Commentary In the previous verses, the command given was to shun Shirk and believe in the perfect power of Allah Jalla Sha&nuhu mentioned there-in. In the first of the present verses (15), the punishment for the con¬travention of this command has been mentioned in a particularly en¬dearing manner, that is, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been ` commanded& that he should tell the people that should he too (God forbid) come to contravene the command of His Lord, then, he too has the fear of the punishment of the day of Qiyamah. It is obvious that the noble Messenger of Allah is (Divinely) protected from every sin - so, the likelihood of disobedience coming from him simply does not exist. But, by mentioning this hypothetical situation, the purpose is to con¬vey the message to the community that the contravention of the Divine command is so serious a matter that even the greatest prophet cannot stand excused from it - if not him, who else?
خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں اپنے رب کا کہنا نہ مانوں (کہ اسلام و ایمان کے حکم کی تعمیل نہ کروں یا شرک میں مبتلا ہوجاؤ ں) تو میں ایک بڑے دن (یعنی قیامت) کے عذاب سے ڈرتا ہوں (یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معصوم ہیں، اسلام و ایمان کے خلاف شرک و معصیت کا صادر ہونا آپ سے ممکن نہیں، مگر یہاں سنانا عام امت کو ہے، کہ نبی معصوم بھی اللہ کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں، پھر فرمایا کہ وہ عذاب ایسا ہے کہ) جس شخص سے اس روز کا عذاب ہٹا دیا گیا اس پر اللہ تعالیٰ نے بڑا رحم کیا اور یہ (عذاب کا ہٹ جانا اور اللہ کی رحمت کا متوجہ ہوجانا) صریح کامیابی ہے (اس میں اس رحمت کا بیان بھی ہوگیا جس کا ذکر اس سے پہلے كَتَبَ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ میں آیا ہے) اور (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو یہ بھی سنا دیجئے کہ اے انسان) اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف (دنیا یا آخرت میں) پہنچا دیں تو اس کا دور کرنے والا سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں (وہی چاہیں تو دور کریں یا نہ کریں اور جلد کریں یا دیر میں کریں) اور اگر تجھ کو (اسی طرح) کوئی نفع پہنچا دیں (تو اس کا بھی کوئی ہٹانے والا نہیں، جیسا دوسری جگہ ہے (آیت) لا رآد لفضلہ کیونکہ) وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں (اور مضمون مذکور کی تاکید کے لئے یہ بھی فرما دیجئے کہ) وہی اللہ تعالیٰ (قدرت کے اعتبار سے) اپنے بندوں پر غالب اور برتر ہیں اور (علم کے اعتبار سے) وہی بڑی حکمت والے اور پوری خبر رکھنے والے ہیں (پس وہ علم سے سب کا حال جانتے ہیں اور قدرت سے سب کو جمع کرلیں گے اور حکمت سے مناسب جزاء و سزا دیں گے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان منکرین توحید و رسالت سے) کہئے کہ (اچھا یہ تو بتلاؤ کہ) سب سے بڑھ کر چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے (جس کی گواہی دینے پر سب کا اختلاف رفع ہوجاوے، اس کا جواب ظاہر ہے یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر ہیں پھر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہئے کہ میرے اور تمہارے درمیان (جس مسئلہ میں اختلاف ہے اس میں وہی) اللہ تعالیٰ گواہ ہے (جس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے) اور (ان کی گواہی یہ ہے کہ) میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے (منجانب اللہ) بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعہ تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو (ان وعیدوں سے) ڈراؤں (جو توحید و رسالت کے انکار پر اس میں مذکور ہیں کیونکہ قرآن مجید کے اعجاز اور اس کی مثل بنانے سے ساری دنیا کا عاجز ہونا اللہ تعالیٰ کی تکوینی شہادت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سچائی پر ہوگئی اور مضامین قرآن سے اس کی تشریعی شہادت ہوگئی) کیا تم (اس شہادت کبریٰ کے بعد بھی جو کہ توحید کو شامل ہے) توحید کے بارے میں سچ مچ یہی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ (استحقاق عبادت میں) کچھ اور معبود بھی (شریک) ہیں (اور اگر وہ ہٹ دھرمی سے اس پر بھی کہہ دیں کہ ہاں ہم تو یہی گواہی دیں گے تو اس وقت ان سے بحث کرنا فضول ہے، بلکہ صرف) آپ (اپنے عقیدہ کو ظاہر کرنے کے لئے) کہہ دیجئے کہ میں تو اس کی گواہی نہیں دیتا اور بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں (اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے بارے میں جو یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے یہود و نصاریٰ سے پوچھ کر دیکھ لیا تو اس معاملہ کی تحقیق یہ ہے کہ) جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات و انجیل) دی ہے وہ سب لوگ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (ایسا) پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں (لیکن جب شہادت کبریٰ کے ہوتے ہوئے اہل کتاب کی شہادت پر مدار ہی نہیں تو اس کے نہ ہونے سے بھی کوئی استدلال نہیں کیا جاسکتا، اور ایسی شہادت کبریٰ کے ہوتے ہوئے بھی) جن لوگوں نے اپنے کو ضائع کرلیا ہے وہ ایمان نہ لاویں گے (عقل کو ضائع کرنے سے مطلب یہ ہے کہ اس کو معطل کردیا عقل سے کام نہیں لیا) اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے، یا اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھوٹا بتاوے، ایسے بےانصافوں کا (حال یہ ہوگا کہ) ان کو (قیامت کے دن) خلاصی نہ ہوگی (بلکہ دائمی عذاب میں گرفتار رہیں گے) ۔ معارف و مسائل پچھلی آیتوں میں اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ کا ذکر کرکے اس پر ایمان لانے اور شرک سے بچنے کا حکم دیا گیا، آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں اس حکم کی خلاف ورزی کرنے کا عذاب ایک خاص انداز سے بیان فرمایا گیا ہے، کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر بالفرض میں بھی اپنے رب کے حکم کی مخالفت کروں تو مجھے بھی قیامت کے عذاب کا خوف ہے، یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر گناہ سے معصوم ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کا صدور ہو ہی نہیں سکتا، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف منسوب کرکے امت کو یہ بتلایا ہے کہ اس حکم کی خلاف ورزی پر جب نبی الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معاف نہیں کیا جاسکتا تو اور کسی کی کیا مجال ہے۔