Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 140

سورة الأنعام

قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوۡلَادَہُمۡ سَفَہًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ حَرَّمُوۡا مَا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ افۡتِرَآءً عَلَی اللّٰہِ ؕ قَدۡ ضَلُّوۡا وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۴۰﴾٪  3 الرّبع

Those will have lost who killed their children in foolishness without knowledge and prohibited what Allah had provided for them, inventing untruth about Allah . They have gone astray and were not [rightly] guided.

واقعی خرابی میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو محض براہ حماقت بلا کسی سند کے قتل کر ڈالا اور جو چیزیں ان کو اللہ نے ان کو کھانے پینے کو دی تھیں ان کو حرام کر لیا جو محض اللہ پر افترا باندھنے کے طور پر ۔ بیشک یہ لوگ گمراہی میں پڑ گئے اور کبھی راہ راست پر چلنے والے نہیں ہوئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says that those who committed these evil acts have earned the loss of this life and the Hereafter Allah says; قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُواْ أَوْلاَدَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ اللّهُ افْتِرَاء عَلَى اللّهِ قَدْ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَ Indeed lost are they who have killed their children, foolishly, without knowledge, and (they) have forbidden that which Allah has provided for them, inventing a lie against Allah. They have indeed gone astray and were not guided. As for this life, they lost when they killed their children and made it difficult for themselves by prohibiting some types of their wealth, as an act of innovation that they invented on their own. As for the Hereafter, they will end up in the worst dwellings, because they used to lie about Allah and invent falsehood about Him. Allah also said, قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ Say: "Verily, those who invent a lie against Allah will never be successful." (A brief) enjoyment in this world! And then unto Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they used to disbelieve. (10:69-70) Al-Hafiz Abu Bakr bin Marduwyah recorded that Ibn Abbas commented, "If it pleases you to know how ignorant the Arabs used to be, then recite the Ayat beyond Ayah one hundred and thirty in Surah Al-An`am, قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُواْ أَوْلاَدَهُمْ ....... وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَ Indeed lost are they who have killed their children, foolishly, without knowledge, and (they) have forbidden that which Allah has provided for them, inventing a lie against Allah. They have indeed gone astray and were not guided." Al-Bukhari also recorded this in the section of his Sahih on the virtues of the Quraysh.

اولاد کے قاتل اولاد کے قاتل اللہ کے حلال کو حرام کرنے والے دونوں جہان کی بربادی اپنے اوپر لینے والے ہیں ۔ دنیا کا گھاٹا تو ظاہر ہے ان کے یہ دونوں کام خود انہیں نقصان پہنچانے والے ہیں بے اولاد یہ ہو جائیں گے مال کا ایک حصہ ان کا تباہ ہو جائے گا ۔ رہا آخرت کا نقصان سو چونکہ یہ مفتری ہیں ، کذاب ہیں ، وہاں کی بدترین جگہ انہیں ملے گی ، عذابوں کے سزاوار ہوں گے جیسے فرمان ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والے نجات سے محروم کامیابی سے دور ہیں یہ دنیا میں گو کچھ فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو ہمارے بس میں آئیں گے پھر تو ہم انہیں سخت تر عذاب چکھائیں گے کیونکہ یہ کافر تھے ۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ اگر تو اسلام سے پہلے کے عربوں کی بد خصلتی معلوم کرنا چاہے تو سورۃ انعام کی ایک سو تیس آیات کے بعد آیت ( قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ ) 6 ۔ الانعام:31 ) والی روایت پڑھو ( بخاری کتاب مناقب قریش )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤٩] مشرکوں کی اس خود ساختہ شریعت کی ایک ایک دفعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ (١) بتوں اور درباروں کے مجاوروں نے قانون سازی کے جملہ اختیارات خود سنبھال رکھے تھے۔ (٢) وہ اپنی ان اختراعات کو دین کا حصہ بنا دیتے تھے (٣) اور حیلوں بہانوں سے لوگوں سے مال بٹورتے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کو تلف کردیتے تھے (٤) حلال و حرام قرار دینے کے جملہ اختیارات بھی انہیں کے پاس تھے (٥) وہی قتل اولاد کے مجرم تھے۔ غرض یہ کہ شرک کی کوئی قسم باقی نہ رہ گئی تھی جو انہوں نے اختیار نہ کی ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کے جرائم بتا کر مسلمانوں کو متنبہ فرماتے ہیں کہ ایسے سر سے پاؤں تک شرک میں پھنسے ہوئے لوگوں کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے یا یہ مطلب ہے کہ ان کے جن اسلاف اور بزرگوں نے اللہ پر اس طرح کے جھوٹ گھڑ لیے تھے انہیں ہدایت یافتہ قرار دیا جاسکتا ہے ؟ جو خود بھی گمراہ ہوئے اور آنے والی نسلوں کو بھی گمراہی کی راہ پر ڈال دیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَهُمْ : فرمایا جن لوگوں نے یہ کام کیے انھوں نے دنیا اور آخرت میں خسارا اٹھایا، دنیا میں اپنی بےوقوفی اور جہالت سے اپنی اولاد کو قتل کرنے کی وجہ سے اولاد سے محروم ہوئے اور اپنے اموال میں سے کچھ چیزوں کو خود ہی حرام قرار دے کر اپنے آپ کو تنگی اور مشکل میں ڈال لیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھنے کی وجہ سے بدترین انجام سے دوچار ہوں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَہُمْ سَفَہًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّحَرَّمُوْا مَا رَزَقَہُمُ اللہُ افْتِرَاۗءً عَلَي اللہِ۝ ٠ ۭ قَدْ ضَلُّوْا وَمَا كَانُوْا مُہْتَدِيْنَ۝ ١٤٠ ۧ خسر ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا وهو الأكثر، وفي المقتنیات النّفسيّة کالصّحّة والسّلامة، والعقل والإيمان، والثّواب، وهو الذي جعله اللہ تعالیٰ الخسران المبین، وقال : الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] ، ( خ س ر) الخسروالخسران عام طور پر اس کا استعمال خارجی ذخائر میں نقصان اٹھانے پر ہوتا ہے ۔ جیسے مال وجاء وغیرہ لیکن کبھی معنوی ذخائر یعنی صحت وسلامتی عقل و ایمان اور ثواب کھو بیٹھنے پر بولا جاتا ہے بلکہ ان چیزوں میں نقصان اٹھانے کو اللہ تعالیٰ نے خسران مبین قرار دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] جنہوں نے اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈٖالا ۔ دیکھو یہی صریح نقصان ہے ۔ سفه السَّفَهُ : خفّة في البدن، ومنه قيل : زمام سَفِيهٌ: كثير الاضطراب، وثوب سَفِيهٌ: ردیء النّسج، واستعمل في خفّة النّفس لنقصان العقل، وفي الأمور الدّنيويّة، والأخرويّة، فقیل : سَفِهَ نَفْسَهُ [ البقرة/ 130] ، وأصله سَفِهَتْ نفسه، فصرف عنه الفعل نحو : بَطِرَتْ مَعِيشَتَها [ القصص/ 58] ، قال في السَّفَهِ الدّنيويّ : وَلا تُؤْتُوا السُّفَهاءَ أَمْوالَكُمُ [ النساء/ 5] ، وقال في الأخرويّ : وَأَنَّهُ كانَ يَقُولُ سَفِيهُنا عَلَى اللَّهِ شَطَطاً [ الجن/ 4] ، فهذا من السّفه في الدّين، وقال : أَنُؤْمِنُ كَما آمَنَ السُّفَهاءُ أَلا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهاءُ [ البقرة/ 13] ، فنبّه أنهم هم السّفهاء في تسمية المؤمنین سفهاء، وعلی ذلک قوله : سَيَقُولُ السُّفَهاءُ مِنَ النَّاسِ ما وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كانُوا عَلَيْها [ البقرة/ 142] ( س ف ہ ) السفۃ اس کے اصل معنی جسمانی ہلکا پن کے ہیں اسی سے بہت زیادہ مضطرب رہنے والی مہار کو زمام سفیہ کہا جاتا ہے اور ثوب سفیہ کے معنی ردی کپڑے کے ہیں ۔ پھر اسی سے یہ لفظ نقصان عقل کے سبب خفت نفس کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے سفہ نفسہ جو اصل میں سفہ نفسہ ہے پھر اس سے فعل کے نسبت قطع کر کے بطور تمیز کے اسے منصوب کردیا ہے جیسے بطرت معشیتہ کہ یہ اصل میں بطرت معیشتہ ہے ۔ اور سفہ کا استعمال امور دنیوی اور اخروی دونوں کے متعلق ہوتا ہے چناچہ امور دنیوی میں سفاہت کے متعلق فرمایا : ۔ وَلا تُؤْتُوا السُّفَهاءَ أَمْوالَكُمُ [ النساء/ 5] اور بےعقلوں کو ان کا مال ۔۔۔۔۔۔ مت دو ۔ اور سفاہت اخروی کے متعلق فرمایا : ۔ وَأَنَّهُ كانَ يَقُولُ سَفِيهُنا عَلَى اللَّهِ شَطَطاً [ الجن/ 4] اور یہ کہ ہم میں سے بعض بیوقوف خدا کے بارے میں جھوٹ افتراء کرتے ہیں ۔ یہاں سفاہت دینی مراد ہے جس کا تعلق آخرت سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ أَنُؤْمِنُ كَما آمَنَ السُّفَهاءُ أَلا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهاءُ [ البقرة/ 13] تو کہتے ہیں بھلا جس طرح بیوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں : ۔ میں ان سفیہ کہہ کر متنبہ کیا ہے کہ ان کا مؤمنین کو سفھآء کہنا بنا بر حماقت ہے اور خود ان کی نادانی کی دلیل ہے ۔ اسی معنی میں فرمایا : ۔ سَيَقُولُ السُّفَهاءُ مِنَ النَّاسِ ما وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كانُوا عَلَيْها [ البقرة/ 142] احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلہ پر ( پہلے چلے آتے تھے ) اب اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ويقال الضَّلَالُ لكلّ عدولٍ عن المنهج، عمدا کان أو سهوا، يسيرا کان أو كثيرا، فإنّ الطّريق المستقیم الذي هو المرتضی صعب جدا، قال النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : «استقیموا ولن تُحْصُوا» ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ اور ضلال کا لفظ ہر قسم کی گمراہی پر بولا جاتا ہے یعنی وہ گمراہی قصدا یا سہوا معمول ہو یا زیادہ کیونکہ طریق مستقیم ۔ جو پسندیدہ راہ ہے ۔۔ پر چلنا نہایت دشوار امر ہے ۔ جیسا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(11) استقیموا ولن تحصوا کہ استقامت اختیار کرو اور تم پورے طور پر اس کی نگہداشت نہیں کرسکوگے ۔ اهْتِدَاءُ يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، الاھتداء ( ہدایت پانا ) کا لفظ خاص کر اس ہدایت پر بولا جاتا ہے جو دینوی یا اخروی کے متعلق انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور در یاؤ کے اندھیروں میں ان سے رستہ معلوم کرو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٤٠) وہ لوگ خرابی میں پڑگئے جنہوں نے اپنی لڑکیوں کو اپنی حماقت کے سبب بلا کسی سند کے زندہ دفن کر ڈالا یہ آیت ربیعہ دنصر عرب کے بڑے قبیلوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ اپنے لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے مگر بنی کنانہ والے ایسی حرکت نہیں کرتے تھے۔ اور جن جانوروں اور کھیتوں کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حلال کیا تھا انہوں نے اپنی عورتوں پر ان کو حرام کردیا، محض اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے طور پر اپنی باتوں سے خود ہی گمراہی میں پڑگئے اور ان غلط باتوں ہی کی وجہ سے یہ کبھی راہ پر چلنے والے نہیں ہوئے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤٠ (قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلاَدَہُمْ سَفَہًام بِغَیْرِعِلْمٍ وَّحَرَّمُوْا مَا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ افْتِرَآءً عَلَی اللّٰہِ ط) ۔ یعنی ان ساری غلط رسومات کا انتساب وہ لوگ اللہ کے نام کرتے تھے۔ دوسری طرف وہ بتوں کے نام پر قربانیاں دیتے اور استھانوں پر نذرانے بھی چڑھاتے تھے۔ اسی طرح کے نذرانے وہ اللہ کے نام پر بھی دیتے تھے۔ یہ سارے معاملات ان کے ہاں اللہ تعالیٰ اور بتوں کے لیے مشترکہ طور پر چل رہے تھے۔ اس طرح انہوں نے سارا دین مشتبہ اور گڈ مڈ کردیا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

115. It is put to them plainly that even though such practices had been introduced by their forefathers, religious guides and outstanding leaders, the fact remained that those practices were inherently unsound. That those practices had come down from their ancestors and venerated elders did not necessarily legitimize them. These callous people had introduced such inhuman customs as infanticide, and, without any justification whatsoever, had prohibited to the creatures of God food and drink which He had created. They had also introduced many innovations themselves, making them part of their religion and ascribing them to God. How could such people be considered either to have attained salvation or to be rightlyguided? Even though venerated by them as their ancestors, they were nevertheless misguided and were destined to see the evil consequences of their misdeeds.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :115 یعنی اگرچہ وہ لوگ جنھوں نے یہ رسم و رواج گھڑے تھے تمہارے باپ دادا تھے ، تمہارے مذہبی بزرگ تھے ، تمہارے پیشوا اور سردار تھے ، لیکن حقیقت بہرحال حقیقت ہے ، ان کے ایجاد کیے ہوئے غلط طریقے صرف اس لیے صحیح اور مقدس نہیں ہوسکتے کہ وہ تمہارے اسلاف اور بزرگ تھے ۔ جن ظالموں نے قتل اولاد جیسے وحشیانہ فعل کو رسم بنایا ہو ، جنہوں نے خدا کے دیے ہوئے رزق کو خواہ مخواہ خدا کے بندوں پر حرام کیا ہو ، جنھوں نے دین میں اپنی طرف سے نئی نئی باتیں شامل کر کے خدا کی طرف منسوب کی ہوں ، وہ آخر فلاح یاب اور راست رو کیسے ہو سکتے ہیں ۔ چاہے وہ تمہارے اسلاف اور بزرگ ہی کیوں نہ ہوں ، بہرحال تھے وہ گمراہ اور اپنی اس گمراہی کا برا انجام بھی وہ دیکھ کر رہیں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اوپر کی آیتوں میں مشرکین مکہ کی نادانیوں کا ذکر جو گذرا اس آیت میں گویا اس سب ذکر کا نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ جنہوں نے اپنی لڑکیوں کو مارا اور اپنے مال کو بتوں کے نام کا ٹھہرا کر اپنے اوپر یا اپنی عورتوں پر اس مال کو حرام قرار دیا تھا وہ دین دنیا کے ٹوٹے میں پڑگئے کیونکہ لڑکیوں کے مار ڈالنے میں دنیا کا تو یہ ٹوٹا ہے کہ ان کی اولاد میں کمی ہوگئی اور دین کا اس میں یہ ٹوٹا ہے کہ عقبے میں ان پر قتل ناحق کا جرم قائم ہوگا۔ اپنے مال کو انہوں نے بتوں کے نام کا ٹھہرا کر اپنے اوپر جو اس مال کو حرام قرار دیا اس سے دنیا میں تو اپنی گرہ کا مال کھویا اور زبردستی حق اللہ میں دخل دے کر اللہ کے رزق کو حرام ٹھہرانے کا وبال قیامت کے دن ان کو بھگتنا پڑے گا اسی واسطے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرمایا کرتے تھے کہ اسلام سے پہلے عرب کی نادانی کا حال جو کچھ تھا وہ اس آیت سے خوب روشن ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا یہ قول بخاری کی کتاب مناقب قریش میں ہے پھر فرمایا شیطان کے بہکانے سے یہ لوگ ان باتوں کو دین ابراہیمی کے مسئلے خیال کر کے اپنے آپ کو راہ راست پر جو گنتے ہیں یہ ان کی بڑی غلطی ہے بلکہ ان شرک کی باتوں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ لوگ سراپا گمراہی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ معتبر سند سے طبرانی کبیر میں ابی شریح خزاعی کی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک وعظ میں فرمایا جو شخص قرآن شریف کی نصیحت کا پابند رہے گا وہ کبھی خراب نہ ہوگا یہ حدیث گویا آیت کی تفسیر ہے کیوں کہ آیت اور حدیث کو ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ جس طرح اس وقت کے مکہ کے لوگ قرآن شریف کی نصیحت کو چھوڑ کر اپنی رسموں کے پابند تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگ خراب ہوئے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسے لوگوں کی عقبے بر باد ہوجاوے گی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 جیسے بحیرہ، سائبہ وغیرہ جانوروں کو انہوں نے حرام قرار دے رکھا تھا۔3 معروشات جسیے ٹیٹوں ستونوں اور منڈیروں پر چڑھی ہوئی انگور وغیرہ کی بیلیں اور غیر معرو شات وہ در خت اور پو دے جو اپنی جڑوں پر کھڑ ہوتے ہیں۔ مشرکین کی جہالت اور گمراہی ثابت کرے کرنے کے لیے چامسئلے بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں توحید کا اثبات ہے جو قرآن کے اصول اربعہ میں سے پہلی اصل یا پہلا اصول ہے اور قرآن نے ان اصول اربعہ پر مسلسل بحث کی ہے۔ یہ پانچ چیزیں جو یہاں مذکور ہیں ان کا ذکر پہلے بھی (آیت 99) میں آچکا ہے اب یہاں دوسرے انداز سے ان کا اعادہ فرمایا ہے اور ان میں سے اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کی تر غیب دی ہے (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ یہ گمراہی جدید نہیں کیونکہ پہلے بھی کبھی راہ پرچلنے والے نہیں ہوئے۔ پس ضلوا میں خلاصہ طریق کا اور ماکانوا میں اس کی تاکید اور خسرو میں خلاصہ انجام بد کا کہ عقوبت ہے مذکور ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ١٤٠۔ یہ ایک عام اور مطلق خسارہ ہے ۔ دنیا اور آخرت دونوں کا خسارہ ہے ۔ ان کا اپنا بھی خسارہ ہے اور آنے والی نسلوں کا بھی خسارہ ہے ۔ ان کا فکری خسارہ ہے اور روحانی خسارہ ہے اور انکی آزادی کا خسارہ ہے کہ اللہ نے تو انہیں انسانوں کی غلامی سے چھڑایا اور انہیں رب کی غلامی میں داخل کیا لیکن انہوں نے اپنے آپ کو اپنے جیسے بندوں کی غلامی میں دوبارہ داخل کردیا ۔ اور ان انسانوں کو اپنا حاکم بنا لیا ۔ ان تمام امور سے صرف نظر بھی کیا جائے تو انہوں نے ضلالت اختیار کرلی ہے اور ہدایت کی راہ کو ترک کردیا ہے ۔ آیت ” قَدْ ضَلُّواْ وَمَا کَانُواْ مُہْتَدِیْنَ (140) ” یقینا وہ بھٹک گئے اور ہر گز وہ راہ راست پانے والوں میں سے نہ تھے ۔ “ اس کے بعد قرآن کریم انہیں اس کائنات کی پہلی حقیقت کی طرف لاتا ہے جسے انہوں نے بھلادیا تھا اور آغاز کلام میں آیت ۔ آیت ” وَجَعَلُواْ لِلّہِ مِمِّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالأَنْعَامِ “۔ (٦ : ١٣٦) میں اشارہ کردیا تھا ۔ انہیں اس حقیقت کی طرف لایا جاتا ہے کہ جن فصلوں اور مویشیوں کے متعلق وہ ایسے نامعقول قواعد واضع کرتے ہیں ‘ ان کی ماہیت کیا ہے اور ان کا اصل اور مصدر کیا ہے ۔ وہ ان کے بارے میں جنوں اور انسانوں کے شیاطین کی ہدایات لیتے ہیں جبکہ ان کو ان جنوں اور شیطانوں نے پیدا نہیں کیا ۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے ان فصلوں اور مویشیوں کو پیدا کیا ۔ ان چیزوں کو تمہارے سازوسامان کے طور پر پیدا کیا گیا اور تم انہیں استعمال کر رہے ہو ۔ تمہارا فرض تو یہ ہے کہ تم شکر خدا وندی بجا لاؤ اور صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ حالانکہ اللہ کو تمہارے شکر اور تمہاری بندگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ تو غنی اور رحمتوں والا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ حقائق و عقائد تو خود انسانوں کی دنیا وآخرت کو سدھارنے کے لئے بتلائے جاتے ہیں جو ان میں سے کسی ایک چیز کے مالک و خالق نہیں ہیں ۔ یہ تو اللہ کے پیدا کردہ فصل اور مویشی ہیں لیکن انسان اللہ کی مخلوق کو تقسیم کر کے کچھ بتوں کو دے دیتے ہیں اور کچھ اللہ کے لئے مخصوص کرتے ہیں ۔ پھر اللہ کے حصے کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرتے ہیں اور یوں شیطانوں کو خوش کرتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ ہی خالق ‘ مالک اور رازق ورب ہے ‘ اور ان مالوں میں کوئی تصرف اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔ اس کا اذن اسلامی شریعت کی صورت میں موجود ہے ۔ اور یہ شریعت اللہ کی جانب سے رسول اللہ لائے ہیں ۔ اللہ کا اذن ان غاصبوں کے جاری کردہ قوانین کو حاصل نہیں ہے ۔ جنہوں نے اللہ کے حق حاکمیت کو غضب کرلیا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا (قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَھُمْ سَفَھًا بِغَیْرِ عِلْمٍ ) (بےشک خسارہ میں پڑگئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بےوقوفی سے بغیر علم کے قتل کیا) (وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَھُمُ اللّٰہُ افْتِرَآءً عَلَی اللّٰہِ ) ( اور انہیں اللہ نے جو رزق عطا فرمایا اللہ پر بہتان باندھتے ہوئے اسے حرام قرار دیدیا) (قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ ) (بےشک یہ لوگ گمراہ ہوئے۔ اور ہدایت پر چلنے والے نہیں ہیں) اوپر جو مشرکین کے شرکیہ خیالات اور رسوم و اعمال اور خرافات مذکور ہوئے آخر میں ان کی گمراہی اور اخروی سزا کا اجمالی تذکرہ فرما دیا کہ یہ لوگ بالکل خسارہ میں پڑگئے دنیا میں گمراہ ہوئے اور آخرت کے عذاب کے مستوجب ہوئے ان کا کوئی حق نہیں تھا کہ اپنی اولاد کو قتل کریں گویہ باپ تھے لیکن اللہ تعالیٰ سب کا خالق ومالک ہے قتل کرنے والے اور مقتول بچے سب اسی کی ملکیت ہیں۔ قاتلین نے اللہ کی مخلوق کو ناحق قتل کرنے کا پاپ اپنے ذمہ لیا۔ نیز انہوں نے اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو حرام قرار دیا اور اس تحریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا۔ یہ سب عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کی باتیں ہیں۔ فائدہ : لفظ شرکاء مشرکین کے معبود ان باطلہ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے کیونکہ مشرکین نے ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا اور عبادت میں شریک کیا (العیاذ باللہ) اور شیاطین الجن اور شیاطین الانس کو بھی شرکاء فرمایا ہے۔ جن کے کہنے پر مشرکین چلتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہماری سفارش کرتے ہیں۔ سورۂ انعام میں ایک خطاب کا ذکر فرمایا جو مشرکین سے کیا جائے گا۔ (وَ مَا نَرٰی مَعَکُمْ شُفَعَآءَکُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّھُمْ فِیْکُمْ شُرَکٰٓؤُا لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَکُمْ وَ ضَلَّ عَنْکُمْ مَّا کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ) اور سورة یونس میں فرمایا (وَ قَالَ شُرَکَآؤُھُمْ مَّا کُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ ) قال البغوی فی معالم التنزیل سمیت الشیاطین شرکاء بانھم اطاعوھم فی معصیۃ اللہ و اضیف الشرکاء الیھم لانھم اتخذوھا۔ فائدہ : آیت بالا سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ تمام اشیاء و اجناس کی تحلیل و تحریم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اسی نے اپنے بندوں کو پیدا فرمایا اور ان کے لیے استمتاع اور انتفاع کے لیے مختلف اشیاء پیدا فرمائیں اسے اختیار ہے کہ جس چیز کو چاہے جس کے لیے حلال قرار دے اور جس کے لیے چاہے حرام قرار دے۔ بندوں کو کسی چیز کے حرام یا حلال قرار دینے کا اختیار نہیں جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ خدائی اختیارات کو اپنے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اس لیے اسے مشرکانہ افعال میں شمار فرمایا اسمبلیوں میں قانون خداوندی کے خلاف جو لوگ قانون پاس کرتے ہیں وہ بھی مجرم ہیں۔ اہل بدعت مشرکین کی راہ پر : مشرکین نے جو یہ تجویز کر رکھا تھا کہ فلاں چیز مردوں کے لیے حلال ہے اور عورتوں کے لیے حرام ہے اس طرح کا رسم و رواج آج بھی بہت سے اہل بدعت میں پایا جاتا ہے۔ ایک بزرگ کے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا کہ حضرت سیدہ فاطمہ (رض) کے لیے جو نیاز دی جاتی ہے اس سے آپ منع کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ (قطع نظر اس بات کے کہ یہ بہت سی بدعات پر مشتمل ہے اور دوسری نیازوں کا بھی یہی حال ہے) اس میں جو یہ قانون ہے کہ اس میں سے لڑکے نہیں کھا سکتے صرف عورتیں ہی کھا سکتی ہیں۔ یہ وہی پابندی ہے جو مشرکین عرب نے جانوروں کے بارے میں تجویز کر رکھی تھی جو چیز اللہ تعالیٰ نے سب کے لیے حلال کی اس کو بعض کے لیے حرام قرار دینا اللہ تعالیٰ کے قانون کی سخت خلاف ورزی ہے اور شرک ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

153 اس آیت میں بالاختصار دونوں مضمونوں کا اعادہ کیا گیا ہے۔ قَتَلُوْا اَوْلَادَھُمْ سَفَہًا بِغَیْرِ عِلْمٍ ۔ میں نذر غیر اللہ کا اور وَحَرَّمُوْا مَا رَزَقَھُمُ اللہُ میں تحریمات غیر اللہ کا اِفْتِرَآءً مصدر بمعنی اسم فاعل حَرَّمُوْا کے فاعل سے حال واقع ہے۔ اس آیت میں نذر غیر اللہ کا اور تحریمات غیر اللہ کا تیسری بار ذکر ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

140 بلاشبہ وہ سخت خسارے میں پڑے اور بڑے گھاٹے اور ٹوٹے میں پڑگئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بےوقوفی کے سبب بےجانے بوجھے بغیر علم کے قتل کر ڈالا اور جو روزی اللہ تعالیٰ نے ان کو کھانے کو دی اور اس کو ان کے لئے حلال کیا تھا انہوں نے محض خدا تعالیٰ پر بہتان باندھ کر اس حلال رزق کو حرام کرلیا یقینا یہ لوگ گمراہی میں مبتلا رہے اور یہ کبھی راہ یافتہ نہ ہوئے اور سیدھی راہ نہ چلے۔