Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 131

سورة الأنعام

ذٰلِکَ اَنۡ لَّمۡ یَکُنۡ رَّبُّکَ مُہۡلِکَ الۡقُرٰی بِظُلۡمٍ وَّ اَہۡلُہَا غٰفِلُوۡنَ ﴿۱۳۱﴾

That is because your Lord would not destroy the cities for wrongdoing while their people were unaware.

یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب کسی بستی والوں کو کفر کے سبب ایسی حالت میں ہلاک نہیں کرتا کہ اس بستی کے رہنے والے بے خبر ہوں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah said, ذَلِكَ أَن لَّمْ يَكُن رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَافِلُونَ This is because your Lord would not destroy the (populations of) towns for their wrongdoing while their people were unaware. meaning: `We sent the Messengers and revealed the Books to the Jinns and mankind, so that no one has an excuse that he is being punished for his wrongs although he did not receive Allah's Message. Therefore, We did not punish any of the nations, except after sending Messengers to them, so that they have no excuse.' Allah said in other Ayat, وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلاَّ خَلَ فِيهَا نَذِيرٌ And there never was a nation but a warner had passed among them. (35:24) and, وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah, and stay away from At-Taghut (all false deities)." (16:36) and, وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً And We never punish until We have sent a Messenger. (17:15) and, كُلَّمَا أُلْقِىَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَأ أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُواْ بَلَى قَدْ جَأءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا Every time a group is cast therein, its keeper will ask: "Did no warner come to you!" They will say: "Yes, indeed a warner did come to us, but we belied him." (67:8-9) There are many other Ayat on this subject. Allah's statement,

حجت تمام جن اور انسانوں کی طرف رسول بھیج کر ، کتابیں اتار کر ان کے عذر ختم کر دیئے اس لئے کہ یہ اللہ کا اصول نہیں کہ وہ کسی بستی کے لوگوں کو اپنی منشاء معلوم کرائے بغیر چپ چاپ اپنے عذابوں میں جکڑ لے اور اپنا پیغام پہنچائے بغیر بلا وجہ ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے ، فرماتا ہے آیت ( وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ ) 35 ۔ فاطر:24 ) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی آگاہ کرنے والا نہ آیا ہو اور آیت میں ہے ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اے لوگو اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے بچو اور جگہ ہے ہم رسولوں کو بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں کیا کرتے ۔ سورۃ تبارک میں ہے جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی تو وہاں کے داروغے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس آ گاہ کرنے والے نہیں آئے تھے؟ وہ کہیں گے آئے تھے اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں اس آیت کے پہلے جملے کے ایک معنی امام ابن جریر نے اور بھی بیان کئے ہیں اور فی الواقع وہ معنی بہت درست ہیں امام صاحب نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے یعنی یہ کہ کسی بستی والوں کے ظلم اور گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں اسی وقت ہلاک نہیں کرتا جب تک نبیوں کو بھیج کر انہیں غفلت سے بیدار نہ کر دے ، ہر عامل اپنے عمل کے بدلے کا مستحق ہے ۔ نیک نیکی کا اور بد بدی کا ۔ خواہ انسان ہو خواہ جن ہو ۔ بدکاروں کے جہنم میں درجے ان کی بدکاری کے مطابق مقرر ہیں جو لوگ خود بھی کفر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ الہیہ سے روکتے ہیں انہیں عذاب پر عذاب ہوں گے اور ان کے فساد کا بدلہ ملے گا ہر عامل کا عمل اللہ پر روشن ہے تاکہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کا بدلہ مل جائے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

131۔ 1 یعنی رسولوں کے ذریعے سے جب تک اپنی حجت قائم نہیں کردیتا، ہلاک نہیں کرتا جیسا کہ یہی بات سورة فاطر آیت، 42۔ سورة نحل 62، سورة بنی اسرائیل 15 اور سورة ملک 8، 9 وغیرہ میں بیان کی گئی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٩] اللہ تعالیٰ کی یہ عادت نہیں کہ لوگوں کو ان کے گناہوں کے انجام سے خبردار کیے بغیر انہیں اس دنیا میں تباہ کر ڈالے یا آخرت میں عذاب دے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بیشمار انبیاء لوگوں کی ہدایت اور انہیں ڈرانے کے لیے بھیجے اور قرآن میں ایک جگہ فرمایا (وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ 24 ؀) 35 ۔ فاطر :24) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی ڈرانے والا نہ بھیجا گیا ہو۔ اور یہ ڈرانے والے جنوں اور انسانوں دونوں کے لیے ہوتے تھے۔ پھر جس جس نے ان انبیاء کی دعوت پر لبیک کہا اور اعمال صالحہ بجا لایا۔ تو ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق درجات عطا ہوں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ : یعنی ان کے پاس کوئی پیغمبر یا اس کا نائب نہ پہنچا ہو اور اس نے انھیں حقیقت حال سے آگاہ نہ کردیا ہو۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (١٥) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The third verse (131) tells us that sending prophets and messengers among human beings and the Jinn is based on the dictate of justice and mercy of Allah Ta` ala for He does not send punishment over a peo¬ple unless they have been awakened through His blessed messengers and provided with the light of guidance.

تیسری آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ انسانوں اور جنّات میں رسول بھیجنا اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ کسی قوم پر ویسے ہی عذاب نہیں بھیج دیتے جب تک کہ ان کو پہلے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ بیدار نہ کردیا جائے اور ہدایت کی روشنی ان کے لئے نہ بھیج دی جائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ مُہْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَہْلُہَا غٰفِلُوْنَ۝ ١٣١ هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی ۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز میں خرابی اور تغیر پیدا ہوجانا جیسا کہ طعام ( کھانا ) کے خراب ہونے پر ھلک الطعام بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو بر باد اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کردی ۔ موت کے معنی میں جیسے فرمایا : ۔ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] اگر کوئی ایسا مرد جائے ۔ قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں غفل الغَفْلَةُ : سهو يعتري الإنسان من قلّة التّحفّظ والتّيقّظ، قال تعالی: لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] ( غ ف ل ) الغفلتہ ۔ اس سہو کو کہتے ہیں جو قلت تحفظ اور احتیاط کی بنا پر انسان کو عارض ہوجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] بیشک تو اس سے غافل ہو رہا تھا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣١) اور یہ رسولوں کے بھیجنے کا سلسلہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کا پروردگار کسی بستی والوں کو شرک و گناہ اور ظلم کی بنا پر اس حالت میں ہلاک نہیں کرتا کہ وہ اوامرو نواہی اور تبلیغ رسل سے بیخبر ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣١ (ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَہْلُہَا غٰفِلُوْنَ ) اس سے مراد یہ ہے کہ مختلف قوموں کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا اور انہوں نے اپنی قوموں میں رہ کر انذار ‘ تذکیر اور تبشیر کا فرض ادا کردیا۔ پھر بھی اگر اس قوم نے قبول حق سے انکار کیا تو تب ان پر اللہ کا عذاب آیا۔ ایسا نہیں ہو تاکہ اچانک کسی بستی یا قوم پر عذاب ٹوٹ پڑا ہو ‘ بلکہ اللہ نے سورة بنی اسرائیل میں یہ قاعدہ ‘ کلیہ اس طرح بیان فرمایا ہے : (وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ) یعنی وہ عذا بِ استیصال جس سے کسی قوم کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے اور اسے تباہ کر کے نسیاً منسیا کردیا جاتا ہے ‘ وہ کسی رسول کی بعثت کے بغیر نہیں بھیجا جاتا ‘ بلکہ رسول آکر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا بالکل مبرہن کردیتا ہے۔ اس کے باوجود بھی جو لوگ کفر پر اڑے رہتے ہیں ان کو پھر تباہ و برباد کردیا جاتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

100. God does not want His creatures to have any valid reason to complain that He had left them ignorant of the Right Way, and then convicted them of error. God has forestalled any such grievance by sending Prophets and revealing Holy Books to warn both jinn and human beings. If people continue to falter in spite of God's arrangements for their guidance, they themselves are to blame for the punishment they will receive, and they have no justification for blaming their misfortune on God.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :100 یعنی اللہ اپنے بندوں کو یہ موقع نہیں دینا چاہتا کہ وہ اس کے مقابلے میں یہ احتجاج کرسکیں کہ آپ نے ہمیں حقیقت سے تو آگاہ کیا نہیں ، اور نہ ہم کو صحیح راستہ بتانے کا کوئی انتظام فرمایا ، مگر جب ناواقفیت کی بنا پر ہم غلط راہ پر چل پڑے تو اب آپ ہمیں پکڑتے ہیں ۔ اس حجت کو قطع کر دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے اور کتابیں نازل کیں تاکہ جن و انس کو صاف صاف خبردار کر دیا جائے ۔ اب اگر لوگ غلط راستوں پر چلتے ہیں اور اللہ ان کو سزا دیتا ہے تو اس کا الزام خود ان پر ہے نہ کہ اللہ پر ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

62: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان بستی والوں کی کسی زیادتی کی وجہ سے ان کو ہلاک کرنا اللہ تعالیٰ کو اس وقت تک گوارا نہیں تھا جب تک انہیں انبیائے کرام کے ذریعے متوجہ نہ کردیا جائے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود یہ زیادتی نہیں کرسکتا تھا کہ پہلے سے متوجہ کیے بغیر لوگوں کو ہلاک کردے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(131 ۔ 134) ۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن اللہ نافرمان جن و انس سے پوچھے گا کہ کیا اللہ کے رسولوں کی معرفت تمہیں اللہ کا کلام نہیں پہنچا جس میں قیامت کے آنے کا اور اس دن نافرمان لوگوں کے عذاب میں پکڑے جانیکا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ آسمانی کتابیں اور رسول اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے اس لئے بھیجے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ناانصانی کے طور پر کسی بستی کے لوگوں کو غفلت اور بیخبر ی کی حالت میں غفلت کرنا منظور نہیں اسی واسطے اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) کی قوم سے لے کہ فرعون اور اس کی قوم تک کے لوگوں کو اللہ کے رسولوں کی معرفت اللہ کا کلام پہنچایا گیا جس میں ہر طرح کی نصیحتوں کے سمجھنے کے لئے پوری مہلت دی گئی باوجود اس کے وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہ آئے تو دنیا میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے اور عقبے میں اپنے عملوں کے موافق جلد سزا پاویں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے عملوں کے موافق جزا سزا کے درجے ٹھہرا رکھے ہیں اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل اس کے علم سے باہر نہیں ہے پھر فرمایا نیک عملوں کی ہر شریعت میں تاکید جو کی گئی ہے تو کچھ اس واسطے نہیں کی گئی کہ اللہ کو کسی کے نیک عملوں کی کچھ پرواہ ہے اس کی ذات تو سب ضرورتوں سے بےپروا ہے لیکن ساتھ ہی اس کے یہ بھی ہے کہ جس طرح اس کی صفتوں میں بےپروائی کی صفت ہے اسی طرح رحم کی صفت بھی ہے اسی رحم کی صفت کے موافق اس نے ایک نیکی کا اجر دس سے لے کر سات سو تک اور کبھی اس سے بھی زیادہ ٹھہرایا ہے اس صفت کے موافق اس نے جس طرح پچھلی قوموں کو نصیحت کے سمجھنے کی مہلت دی تھی اس طرح اس نے قریش کو مہلت دے رکھی ہے ورنہ ان کی سرکشی کے لحاظ سے اگر اللہ چاہتا تو اب تک پچھلی قوموں کی طرح ان کو ہلاک کر کے دوسری کسی فرمانبردار قوم کو ان کی جگہ اسی طرح پیدا کردیتا جس طرح پچھلی قوموں کی ہلاکت کے بعد ان کو پیدا کردیا مگر ان کو یہ خوب سمجھ لیتا چاہئے کہ مہلت قیامت کے وعدہ کو نہیں ٹال سکتی اس مہلت میں اگر یہ لوگ کچھ سامان اس دن کے عذاب سے بچنے کا نہ کریں گے تو وہ عذاب دنیا کی آفتوں کی طرح نہیں ہے جس سے آدمی کہیں بھاگ کر بچ جاتا ہے اس عذاب سے بھاگنے کی جگہ بھی ان کو کہیں نہ ملے گی۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر (رض) کی حدیث قدسی اوپر گذر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمام دنیا کے جنات اور انسان نیک ہوجاویں تو ان کی نیکی سے اللہ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہیں سکتا اور یہ سب بد ہوجاویں تو کچھ گھٹ نہیں سکتا صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو اپنی رحمت کی صفت ایسی پیاری ہے کہ دنیا بھر کے لوگ اگر گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا سے اٹھا کر ان کی جگہ اور گناہ کرنے والی مخلوقات پیدا کرتا اور جب یہ لوگ گناہ کر کے توبہ استغفار کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا سے اٹھا کر ان کی جگہ اور گناہ کرنے والی مخلوقات پیدا کرتا اور جب یہ لوگ گناہ کر کے توبہ استغفار کرتے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی صفت کو کام میں لاکر ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پہلی حدیث اللہ تعالیٰ کی بےپروائی کی گویا تفسیر ہے اور دوسری اس کی رحمت کی :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:131) ذلک۔ ذلک خبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے ای الامر ذلک حقیقت یہ ہے ۔ یا بات یہ ہے۔ یہ اشارہ ہے ارسال رسل کی طرف یعنی یہ رسولوں کا بھیجنا اور ان کا لوگوں کو سوء عاقبت سے ڈرانا۔ اس وجہ سے ہے کہ :۔ ان۔ مصدریہ ہے۔ لم یکن۔ نہیں ہے ۔ لم یکن فعل ناقص۔ مضارع مجزوم ۔ نفی جحد بلم کون سے باب نصر۔ مہلک القری۔ بستیوں کو ہلاک کرنے والا۔ یعنی تیرا رب بستیوں کو ہرگز ہلاک نہیں کرتا۔ مضاف مضاف الیہ ہو کر خبر کان کی۔ بظلم۔ کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) بظلم منھم۔ (2) بظلم منہ (من اللہ) جمہور نے اول الذکر کو ترجیح دی ہے۔ غفلون۔ غفلت کرنے والے، بیخبر ۔ مطلب یہ ہے کہ ۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو بشیر اور نذیر بنا کر اس لئے بھیجتا ہے کہ وہ کسی بستی یا قوم کو ان کے ظلم و شر اور کفر و شرک کی وجہ سے جبکہ وہ ان بدیوں کے مآل ناواقف اور بیخبر ہوں ہلاک نہیں کرتا۔ (بلکہ باقاعدہ خدا کے فرستادہ جو انہی میں سے ہوتے ہیں ان کو نیک و بد سے مطلع کرتے ہیں۔ اور خدا وند تعالیٰ کے وعدے وعید سے ان کو باخبر کرتے ہیں۔ پھر اس کے بعد وہ اگر بدیوں کے عمداً مرتکب ہوں تو مکافات عمل میں ہلاکت ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی ان کے پاس کوئی پیغمبر یا اس کا نائب نہ پہنچا ہو اور اس نے انہیں حقیقت حال سے آگاہ نہ کردیا ہو۔ (دیکھئے سورت اسرا آیت 15)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 16 ۔ آیات 131 ۔ تا۔ 141: اسرار و معارف : میدان حشر میں تو کفار جنات ہوں یا انسان دونوں سے براہ راست سوال ہوگا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں پہنچے تھے اور تمہیں روز حشر کی جوابدہی کی بروقت اطلاع نہیں کردی تھی تو بغیر اقرار گناہ کسی کو چارہ نہ ہوگا خود کہہ اٹھیں گے کہ ہم اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اگر کفار جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو انبیاء کی شہادت اور امت محمدیہ کی شہادت کفار کو لاجواب کردے گی انسانوں کی بات تو واجح ہے مگر جنات کے بارے مفسرین کرام نے یہ بحث فرمائی ہے کہ کیا ان میں نبوت تھی ؟ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد کوئی جن نبی کے طور پر مبعوث نہیں ہوا بلکہ انبیاء انسانوں میں سے آئے اور جنات بھی انہی کی اطاعت کے مکلف تھے سوال یہ ہے کہ جنات تو ہزاروں سال پہلے سے بھی زمین پر آباد تھے پھر آدم (علیہ السلام) سے پہلے ان میں نبوت کا ہونا ضروری ٹھہرا بعض مفسرین نے ایک نام بھی نقل فرمایا ہ ہے یوسف بن یاسف کہ یہ جن تھے اور نبی تھے تفسیر مظہری میں یہ امکان کے طور پر ہے کہ ہندوؤں نے جو مذہب اپنا رکھا ہے ممکن ہے جنات کا مذہب ہو اور ان میں سے کسی نبی کی تعلیمات ہوں جو بعد میں شرک سے بھر دی گئیں کہ ان کے بتوں کی صورت عجیب و غریب ہوتی ہے کسی کے متعدد ہاتھ کسی کے کئی سر اور کسی کی سونڈ ہاتھی کی طرح وگیرہ ممکن ہے یہ جنات کی شکلیں ہوں نیز ان کی مذہبی حکایات بھی دیومالا قسم کی ہیں مگر یہ صرف امکان ہے اس پر کوئی دلیل نہیں۔ کیا جنات میں بھی نبوت و رسالت تھی : حق یہ ہے کہ نبوت کی استعداد صرف بنی آدم کو عطا ہوئی اور ازل میں انبیاء سے عہد لیا گیا جو سب اولاد آدم (علیہ السلام) تھے نیز اس استعداد کا اثر ساری انسانیت میں ہے کہ جو بھی نبی کے ساتھ ایمان لائے اس کا دل تجلیات باری کو پالیتا ہے اگر کسی صاحب حال کی صحبت نصیب ہو تو روحانی ترقی کی سب منازل طے کرسکتا ہے یہی انسان کے باقی مخلوق سے افضل ہونے کا راز بھی ہے اگر جنات میں بھی نبوت ہوتی تو ان سے یہ استعداد سلب نہ ہوتی مگر تجربہ یہ ہے کہ جنات انوارات کو اصلاً برداشت ہی نہیں کرسکتے جل جاتے ہیں ہاں ان جنات کو جنہوں نے انبیاء کی تعلیمات کو جنوں تک پہنچایا عرفاً رسول کہہ دیا جاتا ہے یعنی رسولوں کے رسول اور آدم (علیہ السلام) سے قبل جو بات احادیث میں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین پر جنات فساد کرتے تو آسمان سے فرشتوں کو بھیج دیا جاتا جو ظالموں کو سزا دیتے اور کسی نیک اور شریف کو بحکم الہی ان پر حاکم مقرر کردیتے جو انہیں ظلم و جور سے روکتا رفتہ رفتہ پھر خرابیاں پیدا ہوتیں تو ان کا یہی حل ہوتا تھا سورة بقرہ کی تفسیر میں بھی یہ بات نقل کی گئی ہے کہ اسی تجربہ کی بنا پر فرشتوں نے عرض کیا تھا کہ زمین پر جو مخلوق پیدا ہوگی وہ قتل و غارت اور فساد بپا کرے گی ان جنوں کو جنہیں امیر مقرر کیا جاتا تھا عرفاً رسول یعنی بات پہنچانے والے کہہ دیا جاتا ہے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کو الہام سے نوازا گیا مگر ارشاد ہوا۔ واوحینا الی ام موسیٰ حالانکہ شرعی اصطلاح میں وحی اس خطاب کو کہا جاتا جو اللہ کی طرف سے اس کے نبی کو ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ ام موسیٰ نبی نہ تھیں دوسری بات یہ ہے کہ پورے قرآن میں جنات کے ساتھ جنت کا وعدہ نہیں بلکہ اطاعت کرکے وہ دوزخ سے بچ سکتے ہیں جب کہ گناہ پر دوزخ کی وعید موجود ہے اگر جنات میں نبوت ہوتی تو جنت کے خلود کا وعدہ بھی ضرور ہوتا۔ اسی لیے علماء کا قول ہے کہ جنات ہمیشہ نہ رہیں گے بلکہ جو سزا پا کر جہنم داخل ہوئے ان کے علاوہ دوسروں کو فن ا کردیا جائے گا۔ واللہ اعلم بالثواب۔ ان سب کی گمراہی کا سبب یہ تھا کہ لذات دنیا سے دھوکا کھا گئے اور ان کے حصول کو ہی زندگی کا مقصد بنا لیا جو عمر عزیز قرب الہی کو پانے کے لیے تھی اسے فانی دنیا کی طلب میں ضائع کر بیٹھے آج اقرار کر رہے ہیں کہ بیشک ہم کافر تھے ۔ اور یہ سب اہتمام اس لیے کہ رب العلمین (تیرا رب) سبحان اللہ براہ راست شرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے اور ان کے طفیل ہر مومن کا کہ رب العلمین فرمائے تیرا رب یہ اتنا بڑا انعام ہے جس کا اندازہ کوئی صاحب دل ہی کرپاتا ہے۔ کسی کو بھی لاکھوں گناہوں کے باوجود غفلت میں تباہ نہیں کرتا ہمیشہ ہر قوم ہر زمانے میں برائی پر تنبیہ کی جاتی ہے پھر نہ ماننے والے عذاب الہی کی لپیٹ میں آجاتے ہیں اور سب کی درجہ بندی کی جاتی ہے سب کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانکا جاتا جو جس درجے میں ہو نیکی یا برائی میں اس درجے کے لوگوں سے ملا دیا جاتا ہے اس لیے کہ رب جلیل ہر ایک کے ہر عمل اور ارادے سے باخبر ہیں۔ تیرا رب تو مستغنی اور بےنیاز ہے کوئی اس کی عبادت و اطاعت کرے یا نہ کرے اس کی عظمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ ذوالرحمۃ بھی ہے اسے نہ مخلوق کو پیدا کرنے کی حاجت تھی اور نہ کسی کی بندگی کا محتاج یہ محض اس کی رحمت ہے کہ مخلوق کو وجود بخشا اور بیشمار نعمتیں اس کے لیے پیدا فرما دیں انسان تو غرض سے کام کرتا ہے غریب اگر پیسے کے لیے امیر کا محتاج ہے تو امیر کام کے لیے غریب کا منتظر اگر کسی کو دوسرے سے غرض نہ ہو تو اس کی پرواہ ہی نہیں کرتا حالانکہ سب کسی نہ کسی احتیاج میں مبتلا رہتے ہیں مگر اللہ بےنیاز ہے کسی سے اس کی کوئی غرض وابستہ نہیں یہ محض اس کی رحمت ہے کہ عدم سے وجود بخشا اعضا وجوارح عقل و خرد اور بیشمار نعمتیں عطا کیں پھر مزید رحمت فرماتے ہوئے انبیاء مبعوث فرمائے کتابیں نازل فرمائیں اور ایک حسین انجام یعنی اپنا قرب اور رضا عطا فرمایا ورنہ نظام کائنات تمہارے سامنے ہے آج تم خود کو دنیا کی رونق سمجھتے ہو تو تم سے پہلے بھی یہی سمجھتے تھے مگر وہ چلے گئے اور اس نظام کو کوئی فرق نہیں پڑا تم بھی چلے جاؤ گے لوگ تمہیں بھول جائیں گے اور تمہارا جانا بھی کوئی خلا پیدا نہ کرے گا اسی طرح اللہ اس بات پہ بھی قادر ہے کہ آن واحد میں تم کو اٹھا لے اور نئی قوم پیدا کردے جس نے پہلے سب کچھ پیدا کیا ہے وہ پھر بھی کرسکتا ہے اس لیے خوب جان لو کہ جب تم نظام دنیا کو نہیں روک سکتے تو حیات انسانی کے اخروی اور ابدی نتائج سے کیسے بچ سکوگے ہرگز نہیں بلکہ قیامت جس کا اللہ کریم نے وعدہ کرلیا ہے ضرور قائم ہوگی اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ اور اے میرے حبیب اپنی قوم سے فرما دیجئے کہ اگر میری اطاعت منظور نہیں تو پھر اپنی خواہش پہ عمل کیے جاؤ میں بھی اپنے راستے پر رواں ہوں عنقریب نتیجہ سامنے آجائے گا اور پتہ چل جائے گا کہ نتیجہ کس کے حق میں ہے آخرت میں تو یقیناً مگر دنیا میں بھی یہ بات سب نے دیکھ لی کہ حق غالب ہوتا چلا گیا اور کفر کی تاریکیاں جن پہ انہیں بہت ناز تھا مٹتے مٹتے مٹ گئیں یہ اس لیے کہ اللہ کی طرف سے ظالموں کا کبھی بھلا نہیں ہوتا اور شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ ذرا ان کی تقسیم دیکھو اپنے محاصل میں اپنی دولت اور اپنے جانوروں میں حصے مقرر کرتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کے لیے ہے اور یہ ان بتوں یا افراد کے لیے جنہیں وہ اپنے زعم باطل میں اللہ کا شریک مانتے ہیں اور اگر فصل کم ہو تو بتوں کا حصہ کم نہیں کرتے بلکہ اللہ کا حصہ بھی ان کے نام کرکے ان کا پورا کرلیتے ہیں مگر بتوں کی شئے اللہ کے نام پر نہیں کرتے اللہ کا شریک ٹھہرانا ہی بہت بڑا ظلم تھا انہوں نے شرکاء کو اللہ کریم کی ذات پر بھی اہمیت دے رکھی ہے ان کا یہ فیصلہ اپنی برائی پہ خود گواہ ہے۔ قتل اولاد قبیح تر فعل ہے : ان کی اس خباثت اور ظلم کا اثر دیکھیں کہ اپنی اولاد کو قتل کرنا باعث فخر سمجھتے ہیں دنیا میں جس قدر بھی قبیح اور ظالمانہ فعل ہیں ان میں بہت ہی برا کام معصوم بچوں کا قتل ہے اور جب والدین ہی اولاد کو قتل کرنے لگیں تو اس کی برائی کئی گنا بڑھ جاتی ہے مگر شرک کی خباثت نے انہیں یہ کام باعث فخر کر دکھایا اسی طرح ان کا سارا دین تباہ اور برباد ہو کر رسومات بد کا پلندہ بن گیا یہ جسمانی قتل ہے لیکن طلب دنیا میں اندھا ہو کر اولاد کو دین سے ناواقف رکھنا اور محض دنیا کمانے کے لیے ان پر دنیاوی فنون ہی کا جنوں سوار کردینا روحانی قتل ہے جس میں آج کا مسلمان بھی شریک ہے مشرکوں کی بچپن میں قتل کی گئی اولاد جہنم سے بچ جائے گی جبکہ یہ روحانی مقتول سخت خطرہ میں ہیں اس طرح تو یہ اس سے بڑھ کا ناانصافی ہے اللہ کریم ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین۔ اگر یہ اللہ کریم سے تعلق قائم کرتے تو اس ظلم میں مبتلا نہ ہوتے یعنی ان کی نیکی نسلوں کو سنوارنے میں مددگار ثابت ہوتی لیکن اگر انہوں نے یہ راستہ چھوڑ ہی دیا ہے تو آپ بھی ان کی کوئی پرواہ نہ کریں یہ بہت سخت تنبیہ ہے کہ جو اللہ کے دین کو کوئی اہمیت نہ دے بارگاہ رسالت میں اس کی بھی کوئی حیثیت و اہمیت نہیں۔ اب ذرا ان کی رسومات کو دیکھیں جن کو انہوں نے مذہب کا درجہ دے رکھا ہے کہ کبھی کسی غلے یا پھل کو اور کبھی کسی جانور کو ایک خاص طبقہ کے لیے ممنوع قرار دے لیتے ہیں محض اپنے گمان سے ، کوئی دلیل اس پر نہیں ہوتی اور کہہ دیتے ہیں کہ اس میں سے مرد کھا سکتے ہیں عورتوں کو اجازت نہیں یا بعض جانوروں پر سواری ممنوع ہوجاتی ہے کہ یہ بتوں کے نام پر ہے اور بعض پر اللہ کا نام لینا ہی منع کردیتے ہیں نہ وہ اللہ کے نام کا ہوتا ہے نہ ذبح کرتے وقت اللہ کریم کا نام لیتے ہیں اور یہ سب کچھ محض افترا اور بہتان ہے کہ دین تو احکام الہی کا نام ہے اپنی طرف سے رسم جاری کرکے اسے دین کہنا تو اللہ پر بہتان تراشی ہے غالباً یہ دور حاضرہ کے نذرانے کہ بعض جانور یا غلہ صرف پیر استعمال کرسکتے ہیں دوسروں پہ منع ہیں یا جانوروں کو بزرگوں کے نام پہ خاص کردینا یا شیعہ کا گھوڑے کو حضرت حسین (رض) کے نام کرکے اس پر سوار نہ ہونا انہیں جہالت کی رسومات کا عکس ہے تو ایسے لوگ اپنے کرتوتوں پر مرتب ہونے والی سزا کو ضرور پائیں گے۔ ان کی ایک رسم دیکھیں کہ جانور ذبح کرتے ہیں اگر حاملہ ہو اور پیٹ سے زندہ بچہ نکل آئے اسے بھی ذبح کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ صرف مردوں پہ حلال ہے عورتوں پہ حرام اور اگر بچہ مردہ نکلے تو سب پر حلال ان سب خرافات کی سزا پائیں گے کہ اللہ کریم ان کے اعمال سے واقف ہیں اور چندے مہلت بھی حکمت الہی ہے کہ وہ ذات حکیم بھی ہے۔ عہد جہالت کی رسومات : جہالت میں اولاد کو قتل کرنا اور اللہ کریم کے دئیے ہوئے رزق کو اپنے اوپر حرام کرلینا کیا کم نقصان ہے کہ اس ظلم کو مذہب کہہ کر اللہ پر بہتان لگانے کے مجرم بھی ہوئے اور ایسے گمراہ ہوئے کہ ہدایت سے بہت دور چلے گئے۔ اس دور میں جو رسم غیر اللہ کے نذرانوں کی تھیں ان کی صورت کچھ اس طرح سے تھی۔ پہلی صورت : زمین کی آمدن سے کچھ حصہ اللہ کا رکھتے اور کچھ بتوں یا جنوں کا اگر کمی ہوتی تو اللہ کا حصہ نہ دیتے کہ اللہ تو غنی ہے مگر غیر اللہ کا ضرور پورا کرتے یا اتفاقا اللہ کے حصے کی چیز غیر اللہ کے حصے میں مل جاتی تو خیر اگر غیر اللہ کی شے اللہ کے حصے میں مل جاتی واپس کرتے تھے جیسے آج ہمارا حال ہے کہ کوئی مصروفیت یا بیماری آجائے تو سب سے پہلے زد عبادات پہ پڑتی ہے نماز کیوں نہیں پڑھی طبیعت ٹھیک نہ تھی کاروبار بھی کیا کھانا بھی کھالیا آرام بھی کرلیا اور طبیعت کی گرانی کی زد اللہ کی عبادت پہ یہی حال مصروفیت میں ہے اللہ کریم معاف فرمائیں اور ہدایت نصیب فرمائیں ۔ آمین۔ دوسری رسم : جانور بتوں کے نام پہ مختص کردیتے بحیرہ ، سائبہ کے ناموں سے اور اسے اللہ کریم کی خوشنودی خیال کرتے تھے۔ تیسری رسم : بچیوں کو زندہ گاڑنے کی تھی۔ چوتھی رسم : یہ تھی کہ بعض کھیت یا باغ بتوں کے نام کردیتے ان میں عورتوں کا حق نہیں رہتا تھا۔ پانچویں رسم : بعض جانور اسی طرح مخصوص کردیتے ان میں بھی عورتوں کا حق نہیں مانتے تھے۔ چھٹی رسم : یہ تھی کہ بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور پر سواری وغیرہ نہ کرتے۔ ساتویں رسم : یہ تھی کہ بعض جانوروں پہ اللہ کا نام لینا ممنوع تھا ذبح کرتے یا سوار ہوتے یا دودھ نکالتے تو کبھی اللہ کا نام نہ لیتے۔ آٹھویں رسم : بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور کو ذبح کرتے اگر پیٹ سے بچہ نکلتا تو اسے بھی ذبح کرتے اور صرف مرد کھاتے اگر مردہ نکلتا تو سب کے لیے حلال جانتے۔ نویں رسم : بعض جانوروں کا دودھ مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام جانتے۔ اور دسویں رسم : بتوں کے نام چھورے ہوئے جانوروں کی تعظیم کرنا عبادت سمجھتے تھے یہ سب دیکھ کر ہمیں اپنی رسومات اور نظریات کا اندازہ کرلینا چاہئے کہ ہم کس جگہ کھڑے ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اس لیے رسولوں کو بھیجتے ہیں تاکہ ان کو جرائم کی اطلاع ہوجائے پھر جس کو عذاب ہوا استحقاق کی وجہ سے ہوا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجتا رہا تاکہ لوگوں پر حجت تمام ہوجائے۔ اس سے پہلے فرمان میں ” رُسُلٌ مِنْکُمْ “ کے الفاظ استعمال فرمائے۔ ذٰلک کا اشارہ انھی الفاظ کی ترجمانی کر رہا ہے کہ لوگوں میں انہی سے رسول بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پڑھ کر سنائیں اور ان پر من و عن عمل کرکے دکھلائیں تاکہ کسی کے لیے یہ بہانہ نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی بتلانے اور سمجھانے والا نہیں آیا تھا۔ جس کی وجہ سے ہم غفلت میں پڑے رہے اور آج ہمیں بد ترین انجام سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ اس بات کے ازالہ کے لیے فرمایا اے پیغمبر ! تیرے رب کا یہ وطیرہ نہیں کہ وہ کسی بستی اور اہل علاقہ کو ان کے اچھے برے انجام سے آگاہ کیے بغیر اسے فنا کے گھاٹ اتار دے بلکہ پہلے وہ رسول بھیج کر لوگوں کی اصلاح اور فلاح کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن لوگ انبیاء کی مخلصانہ اور بےمثال محنت کے باوجود غفلت اور مجرمانہ زندگی کو ترجیح دیتے رہے اور جرائم میں اتنے آگے بڑھے کہ اللہ کی مخلوق ان سے پناہ مانگنے لگی اور زمین کا نظام درہم برہم ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو نیست و نابود کردیا۔ اس گرفت میں بھی انھیں اتنی ہی سزا دی گئی جتنے ان کے اعمال برے تھے۔ ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا گیا۔ جس طرح دنیا میں ان کے کردار کے مطابق گرفت کی گئی بالکل اسی طرح قیامت کے دن نیک لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا ملے گی اور برے لوگوں کو ان کے جرائم کے مطابق سزا ہوگی۔ لوگوں کے اعمال جاننے، پرکھنے اور ان کو جزا اور سزا دینے میں اللہ تعالیٰ کسی چیز سے غافل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو بار بار نصیحت اور انتباہ اس لیے نہیں کرتا ہے کہ لوگوں کے نیک اعمال سے اللہ تعالیٰ کو فائدہ اور برے کردار سے اسے نقصان پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی نیکی اور برائی کا کوئی فائدہ اور نقصان نہیں ہوتا۔ وہ ذات کبریا مفادات، خدشات اور نقصانات سے بےنیاز ہے۔ اس کی ذات بےنیاز ہونے کے باوجود سراپا رحمت ہے۔ وہ نیکوں کو ان کی نیکی سے بڑھ کر عنایات ورحمت سے نوازتا ہے۔ دنیا میں ظالموں کی گرفت میں اس کی یہ رحمت ہوتی ہے کہ اس کی مخلوق ان کے ظلم سے نجات پائے۔ اگر وہ چاہے تو ساری انسانیت کی صف لپیٹ کر ایک طرف رکھ دے اور ان کی جگہ اتنے ہی اور لوگوں کو لے آئے۔ جس طرح کہ پہلی اقوام میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ اس سچائی کو جاننے کے لیے دنیا کے ہر علاقے کی تاریخ اس حقیقت کی ترجمان ہے۔ عرب کی سرزمین کے بارے میں قرآن مجید تفصیل کے ساتھ ایک کے بعد دوسری قوم کے آنے کے واقعات بیان کرتا ہے۔ کبھی اس سرزمین پر قوم نوح کے کفر و شرک کا غلبہ تھا جنھیں اللہ تعالیٰ نے پانی کے سیلاب میں ڈبکیاں دے دے کر مارا۔ زمین کو شرک کی غلاظت سے پاک کردیا۔ ان کے بعد قوم عاد نے سرکشی اور تمرد کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے ان پر سات دن مسلسل زور دار آندھیاں چلیں جس سے ان کو زمین پر پٹخ پٹخ کر مارا اور صفحۂ ہستی سے ان کا وجود ختم کردیا۔ قوم ثمود کو زور دار آسمانی دھماکے نے آلیا۔ جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور اللہ کی مخلوق نے ان سے سکھ پایا۔ ان کے بعد قوم لوط نے بےحیائی کا وطیرہ اپنایا۔ جس کی پاداش میں انھیں زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جا کر الٹ دیا اور ان پر پتھروں کی بارش برسائی پھر اس دھرتی پر کبھی ایرانی دندنائے اور کبھی رومیوں کا غلبہ ہوا۔ ان کے بعد یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتارتے رہے۔ عربوں کے بعد ترکوں کا دور آیا۔ ترکوں کے بعد تاتاری بادو باراں کی طرح زمین پر پھیل گئے گویا کہ ایک کے بعد دوسری قوم اور دوسری کے بعد تیسری قوم نے اس کی جگہ لی یہاں نہ داراو سکندر کا اقتدار باقی رہا ار نہ ہی نمرود، فرعون اور ہامان کا تسلط قائم رہ سکا۔ پھر خاندانی نظام کو دیکھیں کس طرح نسل درنسل سلسلہ چل رہا ہے۔ آج ہمیں اپنے ہی آباؤ اجداد کی تیسری نسل سے اوپر کا کچھ علم نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا نتیجہ تھا اور ہے جس کے بارے میں یہاں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اور جسے چاہے لوگوں کو ایک دوسرے کی جگہ پر لاکھڑا کرے۔ اے اہل مکہ اور دنیا جہان کے انسانو ! اللہ تعالیٰ کی اس سنت اور قوت اختیار پر سوچو اور غور کرو کہ تم نے پہلوں کی طرح ہمیشہ نہیں بیٹھا رہنا۔ جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی نشانی ظاہر کرے گا تو تم اس کی قدرت و سطوت کے سامنے دم نہیں مار سکو گے۔ یاد رکھو قیامت ضرور برپا ہونے والی ہے اور تم اس کے برپا ہونے پر اللہ تعالیٰ کو بےبس اور عاجز نہیں کرسکتے۔ لہٰذا ہوش کے ناخن لو اور اپنے رب کے تابعدار بن جاؤ۔ (عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی عَلٰی صُورَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ عَلٰی أَشَدِّ نَجْمٍ فِی السَّمَاءِ إِضَاءَ ۃً ثُمَّ ہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ مَنَازِلُ لَا یَتَغَوَّطُونَ وَلَا یَبُولُونَ وَلَا یَمْتَخِطُونَ وَلَا یَبْزُقُونَ أَمْشَاطُہُمُ الذَّہَبُ وَمَجَامِرُہُمُ الْأَلُوَّۃُ وَرَشْحُہُمُ الْمِسْکُ أَخْلَاقُہُمْ عَلٰی خُلُقِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ عَلٰی طُولِ أَبِیہِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا) [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ ونعیمہا، باب أَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلَی صُورَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُہُمْ وَأَزْوَاجُہُمْ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت کا جنت میں داخل ہونے والا گروہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے چہروں کے ساتھ ہوگا پھر ان کے بعد آسمان پر روشن ستاروں کی طرح پھر درجہ بدرجہ ہوں گے جنتی نہ پیشاب کریں گے نہ قضائے حاجت کی ضرورت ہوگی وہ تھوکیں گے بھی نہیں ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کی انگیٹھیاں عود کی اور ان کے پسینے مشک عنبر کی طرح ہوں گے۔ ان سب کا ایک ہی طرح کا اخلاق ہوگا اور قدو قامت آدم (علیہ السلام) کے برابر یعنی ساٹھ ہاتھ ہوگی۔ “ ( عَنْ قَتَادَۃَ (رض) حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ کَیْفَ یُحْشَرُ الْکَافِرُ عَلٰی وَجْہِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ أَلَیْسَ الَّذِی أَمْشَاہُ عَلٰٰی رِجْلَیْہِ فِی الدُّنْیَا قَادِرًا عَلٰٰٰی أَنْ یُمْشِیَہُ عَلٰٰی وَجْہِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ قَتَادَۃُ بَلَی وَعِزَّۃِ رَبِّنَا)[ رواہ مسلم، کتاب القیامۃ والجنۃ والنار، باب یحشر الکافر علی وجھہ ] ” حضرت قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک (رض) نے بیان کیا ایک شخص نے استفسار کیا اے اللہ کے رسول ! کافروں کو قیامت کے دن چہرے کے بل کس طرح اکٹھا کیا جائے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا وہ ذات جو سب کو دنیا میں پاؤں کے بل چلانے پر قادر ہے وہ قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ؟ حضرت قتادہ کہتے ہیں ہمیں اپنے رب کی عزت کی قسم کیوں نہیں “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَہْلِ الدُّنْیَا مِنْ أَہْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی النَّارِ صَبْغَۃً ثُمَّ یُقَالُ یَا ابْنَ آدَمَ ہَلْ رَأَیْتَ خَیْرًا قَطُّ ہَلْ مَرَّ بِکَ نَعِیمٌ قَطُّ فَیَقُولُ لَا وَاللّٰہِ یَا رَبِّ وَیُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِی الدُّنْیَا مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَیُصْبَغُ صَبْغَۃً فِی الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ لَہٗ یَا ابْنَ آدَمَ ہَلْ رَأَیْتَ بُؤْسًا قَطُّ ہَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ فَیَقُولُ لَا وَاللّٰہِ یَا رَبِّ مَا مَرَّ بِی بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَیْتُ شِدَّۃً قَطُّ ) [ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب الکافر الغداء لملء الأرض ذھبا ] ” حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن دنیا میں سب سے زیادہ نعمتوں میں پلنے والے شخص کو لایا جائے گا تو اسے جہنم میں صرف ایک غوطہ دیا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا اے ابن آدم ! تم نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی تو وہ کہے گا اللہ کی قسم ! کبھی نہیں، پھر دنیا میں مصائب میں زندگی گزارنے والے کو لایا جائے گا اسے جنت کا ایک جھونکا دیا جائے گا تو اس سے پوچھا جائے گا اے انسان کیا تم نے کبھی کوئی تنگدستی دیکھی ؟ تو وہ کہے گا اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی مشکل نہیں دیکھی۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کسی بستی کو اپنا پیغام پہنچائے بغیر ہلاک نہیں کرتا۔ ٢۔ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق ہی جزا، سزا ملے گی۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل سے غافل نہیں ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اچھے اور برے اعمال سے بےنیاز ہونے کے باوجود اس دنیا میں اپنی رحمت سے نوازنے والا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ ایک قوم کو ختم کرکے دوسری قوم کو لانے پر قادر ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا : ١۔ تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں فرماتا۔ (الانفال : ٥١) ٢۔ جو شخص نیک اعمال کرے اس کا صلہ اسے ملے گا اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اس پر ہوگا تیر ارب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : ٤٦) ٣۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان تبدیل نہ ہوگا اور اللہ کسی پر ظلم نہیں فرمائے گا۔ (آ : ٢٩) ٤۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں فرماتا لیکن لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ (یونس : ٤٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ١٣١۔ اللہ کی رحمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو شرک ‘ کفر اور نافرمانی پر اس وقت تک سزا نہ دے جب تک ان تک رسولوں کے ذریعے اپنا پیغام پہنچا نہ دے حالانکہ اللہ نے لوگوں کی فطرت کے اندر یہ صلاحیت ودیعت کردی تھی کہ وہ از خود اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں اور اس کی تلاش کریں ۔ یہ انتظام اس لئے کیا گیا کہ انسانی فطرت بعض اوقات صحیح راہ کو تم کردیتی ہے ۔ انسان کے فطری رجحانات کے علاوہ اللہ نے انسان کو عقلی قوت دے کر بھی ایک امتیاز بخشا لیکن اللہ نے اس عقلی قوت کے باوجود رسول بھیجے اس لئے کہ عقلی قوت بھی نفسانی خواہشات کے نتیجے میں بسا اوقات دب جاتی ہے نیز اس کائنات کے مشاہد ومناظر کے اندر بیشمار دلائل ایسے موجود تھے جو انسان کو دعوت فکر دیتے تھے لیکن انسان کی عقلی اور ادراکی قوتیں بسا اوقات معطل ہوجاتی ہیں ۔ ان وجوہات کی بنا پر اللہ نے انسانی فطرت ‘ انسانی عقل اور انسانی مشاہدے کو رسولوں کی دعوت کے ساتھ منسلک کردیا تاکہ انسان کی ان قوتوں کو فساد سے بچایا جاسکے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تب ہی لوگوں کو عذاب دیتا ہے جب رسولوں کی دعوت کسی تک پہنچ جائے اور ان پر حجت تمام ہوجائے ۔ اس حقیقت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ساتھ کس قدر رحیمانہ اور کریمانہ سلوک کرتا ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان صرف اپنی قوت ادراک اور عقلی قوتوں کے بل بوتے پر راہ ہدایت نہیں پاسکتا ۔ نہ وہ یقین حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی عقل اور ادراک کے ذریعے اپنی شہوانی قوتوں کو ضابطے کا پابند کرسکتا ہے ، یہ قوتیں تب ہی کام کرسکتی ہیں جب ان کی پشت پر دین اور عقیدے کی قوت موجود ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جزا و سزا کے بارے میں ایک دوسرے اہم اصول کا ذکر فرماتا ہے اور یہ اصول اہل ایمان اور جن و شیاطین سب کے لئے ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی) یعنی یہ رسولوں کا بھیجنا اس وجہ سے ہے کہ تیرا رب بستیوں کو یعنی ان کے رہنے والوں کو ان کے ظلم کے سبب اس طرح ہلاک نہیں فرماتا کہ وہ لوگ اپنے ظلم کے انجام سے بیخبر ہوں۔ اللہ جل شانہٗ پیغمبر بھیجتا ہے جو لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں۔ توحید اختیار کرنے والوں کا اچھا انجام اور مشرکوں و کافروں کا برا انجام بتاتے ہیں۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعہ سب کچھ بتادینے کے بعد جب لوگ باز نہیں آتے تو اللہ پاک کی طرف سے ان لوگوں کی ہلاکت کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ ہلاکت کا سبب بھی بتادیا کہ وہ ظلم ہے ہر گناہ ظلم ہے اور کفر بھی ظلم ہے اور سب سے بڑا ظلم ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

145 اشارہ مضمون مذکور کی جانب ہے یعنی ہم اپنی آیتیں بیان کرنے والے، ڈر سنانے والے اور خوشخبری دینے والے رسولوں کو اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ لوگوں پر ہماری حجت قائم ہوجائے اور یہ بات ہمارے دستور کے خلاف ہے کہ لوگ ہمارے احکام سے بیخبر ہوں اور ان کے پاس کوئی رسول نہ بھیجا ہو۔ اور پھر ان کو ہلاک کردیا جائے۔ ای لایھلکھم حتی یبعث الیھم رسولا (بحر ج 4 س 224) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

131 یہ رسولوں کا بھیجنا اور احکام الٰہی کا پہنچانا اس بنا پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بستی کے باشندوں کو ایسی حالت میں ہلاک نہیں کیا کرتا کہ وہ احکام الٰہی سے بیجز ہوں۔ یعنی جب تک کسی بستی کے رہنے والوں کو پیغمبروں کی معرفت احکام الٰہی پہنچا دیئے جائیں اور ان کی جانب سے انکار نہ ہوجائے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کسی بستی کے رہنے والوں کو عذاب سے ہلاک نہیں کیا کرتا۔