Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 153

سورة الأنعام

وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیۡ مُسۡتَقِیۡمًا فَاتَّبِعُوۡہُ ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمۡ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۵۳﴾

And, [moreover], this is My path, which is straight, so follow it; and do not follow [other] ways, for you will be separated from His way. This has He instructed you that you may become righteous.

اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی ۔ اس کا تم کو اللہ تعالٰی نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پر ہیز گاری اختیار کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to Follow Allah's Straight Path and to Avoid All Other Paths Allah says; وَأَنَّ هَـذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ "And verily, this is My straight path, so follow it, and follow not (other) paths, for they will separate you away from His path. This He has ordained for you that you may have Taqwa." Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas commented on Allah's statements, وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ (And follow not (other) paths, for they will separate you away from His path.), and, أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوا فِيهِ (Saying) that you should establish religion and make no divisions in it), (42:13) and similar Ayat in the Qur'an, "Allah commanded the believers to adhere to the Jama`ah and forbade them from causing divisions and disputes. He informed them that those before them were destroyed because of divisions and disputes in the religion of Allah." Similar was said by Mujahid and several others. Imam Ahmad bin Hanbal recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah drew a line with his hand (in the sand) and said, هَذَا سَبِيلُ اللهِ مُسْتَقِيمًا This is Allah's path, leading straight. He then drew lines to the right and left of that line and said, هَذِهِ السُّبُلُ لَيْسَ مِنْهَا سَبِيلٌ إِلاَّ عَلَيْهِ شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْه These are the other paths, on each path there is a devil who calls to it. He then recited, وَأَنَّ هَـذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ... And verily, this is My straight path, so follow it, and follow not (other) paths, for they will separate you away from His path." Al-Hakim also recorded this Hadith and said; "Its chain is Sahih, but they did not record it." Imam Ahmad and Abd bin Humayd recorded (and this is the wording of Ahmad) that Jabir said; "We were sitting with the Prophet when he drew a line in front of him and said, هَذَا سَبِيلُ الله This is Allah's path. He also drew two lines to its right and two lines to its left and said, هَذِهِ سُبُلُ الشَّيْطَان These are the paths of Shaytan. He then placed his hand on the middle path and recited this Ayah; وَأَنَّ هَـذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ And verily, this is My straight path, so follow it, and follow not (other) paths, for they will separate you away from His path. This He has ordained for you that you may have Taqwa. Imam Ahmad, Ibn Majah, in the Book of the Sunnah in his Sunan, and Al-Bazzar collected this Hadith. Ibn Jarir recorded that; a man asked Ibn Mas`ud, "What is As-Sirat Al-Mustaqim (the straight path)?" Ibn Mas`ud replied, "Muhammad left us at its lower end and its other end is in Paradise. To the right of this Path are other paths, and to the left of it are other paths, and there are men (on these paths) calling those who pass by them. Whoever goes on the other paths will end up in the Fire. Whoever takes the Straight Path, will end up in Paradise." Ibn Mas`ud then recited the Ayah; وَأَنَّ هَـذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ And verily, this is My straight path, so follow it, and follow not (other) paths, for they will separate you away from His path.'" Imam Ahmad recorded that, An-Nawwas bin Sam`an said that the Messenger of Allah said, ضَرَبَ اللهُ مَثَلً صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَعَنْ جَنْبَي الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ Allah has given a parable of the straight path, and on the two sides of this path, there are two walls containing door ways. وَعَلَى الاَْبْوَابِ سُتُورٌ مُرْخَاةٌ وَعَلَى بَابِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَدْعُو يَا أَيَّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا ادْخُلُوا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُوا On these door ways, there are curtains that are lowered down. on the gate of this path there is a caller heralding, `O people! come and enter the straight path all together and do not divide.' وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ فَوْقِ الصِّرَاطِ فَإِذَا أَرَادَ الاِنْسَانُ أَنْ يَفْتَحَ شَيْيًا مِنْ تِلْكَ الاَْبْوَابِ قَالَ وَيْحَكَ لاَ تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ فَتَحْتَهُ تَلِجْهُ There is also another caller that heralds from above the path, who says when a person wants to remove the curtain on any of these doors, `Woe to you! Do not open this door, for if you open it, you will enter it. فَالصِّرَاطُ الاِسْلَامُ وَالسُّورَانِ حُدُودُ اللهِ وَالاْاَبْوَابُ الْمُفَتَّحَةُ مَحَارِمُ اللهِ وَذَلِكَ الدَّاعِي عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ كِتَابُ اللهِ وَالدَّاعِي مِنْ فَوْقِ الصِّرَاطِ وَاعِظُ اللهِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُسْلِم The (straight) path is Islam, the two walls are Allah's set limits, the open doors lead to Allah's prohibitions, the caller on the gate of the path is Allah's Book (the Qur'an), while the caller from above the path is Allah's admonition in the heart of every Muslim. At-Tirmidhi and An-Nasa'i also recorded this Hadith, and At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib." Allah's statement, فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ (so follow it, and follow not (other) paths...), describes Allah's path in the singular sense, because truth is one. Allah describes the other paths in the plural, because they are many and are divided. Allah said in another Ayah, اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ ءامَنُواْ يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَـتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْلِيَأوُهُمُ الطَّـغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَـتِ أُوْلَـيِكَ أَصْحَـبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ Allah is the Wali (Protector or Guardian) of those who believe. He brings them out from darknesses into light. But as for those who disbelieve, their supporters are Taghut (false deities), they bring them out from light into darknesses. Those are the dwellers of the Fire, and they will abide therein forever. (2:257)

شیطانی راہیں فرقہ سازی یہ اور ان جیسی آیتوں کی تفسیر میں ابن عباس کا قول تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو باہم اعتماد کا حکم دیتا ہے اور اختلاف و فرقہ بندی سے روکتا ہے اس لئے کہ اگلے لوگ اللہ کے دین میں پھوٹ ڈالنے ہی سے تباہ ہوئے تھے مسند میں ہے کہ اللہ کے نبی نے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا اللہ کی سیدھی راہ یہی ہے پھر اس کے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچ کر اور فرمایا ان تمام راہوں پر شیطان ہے جو اپنی طرف بلا رہا ہے پھر آپ نے اس آیت کا ابتدائی حصہ تلاوت فرمایا ۔ اسی حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جو مسند وغیرہ میں حضرت جابر سے مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو آپ نے اپنے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا یہ شیطانی راہیں ہیں اور بیچ کی لکیر پر انگلی رکھ کر اس آیت کی تلاوت فرمائی ۔ اسی حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جو مسند وغیرہ میں حضرت جابر سے مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو آپ نے اپنے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا یہ شیطانی راہیں ہیں اور بیچ کی لکیر پر انگلی رکھ کر اس آیت کی تلاوت فرمائی ۔ ابن ماجہ میں اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے ابن مسعود سے کسی نے پوچھا صراط مستقیم کیا ہے؟ آپ نے فرمایا جس پر ہم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا اسی کا دوسرا سرا جنت میں جا ملتا ہے اس کے دائیں بائیں بہت سی اور راہیں ہیں جن پر لوگ چل رہے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی طرف بلا رہے ہیں جو ان راہوں میں سے کسی راہ ہو لیا وہ جہنم میں پہنچا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ حضور فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی مثال بیان فرمائی ۔ اس راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں جن میں بہت سے دروازے ہیں اور سب چوپٹ کھلے پڑے ہیں اور ان پر پردے لٹکے ہوئے ہیں اس سیدھی راہ کے سرے پر ایک پکارنے والا ہے پکارتا رہتا ہے کہ لوگو تم سب اس صراط مستقیم پر آ جاؤ راستے میں بکھر نہ جاؤ ، بیچ راہ کے بھی ایک شخص ہے ، جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے خبردار اسے نہ کھول ، کھولو گے تو سیدھی راہ سے دور نکل جاؤ گے ۔ پس سیدھی راہ اسلام ہے دونوں دیواریں اللہ کی حدود ہیں کھلے ہوئے دروازے اللہ کی حرام کردہ چیزیں ہیں نمایاں شخص اللہ کی کتاب ہے اوپر سے پکارنے والا اللہ کی طرف کا نصیحت کرنے والا ہے جو ہر مومن کے دل میں ہے ( ترمذی ) اس نکتے کو نہ بھولنا چاہئے کہ اپنی راہ کیلئے سبیل واحد کا لفظ بولا گیا اور گمراہی کی راہوں کے لئے سبل جمع کا لفظ استعمال کیا گیا اس لئے کہ راہ حق ایک ہی ہوتی ہے اور ناحق کے بہت سے طریقے ہوا کرتے ہیں جیسے آیت ( اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ) 2- البقرة:257 ) میں ( ظلمان ) کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ( قل تعالوا ) سے تین آیتوں تک تلاوت کر کے فرمایا تم میں سے کون کون ان باتوں پر مجھ سے بیعت کرتا ہے؟ پھر فرمایا جس نے اس بیعت کو اپنا لیا اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جس نے ان میں سے کسی بات کو توڑ دیا اس کی دو صورتیں ہیں یا تو دنیا میں ہی اس کی سزا شرعی اسے مل جائے گی یا اللہ تعالیٰ آخرت تک اسے مہلت دے پھر رب کی مشیت پر منحصر ہے اگر چاہے سزا دے اگر چاہے تو معاف فرما دے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

153۔ 1 ھَذَا (یہ) سے مراد قرآن مجید یا دین اسلام یا وہ احکام ہیں جو بطور خاص اس سورت میں بیان کئے گئے ہیں اور وہ ہیں توحید، معاد اور رسالت اور یہی اسلام کے ثلاثہ ہیں جن کے گرد پورا دین گھومتا ہے، اس لئے جو مراد لیا جائے مفہوم سب کا ایک ہے۔ 153۔ 2 صراط مستقیم کو واحد کے صیغے سے بیان فرمایا ہے کیونکہ اللہ کی، یا قرآن کی، یارسول اللہ کی راہ ایک ہے ایک سے زیادہ نہیں۔ اس لئے پیروی صرف اس ایک راہ کی کرنی ہے کسی اور کی نہیں، یہی ملت مسلمہ کی وحدت و اجماع کی بنیاد ہے جس سے بہت ہٹ کر یہ امت مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئی ہے، حالانکہ اس کی تاکید کی گئی ہے کہ دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا دین کو قائم رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو گویا اختلاف اور تفرقہ کی قطعا اجازت نہیں ہے۔ اسی بات کو حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح واضح فرمایا کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے ایک خط کھینچا اور فرمایا کہ یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے۔ اور چند خطوط اس کی دائیں اور بائیں طرف کھینچے اور فرمایا یہ راستے ہیں جن پر شیطان بیٹھا ہوا ہے اور وہ ان کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی آیت تلاوت فرمائی جو زیر وضاحت ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧٦] ایک دفعہ رسول اللہ نے ایک سیدھی لکیر کھینچی۔ پھر اس لکیر کے دائیں بائیں بہت سی لکیریں کھینچ دیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ سیدھی لکیر تو اللہ تعالیٰ کی راہ ہے اور دائیں اور بائیں جتنی لکیریں ہیں یہ شیطان کی راہیں ہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی (نسائی بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الاعتصام الفصل الثانی) یعنی سیدھی راہ سے بھٹکتے ہی ادھر ادھر بیشمار پگڈنڈیاں سامنے آجاتی ہیں۔ اللہ کی راہ چھوڑنے کے بعد کوئی ایک پگڈنڈی پر جا پڑتا ہے کوئی دوسری پر اور کوئی تیسری پر۔ اس طرح پوری نوع انسانی بھٹک کر پراگندہ ہوجاتی ہے اور نوع انسانی کے ارتقاء کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے پاتا۔ اسی حقیقت کو اس فقرے میں بیان کیا گیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ ایک ہی ہے اور وہی سیدھی اور جنت تک پہنچانے والی ہے، مگر شیطان نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اس کے اردگرد بہت سی راہیں بنا ڈالی ہیں۔ عبداللہ بن مسعود (رض) اور دیگر صحابہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے ایک لکیر کھینچی، پھر فرمایا : ” یہ اللہ تعالیٰ کا سیدھا راستہ ہے۔ “ پھر اس کے دائیں بائیں کئی لکیریں کھینچیں اور فرمایا : ” یہ الگ الگ راستے ہیں، ان میں سے ہر راہ پر ایک شیطان بیٹھا ہے جو لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے۔ “ اس کے بعد آپ نے سیدھی راہ پر ہاتھ رکھا اور یہ آیت تلاوت فرمائی۔ [ أحمد : ١؍٤٦٥، ح : ٤٤٣٦۔ مستدرک حاکم : ٢؍٣١٨، ح : ٣٢٤١ ] تمام دینوں میں سے صراط مستقیم صرف اسلام ہے، باقی سب باطل ہیں، اس آیت میں جس طرح تمام باطل دینوں سے منع فرمایا گیا ہے اسی طرح اسلام میں بھی فرقے بنانے سے روک دیا گیا ہے۔ اسلام میں سیدھی راہ صرف کتاب و سنت کی راہ ہے، جس پر وہ پہلے تین زمانے گزرے ہیں جنھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیر الناس قرار دیا ہے۔ [ بخاری، فضائل أصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، باب فضائل أصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : ٣٦٥١ ] اس کے سوا سب راستے ممنوع ٹھہرے، خواہ وہ مذاہب اربعہ کی تقلید ہو یا اہل بدعت کے بنائے ہوئے اور طریقے ہوں، کیونکہ یہ شروع ہی بعد میں ہوئے ہیں۔ پرانی اور نئی ہر قسم کی بدعات گمراہ کن ہیں، خود ائمۂ دین اور سارے مجتہدین سلف و خلف نے یہی وصیت کی ہے کہ کوئی ان کی تقلید نہ کرے، بلکہ سب کے سب کتاب و سنت کی اتباع کریں، یہی صراط مستقیم ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے۔ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ : تاکہ تم اللہ کی نافرمانی، اس کے عذاب اور جہنم سے بچ جاؤ، کیونکہ مختلف راستوں سے بچ کر اس کے سیدھے راستے پر چلنے کے سوا بچنے کی کوئی صورت نہیں، اس لیے تقویٰ کی راہ یہی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Sixth Prohibition : Eating up the Property of the Orphan by False Means About the unlawfulness of devouring the property of the orphan by false means - the sixth command given in the second verse (152) - it was said: وَلَا تَقْرَ‌بُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ (And do not approach the property of the orphan except with the best possible conduct, until he reaches maturity). The address here is to the guardians of orphaned children who are minors. The guardians have been told that they should treat the property of orphans as if it was fire. They should not go near it to take from it or eat of it unlawfully. What is said here ap¬pears in another verse of the Qur&an in the same words: وَلَا تَقْرَ‌بُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ (17:34) and also in Surah Al-Nis-a& (4:10): &Surely, those who eat up the property of the orphans, unjustly, they only eat fire into their bellies, and they shall soon enter a blazing hell.) However, protecting the property of the orphan and investing it in a permissible business where the danger of loss does not customarily exist is fair enough, even necessary. Guardians of the orphaned children should do so. After that, specified was the limit until when the property of the orphan was to be guarded: حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ (until he reaches maturity), that is, when the orphan reaches maturity, the responsibility of the guardi¬an ends and his property should be entrusted to him. The word: أَشُدَّهُ (ashudd) really means strength. According to the ma¬jority of ` Ulama, it begins with puberty. When signs of puberty appear in a child, or when he reaches the age of full fifteen years, that will be the time, he will be considered legally mature. Still, after his having attained physical maturity, it will be seen whether or not he has acquired the ability to protect his property and spend out of it correctly and satisfactorily. If this ability is found in him, his property should be entrusted to him. If he does not seem to have that ability in him at that time, it is the responsibility of the guardian to keep protecting his property until the age of twenty five years. At any time during this period, whenever he picks up the ability to protect his property and manage his living through business or vo¬cation, his property can be handed over to him. And if - even upto the age of twenty five years, such ability does not show up in him - then, according to Imam Abu Hanifah (رح) ، his property should, after all, be giv¬en to him, but this would be subject to the condition that this lack of ability on his part should have not reached the limits of insanity. And, according to some Imams, his property should not be entrusted in his hands even then, instead of which, the Qadi or Judge of an Islamic Court should entrust the responsibility of protecting his property to a trustworthy and responsible person. Once again, what has been said here is based on a statement of the Holy Qur&an appearing in another verse where it was said: فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُ‌شْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ (... if you perceive in them proper understanding, hand over to them their property - 4:6). It means: When the orphaned children become mature and you see in them the ability to protect their property by themselves and invest it gainfully, entrust the prop¬erty to them. This verse has told us that becoming mature is not suffi¬cient as justification for entrusting the property of the orphan to him, instead, it is conditioned by the ability to protect property and to in-vest it gainfully. The Seventh Prohibition : Weighing and Measuring Short The seventh command in this verse is to give full weight and full measure in all fairness. The word: بِالقِسطِ (bi al-qist), translated as ` in all fairness,& applies to a transaction in which the giver does not decrease anything from what is due to be received by the other party - and the receiver does not take anything more than what is due to come to him from the Over (Ruh al-Ma&ani). Weighing and measuring short in common give and take of things has been sternly forbidden by the Qur&an. Severe warning to those who do that appears in Surah Al-Mutaffifin (83). Commentator of the Qur&an, Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) reports that, addressing those who weigh and measure in business, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Weighing and measuring is a line of duty being unfair in which has caused many communities before you to be destroyed by Divine punishment (so, be fully cautious in this matter). (Tafsir ibn Kathir) Officials and Workers who fall short in Set Duties come under this Qur&anic Ruling It should be borne in mind that weighing and measuring short called تَطفِیفُ |"Tatfif& in the Qur&an is not simply restricted to weighing short and measuring less. In fact, falling short in giving the other person his right is also included under تَطفِیفُ ` Tatfif as illusrated by a report from Sayy¬idna ` Umar (رض) appearing in the Mu&atta& of Imam Malik (رح) . When Sayyidna ` Umar (رض) noticed someone making the required movements of his Salah short, he said: &You made تَطفِیفُ ` Tatfif,& meaning thereby that he did not fulfill the right of Salah as it was due and obligatory. After having reported this incident, Imam Malik says: لِکُلِّ شَیءً وَفَاُء وَتَطفِیفُ that is, giving the full measure due, and giving short of it, applies to everything and not in weights and measures only. This tells us that an employee who does not discharge his duties as required, steals time or delays work; and a wage earner who falls short in delivering the service agreed to; and for that matter anyone - a min¬ister of government or his peon, an assistant in an office, or a scholar or religious worker - shall all be included under the Qur&anic term, |"Al-Mutaffifin,|" if they fall short in fulfilling the right of others due against them. After that, it was said: لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (We do not obligate anyone beyond his capacity). In some narrations of Hadith, it has been ex¬plained as a hint of exception, that is, a person who does everything possible within his control to give full consideration to the need of giv¬ing full weight and measure as due and, in case, some insignificant increase or decrease takes place inadvertently, then, that would stand excused because that is beyond his power and control. According to Tafsir Mazhari, the addition of this sentence in be¬tween indicates that it is better to give a little more while fulfilling what is due so that there remains no doubt of being short in giving - as it was when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on a similar occasion, or¬dered a person weighing: زن وَ اَرجِح (zin wa arjih) that is, ` weigh and be lib¬eral& (literally, weigh and tilt the balance in favour of the receiver). (Ahmad, Abu Dawud, and Tirmidhi following a narration of Sayyidna Suwayd ibn Qaiys) And this was the usual practice of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself. Whenever he had a right of someone due against him, and when came the time for him to pay it back, he liked to pay more than what the right of the other person was. Then, there is a Hadith in Al-Bukhari based on a narration by Sayyidna Jabir (رض) in which the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: ` May the mercy of Allah Ta` ala be on the person who is lenient when selling by giving more than the due; and is also lenient by not taking more than the due - instead, accepts in good grace, even if it happens to be somewhat short of it.& But, this is an ethical rule - that one gives more when giving and, accepts less when taking, avoids a quarrel. There is nothing legal in¬volved here which would compel one to do so. It is to point out to this very aspect that it was said in the Qur&an that |"We do not obligate anyone beyond his capacity.|" In other words, giving the other person more than it was his due; and to be satisfied with any decrease in what was one&s own due, was not a mandatory command because it is not easy for common people to do so. The Eighth Commandment : BE JUST - Doing Otherwise is حَرَام haram The verse says: وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْ‌بَىٰ (and when you speak, be just, even if there be a relative). It will be noticed that nothing particular has been mentioned at this place. Therefore, the majority of commen¬tators hold the view that the statement includes everything said - whether it is a witness given in some case, or a judgment from a judge, or an order from a ruling official, or whatever different kinds of things said to each other. About all such things, the command of the Qur&an is that one should abide by the criterion of truth and justice when saying what one has to say - everywhere, on all occasions and under all conditions. As for the sense of abiding by truth and justice when appearing as a witness in some case, it is fairly obvious - that is, the witness should tell what he knows for certain - frankly and clearly - without adding or subtracting one word on his own, or injecting his guess or conjecture in it, or worrying about whom it would benefit and whom it would hurt. Similar is the situation of a judge who has to de¬cide a case. He will examine witnesses according to the Islamic legal norms, take what they offer and look at them in conjunction with what stands proved through other kinds of approaches and, then, give his decision. Be it a witness, or be it a judgment, nothing should stop one from saying what is right, true and just - not friendship and love, not enmity and hostility, nothing. For this reason, added here was the sen-tence: وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْ‌بَىٰ (even if there be a relative). It means: Even if the person, in whose case you are appearing as a witness, or a judge, be a rel¬ative of yours - even then, you should not let truth and justice slip out of your hands, neither in witness, nor in the judgment. The purpose in this verse is to stop false witness and unjust judge¬ment. About false witness, Abu Dawud and Ibn Majah have reported the following saying of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ` False witness is equal to Shirk&. He said it three times and, then, recited this verse: فَاجْتَنِبُوا الرِّ‌جْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ‌ - حُنَفَاءَ لِلَّـهِ غَيْرَ‌ مُشْرِ‌كِينَ بِهِ So, avoid the filth of idols, and avoid saying the false, being upright for Allah, without being associators (of partners) with Him - 22:30. Similarly, about deciding against truth and justice, there is a saying of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which has been reported by Abu Dawud on the authority of a narration by Sayyidna Buraydah ibn Husayb رضی اللہ تعالیٰ عنہ . It says: ` There are three kinds of Qadis (judges): One of them would go to Jannah while the other two, to Jahannam. The one who ar¬rived at the truth by investigating into the case according to the Shari` ah, then gave his decision in the light of the truth, he belongs in Jannah - and he who investigated and did find out the truth, but knowingly gave his judgement against it, his place is in Hell. And similarly, a Qadi who did not know, or fell short on investigation and deliberation, and gave a de¬cision in that state of ignorance, he too will go to Jahannam.& The same subject has appeared in other verses of the Holy Qur&an more explicitly and emphatically, enjoining that there should be no trace or effect of friendship, kinship or any other relation based on mu¬tual interest - or enmity and hostility - in witness, or judgment. For example, in Surah An-Nisa,& it was said: وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَ‌بِي ( O those who believe, be upholder of justice - witnesses for Al¬lah) &even though against yourselves or the parents and the relatives.& - 4:135. In the same vein, there is another command given in Surah al-Ma&idah which says: وَلَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا (0 those who believe, be steadfast for Allah as witnesses for justice). &And malice against a people should not bid you to not doing justice& - 5:8. It means that enmity with a people should not make you willing to witness or to judge against the dictate of justice. Finally, as for up-holding truth and justice in matters other than witness and judgment, such as, mutual conversations referred to earlier, the best policy is not to lie, not to speak ill of anyone behind his back, not to say anything which would hurt others, or cause physical or financial loss to anyone. The Ninth Command: To Fulfill the Covenant of Allah - i.e., Breach of Pledge is Haram The ninth command given in this verse is to fulfill the covenant of Allah and avoid breaking the solemn pledge given. It was said: وَ بِعَھدِ اللہِ اَوفوا (and fulfill the covenant of Allah). The &covenant of Allah& could mean the pledge that was taken from every human being at the begin ning of life when all human beings were asked: الَستُ برَبِّکُمَ (&Am I not your Rabb, your Lord?& ). All of them said: بَلٰی (&Bala&: yes), that is, &there is no doubt that You are our Rabb, our Lord.& This pledge demands but that we do not disobey any command given by our Lord, our creator, cher¬isher, nurturer and caretaker. Consider everything He has asked to do at the level of the highest possible priority and take it to be the most important of all that we do. And as for things He has asked us not to do, we should not go even near them - even stay away from falling in doubts about them. Thus, the essence of this covenant is that we should obey Allah Ta&ala totally and perfectly. It is also possible that &covenant& here means the particular pledges mentioned in the Qur&an on different occasions - out of which are these verses the Tafsir of which is before you (and in which ten injunctions have been described emphatically). ` Ulama say that, in this pledge, included there is the fulfilling of vows (nadhr or mannat), a way through which one gives a pledge to Al¬lah Ta` ala that he or she would do something. In another verse of the Holy Qur&an, this has also been mentioned more explicity by saying: يُوفُونَ بِالنَّذْرِ‌ that is, ` the righteous servants of Allah fulfill their nadhr (vow). In short, it can be said that this command is, though ninth in the series, but in terms of its reality, it encompasses all imperatives and prohibitions of Islamic legal injunctions. It will be noticed that, at the end of this second verse (152) too, there appears a sentence of persuasion, that is: ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُ‌ونَ (This is what He has emphasized for you, so that you may observe the advice). Then comes the third verse (153) where the tenth injunction has been described as follows: وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَ‌اطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّ‌قَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ (And: This is My path [ headed ] straight. So, follow it, and do not follow the [ other ] ways, lest it should take you away from His way). In this verse, the word: ھٰذا (hadha: this) denotes the religion of Is-lam, or the Qur&an. Also possible is that the reference may be to Surah Al-An&am itself because, here too, the full range of the fundamentals of Islam - Tauhid, Risalah and principles governing injunctions of the Shari’ ah - find mention. As for the word: مُستَقیَماً (mustaqiman), it is a dis¬tinctive adjunct of this path of the religion of Islam and which has been used as an adverb in the syntactical arrangement to indicate that being مُستَقِیم &mustaqim& (straight) is an integral attribute of Islam as a relig¬ion. After that, it was said: فَاتَّبِعُوہُ (So, follow it). It means: &when you have come to know that the religion of Islam is My path, and that alone is the straight path, you have before you the only path headed towards the desired destination, therefore, this is the path you shall follow. After that, it was said: وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّ‌قَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ (and do not follow the [ other ] ways, lest it should take you away from His way). The word: سُبُل (subul) is the plural form of sabil which also means ` way.& The sense of the statement is that the real and true way of reaching Allah Ta` ala, and achieving His pleasure (rids& ) is just one. But, people in this world have carved out different ways on their own depending on what they think it is, or should be. The advice being given is: You do not follow any of these ways because these ways are really not the ways to reach Allah and therefore, whoever walks these ways shall go astray far away from the path of Allah. It is said in Tafsir Mazhari that the purpose of sending the Qur&an and the Prophet of Islam (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is to make people subordinate their ideas, intentions and proposals to the Qur&an and Sunnah and cast their lives into the blessed model offered by them. But, what is happening is that people are bent on molding the Qur&an and Sunnah into the frame of their ideas and proposals. As a result, an Ayah of the Qur&an, or a Hadith of the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which does not meet their fancy, or is found to be contrary to what they would like it to be, would become the target of their so-called interpretation until it fits into the mold of their desires. This is the starting point from where emerge other ways which lead people astray - ways which throw them in doubts and innovations in established religion (shubhat and bid` at). These are the ways from which people have been instructed to stay away in this verse. Based on a narration from Sayyidna ` Abdullah ibn Mas&ud (رض) there is a report in Musnad of Darimi which says: ` Once the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلمٍ drew a vertical line and said: |"This is the path of Allah.|" Then, he drew other lines on its right and left and said: |"These are سُبُل subul|" (that is, the ways following which has been prohibited in this verse) and, then, he said: |"Set upon every one of these ways there is a Shaytan who, after enticing people away from the straight path, wel¬comes them to this|" (the ways under the charge of Shaytan, as shown in the drawing). After that, as proof, he recited this verse (153).& Then, once again towards the end of the verse, it was said: ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون (That is what He has emphasized for you, so that you may be God-fearing). This completes the Tafsir of these three verses and the ten prohibi¬tions delineated therein. Finally, have a look at the significant style the Holy Qur&an employs when described at this place were ten injunc¬tions. They do not appear here as ten Articles of Law, something modern law books would love to do. Instead of doing something like that, first it describes five injunctions, then says: ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعقِلُون (That is what He has emphasized for you, so that you may understand). Then, after having described four more injunctions, it repeats the same sen¬tence with the difference that it says: تَذَكَّرُ‌ونَ (observe the advice) in place of: (understand) at the end. And after that, described there is the last injunction in a separate Ayah (verse), and once again, repeated there is the same core sentence with the difference that said here is: تَتَّقُون (be God-fearing) in place of: تَذَكَّرُ‌ونَ (observe the advice) at the end. There are many elements of wisdom in this subtle style of the Holy Qur&an: First of all, the Holy Qur&an is not simply a coercive law like the usual laws of this world. In fact, it is a law which is genuinely gener¬ous and patronizing in the essential sense. That is why, with every law, suggestions are given which would make them come easy. Then, knowing Allah Ta` ala and having the concern for &Akhirah are the most effective enforcers of law, in public or in private, and are the only solu¬tion human beings have in their problems with law. Therefore, at the end of all the three verses, introduced there are words which would steer human orientation away from the material world and fix it to-wards Allah. Ta` ala and the &Akhirah. There are five injunctions described in the first verse (151), that is: (1) To avoid Shirk, (2) to avoid being disobedient to parents, (3) To avoid killing children, (4) To avoid shameful acts, and (5) to avoid kill¬ing unjustly. What is used at their end is the word: تَعقِلُون (understand) because the people of Jahiliyyah just did not think that there was anything wrong with them. Therefore, it was suggested that they would do well by forsaking their blind following of ancestral customs and their own whims, if they used a little reason. The second verse (152) describes four injunctions, that is: (1) Not to eat up the property of the orphan by false means, (2) not to weigh or measure short, (3) to be true and just in speech, and (4) to fulfill the covenant of Allah. These are things, even these ignorant ones knew to be necessary - some of them would even act likewise. But, mostly these were not heeded to. The only remedy of heedlessness is what is called: تَذکِرَہ (tazkirah: remembrance) that is, the remembrance of Allah and &Akhirah. Therefore, at the end of this verse, the word used was: تَذَكَّرُ‌ونَ (observe the advice). The third verse (153) contains the instruction to follow the straight path and to avoid doing the contrary by following other ways. Since, there is nothing more authentic but the fear of Allah which would tear a human being away from the clutches of his misguiding thoughts and desires, therefore, at the end of it, said there was: لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون & (so that you may be God-fearing). Finally, at all these three places, the word used was: وَصِیَّہ ; (wasiyyah) which is an order to do something. Therefore, as cited earlier, some noble sahabah (رض) said: Whoever wishes to see the sealed will and testament of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) let him recite these three verses.

تیسری آیت میں دسواں حکم مذکور ہے (آیت) وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ، ” یعنی یہ دین محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا سیدھا راستہ ہے، سو اس راہ پر چلو، اور دوسری راہوں پر مت چلو، کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی “۔ اس میں لفظ ھذا کا اشارہ دین اسلام یا قرآن کی طرف ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سورة انعام کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ اس میں بھی پورے اصول اسلام، توحید، رسالت اور اصول احکام شرعیہ مذکور ہیں (اور مستقیم، دین کے اس راستہ کی صفت ہے جس کو نحوی ترکیب میں بصورت حال ذکر کرکے اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ دین اسلام کے لئے مستقیم ہونا لازمی وصف ہے اس کے بعد فرمایا فاتَّبِعُوْهُ یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ دین اسلام میرا راستہ ہے اور وہی مستقیم اور سیدھا راستہ ہے تو اب منزل مقصود کا سیدھا راستہ ہاتھ آگیا، اس لئے صرف اسی راستہ پر چلو) ۔ پھر فرمایا (آیت) وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ، سُبُل، سبیل کی جمع ہے، اس کے معنی بھی راستہ کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے اور اس کی رضا حاصل کرنے کا اصلی راستہ تو ایک ہی ہے، لیکن دنیا میں لوگوں نے اپنے اپنے خیالات سے مختلف راستے بنا رکھے ہیں، تم ان راستوں میں سے کسی راستہ پر نہ چلو، کیونکہ یہ راستے حقیقت میں خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے نہیں ہیں، اس لئے جو ان راستوں پر چلے گا وہ اللہ کے راستہ سے دور جا پڑے گا۔ تفسیر مظہری میں فرمایا ہے کہ قرآن کریم نازل کرنے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھیجنے کا منشاء تو یہ ہے کہ لوگ اپنے خیالات اور اپنے ارادوں اور تجویزوں کو قرآن و سنت کے تابع کریں، اور اپنی زندگیوں کو ان کے سانچہ میں ڈھالیں، لیکن ہو یہ رہا ہے کہ لوگوں نے قرآن و سنت کو اپنے خیالات اور تجویزات کے سانچہ میں ڈھالنے کی ٹھان لی، جو آیت یا حدیث اپنے منشاء کے خلاف نظر آئی اس کو تاویلیں کرکے اپنی خواہش کے مطابق بنالی، یہیں سے دوسری گمراہ کن راہیں پیدا ہوتی ہیں، جو بدعات اور شبہات کی راہیں ہیں، انھی سے بچنے کے لئے اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے۔ مسند دارمی میں بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سیدھا خط کھینچا اور فرمایا کہ یہ اللہ کا رستہ ہے، پھر اس کے دائیں بائیں اور خطوط کھینچے اور فرمایا کہ یہ سُبُل ہیں، (یعنی وہ راستے جن پر چلنے سے اس آیت میں منع فرمایا ہے) اور فرمایا کہ ان میں سے ہر راستہ پر ایک شیطان مسلط ہے، جو لوگوں کو سیدھے راستہ سے ہٹا کر اس طرف بلاتا ہے اور اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے استدلال کے طور پر اس آیت کو تلاوت فرمایا۔ آخر آیت میں پھر ارشاد فرمایا : (آیت) ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم احتیاط رکھو۔ تینوں آیتوں کی تفسیر اور ان میں بیان کئے ہوئے دس اصول محرمات کا بیان پورا ہوگیا، آخر میں قرآن کریم کے اس اسلوب بیان پر بھی ایک نظر ڈالئے، کہ اس جگہ دس احکام بیان کئے تھے، ان کو آجکل کی کتب قانون کی طرح دس دفعات میں نہیں لکھ دیا، بلکہ پہلے پانچ حکم بیان کرنے کے بعد فرمایا (آیت) ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ، اور پھر اور چار حکم بیان فرمانے کے بعد پھر اسی جملہ کو دوبارہ اس فرق کے ساتھ ذکر کیا کہ تعقلون کے بجائے تذکرون، فرمایا اور پھر آخری حکم ایک مستقل آیت میں بیان فرما کر پھر اسی جملے کا اعادہ اس فرق کے ساتھ کیا کہ تذکرون کے بجائے تتقون فرمایا۔ قرآن کریم کے اس حکیمانہ اسلوب بیان میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ اول یہ کہ قرآن کریم عام دنیا کے قوانین کی طرح محض حاکمانہ قانون نہیں، بلکہ مربیانہ قانون ہے، اسی لئے ہر قانون کے ساتھ اس کو آسان کرنے کی تدبیر بھی بتلائی جاتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور فکر آخرت ہی وہ چیز ہے جو انسان کو قانون کی پابندی پر خلوت و جلوت میں مجبور کرنے والی ہے، اسی لئے تینوں آیتوں کے آخر میں ایسے کلمات لائے گئے جن سے انسان کا رخ مادی دنیا سے پھر کر اللہ تعالیٰ اور آخرت کی طرف ہوجائے۔ پہلی آیت میں جو پانچ احکام بیان کئے گئے ہیں شرک سے بچنا، والدین کی نافرمانی سے بچنا، قتل اولاد سے بچنا، بےحیائی کے کاموں سے بچنا، کسی کا ناحق خون کرنے سے بچنا، ان کے آخر میں تو لفظ تعقُلَون استعمال فرمایا، کیونکہ زمانہ جاہلیت والے ان چیزوں کو کوئی عیب ہی نہ جانتے تھے، اس لئے اشارہ کیا گیا کہ آبائی رسموں اور خیالوں کو چھوڑ کر عقل سے کام لو۔ دوسری آیت میں چار احکام بیان ہوئے، یعنی مال یتیم کو ناحق نہ کھانا، ناپ تول میں کمی نہ کرنا، بات کہنے میں حق اور صدق کا لحاظ رکھنا، اور اللہ کے عہد کو پورا کرنا۔ یہ چیزیں ایسی ہیں کہ ان کے ضروری ہونے کو تو یہ جاہل بھی جانتے تھے، اور ان میں کچھ لوگ عمل بھی کرتے تھے، مگر اکثر ان میں غفلت برتی جاتی تھی، اور غفلت کا علاج ہے تذکِرَہ یعنی خدا و آخرت کی یاد، اس لئے اس آیت کے آخر میں لفظ تَذَکَّرُون فرمایا۔ تیسری آیت میں صراط مستقیم کو اختیار کرنے اور اس کے خلاف دوسری راہوں سے بچنے کی ہدایت ہے، اور صرف خوف خدا ہی ایسی چیز ہے جو انسان کو اپنے خیالات و خواہشات سے باز رکھنے کا صحیح ذریعہ ہو سکتی ہے، اس لئے اس کے آخر میں لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ارشاد فرمایا۔ اور تینوں جگہ لفظ وصیّت کا لایا گیا، جو تاکیدی حکم کو کہا جاتا ہے، اسی لئے بعض صحابہ کرام نے فرمایا کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مہر کیا ہوا وصیت نامہ دیکھنا چاہئے وہ یہ تین آیتیں پڑھ لے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْہُ۝ ٠ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّـبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِہٖ۝ ٠ ۭ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِہٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝ ١٥٣ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ صرط الصِّرَاطُ : الطّريقُ المستقیمُ. قال تعالی: وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] ، ويقال له : سِرَاطٌ ، وقد تقدّم . سرط السِّرَاطُ : الطّريق المستسهل، أصله من : سَرَطْتُ الطعامَ وزردته : ابتلعته، فقیل : سِرَاطٌ ، تصوّرا أنه يبتلعه سالکه، أو يبتلع سالکه، ألا تری أنه قيل : قتل أرضا عالمها، وقتلت أرض جاهلها، وعلی النّظرین قال أبو تمام : 231- رعته الفیافي بعد ما کان حقبة ... رعاها وماء المزن ينهلّ ساكبه «2» وکذا سمّي الطریق اللّقم، والملتقم، اعتبارا بأنّ سالکه يلتقمه . ( ص ر ط ) الصراط ۔ سیدھی راہ ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے ۔ اسے سراط ( بسین مھملہ ) پڑھا جاتا ہے ملاحظہ ہو ( س ر ط) السراط کے معنی آسان راستہ ، کے آتے ہیں اور اصل میں سرطت الطعام وزاردتہ سے مشتق ہے جس کے معنی طعام کو نگل جانے کے ہیں ۔ اور راستہ کو صراط اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ راہر کو گویا نگل لیتا ہے یار ہرد اس کو نگلتا ہوا چلایا جاتا ہے ۔ مثل مشہور ہے ۔ قتل ارضا عالھا وقتلت ارض جاھلھا کہ واقف کار رہر و توزمین کو مار ڈالتا ہے لیکن ناواقف کو زمین ہلاک کردیتی ہے ۔ ابو تمام نے کہا ہے ۔ رعتہ الفیما فی بعد ماکان حقبۃ رعاھا اذا ماالمزن ینھل ساکبہ اس کے بعد کو اس نے ایک زمانہ دراز تک سرسبز جنگلوں میں گھاس کھائی اب اس کو جنگلات نے کھالیا یعنی دبلا کردیا ۔ اسی طرح راستہ کو لقم اور ملتقم بھی کہا جاتا ہے اس لحاظ سے کہ گویا ر ہرو اس کو لقمہ بنالیتا ہے۔ الاسْتِقَامَةُ يقال في الطریق الذي يكون علی خطّ مستو، وبه شبّه طریق المحقّ. نحو : اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] واسْتِقَامَةُ الإنسان : لزومه المنهج المستقیم . نحو قوله :إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] الاستقامۃ ( استفعال ) کے معنی راستہ خط مستقیم کی طرح سیدھا ہونے کے ہیں اور تشبیہ کے طور پر راہ حق کو بھی صراط مستقیم کہا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] ہم کو سداھے راستے پر چلا ۔ اور کسی انسان کی استقامت کے معنی سیدھی راہ پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] جس لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا پے پھر وہ اس پر قائم رہے تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ تَّفْرِيقُ ( فرقان) أصله للتّكثير، ويقال ذلک في تشتیت الشّمل والکلمة . نحو : يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] ، رَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ طه/ 94] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ [ البقرة/ 285] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ البقرة/ 136] ، إنما جاز أن يجعل التّفریق منسوبا إلى (أحد) من حيث إنّ لفظ (أحد) يفيد في النّفي، وقال : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ [ الأنعام/ 159] ، وقرئ : فَارَقُوا «1» والفِراقُ والْمُفَارَقَةُ تکون بالأبدان أكثر . قال : هذا فِراقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ [ الكهف/ 78] ، وقوله : وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِراقُ [ القیامة/ 28] ، أي : غلب علی قلبه أنه حين مفارقته الدّنيا بالموت، وقوله : وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ [ النساء/ 150] ، أي : يظهرون الإيمان بالله ويکفرون بالرّسل خلاف ما أمرهم اللہ به . وقوله : وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ النساء/ 152] ، أي : آمنوا برسل اللہ جمیعا، والفُرْقَانُ أبلغ من الفرق، لأنه يستعمل في الفرق بين الحقّ والباطل، وتقدیره کتقدیر : رجل قنعان : يقنع به في الحکم، وهو اسم لا مصدر فيما قيل، والفرق يستعمل في ذلک وفي غيره، وقوله : يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] ، أي : الیوم الذي يفرق فيه بين الحقّ والباطل، والحجّة والشّبهة، وقوله : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقاناً [ الأنفال/ 29] ، أي : نورا وتوفیقا علی قلوبکم يفرق به بين الحق والباطل «1» ، فکان الفرقان هاهنا کالسّكينة والرّوح في غيره، وقوله : وَما أَنْزَلْنا عَلى عَبْدِنا يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] ، قيل : أريد به يوم بدر «2» ، فإنّه أوّل يوم فُرِقَ فيه بين الحقّ والباطل، والفُرْقَانُ : کلام اللہ تعالی، لفرقه بين الحقّ والباطل في الاعتقاد، والصّدق والکذب في المقال، والصالح والطّالح في الأعمال، وذلک في القرآن والتوراة والإنجیل، قال : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ [ البقرة/ 53] ، وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] ، تَبارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقانَ [ الفرقان/ 1] ، شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقانِ [ البقرة/ 185] . والفَرَقُ : تَفَرُّقُ القلب من الخوف، واستعمال الفرق فيه کاستعمال الصّدع والشّقّ فيه . قال تعالی: وَلكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ [ التوبة/ 56] ، ويقال : رجل فَرُوقٌ وفَرُوقَةٌ ، وامرأة كذلك، ومنه قيل للناقة التي تذهب في الأرض نادّة من وجع المخاض : فَارِقٌ وفَارِقَةٌ «3» ، وبها شبّه السّحابة المنفردة فقیل : فَارِقٌ ، والْأَفْرَقُ من الدّيك : ما عُرْفُهُ مَفْرُوقٌ ، ومن الخیل : ما أحد وركيه أرفع من الآخر، والفَرِيقَةُ : تمر يطبخ بحلبة، والفَرُوقَةُ : شحم الکليتين . التفریق اصل میں تکثیر کے لئے ہے اور کسی چیز کے شیر ازہ اور اتحاد کو زائل کردینے پر بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں ، رَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ طه/ 94] کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا ۔ اور آیت کریمہ : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ [ البقرة/ 285] ۔ اور کہتے ہیں کہ ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے ۔ نیز آیت : ۔ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ البقرة/ 136] ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے میں احد کا لفظ چونکہ حرف نفی کے تحت واقع ہونے کی وجہ سے جمع کے معنی میں ہے لہذا تفریق کی نسبت اس کی طرف جائز ہے اور آیت کریمہ : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ [ الأنعام/ 159] جن لوگوں نے اپنے دین میں بہت سے رستے نکالے ۔ میں ایک قرات فارقوا ہے اور فرق ومفارقۃ کا لفظ عام طور پر اجسام کے ایک دوسرے سے الگ ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هذا فِراقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ [ الكهف/ 78] اب مجھ میں اور تجھ میں علیحد گی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِراقُ [ القیامة/ 28] اس ( جان بلب ) نے سمجھا کہ اب سب سے جدائی ہے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ بس اب دنیا سے مفارقت کا وقت قریب آپہنچا ہے اور آیت کریمہ : وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ [ النساء/ 150] اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں مگر حکم الہی کی مخالفت کر کے اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ النساء/ 152] اور ان میں کسی میں فرق نہ کیا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ الفرقان یہ فرق سے ابلغ ہے کیونکہ یہ حق اور باطل کو الگ الگ کردینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور یہ رجل وقنعان ( یعنی وہ آدمی جس کے حکم پر قناعت کی جائے ) کی طرح اسم صفت ہے مصدر نہیں ہے اور فرق کا لفظ عام ہے جو حق کو باطل سے الگ کرنے کے لئے بھی آتا ہے اور دوسری چیزوں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقاناً [ الأنفال/ 29] مومنوں اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امر فارق پیدا کر دیگا ( یعنی تم کو ممتاز کر دے گا ۔ میں فر قان سے مراد یہ ہے کہ وہ تمہارے دلوں کے اندر نور اور توفیق پیدا کر دیگا جس کے ذریعہ تم حق و باطل میں امتیاز کرسکو گے تو گویا یہاں فرقان کا لفظ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسری جگہ سکینۃ اور روح کے الفاظ ہیں اور قرآن نے یوم الفرقان اس دن کو کہا ہے جس روز کہ حق و باطل اور صحیح وغلط کے مابین فرق اور امتیاز ظاہر ہوا چناچہ آیت : ۔ وَما أَنْزَلْنا عَلى عَبْدِنا يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] اور اس ( نصرت ) پر ایمان رکھتے ہو جو ( حق و باطل میں ) فرق کرنے کے دن نازل فرمائی ۔ میں یوم الفرقان سے جنگ بدر کا دن مراد ہے کیونکہ وہ ( تاریخ اسلام میں ) پہلا دن ہے جس میں حق و باطل میں کھلا کھلا امتیاز ہوگیا تھا ۔ اور کلام الہی ( وحی ) بھی فرقان ہوتی ہے کیونکہ وہ حق اور باطل عقائد میں فرق کردیتی ہے سچی اور جھوٹی باتوں اور اچھے برے اعمال کو بالکل الگ الگ بیان کردیتی ہے اس لئے قرآن کریم تورات اور انجیل کو فرقان سے تعبیر فرما گیا ہے چناچہ توراۃ کے متعلق فرمایا : ۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] اور ہم نے موسیٰ اور ہارون هْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقانِ [ البقرة/ 185] (علیہ السلام) کو ہدایت اور گمراہی میں ) فرق کردینے والی ۔ ،۔۔ عطا کی ۔ تَبارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقانَ [ الفرقان/ 1] وہ خدائے عزوجل بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا : ۔ وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ [ البقرة/ 53] اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے ۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو معجزے دیئے روزوں کا مہینہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن ( اول اول ) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور جس میں ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور حق و باطل کو ) الگ الگ کرنے والا ہے الفرق کے معنی خوف کی وجہ سے دل کے پرا گندہ ہوجانے کے ہیں اور دل کے متعلق اس کا استعمال ایسے ہی ہے جس طرح کہ صدع وشق کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ [ التوبة/ 56] اصل یہ ہے کہ یہ ڈر پوک لوگ ہے ۔ اور فروق وفروقۃ کے معنی ڈرپوک مرد یا عورت کے ہیں اور اسی سے اس اونٹنی کو جو درندہ کی وجہ سے بدک کر دور بھاگ جائے ۔ فارق یا فارقۃ کہا جاتا ہے اور تشبیہ کے طور پر اس بدلی کو بھی فارق کہا جاتا ہے جو دوسری بد لیوں سے علیحد ہ ہو ۔ وہ مرغ جس کی کلفی شاخ در شاخ ہو ( 2 ) وہ گھوڑا جس کا ایک سرین دوسرے سے اونچا ہو ۔ الفریقۃ دودھ میں پکائی ہوئی کھجور ۔ الفریقہ گردوں کی چربی ۔ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

راہ ہدایت قول باری ہے ( وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ۔ نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو) تا آخر آیت۔ صراط سے مراد وہ شریعت ہے جس پر اللہ نے اپنے بندوں کو چلنے کا پابند کردیا ہے۔ صراط کے اصل معنی راستے کے ہیں۔ شریعت کو صرات اور طریق کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ شریعت پر چلنے والے کو جنت کی صورت میں ثواب کا مستحق بنا دیتی ہے۔ اس لیے شریعت جنت تک پہنچنے اور نعیم آخرت تک رسائی کی راہ ہے۔ جب کہ شیطان کا دکھایا ہوا راستہ سیدھا جہنم تک لے جاتا ہے۔ ہم جہنم کی آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ! شریعت پر مع اس کے تمام مشمولات یعنی فرائض، واجبات ، نوافل اور مباحات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دینا اسی طرح درست ہے جس طرح تحلیل و تحریم پر مشتمل تمام احکامات میں اس کی اتباع کا امر کرنا درست ہے وہ اس لیے کہ شریعت کی اتباع کے معنی اس کے پورے ڈھانچے کی صحت پر یقین کرنے کے ہیں۔ اس میں ممنوعات کو قبیح سمجھنا، فرائض کو لازم خیال کرنا، تطوعات اور نوافل کی طرف راغب ہونا اور مباحات کو جائز گرداننا تمام باتیں شامل ہیں نیز ان باتوں پر شریعت کے مقتضیات یعنی ایجاب یا نفل یا اباحت کے بموجب عمل پیرا ہونا بھی شامل ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥٣) دین اسلام بالکل سیدھا پسندیدہ راستہ ہے، اس پر چلو اور یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت کا اتباع مت کرو کہ کہیں یہ رہیں تمہیں دین خداوندی سے بےراہ کردی، ان باتوں کا تمہیں کتاب میں تاکیدی حکم دیا گیا ہے تاکہ تم دوسرے غلط راستوں سے بچو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥٣ (وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ج) ۔ دین کے اصل اصول تو وہ ہیں جو ہم بیان کر رہے ہیں۔ تمہارے خود ساختہ طور طریقے تو گویا ایسی پگڈنڈیاں ہیں جن کا صراط مستقیم سے کوئی تعلق نہیں۔ صراط مستقیم تو صرف وہ ہے جس پر ہمارا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق چل رہا ہے۔ (وَلاَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ط) ۔ یعنی اگر تم خود ساختہ مختلف پگڈنڈیوں پر چلنے کی کوشش کرو گے تو سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے۔ لہٰذا تم سب راستوں کو چھوڑ کر سواء السبیل پر قائم رہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

135. It is an essential corollary of the natural covenant mentioned above that man should follow the way prescribed by his Lord; any deflection from the orders of God, or serving anyone other than Him, constitutes a primary breach of that covenant. Once this breach has been committed every single article of the covenant is likely to be violated one after the other. Moreover, it should also be remembered that man cannot acquit himself of the highly delicate, extensive and complex set of responsibilities entailed by this covenant unless he accepts the guidance of God and tries to follow the way prescribed by Him. Non-acceptance of God's guidance necessarily produces two grave and damaging consequences. First, by following any other way, one is inevitably led away from the true path and is thus deprived of the opportunity to approach God and please Him. Second, as soon as man deviates from the Straight Way prescribed by God, he encounters a whole labyrinth of highways and byways, causing the entire human species to fall a prey to total bewilderment and perplexity, and which shatters all dreams of a steady advance towards maturity and betterment. The words 'follow not other paths for they will scatter you away from His path' hint at this damage. See (Surah al-Ma'idah 5, n. 35) above.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :135 اوپر جس فطری عہد کا ذکر ہوا ، یہ اس عہد کا لازمی اقتضا ہے کہ انسان اپنے رب کے بتائے ہوئے راستہ پر چلے ، کیونکہ اس کے امر کی پیروی سے منہ موڑنا اور خود سری و خود مختاری یا بندگی غیر کی جانب قدم بڑھانا انسان کی طرف سے اس عہد کی اولین خلاف ورزی ہے جس کے بعد ہر قدم پر اس کی دفعات ٹوٹتی چلی جاتی ہیں ۔ علاوہ بریں اس نہایت نازک ، نہایت وسیع اور نہایت پیچیدہ عہد کی ذمہ داریوں سے انسان ہرگز عہدہ برآ نہیں ہو سکتا جب تک وہ خدا کی رہنمائی کو قبول کر کے اس کے بتائے ہوئے راستہ پر زندگی بسر نہ کرے ۔ اس کو قبول نہ کرنے کے دو زبردست نقصان ہیں ۔ ایک یہ کہ ہر دوسرے راستہ کی پیروی لازماً انسان کو اس راہ سے ہٹا دیتی ہے جو خدا کے قرب اور اس کی رضا تک پہنچنے کی ایک ہی راہ ہے ۔ دوسرے یہ کہ اس راہ سے ہٹتے ہی بے شمار پگڈنڈیاں سامنے آجاتی ہیں جن میں بھٹک کر پوری نوع انسانی پراگندہ ہو جاتی ہے اور اس پراگندگی کے ساتھ ہی اس کے بلوغ و ارتقاء کا خواب بھی پریشان ہو کر رہ جاتا ہے ۔ انہی دونوں نقصانات کو اس فقرے میں بیان کیا گیا ہے کہ ”دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اس کے راستہ سے ہٹا کر پراگندہ کر دیں گے“ ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ مائدہ ، حاشیہ نمبر ۳۵ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

معتبر سند سے مسند امام احمد بن حنبل ‘ نسائی مستدرک حاکم اور مسند بزار میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک روز ایک سیدھی لکیر کھینچ کر فرمایا یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے اور اس لکیر کے دائیں بائیں اور لیکریں کھینچ کر فرمایا ان سب راستوں پر شیطان بیٹھا ہے اور اپنی طرف لوگوں کو بلاتا ہے پھر آپ نے یہ میت پڑھی۔ معتبر سند سے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدھے راستہ کی مثال یوں سمجھائی کہ ایک سیدھا راستہ ہے اور اس کے ادھر ادھر در و دیواریں ہیں ان دیواروں میں کھلے ہوئے دروازے ہیں ان دروازوں پر پڑے ہیں اور راستہ کے سرے پر ایک شخص سیدھے راستہ پر بلارہا ہے اور ایک شخص کہہ رہا ہے دیکھو ان دروازوں میں سے کوئی دروازہ نہ کھولنا نہیں تو سیدھے راستے سے بہک جاؤ گے وہ راستہ تو اسلام ہے اور دیواریں حرام حلال کی وہ حدیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے شریعت میں قائم کی ہیں اور دروازے شرع کی ممنوعات ہیں اور راستے کے سرے پر بلانے والا قرآن شریف ہے اور دروازوں سے روکنے والی اللہ تعالیٰ کی وہ نصیحت ہے جس کا اثر ہر مسلمان کے دل میں پیدا ہو کر اس اثر سے آدمی گناہ سے رک جاتا ہے ترمذی میں عمر وبن عاص (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ یہود اور نصاریٰ تو بہتر ٧٢ فرقے اختلاف سے ہوگئے میری امت کے تہتر ٧٣ فرقے ہوں گے اور سوا ایک فرقے کے اور سب دوزخی ہیں صحابہ نے پوچھا حضرت وہ نجات پانے والا کو نسافرقہ ہے آپ نے فرمایا جس پر میں اور میرے صحابی ہیں ترمذی نے اگرچہ اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے لیکن ترمذی اور ابوداؤد میں ابوہریرہ (رض) کی صحیح حدیث ہے جس سے اس حدیث کو تقویت ہوجاتی ہے ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اسلام کی سیدھی سڑک میں سے اور کجی کے راستے اختلاف کے سبب سے پھوٹ گئے ہیں جن سب پر شیطان مسلط ہے ممنوعات شرعیہ کے دروازے فقط ایک پردہ کی آڑ میں ہیں نجات کا راستہ فقط ایک ہی ہے جس راستہ پر خود صاحب وحی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ تھے نجات کہ خواستگار ہر مسلمان کو لازم ہے کہ ادھر ادھر نہ بھٹکے اور نجات کے راستہ کی مضبوط پکڑے اور خوب یقین کرلے کہ مخبر صادق صاحب وحی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جن نجات کے راستہ کا پتہ بتلایا ہے وہ یہی ہے کہ ہر عقیدے اور ہر عمل میں آدمی آنحضرت اور صحابہ کے قدم بقدم چلا جاوے خدا تعالیٰ ہر مسلمان کے دل میں اس نصیحت الہیہ کا اثر پیدا کرے جس کا ذکر اوپر کی حدیث میں آیا ہے اور ہر مسلمان کو وہ سیدھا راستہ چلاوے جس کا ذکر اس آیت میں اور جس کی تفسیر حدیث میں ہے ھذا کا اشارہ انہی باتوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر کی آیتوں ہیں ہے۔ اوپر کی آیتوں میں خاص خاص باتوں کے علاوہ بعہد اللہ ایسا ایک عام حکم ہے کہ قرآن شریف کے تمام امر و نہی کا مجموعہ ہے اور اوپر یہ گذر چکا ہے کہ نیک کاموں کے کرنے اور بدکاموں سے بچنے کی جتنی صحیح حدیثیں ہیں وہ سب اس مجموعہ قرآن کی گویا تفسیر ہیں تو اب یوں کہنا چاہئے کہ ھذا کا اشارہ تمام احکامی آیتوں اور حدیثوں کی طرف ہے اور یہ بھی کہنا چاہئے کہ جو بات اس اشارہ کے دائرہ سے باہر ہے وہ ٹیڑھا راستہ ہے نجات کا سیدھا راستہ دہی ہے جو اس اشارہ کے دائرہ کے اندر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:153) فتفرق بکم عن سبیلہ۔ تمہیں متفرق کر دے گی تمہیں جدا جدا کر دے گی۔ اس کا فاعل السبل ہے۔ (سبیل کی جمع) راستے ۔ راہیں۔ ای فتیمل بکم ھذہ الطرق المختلفۃ المضلۃ عن دینہ و طریقہ الذی ارتضاہ لعبادہ۔ کہ یہ مختلف اور گمراہ کن راستے تمہیں اللہ کے اس دین اور طریق مستقیم سے ہٹا دیں جسے اس نے اپنے بندوں کے لئے پسند کیا ہے۔ ذلکم وصکم بہ۔ ای امرکم ب اتباع دینہ و طریقہ یہ ہے اس کا وہ طریقہ جس کے اتباع کا وہ تمہیں حکم دیتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

اس آیت میں جس طرح ادیان باطلہ سے منع فرمایا گیا ہے اس طرح اسلام میں بھی تفرقہ پسندی سے روک دیا گیا ہے پس جو راہ کتاب وسنت کے سوا ہو جس پر تین مشھود لھا بالخیر گزرے ہیں وہ سب راستے ممنوع ٹھہرے خواہ تقلید مذاہب اربعہ ہو یہ اہل بدعت کے مشارب ہوں۔ پرانی اور ہر قسم کی بد عات گمرہ کن ہیں۔ مسلمان کو حکم ہے اللہ کا بندہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت بن کر رہے۔ خود ائمہ دین اور سارے مجتہدین سلف وخلف نے یہی وصیت کی ہے کہ کوئی ان کی تقلید نہ کرے بلکہ سب کے سب کتاب وسنت کی اتباع کریں یہی طریقہ اہل حدیث و جماعت نے اختیار کیا ہے اور اسی کی طرف دعوت دی ہے۔ ( ما خوذ از تر جمان النواب) 4 یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور تقوی کی راہ ہے، حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کون ہے جو ان آیتوں پر میری بیعت کرتا ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قل تعالوا سے لعلکم تقتون تک ان تین آیتوں کی تلاوت کر کے فرمایا جس نے ان کو پورا کیا اللہ تعالیٰ کے ذمہ اس کا جر ہے اور جس نے ان میں سے کسی چیز میں کمی کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا ہی میں پکڑ لیا تو وہی اس کی سزا ہے اور جسے اس نے مہلت دی اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے چاہے اسے سزادے اور چاہے اسے معاف فرما دے ( ابن کثیر بحوالہ ترمذی وغیرہ ) 5 نیک بندے سے مراد حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو تورات دی اور ان کو اپنی نعمت سے نوازا، اس کلام سے مقصود مذکرہ وصیت کی تقریر و تحقیق ہے۔ (کذافی الروح )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی وصیتوں کا خلاصہ اور نتیجہ صراط مستقیم ہے۔ اے لوگو ! بس صراط مستقیم پر چلو۔ نو نصیحتیں کرنے کے بعد فرمایا یہی سیدھا راستہ ہے کیونکہ نصائح کے آغاز میں لفظ ” قل “ سے حکم دیا گیا تھا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان لوگوں کو یہ نصائح پڑھ کر سنائیں اب ان کے اختتام پر فرمایا ہے کہ آپ یہ اعلان فرمائیں کہ یہی میرا صراط مستقیم ہے لہٰذا تم سب کے سب اسی کی اتباع کرو دوسرے راستوں اور طریقوں کی پیروی نہ کرو۔ اگر تم اس راستہ کے سوا دوسرے راستوں پر چلو گے تو سیدھے راستے سے ہٹ جاؤ گے اس لیے تمہیں وصیت کی جاتی ہے کہ تم اسی راستہ پر چلنا تاکہ تم گناہ اور گمراہی کے راستوں سے بچ جاؤ۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَخَطَّ خَطًّا وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّمِینِہٖ وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّسَارِہٖ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ فِی الْخَطِّ الْأَوْسَطِ فَقَالَ ہَذَا سَبِیل اللّٰہِ ثُمَّ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ (وَأَنَّ ہٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ) ) [ رواہ ابن ماجۃ : باب اتباع سنۃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” حضرت جا بر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سیدھا خط کھینچا پھر اس کے دائیں اور بائیں مختلف خطوط کھینچے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک درمیان والے سیدھے خط پر رکھتے ہوئے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :” اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو اس کے سوا دوسری راہوں پر نہ چلو دوسری راہیں تمہیں صراط مستقیم سے جدا کردیں گی۔ “

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ٧١ ایک نظر میں : اس سورة کے اس آخری حصے میں جو موضوع درس سابق میں تھا وہی ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کی طرح آگے بڑھ رہا ہے ۔ یہ کہ اللہ ہی حاکم اور قانون ساز ہے اور یہ بات اسلام کے اساسی عقائد ونظریات کا حصہ ہے ۔ یہ سبق بھی اسی موضوع کا حصہ ہے اور اس میں کچھ مزید پہلو سامنے آتے ہیں تاکہ یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے ۔ اس سورة کے آغاز میں دین اسلام کے اساسی نظریات اور عقائد موضوع بحث ہیں اور آخری حصے میں یہ موضوع آیا تھا کہ اسلام کے اساسی نظریات میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اللہ وحدہ حاکم اور قانون ساز ہے ۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ کا اقتدار جس کا ظہور قانون سازی کی صورت میں ہوتا ہے اسی دین کے اساسی قضایا میں سے ہے اور اسی طریقے اور اسی سطح پر قرآن اسے رکھتا ہے ۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم اس دوسرے مسئلے پر وہی دلائل وبراہین پیش کرتا ہے جو اس نے اس سورة کے حصہ اول میں عقائد ونظریات کے بارے میں پیش کئے ۔ ٭ یہاں بھی رسولوں ‘ کتابوں ‘ وحی اور معجزات کی بات ہے ۔ ٭ یہاں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ اگر معجزات پیش ہوئے اور مان کر نہ دیئے گئے تو پھر اللہ کا عذاب لازما آئے گا ۔ ٭ مناظر قیامت اور حساب و کتاب ۔ ٭ یہ کہ رسول اور اس کی قوم کے درمیان کوئی تعلق ورابطہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ قوم رسول کے نظریات کو رد کر کے متفرق ارباب کے تابع ہوگئی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے نظریات کو واضح ‘ دوٹوک اور فیصلہ کن انداز میں پیش کریں ۔ ٭ یہ کہ دو جہانوں کا رب اور حاکم صرف اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی اور رب تلاش نہ کرو۔ ٭ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کا رب اور خالق ہے اور انسانوں کو اس جہاں میں اسی رب نے بسایا اور بٹھایا ہے اور وہ اس بات پر قادر ہے موجودہ لوگوں کو بےدخل کرکے کسی اور مخلوق کو یہاں لا بٹھائے ۔ یہ ہیں وہ مسائل جو اس سبق میں لیے گئے ہیں جبکہ یہی مسائل سورة کے آغاز اور اس کے پہلے حصے میں موضوع بحث تھے۔ لیکن وہاں نظریاتی پہلو نمایاں تھا اور یہاں مسئلہ حاکمیت اور قانون سازی عیاں ہے ۔ یہ قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب اور انداز ہے اور اسے صرف وہی شخص جان سکتا ہے جو قرآن کے اسلوب کلام سے واقف ہو اور اس کی ممارست رکھتا ہو۔ اس سبق کے آغاز میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کی بات ہے اور سابقہ بات کا تکملہ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یہی صراط مستقیم ہے ۔ کہ یہی ہمارا سیدھا راستہ ہے ‘ اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے ۔ “ یہاں کتاب موسیٰ کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ یہ راستہ ایک طویل شاہراہ ہے جس پر انسانی تاریخ کے تمام انبیاء چلتے رہے ہیں ۔ تمام رسولوں کی شریعتیں اسی راہ کی کڑیاں ہیں اور ان میں سے قریب ترین شریعت ‘ شریعت موسوی ہے ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ایک کتاب دی تھی جس میں ہر چیز کی تفصیلات تھیں اور یہ شریعت ان کی امت کے لئے ہدایت و رحمت تھی ۔ صرف ان لوگوں کے لئے جو خوف آخرت اور قیام قیامت پر یقین رکھتے تھے ۔ آیت ” ثُمَّ آتَیْْنَا مُوسَی الْکِتَابَ تَمَاماً عَلَی الَّذِیَ أَحْسَنَ وَتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْْء ٍ وَہُدًی وَرَحْمَۃً لَّعَلَّہُم بِلِقَاء رَبِّہِمْ یُؤْمِنُونَ (154) ” پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی ‘ جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی ۔ شاید کہ لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں ۔ “ پھر دو بار کتاب جدید ‘ قرآن کا ذکر آتا ہے ‘ جو کتاب موسیٰ کی صف میں ہے اور اس میں بھی نظریہ حیات اور نظام زندگی موجود ہے ۔ اس کا اتباع ضروری ہے تاکہ لوگوں کی دنیا اور آخرت دونوں سدھر جائیں ۔ آیت ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ فَاتَّبِعُوہُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ (155) ” اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے ۔ ایک برکت والی کتاب ‘ پس تم اس کی پیروی کرو اور تقوی کی روشن اختیار کرو ‘ بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے ۔ “ قرآن کریم عربوں پر بطور حجت نازل ہوا ہے تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم پر ایسی کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی جس طرح یہود ونصاری پر کتابیں نازل ہوئی ۔ اگر ہم پر کوئی ایسی کتاب نازل ہوتی جس طرح ان پر نازل ہوئی ہے تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے ۔ چناچہ عربوں پر حجت تمام کرنے کے لئے کہا گیا ‘ لیجئے یہ ہے کتاب جو تم پر نازل کی گئی ۔ اور اس کے بعد بھی اگر وہ اس کتاب کو جھٹلاتے ہیں تو وہ دردناک عذاب کے مستحق ہوں گے ۔ آیت ” أَوْ تَقُولُواْ لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَیْْنَا الْکِتَابُ لَکُنَّا أَہْدَی مِنْہُمْ فَقَدْ جَاء کُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَہُدًی وَرَحْمَۃٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن کَذَّبَ بِآیَاتِ اللّہِ وَصَدَفَ عَنْہَا سَنَجْزِیْ الَّذِیْنَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوء َ الْعَذَابِ بِمَا کَانُواْ یَصْدِفُونَ (157) اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں کو دی گئی تھی اور ہم کو کوئی خبر نہیں کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے ۔ اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کرسکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اس سے زیادہ راست رو ثابت ہوتے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت و رحمت (قرآن کی صورت میں) آگئی ہے ۔ اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا ‘ جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے ۔ جو لوگ ہمارے آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔ “ یقینا قرآن کے نزول سے عربوں پر حجت تمام ہوگئی لیکن وہ اب بھی شرک کررہے ہیں ۔ وہ اب بھی خود قانون بناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ خدائی شریعت ہے حالانکہ خدا کی کتاب آگئی ہے ۔ اس میں وہ باتیں نہیں ہیں جو وہ از خود گھڑتے ہیں اور ماننے کے بجائے وہ مزید خوارق عادت معجزات طلب کرتے ہیں تاکہ وہ کتاب کی تصدیق کریں اور پھر اس پر عمل کریں ۔ لیکن یہ سمجھتے نہیں کہ اگر کوئی خارق عادت معجزہ آجائے یا بعض حصہ اس کا آجائے تو پھر یہ آخری فیصلے کا وقت ہوگا ۔ آیت ” ہَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ أَن تَأْتِیْہُمُ الْمَلآئِکَۃُ أَوْ یَأْتِیَ رَبُّکَ أَوْ یَأْتِیَ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ یَوْمَ یَأْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لاَ یَنفَعُ نَفْساً إِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِیْ إِیْمَانِہَا خَیْْراً قُلِ انتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ (158) ” کیا اب یہ لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے کھڑے ہوں یا تمہارا رب خود آجائے یا تمہارے رب کی صریح نشانیاں نمودار ہوجائیں ؟ جس روز تمہارے رب کی بعض نشانیاں نمودار ہوجائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو ‘ جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہہ دو کہ اچھا ‘ تم انتظار کرو ‘ ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ “ یہاں اللہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین اور تمام ادیان کے اندر فرق کردیتے ہیں جو عقیدہ توحید اور اس پر مبنی قانونی نظام پر قائم نہیں ہیں اور یہ کہ انکا معاملہ اللہ کے ہاں ہے اور وہ اپنے نظام عدل اور رحمت کے مطابق ان کا فیصلہ کرے گا ۔ آیت ” إِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُواْ دِیْنَہُمْ وَکَانُواْ شِیَعاً لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْْء ٍ إِنَّمَا أَمْرُہُمْ إِلَی اللّہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (159) مَن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا وَمَن جَاء بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی إِلاَّ مِثْلَہَا وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ (160) ” جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے ان سے تمہارا واسطہ کچھ نہیں ۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ‘ وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے ۔ ‘ جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے دس گناہ اجر ہے اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیاجائے گا جتنا اس نے قصور کیا اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔ “ اس اس سبق کی آخری ضرب آتی ہے اور اس پر اس سورة کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ تسبیح کا آخری دانہ گرا نہایت ہی تروتازگی ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ ‘ نہایت حکیمانہ اور نہایت دوٹوک انداز میں ۔ اس دین کے انتہائی گہرے حقائق کا خلاصہ پیش کردیا جاتا ہے یعنی بےقید اور ہمہ جہت توحید ‘ خالص بندگی اور اطاعت ‘ سنجیدگی کے ساتھ آخرت کا اقرار وجوابدہی کا تصور ‘ دنیا میں ہر شخص کے لئے اپنے اور صرف اپنے اعمال کی جوابدہی ۔ ہر چیز میں نظام ربوبیت کا مشاہدہ ‘ اور یہ کہ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس سرزمین پر اقتدار کی کنجیاں کس کے حوالے کرتا ہے اللہ کے اس اختیار میں اس کے ساتھ نہ کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس سے کوئی باز پرس کرنے کا مجاز ہے ۔ اس آخری حصے میں مقام الوہیت کو تفصیل سے واضح کیا جاتا ہے نہایت ہی مخلص ‘ پاک وصاف دل یعنی قلب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ ربانی تجلیات پھوٹتی ہیں اور انداز تعبیر قرآنی ہے جو کسی بھی مفہوم کی تصویر کشی میں لاثانی ہے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161) قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163) قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164) وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ(165) ” اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔ کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ‘ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنیو الا اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

صراط مستقیم کا اتباع کرو : (١٠) بیشک یہ میرا سیدھا راستہ ہے سو تم اس کا اتباع کرو۔ اور دوسرے راستوں کا اتباع نہ کروکیون کہ یہ راستے تمہیں اللہ کے راستہ سے ہٹا دیں گے، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے قرآن نازل فرمایا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن کا مبلغ اور معلم اور مبین (بیان کرنے والا) بنایا۔ اور آپ کی اطاعت فرض کی۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و اتباع یہ سیدھا راستہ ہے جو صحابہ کرام اور تابعین عظام سے لے کر ہم تک پہنچا ہے جو لوگ اسلام کے متبع نہیں جیسے یہود و نصاریٰ اور جو لوگ دین اسلام کے مدعی ہیں لیکن اصحاب اہواء ہیں اپنی خواہشوں کے مطابق دین بناتے ہیں اور الحادو زندقہ کی باتیں کرتے ہیں ایسے لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستہ پر نہیں ہیں۔ ان لوگوں کے راستے پر جو شخص چلے گا وہ صراط مستقیم سے ہٹ جائے گا۔ یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راہ پر نہ رہے گا، آخرت میں اسی کی نجات ہے جو آنحضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستہ پر ہو۔ صراط مستقیم کے علاوہ سب راستے گمراہی کے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک خط کھینچا اور فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے اور اس کے دائیں بائیں خطوط کھینچے اور فرمایا کہ یہ مختلف راستے ہیں ان میں سے ہر راستہ پر شیطان ہے جو اس کی طرف بلاتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (وَ اَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ) (الاٰیۃ) (رواہ احمد و النسائی و الدارمی کمافی المشکوٰۃ ص ٣٠) پھر ارشاد فرمایا۔ (ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ) (کہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تمہیں اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو) تقویٰ اختیار کرنے میں ہر بات آگئی اور اوامر کی بھی پابندی کی جائے اور جن چیزوں سے منع فرمایا ان سے بھی اجتناب کیا جائے۔ برے اعمال، عقائد باطلہ، کفر، شرک سب سے بچنا تقویٰ کے مفہوم میں داخل ہے۔ فائدہ : آیات بالا میں دس باتوں کا حکم دیا ہے۔ یہ دس باتیں بہت اہم ہیں جن میں حقوق اللہ اور حقوق العباد سب کی رعایت کرنے کا حکم دیا ہے اور آخر میں صراط مستقیم سے ہٹنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصیت کو دیکھنا چاہے جس پر آپ کی مہر ہے تو یہ آیات (قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَاحَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ ) سے لے کر (لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ) تک پڑھ لے۔ (رواہ الترمذی تفسیر سورة الانعام) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ سورة انعام میں یہ آیات محکمات ہیں جو ام الکتاب ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے آیات بالا تلاوت کیں۔ (ابن کثیر ج ٢ ص ١٨٧)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

174 یہ سابقہ دونوں آیتوں میں جو احکام مذکور ہوئے ہیں یہی میری سیدھی راہ ہے اور یہی میرا وہ دین ہے جو میں نے اپنے بندوں کے لیے پسند کیا ہے۔ لہذا تم اسی کی پیروی کرو اور باقی تمام راستوں کو چھوڑ دو ۔ و ان ھذا الذی وصیتکم بہ وامرتکم بہ فی ھاتین الایتین ھو صراطی یعنی طریقی و دینی الذی ارتضیتہ لعبادی (خازن ج 2 ص 165) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

153 اور یہ بھی فرما دیجیے کہ یہ مذکورہ احکام ہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی راہ پر چلو اور تم دوسرے طریقوں پر نہ چلو ورنہ وہ مختلف طریقے تم کو سیدھی راہ سے الگ کردیں گے اور تم راہ مستقیم سے جدا ہو جائو گے اس بات کا تم کو خدا نے تاکید کے ساتھ حکم دیا ہے تاکہ تم کج روی سے بچو یعنی جس دنیا کے یہ احکام مذکور ہوئے وہی دین میری سیدھی راہ ہے۔