغیرہ، پس دائمی حرمت کی نفی ہوگئی) اور وہ لوگ ( جو کہ بیبیوں کو ماں کہتے ہیں) بلاشبہ ایک نامعقول اور جھوٹ بات کہتے ہیں ( اس لئے گناہ ضرور ہوگا) اور ( اگر اس گناہ کا تدارک کردیا جاوے تو وہ گناہ معاف بھی ہوجائے گا کیونکہ) یقینا اللہ تعالیٰ معاف کردینے والے بخش دینے والے ہیں اور (آگے اس تدارک کا بعض صورتوں کے اعتبار سے بیان ہے کہ) جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اپنی کہی ہوئی بات ( کے مقتضا) کی ( جو تحریم زوجہ ہے) تلافی کرنا چاہتے ہیں (یعنی بیبیوں سے نفع حاصل کرنا چاہتے ہیں) تو ان کے ذمہ ایک غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے قبل اس کے کہ دونوں (میاں بی بی) باہم اختلاط کریں (صحبت سے یا اسباب صحبت سے) اس (کفارہ کا حکم کرنے) سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے (کفارہ سے علاوہ تکفیر سیئات کے یہ بھی نفع ہے کہ اس سے آئندہ کو تمہیں تنبیہ ہوجاوے گی) اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے (کہ کفارہ کے متعلق پوری بجا آوری احکام کی کرتے ہو یا نہیں پس کفارہ میں دو حکمتیں ہوگئیں، ایک گناہ کی معافی جس کی طرف اشارہ ہے لعفو غفور میں، دوسری زجر و تنبیہ جس کا تو عظون میں بیان ہے اور یہ دوسری حکمت بھی کفارہ کی تینوں قسموں میں ہے لیکن غلام یا لونڈی آزاد کرنا چونکہ کفارہ کے اقسام میں ذکراً مقدم ہے، اس لئے اس کو اس کے ساتھ ذکر کردیا گیا) پھر جس کو (غلام، لونڈی) میسر نہ ہو تو اس کے ذمہ پے در پے (یعنی لگاتار) دو مہینے کے روزے ہیں قبل اس کے کہ دونوں (میاں بی بی) باہم اختلاط کریں پھر جس سے یہ بھی نہ ہو سکیں تو اس کے ذمہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے (آگے اس حکم کا مثل دیگر احکام کے واجب التصدیق ہونا اس لئے بیان فرماتے ہیں کہ اس حکم کا مقصد قدیم رسم اور جاہلیت کے حکم کو توڑنا ہے، اس لئے اہتمام مناسب ہوا پس ارشاد ہوا کہ) یہ حکم اس لئے (بیان کیا گیا) ہے تاکہ (اس حکم سے متعلق مصلحتوں کے حاصل کرنے کے علاوہ) اللہ اور رسول پر ایمان (بھی) لے آؤ (یعنی ان احکام میں ان کی تصدیق بھی کرو کہ ایمان سے متعلق مصالح بھی حاصل ہوں) اور (آگے مزید تاکید کے لئے ارشاد ہے کہ) یہ اللہ کی حدیں (باندھی ہوئی) ہیں (یعنی خداوندی ضابطے ہیں) اور کافروں کے لئے ( جو کہ ان احکام کی تصدیق نہیں کرتے بالخصوص) سخت درد ناک عذاب ہوگا ( اور مطلق عذاب عمل میں خلل ڈالنے والے کو بھی ہوسکتا ہے اور کچھ اسی حکم کی تخصیص نہیں بلکہ) جو لوگ اللہ اور رسول کی مخالفت کرتے ہیں ( خواہ کسی حکم میں کریں جیسے کفار مکہ) وہ (دنیا میں بھی) ایسے ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوئے (چنانچہ کئی غزوات میں اس کا وقوع ہوا) اور (سزا کیسے نہ ہو کیونکہ) ہم نے کھلے کھلے احکام ( جن کی صحت اعجاز آیات سے ثابت ہے) نازل کئے ہیں ( تو ان کا انکار لامحالہ موجب سزا ہوگا اور یہ سزا تو دنیا میں ہوگی) اور کافروں کو (آخرت میں بھی) ذلت کا عذاب ہوگا ( اور آگے اس عذاب کا وقت بتلاتے ہیں کہ یہ اس روز ہوگا) جس روز ان سب کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا پھر ان سب کا کیا ہوا ان کو بتلا دے گا (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے وہ محفوظ کر رکھا ہے اور یہ لوگ اس کو بھول گئے ہیں ( خواہ حقیقتہ یا باعتبار بےفکری بےالتفاتی کے) اور اللہ ہر چیز پر مطلع ہے (خواہ ان کے اعمال ہوں یا اور کچھ) ۔ معارف و مسائل قد سمع اللہ الآیتہ، ان آیات کا سبب نزول جو اوپر بیان ہوچکا ہے اس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ یہ عورت جس کا ذکر اس آیت میں ہے وہ حضرت اوس ابن الصامت کی بیوی خولہ بنت ثعلبہ ہیں، جن کے شوہر نے ان سے ظہار کرلیا تھا اور یہ اس کی شکایت کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ حق تعالیٰ نے اس کو یہ عزت بخشی کہ اس کے جواب میں قرآن کی یہ آیات نازل ہوئیں اور ان میں صرف ظہار کا حکم شرعی اور اس کی تکلیف دور کرنے کا انتظام ہی نہیں فرمایا بلکہ اس کی دلداری کے لئے شروع کلام میں فرما دیا کہ ہم اس عورت کی باتیں سن رہے تھے، جو اپنے شوہر کے معاملہ میں آپ سے مجادلہ کر رہی تھی، مجادلہ سے مراد وہ جھگڑا جس سے مراد ایک مرتبہ جواب دے دینے کے باوجود اپنی تکلیف کو بار بار بیان کر کے آپ کو متوجہ کرنا اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ان کو یہ جواب دیا کہ تمہارے معاملہ میں مجھ پر کوئی حکم اللہ کا نازل نہیں ہوا تو اس پر غم زدہ کی زبان سے یہ نکلا کہ یوں تو آپ پر ہر چیز کے حکم نازل ہوتے رہتے ہیں میرے بارے میں کیا ہوا کہ وحی بھی رک گئی ؟ (قرطبی) اور اللہ تعالیٰ سے فریاد شروع کی وتشتکی الی اللہ اس پر حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت صدیقہ عائشہ فرماتی ہیں پاک ہے وہ ذات جس کا سماع تمام آوازوں کو محیط ہے، ہر ایک کی آواز سنتا ہے میں اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھی، جب خولہ بنت ثعلبہ اپنے شوہر کی شکایت بیان کر رہی تھیں مگر اتنے قریب ہونے کے باوجود ان کی بعض باتیں نہ سن سکی تھی، مگر حق تعالیٰ نے ان سب کو سنا اور فرمایا قد سمع اللہ (بخاری، ابن کثیر)