Surat ul Hashar

Surah: 59

Verse: 11

سورة الحشر

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا یَقُوۡلُوۡنَ لِاِخۡوَانِہِمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَئِنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَکُمۡ وَ لَا نُطِیۡعُ فِیۡکُمۡ اَحَدًا اَبَدًا ۙ وَّ اِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَنَنۡصُرَنَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَشۡہَدُ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۱﴾

Have you not considered those who practice hypocrisy, saying to their brothers who have disbelieved among the People of the Scripture, "If you are expelled, we will surely leave with you, and we will not obey, in regard to you, anyone - ever; and if you are fought, we will surely aid you." But Allah testifies that they are liars.

کیا تو نے منافقوں کو نہ دیکھا؟ کہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ضرور بالضرور ہم بھی تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہونگے اور تمہارے بارے میں ہم کبھی بھی کسی کی بات نہ مانیں گے اور اگر تم سے جنگ کی جائے گی تو بخدا ہم تمہاری مدد کریں گے ، لیکن اللہ تعالٰی گواہی دیتا ہے کہ یہ قطعًا جھوٹے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The False Promise of Support the Hypocrites gave to the Jews Allah states that the hypocrites, Abdullah bin Ubayy and his like, sent a messenger to Bani An-Nadir promising them help. Allah the Exalted said, أَلَمْ تَر إِلَى الَّذِينَ نَافَقُوا يَقُولُونَ لاِِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَيِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلاَ نُطِيعُ فِيكُمْ أَحَدًا أَبَدًا وَإِن قُوتِلْتُمْ لَنَنصُرَنَّكُمْ ... Have you not observed the hypocrites who say to their friends among the People of the Scripture who disbelieve: "If you are expelled, we indeed will go out with you, and we shall never obey anyone against you; and if you are attacked, we shall indeed help you." Allah then said, ... وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ But Allah is Witness that they verily are liars. meaning, the hypocrites lied when they issued this promise, because it was just words that they did not intend to fulfill.

کفر بز دلی کی گود ہے تلبیس ابلیس کا ایک انداز: ۔ عبداللہ بن ابی اور اسی جیسے منافقین کی چالبازی اور عیاری کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے یہودیان بنو نضیر کو سبز باغ دکھا کر جھوٹا دلاسا دلا کر غلط وعدہ کر کے مسلمانوں سے لڑوا دیا ، ان سے وعدہ کیا کہ ہم تمہارے ساتھی ہیں لڑنے میں تمہاری مدد کریں گے اور اگر تم ہار گئے اور مدینہ سے دیس نکالا ملا تو ہم بھی تمہارے ساتھ اس شہر کو چھوڑ دیں گے ، لیکن بوقت وعدہ ہی ایفا کرنے کی نیت نہ تھی اور یہ بھی کہ ان میں اتنا حوصلہ بھی نہیں کہ ایسا کر سکیں نہ لڑائی میں ان کی مدد کر سکیں نہ برے وقت ان کا ساتھ دیں ، اگر بدنامی کے خیال سے میدان میں آ بھی جائیں تو یہاں آتے ہی تیز و تلوار کی صورت دیکھتے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور نامردی کے ساتھ بھاگتے ہی بن پڑے ، پھر مستقل طور پر پیش گوئی فرماتا ہے کہ ان کی تمہارے مقابلہ میں امداد نہ کی جائے گی ، یہ اللہ سے بھی اتنا نہیں ڈرتے جتنا تم سے خوف کھاتے ہیں ، جیسے اور جگہ بھی ہے ۔ ( اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀ ) 4- النسآء:77 ) یعنی ان کا ایک فریق لوگوں سے اتنا ڈرتا ہے جتنا اللہ سے بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ بات یہ ہے کہ یہ بےسمجھ لوگ ہیں ، ان کی نامردی اور بزدلی کی یہ حالت ہے کہ یہ میدان کی لڑائی کبھی لڑ نہیں سکتے ہاں اگر مضبوط اور محفوظ قلعوں میں بیٹھے ہوئے ہوں یا مورچوں کی آڑ میں چھپ کر کچھ کاروائی کرنے کا موقعہ ہو تو خیر بہ سبب ضرورت کر گذریں گے لیکن میدان میں آ کر بہادری کے جوہر دکھانا یہ ان سے کوسوں دور ہے ، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں ، جیسے اور جگہ ہے ( وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ 65؀ ) 6- الانعام:65 ) بعض کو بعض سے لڑائی کا مزہ چکھاتا ہے ، تم انہیں مجتمع اور متفق و متحد سمجھ رہے ہو لیکن دراصل یہ متفرق و مختلف ہیں ایک کا دل دوسرے سے نہیں ملتا ، منافق اپنی جگہ اور اہل کتاب اپنی جگہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں ، وجہ یہ ہے کہ بےعقل لوگ ہیں ، پھر فرمایا ان کی مثال ان سے کچھ ہی پہلے کے کافروں جیسی ہے جنہوں نے یہاں بھی اپنے کئے کا بدلہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے ، اس سے مراد یا تو کفار قریش ہیں کہ بدر والے دن ان کی کمر کبڑی ہو گئی اور سخت نقصان اٹھا کر کشتوں کے پشتے چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے ، یا بنو قینقاع کے یہود ہیں کہ وہ بھی شرارت پر اتر آئے اللہ نے ان پر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کیا اور آپ نے انہیں مدینہ سے خارج البلد کرا دیا یہ دونوں واقعے ابھی ابھی کے ہیں اور تمہاری عبرت کا صحیح سبق ہیں لیکن اس وقت کہ کوئی عبرت حاصل کرنے والا انجام کو سوچنے والا ہو بھی ، زیادہ مناسب مقام بنو قینقاع کے یہود کا واقعہ ہی ہے واللہ اعلم ، منافقین کے وعدوں پر ان یہودیوں کا شرارت پر آمادہ ہونا اور ان کے بھرے میں آ کر معاہدہ توڑ ڈالنا پھر ان منافقین کا انہیں موقعہ پر کام نہ آنا نہ لڑائی کے وقت مدد پہنچانا نہ جلا وطنی میں ساتھ دینا ، ایک مثال سے سمجھایا جاتا ہے کہ دیکھو شیطان بھی اسی طرح انسان کو کفر پر آمادہ کرتا ہے اور جب یہ کفر کر چکتا ہے تو خود بھی اسے ملامت کرنے لگتا ہے اور اپنا اللہ والا ہونا ظاہر کرنے لگتا ہے ، اسی مثال کا ایک واقعہ بھی سن لیجئے ، بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا ساٹھ سال اسے عبادت الٰہی میں گذر چکے تھے شیطان نے اسے ورغلانا چاہا لیکن وہ قابو میں نہ آیا اس نے ایک عورت پر اپنا اثر ڈالا اور یہ ظاہر کیا کہ گویا اسے جنات ستا رہے ہیں ادھر اس عورت کے بھائیوں کو یہ وسوسہ ڈالا کہ اس کا علاج اسی عابد سے ہو سکتا ہے یہ اس عورت کو اس عابد کے پاس لائے اس نے علاج معالجہ یعنی دم کرنا شروع کیا اور یہ عورت یہیں رہنے لگی ، ایک دن عابد اس کے پاس ہی تھا جو شیطان نے اس کے خیالات خراب کرنے شروع کئے یہاں تک کہ وہ زنا کر بیٹھا اور وہ عورت حاملہ ہو گئی ۔ اب رسوائی کے خوف سے شیطان نے چھٹکارے کی یہ صورت بتائی کہ اس عورت کو مار ڈال ورنہ راز کھل جائے گا ۔ چنانچہ اس نے اسے قتل کر ڈالا ، ادھر اس نے جا کر عورت کے بھائیوں کو شک دلوایا وہ دوڑے آئے ، شیطان راہب کے پاس آیا اور کہا وہ لوگ آ رہے ہیں اب عزت بھی جائے گی اور جان بھی جائے گی ۔ اگر مجھے خوش کر لے اور میرا کہا مان لے تو عزت اور جان دونوں بچ سکتی ہیں ۔ شیطان نے کہا مجھے سجدہ کر ، عابد نے اسے سجدہ کر لیا ، یہ کہنے لگا تف ہے تجھ پر کم بخت میں تو اب تجھ سے بیزار ہوں میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ، جو رب العالمین ہے ( ابن جریر ) ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ ایک عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اور ایک راہب کی خانقاہ تلے رات گذارا کرتی تھی اس کے چار بھائی تھے ایک دن شیطان نے راہب کو گدگدایا اور اس سے زنا کر بیٹھا اسے حمل رہ گیا شیطان نے راہب کے دل میں ڈالا کہ اب بڑی رسوائی ہو گی اس سے بہتر یہ ہے کہ اسے مار ڈال اور کہیں دفن کر دے تیرے تقدس کو دیکھتے ہوئے تیری طرف تو کسی کا خیال بھی نہ جائے گا اور اگر بالفرض پھر بھی کچھ پوچھ گچھ ہو تو جھوٹ موٹ کہ دینا ، بھلا کون ہے جو تیری بات کو غلط جانے؟ اس کی سمجھ میں بھی یہ بات آ گئی ، ایک روز رات کے وقت موقعہ پا کر اس عورت کو جان سے مار ڈالا اور کسی اجاڑ جگہ زمین میں دبا دیا ۔ اب شیطان اس کے چاروں بھائیوں کے پاس پہنچا اور ہر ایک کے خواب میں اسے سارا واقعہ کہہ سنایا اور اس کے دفن کی جگہ بھی بتا دی ، صبح جب یہ جاگے تو ایک نے کہا آج کی رات تو میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے ہمت نہیں پڑتی کہ آپ سے بیان کروں دوسروں نے کہا نہیں کہو تو سہی چنانچہ اس نے اپنا پورا خواب بیان کیا کہ اس طرح فلاں عابد نے اس سے بدکاری کی پھر جب حمل ٹھہر گیا تو اسے قتل کر دیا اور فلاں جگہ اس کی لاش دبا آیا ہے ، ان تینوں میں سے ہر ایک نے کہا مجھے بھی یہی خواب آیا ہے اب تو انہیں یقین ہو گیا کہ سچا خواب ہے ، چنانچہ انہوں نے جا کر اطلاع دی اور بادشاہ کے حکم سے اس راہب کو اس خانقاہ سے ساتھ لیا اور اس جگہ پہنچ کر زمین کھود کر اس کی لاش برآمد کی ، کامل ثبوت کے بعد اب اسے شاہی دربار میں لے چلے اس وقت شیطان اس کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور کہتا ہے یہ سب میرے کرتوت ہیں اب بھی اگر تو مجھے راضی کر لے تو جان بچا دوں گا اس نے کہا جو تو کہے کروں گا ، کہا مجھے سجدہ کر لے اس نے یہ بھی کر دیا ، پس پورا بے ایمان بنا کر شیطان کہتا ہے میں تو تجھ سے بری ہوں میں تو اللہ تعالیٰ سے جو تمام جہانوں کا رب ہے ڈرتا ہوں ، چنانچہ بادشاہ نے حکم دیا اور پادری صاحب کو قتل کر دیا گیا ، مشہور ہے کہ اس پادری کا نام برصیصا تھا ۔ حضرت علی حضرت عبداللہ بن مسعود ، طاؤس ، مقاتل بن حیان وغیرہ سے یہ قصہ مختلف الفاظ سے کمی بیشی کے ساتھ مروی ہے ، واللہ اعلم ، اس کے بالکل برعکس جریج عابد کا قصہ ہے کہ ایک بدکار عورت نے اس پر تہمت لگا دی کہ اس نے میرے ساتھ زنا کیا ہے اور یہ بچہ جو مجھے ہوا ہے وہ اسی کا ہے چنانچہ لوگوں نے حضرت جریج کے عبادت خانے کو گھیر لیا اور انہیں نہایت بے ادبی سے زد و کوب کرتے ہوئے گالیاں دیتے ہوئے باہر لے آئے اور عبادت خانے کو ڈھا دیا یہ بیچارے گھبرائے ہوئے ہر چند پوچھتے ہیں کہ آخر واقعہ کیا ہے؟ لیکن مجمع آپے سے باہر ہے آخر کسی نے کہا کہ اللہ کے دشمن اولیاء اللہ کے لباس میں یہ شیطانی حرکت؟ اس عورت سے تو نے بدکاری کی ۔ حضرت جریج نے فرمایا اچھا ٹھہرو صبر کرو اس بچے کو لاؤ چنانچہ وہ دودھ پیتا چھوٹا سا بچہ لایا گیا حضرت جریج نے اپنی عزت کی بقا کی اللہ سے دعا کی پھر اس بچے سے پوچھا اے بچے بتا تیرا باپ کون ہے؟ اس بچے کو اللہ نے اپنے ولی کی عزت بچانے کے لئے اپنی قدرت سے گویائی کی قوت عطا فرما دی اور اس نے اس صاف فصیح زبان میں اونچی آواز سے کہا میرا باپ ایک چرواہا ہے ۔ یہ سنتے ہی بنی اسرائیل کے ہوش جاتے رہے یہ اس بزرگ کے سامنے عذر معذرت کرنے لگے معافی مانگنے لگے انہوں نے کہا بس اب مجھے چھوڑ دو لوگوں نے کہا ہم آپ کی عابدت گاہ سونے کی بنا دیتے ہیں آپ نے فرمایا بس اسے جیسی وہ تھی ویسے ہی رہنے دو ۔ پھر فرماتا ہے کہ آخر انجام کفر کے کرنے اور حکم دینے والے کا یہی ہوا کہ دونوں ہمیشہ کے لئے جہنم واصل ہوئے ، ہر ظالم کئے کی سزا پا ہی لیتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 جیسے پہلے گزر چکا ہے کہ منافقین نے بنو نضیر کو یہ پیغام بھیجا تھا۔ 11۔ 2 چناچہ ان کا جھوٹ واضح ہو کر سامنے آگیا کہ بنو نضیر جلا وطن کردیئے گئے، لیکن یہ ان کی مدد کو پہنچے نہ ان کی حمایت میں مدینہ چھوڑنے پر آمادہ ہوئے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥] اس سے مراد عبداللہ بن ابی ّرئیس المنافقین کی طرف سے بنونضیر کے نام وہ پیغام ہے۔ جس نے یہود کو مزید سرکش بنادیا تھا۔ اور یہی لوگ منافقوں کے حقیقتاً بھائی تھے۔ اور جس کی تفصیل پہلے اسی سورة کی آیت نمبر ٢ کے حواشی میں گزر چکی ہے۔ اس پیغام کا آخری حصہ یہ تھا کہ یہ ہمارا اٹل اور قطعی فیصلہ ہے۔ کہ ہم ضرور تمہاری مدد کو پہنچیں گے۔ تمہارے معاملہ میں ہم اس کے خلاف کسی مسلمان کی بات نہیں مانیں گے نہ اس کی کچھ پروا سمجھیں گے۔ [١٦] یعنی جو پیغام انہوں نے یہودیوں کو بھیجا ہے۔ وہ بھی سرا سر جھوٹ ہے۔ جس سے وہ یہودیوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسا رہے ہیں کہ وہ دلیر ہو کر جنگ لڑیں تو ہمارا کام از خود ہی بن جائے گا اور مسلمانوں سے نجات مل جائے گی۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہ منافق نہ لڑائی میں ان کا ساتھ دینے کی نیت رکھتے ہیں اور نہ جلاوطنی میں۔ اور اگر وہ لڑائی میں حصہ لیں بھی تو دم دبا کر بھاگ نکلیں گے۔ کیونکہ مکار اور دغاباز لوگ ہمیشہ بزدل اور بھگوڑے ہوا کرتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا ۔۔۔۔۔: اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیات عبد اللہ بن ابی اور اس کے دوسرے منافق ساتھیوں کے بارے میں ازیں کہ انہوں نے بنو نضیر کے یہود کی طرف پیغام بھیجا کہ اپنے قلعوں میں ڈٹ جاؤ ، اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یقینا یہ لوگ جھوٹے ہیں ، اگر انہیں نکالا گیا تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ مفسر آلوسی نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ سورت بنو نضیر کے واقعہ سے پہلے اتری ہے ، جب کہ محدثین اور سیرت نگاروں کے مطابق یہ سورت بنو نضیر کے واقعہ کے بعد اتری ہے ، جب وہ جلا وطن کیے جا چکے تھے۔ آلوسی نے اشارے ہی پر اکتاف کیا ہے کہ ان آیات کو بنو نضیر کے متعلق سمجھنا درست نہیں ۔ ابن عاشور نے اپنی تفسیر ” التحریر والتنویر “ میں لکھا ہے کہ منافقین نے جن کفار اہل کتاب کو یہ بات کہی تھی وہ بنو نضیر نہیں بلکہ بنو قریظہ اور خیبر کے یہودی تھی، کیونکہ بنو نضیر کا قصہ تو اس سے پہلے تمام ہوچکا تھا۔ اب وہ منافقین باقی ماندہ یہودیوں کو مسلمانوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے کی تلقین کر رہے تھے اور انہیں یقین دلا رہے تھے کہ ہم ہر حال میں تمہارا ساتھ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مسلمانوں کو حوصلہ دلایا کہ فکر مت کرو ، یہ کسی صورت میں بھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ ابن عاشور کی بات ہی درست ہے۔ ان آیات کو طبری میں مذکور ابن عباس (رض) کے جس قول کے مطابق بنو نضیر کے متعلق قرار دیا گیا ہے اس کی سند ثابت نہیں ، اس میں طبریٰ کے شیخ محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں ۔ ٢۔” اَلَمْ تَرَ “” الم تعلم “ کے معنی میں ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے بہت سے دلائل میں سے یہ بھی ایک دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منافقین کی اس بات سے آگاہ کردیا جو ان کے درمیان انتہائی راز کی بات تھی۔ ٣۔ یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِھِمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ : جیسا کہ اوپر گزرا کہ ان کفار اہل کتاب سے مراد بنو قریظہ اور خیبر کے یہودی ہیں ، انہیں منافقین کے بھائی قرار دینے سے ظاہر ہے کہ جس طرح ایمان والے آپس میں دوست اور بھائی ہیں ( دیکھئے حجرات : ١٠۔ انفال : ٧٢) اسی طرح کفار بھی ہیں ایک دوسرے کے دوست اور بھائی ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ ) (الانفال : ٧٣)” اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے بعض بعض کے دوست ہیں۔ “ بھائی ہونے سے مراد نسی اخوت نہیں ہے ، کیونکہ عبد اللہ بن ابی اور دوسرے اکثر منافقین اوس و خزرج کے مشرکین میں سے تھے ، اہل کتاب سے ان کی اخوت کفر ہی میں تھی۔ ٤۔ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ وَلَا نُطِیْعُ فِیْکُمْ اَحَدًا اَبَدًا : اس میں منافقین یہود کے دل میں آنے والے اس خطرے کا تدراک کر رہے ہیں کہ یہ لوگ اپنے قبیلوں اوس وخزوج میں سے مسلمان ہونے والوں کے رشتہ دار ہیں ، ان مسلمانوں نے انہیں ہماری مدد سے منع کیا تو یہ مدد سے ہاتھ کھینچ لیں گے ، اس لیے منافقین کہہ رہے ہیں کہ فکر مت کرو ، ہم تمہارے بارے میں کسی کی بات نہیں مانیں گے۔ ٥۔ وَ اللہ ُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ : اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی ہی بات کافی تھی کہ قسم کھا کر فرما دیا کہ بلا شبہ وہ یقینا جھوٹے ہیں ، مگر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں ان کی ایک ایک بات ذکر ک کے فرمایا کہ وہ ان میں سے کوئی وعدہ پورا نہیں کریں گے۔ علم بلاغت میں اسے اطناب کہتے ہیں ، یعنی کسی جگہ مختصر بات کا موقع ہوتا ہے ، کسی جگہ توسط کا اور کہیں ضرورت ہوتی ہے کہ بات کو خوب لمبا کر کے بیان کیا جائے۔ یہاں منافقین کے جھوٹ کو واضع کرنے اور انہیں ذلیل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بات کو لمبا کیا ہے۔ ( ابن عاشور) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر کیا آپ نے ان منافقین (یعنی عبداللہ بن ابی وغیرہ) کی حالت نہیں دیکھی کہ اپنے (ہم مذہب) بھائیوں سے کہ کفار اہل کتاب ہیں (یعنی بنی نضیر سے) کہتے ہیں (یعنی کہتے تھے، کیونکہ یہ سورت واقعہ جلا وطنی بنی نضیر کے بعد نازل ہوئی ہے، کمافی الروح مستدلاً بالحدیث والسیر) کہ واللہ ( ہم ہر حال میں تمہارے ساتھ ہیں، پس) اگر تم (اپنے وطن سے جبراً ) نکالے گئے تو ہم (بھی) تمہارے ساتھ (اپنے وطن سے) نکل جاویں گے اور تمہارے معاملہ میں ہم کبھی کسی کا کہنا نہ مانیں گے (یعنی ہم کو خواہ کوئی کیسا ہی سمجھاوے کہ خروج و قتال میں جو آئندہ مذکور ہے تمہارا ساتھ نہ دیں لیکن ہم نہ مانیں گے، پس جملہ لا نطیع سیاق وسباق دونوں کے متعلق ہے) اور اگر تم سے کسی کی لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں ( یہ تو ان کے کاذب ہونے کا اجمالاً بیان ہوا آگے تفصیلاً فرماتے ہیں کہ) واللہ اگر اہل کتاب نکالے گئے تو یہ (منافقین) ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے اور اگر (بفرض محال) ان کی مدد بھی کی (اور لڑائی میں شریک ہوئے) تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے پھر (ان کے بھاگ جانے کے بعد) ان (اہل کتاب) کی کوئی مدد نہ ہوگی (یعنی جو ناصر تھے وہ تو بھاگ گئے اور دوسرا بھی کوئی ناصر نہ ہوگا، پس لامحالہ مغلوب و مقہور ہوں گے، غرض منافقین کی جو غرض ہے کہ اپنے ان بھائیوں پر کوئی آفت نہ آنے دیں، اس میں ہر طرح ناکامی رہے گی، چناچہ ایسا ہی ہوا کہ جب آخر میں بنی نضیر نکالے گئے تو منافقین ان کے ساتھ نکلے نہیں اور جب اول میں ان کا محاصرہ کیا گیا جس میں احتمال قتال کا تھا تو اس میں انہوں نے نصرت نہیں کی اور بعد وقوع واقعہ کے اس طرح فرمانا لئن اخرجوا الخ جو آئندہ واقع ہونے پر دلالت کرتا ہے یا تو واقعہ ماضیہ کو مستحضر و موجود فرض کرنے پر مبنی ہے تاکہ ان کا خلف و عد اور ان کا مخذول ہونا خوب پیش نظر ہوجاوے اور یا آئندہ جو احتمال موہوم تھا ساتھ دینے کا اس کی نفی کردی، آگے اس ساتھ نہ دینے کا سبب فرماتے ہیں کہ) بیشک تم لوگوں کا خوف ان (منافقین) کے دلوں میں اللہ سے بھی زیادہ (یعنی دعویٰ ایمان سے جو یہ اپنا ڈرنا اللہ تعالیٰ سے بیان کرتے ہیں وہ تو خلاف واقع ہے ورنہ کفر کو کیوں نہ چھوڑ دیتے اور تمہارا واقعی خوف ہے پس اس خوف کی وجہ سے یہ لوگ ان بنی نضیر کا ساتھ نہیں دے سکتے اور) یہ ( ان کا تم سے ڈرنا اور خدا سے ڈرنا) اس سبب سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ (بوجہ کفر کے خدا تعالیٰ کی عظمت کو) سمجھتے نہیں ( اور یہ یہود عام ہیں بنی نضیر وغیر بنی نضیر سے اور منافقین الگ الگ تو تمہارے مقابلہ کا کیا حوصلہ کرتے) یہ لوگ (تو) سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں گے مگر حفاظت والی بستیوں میں یا دیوار (قلعہ و شہر پناہ) کی آڑ میں (حفاظت سے مراد عام، خندق سے ہو یا قلعہ وغیرہ سے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کبھی ایسا واقعہ پیش آیا ہو کہ منافقین نے مسلمانوں کا مقابلہ کسی قلعہ اور محفوظ مقام سے کیا ہو، کیونکہ مقصود یہ ہے کہ اگر کبھی یہود یا منافقین اکیلے اکیلے یا جمع ہو کر تمہارے مقابلہ میں آئے بھی تو ان کا مقابلہ محفوظ قلعوں میں یا شہر پناہ کی دیوار کے پیچھے سے ہوگا، چناچہ یہود بنی قریظہ و اہل خیبر اسی طرح مقابلہ میں پیش آئے اور منافقین نہ ان کے ساتھ ہوئے اور نہ ان کا کبھی اتنا حوصلہ ہوا کہ کھل کر مسلمانوں کے مقابلہ پر آئیں، اس میں مسلمانوں کی تشجیع یعنی ہمت افزائی بھی ہے کہ ان سے اندیشہ نہ رکھیں اور ان کے بعض قبائل جیسے اوس و خزرج کے واقعات جنگ دیکھ کر یہ اندیشہ نہ کیا جاوے کہ شاید اسی طرح اہل اسلام کے مقابلہ میں کسی وقت یہ بھی آسکیں، بات یہ ہے کہ) ان کی لڑائی آپس (ہی) میں بڑی تیز ہے (مگر مسلمانوں کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ہیں اور اسی طرح یہ احتمال نہ کیا جاوے کہ گو بمقابلہ اہل اسلام کے تنہا یہ ضعیف ہوں مگر بہت سے ضعفاء مل کر قوی ہوجاتے ہیں شاید اس طرح یہ سب جمع ہو کر مسلمانوں کا مقابلہ کرسکیں، یہ احتمال اس لئے قابل التفات نہیں کہ) اے مخاطب تو ان کو (ظاہر میں) متفق خیال کرتا ہے، حالانکہ ان کے قلوب غیر متفق ہیں (یعنی گو عداوت اہل حق ان سب میں ایک وجہ اشتراک کی ہے، مگر خود بھی تو ان میں اختلاف عقائد کی وجہ سے افتراق اور عداوت ہے جیسا سورة مائدہ میں گزر چکا ہے والقینا بینہم العداوة الخ اور ان کے باہم مجتمع ہونے کے احتمال کی نفی بھی زیادہ تاکید وتقویت مقصود کے لئے ہے ورنہ حق تعالیٰ کی مشیت ان کی مغلوبی و مقہوری کے ہاتھ ہوچکی ہے، تو اگر اتفاق ہو بھی جاتا تو کیا کام آتا، آگے اس نااتفاقی کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ) یہ (تشتت قلوب) اس وجہ سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (دین کی) عقل نہیں رکھتے ( اس لئے ہر ایک اپنے اپنے خیال کا تابع ہے اور جب نظریات اور اغراض مختلف ہوں تو اس کے لئے اختلاف قلوب لازم ہے اور اس پر یہ شبہ نہ کیا جاوے کہ بےدینوں میں بسا اوقات اتفاق دیکھا جاتا ہے، بات یہ ہے کہ یہاں مقصود قاعدہ کلیہ بیان کرنا نہیں، بلکہ ان میں جو نااتفاقی تھی اس کا سبب بیان کرنا مقصود ہے کہ ان کے لئے یہی امر سبب ہوگیا تھا، چناچہ ظاہر ہے آگے بالخصوص بنی نضیر اور ان منافقین کی جنہوں نے وعدہ نصرت کر کے دھوکہ میں ڈالا اور عین وقت پر دغا دی ان کی حالت کا بیان ہے کہ ان کے مجموعہ کی دو مثالیں ہیں، ایک مثال خاص بنی نضیر کی اور دوسری منافقین کی، بنی نضیر کی مثال تو) ان لوگوں کی سی مثال جو جو ان سے کچھ ہی پہلے ہوئے ہیں جو ( دنیا میں بھی) اپنے کردار کا مزہ چکھ چکے ہیں اور (آخرت میں بھی) ان کے لئے درد ناک عذاب ( ہونے والا) ہے ( مراد ان سے یہود بنی قینقاع ہیں، جن کا قصہ یہ ہوا کہ واقعہ بدر کے بعد انہوں نے آپ سے سن 2 ہجری میں عہد شکنی کر کے جنگ کی، پھر مغلوب و مقہور ہوئے اور قلعہ سے آپ کے فیصلہ پر باہر نکلے اور سب کی مشکیں باندھی گئیں، پھر عبداللہ بن ابی کے اصرار و الحاح کی وجہ سے ان کی اس شرط پر جان بخشی کی گئی کہ مدینہ سے چلے جائیں، چناچہ وہ اذرعات شام کو نکل گئے اور ان کے اموال مال غنیمت کی طرح تقسیم کئے گئے، کذا فی زاد المعاد، اور ان منافقین کی مثال) شیطان کی سی مثال ہے کہ (اول تو) انسان سے کہتا ہے کہ تو کافر ہوجا پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے (اور کفر کے وبال میں گرفتار ہوتا ہے خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں) تو (اس وقت صاف جواب دیدیتا ہے اور) کہہ دیتا ہے کہ میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں (دنیا میں ایسی تبری کا قصہ تو سورة انفال آیت و اذ زین لہم الشیطن اعمالہم الخ میں گزر چکا ہے اور آخرت میں تبری مضلین کی ضالین سے آیات متعددہ میں مذکور ہے) سو آخری انجام دونوں کا یہ ہوا کہ دونوں دوزخ میں گئے جہاں ہمیشہ رہیں گے ( ایک ضلال کی وجہ سے دوسرا اضلال کی وجہ سے) اور ظالموں کی یہی سزا ہے (پس جس طرح اس شیطان نے اس انسان کو اول بہکایا پھر وقت پر ساتھ نہ دیا اور دونوں خسران میں پڑے، اسی طرح ان منافقین نے اول بنی نضیر کو بری رائے دی، کہ تم نکلو نہیں، پھر عین وقت پر ان کو دھوکہ دیا اور دونوں بلا میں پھنسے) بنی نضیر تو جلاوطنی کی مصیبت میں اور منافقین ناکامیابی کی ذلت میں مبتلا ہوئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نَافَقُوْا يَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِہِمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْكِتٰبِ لَىِٕنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيْعُ فِيْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا۝ ٠ ۙ وَّاِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ۝ ٠ ۭ وَاللہُ يَشْہَدُ اِنَّہُمْ لَكٰذِبُوْنَ۝ ١١ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ، أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ [ الأنبیاء/ 34] ، أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً [يونس/ 2] ، آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] . والتسوية نحو : سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ [ البقرة/ 6] «1» ، وهذه الألف متی دخلت علی الإثبات تجعله نفیا، نحو : أخرج ؟ هذا اللفظ ينفي الخروج، فلهذا سأل عن إثباته نحو ما تقدّم . وإذا دخلت علی نفي تجعله إثباتا، لأنه يصير معها نفیا يحصل منهما إثبات، نحو : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ [ الأعراف/ 172] «2» ، أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ [ الرعد/ 41] ، أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ [ طه/ 133] أَوَلا يَرَوْنَ [ التوبة : 126] ، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [ فاطر/ 37] . - الثاني : ألف المخبر عن نفسه نحو : أسمع وأبصر . - الثالث : ألف الأمر، قطعا کان أو وصلا، نحو : أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ [ التحریم/ 11] ونحوهما . - الرابع : الألف مع لام التعریف «4» ، نحو : العالمین . - الخامس : ألف النداء، نحو : أزيد، أي : يا زيد . والنوع الذي في الوسط : الألف التي للتثنية، والألف في بعض الجموع في نحو : مسلمات ونحو مساکين . والنوع الذي في آخره : ألف التأنيث في حبلی وبیضاء «5» ، وألف الضمیر في التثنية، نحو : اذهبا . والذي في أواخر الآیات الجارية مجری أواخر الأبيات، نحو : وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا [ الأحزاب/ 10] ، فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا [ الأحزاب/ 67] ، لکن هذه الألف لا تثبت معنی، وإنما ذلک لإصلاح اللفظ . ا : الف با معنی کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ دوسرا وہ جو وسط کلام میں واقع ہو ۔ تیسرا وہ جو آخر کلام میں آئے ۔ ( ا) وہ الف جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ اس کی چند قسمیں ہیں : ۔ (1) الف الاستخبار اسے ہمزہ استفہام کہنے کے بجائے الف استخبار کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ کیونکہ اس میں عمومیت ہے جو استفہام و انکار نفی تبکیت پر زجرو تو بیخ ) تسویہ سب پر حاوی ہے۔ چناچہ معنی استفہام میں فرمایا ۔ { أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ } [ البقرة : 30]( انہوں نے کہا ) کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور تبکیت یعنی سرزنش کبھی مخاطب کو ہوتی ہے اور کبھی غیر کو چناچہ ( قسم اول کے متعلق ) فرمایا :۔ (1){ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُم } [ الأحقاف : 20] تم اپنی لذتیں حاصل کرچکے ۔ (2) { أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا } [ البقرة : 80] کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے ؟ (3) { آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ } [يونس : 91] کیا اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ؟ اور غیر مخاظب کے متعلق فرمایا :۔ (4) { أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا } [يونس : 2] کیا لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے ؟ (5) { أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِل } [ آل عمران : 144] تو کیا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں ؟ (6) { أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ } [ الأنبیاء : 34] بھلا اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟ (7) { آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ } [ الأنعام : 143] بتاؤ تو ( خدا نے ) دونوں نروں کو حرام کیا ہے ۔ یا دونوں ماديؤں کو ۔ اور معنی تسویہ میں فرمایا ، { سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا } [إبراهيم : 21] اب ہم گهبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے ۔ { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ } ( سورة البقرة 6) تم خواہ انہیں نصیحت کردیا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لانے کے ۔ اور یہ الف ( استخبار ) کلام مثبت پر داخل ہو تو اسے نفی میں تبدیل کردیتا ہے ۔ جیسے اخرج ( وہ باہر نہیں نکلا ) کہ اس میں نفی خروج کے معنی پائے جائے ہیں ۔ اس لئے کہ اگر نفی کے معنی نہ ہوتے تو اس کے اثبات کے متعلق سوال نہ ہوتا ۔ اور جب کلام منفی پر داخل ہو تو اسے مثبت بنا دیتا ہے ۔ کیونکہ کلام منفی پر داخل ہونے سے نفی کی نفی ہوئی ۔ اور اس طرح اثبات پیدا ہوجاتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَلَسْتُ بِرَبِّكُم } [ الأعراف : 172] کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ( یعنی ضرور ہوں ) { أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ } [ التین : 8] کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے یعنی ضرور ہے ۔ { أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ } [ الرعد : 41] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کا بندوبست کرتے ہیں ۔ { أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَة } [ طه : 133] کیا ان کے پاس کھلی نشانی نہیں آئی ۔ { أَوَلَا يَرَوْنَ } [ التوبة : 126] اور کیا یہ نہیں دیکھتے { أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم } [ فاطر : 37] اور کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی ۔ (2) الف جو مضارع کے صیغہ واحد متکلم کے شروع میں آتا ہے اور میں |" کے معنی رکھتا ہے جیسے اسمع و ابصر یعنی میں سنتاہوں اور میں دیکھتا ہوں (3) ہمزہ فعل امر خواہ قطعی ہو یا وصلي جیسے فرمایا :۔ { أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ } [ المائدة : 114] ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ { رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ } [ التحریم : 11] اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا ۔ (4) الف جو لام کے ساتھ معرفہ بنانے کے لئے آیا ہے جیسے فرمایا { الْعَالَمِينَ } [ الفاتحة : 2] تمام جہانوں (5) الف نداء جیسے ازید ( اے زید ) ( ب) وہ الف جو وسط کلمہ میں آتا ہے اس کی پہلی قسم الف تثنیہ ہے ( مثلا رجلان ) اور دوسری وہ جو بعض اوزان جمع میں پائی جاتی ہے مثلا مسلمات و مساکین ۔ ( ج) اب رہا وہ الف جو کلمہ کے آخر میں آتا ہے ۔ وہ یا تو تانیث کے لئے ہوتا ہے جیسے حبلیٰ اور بَيْضَاءُمیں آخری الف یا پھر تثنیہ میں ضمیر کے لئے جیسا کہ { اذْهَبَا } [ الفرقان : 36] میں آخر کا الف ہے ۔ وہ الف جو آیات قرآنی کے آخر میں کہیں بڑھا دیا جاتا ہے جیسے { وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا } [ الأحزاب : 10] { فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا } [ الأحزاب : 67] تو یہ کوئی معنوی اضافہ نہیں کرتا بلکہ محض لفظی اصلاح ( اور صوتی ہم آہنگی ) کے لئے آخر میں بڑھا دیا جاتا ہے ( جیسا کہ ابیات کے اواخر میں الف |" اشباع پڑھاد یتے ہیں ) رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں نِّفَاقُ ، وهو الدّخولُ في الشَّرْعِ من بابٍ والخروجُ عنه من بابٍ ، وعلی ذلک نبَّه بقوله : إِنَّ الْمُنافِقِينَ هُمُ الْفاسِقُونَ [ التوبة/ 67] أي : الخارجون من الشَّرْعِ ، وجعل اللَّهُ المنافقین شرّاً من الکافرین . فقال : إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [ النساء/ 145] ونَيْفَقُ السَّرَاوِيلِ معروفٌ نا فقاء الیربوع ہے یعنی جنگلی چوہے کا بل جس کے دود ھا نے ہوں نافق الیر بوع ونفق جنگی چوہیا اپنے مل کے دہانے سے داخل ہو کر دوسرے سے نکل گئی اور اسی سے نفاق ہے جس کے معنی شریعت میں دو رخی اختیار کرنے ( یعنی شریعت میں ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے نکل جانا کے ہیں چناچہ اسی معنی پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَالنَّارِ [ النساء/ 145] کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجہ میں ہوں گے ۔ نیفق السراویل پا جامے کا نیفہ أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 85] ، ( اخ و ) اخ ( بھائی ) اصل میں اخو ہے اور ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کا ولادت میں ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کی طرف سے یا رضاعت میں شریک ہو وہ اس کا اخ کہلاتا ہے لیکن بطور استعارہ اس کا استعمال عام ہے اور ہر اس شخص کو جو قبیلہ دین و مذہب صنعت وحرفت دوستی یا کسی دیگر معاملہ میں دوسرے کا شریک ہو اسے اخ کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ } ( سورة آل عمران 156) ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں ۔ میں اخوان سے ان کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آیت کریمہ :۔{ أَخَا عَادٍ } ( سورة الأَحقاف 21) میں ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ ان پر بھائیوں کی طرح شفقت فرماتے تھے اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : ۔ { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا } ( سورة هود 61) اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ { وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ } ( سورة هود 50) اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ( ہود ) کو بھیجا ۔ { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا } ( سورة هود 84) اور مدین کی طرف ان کے بھائی ( شعیب ) کو بھیجا ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے ابد قال تعالی: خالِدِينَ فِيها أَبَداً [ النساء/ 122] . الأبد : عبارة عن مدّة الزمان الممتد الذي لا يتجزأ كما يتجرأ الزمان، وذلک أنه يقال : زمان کذا، ولا يقال : أبد کذا . وكان حقه ألا يثنی ولا يجمع إذ لا يتصور حصول أبدٍ آخر يضم إليه فيثنّى به، لکن قيل : آباد، وذلک علی حسب تخصیصه في بعض ما يتناوله، کتخصیص اسم الجنس في بعضه، ثم يثنّى ويجمع، علی أنه ذکر بعض الناس أنّ آباداً مولّد ولیس من کلام العرب العرباء . وقیل : أبد آبد وأبيد أي : دائم «2» ، وذلک علی التأكيد . وتأبّد الشیء : بقي أبداً ، ويعبّر به عما يبقی مدة طویلة . والآبدة : البقرة الوحشية، والأوابد : الوحشیات، وتأبّد البعیر : توحّش، فصار کالأوابد، وتأبّد وجه فلان : توحّش، وأبد کذلک، وقد فسّر بغضب . اب د ( الابد) :۔ ایسے زمانہ دراز کے پھیلاؤ کو کہتے ہیں ۔ جس کے لفظ زمان کی طرح ٹکڑے نہ کئے جاسکیں ۔ یعنی جس طرح زمان کذا ( فلا زمانہ ) کہا جا سکتا ہے ابدکذا نہیں بولتے ، اس لحاظ سے اس کا تنبیہ اور جمع نہیں بننا چا ہیئے ۔ اس لئے کہ ابد تو ایک ہی مسلسل جاری رہنے والی مدت کا نام ہے جس کے متوازی اس کی جیسی کسی مدت کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ کہ اسے ملاکر اس کا تثنیہ بنا یا جائے قرآن میں ہے { خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا } [ النساء : 57] وہ ابدالاباد ان میں رہیں گے ۔ لیکن بعض اوقات اسے ایک خاص مدت کے معنی میں لے کر آباد اس کی جمع بنا لیتے ہیں جیسا کہ اسم جنس کو بعض افراد کے لئے مختص کر کے اس کا تثنیہ اور جمع بنا لیتا جاتا ہے بعض علمائے لغت کا خیال ہے کہ اباد جمع مولّدہے ۔ خالص عرب کے کلام میں اس کا نشان نہیں ملتا اور ابدابد وابدابید ( ہمیشہ ) ہمیشہ کے لئے ) میں دوسرا لفظ محض تاکید کے لئے لایا جاتا ہے تابدالشئی کے اصل معنی تو کسی چیز کے ہمیشہ رہنے کے ہیں مگر کبھی عرصہ درازتک باقی رہنا مراد ہوتا ہے ۔ الابدۃ وحشی گائے ۔ والجمع اوابد وحشی جانور) وتأبّد البعیر) اونٹ بدک کر وحشی جانور کی طرح بھاگ گیا ۔ تأبّد وجه فلان وأبد ( اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے ) بعض کے نزدیک اس کے معنی غضب ناک ہونا بھی آتے ہیں ۔ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول : أشهد . والثاني يجري مجری القسم، فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما، ويجري علمت مجراه في القسم، فيجاب بجواب القسم ( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور اسی سے شہادت ادا ہوتی ہے مگر اشھد بکذا کی بجائے اگر اعلم کہا جائے تو شہادت قبول ہوگی بلکہ اشھد ہی کہنا ضروری ہے ۔ ( 2) قسم کی جگہ پر آتا ہے چناچہ اشھد باللہ ان زید ا منطلق میں اشھد بمعنی اقسم ہے بعض نے کہاز ہے کہ اگر اشھد کے ساتھ باللہ نہ بھی ہو تب بھی یہ قسم کے معنی میں ہوگا اور کبھی علمیت بھی اس کے قائم مقام ہوکر قسم کے معنی دیتا ہے اور اس کا جواب بھی جواب قسم کی طرح ہوتا ہے ۔ شاھد اور شھید کے ایک ہی معنی ہیں شھید کی جمع شھداء آتی ہے قرآن میں ہے۔ لام اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه : الأول : الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف في موضع . الثاني : للملک والاستحقاق، ولیس نعني بالملک ملک العین بل قد يكون ملکا لبعض المنافع، أو لضرب من التّصرّف . فملک العین نحو : وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ المائدة/ 18] ، وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الفتح/ 7] . وملک التّصرّف کقولک لمن يأخذ معک خشبا : خذ طرفک لآخذ طرفي، وقولهم : لله كذا . نحو : لله درّك، فقد قيل : إن القصد أنّ هذا الشیء لشرفه لا يستحقّ ملكه غير الله، وقیل : القصد به أن ينسب إليه إيجاده . أي : هو الذي أوجده إبداعا، لأنّ الموجودات ضربان : ضرب أوجده بسبب طبیعيّ أو صنعة آدميّ. وضرب أوجده إبداعا کالفلک والسماء ونحو ذلك، وهذا الضرب أشرف وأعلی فيما قيل . ولَامُ الاستحقاق نحو قوله : لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ [ الرعد/ 25] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] وهذا کالأول لکن الأول لما قد حصل في الملک وثبت، وهذا لما لم يحصل بعد ولکن هو في حکم الحاصل من حيثما قد استحقّ. وقال بعض النحويين : اللَّامُ في قوله : لَهُمُ اللَّعْنَةُ [ الرعد/ 25] بمعنی «علی» «1» أي : عليهم اللّعنة، وفي قوله : لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ [ النور/ 11] ولیس ذلک بشیء، وقیل : قد تکون اللَّامُ بمعنی «إلى» في قوله : بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحى لَها [ الزلزلة/ 5] ولیس کذلک، لأنّ الوحي للنّحل جعل ذلک له بالتّسخیر والإلهام، ولیس ذلک کالوحي الموحی إلى الأنبیاء، فنبّه باللام علی جعل ذلک الشیء له بالتّسخیر . وقوله : وَلا تَكُنْ لِلْخائِنِينَ خَصِيماً [ النساء/ 105] معناه : لا تخاصم الناس لأجل الخائنين، ومعناه کمعنی قوله : وَلا تُجادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتانُونَ أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 107] ولیست اللام هاهنا کاللام في قولک : لا تکن لله خصیما، لأنّ اللام هاهنا داخل علی المفعول، ومعناه : لا تکن خصیم اللہ . الثالث : لَامُ الابتداء . نحو : لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوى [ التوبة/ 108] ، لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلى أَبِينا مِنَّا [يوسف/ 8] ، لَأَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً [ الحشر/ 13] . الرابع : الداخل في باب إنّ ، إما في اسمه إذا تأخّر . نحو : إِنَّ فِي ذلِكَ لَعِبْرَةً [ آل عمران/ 13] أو في خبره . نحو : إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصادِ [ الفجر/ 14] ، إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] أو فيما يتّصل بالخبر إذا تقدّم علی الخبر . نحو : لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ [ الحجر/ 72] فإنّ تقدیره : ليعمهون في سکرتهم . الخامس : الداخل في إن المخفّفة فرقا بينه وبین إن النافية نحو : وَإِنْ كُلُّ ذلِكَ لَمَّا مَتاعُ الْحَياةِ الدُّنْيا [ الزخرف/ 35] . السادس : لَامُ القسم، وذلک يدخل علی الاسم . نحو قوله : يَدْعُوا لَمَنْ ضَرُّهُ أَقْرَبُ مِنْ نَفْعِهِ [ الحج/ 13] ويدخل علی الفعل الماضي . نحو : لَقَدْ كانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبابِ [يوسف/ 111] وفي المستقبل يلزمه إحدی النّونین نحو : لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ [ آل عمران/ 81] وقوله : وَإِنَّ كُلًّا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ [هود/ 111] فَاللَّامُ في «لمّا» جواب «إن» وفي «ليوفّينّهم» للقسم . السابع : اللَّامُ في خبر لو : نحو : وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ [ البقرة/ 103] ، لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ [ الفتح/ 25] ، وَلَوْ أَنَّهُمْ قالُوا إلى قوله لَكانَ خَيْراً لَهُمْ [ النساء/ 46] «1» ، وربما حذفت هذه اللام نحو : لو جئتني أکرمتک أي : لأکرمتک . الثامن : لَامُ المدعوّ ، ويكون مفتوحا، نحو : يا لزید . ولام المدعوّ إليه يكون مکسورا، نحو يا لزید . التاسع : لَامُ الأمر، وتکون مکسورة إذا ابتدئ به نحو : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمانُكُمْ [ النور/ 58] ، لِيَقْضِ عَلَيْنا رَبُّكَ [ الزخرف/ 77] ، ويسكّن إذا دخله واو أو فاء نحو : وَلِيَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ [ العنکبوت/ 66] ، وفَمَنْ شاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شاءَ فَلْيَكْفُرْ [ الكهف/ 29] ، وقوله : فَلْيَفْرَحُوا [يونس/ 58] ، وقرئ : ( فلتفرحوا) وإذا دخله ثم، فقد يسكّن ويحرّك نحو : ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ [ الحج/ 29] . ( اللام ) حرف ) یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ اول حروف جارہ اور اس کی چند قسمیں ہیں ۔ (1) تعدیہ کے لئے اس وقت بعض اوقات تو اس کا حذف کرنا جائز نہیں ہوتا جیسے فرمایا : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] اور باپ نے بیٹے کو پٹ پڑی کے بل لٹا دیا ۔ اور کبھی حذف کرنا جائز ہوتا ہے چناچہ آیت کریمہ : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] خدا چاہتا ہے کہ تم سے کھول کھول کر بیان فرمادے۔ میں لام مذکور ہے اور آیت : فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ کردیتا ہے ۔ میں اسے حذف کردیا ہے ( یعنی اصل میں لا یھدیہ ولان یضلہ ہے ۔ ( یعنی اصل میں الان یھدی ولان یضلہ ہے (2) ملک اور استحقاق کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور ملک سے ہمیشہ ملک عین ہی مراد نہیں ہوتا ۔ بلکہ ملکہ منافع اور ملک تصرف سب کو عام ہے چناچہ فرمایا : وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ المائدة/ 18] اور آسمانوں اورز مینوں کی بادشاہت خدا ہی کی ہے ۔ وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الفتح/ 7] اور آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا ہی کے ہیں ۔ اور ملک تصرف کے لئے مثلا کسی شخص کے ساتھ لکڑی تصرف کے لئے مثلا کسی شخص کے ساتھ لکڑی اٹھاتے وقت تم اس سے یہ کہو ۔ خذ طرفک لاخذنی کہ تم ا اپنی جانپ سے پکڑ لوتا کہ میں اپنی جانب پکڑوں ۔ اور للہ درک کی طرح جب للہ کذا کہا جاتا ہے تو اس میں تو اس میں بعض نے لام تملیک مانا ہی یعنی یہ چیز بلحاظ شرف و منزلت کے اتنی بلند ہے کہ اللہ تعا لیٰ کے سو اسی پر کسی کا ملک نہیں ہوناچاہیے اور بعض نے کہا ہے کہ اس میں لام ایجاد کے لے ے سے یعنی اللہ نے نے اسے بطریق ابداع پیدا کیا ہے کیونکہ اللہ نے اسے بطریق ابداع پیدا کیا ہے کیونکہ موجودات دو قسم پر ہیں ۔ ایک وہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اسباب طبعی یا صنعت انسانی کے واسطہ سے ایجاد کیا ہے ۔ اورد وم وہ جنہیں بغیر کسی واسطہ کے پیدا کیا ہے جیسے افلاک اور آسمان وغیرہ اور یہ دوسری قسم پہلی کی نسبت اشرف اور اعلیٰ ہے ۔ اور آیت کریمہ : لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ [ الرعد/ 25] اور ان کے لئے لعنت اور برا گھر ہے ۔ اور وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے کئے خرابی ہے ۔ میں لا م استحقاق کے معنی دیتا ہے یعنی یہ لوگ لعنت اور ویل کے مستحق ہیں ۔ اور یہ سلام بھی لام ملک کی طرح ہے لیکن لام پال اسی چیز پر داخل ہوتا ہے جو ملک میں حاصل ہوچکی ہو اور لام استحقاق اس پر جو تا حال حاصل تو نہ ہوگی ہو نگر اس پر ستحقاق اس پر جوتا جال حاصل تو نہ ہوئی ہونگر اس پر استحقاق ثابت ہونے کے لحاظ سے حاصل شدہ چیز کی طرح ہو بعض وعلمائے نحو کہا ہے کہ آیت کریمہ : لَهُمُ اللَّعْنَةُ میں لام بمعنی علی ہے ۔ ای علیھم اللعنۃ ( یعنی ان پر لعنت ہے ) اسی طرح آیت کریمہ : لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ [ النور/ 11] ان میں جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اسکے لئے اتنا ہی وبال ہے ۔ میں بھی لام بمعنی علی ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے ۔ بعض نے کہا ہے کبھی لام بمعنی الیٰ بھی آتا ہے جیسا کہ آیت بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحى لَها [ الزلزلة/ 5] کیونکہ تمہارے پروردگار نے اس کا حکم بھیجا ہوگا ۔ میں ہے یعنی اوحی الیھا مگر یہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ یہاں تو وحی تسخیری ہونے پر متنبہ کیا گیا ہے اور یہ اس وحی کی طرح نہیں ہوتی جو انبیاء (علیہ السلام) کی طرف بھیجی جاتی ہے لہذا لام بمعنی الی ٰ نہیں ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَلا تَكُنْ لِلْخائِنِينَ خَصِيماً [ النساء/ 105] اور ( دیکھو ) دغا بازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ لام اجل ہے اور سبب اور جانب کے معنی دیتا ہے یعنی تم ان کی حمایت میں مت بحث کرو جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : وَلا تُجادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتانُونَ أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 107] اور جو لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا ۔ اور یہ لا تکن للہ خصیما کے لام کی طرح نہیں ہے کیونکہ یہاں لام مفعول پر داخل ہوا ہے اور معنی یہ ہیں ۔ لاتکن خصیم اللہ کہ تم اللہ کے خصیم یعنی فریق مخالف مت بنو ۔ (3) لا ابتداء جیسے فرمایا : لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوى [ التوبة/ 108] البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے ۔ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلى أَبِينا مِنَّا [يوسف/ 8] کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں ۔ لَأَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً [ الحشر/ 13] تمہاری ہیبت ان کے دلوں میں ۔۔۔ بڑھ کر ہے ۔ (4) چہارم وہ لام جو ان کے بعد آتا ہے ۔ یہ کبھی تو ان کے اسم پر داخل ہوتا ہے اور کبھی ان کی خبر اور کبھی متعلق خبر پر چناچہ جب اسم خبر سے متاخرہو تو اسم پر داخل ہوتا ہے جیسے فرمایا : إِنَّ فِي ذلِكَ لَعِبْرَةً [ آل عمران/ 13] اس میں بڑی عبرت ہے ۔ اور خبر پر داخل ہونے کی مثال جیسے فرمایا :إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصادِ [ الفجر/ 14] بیشک تمہارا پروردگار تاک میں ہے : إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے تحمل والے نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے ۔ اور یہ لام متعلق خبر پر اس وقت آتا ہے جب متعلق خبر ان کی خبر پر مقدم ہو جیسے فرمایا : ۔ لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ [ الحجر/ 72] اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مد ہوش ( ہو رہے ) تھے ۔ ( 5 ) وہ لام جوان مخففہ کے ساتھ آتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَإِنْ كُلُّ ذلِكَ لَمَّا مَتاعُ الْحَياةِ الدُّنْيا [ الزخرف/ 35] اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے ۔ ( 5 ) لام قسم ۔ یہ کبھی اسم پر داخل ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ لَقَدْ كانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبابِ [يوسف/ 111]( بلکہ ایسے شخص کو پکارتا ہے جس کا نقصان فائدہ سے زیادہ قریب ہے ۔ اور کبھی فعل ماضی پر آتا ہے جیسے فرمایا : ۔ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ [ آل عمران/ 81] ( 12 ) ان کے قصے میں عقلمندوں کے لئے عبرت ہے ۔ اگر یہ لام فعل مستقبل پر آئے تو اس کے ساتھ نون تاکید ثقیلہ یا خفیفہ کا آنا ضروری ہے جیسے فرمایا : ۔ تو تمہیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کر نا ہوگی ۔ اور آیت کریمہ : وَإِنَّ كُلًّا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ [هود/ 111] اور تمہارا پروردگار ان سب کو قیامت کے دن ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیگا ۔ میں لما کالام ان کے جواب میں واقع ہوا ہے ۔ اور لیوفینھم کا لام قسم کا ہے ۔ ( 7 ) وہ لام جو لو کی خبر پر داخل ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ [ البقرة/ 103] اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا ۔ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ [ الفتح/ 25] اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان کو ہم ۔۔۔۔۔۔ عذاب دیتے ۔ وَلَوْ أَنَّهُمْ قالُوا إلى قوله لَكانَ خَيْراً لَهُمْ [ النساء/ 46] اور اگر یہ لوگ کہتے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور آپ کو متوجہ کرنے کے لئے ۔۔۔۔ راعنا کی جگہ انظرنا کہتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا ۔ اور کبھی لو کے جواب میں لام محزوف ہوتا ہے جیسے ہے ۔ ( 8 ) وہ لام جو مدعا یا مدعو الیہ کے لئے استعمال ہوتا ہے مدعو کے لئے یہ مفعوح ہوتا ہے ۔ جیسے یا لذید ۔ اور مدعوالیہ آئے تو مکسور ہوتا ہے جیسے یالذید ۔ ( 9 ) لام امر یہ ابتدا میں آئے تو مکسور ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمانُكُمْ [ النور/ 58] مومنوں تمہارے غلام لونڈیاں تم سے اجازت لیا کریں ۔ لِيَقْضِ عَلَيْنا رَبُّكَ [ الزخرف/ 77] تمہارا پروردگار ہمیں موت دے دے ۔ اور اگر اس پر داؤ یا فا آجائے تو ساکن ہوجاتا ہے جیسے فرمایا : وَلِيَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ [ العنکبوت/ 66] اور فائدہ اٹھائیں ( سو خیر ) عنقریب ان کو معلوم ہوجائیگا ۔ وفَمَنْ شاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شاءَ فَلْيَكْفُرْ [ الكهف/ 29] تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے ۔ فَلْيَفْرَحُوا [يونس/ 58] اور جب اس پر ثم داخل ہو تو اسے ساکن اور متحرک دونوں طرح پڑھنا جائز ہوتا ہے جیسے فرمایا : ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ [ الحج/ 29] پھر چاہیے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں ۔ اور خانہ قدیم یعنی بیت اللہ کا طواف کریں ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

کیا آپ نے قبیلہ اوس کے ان لوگوں کی دینی حالت نہیں دیکھی جو ظاہرا تو ایمان کے دعویدار اور خفیہ طور پر نفاق میں مبتلا ہیں بنی قریظہ سے کہتے ہیں واللہ اگر مدینہ سے تم نکالے گئے جیسا کہ بنو نضیر نکالے گئے تھے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور تمہارے خلاف مدینہ والوں میں سے کسی کی مدد نہیں کریں گے اور اگر محمد نے تم سے لڑائی کی تو ہم تمہاری مدد کریں گے یہ منافقین نے ان لوگوں سے اس وقت کہا تھا جبکہ حجور نے ان کا محاصرہ کرلیا تھا کہ تم اپنے قلعوں میں رہو اور وہاں سے نہ نکلو اور باقی اللہ جانتا ہے کہ یہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں۔ شان نزول : اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نَافَقُوْا (الخ) ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کیا ہے کہ قریظہ والوں میں سے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے اور ان میں منافق بھی تھے تو وہ لوگ بنی نضیر سے کہا کرتے تھے کہ اگر تم نکال دیے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے ان ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ ١{ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا } ” کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو نفاق میں مبتلا ہیں “ { یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِہِمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ } ” وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنہوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا ہے “ { لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ } ” کہ اگر تم لوگوں کو (کبھی مدینہ سے ) نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے “ یہودیوں کے ساتھ ان منافقین کے حلیفانہ تعلقات تھے۔ ان تعلقات اور روابط کی بنیاد پر منافقین وقتاً فوقتاً انہیں یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم آخری دم تک تمہارا ساتھ دیں گے اور اگر تم لوگوں کو کبھی مدینہ سے بےدخل کرنے کی کوشش کی گئی تو ایسی مشکل گھڑی میں ہم شانہ بشانہ تمہارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ { وَلَا نُطِیْعُ فِیْکُمْ اَحَدًا اَبَدًالا } ” اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کی بھی اطاعت نہیں کریں گے “ { وَّاِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّکُمْ } ” اور اگر تمہارے ساتھ جنگ کی گئی تو ہم لازماً تمہاری مدد کریں گے۔ “ منافقین انہیں یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم محض وقتی طور پر بعض مصلحتوں کی وجہ سے مسلمانوں میں شامل ہوئے ہیں اور یہ کہ اس وجہ سے تمہارے ساتھ ہمارے پرانے دوستانہ تعلقات بالکل متاثر نہیں ہوں گے۔ چناچہ تمہارے ساتھ حق دوستی نبھانے میں کوئی مصلحت بھی ہمارے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ہم بعض معاملات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم مانتے بھی ہیں ‘ لیکن تمہارے معاملے میں ہم ان کے حکم کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔ اگر مسلمانوں نے کبھی تمہارے خلاف کوئی اقدام کرنے کی کوشش کی تو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے تمہارا ساتھ دیں گے۔ { وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّہُمْ لَـکٰذِبُوْنَ } ” اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20 In the injunctions laid down up to here, it has been ruled that; in the fai properties there arc the rights of Allah and His Messenger and the Messenger's relatives an the orphans and the indigent and the wayfarers and the Emigrants and the Ansar and of the Muslim generations which will be born till the. Day of Resurrection. It is this important legal ruling of the Qur'an in the light of which Hadrat 'Umar(may Allah be pleased with him) introduced the new system in respect of the lands and properties of the conquered territories of 'Iraq, Syria and Egypt and of the possessions of the previous governments and rulers of those countries. When these countries were conquered; some of the distinguished Companions among whom were included prominent men like Hadrat Zubair, Hadrat Bilal, Hadrat 'Abdur Rahman bin 'Auf and Hadrat Salman Farsi, insisted that these should be distributed among the armies who had fought and conquered them. They thought that those properties did not come under "those upon which you have not rushed your horses and camels," but the Muslims had conquered them by rushing their horses and camels on them. Therefore, except for those cities and territories which surnndcred without the war, all the rest of the conquered (ands carne under ghanimah for which the legal command is that onefifth of the lands and the people be given to the Public Treasury and the remaining four parts be distributed among the soldiers. But this opinion was not correct on the ground that the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) had not distributed the lands and the people of any territory conquered by fighting in his time after the deduction of one-fifth, like the booty. Two of the most conspicuous precedents of his time were the conquest of Makkah and the conquest of Khaiber. Of these he handed over Makkah intact to its inhabitants. As for Khaiber, according to Hadrat Bushair bin Yasar, he divided it into 36 parts, of which he set aside 18 parts for collective benefits and requirements of the Muslims and distributed the remaining 18 among the army. (Abu Da'ud, Baihaqi, Abi 'Ubaid: Kitab al-Amwal; Yahya bin Adam: Kitab al-Kharj Baladhuri: Futuh al-Buldan; Ibn Human: Fath a/-Qadir). This action of the Holy Prophet made it clear that the command in respect of the conquered lands, even if they might have been taken by fighting, is not the same as of the ghanimah otherwise he would never have given the whole of Makkah intact to the people of Makkah, and would have set aside exactly one-half of the properties of Khaiber for the common benefits of the Muslims instead of deducting its one-fifth for the Public Treasury. Thus, what was established on the basis of the Sunnah was: In respect of the territories conquered by fighting the ruler of the Muslims has the authority that he may take any decision that he dreams fit keeping in view the conditions of the time. He can distribute them if he so likes but if a territory has an unusual nature and importance, as Makkah had, he can also treat its inhabitants with favour, as the Holy Prophet treated the people of Makkah. But as the conquests had not yet become comman in the Holy Prophet's time and separate injunctions in respect of the different kinds of conquered territories had not yet become clearly known to the people, so when big countries were annexed to Islam in the tune of Hadrat 'Umar, the Companions were faced with the problem whether the territories conquered by force were in the nature of ghanimah or fat. After the conquest of Egypt Hadrat Zubair demanded: "Distribute this, whole land just as the Holy Prophet had distributed Khaiber. " (Abu 'Ubaid). About the conquered territories of Syria and 'Iraq, Hadrat Bilal insisted: "Distribute aII the lands among the fighting forces just as the spoils are distributed. '(Abu Yusuf, Kitab al-Kharaj On the other hand, Hadrat 'AIi gave this opinion: "Leave these lands in possession of the peasants so that they continue to remain a source of income for the Muslims." (Abu Yusuf, Abu 'Ubaid,). Likewise, the opinion of Hadrat Mu'adh bin Jabal was; "If you distributed these lands, evil consequences would occur. Because of this distribution large properties will pass into the hands of those few people, who have conquered them. Then, when these people pass away and their properties pass on to their heirs and there is left only one woman or only one man from among them, nothing might remain for the future generations to meet their needs and even to meet the expenses of safeguarding the frontiers of the Islamic State. Therefore, you should so settle things that the interests both of the present and of the future generations are equally safeguarded." (Abu `Ubaid, p. 59; Fath al-Bari, vol. vi, p. 138). Hadrat `Umar calculated and found that if the territories of `Iraq were distributed, each individual would receive two or three peasants on the average as his share, (Abu Yusuf. Abu 'Ubaid). Thereupon he arrived at the judicious conclusion that those territories should not be distributed. Thus, the replies that he gave to those who demanded their distribution, were as follows: °Do you want that for the people who come afterwards there should remain nothing?" (Abu 'Ubaid). "What will happen of the Muslims who cane afterwards when they find that the land along with its peasants has been distributed and the people have inherited their forefathers? This is not at aII just. " (Abu Yusuf. "What will be left for the Muslims who cant after you? I am afraid if I distribute it, you would fight among yourselves over water. " (Abu Yusuf. "Had I no thought for those who would come afterwards, I would distribute every territory that I conquered just as the Messenger of AIIah had distributed Khaiber." (Bukhari Muwatta, Abu 'Ubaid), "Nay: this is the real estate. I will withhold it so that the needs and requirements of the conquering forces and of the common Muslims continue to be met by it." (Abu 'Ubaid). But the people were not satisfied with these replies, and they started saying that he was being unjust. At last, Hadrat 'Umar convened a meeting of the consultative body of the Canpanions and put the matter before it. Here are some of the sentences of the speech that he made on this occasion: "I have given you this trouble so that you may join me in shouldering the trust that has been put in me for governing your affairs. I am one of you, and you are the people who affirm the truth today. Everyone of you has the option to agree to or differ from what I say. I do not wish that you should follow my desire. You have the Book of Allah, which states the whole truth. By God, if I have said something which I want to enforce, I have no object in view except the truth. You have heard those who think that I am being unjust to them and want to deprive them of their rights, whereas I seek Allah's refuge that I should commit an injustice. It would be vicious on my part if I withheld from them something which actually belonged to them and gave it to another. But I can see that no other land after the land of the Chosroe is going to fall. Allah has given the properties of the Persians and their lands and their peasants in our possession. I have distributed the booty taken by our armies among them after the deduction of the khums (one fifth), and am thinking of distributing the rest which yet remains. But as for the lands my opinion is that I should not distribute them and their peasants, but should levy revenue on the lands and jizyah on the peasants, which they should always pay, and this should be the fai for the common Muslims and their children and the armies of today and for the generations yet to come. Don't you see that we need the troops who should be appointed to protect these our frontiers? Don't you see that in territories like Syria, AI-Jazirah, Kufah, Basra, Egypt we should station our troops, and they should be regularly for their services? So, if I distribute these lands along with their peasants, how shall we meet these expenses?" The debate went on for two or three days. Hadrat `Uthman Hadrat 'Ali, Hadrat Talhah, Hadrat `Abdullah bin `Umar and others concurred with Hadrat 'Umar, but nothing could be decided. At last, Hadrat `Umar rose and said: "I have found an argument in the Book of Allah, which is decisive in this matter. Then, he recited these very verses of Surah AI-Hashr from Ma afaa'Allahu to Rabbana innaka Ra uf. ur-Rahim, and argued: "The people of this day only are not entitled to receive a share in these properties bestowed by Allah, but AIlah has joined with them also those people who will come after them. Then, how can it be that we should distribute the fai properties which are meant for all, only among the conquerors and leave nothing for the later generations? Moreover, Allah says: '...so that this wealth does not remain circulating among your rich people only.' But if distribute it among the conquerors, it will remain circulating only among your rich and nothing would be left for others. " This argument satisfied everybody and consensus was reached that aII the conquered territories should be declared fai for the common benefits of the Muslims, which should be left with those who work on those lands and they should be put under revenue and jizyah. (Abu Yusuf Kitab al-Kharaj, pp. 23-27, 35; AI-Jassas, Ahkam al-Qur'an). Accordingly, the real position of the conquered lands that came to be established was that the Muslim people in their collective capacity are their owners; the people who were already working on them would be recognized as cultivators on behalf of the Muslim people; they would continue to pay the prescribed revenue to the Islamic government on those lands, their rights as cultivators would pass from generation to generation as heritage, and they would even be allowed to sill those rights, but they will not be the real owners of the land, but its real owners will be the Muslim community. Imam Abu `Ubaid in his Kitab al-Amwal has stated this legal position, thus: "Hadrat `Umar left the lands of the territory of `Iraq in the hands of its people; he levied tax on their lands and jizyah per head on the people." (p. 57). When the head of the Islamic government leaves the lands in the hands of the people of the conquered territories, they would be allowed to pass the lands on as heritage and would also be allowed to sell them. " (P. 84). In the time of `Umar bin `Abdul `Aziz, Sha'bi was asked: "Is there a treaty with the people of the territory of `Iraq." He replied: "There is no treaty, but when the revenue was accepted from them, it amounted to a treaty with them. " (Abu `Ubaid, p. 49; Abu Yusuf, p. 28). In the time of Hadrat `Umar, `Utbah bin Furqad purchased a piece of land by the Euphrates. Hadrat `Umar asked him from whom he had purchased the land. He replied that he had purchased it from its owners. Hadrat `Umar said: "Its owners are these people, i. e. the Emigrants and the Ansar. " Thus, `Umar held the opinion that the real owners of those lands were the Muslims. (Abu `Ubaid, p. 74). Accordingly, the properties of the conquered countries which were declared as the collective property of the Muslims were the following: (1) Those lands and territories which come under the control of the Islamic government in consequence of a peace treaty. (2) The ransom or revenue or jizyah which the people of a territory may have agreed to pay, without fighting, in order to seek refuge from the Muslims, (3) Those lands and properties which the owners might have abandoned and fled. (4) The properties the owners of which were slain and no survivor was left to own them. (5) The lands which were not under any ownership previously. (6) The lands which wen already in the ownership of the people, but were Ieft with their previous owners and they were put under jizyah and revenue, (7) Estates of the previous ruling dynasties. (8) Properties of the previous governments. (For details, see Bada-i as-Sanai, vol. vii, pp. 116-118; Yahya bin Adam Kitab aI-Kharaj. pp. 22, 64; Mughni al-Muhtaj, vol. iii, p. 93; Hashiyah ad-Dusuqi ala-sh-Sharah al-Kabir, vol. ii, p. 190; Ghayat al-Muntaha, vol. i, pp. 467-471). Since these properties were declared as fai with the consensus of the Canpanions, the jurists of Islam also have agreed in principle on their being regarded as fai. However, they have differed in certain matters, the details of which arc briefly as follows: The Hanafis say that as regards the lands of the conquered territories the Islamic government (Imam in juristic termnology has the option that it may distribute them among the forces of conquest after deduction of the khums (onefifth), or may leave them with the former owners and put the owners under jizyah and the lands under revenue. In this case the land will be regarded as a 'legacy for the Muslims. (Badai' as-Sanai AI-Jassas, Ahkam al- Qur'an; Sharah al-Anayah al al-Hedayah; Fath al-Qadir). The same view has `Abdullah bin Mubarak cited for Imam Sufyan Thauri. (Yahya bin Adam; Abu 'Ubaid, Kitab a!-Amwal). The Malikis say that as soon as the lands have been conquered they automatically become a legacy for- the Muslims. It does not need the Imam's ruling or the willingness of the Muslim soldiers to declare them a legacy. Besides, the well known view among the Malikis is that not only the lands but the houses and buildings of the conquered territories also are, as a matter of fact, a legacy for the Muslims. However, the Islamic government will not charge the rent for them. (Hashiyah ad-Dusuqi The Hanbalis agree with the Hanafis that the Imam has the option to distribute the lands among the soldiers or to declare them as a legacy for the Muslims, and with the Malikis that although the houses of the conquered territories are included the legacy, no rent will be levied on them. (GhayatalMuntaha which is a collection of the legal rulings of the Hanbali School of juristic thought and a source book for Iegal rulings since the 10th century). The Shafe'i I viewpoint is that all the transferable properties of the conquered territory are ghanimah, and all the non-transferable properties (lands, houses, etc.) fai. (Mughni al-Muhtaj). Some jurists have expressed the opinion the if the Imam wants to declare the lands of the territory taken by fighting as a legacy for the Muslims, he must first obtain the willingness of the conquering forces. For this they cite this argument: Hadrat 'Umar, before the conquest of Iraq, had promised Jarir bin 'Abdullah al-Banali, the people of whose tribe constituted one-fourth of the army, which fought the Battle of Qadisiyah, that they would be given one-fourth of the conquered territory. Thus, they retained this territory for two or three years. Then Hadrat 'Umar said to them: "Had I not been responsible and answerable in the matter of division, I would have left with you whatever has been given to you. But now I see that the people have grown in numbers; therefore, my opinion is that you return it to the common people." Hadrat Jarir acceded to this, and Hadrat 'Umar gave him SO dinars as a prize. (Abu Yusuf, Kitab al-Kharaj; Abu 'Ubaid, Kitab al-Amwal From this they argue that Hadrat 'Umar had decided to declare the conquered territories as a legacy for the Muslims only after obtaining the willingness of the conquerors. But the majority of the jurists do not admit this argument, For in respect of alI the conquered territories no such willingness of the conquerors ever was taken. Only in the case of Hadrat Jarir bin 'Abdullah this was done because Hadrat `Umar had made a promise with him prior to any collective decision about the conquered lands. Therefore, he had to obtain his willingness only in order to be free from the obligation of the promise. This cannot be cited as a general law. Another section of the jurists says that even after declaring the lands as a legacy the government retains the option that it may redistribute the lands among the conquerors. For this they argue from this tradition: Once Hadrat 'AII said to the people in an address: "Had not there been the apprehension that you would fight among yourselves, I would have distributed the suburban lands among you. " ( Abu Yusuf, Kitab al-Kharaj; Abu `Ubaid, Kitab al-Amwal). But the majority of jurists do not admit this argument either. They are unanimous that when the people of the conquered territory have once been allowed to retain their lands and put under jizyah and revenue, the decision can never be changed later. As for the tradition attributed to Hadrat 'Ali Abu Bakr al-Jassas has discussed it at length in his Ahkam al-Qur an and proved it to be not authentic. 21 In this verse although the real object is only to pouts out that in fai not only the people of the present generation but .he Muslims of the later periods and their future generations also have a share, yet, besides, the Muslims have also been taught an important moral lesson that they should never have any malice' against other Muslims in their hearts, and they should continue to pray for the forgiveness of the Muslims who have gone before them instead of cursing and abiusing them. The bond that binds the Muslims together is that of a common Faith. If a person values his Faith as the most important thing in his heart, inevitably he would be a well-wisher of all those people who are his brethren-infaith. He can have ill-will and malice and hatred towards them in his heart only when the value of the Faith decreases in his sight and he starts valuing other things more. Therefore, it is the requirement of Faith that a believer's heart should be free from every trace of malice and hatred against the other believers. In this matter the best lesson is given by a Hadith which Nasa'i has related from Hadrat Anas. According to him, once it so happened that for three days continuously the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) declared in his assembly that a person was going to appear before them who belonged to the dwellers of Paradise, and every time it would be a certain person from among the Ansar. At this Hadrat 'Abdullah bin `Amr bin `As became curious as to what deeds the person concerned performed on the basis of which the Holy Prophet had repeatedly given the good news of his admission to Paradise. Thus, he made an excuse and spent three consecutive nights in his house to see how he performed his worship, but during the night he did not sec any thing unusual. At last, he asked him directly as to what special acts and devotions he performed on the basis of which the Holy Prophet had given the great good news about him. He replied: °You have seen how I perform my worship, but there is one thing which might have carved me this reward: I do not harbor any malice or evil design against any Muslim, nor fuel jealous of him on account of any good that Allah might have bestowed on him. " This does not mean that if a Muslim finds an error in another Muslim's word or deed, he should avoid calling_ it an error. Faith dces not demand this. Rut to describe an error as a mistake on the basis of an argument and to state it to be so in a polite and decent manner is one thing and toharbour malice and hatred and resort to invective and abuse quite another. It is wrong if one resorts to this in respect of one's contemporaries, but worse if one resorted to this in respect of the dead people of the past. For the person indulging in such a thing would be a most filthy person for he is not even inclined to forgive the dead. And the worst would be that a person should resort to invective and abuse in respect of those illustrious people who had done full justice to the Holy Prophet's companionship in a period full of extreme tribulations and hardships and had struggled with their lives to spread the light of Islam in the world and enabled us today to be blessed with the Faith. One can hold and opinion if one thinks that such and such party of them was in the right and such and such in the wrong in its viewpoint in the differences that arose between them, and can even express his opinion in a reasonable and decent way, but to resort to exaggeration in support of one party so that the heart is filled with spite and hatred against the other is an evil which no God-fearing person would commit. Those who indulge in such a thing against the clear teaching of the Qur'an, generally present the excuse that the Qur'an forbids to bear malice towards the believers and the ones towards whom they bear the malice were not believers but hypocrites. But this allegation is even worse than the sin in defence of which the excuse is presented. For these very verses of the Qur'an in the context of which Allah has taught the Muslims of the later generations not to bear malice towards the Muslims who have gone before them and to pray for their forgiveness, arc sufficient to refute this allegation. In these verses three groups have been mentioned, one after the other, who are entitled to receive a share in far. the Emigrants, the Ansar and the Muslims coming after them; and the Muslims of the later periods have been enjoined that they should pray for the forgiveness of the Muslims who had embraced the Faith before them. Obviously, in this context those who had embraced the Faith before them could not be any other than the Emigrants and the Ansar. Then Allah in vv. 11-17 of this Surah AlHashr itself has. also told us who were the hypocrites. This makes it absolutely clear that the hypocrites were the people who had encouraged the Jews on the occasion of the battle of the Bani an-Nadir; as against them, the believers were those who were on the side of the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) in this battle. After this, can a Muslim who has any fear of God in his heart, have the boldness to deny the Faith of the people to whose Faith Allah Himself has borne the testimony Imam Malik and Imam Ahmed arguing from this verse, have expressed ' the opinion that there is no share in fai for the people who malign the Companions of the Holy Prophet. (Ibn al-Arabi, Ahkam al-Quran; Ghayat al-Muntaha). But the Hanafis and the Shafe'is have not concurred with this, the reason being that Allah while declaring the three groups to be entitled to fai, has praised a conspicuous quality of each group but none of these qualities is a condition which may determine whether a group should or should not be given a share in fai. About the Emigrants it has been said: "They seek Allah's bounty and His goodwill, and are ever ready to succour Allah and His Messenger. " This does not mean that an Emigrant who lacks this quality, is not entitled to have a share in fai. About the Ansar it has been.said: "They love those who have migrated to them and entertain no desire in their hearts for what is given to them and prefer others about themselves even though they be needy themselves. " This also does not mean that a member of the Amar who has no love for the Emigrants and who is desirous of getting for himself what is being given to them, has no share in fai. Therefore, the quality of the third group that "they pray for the forgiveness of those who embraced the Faith before them and they pray that they should not have any malice in their hearts towards any other believer", is also no condition to make one entitled to fai, but this is in praise of a good quality and an instruction as to what should be the attitude of the believers towards the other believers and especially in respect of those believers who have gone before them.

سورة الْحَشْر حاشیہ نمبر :22 اس پورے رکوع کے انداز بیان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کو مدینے سے نکل جانے کے لیے دس دن کا نوٹس دیا تھا اور ان کا محاصرہ شروع ہونے میں کئی دن باقی تھے ۔ جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنی نضیر کو یہ نوٹس دیا تو عبداللہ بن ابی اور مدینہ کے دوسرے منافق لیڈروں نے انکو یہ کہلا بھیجا کہ ہم دو ہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری مدد کو آئیں گے ، اور بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تمہاری حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے ، لہٰذا تم مسلمانوں کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ اور ہرگز ان کے آگے ہتھیار نہ ڈالو ۔ یہ تم سے لڑیں گے تو ہم تمہارے ساتھ لڑیں گے ، اور تم یہاں سے نکالے گئے تو ہم بھی نکل جائیں گے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔ پس ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ رکوع پہلے کا نازل شدہ ہے اور پہلا رکوع اس کے بعد نازل ہوا ہے جب بنی نضیر مدینہ سے نکالے جا چکے تھے ۔ لیکن قرآن مجید کی ترتیب میں پہلے رکوع کو مقدم اور دوسرے کو مؤخر اس لیے کیا گیا ہے کہ اہم تر مضمون پہلے رکوع ہی میں بیان ہوا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١۔ ١٤۔ یہ آیتیں بھی بنی نضیر کے قصہ کی ایک حالت کے بیان میں ہیں حاصل اس حالت کا یہ ہے کہ مدینہ کے منافقوں نے بنی نضیر کی تسکین کے طور پر ان سے یہ کہلا بھیجا تھا کہ اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ مدینہ کی سکونت چھوڑ دیں گے اور تمہاری جلا وطنی کے بعد مدینہ کی سکونت کا کوئی ہم کو مشورہ بھی دے گا تو ہم ہرگز اس کا مشورہ نہ سنیں گے اور اگر تمہاری اور اور اہل اسلام کی لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کو تو ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے اس لئے اللہ نے فرمایا کہ ان منافقوں کی جس طرح اور سب باتیں زبانی ہیں ان کے دل میں ان باتوں کا کچھ اثر نہیں ہے اسی طرح یہ باتیں بھی ان کی جھوٹی ہیں نہ یہ مدینہ کی سکونت چھوڑیں گے نہ لڑائی کے وقت مدد کریں گے۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام بھی سچا ہے جیسا کہ اللہ کے کلام میں تھا وہی ہوا کہ بنی نضیر جلا وطن ہوگئے اور منافق آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے۔ صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم میں عبد اللہ بن عمرو العاص (رض) کی حدیث ہے کہ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جھوٹ بولنا اور وعدہ خلافی کرنا منافقوں کی خصلت ہے حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے جس میں منافقوں کے جھوٹ بولنے کا ذکر ہے پھر فرمایا کہ اگر یہ منافق سچے ہوتے اور اپنے قول کے موافق مدد کو آتے تو اللہ کو ان کے دل کا حال معلوم ہے کہ ان کے دل میں اہل اسلام کا اس قدر خوف ہے کہ یہ لڑائی کے میدان میں ٹک نہیں سکتے۔ فوراً وہاں سے بھاگ جاتے صحیح ٢ ؎ بخاری اور مسلم میں حضرت جابر (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لشکر اسلام کو اللہ تعالیٰ نے وہ رعب دیا ہے کہ ایک مہینے کے راستے پر بھی دشمن ہو تو اس کے دل پر اس رعب کا اثر پڑجا جاتا ہے۔ منافقوں کے دل پر اہل اسلام کا جس قدر خوف تھا اس کا اندازہ اس حدیث سے معلوم ہوسکتا ہے کہ مہینہ بھر کے راستہ پر اثر کرنے والی چیز کا اثر پاس کے پاس کس قدر ہوگا اسی واسطے فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں اہل اسلام کا خوف اللہ کے خوف سے بھی زیادہ ہے کیونکہ ان کے منافق پنے کے سبب سے خدا کا خوف تو فقط ان کی زبان پر ہے دل میں کچھ بھی نہیں۔ اور لشکر اسلام کا خوف ان کے دل و زبان دونوں پر ہے پھر فرمایا یہ بات اس سبب سے ہے کہ ان لوگوں کو اتنی سمجھ نہیں کہ جس اللہ کے اہل اسلام کے لشکر میں یہ رعب کی تاثیر رکھی ہے نفاق کو چھوڑ کر اصل اس سے ہی ڈرنا چاہئے پھر فرمایا کہ ان کی برائی آپس کی لڑائی پر ختم ہے۔ لشکر اسلام کا تو ان کے دل پر وہ رعب چھایا ہوا ہے کہ یہود اور منافقین دونوں مل کر بھی میدان میں لشکر اسلام سے نہیں لڑ سکتے۔ ہاں اپنے بچاؤ کے طور پر گڑھی یا کسی دیوار کی آڑ میں سے کچھ لڑیں تو لڑیں لیکن یہ بھی جب ہی ہوسکتا کہ ان یہود اور منافقین میں یک دلی ہوتی اور یہ ظاہر بات ہے کہ یک دلی اور آپس کا اتحاد تو عقل مندوں میں ہوتا ہے یہ تو ایسے بےعقل لوگ ہیں کہ انہوں نے اپنے دین کے سنبھالنے میں عقل سے کچھ بھی کام نہیں لیا اس لئے ظاہر میں یہ ایک نظر آتے ہیں ورنہ حقیقت میں یہود اپنے راستہ پر ہیں اور منافق اپنے راستہ پر ہیں اور عقبیٰ سے دنوں غافل ‘ ترمذی ٣ ؎ اور ابن کی روایت سے شداد بن اوس کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صاحب عقل وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے مابعد کے لئے کچھ سامان کرلے ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور یہ حدیث یہود اور منافقین کے کم عقل قرار پانے کی بابت اس آیت کی گویا تفسیر ہے۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب ملازمۃ المنافق ص ١٠ ج ١ و صحیح مسلم باب خصال المنافق ص ٥٦ ج ١۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری کتاب التیمم ص ٤٨ ج ١ و صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ ص ١١٩ ج ١۔ ) (٣ ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی استحباب المال والعمر فصل ثانی ص ٤٥١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(59:11) آیت 1112 کا پس منظر صاحب ضیاء القرآن تحریر فرماتے ہیں :۔ جب حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بنی نضیر کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی اور کسی وقت بھی جنگ چھڑ جانے کا امکان تھا۔ اس وقت وہاں کے منافقوں نے جن کے سرغنہ عبد اللہ بن ابی اور ابن نبتل تھے۔ کہلا بھیجا کہ مسلمانوں سے ڈرو نہیں ان کے مقابلہ میں ڈٹ جاؤ تم اکیلے نہیں ہو۔ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔ ضرورت پڑی تو ہم دو ہزار مسلح بہادروں کا لشکر لے کر ہم تمہارے ساتھ آملیں گے تمہیں جلاوطن ہونے کا جو حکم دیا گیا ہے۔ اس کے ماننے سے صاف انکار کر دو ۔ اور اگر تم کو مدینہ چھوڑنا ہی پڑا تو تم تنہا مدینہ نہیں چھوڑو گے بلکہ ہم تمہارے ساتھ ہی اس شہر کو چھوڑ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتادیا کہ یہ منافق جھوٹ بک رہے ہیں اگر جنگ شروع ہوئی تو یہ لوگ ہرگز ان کی مدد نہیں کریں گے۔ بالفرض والمحال ان بزدلوں نے میدان جنگ میں أنے کی جسارت کی تھی تو تمہیں دیکھتے ہی بھاگ جائیں گے۔ اور اگر بنی نضیر کو مدینہ چھوڑنا پڑا تو یہ ہرگز ان کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ چناچہ بعینہٖ اسی طرح ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا۔ الم تر : ہمزہ استفہامیہ لم تر نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد مذکر حاضر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ الذین نافقوا۔ موصول وصلہ۔ نافقوا ماضی جمع مذکر غائب۔ منافقۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ انہوں نے دوزخی کی۔ انہوں نے منافقت کی۔ انہوں نے کفر کو دل میں چھپایا۔ اور اسلام کو ظاہر کیا۔ الذین نافقوا منافق لوگ۔ کیا تو نے منافقوں کو نہیں دیکھا۔ ان منافق لوگوں سے مراد عبد اللہ بن ابی اور اس کے گروہ کے لوگ ہیں۔ یقولون صبغۃ المضارعۃ للدلالۃ علی استمرار قولہم۔ مضارع کا صیغہ ان کے استمرار قول پر دلالت کرتا ہے اور لاخوانھم میں لام تبلیغ کے لئے ہے۔ (روح المعانی) لاخوانھم : لام حرف جر۔ اخوانھم مضاف مضاف الیہ۔ اخوان جمع اخ کی۔ بھائی ۔ ان کے بھائیوں۔ اپنے بھائیوں کو۔ یعنی جو کفر میں اور موالات و دوستی کے لحاظ سے ان کے بھائی ہیں ۔ من اہل الکتب : اہل کتاب میں ہے، یعنی یہود بنی نضیر اور بنی قریظہ۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ کی اتم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے کہتے رہتے ہیں ۔۔ لئن اخرنتم ۔۔ لننصرنکم یہ یقولون کا مقولہ ہے۔ اللام فی قولہ عزوجل لئن اکرجتم موطئۃ للقسم وقولہ سبحانہ و تعالیٰ لنخرجن معکم جواب القسم : ای واللہ لئن اخرجتم من دیارکم قسرا لنخرجن معکم من دیارنا البتۃ ونذھبن فی صحبتکم اینماذھبتم۔ (روح المعانی) ۔ لئن اخرجتم میں لام موطئۃ للقسم (قسم کی راہ ہموار کرنے کے لئے) ہے اور قولہ سبحانہ لنخرجن معکم جواب قسم ہے یعنی خدا کی قسم اگر تم نے اپنے گھروں سے مجبورا نکالے گئے تو ہم بھی ضرور بالضرور تمہارے ساتھ اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ اور جہاں تم جاؤ گے ہم بھی تمہاری معیت میں وہاں چلے جائیں گے۔ اخرجتم ماضی مجہول جمع مذکر حاضر، اخراج (افعال) مصدر۔ تم نکالے گئے۔ لنخرجن لام جواب قسم یا جواب شرط۔ نخرجن مضارع تاکید بانون ثقیلہ جمع متکلم۔ لانطیع : مضارع منفی جمع متکلم۔ ہم ہرگز نہیں مانیں گے۔ اطاعۃ (افعال) مصدر۔ فیکم ای فی شانکم : تمہارے بارے میں۔ احد : مفعول لانطیع کا۔ ابدا ہرگز۔ کبھی بھی۔ ہمیشہ۔ وان قوتلتم لننصرنکم : یہ دوسرا مقولہ ہے۔ واؤ عاطفہ ہے ان شرطیہ ہے، ماضی مجہول جمع مذکر حاضر۔ مقاتلۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ اگر تم سے لڑائی گئی۔ جملہ شرط ہے اور لننصرنکم جملہ جواب شرط ہے۔ لام تاکید کا ہے۔ ننصرن مضارع تاکید بانون ثقیلہ۔ جمع متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم ضروری تمہاری مدد کریں گے۔ یشھد : مضارع واحد مذکر غائب۔ شھادۃ (باب فتح) مصدر (اور اللہ) گواہی دیتا ہے۔ (اور خدا) شاہد ہے (اور خدا) گواہ ہے لکذبون : لام تاکید کا ہے کاذبون اسم فاعل جمع مذکر، جھوٹے۔ لکذبون : بالکل جھوٹے۔ واللہ یشھد انھم لکذبون : خدا گواہی دیتا ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔ یہ ان کے وعدوں کی اجمالا تکذیب ہے ان کے دعوں کی الگ الگ تفصیلی تکذیب اگلی آیت میں آرہی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 منافقوں کو اہل کتاب ابنی نفیر وغیرہ) کا بھائی فرمایا۔ کیونکہ ان یک درمیان کفر قدر مشترک تھی اگرچہ دونوں کے کفر کی نوعیت مختلف تھی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١١ تا ١٧۔ اسرار ومعارف۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو دیکھ رہے ہیں اور ہر مخاطب سمجھ رہا ہے کہ منافقین اپنے یہودی دوستوں کو کہتے ہیں کہ اگر تم پر مصیبت آئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے تمہیں ملک بدر وہ کرسکے گا جو تمہارے ساتھ ہمیں بھی نکال باہر کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کا مشورہ قبول نہ کریں گے ۔ حتی کہ اگر تمہارے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے مگر اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں کہ منافق نہ کسی کادوست ہوتا ہے اور نہ کسی سے سچی بات کرتا ہے اس لیے اگر ان کفار کو کبھی ملک بدر ہوناپڑا تو یہ ان کا ساتھ نہ دیں گے اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو اول تو یہ ان کا ساتھ ہی نہ دیں گے اگر دیاتوبہت جلد بھاگ کھڑے ہوں گے کہ منافق اپنے مفادات نہیں چھوڑ سکتا چہ جائیکہ وہ جان قربان کرنے لگے چناچہ یہودیوں کو بےیارومددگار چھوڑ دیں گے۔ منافقین کے دل میں اللہ کا خوف نہیں بلکہ یہ مسلمانوں سے زیادہ ڈرتے ہیں تب ہی تو دل میں ایمان نہ ہونے کے باوجود زبان سے اعلان نہیں کرتے یہ سب سے بڑی بیوقوف قوم ہیں یا سب سے جاہل طبقہ ہے اور یہ لوگ مسلمانوں سے مقابلے کی تاب نہیں رکھتے اگر موقع آیاتوقلعوں کی اوٹ یارکاوٹوں کے پیچھے چھپ کر لڑنے کی کوشش کریں گے مگر ہاں آپس میں ایک دوسرے سے خوب لڑتے ہیں اور بظاہر متحد نظر آنے والے یہ لوگ اندر سے سب الگ الگ ہیں ان کے دل جدا جدا ہیں اس لیے یہ بےعقل قوم ہیں۔ آج کا کافر ومنافق بھی ایسا ہی ہے۔ اور یہ بات آج کے کافر ومنافق پر بھی صادق آتی ہے کہ امریکہ نے ، چالیس ممالک ساتھ ملاکرعراق پر حملہ کیا لیکن ہوائی جہازوں بمباری کرتا رہا زمین پر پاؤں رکھنے کی جرات نہ کی اور بظاہر متحد تمام مغربی ممالک اندرونی اقتصادی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ان سے پہلے کفار نے ماضی قریب میں اپنے کرتوتوں کا بدلہ پالیا اہل مکہ نے بھی اور یہود بنی قینقاع نے بھی اور دنیا کی ذلت کے بعد ان کے لیے بہت دردناک عذاب بھی ہے ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ انسانوں کو اللہ کی نافرمانی اور کفر پر ورغلاتا ہے اور جب وہ کربیٹھے تو کہتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ شامل نہیں ہوں میں اللہ سے ڈرتا ہوں یہ ایک اور جھوٹ بولتا ہے اس پر پہلے بات ہوچکی نیز آخرت میں بھی ایسا ہی کہے گا لیکن انجام دونوں کا یعنی کافر ومنافق اور شیطان سب کا یہ ہوگا کہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے جہاں ہمیشہ رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن۔ نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔ تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر ہیں جو تمہاری طرف سے لڑیں گے اور پھر تمہارے بہت سے حلیف قبائل بھی تو ہیں جو تمہارا ساتھ دیں گے۔ بنو نضیر عبد اللہ ابن ابی ابن سلول کے بہکائے میں آکر غرور وتکبر کا پیکر بن گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہلا دیا کہ ہم تو یہاں سے جانے والے ہیں نہیں آپ سے جو ہو سکے وہ کرلیں۔ یہ سن کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” اللہ اکبر “ فرمایا اور صحابہ کرام (رض) سے بنو نضیر کا گھیرائو کرنے اور جنگ کا اعلان کردیا۔ دس دن کی مدت گزرتے ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تقریبا تین ہزار صحابہ کو لے کر اس قدری تیزی سے بنو نضیر کے قلعوں کو گھیر لیا کہ وہ قلعوں میں بند ہو کر اہل ایمان پر صرف تیز ار پتھر برساتے رہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھیرا تنگ کردیا اور کوئی خاص جنگی کاروائی نہیں کی۔ عبد اللہ ابن ابی اور بنو نضیر کا کوئی حلیف ان کی مدد کرنے کے لئے نہیں آیا۔ طویل محاصرہ اور کسی طرف سے کسی طرح کی امداد نہ آنے پر آخر کا بنو نضیر نے صلح کی پیش کش کردی جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منظور کرتے ہوئے ان کو ایک ایک اونٹ پر جو کچھ گھر بار کا سامان آسکتا تھا وہ لے جانے کی اجازت دیدی۔ اس طرح چند ہی دنوں میں بغیر کسی جنگ کے بنو نضیر کو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنا پڑا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کو نازل فرمایا۔ ارشاد ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے ان منافقین کو دیکھا جنہوں نے کافر اہل کتاب سے کہا کہ اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور ہم تمہارے مقابلے میں کسی کی بات نہ سنیں گے۔ جنگ ہونے کی صورت میں ہم تمہارے ساتھ ہوں گے۔ فرمایا کہ اللہ گواہ ہے یہ قطعاً جھوٹے لوگے ہیں گر یہ (بنو نضیر) نکالے گئے تو یہ ہرگز ان کے ساتھ نہ نکلیں گے۔ جن گ میں ان کی کوئی مدد نہ کرسکیں گے نیز کسی اور طرف سے بھی ان کی مد دنہ کی جائے گی اور اگر جنگ ہوئی اور انہوں نے بھی مدد کرنے کی کوشش کی تو یہ سب پیٹھ دکھا کر بھاگیں گے۔ فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نادان و احمق لوگ اللہ سے تو نہیں ڈرتے لیکن تمہارا رعب ان کے دلوں میں بیٹھا ہوا ہے۔ فرمایا کہ یہ سب منافق ہیں جو کبھی سامنے آکر مقابلہ نہ کریں گے یا تو یہ قلعہ بند ہو کر یا دیواروں کے پیچھے سے تم پر حملے کریں گے۔ فرمایا کہ شاید تمہارا یہ خیال ہے کہ یہ سب متحدو متفق ہیں ایسا نہیں ہے بلکہ ان کے دل تو خود ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں اور آپس کی مخالفت میں بڑے سخت لوگ ہیں۔ یہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو ان سے کچھ ہی مدت پہلے اپنے کئے کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ ان کا انجام بھی درد ناک ہی ہے۔ اکسانے والے کی مثال تو اس شیاطن جیسی ہے جو آدمی کو کفر پر آمادہ کرتا ہے اور جب آدمی کفر کرنے لگتا ہے تو شیطان پیٹھ دکھا کر بھاگتا ہے اور کہتا ہے کہ اصل میں مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے تم سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر ان (جیسے شیطانوں اور انسانوں ) کا انجام ایک ایسی جہنم ہے جس میں یہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مخلص مسلمانوں کی خدمات کے ذکر کے بعد منافقین کا ذکر۔ بنونضیر کی بدعہدی اور مسلسل سازشوں کی وجہ سے اللہ کے رسول نے انہیں ان کے علاقے سے دس دن کے اندر نکل جانے کا حکم دیا۔ بنو نضیر اپنا علاقہ چھوڑنے کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی نے پیغام بھیجا کہ تمہیں اپنا وطن ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کی طرف پیش قدمی کی تو میں دوہزار ساتھیوں اور فلاں فلاں قبائل کے ساتھ مل کر تمہاری مدد کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین اور بنو نضیر کی سازش کو بےنقاب کرتے ہوئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا کہ کیا آپ نے منافقوں کی اس بات اور چال پر غور نہیں کیا کہ انہوں نے اپنے کافر بھائیوں جو اہل کتاب میں سے ہیں کہا کہ اگر انہیں جلاوطن کرنے پر مجبور کیا گیا تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے اور تمہارے بارے میں کسی کی کوئی بات نہیں مانیں گے۔ یعنی جنگ ہوئی تو ہم ہر صورت تمہاری مدد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ منافق اپنی بات میں جھوٹے ہیں۔ جب بنونضیر کو ان کے علاقہ سے نکال دیا جائے گا تو منافق نہ مدینہ چھوڑ کر ان کے ساتھ جائیں گے۔ اگر بنو نضیر کی مسلمانوں کے ساتھ مڈھ بھیڑ ہوگئی تو منافق ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ بالفرض کچھ منافق بنونضیر کی مدد کے لیے نکل پڑے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ اس صورت میں ان کی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔ اے مسلمانو ! منافق اور یہودی اس لیے مقابلہ نہیں کر پائیں گے کیونکہ وہ اللہ سے زیادہ تم سے ڈرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ حقیقی سمجھ سے عاری ہوچکے ہیں، حقیقی سمجھ یہ ہے کہ انسان اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کی نافرمانی اور منافقت چھوڑ دے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منافقین کی سازش اور بزدلی سے پہلے ہی آگاہ کردیا۔ ٢۔ منافق مسلمانوں کی کھل کر مخالفت کرنے کی بجائے عام طور پر چھپ کر مخالفت کرتا ہے۔ ٣۔ منافق اور کفار اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی بجائے لوگوں سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ ٤۔ حقیقی سمجھ کا تقاضا ہے کہ انسان صرف ” اللہ “ سے ڈرتا رہے۔ ٥۔ منافق اپنے وعدے میں جھوٹا ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ سے ڈرنا چاہیے : ١۔ مومنوں کو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ (البقرۃ : ١٥٠) ٢۔ اللہ کے بندے صرف اللہ سے ہی ڈرتے ہیں۔ (المائدۃ : ٢٨) ٣۔” نبی “ صرف اللہ سے ڈرتا ہے۔ (یونس : ١٥، الزمر : ٣) ٤۔ اللہ سے ڈرنے والے ہی کامیاب ہوا کرتے ہیں۔ (النور : ٥٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں ان باتوں کا ایک ریکارڈ پیش کردیا جاتا ہے جو اس واقعہ کے بارے میں یہودیوں اور منافقین مدینہ کے درمیان ہوتی رہیں۔ منافقین نے ان کے ساتھ جو جو معاہدے کیے وہ پورے نہ کیے اور یہودیوں کو اس طرح ذلیل کرکے رکھ دیا۔ اللہ ان پر حملہ آور ہوا اور ان کو اس قدر مرعوب کردیا کہ انہوں نے وہ کام اپنے ہاتھوں سے کیا جو مومنین نے کرنا تھا۔ لیکن قرآن کریم اس ریکارڈ کو پیش کرتے وقت ہر آیت میں ایک عظیم حقیقت سے بھی مسلمانوں کو آگاہ کرتا ہے۔ جوان کے دل میں بیٹھ جاتی ہے ، جو ان کے دلوں کے اندر ایک گہراتاثر پیدا کرتی ہے ، اور ان کے دل و دماغ میں ایمان گہرا ہوجاتا ہے۔ ان کے علم میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کے اخلاقی تربیت پختہ ہوجاتی ہے۔ پہلی حقیقت یہ فلم بندی کی گئی کہ یہودی اور منافقین بھائی بھائی ہیں۔ الم ترالی ................ الکتب (٩٥ : ١١) ”” تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے منافقت کی روش اختیار کی ہے ؟ یہ اپنے کافر اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں “۔ تو یہ اہل کتاب کافر تھے اور منافقین ان کے بھائی تھے۔ اگرچہ انہوں نے اسلام کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں سے منافقین کے جھوٹے وعدے جیسا کہ ابتدائے سورت میں سبب نزول بیان کرتے ہوئے عرض کیا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب یہود کے قبیلہ بنی نضیر کو مدینہ منورہ چھوڑنے کا حکم دیا تو ان لوگوں نے انکار کردیا اور رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے دیگر منافق ساتھیوں نے یہودیوں کو یہ پیغام بھیجا کہ تم ہرگز نہ نکلنا ہم تمہارے ساتھ ہیں ان آیات میں اسی کا ذکر ہے۔ رئیس المنافقین نے یہود کی کمر ٹھونکی، اور کافرانہ دوستی کو ظاہر کرتے ہوئے یہودیوں کے پاس خبر بھیجی کہ دیکھو تم اپنے گھروں سے ہرگز نہ نکلنا ہمیں تم اپنے سے علیحدہ مت سمجھو اگر تمہیں نکلنا ہی پڑا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اگر کوئی شخص ہم سے یوں کہے گا کہ ان کا ساتھ مت دو تو ہم اس کی بات نہیں مانیں گے اور نہ صرف یہ کہ ہم مدینہ چھوڑ کر تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے بلکہ اگر تمہارے ساتھ جنگ کی گئی تو ہم ضرور ضرور تمہارے ساتھ مل کر لڑیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَ اللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ٠٠١١﴾ (اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ ” الم تر “ تمہید کے بعد ان منافقین پر زجر ہے جو سورة مجادلہ میں مذکور منافقین سے کمتر تھے۔ اہل کتاب سے یہود بنی قریظہ مراد ہیں، کیونکہ بنی نضیر تو وہاں سے پہلے نکالے جا چکے تھے لیکن ان کے دلوں میں بدستور کفر موجود تھا اس لیے کفار اہل کتاب کو ان کے بھائی فرمایا۔ نیز یہ منافقین بھی اکثر یہود ہی میں سے تھے۔ منافقین جھوٹے وعدوں سے یہود بنی قریظہ کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے تھے۔ منافقین جس طرح اسلام میں مخلص نہیں تھے اسی طرح یہودیوں سے کیے گئے وعدوں میں بھی مخلص نہ تھے۔ وہ یہ وعدے محض پیش بندی کے طور پر کرتے تے کہ اگر بالفرض بنی قریظہ کا پلہ بھاری ہوگیا تو ان کی مدد کریں گے اور اگر مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا تو ان کا ساتھ دیں گے۔ منافقین یہودیوں سے کہتے کہ اگر بنی نضیر کی طرح تم کو بھی اپنے گھروں سے نکالا گیا تو ہم بھی یہاں نہیں رہیں گے۔ بلکہ جہاں تم جاؤ گے وہاں تمہارے ساتھ ہی جائیں گے اور تمہارے بارے میں ہم کسی کی کوئی بات نہیں مانیں گے مثلا اگر مسلمانوں نے ہم سے کہا کہ ہم تمہارا ساتھ چھوڑ دیں تم سے جنگ کریں تو ہم ان کا یہ حکم ہرگز نہیں مانیں گے بلکہ اگر مسلمانوں نے تم سے لڑائی چھیڑ دی تو ہم الٹا تمہاری مدد کریں گے۔ ” واللہ یشہد انہم لکذبون “ اللہ نے منافقین کی تکذیب فرما دی کہ وہ ان وعدوں میں جھوٹے ہیں اور انہیں پورا نہیں کریں گے اور ایسا ہی ہوا قبل از وقت آئندہ بات کی اطلاع دینا اور اس اطلاع کے مطابق اس کا واقع ہونا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کی دلیل ہے کہ واقعی آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ پر وحی آتی ہے۔ (الکاذبون) فی مواعیدہم للیھود وفیہ دلیل علی صحۃ النبوۃ لانہ اخبار بالغیب (مدارک ج 4 ص 183) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) اے پیغمبر کیا آپ نے ان نفاق پیشہ لوگوں کی حالت ملاحظہ نہیں فرمائی جو اپنے ان بھائیوں سے جو اہل کتاب میں سے کافر ہیں اور منکرانہ روش رکھتے ہیں یوں کہتے ہیں کہ خدا کی قسم اگر تم جبراً نکالے گئے اور جلاوطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور ملک بدر ہوجائیں گے اور ہم تمہارے معاملے میں کبھی کسی کا کہنا نہیں مانیں گے اور تمہارے بارے میں کسی دوسرے کی اطاعت نہیں کریں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو یقینا ہم تمہاری مدد کریں گے اور لڑائی میں ہم تمہارے معاون ہوں گے اور اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق سراسر جھوٹے اور کاذب ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ منافق ان کافروں کو چھپے چھپے پیغام دیتے تھے آخر وہ نکالے گئے ان سے کچھ نہ ہوا۔ یعنی بنی نضیر کو عبداللہ بن ابی منافق کی پارٹی بہکاتی تھی کہ تم جمے رہنا اگر تم سے اس نبی نے جنگ کی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور اگر تم کو انہوں نے ملک بدر کیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ احتجاجاً مدینہ چھوڑ کر نکل جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ منافق بالکل جھوٹے ہیں نہ کوئی مدد کریں گے اور نہ یہ کافر ان اہل کتاب کی ہمدردی میں اپنا وطن چھوڑیں گے۔