Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 11

سورة الأنعام

قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ثُمَّ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۱﴾

Say, "Travel through the land; then observe how was the end of the deniers."

آپ فرما دیجئے کہ ذرا زمین میں چلو پھرو پھر دیکھ لو کہ تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Say: "Travel in the land and see what was the end of those who rejected truth." meaning, contemplate about yourselves and think about the afflictions Allah struck the previous nations with, those who defied His Messengers and denied them. Allah sent torment, afflictions and punishment on them in this life, as well as the painful torment in the Hereafter, while saving His Messengers and believing servants.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] یعنی ان تباہ شدہ قوموں کے آثار کو نگاہ عبرت سے دیکھو تو حقیقت حال تم پر منکشف ہوجائے گی اور تم اسی نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان تباہ شدہ قوموں میں جو بات قدر مشترک ہے وہ اللہ کی نافرمانی اور اس کی آیات کی تکذیب اور اس کے رسولوں کی نافرمانی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ ۔۔ : اس سے کفار کو ڈرانا مقصود ہے، یعنی دنیا کے مختلف خطوں میں جو قومیں پائی گئی ہیں، ذرا ان کے حالات اور تاریخ پر غور کرو، تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ جن قوموں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت سے انکار کیا انھیں کیسے عبرت ناک انجام سے دو چار ہونا پڑا، پھر اس سے اندازہ کرلو کہ اب جو تم ہمارے آخری رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آخری کتاب کا مذاق اڑا رہے ہو تمہارا انجام کیا ہوسکتا ہے اور کیا ہونا چاہیے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الْمُكَذِّبِيْنَ۝ ١١ سار السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير، فمن الأوّل قوله : أَفَلَمْ يَسِيرُوا[ الحج/ 46] ، قُلْ سِيرُوا[ الأنعام/ 11] ، سِيرُوا فِيها لَيالِيَ [ سبأ/ 18] ، ومن الثاني قوله : سارَ بِأَهْلِهِ [ القصص/ 29] ، ولم يجئ في القرآن القسم الثالث، وهو سِرْتُهُ. والرابع قوله : وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ [ النبأ/ 20] ، هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [يونس/ 22] ، وأمّا قوله : سِيرُوا فِي الْأَرْضِ [ النمل/ 69] فقد قيل : حثّ علی السّياحة في الأرض بالجسم، وقیل : حثّ علی إجالة الفکر، ومراعاة أحواله كما روي في الخبر أنه قيل في وصف الأولیاء : (أبدانهم في الأرض سَائِرَةٌ وقلوبهم في الملکوت جائلة) «1» ، ومنهم من حمل ذلک علی الجدّ في العبادة المتوصّل بها إلى الثواب، وعلی ذلک حمل قوله عليه السلام : «سافروا تغنموا» «2» ، والتَّسْيِيرُ ضربان : أحدهما : بالأمر، والاختیار، والإرادة من السائر نحو : هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ [يونس/ 22] . والثاني : بالقهر والتّسخیر کتسخیر الجبال وَإِذَا الْجِبالُ سُيِّرَتْ [ التکوير/ 3] ، وقوله : وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ [ النبأ/ 20] ، والسِّيرَةُ : الحالة التي يكون عليها الإنسان وغیره، غریزيّا کان أو مکتسبا، يقال : فلان له سيرة حسنة، وسیرة قبیحة، وقوله : سَنُعِيدُها سِيرَتَهَا الْأُولی [ طه/ 21] ، أي : الحالة التي کانت عليها من کو نها عودا . ( س ی ر ) السیر ( س ی ر ) السیر ( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو سیارۃ کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ( اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب ) ایک قافلہ دار ہوا ۔ سرت ( ض ) کے معنی چلنے کے ہیں اور سرت بفلان نیز سرتہ کے معنی چلانا بھی آتے ہیں اور معنی تلثیر کے لئے سیرتہ کہا جاتا ہے ۔ ( الغرض سیر کا لفظ چار طرح استعمال ہوتا ہے ) چناچہ پہلے معنی کے متعلق فرمایا : أَفَلَمْ يَسِيرُوا[ الحج/ 46] ، کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر ( و سیاحت ) نہیں کی ۔ قُلْ سِيرُوا[ الأنعام/ 11] کہو کہ ( اے منکرین رسالت ) ملک میں چلو پھرو ۔ سِيرُوا فِيها لَيالِيَ [ سبأ/ 18] کہ رات ۔۔۔۔۔ چلتے رہو اور دوسرے معنی یعنی سرت بفلان کے متعلق فرمایا : سارَ بِأَهْلِهِ [ القصص/ 29] اور اپنے گھر کے لوگوں کو لے کر چلے ۔ اور تیسری قسم ( یعنی سرتہ بدوں صلہ ) کا استعمال قرآن میں نہیں پایا جاتا اور چوتھی قسم ( یعنی معنی تکثیر ) کے متعلق فرمایا : وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ [ النبأ/ 20] اور پہاڑ چلائی جائینگے ۔ هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [يونس/ 22] وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھر نے اور سیر کرانے کی توفیق دیتا ہے ۔ اور آیت : سِيرُوا فِي الْأَرْضِ [ النمل/ 69] کہ ملک میں چلو پھرو ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ سیاست جسمانی یعنی ملک میں سیر ( سیاحت ) کرنا مراد ہے اور بعض نے سیاحت فکری یعنی عجائبات قدرت میں غور فکر کرنا اور حالات سے باخبر رہنا مراد لیا ہے جیسا کہ اولیاء کرام کے متعلق مروی ہے ۔ ( کہ ان کے اجسام تو زمین پر چلتے پھرتے نظر اتے ہیں لیکن ان کی روحیں عالم ملکوت میں جو لانی کرتی رہتی ہیں ) بعض نے کہا ہے اس کے معنی ہیں عبادت میں اسی طرح کوشش کرنا کہ اس کے ذریعہ ثواب الٰہی تک رسائی ہوسکے اور آنحضرت (علیہ السلام) کا فرمان سافروا تغنموا سفر کرتے رہو غنیمت حاصل کر وگے بھی اس معنی پر محمول ہے ۔ پھر تسیر دوقسم پر ہے ایک وہ جو چلنے والے کے اختیار واردہ سے ہو جیسے فرمایا ۔ هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ [يونس/ 22] وہی تو ہے جو تم کو ۔۔۔۔ چلنے کی توفیق دیتا ہے ۔ دوم جو ذریعہ کے ہو اور سائر یعنی چلنے والے کے ارادہ واختیار کو اس میں کسی قسم کا دخل نہ ہو جیسے حال کے متعلق فرمایا : وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ [ النبأ/ 20] اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہوکر رہ جائیں گے ۔ وَإِذَا الْجِبالُ سُيِّرَتْ [ التکوير/ 3] اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے ۔ السیرۃ اس حالت کو کہتے ہیں جس پر انسان زندگی بسر کرتا ہے عام اس سے کہ اس کی وہ حالت طبعی ہو یا اکتسابی ۔ کہا جاتا ہے : ۔ فلان حسن السیرۃ فلاں کی سیرت اچھی ہے ۔ فلاں قبیح السیرۃ اس کی سیرت بری ہے اور آیت سَنُعِيدُها سِيرَتَهَا الْأُولی [ طه/ 21] ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے ۔ میں سیرۃ اولٰی سے اس عصا کا دوبارہ لکڑی بن جانا ہے ۔ عاقب والعاقِبةَ إطلاقها يختصّ بالثّواب نحو : وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] ، وبالإضافة قد تستعمل في العقوبة نحو : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] ، ( ع ق ب ) العاقب اور عاقبتہ کا لفظ بھی ثواب کے لئے مخصوص ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] اور انجام نیک تو پرہیز گاروں ہی کا ہے ۔ مگر یہ اضافت کی صورت میں کبھی آجاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ، فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] ، أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] . ( ک ی ف ) کیف ( اسم استفہام ) اس چیز کی حالت در یافت کرنے کے لئے آتا ہے جس پر کہ شیبہ اور غیر شیبہ کا لفظ بولا جاسکتا ہو جیسے ابیض ( سفید اسود ( سیاہی ) صحیح ( تندرست ) سقیم ( بیمار ) وغیرہ ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور کبھی اس چیز پر بھی کیف کا اطلاق کردیتے ہیں جس کے متعلق سوال کر نا ہو مثلا کہا جاتا ہے کہ اسود اور ابیض مقولہ کیف سے ہیں اور جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق کیف کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ تنبیہ یا قو بیخ کے طور پر مخاطب سے استخبار کے لئے لایا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] کافرو تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو ۔ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] بھلا مشرکوں کے لئے کیونکر قائم رہ سکتا ہے ۔ انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ۔ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی مر تبہ پیدا کیا ۔ أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کسی طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر کس طرح اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان اہل مکہ کو فرمادیجیے کہ ذرا چل پھر کر دیکھو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١ (قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ) ٍ تمہارے اس جزیرہ نمائے عرب میں ہی قوم عاد اور قوم ثمود آباد تھیں۔ اور جب تم شام کی طرف سفر کرتے ہو تو وہاں راستے میں قوم مدین کے مسکن بھی ہیں اور قوم لوط کے شہروں کے آثار بھی۔ یہ سب تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو ‘ پھر تم ان کے انجام سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

8. The archaeological remains and historical records of the ancient nations testify to how they met their tragic ends through turning away from truth and honesty and stubbornly persisting in their devotion to falsehood.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :8 یعنی گزری ہوئی قوموں کے آثار قدیمہ اور ان کے تاریخی افسانے شہادت دیں گے کہ صداقت و حقیقت سے منہ موڑنے اور باطل پرستی پر اصرار کرنے کی بدولت کس طرح یہ قومیں عبرتناک انجام سے دوچار ہوئیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

5: مشرکین عرب شام کے تجارتی سفر کے دوران ثمود اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں سے گذرا کرتے تھے جہاں ان قوموں کی تباہی کے آثار انہیں آنکھوں سے نظر آتے تھے۔ قرآن کریم انہیں دعوت دے رہا ہے کہ وہ ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 اس سے ان لوگوں کو تحذیر کی ہے (رازی) یعنی دنیا کے مختلف خطوں میں جو قومیں پائی گئی ہیں ذرا ان کے حالات اور تاریخ پر غور تو کرو تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ جب قوموں نے اللہ کے رسولوں کی جھٹلایا اور ان کی اطاعت سے انکار کیا انہیں کیسے عبرت ناک انجام سے دو چارہونا پڑا پھر اس سے اندازہ کرلو کہ اب جو تم ہمارے آخری رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آخری کتاب کا مذاق اڑا رہے ہو تمہارا انجام کیا ہوسکتا ہے اور کیا ہونا چاہیے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 11 تا 20 ۔ اسرار و معارف : ان سے کہیے زمین کا سینہ بھی تو کھلے ہوئے اوراق کی طرح گذشتہ قوموں کے حالات بیان کر رہا ہے ذرا تم بھی چل پھر کر دیکھو یہ اجڑی ہوئی بستیاں اور مسمار شدہ قلعے اپنے بنانے والوں کے گناہوں کی ڈھال نہ بن سکے اور نہ انہیں بچا سکے نہ خود بچ سکے اگر تم تکذیب کا راستہ اختیار کروگے تو سوائے تباہی کے تمہارے حصے میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ ذرا ان سے یہ تو پوچھا چاہئے کہ یہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے یہ ہے کس کا اسکا مالک کون ہے پھر انہیں بتا دیجئے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی ملکیت ہے جس نے خود اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے نہ پیدا کرنے میں کسی نے اس کی مدد کی نہ ملکیت میں کوئی اس کا کوئی حصہ دار ہے اب یہ کہیں گے کہ یہ تو اس کے دشمن بھی کھاتے ہیں اگر صرف اس کا ہے کہ تو کفار مشرکین اور منکرین کو کیوں دیتا ہے تو انہیں بتا دیجئے کہ یہ اس کی رحمت عامہ ہے اس کا کرم ہے یہ دنیا اس کے عمومی اظہار کا مقام ہے اس نے یہاں اپنی بخشش عام کردی اگر صرف ماننے والوں کو دیتا تو لوگ مجبورا مانتے اور مجبوری کا ماننا اسے قبول نہیں لہذا دنیا کی دولت ایمان کے ساتھ مشروط نہیں کی بلکہ رحمت مجسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں دعوت دینے تمہارے پاس تشریف لائے ہیں مگر اس کا یہ معنی مت سمجھو کہ سدا ایسا ہی حال رہے گا بلکہ یہ دنیا ختم ہونے والی ہے جیسا کہ روزانہ ہمارے گرد لوگ مرتے ہیں آخر سب دنیا ختم ہو کر قیامت قائم ہوگی اور وہاں اگلے پچھلے تمہارے سمیت سب لوگ حاضر ہوں گے یہ اتنی یقینی بات ہے کہ اس میں معمولی سا شبہہ کرنے کی گنجائش نہیں وہاں رحمت خاصہ کا ظہور ہوگا اور صرف ان لوگوں تک رحمت تقسیم ہوگی جن میں ایمان ہوگا پھر تم دیکھ لو گے کہ ایمان نہ لانے والوں نے اپنا کس قدر نقصان کرلیا بلکہ اپنے آپ کو تباہ کرلیا۔ کیونکہ اللہ نے اپنے ذمہ رحمت لکھ دی تھی اس نے کسی کو اس سے محروم نہیں فرمایا یہ انسان تھا جس نے اس کے دامان رحمت کو جھٹک دیا اور خواہشاتِ نفس اور شیطان کی پیروی اختیار کرکے اللہ کی رحمت سے محروم ہوگیا۔ لوگو یقین کرو رات دن میں اگر کسی بھی چیز کا وجود ہے یا کوئی چیز قرار پکڑتی ہے تو وہ اسی کی ہے صرف اس کی اور وہ سب کچھ سنتا بھی ہے اور جانتا بھی۔ یہ اسلام کا وہ انقلابی نظریہ ہے جس نے دنیائے کفر کو ہلاکر رکھ دیا۔ کفار آخرت سے واقف نہ تھے اور نہ یہ بات ان کے بس میں تھی۔ کہ علوم آخرت کے حاصل کرنے کا ذریعہ نور نبوت ہے اور بس۔ اس سے کفار کے دل خالی تھے تو انہوں نے بعض رسومات ایجاد کرکے ان کے ساتھ بطور نتیجہ کے دنیا ہی کی نعمتوں کو منسلک کردیا اور یوں ایک مذہب نام کی شئے وجود میں آگئی یہ تمام مذاہب باطلہ کا مشترکہ فلسفہ ہے اگرچہ رسومات اور ان کے ساتھ وابستہ نتائج میں فرق ہو مگر مرکزی خیال سب میں یہی کار فرما ہے اسلام نے اس سارے فلسفے کو رد کردیا اور دو طرح سے کیا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ اکیلا خالق ہے اور باقی سب مخلوق اس لیے عبادت کا حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کی جائے گی عبادت کمال اطاعت کا نام ہے بےچون و چرا غلامی یعنی یہ ساری رسومات جو مذاہب کے نام پر بنی ہیں غلط ہیں مذہب متعین کرنا اللہ کا حق ہے دوسرے ہر چیز ہے ہی اس کی مالک وہ ہے کوئی دوسرا تمہیں کیسے دے سکتا ہے وہ جو چاہے دے اور جو نہ چاہے وہ نہیں مل سکتا پھر اس کی ذات ایسی ہے کہ ہر بات کو صرف سنتا ہی نہیں ہر شخص کے اس ھال سے بھی واقف ہے جس سے وہ خود بھی واقف نہیں مانگنا تو ایک کھلی سی بات ہے آدمی تو وہی مانگے گا جس کی ضرورت کا اسے احساس ہوگا مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہت زیادہ جانتا ہے خود آدمی کو اپنی موجودہ ضرورت کا بھی صحیح اندازہ نہیں ہوسکتا جبکہ اللہ اس کی آئندہ ضرورتوں کو بھی جانتا ہے۔ اللہ والوں کا کام : ان سے کہیے کیا یہ انصاف ہوگا کہ ایسی ہستی کو چھوڑ کر اس کے سوا دوسروں کو اپنا مددگار بناؤں اور اپنی ضروریات کے لیے تمہارے فرضی خداؤں کو پکاروں یاد رہے ہر ضرورت کا سوال اللہ تعالیٰ ہی سے کرنا اسلام ہے اور اللہ والوں سے اس کا سلیقہ سیکھا جاتا ہے اسی طرح انبیاء و صلحاء کے توسل سے دعا کرنا جائز ہے جس کی بات لفظ وسیلہ کی بحث میں گزر چکی مانگا بھی اللہ ہی سے جائیگا اور عبادت بھی اسی کی کی جائے گی ۔ پکارا بھی اسی کو جائے گا۔ اس لیے کہ وہ ارض و سما یعنی سب عالم کا بنانے والا ہے وہ خالق ہے باقی سب مخلوق۔ ساری مخلوق خود اپنی بقا کے لیے اس کی محتاج ہے کسی دوسرے کی فریاد رسی کیا کرسکے گی اور وہ کسی کا محتاج نہیں نہ اس کی بارگاہ میں کسی چیز کی کمی ہے ساری مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے خواہ پانی میں ہے یا خشکی پر فضا میں ہے یا آسمان کا فرشتہ سب کی غذا ہے حیوانات اور نباتات کی غذا سے تو عام آدمی واقف ہے فرشتے کی غذا بھی ہے اور وہ ہے ذکر الہی اسی طرح ہر وہ شے جو اللہ کا ذکر کرتی ہے باقی رہتی ہے ورنہ فنا ہوجاتی ہے یعنی ہر شے کو رزق دیا جاتا ہے مگر وہ کسی کا محتاج نہیں نہ اسے رزق کی ضرورت ہے ساری کائنات اس کے قائم رکھنے سے قائم ہے اور وہ خود اپنی ذات سے قائم ہے کسی کا محتاج نہیں ایسی عظیم ذات کو چھوڑ کر اس کے بندوں غلاموں اور محتاجوں کو اپنا معبود مان لوں حالانکہ اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ماننے والوں کے لیے مثال قائم کروں اور اطاعت کرنے والوں میں اپنے آپ کو پہلا آدمی ثابت کروں اور کبھی بھی اس کی ذات یا صفات میں کسی کی شرکت کا تصور دل میں نہ لاؤں۔ میں تو ایسا ہی کروں گا اور تمہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے کہ یہی انسانیت کی عظمت کا راستہ ہے۔ اس کے خلاف جو راستہ ہے وہ نافرمانی کا راستہ ہے جس پر کسی بھی نبی کا چلنا ممکن نہیں اس لیے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اس میں گناہ اور خطا کا مادہ ہی نہیں ہوتا لیکن اگر بفرض محال نبی بھی اس راستہ پر چل پڑے تو اس کے منطقی انجام ہی کو پالے گا یعنی اللہ کا عذاب جس کا فیصلہ ایک بہت بڑے دن میں کیا جائے گا ایک مثالی دن جس روز ساری انسانیت بیک وقت حاضر ہو کر اپنے اعمال کا بدلہ پائے گی لہذا تم نے اگر یہ راہ اپنائی ہے تو اس میں کوئی جائے پناہ نہیں۔ اور یاد رکھو سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس روز انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت کو پا لے اور بخشا جائے مگر کفر رحمت کا محل ہی نہیں یہ تو غضب کا محل ہے ایمان موجود ہو تو خطائیں معاف ہو کر رحمت الہی کی پناہ مل سکتی ہے مگر کافر کے لیے اس کا کوئی موقع نہ ہوگا اور اس روز سے جو زندگی شروع ہوگی وہ کبھی ختم ہوگی نہ بنائی یا بگاڑ جاسکے گی اس دنیا میں سب کچھ کرکے جانا ہے۔ اگر اللہ تم پر مصیبت بھیج دے اور ساری مخلوق مل کر بھی اسے ہٹانا چاہے ہرگز نہ ہٹا سکے گی جب تک وہ خود ہی نہ ہٹا دے اور اگر وہ کوئی نعمت دینا چاہے تو ساری مخلوق مل کر چھین نہیں سکتی وہ خود جو چاہے کرسکتا ہے اور اپنے بندوں پہ اپنی مخلوق پہ اسے مکم اختیار حاصل ہے وہ سب کے حال سے واقف بھی ہے مگر دانا تر ہے اس کی حکمت کے تقاضے کے مطابق دنیا چل رہی ہے ایک ایک کام میں سینکڑوں حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ ان سب باتوں پہ اگر تمہیں گواہی کی ضرورت ہو تو اللہ سے بڑا گواہ اور کون ہوسکتا ہے اور اس کی گواہی سے بڑی گواہی کا تو کوئی تصور نہیں میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہ ہے کہ میں کس خلوص سے اور کتنی محبت سے تمہیں حق کی طرف دعوت دے رہا ہوں اور اسی غرض سے مجھ پہ یہ قرآن نازل ہوا ہے کہ آنے والے خطرے سے تمہیں بروقت آگاہ کردوں نہ صرف تم بلکہ میرا مخاطب ہر وہ شخص ہے جس تک یہ قرآن پہنچے۔ اسی لیے ارشاد فرمایا کہ میری طرف سے پہنچا دو خواہ تمہارے پاس ایک آیت ہو اور صحابہ فرمایا کرتے تھے کہ جس نے قرآن سن لیا اس نے نہ صرف اللہ تعالیٰ کا کلام سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات اور دعوت بھی سن لی۔ لہذا قیامت تک دنیا کے جس گوشے جس حصے میں یہ کلام پہنچے گا میری بات پہنچتی رہے گی اور لوگوں کو موت سے قبل ان خطرات کی نشاندہی ہوتی رہے گی جو موت کے پردے کے پیچھے ہیں۔ اب تم بتاؤ کیا تم اب بھی یہی کہتے ہو کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو بھی عبادت کا حق حاصل ہے اور بھی ہے کوئی عبادت کے قابل اگر تم اس بات پر بضد رہو تو سن لو میں یہ ہرگز نہیں کہتا بلکہ میری شہادت یہ ہے کہ اللہ کی اکیلی ذات ہے جو عبادت کے لائق ہے اور تمہاری تمام مشرکانہ باتوں اور رسومات سے بیزاری اور برات کا اعلان کرتا ہوں۔ رہ گئے یہ اہل کتاب ان کی بابت خود رب جلیل فرماتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں اس قدر تفصیل سے نشانیاں اور حالات بیان ہوئے ہیں کہ یہ میرے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح یقین کے ساتھ پہچانتے ہیں جس طرح کوئی اپنی اولاد کو پہچانتا ہے یا جس طرح یہ خود اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں پھر مانتے کیوں نہیں اس لیے کہ انہوں نے خسارے کا سودا کرلیا ہے یعنی گناہ آلود زندگی اپنا لی ہے اور گناہ رفتہ رفتہ دلوں کو سیاہ کردیتا ہے پھر ان میں ایمان قبول کرنے کی اہلیت ہی نہیں رہتی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد مکذبین اور معاندین کو مزید تنبیہ فرمائی اور ارشاد فرمایا (قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ) کہ زمین میں چلو پھر دیکھو کیسا انجام ہو اجھٹلانے والوں کا، دنیا میں چلیں پھریں دنیاوالوں کے کھنڈروں سے اور ان کی ہلاکت و بربادی کے واقعات سے عبرت حاصل کریں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

13 یہ تخویف دنیوی ہے یعنی آپ ان منکرین اور مستہزئین سے کہیں کہ زمین میں چل پھر کر ان لوگوں کا انجام دیکھو جنہوں نے مبلغین توحید حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

11 آپ ان سے فرمائیے کہ تم لوگ بطور سیاحت ذرا زمین پر چلو پھر و پھر خود ہی دیکھ لو کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب کرنے والوں اور دین حق کے جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔