Rebuking the Idolators
Allah says;
وَجَعَلُواْ لِلّهِ شُرَكَاء الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ
...
Yet, they join the Jinns as partners in worship with Allah, though He has created them,
This Ayah refutes the idolators who worshipped others besides Allah and associated the Jinns with Him in worship. Glory be to Allah above this Shirk and Kufr. If someone asks, how did the idolators worship the Jinns, although they only were idol worshippers The answer is that in fact, they worshipped the idols by obeying the Jinns who commanded them to do so.
Allah said in other Ayat,
إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِ إِلاَّ إِنَـثاً وَإِن يَدْعُونَ إِلاَّ شَيْطَـناً مَّرِيداً
لَّعَنَهُ اللَّهُ وَقَالَ لاّتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيباً مَّفْرُوضاً
وَلاضِلَّنَّهُمْ وَلاُمَنِّيَنَّهُمْ وَلاّمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ الاٌّنْعَـمِ وَلاّمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَـنَ وَلِيّاً مِّن دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَاناً مُّبِيناً
يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمْ الشَّيْطَـنُ إِلاَّ غُرُوراً
They invoke nothing but female deities besides Him, and they invoke nothing but Shaytan, a persistent rebel! Allah cursed him. And he (Shaytan) said: "I will take an appointed portion of your servants. Verily, I will mislead them, and surely, I will arouse in them false desires; and certainly, I will order them to slit the ears of cattle, and indeed I will order them to change the nature created by Allah."
And whoever takes Shaytan as a protector instead of Allah, has surely suffered a manifest loss. He (Shaytan) makes promises to them, and arouses in them false desires; and Shaytan's promises are nothing but deceptions. (4:117-120)
and,
أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَأءَ مِن دُونِى
Will you then take him (Iblis) and his offspring as protectors and helpers rather than Me! (18:50)
Ibrahim said to his father,
يأَبَتِ لاأَ تَعْبُدِ الشَّيْطَـنَ إِنَّ الشَّيْطَـنَ كَانَ لِلرَّحْمَـنِ عَصِيّاً
"O my father! Worship not Shaytan. Verily! Shaytan has been a rebel against the Most Beneficent (Allah)." (19:44)
Allah said,
أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يبَنِى ءَادَمَ أَن لاَّ تَعْبُدُواْ الشَّيطَـنَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
وَأَنِ اعْبُدُونِى هَـذَا صِرَطٌ مُّسْتَقِيمٌ
Did I not ordain for you, O Children of Adam, that you should not worship Shaytan. Verily, he is a plain enemy to you. And that you should worship Me. That is a straight path. (36:60-61)
On the Day of Resurrection, the angels will proclaim,
سُبْحَـنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِمْ بَلْ كَانُواْ يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْـثَرُهُم بِهِم مُّوْمِنُونَ
Glorified be You! You are our Protector instead of them. Nay, but they used to worship the Jinn; most of them were believers in them. (34:41)
This is why Allah said here,
وَجَعَلُواْ لِلّهِ شُرَكَاء الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ
(Yet, they join the Jinns as partners in worship with Allah, though He has created them). Alone without partners.
Consequently, how is it that another deity is being worshipped along with Him As Ibrahim said,
قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ
وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
"Worship you that which you (yourselves) carve While Allah has created you and what you make!" (37:95-96)
Allah alone is the Creator without partners. Therefore, He Alone deserves to be worshipped without partners.
Allah said next,
...
وَخَرَقُواْ لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ
...
And they Kharaqu (attribute falsely) without knowledge, sons and daughters to Him.
Allah mentions the misguidance of those who were led astray and claimed a son or offspring for Him, as the Jews did with Uzayr, the Christians with Isa and the Arab pagans with the angels whom they claimed were Allah's daughters. Allah is far holier than what the unjust, polytheist people associate with Him.
According to the scholars of the Salaf,
the word, Kharaqu, means `falsely attributed, invented, claimed and lied'.
Allah's statement next,
...
سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ
Be He Glorified and Exalted above (all) that they attribute to Him.
means, He is holier than, hallowed, and Exalted above the sons, rivals, equals and partners that these ignorant, misled people attribute to Him.
شیطانی وعدے دھوکہ ہیں
جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرتے تھے جنات کو پوجتے تھے ان پر انکار فرما رہا ہے ۔ ان کے کفر و شرک سے اپنی بیزاری کا اعلان فرماتا ہے اگر کوئی کہے کہ جنوں کی عبادت کیسے ہوئی وہ تو بتوں کی پوجا پاٹ کرتے تھے تو جواب یہ ہے کہ بت پرستی کے سکھانے والے جنات ہی تھے جیسے خود قران کریم میں ہے آیت ( اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا ) 4 ۔ النسآء:117 ) یعنی یہ لوگ اللہ کے سوا جنہیں پکار رہے ہیں وہ سب عورتیں ہیں اور یہ سوائے سرکش ملعون شیطان کے اور کسی کو نہیں پکارتے وہ تو پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ کچھ نہ کچھ انسانوں کو تو میں اپنا کر ہی لوں گا انہیں بہکا کر سبز باغ دکھا کر اپنا مطیع بنا لوں گا ۔ پھر تو وہ بتوں کے نام پر جانوروں کے کان کاٹ کر چھوڑ دیں گے ۔ اللہ کی پیدا کردہ ہئیت کو بگاڑنے لگیں گے ۔ حقیقتاً اللہ کو چھوڑ کر شیطان کی دوستی کرنے والے کے نقصان میں کیا شک ہے؟ شیطانی وعدے تو صرف دھوکے بازیاں ہیں اور آیت میں ہے آیت ( اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۭ بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا ) 18 ۔ الکہف:50 ) کیا تم مجھے چھوڑ کر شیطان اور اولاد شیطان کو اپنا ولی بناتے ہو؟ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے والد سے فرمایا آیت ( يٰٓاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِيًّا ) 19 ۔ مریم:44 ) میرے باپ! شیطان کی پرستش نہ کرو وہ تو اللہ کا نافرمان ہے ۔ سورۃ یٰسین میں ہے کہ کیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں لیا تھا کہ اے اولاد آدم تم شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ تم صرف میری ہی عبادت کرنا سیدھی راہ یہی ہے قیامت کے دن فرشتے بھی کہیں گے آیت ( قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ ) 34 ۔ سبأ:41 ) یعنی تو پاک ہے یہ نہیں بلکہ سچا والی ہمارا تو تو ہی ہے یہ لوگ تو جنوں کو پوجتے تھے ان میں سے اکثر لوگوں کا ان پر ایمان تھا ۔ پس یہاں فرمایا ہے کہ انہوں نے جنات کی پرستش شروع کر دی حالانکہ پرستش کے لیے صرف اللہ ہے وہ سب کا خالق ہے ۔ جب خالق وہی ہے تو معبود بھی وہی ہے ۔ جیسے حضرت خلیل اللہ نے فرمایا آیت ( قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ ) 37 ۔ الصافات:95 ) یعنی کیا تم ان کی عباد کرتے ہو جنہیں خود گھڑ لیتے ہو حالانکہ تمہارے اور تمہارے تمام کاموں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ۔ یعنی معبود وہی ہے جو خالق ہے ۔ پھر ان لوگوں کی حماقت و ضلالت بیان ہو رہی ہے ۔ جو اللہ کی اولاد بیٹے بیٹیاں قرار دیتے تھے ۔ یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا جبکہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے ۔ یہ سب ان کی من گھڑت اور خود تراشیدہ بات تھی اور محض غلط اور جھوٹ تھا ۔ حقیقت سے بہت دور نرا بہتان باندھا تھا اور بےسمجھی سے اللہ کی شان کے خلاف ایک زبان سے اپنی جہالت سے کہہ دیا تھا بھلا اللہ کو بیٹوں اور بیٹیوں سے کیا واسطہ نہ اس کی اولاد نہ اس کی بیوی نہ اس کی کفو کا کوئی ۔ وہ سب کا خالق وہ کسی کی شرکت سے پاک وہ کسی کی حصہ داری سے پاک ، یہ گمراہ جو کہہ رہے ہیں سب سے وہ پاک اور برتر سب سے دور اور بالا تر ہے ۔