Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 13

سورة الأنعام

وَ لَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ ؕ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۳﴾

And to Him belongs that which reposes by night and by day, and He is the Hearing, the Knowing.

اور اللہ ہی کی ملک ہیں وہ سب کچھ جو رات میں اور دن میں رہتی ہیں اور وہی بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ... And to Him belongs whatsoever exists in the night and the day. meaning, all creatures in the heavens and earth are Allah's servants and creatures, and they are all under His authority, power and will; there is no deity worthy of worship except Him, ... وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ and He is the All-Hearing, the All-Knowing. He hears the statements of His servants and knows their actions, secrets and what they conceal. Allah then said to His servant and Messenger Muhammad, whom He sent with the pure Tawhid and the straight religion, commanding him to call the people to Allah's straight path;

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۭ۔۔ : گزشتہ آیت : (قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ ) میں مکان (جگہ) کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہر جگہ بادشاہ ہونے کا بیان تھا، اس آیت میں زمان اور وقت کے اعتبار سے اس کی بادشاہی عام ہونے کا ذکر ہے۔ کیونکہ آسمان و زمین کے سوا کوئی مکان ( جگہ) نہیں اور رات اور دن کے سوا کوئی زمانہ ( وقت) نہیں، گویا ہر جگہ اور ہر وقت اسی کی حکومت اور اسی کا قبضہ و اقتدار ہے۔ پھر یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ تمام جگہوں اور تمام اوقات اور زمانوں کا مالک ہے، فرمایا : ( وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ) یعنی وہ ہر چیز کی دعا اور پکار سنتا ہے۔ ” الْعَلِيْمُ “ ہر چیز کے عمل اور اس کی ضرورت سے آگاہ ہے تو پھر کسی اور کو پکارنے کی ضرورت کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں ” مَا سَكَنَ “ میں سکون سے مراد حلول، یعنی رہنا ہے اور سکون جو حرکت کی ضد ہے وہ مراد نہیں۔ اس لیے ٹھہرا ہوا ہے کا معنی بھی یہی ہے کہ جو بھی رات اور دن میں بس رہا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The word, ` sukun& appearing in verse 13: وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ‌ (And to Him belongs what finds rest in the night and the day) could either mean the state of being still or at rest, in which case, the verse would mean that Allah is the Master of everything present in the night and the day. Or, it is also possible that the sense could be that of a com¬bined state of stillness and movement (which would amount to saying - what tarries and what moves), but what was mentioned here is the state of sukun or rest only - because, movement which stands in con¬trast to it can be understood as being obvious enough.

وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۭ، یہاں یا تو سکون سے مراد استقرار ہے، یعنی جو چیز جہاں کے لیل و نہار میں موجود ہے وہ سب اللہ ہی کی ملک ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد سکون و حرکت کا مجموعہ ہو، یعنی ماسکن وما تحرک اور ذکر صرف سکون کا کیا گیا حرکت جو اس کے بالمقابل ہے وہ خودبخود سمجھ میں آسکتی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَہٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَالنَّہَار۝ ٠ۭ وَہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝ ١٣ سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، وقال تعالی: وَلَهُ ما سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ [ الأنعام/ 13] ، ولِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] ، فمن الأوّل يقال : سکنته، ومن الثاني يقال : أَسْكَنْتُهُ نحو قوله تعالی: رَبَّنا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي [إبراهيم/ 37] ، وقال تعالی: أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ [ الطلاق/ 6] ( س ک ن ) السکون ( ن ) السکون ( ن ) حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں جگہ رہائش اختیار کرلی ۔ اسی اعتبار سے جائے رہائش کو مسکن کہا جاتا ہے اس کی جمع مساکن آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا ۔ اور فرمایا : ۔ وَلَهُ ما سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ [ الأنعام/ 13] اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے ۔ ولِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] تاکہ اس میں آرام کرو ۔ تو پہلے معنی یعنی سکون سے ( فعل متعدی ) سکنتہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی کو تسکین دینے یا ساکن کرنے کے ہیں اور اگر معنی سکونت مراد ہو تو اسکنتہ کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ رَبَّنا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي [إبراهيم/ 37] اے پروردگار میں نے اپنی اولاد لا بسائی ہے أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ [ الطلاق/ 6] 25 ) ( مطلقہ ) عورتوں کو ( ایام عدت میں ) اپنے مقدرو کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣) اور کفار نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تھا کہ ہمارے دین کی طرف لوٹ آؤ ہم تمہیں مالا مال کردیں گے اور تمہاری بہترین جگہ پر شادی بھی کرا دیں گے اور تمہیں عزت دیں گے اور اپنا رہبر بنائیں گے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں، آپ کے وطن میں رات دن میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کی ملک ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣ (وَلَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّہَارِط وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) یہاں سَکَنَ کے مقابل لفظ تَحَرَّکَ محذوف ہے۔ ایسے مقابل کے الفاظ کو عام طور پر قرآن مجید میں حذف کردیا جاتا ہے تاکہ آدمی خودس مجھے۔ جیسے یہاں رات کے ساتھ سکون کا لفظ آیا ہے اور اس کے ساتھ ہی دن کا ذکر کردیا گیا ہے ‘ جبکہ دِن کا وقت سکون کے لیے نہیں ہے۔ لہٰذا بات اس طرح واضح ہوجاتی ہے : وَلَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَمَا تَحَرَّ کَ فِی النَّھَار اور اسی کا ہے جو کچھ رات کے وقت سکون پکڑتا ہے اور دن کے وقت متحرک ہوجاتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب لوگ سوتے ہیں تو دوبارہ بیدار بھی ہوجاتے ہیں، حالانکہ نیند بھی ایک چھوٹی موت ہے جس میں اِنسان دُنیا سے بے خبر اور بالکل بے اختیار ہوجاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اﷲ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہوتا ہے، اس لئے جب وہ چاہتا ہے اسے بیداری کی دُنیا میں واپس لے آتا ہے۔ اسی طرح جب بڑی موت آئے گی تب بھی اِنسان اﷲ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہوگا، اور وہ جب چاہے گا اسے دوبارہ زندگی دے کر قیامت کے یومِ حساب کی طرف لے جائے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:13) سکن وہ ٹھہرا، وہ بسا، وہ رہا۔ اس نے آرام پکڑا۔ سکون جس میں حرکت کرنے کی صلاحیت ہو اس کے حرکت نہ کرنے کا نام ہے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 آیت قل لمن مافی السمٰوٰ ت والا رض میں مکان جگہ کے اعتبار سے تعمیم تھا اذلامکان سوا ھما اور اس آیت میں تعمیم باعتبار زمان ہے کیونکہ رات دن کے علاوہ اور کوئی زمان (وقت) نہیں ہے گویا ہر جگہ اور ہر وقت اس کو حکومت اور اسی کا قبضہ وقتدار ہے۔ (رازی) یاد رہے کہ یہاں سکون بمعنی حلول ہے یعنی رہنا اور سکون جو حرکت کی ضد ہے وہ مراددنہی ہے پھر یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ تمام مکا نیات کا مالک ہے۔ اسمیع العلیم فرماکر اللہ تعالیٰ کے فاعل مختار ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس سے ایجاب بالذات کی تردید ہوتی ہے (رازی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : صرف زمین و آسمان اللہ کی ملکیت نہیں بلکہ ان کی گردش کے نتیجہ میں رات اور دن کا وجود اور ظہور، تاریکیوں اور روشنیوں میں رہنے والی ہر چیز اس کی ملکیت اور اس کے اختیار میں ہے۔ مشرکین مکہ کے الزامات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ اور توحید کا پرچار اس لیے کیا ہے تاکہ آپ اس کے بدلے میں دنیا کا مال و متاع جمع کرسکیں۔ اس کے لیے ایک موقع پر انھوں نے آپ کو پرکشش مراعات پیش بھی کی تھیں۔ جن میں آپ کو حاکم تسلیم کرنا، نکاح کے لیے خوبصورت لڑکی پیش کرنے کے ساتھ انھوں نے آپ کے حسب منشاء دولت جمع کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ کچھ مفسرین کے خیال کے مطابق یہ اسی پیشکش کا جواب ہے کہ تم لوگ توحید باری تعالیٰ کے بدلے میں جو پیشکشیں کرتے ہو۔ ذرا سوچو تو سہی یہ زمین و آسمان، رات اور دن ان میں رہنے اور بسنے والی ہر چیز کس کی ملکیت ہے ؟ اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے کہ جس طرح رات کے بعد دن کا آنا یقینی ہے ایسے ہی مشکلات کے بعد آسانیوں اور کامیابیوں کا حاصل ہونا بھی یقینی ہے۔ جیسے رات کی تاریکی اور دن کی روشنی لازم و ملزوم ہیں ایسے ہی حق و باطل کی کشمکش بھی لازم و ملزوم ہے لہٰذا آپ حوصلہ پست کرنے کے بجائے اپنا کام جاری رکھیں۔ جس اللہ نے آپ کو اپنا پیغام رساں بنایا ہے۔ وہ اللہ آپ کے اخلاص اور آپ کی محنت شاقہ جاننے کے ساتھ آپ کے مخالفوں کی ہر بات کو سننے والا اور ہر حرکت کو جاننے والا ہے۔ مسائل ١۔ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے کنٹرول میں ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کا ظاہر و باطن جانتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کا علم ساری کائنات پر حاوی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر بات جانتا اور سنتا ہے : ١۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو ؟ جو تمہارے نفع و نقصان کا مالک نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (المائدۃ : ٧٦) ٢۔ اللہ سے ڈر جاؤ اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (الحجرات : ١) ٣۔ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز نہیں وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (الشوریٰ : ١١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رات اور دن میں جو کچھ سکونت پذیر ہے سب اللہ ہی کا ہے پھر فرمایا (وَ لَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّھَارِ ) (اور اللہ ہی کے لئے ہے جو ساکن ہے رات اور دن میں) سکن ٹھہرنے کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے یعنی جو کچھ رات اور دن میں ٹھہرا ہوا ہے وہ اللہ ہی کی مخلوق ہے ساکن غیر متحرک ہونے کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے یعنی جو چیزیں رات اور دن میں غیر متحرک ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں یہ چیزیں بھی (مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) میں داخل ہیں لیکن پھر بھی الگ سے ان کا ذکر فرمایا کیونکہ یہ چیزیں ہر وقت مخاطبین کے سامنے ہیں اور خود مخاطبین بھی اس میں شامل ہیں جو کچھ نظر کے سامنے ہو اس کو دیکھ کر زیادہ بصیرت اور عبرت حاصل ہوتی ہے۔ پھر فرمایا (وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) کہ اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے۔ سب اپنے اقوال اور اعمال کی طرف غور کریں کہ رضا کے خلاف تو نہیں چل رہے ہیں۔ آپ یہ اعلان کردیں کہ میں غیر اللہ کو ولی نہیں بنا سکتا

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

15 یہ تیسری عقلی دلیل ہے یہ آیت از قبیل التفہا تبنا و ماء باردا ہے کیونکہ سکون تو صرف رات میں ہوتا ہے۔ دن میں لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوتے ہیں اس لیے النھار سے پہلے اس سے مناسب فعل محذوف ہے اصل میں تھا وَ لَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَ مَا نَشَرَ فِی النَّھَارَ نُشُوْراً ۔ تقدیم ظرف مفید حصر ہے۔ یعنی رات دن میں جو بھی ساکن و متحرک ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے اور کسی کا نہیں۔ وَ ھُوَ السَّمِیْع ای لکل شیء اَلْعَلِیْمُ ای بکل شیء یعنی ہر چیز کا سننے والا اور ہر چیز کا جاننے والا اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ یہاں تعریف خبر مفید حصر ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

13 اور رات کی تاریکی اور دن کی روشنی میں جو بھی رہتا ہے اور جو بھ سکوتن رکھتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے اور وہ ہی بڑا سننے والا اور جاننے والا ہے یعنی رات اور دن جس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور جن پر رات و دن کا گذر ہوتا ہے وہ سب خدا تعالیٰ کی مملوک ہیں۔