Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 100

سورة الأنعام

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الۡجِنَّ وَ خَلَقَہُمۡ وَ خَرَقُوۡا لَہٗ بَنِیۡنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾٪  18

But they have attributed to Allah partners - the jinn, while He has created them - and have fabricated for Him sons and daughters without knowledge. Exalted is He and high above what they describe.

اور لوگوں نے شیاطین کو اللہ تعالٰی کا شریک قرار دے رکھا ہے حالانکہ ان لوگوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور ان لوگوں نے اللہ کے حق میں بیٹے اور بیٹیاں بلا سند تراش رکھی ہیں اور وہ پاک اور برتر ہے ان باتوں سے جو یہ کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Rebuking the Idolators Allah says; وَجَعَلُواْ لِلّهِ شُرَكَاء الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ ... Yet, they join the Jinns as partners in worship with Allah, though He has created them, This Ayah refutes the idolators who worshipped others besides Allah and associated the Jinns with Him in worship. Glory be to Allah above this Shirk and Kufr. If someone asks, how did the idolators worship the Jinns, although they only were idol worshippers The answer is that in fact, they worshipped the idols by obeying the Jinns who commanded them to do so. Allah said in other Ayat, إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِ إِلاَّ إِنَـثاً وَإِن يَدْعُونَ إِلاَّ شَيْطَـناً مَّرِيداً لَّعَنَهُ اللَّهُ وَقَالَ لاّتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيباً مَّفْرُوضاً وَلاضِلَّنَّهُمْ وَلاُمَنِّيَنَّهُمْ وَلاّمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ الاٌّنْعَـمِ وَلاّمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَـنَ وَلِيّاً مِّن دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَاناً مُّبِيناً يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمْ الشَّيْطَـنُ إِلاَّ غُرُوراً They invoke nothing but female deities besides Him, and they invoke nothing but Shaytan, a persistent rebel! Allah cursed him. And he (Shaytan) said: "I will take an appointed portion of your servants. Verily, I will mislead them, and surely, I will arouse in them false desires; and certainly, I will order them to slit the ears of cattle, and indeed I will order them to change the nature created by Allah." And whoever takes Shaytan as a protector instead of Allah, has surely suffered a manifest loss. He (Shaytan) makes promises to them, and arouses in them false desires; and Shaytan's promises are nothing but deceptions. (4:117-120) and, أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَأءَ مِن دُونِى Will you then take him (Iblis) and his offspring as protectors and helpers rather than Me! (18:50) Ibrahim said to his father, يأَبَتِ لاأَ تَعْبُدِ الشَّيْطَـنَ إِنَّ الشَّيْطَـنَ كَانَ لِلرَّحْمَـنِ عَصِيّاً "O my father! Worship not Shaytan. Verily! Shaytan has been a rebel against the Most Beneficent (Allah)." (19:44) Allah said, أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يبَنِى ءَادَمَ أَن لاَّ تَعْبُدُواْ الشَّيطَـنَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وَأَنِ اعْبُدُونِى هَـذَا صِرَطٌ مُّسْتَقِيمٌ Did I not ordain for you, O Children of Adam, that you should not worship Shaytan. Verily, he is a plain enemy to you. And that you should worship Me. That is a straight path. (36:60-61) On the Day of Resurrection, the angels will proclaim, سُبْحَـنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِمْ بَلْ كَانُواْ يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْـثَرُهُم بِهِم مُّوْمِنُونَ Glorified be You! You are our Protector instead of them. Nay, but they used to worship the Jinn; most of them were believers in them. (34:41) This is why Allah said here, وَجَعَلُواْ لِلّهِ شُرَكَاء الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ (Yet, they join the Jinns as partners in worship with Allah, though He has created them). Alone without partners. Consequently, how is it that another deity is being worshipped along with Him As Ibrahim said, قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ "Worship you that which you (yourselves) carve While Allah has created you and what you make!" (37:95-96) Allah alone is the Creator without partners. Therefore, He Alone deserves to be worshipped without partners. Allah said next, ... وَخَرَقُواْ لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ ... And they Kharaqu (attribute falsely) without knowledge, sons and daughters to Him. Allah mentions the misguidance of those who were led astray and claimed a son or offspring for Him, as the Jews did with Uzayr, the Christians with Isa and the Arab pagans with the angels whom they claimed were Allah's daughters. Allah is far holier than what the unjust, polytheist people associate with Him. According to the scholars of the Salaf, the word, Kharaqu, means `falsely attributed, invented, claimed and lied'. Allah's statement next, ... سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ Be He Glorified and Exalted above (all) that they attribute to Him. means, He is holier than, hallowed, and Exalted above the sons, rivals, equals and partners that these ignorant, misled people attribute to Him.

شیطانی وعدے دھوکہ ہیں جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرتے تھے جنات کو پوجتے تھے ان پر انکار فرما رہا ہے ۔ ان کے کفر و شرک سے اپنی بیزاری کا اعلان فرماتا ہے اگر کوئی کہے کہ جنوں کی عبادت کیسے ہوئی وہ تو بتوں کی پوجا پاٹ کرتے تھے تو جواب یہ ہے کہ بت پرستی کے سکھانے والے جنات ہی تھے جیسے خود قران کریم میں ہے آیت ( اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا ) 4 ۔ النسآء:117 ) یعنی یہ لوگ اللہ کے سوا جنہیں پکار رہے ہیں وہ سب عورتیں ہیں اور یہ سوائے سرکش ملعون شیطان کے اور کسی کو نہیں پکارتے وہ تو پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ کچھ نہ کچھ انسانوں کو تو میں اپنا کر ہی لوں گا انہیں بہکا کر سبز باغ دکھا کر اپنا مطیع بنا لوں گا ۔ پھر تو وہ بتوں کے نام پر جانوروں کے کان کاٹ کر چھوڑ دیں گے ۔ اللہ کی پیدا کردہ ہئیت کو بگاڑنے لگیں گے ۔ حقیقتاً اللہ کو چھوڑ کر شیطان کی دوستی کرنے والے کے نقصان میں کیا شک ہے؟ شیطانی وعدے تو صرف دھوکے بازیاں ہیں اور آیت میں ہے آیت ( اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۭ بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا ) 18 ۔ الکہف:50 ) کیا تم مجھے چھوڑ کر شیطان اور اولاد شیطان کو اپنا ولی بناتے ہو؟ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے والد سے فرمایا آیت ( يٰٓاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِيًّا ) 19 ۔ مریم:44 ) میرے باپ! شیطان کی پرستش نہ کرو وہ تو اللہ کا نافرمان ہے ۔ سورۃ یٰسین میں ہے کہ کیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں لیا تھا کہ اے اولاد آدم تم شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ تم صرف میری ہی عبادت کرنا سیدھی راہ یہی ہے قیامت کے دن فرشتے بھی کہیں گے آیت ( قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ ) 34 ۔ سبأ:41 ) یعنی تو پاک ہے یہ نہیں بلکہ سچا والی ہمارا تو تو ہی ہے یہ لوگ تو جنوں کو پوجتے تھے ان میں سے اکثر لوگوں کا ان پر ایمان تھا ۔ پس یہاں فرمایا ہے کہ انہوں نے جنات کی پرستش شروع کر دی حالانکہ پرستش کے لیے صرف اللہ ہے وہ سب کا خالق ہے ۔ جب خالق وہی ہے تو معبود بھی وہی ہے ۔ جیسے حضرت خلیل اللہ نے فرمایا آیت ( قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ ) 37 ۔ الصافات:95 ) یعنی کیا تم ان کی عباد کرتے ہو جنہیں خود گھڑ لیتے ہو حالانکہ تمہارے اور تمہارے تمام کاموں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ۔ یعنی معبود وہی ہے جو خالق ہے ۔ پھر ان لوگوں کی حماقت و ضلالت بیان ہو رہی ہے ۔ جو اللہ کی اولاد بیٹے بیٹیاں قرار دیتے تھے ۔ یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا جبکہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے ۔ یہ سب ان کی من گھڑت اور خود تراشیدہ بات تھی اور محض غلط اور جھوٹ تھا ۔ حقیقت سے بہت دور نرا بہتان باندھا تھا اور بےسمجھی سے اللہ کی شان کے خلاف ایک زبان سے اپنی جہالت سے کہہ دیا تھا بھلا اللہ کو بیٹوں اور بیٹیوں سے کیا واسطہ نہ اس کی اولاد نہ اس کی بیوی نہ اس کی کفو کا کوئی ۔ وہ سب کا خالق وہ کسی کی شرکت سے پاک وہ کسی کی حصہ داری سے پاک ، یہ گمراہ جو کہہ رہے ہیں سب سے وہ پاک اور برتر سب سے دور اور بالا تر ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٣] اللہ کی اولاد کا عقیدہ :۔ اللہ تعالیٰ کی ان سب نشانیوں کے باوجود اور یہ جاننے کے باوجود کہ اللہ کے بغیر کوئی ہستی ان کے پیدا کرنے میں اس کی شریک نہیں۔ ان مشرکوں نے محض اپنے وہم و گمان سے یہ طے کرلیا کہ اتنی وسیع کائنات کا پورا نظام اکیلا اللہ کیسے سنبھال سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس پورے نظام میں اور انسانوں کی قسمت کے بنانے اور بگاڑنے میں کئی دوسری پوشیدہ ہستیاں بھی شریک ہوں۔ کوئی بارش کا دیوتا ہے کوئی روئیدگی کا، کوئی پھلوں میں رس بھرنے کا، کوئی دولت کی دیوی ہے کوئی صحت کی اور کوئی مرض اور بیماریوں کی وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے لغو خیالات دنیا کی تمام مشرک قوموں میں پائے جاتے ہیں۔ بالعموم تمام ستارہ پرست قوموں کا یہی شیوہ رہا ہے جو ان ستاروں کی ارواح اور ان کی خیالی شکلوں کے مجسمے بناتی ہیں انہیں ارواح کو قرآن نے کہیں جن اور کہیں شیاطین کے الفاظ سے ذکر کیا ہے پھر ان لوگوں نے ان دیوی دیوتاؤں کی نسل چلا کر ایک پوری دیو مالا مرتب کردی۔ ہندی، مصری، یونانی اور بابلی تہذیبوں میں ایسی پوشیدہ ارواح کی پرستش کا عقیدہ بالعموم پایا جاتا رہا ہے انہیں دیوی اور دیوتاؤں میں سے بعض کو انہوں نے اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں قرار دے دیا۔ اہل عرب بھی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا کہ جن تو اللہ کی مخلوق ہیں اور جو مخلوق ہو وہ بندہ اور غلام تو ہوسکتا ہے شریک نہیں بن سکتا اور اللہ کی جب بیوی ہی نہیں اور وہ اس سے بےنیاز بھی ہے تو پھر اس کے بیٹے اور بیٹیاں کیسے ہوسکتے ہیں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ الْجِنَّ ۔۔ : اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود برحق ہونے کے لیے آسمان و زمین اور ان کے درمیان والی چیزوں میں سے پانچ دلائل بیان فرمائے، اب بتایا کہ بعض لوگ پھر بھی اللہ کے لیے جنوں کو شریک بناتے ہیں، حالانکہ انھیں بھی اللہ ہی نے پیدا کیا ہے، پھر مخلوق کو خالق کا شریک ٹھہرانا سرا سر جہالت نہیں تو کیا ہے ؟ (رازی) عرب میں بعض فرقے ایسے بھی تھے جو جنات اور خبیث شیطانوں کی عبادت کرتے تھے اور مصیبت کے وقت ان کے نام کی دہائی دیتے اور کائنات میں ان کا تصرف مانتے تھے۔ ان سب کی اس آیت میں تردید فرمائی کہ بےسمجھے انھوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لیا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لیں۔ چناچہ عرب کے مشرکین فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ فرمایا، اللہ تعالیٰ ان گھڑی ہوئی باتوں سے پاک ہے۔ بعض سلف نے فرمایا کہ یہ آیت ان زندیقوں اور مجوسیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کو انسانوں، جانوروں اور ہر اچھی چیز کا خالق سمجھتے اور اسے ” یزداں “ کہتے تھے اور شیطان ( ابلیس) کو درندوں، سانپوں اور ہر قسم کے شر کا خالق سمجھتے تھے اور اسے ” اہرمن “ کہتے تھے اور ان دونوں کو کائنات کے پیدا کرنے میں اللہ کا شریک بناتے تھے، حالانکہ ان کا اور ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لیے اہل علم نے مجوس کو زنادقہ (بالکل بےدین) قرار دیا ہے۔ امام رازی لکھتے ہیں کہ زیر تفسیر آیت کی مذکورہ توجیہات میں سے یہ بہترین توجیہ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَجَعَلُوْا لِلہِ شُرَكَاۗءَ الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ وَخَرَقُوْا لَہٗ بَنِيْنَ وَبَنٰتٍؚبِغَيْرِ عِلْمٍ۝ ٠ۭ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوْنَ۝ ١٠٠ۧ شرك ( شريك) الشِّرْكَةُ والْمُشَارَكَةُ : خلط الملکين، وقیل : هو أن يوجد شيء لاثنین فصاعدا، عينا کان ذلک الشیء، أو معنی، كَمُشَارَكَةِ الإنسان والفرس في الحیوانيّة، ومُشَارَكَةِ فرس وفرس في الکمتة، والدّهمة، يقال : شَرَكْتُهُ ، وشَارَكْتُهُ ، وتَشَارَكُوا، واشْتَرَكُوا، وأَشْرَكْتُهُ في كذا . قال تعالی: وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] ، وفي الحدیث : «اللهمّ أَشْرِكْنَا في دعاء الصّالحین» «1» . وروي أنّ اللہ تعالیٰ قال لنبيّه عليه السلام : «إنّي شرّفتک وفضّلتک علی جمیع خلقي وأَشْرَكْتُكَ في أمري» «2» أي : جعلتک بحیث تذکر معي، وأمرت بطاعتک مع طاعتي في نحو : أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ محمد/ 33] ، وقال تعالی: أَنَّكُمْ فِي الْعَذابِ مُشْتَرِكُونَ [ الزخرف/ 39] . وجمع الشَّرِيكِ شُرَكاءُ. قال تعالی: وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ [ الإسراء/ 111] ، وقال : شُرَكاءُ مُتَشاكِسُونَ [ الزمر/ 29] ، أَمْ لَهُمْ شُرَكاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ [ الشوری/ 21] ، وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكائِيَ [ النحل/ 27] . ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ کے معنی دو ملکیتوں کو باہم ملا دینے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ ایک چیز میں دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کے شریک ہونے کے ہیں ۔ خواہ وہ چیز مادی ہو یا معنوی مثلا انسان اور فرس کا حیوانیت میں شریک ہونا ۔ یا دوگھوڑوں کا سرخ یا سیاہ رنگ کا ہونا اور شرکتہ وشارکتہ وتشارکوا اور اشترکوا کے معنی باہم شریک ہونے کے ہیں اور اشرکتہ فی کذا کے معنی شریک بنا لینا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] اور اسے میرے کام میں شریک کر ۔ اور حدیث میں ہے (191) اللھم اشرکنا فی دعاء الصلحین اے اللہ ہمیں نیک لوگوں کی دعا میں شریک کر ۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کو فرمایا ۔ (192) انی شرفتک وفضلتک علی ٰجمیع خلقی واشرکتک فی امری ۔ کہ میں نے تمہیں تمام مخلوق پر شرف بخشا اور مجھے اپنے کام میں شریک کرلیا ۔ یعنی میرے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر ہوتا رہے گا اور میں نے اپنی طاعت کے ساتھ تمہاری طاعت کا بھی حکم دیا ہے جیسے فرمایا ۔ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ محمد/ 33] اور خدا کی فرمانبرداری اور رسول خدا کی اطاعت کرتے رہو ۔ قران میں ہے : ۔ أَنَّكُمْ فِي الْعَذابِ مُشْتَرِكُونَ [ الزخرف/ 39]( اس دن ) عذاب میں شریک ہوں گے ۔ شریک ۔ ساجھی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ [ الإسراء/ 111] اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے ۔ اس کی جمع شرگاء ہے جیسے فرمایا : ۔ : شُرَكاءُ مُتَشاكِسُونَ [ الزمر/ 29] جس میں کئی آدمی شریک ہیں ( مختلف المزاج اور بدخو ۔ أَمْ لَهُمْ شُرَكاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ [ الشوری/ 21] کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرد کیا ہے ۔ أَيْنَ شُرَكائِيَ [ النحل/ 27] میرے شریک کہاں ہیں ۔ جِنّ ( شیطان) والجِنّ يقال علی وجهين : أحدهما للروحانيين المستترة عن الحواس کلها بإزاء الإنس، فعلی هذا تدخل فيه الملائكة والشیاطین، فكلّ ملائكة جنّ ، ولیس کلّ جنّ ملائكة، وعلی هذا قال أبو صالح : الملائكة كلها جنّ ، وقیل : بل الجن بعض الروحانيين، وذلک أنّ الروحانيين ثلاثة : - أخيار : وهم الملائكة . - وأشرار : وهم الشیاطین . - وأوساط فيهم أخيار وأشرار : وهم الجن، ويدلّ علی ذلک قوله تعالی: قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ إلى قوله : وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقاسِطُونَ [ الجن/ 1- 14] . والجِنَّة : جماعة الجن . قال تعالی: مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] ، وقال تعالی: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158 الجن جن ( اس کی جمع جنتہ آتی ہے اور ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ۔ (1) انسان کے مقابلہ میں ان تمام روحانیوں کو جن کہا جاتا ہے جو حواس سے مستور ہیں ۔ اس صورت میں جن کا لفظ ملائکہ اور شیاطین دونوں کو شامل ہوتا ہے لھذا تمام فرشتے جن ہیں لیکن تمام جن فرشتے نہیں ہیں ۔ اسی بناء پر ابو صالح نے کہا ہے کہ سب فرشتے جن ہیں ۔ ( 2) بعض نے کہا ہے کہ نہیں بلکہ جن روحانیوں کی ایک قسم ہیں کیونکہ وحانیات تین قسم ہیں ۔ (1) اخیار ( نیک ) اور یہ فرشتے ہیں ( 2) اشرا ( بد ) اور یہ شیاطین ہیں ۔ ( 3) اوساط جن میں بعض نیک اور بعض بد ہیں اور یہ جن ہیں چناچہ صورت جن کی ابتدائی آیات ۔ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ إلى قوله : وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقاسِطُونَ [ الجن/ 1- 14] اور یہ کہ ہم بعض فرمانبردار ہیں بعض ( نافرماں ) گنہگار ہیں ۔ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جنوں میں بعض نیک اور بعض بد ہیں ۔ الجنۃ جنوں کی جماعت ۔ قرآن میں ہے ۔ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] جنات سے ( ہو ) یا انسانوں میں سے وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا ۔ خرق الخَرْقُ : قطع الشیء علی سبیل الفساد من غير تدبّر ولا تفكّر، قال تعالی: أَخَرَقْتَها لِتُغْرِقَ أَهْلَها[ الكهف/ 71] ، وهو ضدّ الخلق، فإنّ الخلق هو فعل الشیء بتقدیر ورفق، والخرق بغیر تقدیر، قال تعالی: وَخَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَبَناتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 100] ، أي : حکموا بذلک علی سبیل الخرق، وباعتبار القطع قيل : خَرَقَ الثوبَ ، وخَرَّقَه، وخَرَقَ المفاوز، واخْتَرَقَ الرّيح . وخصّ الخَرْق والخریق بالمفاوز الواسعة، إمّا لاختراق الریح فيها، وإمّا لتخرّقها في الفلاة، وخصّ الخرق بمن ينخرق في السخاء «1» . وقیل لثقب الأذن إذا توسّع : خرق، وصبيّ أَخْرَقُ ، وامرأة خَرْقَاء : مثقوبة الأذن ثقبا واسعا، وقوله تعالی: إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ [ الإسراء/ 37] ، فيه قولان : أحدهما : لن تقطع، والآخر : لن تثقب الأرض إلى الجانب الآخر، اعتبارا بالخرق في الأذن، وباعتبار ترک التقدیر قيل : رجل أَخْرَقُ ، وخَرِقُ ، وامرأة خَرْقَاء، وشبّه بها الریح في تعسّف مرورها فقیل : ريح خرقاء . وروي : «ما دخل الخرق في شيء إلّا شانه» «2» . ومن الخرق استعیرت المَخْرَقَة، وهو إظهار الخرق توصّلا إلى حيلة، والمِخْرَاق : شيء يلعب به، كأنّه يخرق لإظهار الشیء بخلافه، وخَرِقَ الغزال «3» : إذا لم يحسن أن يعدو لخرقه . ( خ ر ق ) الخرق ( ض) کسی چیز کو بلا سوچے سمجھے بگاڑنے کے لئے پھا ڑ ڈالنا ۔ قرآن میں ہے :۔ أَخَرَقْتَها لِتُغْرِقَ أَهْلَها[ الكهف/ 71] کیا آپ نے اسکو اس لئے پھاڑا ہے کہ مسافروں کو غرق کردیں ۔ خرق خلق کی ضد ہے ۔ جس کے معنی اندازہ کے مطابق خوش اسلوبی سے کسی چیز کو بنانا کے ہیں ۔ اور خرق کے معنی کسی چیز کو بےقاعدگی سے پھاڑ ڈالنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَبَناتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 100] اور لے سمجھے ( جھوٹ بہتان ) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا گھڑی ہیں ۔ یعنی بےسوچے سمجھے یہ بات کہتے ہیں ۔ پھر معنی قطع کے اعتبار سے کہا جاتا ہے : خرق الثوب وخرقہ کپڑے کو پھاڑ ڈالا خرق المف اور ریگستان طے کئے اخترق الریح ہوا کا تیز چلنا ۔ الخرق والخریق خاص کر کشادہ بیابان کو کہاجاتا ہے اس لئے کہ اس میں ہوائیں تیزی سے چلتی ہیں اور یا اس لئے ک وہ وسیع ریگستان کی صورت میں پھیلا ہوا ہوتا ہے ۔ الخرق ( خاص ) کپڑے میں سوراخ اور کان میں کشادہ سوراخ ۔ صبی اخرق امراۃ خرقاء جس کے کان میں کشادہ چھید ہو اور آیت کریمہ :۔ إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ [ الإسراء/ 37] کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک یہ کہ تو زمین کو طے نہیں کرسکے گا ۔ یا یہ کہ تو زمین کو پانے پاؤں سے پھاڑ نہیں ڈالے گا ۔ یہ دوسرا معنی خرق فی الاذن سے ماخوذ ہے اور بےسوچے سمجھے کام کرنے کے اعتبار سے احمق اور نادان شخص کو اخرق وخرق کہاجاتا ہے اس کی مونث خرقاء ہے ۔ اور تند ہوا کو بھی خرقاء کہہ دیا جاتا ہے ۔ اور تند ہوا کو بھی خرقاء کہہ دیا جاتا ہے ۔ ایک روایت میں ہے (108) مادخل الخرق فی شئی الا شانہ جس چیز میں نادانی کا عمل دخل ہو وہ عیب ناک ہوجاتی ہے اور خرق سے مخرقۃ کا لفظ لیا گیا ہے جس کے معنی کسی کام میں حیلہ جوئی کے لئے بےوقوفی کا اظہار کرنے کے ہیں ۔ المخراق کپڑے کا کوڑا جس سے بچے کھلیتے ہیں گویا اسے بھی کسی چیز کو واقع کے خلاف ظاہر کرنے کے لئے بنایا جاتا ہے ۔ خرق الغزال ہر ن کا نادانی کی وجہ سے دوڑ نہ سکنا ۔ سبحان و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر «1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة . ( س ب ح ) السبح ۔ سبحان یہ اصل میں غفران کی طرح مصدر ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] سو جس وقت تم لوگوں کو شام ہو اللہ کی تسبیح بیان کرو ۔ تو پاک ذات ) ہے ہم کو کچھ معلوم نہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( سریع) (218) سبحان من علقمۃ الفاخر سبحان اللہ علقمہ بھی فخر کرتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں سبحان علقمۃ ہے اس میں معنی اضافت کو ظاہر کرنے کے لئے زائد ہے اور علقمۃ کی طرف سبحان کی اضافت بطور تہکم ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں ، ، سبحان اللہ من اجل علقمۃ ہے اس صورت میں اس کا مضاف الیہ محذوف ہوگا ۔ السبوح القدوس یہ اسماء حسنیٰ سے ہے اور عربی زبان میں فعول کے وزن پر صرف یہ دو کلمے ہی آتے ہیں اور ان کو فاء کلمہ کی فتح کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے جیسے کلوب وسمود السبحۃ بمعنی تسبیح ہے اور ان منکوں کو بھی سبحۃ کہاجاتا ہے جن پر تسبیح پڑھی جاتی ہے ۔ وصف الوَصْفُ : ذكرُ الشیءِ بحلیته ونعته، والصِّفَةُ : الحالة التي عليها الشیء من حلیته ونعته، کالزِّنَةِ التي هي قدر الشیء، والوَصْفُ قد يكون حقّا وباطلا . قال تعالی: وَلا تَقُولُوا لِما تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ [ النحل/ 116] ( و ص ف ) الوصف کے معنی کسی چیز کا حلیہ اور نعت بیان کرنے کسے ہیں اور کسی چیز کی وہ حالت جو حلیہ اور نعمت کے لحاظ سے ہوتی ہے اسے صفۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ زنۃ ہر چیز کی مقدار پر بولا جاتا ہے ۔ اور وصف چونکہ غلط اور صحیح دونوں طرح ہوسکتا ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَلا تَقُولُوا لِما تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ [ النحل/ 116] اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آئے مت کہہ دیا کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٠) گمراہ لوگ یا وہ گوئی کرتے ہیں کہ العیاذ باللہ اللہ تعالیٰ اور ابلیس لعین دونوں خدائی میں شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ انسانوں جانوروں اور چوپایوں کا خالق ہے اور شیطان سانپ بچھو اور درندوں کو پیدا کرتا ہے یہی چیز آتش پرست کہتے ہیں۔ حالانکہ ان سب کو خود اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور ان کو توحید کا حکم دیا ہے اور ان مشرکین میں سے یہود ونصاری اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور مشرکین عرب فرشتوں اور بتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتے ہیں، حالانکہ اس کے لیے نہ ان کے پاس کچھ صحیح علم ہے اور نہ کوئی دلیل ہے، اس کی ذات شریک اور ولد سے پاک اور بیٹوں اور بیٹیوں سے منزہ ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٠ (وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ ) اللہ تعالیٰ نے جیسے انسانوں کو پیدا کیا ہے اسی طرح اس نے جنات کو بھی پیدا کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور وہ اپنی خداداد طبعی صلاحیتوں کی وجہ سے کائنات میں وسیع پیمانے پر رسائی رکھتے ہیں۔ آج انسان نے اربوں ڈالر خرچ کر کے خلاؤں کے جس سفر کو ممکن بنایا ہے ‘ ایک عام جن کے لیے ایسا سفر معمول کی کارروائی ہوسکتی ہے ‘ مگر ان سارے کمالات کے باوجود یہ جن ہیں تو اللہ ہی کی مخلوق۔ اسی طرح فرشتے اپنی تخلیق اور صلاحیتوں کے لحاظ سے جنات سے بھی بڑھ کر ہیں ‘ مگر پیدا تو انہیں بھی اللہ ہی نے کیا ہے۔ لہٰذا انسان ‘ جنات اور فرشتے سب اللہ کی مخلوق ہیں اور ان میں سے کسی کا بھی الوہیت میں ذرّہ برابر حصہ نہیں۔ (وَخَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَبَنٰتٍم بِغَیْرِ عِلْمٍ ط) ۔ حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کے بیٹے قرار دیا گیا ‘ جب کہ فرشتوں کے بارے میں کہہ دیا گیا کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

67. Because of man's imaginativeness and superstitious disposition, he has often held other invisible beings to be associated with God in His governance of the universe and in making and marring man's destiny. For example, the deity of rain, and the deity of vegetation, the god of wealth and the god of health, and so on. Such beliefs are found among all the polytheistic nations of the world. 68. The ignorant Arabs considered angels to be the daughters of God. In the same way, other polytheistic nations wove a network of bloodrelationships with God, producing thereby a whole crop of gods and goddesses descended from the Creator.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :67 یعنی اپنے وہم و گمان سے یہ ٹھہرا لیا کہ کائنات کے انتظام میں اور انسان کی قسمت کے بنانے اور بگاڑنے میں اللہ کے ساتھ دوسری پوشیدہ ہستیاں بھی شریک ہیں ، کوئی بارش کا دیوتا ہے تو کوئی روئیدگی کا ، کوئی دولت کی دیوی ہے تو کوئی بیماری کی ، وغیر ذالکَ مِن الخرافات ۔ اس قسم کے لغو اعتقادات دنیا کی تمام مشرک قوموں میں ارواح اور شیاطین اور راکشسوں اور دیوتاؤں اور دیویوں کے متعلق پائے جاتے رہے ہیں ۔ سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :68 جہلائے عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ اسی طرح دنیا کی دوسری مشرک قوموں نے بھی خدا سے سلسلہ نسب چلایا ہے اور پھر دیوتاؤں اور دیویوں کی ایک پوری نسل اپنے وہم سے پیدا کر دی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

39: جنات سے مراد شیطان ہے اور یہ ان لوگوں کے باطل عقیدے کی طرف اشارہ ہے جو یہ کہتے تھے کہ تمام مفید مخلوقات تو اللہ نے پیدا کی ہیں مگر درندے سانپ بچھو اور دوسرے موذی جانور بلکہ تمام بری چیزیں شیطان نے پیدا کی ہیں اور وہی ان کا خالق ہے، ان لوگوں نے بظاہر ان بری چیزوں کی تخلیق کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے سے پرہیز کیا ؛ لیکن اتنا نہ سمجھ سکے کہ شیطان خود اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور وہ سب سے بری مخلوق ہے، اگر بری چیزیں شیطان کی پیدا کی ہوئی ہیں خود اس بری مخلوق کو کس نے پیدا کیا اس کے علاوہ جو چیزیں ہمیں بری نظر آتی ہیں ان کی تخلیق میں بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمتیں ہیں اور ان کی تخلیق کو برا فعل نہیں کہا جاسکتا۔ بقول اقبال مرحوم نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں 40: عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہا تھا، اور عرب کے مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

دنیا میں بت پرستی جس طرح شیطان کے بہکانے سے پھیلی ہے اس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ بت پرستی کا شرک شیطان نے ان بت پرست لوگوں کی نظروں میں اچھا کر کے دکھایا جس سے یہ لوگ شیطان کا کہنا مان کر بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے لگے جس کے سبب سے گویا وراصل انہوں نے اس بانی شرک شیطان کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اسواسطے فرمایا کہ ان لوگوں نے جن یعنی شیطان کو اللہ کی عبادت میں شریک قرار دیا پھر فرمایا دوسرا شرک ان اہل مکہ کا یہ ہے کہ اللہ کے فررشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور اہل کتاب کا یہ شرک ہے کہ یہود نے عزیر کو اور نصاریٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا لیکن جب فرشتوں کو عزیر اور عیسیٰ ( علیہ السلام) سب کو اللہ تعالیٰ نے نیست سے ہست کیا تو اس طرح کی نیست سے ہست ہونے والی چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے قائم ودائم ذات کے ساتھ کیا مناسبت ہے کہ وہ اللہ کی اولاد قرار پاویں اس لیے جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں وہ ناسمجھی سے کرتے ہیں اللہ کی شان ایسی باتوں سے پاک اور بالاتر ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث قدسی اوپر گذر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا بنی آدم نے بڑی گستاخی کی جو اللہ کو صاحب اولاد قرار دیا ١ ؎ اسی طرح ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے اپور گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ بڑا بردبار ہے کہ لوگ شرک کرتے ہیں اللہ کو صاحب اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ ان کو صحت و عافیت سے رکھتا ہے ان کے رزق کا انتظام فرماتا ١ ؎ ہے یہ حدیثیں اس آیت کی گویا تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے باتیں یہ لوگ اللہ کی شان میں کرتے ہیں وہ باتیں اگرچہ اللہ کی شان میں بڑی گستاخی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے اس گستاخی کی سزا میں جلدی نہیں فرمائی۔ سورة مریم میں آویگا کہ جن و انسان کے اللہ تعالیٰ کی اور مخلوقات کی گستاخی کا اتنا بڑا قلق ہے کہ اس گستاخی کے صدمہ سے آسمان و زمین پھٹ جاویں پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوجاویں جس سے یہ سب گستاخی کرنے والے فنا ہوجاویں تو یہ سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے ان سب بلاؤں کو ٹال رکھا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:100) وخلقھم۔ واؤ حالیہ ہے۔ خلق میں فاعل اللہ ہے۔ ہم ضمیر الجن کی طرف راجع ہے حالانکہ اللہ نے ہی ان کو پیدا کیا ہے۔ خرقوالہ۔ انہوں نے تراشا۔ خرق سے ۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ الخرق (ضرب) کسی چیز کو بلا سوچے سمجھے بھاڑنے کے لئے بھاڑ ڈالنا۔ قرآن میں ہے کہ : اخرقھا لتغرق اہلہا (15:17) کیا تو نے اس کو اس لئے پھاڑا ہے کہ مسافروں کو غرق کر دے۔ خرق۔ خلق کی ضد ہے۔ جس کے معنی اندازہ کے مطابق خوش اسلوبی سے کسی چیز کو بنانے کے ہیں اور خرق کے معنی کسی چیز کو بےقاعدگی سے پھاڑ ڈالنے کے ہیں۔ آیۃ ہذا میں : اور بےسمجھے (جھوٹ ، بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا گھڑی ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اوپر کی آیات میں جب اپنی الوہیت کے ثبوت میں علم علوی اور عالم سفلی سے براہین خمسہ ذکر فرمادیں تو اب بتایا کہ بعض فرقے ایسے بھی تھے جو اور واح خبیثہ اور جنات کی پرستش کرتے اور مصیبت کے وقت ان کے نام کی رہائی دیتے اور کائنات میں ان لا تصرف مانتے تھے ان سب کی اس آیت میں تردید فرمائی کہ بےسمجھ انہوں نے جنوں کو اللہ تعال کا شریک ٹھہرا لیا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑلیں چناچہ مشرکین عرب ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹاں کہا کرتے تھے، فرمایا اللہ تعالیٰ ان گھڑی ہوئی باتوں سے پاک ہے بعض سلف نے فرمایا کہ یہ آیت ان بےدینیوں مجوسیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کو انسانوں، جانوروں چوپایوں اور ہر قسم کے خیرات کا اور شیطان (ابلیس کو درندوں سانپوں اور ہر قسم کے شر ور کا خال قرار دیتے تھے (وحیدی وغیرہ) یہ قول حضرت ابن عباس کا ہے اور مجوس کو زنا دقہ فرمایا ہے امام رازی لکھتے ہیں کہ زیر نظر آیت کو مذکورہ توحیات میں سے یہ توجیہ بہترین (کبیر ٌ8 پھر مخلوق کو خالق کا شریک ٹھہرانا سراسر حماقت ارجہالت نہیں ہے تو کیا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ جیسے نصاری حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اور بعض یہود عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ١٠٠ تا ١٠١۔ عرب کے بعض مشرکین جنوں کی عبادت کرتے تھے ‘ لیکن ان کو علم نہیں تھا کہ جن ہیں کیا ۔ البتہ یہ انہیں ایک وہمی سی مخلوق سمجھتے تھے اور یہ بتوں کے پیچھے کوئی مخلوق تھی ۔ انسان جب ایک بالشت کے برابر بھی عقیدہ توحید سے ہٹ جائے تو وہ اس قدر ہٹتا چلا جاتا ہے کہ راہ حق سے کوسوں دور ہوجاتا ہے لیکن آخر کار انسان دیکھتا ہے کہ نقطہ آغاز کا انحراف اگرچہ تھوڑا سا اور ناقابل لحاظ تھا لیکن آگے جا کر دونوں راہوں کے درمیان بہت بڑی خلیج واقع ہوجاتی ہے ۔ یہ مشرکین مکہ آغاز میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے دین پر تھے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا دین وہی دین توحید تھا جسے اس علاقے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کیا تھا۔ لیکن یہ لوگ اس عقیدہ توحید سے انکار کر بیٹھے ۔ اگرچہ یہ انحراف آغاز کار میں بہت ہی معمولی ہوگا لیکن وہ بت پرستی کے فعل شنیع پر منتج ہوا اور وہ یہاں تک آپہنچے کہ جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے لگے حالانکہ جن اللہ کی مخلوق ہیں ۔ (آیت) ” وَجَعَلُواْ لِلّہِ شُرَکَاء الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ (٦ : ١٠٠) ” اس پر بھی لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا دیا حالانکہ وہ ان کا خالق ہے “۔ دنیا میں جس قدر بت پرست مذاہب گزرے ہیں اور جن کی نوعیت مختلف جاہلیتوں میں مختلف رہی ہے ان سب میں ایک شریر مخلوق کا تصور رہا ہے اور اس شریر مخلوق کا تصور ایسا ہی رہا ہے جس طرح شیطان کا تصور ہے ۔ تمام بت پرست ہمیشہ اس شریر مخلوق سے ڈرتے رہے ہیں ۔ چاہے یہ شریر مخلوق ارواح شریرہ ہوں یا اشخاص شریرہ ۔ ان بت پرست مذاہب میں یہ رواج رہا ہے کہ وہ اس شریر مخلوق کے شر سے بچنے کے لئے کچھ قربانیاں دیں ۔ ہوتے ہوتے یہ شرکیہ مذاہب ان کی پوجا کرنے لگے ۔ عرب بت پرستی میں بھی ایسے ہی تصورات پائے جاتے تھے مثلا وہ جنوں کی پوجا کرتے تھے ۔ ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے حالانکہ اللہ کی ذات ان چیزوں سے پاک ہے ۔ قرآن کریم یہاں ان کے ان عقائد کی کمزوری ان کو بتاتا ہے اور بالکل ایک لفظ میں بات کو ختم کردیتا ہے۔ (خلقھم) اللہ نے تو ان کو خود پیدا کیا۔ یہ ہے تو صرف ایک لفظ لیکن ان کے عقائد کو مذاق بنا دینے کے لئے یہ ایک لفظ ہی کافی ہے ۔ جب پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور اس نے ان کی تخلیق کی ہے تو اللہ کی مخلوق اس کے ساتھ شریک کیسے ہوجائے گی اور اس مخلوق کو الوہیت اور ربوبیت کے حقوق کیسے حاصل ہوجائیں گے ۔ ان لوگوں نے صرف اس دعوے پر ہی اکتفا نہ کیا ‘ کیونکہ بت پرستانہ ادہام جب شروع ہوتے ہیں تو پھر کسی حد پر جا کر نہیں رکتے اور یہ انحراف آگے ہی بڑھتا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ اس سے بھی آگے بڑھے اور یہ عقیدہ اختیار کرلیا کہ اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں بھی ہیں۔ (آیت) ” ْ وَخَرَقُواْ لَہُ بَنِیْنَ وَبَنَاتٍ بِغَیْْرِ عِلْمٍ “ (٦ : ١٠٠) ” اور بےجانے بوجھے اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کردیں ‘ ‘۔ خرقوا کا مفہوم ہے کہ انہوں نے جعلی طور پر یہ عقیدہ تصنیف کرلیا ۔ خرقوا کے معنے ہوتے ہیں اپنی جانب سے جھوٹ گھڑنا ۔ خرق کے اصل معنی پھاڑنے کے ہیں مثلا کوئی جھوٹی خبر لے کر آتا ہے ۔ یہودیوں کے نزدیک حضرت عزیر ابن اللہ تھے ۔ نصاری حضرت مسیح کو ابن اللہ کہتے تھے ۔ مشرکین مکہ کے نزدیک ملائکہ اللہ کی بیٹیاں تھیں ۔ وہ فرشتوں کو مادہ تصور کرتے تھے لیکن وہ کوئی معقول بات نہ کرتے تھے کہ وہ کیوں مؤنث ہیں ۔ کیونکہ جھوٹے دعوے ہمیشہ بغیر علم کے ہوا کرتے ہیں لہذا ان لوگوں کے دعوے بھی بغیر علم کے ہیں۔ (آیت) ” ٍ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یَصِفُونَ (100) ” حالانکہ وہ پاک اور بالاتر ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں ۔ “ اس کے بعد اب اللہ تعالیٰ ان کے ان افتراؤں کے جواب میں اصل حقیقت سامنے لاتے ہیں ۔ ان کے غلط تصورات کی تردید فرماتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ ان میں کیا کیا جھول ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا، وہ معبود برحق ہے، اولاد ہونا اس کے لیے عیب ہے اوپر اللہ تعالیٰ شانہ ٗکی الوہیت اور خالقیت پر دلائل قائم کیے ہیں اب ان آیات میں مشرکین کی بد اعتقادی کی تردید فرمائی ہے اور ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں نے جنات کو یعنی شیاطین کو اللہ کا شریک قرار دے رکھا ہے جنات کے اور شیاطین کے توجہ دلانے سے بتوں کی عبادت کرنے لگے اور شیاطین کی ایسی اطاعت کرنے لگے جیسی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جاتی ہے نیز شیاطین مشرکین کے پاس بری بری صورتوں میں آتے ہیں اور ان کو خواب اور بیداری میں ڈراتے ہیں لہٰذا وہ ان کے شر اور ضرر کے بچنے کے خیال سے ان کی تصویریں اور مجسمے بنا لیتے ہیں اور پھر ان کی پوجا کرتے ہیں۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کے بارے میں نقل فرمایا ہے کہ یہ ان زندیقوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور حیوانوں کو پیدا کیا اور ابلیس نے درندے اور سانپ بچھو اور شرور پیدا کیے۔ لہٰذا جن سے ابلیس اور اس کے اتباع مراد ہیں یہ قول اختیار کیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے لیکن احقر کے نزدیک جنات کی عبادت بالمعنی المعروف مراد لی جائے تو یہ زیادہ اقرب ہے جیسا کہ اور پر عرض کیا گیا۔ سورۂ جن میں فرمایا (وَاَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِِنسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْھُمْ رَھَقًا) مشرکین کی یہ کیسی جہالت اور حماقت ہے کہ پیدا تو کیا اللہ نے اور الوہیت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور مخلوق کے ساتھ وہ معاملہ کرتے ہیں جو اللہ کے ساتھ کرنا چاہئے بعض مفسرین نے فرمایا کہ خَلَقَھُمْ کی ضمیر منصوب الجن کی طرف راجع ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے جنات کو کیسے اللہ کا شریک ٹھہرایا حالانکہ ان جنات کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا (وَ خَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ ) کہ ان لوگوں نے اللہ کے لیے گھڑ لیے بیٹے اور بیٹیاں نصاریٰ نے تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنایا اور یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور مشرکین مکہ نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بنا دیا، ان لوگوں نے جہالت کے سبب یہ سب کچھ تجویز کیا۔ اور انہوں نے یہ نہ جانا کہ ہم جس ذات کی طرف اولاد منسوب کر رہے ہیں اس کے لیے اولاد کا ہونا عیب اور نقص ہے اور اس کی شان اس سے بہت برتربلند اور بالا ہے کہ اس کی اولادہو۔ اسی کو فرمایا (سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوْنَ ) کہ اللہ تعالیٰ اس چیز سے پاک ہے اور بلند اور بالا ہے جو یہ لوگ اس کے بارے میں بیان کرتے ہیں) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

106:۔ یہ زجر اور شکوی ہے شرکاء مبدل منہ ہے اور الجن اس سے بدل ہے برائے اظہار حقارت۔ یعنی ان جنوں کو انہوں نے اللہ کے شریک بنا رکھا ہے وَخَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَ بَنَاتٍ اور انہوں نے اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لی ہیں وہ انبیاء اور اولیاء کو اللہ کے بیٹے اور فرشتوں کو اس کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ان کا خیال تھا کہ جس طرح اولاد باپ کو بہت محبوب ہوتی ہے اور وہ ان کی ہر بات مان لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام، اولیاء کرام اور ملائکہ اللہ تعالیٰ کو بہت پیارے ہیں اس لیے اسے ان کی ہر بات ماننی پڑتی ہے۔ یہود و نصاریٰ نے اللہ کے لیے بیٹے تجویز کیے تھے ور مشرکین مکہ نے بیٹیاں۔ اما الذین اثبتوا لبنین فھم النصاریٰ وقوم من الیھود واما الذین اثبتوا البنات فھم العرب الذین یقولون الملائکۃ بنات اللہ (کبیر ج 4 ص 162) 107 یہ جواب شکوی ہے اللہ تعالیٰ مشرکین کے ان بہتانوں سے بالکل پاک اور منزہ ہے، اس نے کسی کو بیٹا یا بیٹی نہیں بنایا وہ بےنیاز ہے اسے ان چیزوں کی ضرورت نہیں وہ خود مختار متصرف و کارساز ہے۔ اس کا ارادہ کسی کے ماتحت نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

100 اور ان مشرکین نے جنات اور شیاطین کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھیرا رکھا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان جنات و شیاطین کو بھی پیدا کیا ہے یعنی جب سب کا خالق وہی ہے تو مخلوق کو خلاق کا شریک ٹھیرانا انتہائی بےوقوفی کی بات ہے اور ان مشرکین نے بلا جانے بوجھے اور بغیر سوچے سمجھے اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ رکھی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ان تمام باتوں سے پاک اور برتر ہے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اس کی شان میں بیان کرتے ہیں یعنی یہ مشرک اس پر جو عیب لگاتے ہیں اس کی ذات ان تمام عیوب سے پاک اور بہت بلند ہے۔