Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 15

سورة الأنعام

قُلۡ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۵﴾

Say, "Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day."

آپ کہہ دیجئے کہ میں اگر اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And be not you of the idolaters. Say: "I fear, if I disobey my Lord, the torment of a Mighty Day." the Day of Resurrection,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

15۔ 1 یعنی اگر میں نے بھی رب کی نافرمانی کرتے ہوئے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو معبود بنا لیا تو میں بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکوں گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦] رسول اللہ کی ذات سے اللہ کی نافرمانی ہونا ناممکنات سے ہے دراصل یہ دوسرے لوگوں کو تنبیہ و تہدید کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ اگر رسول بھی اللہ کی نافرمانی کرے تو قیامت کے دن اس سے بھی باز پرس ہوسکتی ہے پھر دوسرے لوگ اپنا انجام خود سوچ لیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ اِنِّىْٓ اَخَافُ ۔۔ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے یہ اعلان کروا کر دوسرے سب لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اگر بفرض محال ہمارے معصوم اور سب سے زیادہ نیک بندے سے بھی نافرمانی کا ارتکاب ہوجائے تو وہ بھی ہمارے عذاب سے نہیں بچ سکتا، پھر دوسروں کے لیے کیسے ممکن ہے کہ انبیاء کو جھٹلانے جیسے جرائم کرنے کے باوجود ہمارے عذاب سے بےفکر ہو کر بیٹھ رہیں۔ مزید دیکھیے سورة انعام (٨١ تا ٨٨ اور سورة زمر (٦٤، ٦٥) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In the previous verses, the command given was to shun Shirk and believe in the perfect power of Allah Jalla Sha&nuhu mentioned there-in. In the first of the present verses (15), the punishment for the con¬travention of this command has been mentioned in a particularly en¬dearing manner, that is, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been ` commanded& that he should tell the people that should he too (God forbid) come to contravene the command of His Lord, then, he too has the fear of the punishment of the day of Qiyamah. It is obvious that the noble Messenger of Allah is (Divinely) protected from every sin - so, the likelihood of disobedience coming from him simply does not exist. But, by mentioning this hypothetical situation, the purpose is to con¬vey the message to the community that the contravention of the Divine command is so serious a matter that even the greatest prophet cannot stand excused from it - if not him, who else?

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں اپنے رب کا کہنا نہ مانوں (کہ اسلام و ایمان کے حکم کی تعمیل نہ کروں یا شرک میں مبتلا ہوجاؤ ں) تو میں ایک بڑے دن (یعنی قیامت) کے عذاب سے ڈرتا ہوں (یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معصوم ہیں، اسلام و ایمان کے خلاف شرک و معصیت کا صادر ہونا آپ سے ممکن نہیں، مگر یہاں سنانا عام امت کو ہے، کہ نبی معصوم بھی اللہ کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں، پھر فرمایا کہ وہ عذاب ایسا ہے کہ) جس شخص سے اس روز کا عذاب ہٹا دیا گیا اس پر اللہ تعالیٰ نے بڑا رحم کیا اور یہ (عذاب کا ہٹ جانا اور اللہ کی رحمت کا متوجہ ہوجانا) صریح کامیابی ہے (اس میں اس رحمت کا بیان بھی ہوگیا جس کا ذکر اس سے پہلے كَتَبَ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ میں آیا ہے) اور (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو یہ بھی سنا دیجئے کہ اے انسان) اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف (دنیا یا آخرت میں) پہنچا دیں تو اس کا دور کرنے والا سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں (وہی چاہیں تو دور کریں یا نہ کریں اور جلد کریں یا دیر میں کریں) اور اگر تجھ کو (اسی طرح) کوئی نفع پہنچا دیں (تو اس کا بھی کوئی ہٹانے والا نہیں، جیسا دوسری جگہ ہے (آیت) لا رآد لفضلہ کیونکہ) وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں (اور مضمون مذکور کی تاکید کے لئے یہ بھی فرما دیجئے کہ) وہی اللہ تعالیٰ (قدرت کے اعتبار سے) اپنے بندوں پر غالب اور برتر ہیں اور (علم کے اعتبار سے) وہی بڑی حکمت والے اور پوری خبر رکھنے والے ہیں (پس وہ علم سے سب کا حال جانتے ہیں اور قدرت سے سب کو جمع کرلیں گے اور حکمت سے مناسب جزاء و سزا دیں گے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان منکرین توحید و رسالت سے) کہئے کہ (اچھا یہ تو بتلاؤ کہ) سب سے بڑھ کر چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے (جس کی گواہی دینے پر سب کا اختلاف رفع ہوجاوے، اس کا جواب ظاہر ہے یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر ہیں پھر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہئے کہ میرے اور تمہارے درمیان (جس مسئلہ میں اختلاف ہے اس میں وہی) اللہ تعالیٰ گواہ ہے (جس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے) اور (ان کی گواہی یہ ہے کہ) میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے (منجانب اللہ) بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعہ تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو (ان وعیدوں سے) ڈراؤں (جو توحید و رسالت کے انکار پر اس میں مذکور ہیں کیونکہ قرآن مجید کے اعجاز اور اس کی مثل بنانے سے ساری دنیا کا عاجز ہونا اللہ تعالیٰ کی تکوینی شہادت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سچائی پر ہوگئی اور مضامین قرآن سے اس کی تشریعی شہادت ہوگئی) کیا تم (اس شہادت کبریٰ کے بعد بھی جو کہ توحید کو شامل ہے) توحید کے بارے میں سچ مچ یہی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ (استحقاق عبادت میں) کچھ اور معبود بھی (شریک) ہیں (اور اگر وہ ہٹ دھرمی سے اس پر بھی کہہ دیں کہ ہاں ہم تو یہی گواہی دیں گے تو اس وقت ان سے بحث کرنا فضول ہے، بلکہ صرف) آپ (اپنے عقیدہ کو ظاہر کرنے کے لئے) کہہ دیجئے کہ میں تو اس کی گواہی نہیں دیتا اور بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں (اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے بارے میں جو یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے یہود و نصاریٰ سے پوچھ کر دیکھ لیا تو اس معاملہ کی تحقیق یہ ہے کہ) جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات و انجیل) دی ہے وہ سب لوگ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (ایسا) پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں (لیکن جب شہادت کبریٰ کے ہوتے ہوئے اہل کتاب کی شہادت پر مدار ہی نہیں تو اس کے نہ ہونے سے بھی کوئی استدلال نہیں کیا جاسکتا، اور ایسی شہادت کبریٰ کے ہوتے ہوئے بھی) جن لوگوں نے اپنے کو ضائع کرلیا ہے وہ ایمان نہ لاویں گے (عقل کو ضائع کرنے سے مطلب یہ ہے کہ اس کو معطل کردیا عقل سے کام نہیں لیا) اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے، یا اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھوٹا بتاوے، ایسے بےانصافوں کا (حال یہ ہوگا کہ) ان کو (قیامت کے دن) خلاصی نہ ہوگی (بلکہ دائمی عذاب میں گرفتار رہیں گے) ۔ معارف و مسائل پچھلی آیتوں میں اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ کا ذکر کرکے اس پر ایمان لانے اور شرک سے بچنے کا حکم دیا گیا، آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں اس حکم کی خلاف ورزی کرنے کا عذاب ایک خاص انداز سے بیان فرمایا گیا ہے، کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر بالفرض میں بھی اپنے رب کے حکم کی مخالفت کروں تو مجھے بھی قیامت کے عذاب کا خوف ہے، یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر گناہ سے معصوم ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کا صدور ہو ہی نہیں سکتا، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف منسوب کرکے امت کو یہ بتلایا ہے کہ اس حکم کی خلاف ورزی پر جب نبی الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معاف نہیں کیا جاسکتا تو اور کسی کی کیا مجال ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۝ ١٥ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ عصا العَصَا أصله من الواو، لقولهم في تثنیته : عَصَوَانِ ، ويقال في جمعه : عِصِيٌّ. وعَصَوْتُهُ : ضربته بالعَصَا، وعَصَيْتُ بالسّيف . قال تعالی: وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] ، فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] ، قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] ، فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] . ويقال : ألقی فلانٌ عَصَاهُ : إذا نزل، تصوّرا بحال من عاد من سفره، قال الشاعر : فألقت عَصَاهَا واستقرّت بها النّوى وعَصَى عِصْيَاناً : إذا خرج عن الطاعة، وأصله أن يتمنّع بِعَصَاهُ. قال تعالی: وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] ، وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُيونس/ 91] . ويقال فيمن فارق الجماعة : فلان شقّ العَصَا ( ع ص ی ) العصا : ( لاٹھی ) یہ اصل میں ناقص وادی ہے کیونکہ اس کا تثنیہ عصوان جمع عصی آتی عصوتہ میں نے اسے لاٹھی سے مارا عصیت بالسیف تلوار کو لاٹھی کی طرح دونوں ہاتھ سے پکڑ کت مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] اپنی لاٹھی دال دو ۔ فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] موسٰی نے اپنی لاٹھی ( زمین پر ) ڈال دی ۔ قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے ۔ فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔ القی فلان عصاہ کسی جگہ پڑاؤ ڈالنا کیونکہ جو شخص سفر سے واپس آتا ہے وہ اپنی لاٹھی ڈال دیتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 313 ) والقت عصاھا واستقربھا النوی ( فراق نے اپنی لاٹھی ڈال دی اور جم کر بیٹھ گیا ) عصی عصیانا کے معنی اطاعت سے نکل جانے کے ہیں دراصل اس کے معنی ہیں اس نے لاٹھی ( عصا ) سے اپنا بچاؤ کیا ۔ قرآن میں ہے : وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو ( وہ اپنے مطلوب سے ) بےراہ ہوگئے ۔ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا ۔ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ( جواب ملا کہ ) اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ۔ اور اس شخص کے متعلق جو جماعت سے علیدہ گی اختیار کر سے کہا جاتا ہے فلان شق لعصا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥) آپ فرما دیجیے کہ اگر بالفرض میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں اور تمہارے دین کی طرف لوٹ آؤں تو مجھے آنے والے دن کے بڑے عذاب کا ڈر ہے یا یہ کہ بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥ (قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ ) میں بھی اللہ کی عبادت سے مستثنیٰ نہیں ہوں ‘ میں بھی اللہ کا بندہ ہوں۔ جیسے میں آپ لوگوں سے کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی بندگی کرو ‘ ویسے ہی مجھے بھی حکم ہے ‘ مجھے بھی اللہ کی بندگی کرنی ہے۔ جیسے میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی فرمانبرداری کرو ‘ ویسے ہی مجھے بھی اس کی فرمانبرداری کرنی ہے۔ اور جیسے میں تمہیں بتارہا ہوں کہ اگر اللہ کی نافرمانی گرو گے تو پکڑے جاؤ گے ‘ ایسے ہی میں بھی اگر بالفرض نافرمانی کروں گا تو مجھے بھی اللہ کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ یہ بہت اہم آیات ہیں ‘ ان پر بہت غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 آنحضر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے اعلان کر واکر دوسروں کو بتایا گیا کہ اگر بفرض محال معصوم اور نیک ترین بندے سے بھی کسی نافرمانی کا ارتکاب ہوجائے تو وہ بھی ہمارے عذاب سے نہیں بچ سکتا پھر دوسرے کے لے کہ کیونکر ممکن ہے کہ تکذیب انبیا ( علیہ السلام) جیسے جرائم کا ارتکان کرنے کے باوجود ہمارے عذاب سے بےفکر ہو کر بیٹھ رہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 20 : عصیت ( میں نے نافرمانی کی) یصرف (پھیردیا گیا۔ ہٹادیا گیا) ‘ یومئذ (اس دن) ‘ یمسسک (پہنچائے تجھے) ‘ کاشف (کھولنے والا) ‘ القاھر (زبردست۔ (اللہ کی ایک صفت ہے) ‘ ای شیء ( کونسی چیز) ‘ اکبر (زیادہ بڑا۔ زیادہ بڑی) ‘ اوحی (وحی کی گئی) ‘ الی (میری طرف) ‘ انذر (ڈرایا گیا) ‘ من بلغ (جس کو پہنچا) ‘ اخری ( دوسرے۔ دوسری) ‘ اننی بریء ( بیشک میں دور ہوں۔ میں بیزار ہوں) ‘ یعرفون ( وہ پہچانتے ہیں) ابناء ھم (اپنے بیٹوں کو) ۔ تشریح : آیت نمبر 15 تا 20 : ان آیات میں عذاب کی ہولناکی کا ذکر ہے۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی یہ کہلوا کر کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو عذاب دوزخ سامنے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ جتادیا کہ ثواب و عذاب کا معیار صرف اور صرف اللہ کی فرماں برداری یا نافرمانی ‘ اسلام یا کفر ہے۔ یہاں کوئی فرزندی ‘ کوئی طرفداری ‘ کوئی رعایت نہیں ۔ یہ بھی جتادیا کہ قیامت ضرور آئے گی۔ جس دن جزا او سزا کا فیصلہ ہوگا۔ آیات 15 تا 18 میں اللہ تعالیٰ کی قہاری اور غفاری کی شان نہایت تو ازن اور تناسب کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ خوف اور امید قدم بہ قدم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کیا ہے ؟ عذاب کا ٹلنا اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ کیونکہ جس سے عذا ب ٹل گیا وہ اللہ کی رحمت اور جنت میں داخل ہوجائے گا۔ آیت نمبر 17 میں فرمایا گیا ہے اگر اللہ نے عذاب کا فیصلہ کردیا تو کوئی اور دیوی ‘ دیوتا ‘ فرزند اور مقرب خاص بچانے والا نہیں ہے۔ ‘ اگر اس نے ثواب کا فیصلہ کردیا تو یہ اس کی مہربانی اور قدرت ہے۔ آیت 18 میں اسی بات کو دوسرے انداز میں کہا گیا ہے۔ کہ وہ قادر مطلق بھی ہے اور صاحب حکمت اور صاحب خیر بھی۔ اس سے کوئی راز چھپا ہوا نہیں ہے۔ وہ جو کچھ کرتا ہے حکمت کے تحت کرتا ہے۔ اور وہ انپے فے صل کو نافذ کرنے کی تمام طاقتیں رکھتا ہے۔ ان آیات نے خصوصاً آیت 15 نے تمام ایمان والوں میں لرزہ پیدا کردیا تھا اور وہ خاص طور پر چوکنے ہوگئے تھے ۔ صحیح احادیث میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے ” اے اللہ ! آپ جو دینا چاہیں اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور جس چیز کو آپ نے روک دیا اسے کوئی دینے والا نہیں ہے۔ اور کسی کوشش والے کی کوشش آپ کے ہاں نفع نہیں دے سکتی “۔ آگے کی آیات کا نزول ایک خاص واقعہ سے ہے۔ مشرکین مکہ کا ایک وفد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا آپ جو اللہ کے رسول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس پر آپ کا گواہ کون ہے ؟ یہودو نصاریٰ میں کوئی شخص بھی آپ کی تصدیق نہیں کرتا۔ اس پر آیات نمبر 19 اور 20 ناز ل ہوئیں۔ اللہ کی گواہی سے مراد قرآن ہے۔ وحی خفی ہے اور وہ معجزات ہیں جو آپ سے صادر ہوئے۔ سب سے بڑی گواہی تو خود قرآن ہے جو آپ پر بذریعہ وحی نازل کیا گیا۔ اس کے بعد مشرکین مکہ کے وفد کو للکارا گیا کہ کیا واقعی تم لوگ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ معبودیت میں دوسرے بھی شریک ہیں ؟ ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے کہلوایا گیا کہ کہ دیجئے اللہ ایک ہی ہے اور میرا اس شرک سے کوئی تعلق نہیں ہے جس میں تم لوگ مبتلا ہو۔ اس وفد کا یہ کہنا ک یہودو نصاریٰ میں کوئی بھی آپ کی تصدیق نہیں کرتا۔ تو اس کا جواب یہ دیا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قطعی پہچان حلیہ اور کمالات کی پیشین گوئیاں توریت اور انجیل میں موجود ہیں۔ چناچہ یہ اہل کتاب آپ کو پیغمبر کی حیثیت سے اچھی طرح پہچانتے ہیں جس طرح باپ اپنے بیٹے کو پہچانتا ہے ظاہری طور پر بیں اور باطنی طور پر بھی ‘ اسی طرح یہ اہل کتاب آپ کو پیغمبر اسلام کی حیثیت سے اچھی طرح پہچانتے ہیں مگر یہ ان کی دنیاوی مصلحتیں ہیں جو ان کو تصدیق اقرار اور تسلیم سے روک رہی ہیں۔ وہ ایمان نہیں لاتے تو نہ لائیں۔ اگر وہ ایمان نہ لائے تو دوزخ ان کا مقدر ہے۔ آگے کی آیت بھی اسی سلسلے میں ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) (٦ـ١٥۔ ١٦) ” اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس معاملے کی اہمیت اور سنجیدگی کا اعلان کردیں اور یہ کہہ دیں کہ اگر وہ سرموانحراف بھی کریں تو خود ان پر عذاب الہی نازل ہو سکتا ہے ۔ خصوصا اسلام اور توحید کے معاملے میں اس طرح خود اہل شرک کے دلوں میں خوف اور رعب پیدا ہوگا ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے احکام کے بارے میں جس قدر حساس تھے یہ اس کی بہترین تصویر کشی ہے ۔ نظر آتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عذاب الہی سے بہت ہی ڈرتے تھے ۔ اللہ کا عذاب اس قدر خوفناک ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی سے ٹل جائے تو اس کا محض ٹلنا ہی فوز عظیم تصور ہوتا ہے ۔ اس تصویری احساس کے علاوہ اس میں اہل شرک کے لئے دلوں کو ہلا دینے والی ایک تنبیہ بھی ہے ۔ اس دور کے مشرکین کے لئے بھی اور بعد کے ادوار کے مشرکین کے لئے بھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا عذاب کس قدر ہولناک ہوگا ۔ یہ عذاب اپنے شکار کو بسہولت تلاش کرلے گا ۔ اسے گھیر لے گا اور اس کو جھپٹ کر اپنے قبضے میں لے لے گا ۔ صرف قادر مطلق ہی اسے بچا سکتا ہے ۔ چونکہ عذاب الہی کی باگیں اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ‘ اسے صرف وہی پھیر سکتا ہے ۔ انسان جب اس تصویر کشی پر غور کرتا ہے تو اس کی سانس رکنے لگتی ہے ۔ یہ آخری گھڑی کس قدر ہوش ربا ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھے میری کتاب التصویر الغنی میں طریقۃ قرآن) سوال یہ ہے کہ کوئی شخص غیر اللہ کو ولی اور سرپرست کیوں بنائے ؟ اپنے آپ کو اس شرک میں مبتلا کیوں کرے اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو کیوں اس قدر ہولناک عذاب میں مبتلا کرے ؟ کیا وہ اپنے آپ کو کوئی نفع پہنچانے کے لئے ایسا کرے ‘ یا کسی دنیاوی مضرت سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایسا کرے ۔ یا اس لئے کرے کہ مشکلات میں لوگ امداد کریں یا بدحالی میں کوئی نفع دیں ۔ حالانکہ نفع ونقصان تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ عالم اسباب میں وہ اللہ کی ذات ہی ہے جو قدرتوں والی ہے ۔ تمام انسان اس کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں ۔ عطا کرنے اور روکنے میں صرف اس کی حکیمانہ پالیسی ہی کار فرما ہوتی ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد فرمایا (قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ) (آپ فرما دیجیے ! کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے) بڑے دن سے قیامت کا دن مراد ہے،

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

18 یہ تیسرا طریق تعلیم ہے۔ یعنی تم لوگ تو اللہ کی معرفت اور اس کی پہچان سے بےبہرہ ہو اس لیے دن رات اس کی نافرمانیوں میں منہمک ہو اور اس کے ساتھ شرک کرتے ہو اور تمہارے دلوں میں اس کے عذاب کا کوئی ڈر خطرہ نہیں لیکن مجھے تو خطرہ ہے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں گا تو اسکے سخت عذاب کی لپیٹ میں آجاؤں گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

15 اے پیغمبر آپ ان منکرین سے کہہ دیجیے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایسا کس طرح کرسکتا ہوں کیونکہ میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا اور خوف کھاتا ہوں ینی قیامت کے عذاب کا جس کو ڈر ہو وہ اللہ تعالیٰ کا نافرمان کس طرح ہوسکتا ہے۔