Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 18

سورة الأنعام

وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۸﴾

And He is the subjugator over His servants. And He is the Wise, the Acquainted [with all].

اور وہی اللہ اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے برتر ہے اور وہی بڑی حکمت والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ... And He is the Irresistible, above His servants, meaning, to Him the necks are subservient, the tyrants humble before Him and He has complete control over all things. The creatures have all bowed to Allah and are humbled before His grace, honor, pride, greatness, highness and ability over all things. The creatures are insignificant before Him, for they are all under His irresistible decision and power, ... وَهُوَ الْحَكِيمُ ... and He is the All-Wise, (in all His actions), ... الْخَبِيرُ Well-Acquainted with all things. Who places everything in its rightful place, grants and favors whomever deserves His favor. Allah said next,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

18۔ 1 یعنی تمام گردنیں اس کے سامنے جھکی ہوئی ہیں، بڑے بڑے جابر لوگ اس کے سامنے بےبس ہیں، وہ ہر چیز پر غالب ہے اور تمام کائنات اس کی مطیع ہے وہ اپنے ہر کام میں حکیم ہے اور ہر چیز سے باخبر ہے، پس اسے معلوم ہے کہ اس کے احسان و عطا کا کون مستحق ہے اور کون غیر مستحق۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩] یعنی کوئی شخص غلبہ و اقتدار کے پنجے سے نکل نہیں سکتا، نہ کہیں بھاگ کر جاسکتا ہے۔ لہذا بندوں کے لئے بہتر روش یہی ہے کہ اسکے آگے سر تسلیم خم کردیں۔ وہ بندوں کے حالات سے پوری طرح آگاہ ہے اور خوب سمجھتا ہے کہ ان کے لئے کونسی کارروائی مناسب ہوگی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ۭ۔۔ : یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے سوا کسی کو ولی نہیں بنانا چاہیے۔ ( رازی) مطلب یہ ہے کہ سب لوگ، خواہ بڑے سے بڑے جابر ہوں، اس کے سامنے بےبس ہیں، تمام گردنیں اس کے آگے جھکی ہوئی ہیں، وہ ہر ایک پر غالب ہے اور ساری کائنات اس کی مطیع ہے۔ صفات کمال دو ہیں، قدرت اور علم، پہلے جملے (وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ۭ ) میں کمال قدرت کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے جملے ( وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ ) سے کمال علم ثابت ہوتا ہے، یعنی وہ اپنے احکام میں کمال حکمت والا اور اپنے بندوں کے معاملات کی پوری خبر رکھنے والا ہے۔ (رازی) اس لیے غلبہ و تسلط کے باوجود اپنی مخلوق کے معاملے میں حکمت اور آگاہی کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

At the end of verse 18, it was said: وَهُوَ الْقَاهِرُ‌ فَوْقَ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ‌ ﴿١٨﴾ (And He is dominant over His slaves, and He is the Ali-Wise, the All-Aware). It means that the mastery of Allah Ta` ala prevails over His servants in the absolute sense and that everyone remains under His power and control all the time. This is the reason why no human be¬ing, no matter how great, whether a prophet close to Allah, or the most powerful ruler of the world, nine of them come out successful in everything they do, nor is every wish of theirs granted. And then, He is Wise too, for everything He does is essential Wis¬dom. And then, He is All-Aware too, for He is the One who knows everything. Thus, by the word, al-Qahir (the Dominant) pointed to is the perfect power of Allah Ta` ala and, by the word, al-Hakim (the All-Wise), His all-encompassing knowledge - and the two tell us that per¬fection in knowledge and power are the sole attributes of Almighty Al¬lah and it is only Him that they belong to.

آخر آیت میں فرمایا وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ ، یعنی اللہ تعالیٰ ہی اپنے سب بندوں پر غالب و قادر ہے، اور سب اس کے تحت قدرت اور محتاج ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا انسان خواہ اللہ کا رسول مقرب ہو یا دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ ہو اپنے ہر ارادہ میں کامیاب نہیں ہوتا، اور اس کی ہر مراد پوری نہیں ہوتی۔ وہ حکیم بھی ہے کہ اس کے تمام افعال عین حکمت ہیں، اور ہر چیز کو جاننے والا بھی ہے، اس میں لفظ ” قاہر “ سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اور لفظ ” حکیم “ سے اس کے علم محیط کا بیان کرکے بتلا دیا کہ تمام صفات کمال علم وقدرت میں منحصر ہیں اور اللہ تعالیٰ ان دونوں میں یکتا ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَہُوَالْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ۝ ٠ۭ وَہُوَالْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ۝ ١٨ قهر القَهْرُ : الغلبة والتّذلیل معا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] ، وقال : وَهُوَ الْواحِدُ الْقَهَّارُ [ الرعد/ 16] ، فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] ، فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلا تَقْهَرْ [ الضحی/ 9] أي : لا تذلل، وأَقْهَرَهُ : سلّط عليه من يقهره، والْقَهْقَرَى: المشي إلى خلف . ( ق ھ ر ) القھر ۔ کے معنی کسی پر غلبہ پاکر اسے ذلیل کرنے کے ہیں اور ان دنوں ( یعنی غلبہ اور تذلیل ) میں ستے ہر ایک معنی میں علیدہ علیدہ بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ۔ وَهُوَ الْواحِدُ الْقَهَّارُ [ الرعد/ 16] اور وہ یکتا اور زبردست ہے ۔ ۔ فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] اور بےشبہ ہم ان پر غالب ہیں ۔ فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلا تَقْهَرْ [ الضحی/ 9] تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرو اسے ذلیل نہ کرو ۔ اقھرہ ۔ کسی پر ایسے شخص کو مسلط کرنا جو اسے ذلیل کردے ۔ القھقری پچھلے پاؤں لوٹنا ۔ فوق فَوْقُ يستعمل في المکان، والزمان، والجسم، والعدد، والمنزلة، وذلک أضرب : الأول : باعتبار العلوّ. نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 63] ، مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ [ الزمر/ 16] ، وَجَعَلَ فِيها رَواسِيَ مِنْ فَوْقِها [ فصلت/ 10] ، ويقابله تحت . قال : قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ [ الأنعام/ 65] الثاني : باعتبار الصّعود والحدور . نحو قوله :إِذْ جاؤُكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ [ الأحزاب/ 10] . الثالث : يقال في العدد . نحو قوله : فَإِنْ كُنَّ نِساءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ [ النساء/ 11] . الرابع : في الکبر والصّغر مَثَلًا ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] . الخامس : باعتبار الفضیلة الدّنيويّة . نحو : وَرَفَعْنا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ [ الزخرف/ 32] ، أو الأخرويّة : وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ البقرة/ 212] ، فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا [ آل عمران/ 55] . السادس : باعتبار القهر والغلبة . نحو قوله : وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] ، وقوله عن فرعون : وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] ( ف و ق ) فوق یہ مکان ازمان جسم عدد اور مرتبہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے اور کئی معنوں میں بولا جاتا ہے اوپر جیسے فرمایا ۔ وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 63] اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا ۔ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ [ الزمر/ 16] کے اوپر تو آگ کے سائبان ہوں گے ۔ وَجَعَلَ فِيها رَواسِيَ مِنْ فَوْقِها [ فصلت/ 10] اور اسی نے زمین میں اس کے پہاڑ بنائے ۔ اس کی ضد تحت ہے جس کے معنی نیچے کے ہیں چناچہ فرمایا ۔ قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ [ الأنعام/ 65] کہ وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے ۔ 2 صعود یعنی بلند ی کی جانب کے معنی میں اس کی ضدا سفل ہے جس کے معنی پستی کی جانب کے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ إِذْ جاؤُكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ [ الأحزاب/ 10] جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی جانب سے تم پر چڑھ آئے ۔ 3 کسی عدد پر زیادتی کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَإِنْ كُنَّ نِساءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ [ النساء/ 11] اگر اولاد صرف لڑکیاں ہی ہوں ( یعنی دو یا ) دو سے زیادہ ۔ 4 جسمانیت کے لحاظ سے بڑا یا چھوٹا ہونے کے معنی دیتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : مَثَلًا ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز مثلا مکھی ۔ مکڑی کی مثال بیان فرمائے ۔ 5 بلحاظ فضیلت دنیوی کے استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا ۔ وَرَفَعْنا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ [ الزخرف/ 32] اور ایک دوسرے پر درجے بلند کئے ۔ اور کبھی فضلیت اخروی کے لحاظ سے آتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ البقرة/ 212] لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر پر فائق ہوں گے ۔ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا [ آل عمران/ 55] کافروں پر فائق ۔ 6 فوقیت معنی غلبہ اور تسلط کے جیسے فرمایا : ۔ وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ۔ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] فرعون سے اور بےشبہ ہم ان پر غالب ہیں ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔ حكيم فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ، وعلی ذلک قال : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] ، وقیل : معنی الحکيم المحکم «3» ، نحو : أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ، وکلاهما صحیح، فإنه محکم ومفید للحکم، ففيه المعنیان جمیعا، والحکم أعمّ من الحکمة، فكلّ حكمة حكم، ولیس کل حکم حكمة، فإنّ الحکم أن يقضی بشیء علی شيء، فيقول : هو كذا أو ليس بکذا، قال صلّى اللہ عليه وسلم : «إنّ من الشّعر لحكمة» أي : قضية صادقة لہذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ اور قرآن پاک کو حکیم یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ حکمت کی باتوں پر مشتمل ہے جیسے فرمایا ۔ الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] یہ بڑی دانائی کی کتان کی آیئیں ہیں ۔ نیز فرمایا : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] اور ان کو ایسے حالات ( سابقین پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے اور کامل دانائی ) کی کتاب بھی ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قرآن پاک کے وصف میں حکیم بمعنی محکم ہوتا ہے جیسے فرمایا :، أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ا حکمت ایا تہ جس کی آیتہ ( جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔ اور یہ دونوں قول صحیح ہیں کیونکہ قرآن پاک کی آیات محکم بھی ہیں اور ان میں پراز حکمت احکام بھی ہیں لہذا ان ہر دو معافی کے لحاظ سے قرآن محکم سے ۔ حکم کا لفظ حکمۃ سے عام ہے ہر حکمت کو حکم کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ہر حکم حکمت نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ حکم کے معنی کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کے ہوتے ہیں کہ وہ یوں ہے یا یوں نہیں ہے ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ بعض اشعار مبنی برحکمت ہوتے ہیں جیسا کہ کبید نے کہا ہے ( ویل ) کہ خدائے تعالیٰ کا تقوی ہی بہترین توشہ ہے خبیر والخَبِيرُ : الأكّار فيه، والخبر : المزادة العظیمة، وشبّهت بها النّاقة فسمّيت خبرا، وقوله تعالی: وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] ، أي : عالم بأخبار أعمالکم، ( خ ب ر ) الخبر کسان کو ِِ ، ، خبیر ، ، کہاجاتا ہے ۔ الخبر۔ چھوٹا توشہ دان ۔ تشبیہ کے طور پر زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کو بھی خبر کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ :۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] اور جو کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی حقیقت کو جانتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨ (وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہ ٖط وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ ) ۔ وہ زور آور ہے ‘ اس کا اقتدار پوری کائنات پر محیط ہے ‘ اس کی مخلوقات میں سے کوئی بھی اس کے قابو سے باہر نہیں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:18) القاھر۔ القھر کے معنی کسی پر غلبہ پا کر اسے ذلیل کرنے کے ہیں اور تذلیل و غلبہ ہر دو کے معنی میں علیحدہ علیحدہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ آیت ہذا میں معنی یہ ہوں گے۔ وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ واما الیتیم فلا تقھر (93:9) تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرو۔ یعنی اسے ذلیل نہ کرو القاھر خبر ہے ھو مبتدا کی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو ولی نہیں بنانا چاہیے (رازی) یعنی عرش معلی ٰ پر جر تمام مخلوقات سے بالا ہے اہل حدیث اللہ تعالیٰ کے فق الفوق ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں احادیث صحیحہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا بیان ہے اور یہ عرش آسمانوں کے اوپر ہے۔ ( وحیدی) صفات کمال دوہی ہیں قدرت اور علم پہلے جملہ وھو القاھر فمق عبادہ) میں کمال قدرت کی طرف اشارہ ہے اور (الحکیم الخبیر) سے کمال علم کا ثبات مقصود ہے۔ (رازی) ج یعنی اپنے احکام دینے میں حکمت والا اور اپنے بندوں کے معاملات اور ضروریات سے باخبر ہے !

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اوپر توحید و رسالت کے باب میں جداجدا کلام ہوا ہے آگے دونوں میں مجتمعا کلام ہے چناچہ انکم لتشھدون میں توحید کی بحث ہے اور قل اللہ شھید بینی میں رسالت کی بحث ہے شان نزول بھی دو واقعے دونوں مسئلوں کے متعلق ہیں چناچہ کلبی نے روایت کیا ہے کہ کفار مکہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکرکہا کہ کیا خدا تعالیٰ کو آپ کے سوا کوئی رسول نہیں ملا ہم تو نہیں سمجھتے کہ آپ کے دعوے کی کوئی تصدیق کرسکتا ہے اور ہم نے تو یہود و نصاری سے پوچھ کر دیکھ لیا ہے وہ تو یوں کہتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں آپ کا ذکر ہی نہیں ہے سو ہم کو کوئی بتلائیے جو اس بات کی گواہی دے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ابن جریر نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ تمام بن زید اور قروم بن کعب اور بحری بن عمرو آپ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ کیا آپ کے علم میں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی اور معبود نہیں آپ نے فرمایا کہ واقع میں بھی سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں میں تو یہی دے کر بھیجا گیا ہوں اور اسی کی دعوت دیتا ہوں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ ھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ ) (اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور حکمت والا ہے باخبر ہے، وہ جسے جس حال میں رکھے اسے اختیار ہے وہ حکیم ہے سب کچھ اس کی حکمت کے موافق ہے اور وہ خبیر بھی ہے سب کے احوال و اعمال کا اسے علم ہے جس کے ساتھ جو بھی معاملہ ہے حکمت کے موافق ہے اور علم کے مطابق ہے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

20 یہ بھی دلیل ہی کا حصہ ہے اور وہ کسی کے سامنے عاجز و مغلوب نہیں ہوسکتا۔ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ اور وہی حکمت والا اور وہی ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ تینوں صفتوں کے صیغوں پر الف لام افادہ حصر کیلئے ہے واللام ھنا و فیما تقدم للقصر (ص 117 ج 7) اس عقلی دلیل سے اللہ تعالیٰ کا کمال قدرت اور کمال علم ثابت ہوگیا۔ لہذا جب اس کے سوا کوئی قادر مطلق اور غیب دان نہیں تو اس کے سوا کارساز بھی کوئی نہیں۔ وَھُوَالْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ اشارۃ الی کمال القدرۃ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْر اشارۃ الی کمال العلم (بحر ج 4 ص 89) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

18 اور وہی اپنے بندوں پر ہر اعتبار سے غالب اور قادر ہے اور بڑی حکمت والا اور اپنے بندوں کے احوال سے پوری طرح باخبر ہے۔