Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 3

سورة الأنعام

وَ ہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ یَعۡلَمُ سِرَّکُمۡ وَ جَہۡرَکُمۡ وَ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۳﴾

And He is Allah , [the only deity] in the heavens and the earth. He knows your secret and what you make public, and He knows that which you earn.

اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی وہ تمہارے پوشیدہ احوال کو بھی اور تمہارے ظاہر احوال کو بھی جانتا ہے اور تم جو کچھ عمل کرتے ہو اس کو بھی جانتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And He is Allah in the heavens and the earth, He knows what you conceal and what you reveal, and He knows what you earn. Meaning, it is He Who is called Allah, throughout the heavens and the earth, that is, it is He who is worshipped, singled out, whose divinity is believed in by the inhabitants of the heavens and the earth. They call Him Allah, and they supplicate to Him in fear and hope, except those who disbelieve among the Jinns and mankind. In another Ayah, Allah said; وَهُوَ الَّذِى فِى السَّمأءِ إِلَـهٌ وَفِى الاٌّرْضِ إِلَـهٌ It is He Who is God in the heavens and the earth. (43:84) meaning, He is the God of those in heaven and those on earth, and He knows all affairs, public and secret. ... وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ And He knows what you earn. all the good and bad deeds that you perform.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود تو عرش پر ہے، جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ لیکن اپنے علم کے لحاظ سے ہر جگہ ہے۔ یعنی اس کے علم و خبر سے کوئی چیز باہر نہیں۔ البتہ بعض گمراہ فرقے اللہ تعالیٰ کو عرش پر نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے اور اس آیت سے اپنے اس عقیدے کا اثبات کرتے ہیں۔ لیکن یہ عقیدہ جس طرح غلط ہے یہ دلیل بھی صحیح نہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ذات جس کو آسمانوں میں اور زمین میں اللہ کہہ کر پکارا جاتا ہے اور آسمانوں اور زمین میں جس کی حکمرانی ہے اور آسمانوں اور زمین میں جس کو معبود برحق سمجھا اور مانا جاتا ہے وہ اللہ تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اور جو کچھ تم عمل کرتے ہو سب کو جانتا ہے (فتح القدیر) اس کی اور بھی بعض توجیہات کی گئی ہیں جنہیں اہل علم تفسیروں میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ مثلا تفسیر طبری و ابن کثیر وغیرہ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] اللہ کا ہر جگہ موجود ہونا :۔ انسان کے اوپر آسمان، اس کے نیچے زمین اور ان کے درمیان چاند سورج تارے اور ہوائیں غرض جو کچھ بھی انسان کو نظر آتا ہے ان سب کا انتظام و انصرام اللہ اکیلے کے ہاتھ میں ہے پھر وہ تمہارے ظاہر و باطن حتیٰ کہ دلوں کے راز تک جانتا ہے۔ تبھی تو وہ ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے اس آیت اور اس جیسی بعض دوسری آیات سے بعض لوگوں کو یہ دھوکہ ہوا کہ اللہ بذات خود ہر جگہ موجود ہے اور بعض نے کہا کہ ہر شے میں موجود ہے جبکہ بہت سی دوسری آیات اور صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ اللہ کی ذات ساتوں آسمانوں سے ماوراء عرش پر ہے۔ رہی اللہ کی زمین و آسمان میں اور ہر جگہ اس کی موجودگی تو وہ اس کے علم اور اس کی قدرت کے لحاظ سے اور ان صفات میں کمال کی وجہ سے ہے۔ اس کی قدرت اور اس کے علم کا یہ حال ہے کہ وہ عرش پر ہوتے ہوئے بھی رتی رتی چیز کو دیکھ رہا ہے اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ ہر پکارنے والے کی پکار سن رہا ہے ماسوائے چند گمراہ فرقوں کے جمہور اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الْاَرْضِ ۭ۔۔ : اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال کو ثابت کیا ہے، اس آیت میں اس کے علم کا کامل ہونا ثابت فرمایا ہے، یعنی وہی ہستی ہے جسے آسمانوں اور زمین میں اللہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ آیت تقریباً اس آیت کی ہم معنی ہے : (وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْم) [ الزخرف : ٨٤ ]” اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہ کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ “ یعنی آسمانوں اور زمین میں ایک ہی ذات ہے جسے ” اللہ “ کہہ کر پکارا جاتا ہے، جس کی آسمانوں اور زمین دونوں میں حکومت ہے اور دونوں میں اس اکیلے ہی کی عبادت کی جاتی ہے، کیونکہ وہ تمہاری ہر چھپی یا کھلی بات کو اور تمہارے ہر عمل کو جانتا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے علم کا کمال ثابت ہوتا ہے اور یہ کمال اس کے معبود برحق ہونے کی ایک دلیل ہے۔ بعض لوگ اس آیت کو اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کے خلاف بطور دلیل پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر جگہ ہے اور کوئی عرش وغیرہ نہیں، جس پر اللہ تعالیٰ بلند ہو، حالانکہ اس آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں، کیونکہ آیت میں اس کی ذات یا شخصیت کے آسمان و زمین میں ہونے کا بیان نہیں بلکہ زمین و آسمان میں اس کے ” اللہ “ یعنی معبود برحق ہونے کا بیان ہے، رہی اس کی ذات تو قرآن مجید میں اس کے عرش کا اور اللہ تعالیٰ کے اس کے اوپر ہونے کا واضح بیان ہے۔ قرآن کریم میں تقریباً اٹھارہ جگہ اللہ تعالیٰ کے عرش کا ذکر ہے، اور آٹھ جگہ اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر ہے، اس لیے اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش کے اوپر ہے، البتہ اپنے علم اور قدرت کے اعتبار سے وہ ہر جگہ ہے۔ اس لیے یہاں اس کے زمین و آسمان میں اللہ اور الٰہ ہونے کا مطلب یہی ہے کہ دونوں جگہ عبادت اسی کی کرنا لازم ہے اور دونوں جگہ وہی ہے جو کمال علم کی وجہ سے معبود برحق ہونے کا حق دار ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The third verse contains the consequential outcome of what was said in the first two verses. It declares that Allah is the only Being who is worthy of worship and obedience in all the heavens and the earth, and He is the One who knows everything human beings conceal or reveal and, particularly, everything they say or do.

تیسری آیت میں پہلی دو آیتوں کے مضمون کا نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو آسمانوں اور زمین میں لائقِ عبادت و اطاعت ہے، اور وہی تمہارے ظاہر و باطن کے ہر حال اور ہر قول و فعل سے پورا واقف ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَہُوَاللہُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الْاَرْضِ۝ ٠ۭ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَہْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ۝ ٣ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ سرر (كتم) والسِّرُّ هو الحدیث المکتم في النّفس . قال تعالی: يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] ، وقال تعالی: أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْواهُمْ [ التوبة/ 78] ( س ر ر ) الاسرار السر ۔ اس بات کو کہتے ہیں جو دل میں پوشیدہ ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] وہ چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے ۔ جهر جَهْر يقال لظهور الشیء بإفراط حاسة البصر أو حاسة السمع . أمّا البصر فنحو : رأيته جِهَارا، قال اللہ تعالی: لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً [ البقرة/ 55] ، أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً [ النساء/ 153] ( ج ھ ر ) الجھر ( ف) اس کے اصل معنی کسی چیز کا حاسہ سمع یا بصر میں افراط کے سبب پوری طرح ظاہر اور نمایاں ہونے کے ہیں چناچہ حاسہ بصر یعنی نظروں کے سامنے کسی چیز کے ظاہر ہونے کے متعلق کہا جاتا ہے رایتہ جھرا کہ میں نے اسے کھلم کھلا دیکھا قرآن میں ہے :۔ لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً [ البقرة/ 55] کہ جب تک ہم خدا کو سامنے نمایاں طور پر نہ دیکھ لیں تم پر ایمان نہیں لائیں گے ۔ أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً [ النساء/ 153] ہمیں نمایاں اور ظاہر طور پر خدا دکھا دو ۔ كسب ( عمل رزق) الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی: أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] روي أنه قيل للنّبي صلّى اللہ عليه وسلم «4» : أيّ الکسب أطيب ؟ فقال عليه الصلاة والسلام، «عمل الرجل بيده» ، وقال : «إنّ أطيب ما يأكل الرجل من کسبه وإنّ ولده من كَسْبِهِ» «1» ، وقال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] وقد ورد في القرآن في فعل الصالحات والسيئات، فممّا استعمل في الصالحات قوله : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] ، وقوله : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] «2» . وممّا يستعمل في السّيّئات : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] ، أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] ( ک س ب ) الکسب ۔ اصل میں جلب نفع یا خوش نصیبی حاصل کرنے کے لئے کسی چیز کا قصد کرنے کو کسب کہتے ہیں جیسے کسب مال وغیرہ ایسے کام کے قصد پر بولا جاتا ہ جسے انسان اس خیال پر کرے کہ اس سے نفع حاصل ہوگا لیکن الٹا اس کو نقصان اٹھا نا پڑے ۔ پس الکسب ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی ذا ت اور اس کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے کرے اسی لئے یہ کبھی دو مفعولوں کو طرف متعدی ہوتا ہے جیسے کسبت فلانا کذا میں نے فلاں کو اتنا کچھ حاصل کرکے دیا ۔ مگر الاکتساب ایسا کام کرنے کو کت ہے ہیں جس میں انسان صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھے لہذا ہر اکتساب لازم نہیں ہے ۔ اور یہ خبز و اختبرزو شوٰ ی واشتویٰ ، وطبخ و طبخ کی طرف ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کھاتے ہو ۔۔۔۔ اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو ۔ کے متعلق آنحضرت سے سوال کیا گیا ای الکسب اطیب کہ کونسا کسب زیادہ پاکیزہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمل الرجل بیدہ کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیز فرمایا : ان طیب مایکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ سب سے زیادہ پاکیزہ رزق وہ ہی جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھا اور اسکی اولاد اس کے کسب سے ہے : قرآن میں ہے : لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] اسی طرح ( یہ ریا کار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ اور قرآن میں نیک وبددونوں قسم کے اعمال کے متعلق یہ فعل استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ اعمال صالحہ کے متعلق فرمایا : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] یا اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئ ہونگے اور آیت کریمہ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] کے بعد فرمایا : انکے کاموں کا ( حصہ ) اور اعمال بدکے متعلق فرمایا : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] تاکہ ( قیامت کے دن کوئی شخص اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣) اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں اور وہ ہی معبود برحق زمینوں میں ہے جو تمہاری ظاہری اور پوشیدہ سب باتوں کا اور جو تم نیکیاں اور برائیاں کرتے ہو وہ سب سے باخبر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ (وَہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَفِی الْاَرْضِ ط) ایسا نہیں ہے کہ آسمانوں کا خدا کوئی اور ہو زمین کا کوئی اور۔ ہاں فرشتوں کے مختلف طبقات ہیں۔ زمین کے فرشتے ‘ فضا کے فرشتے اور آسمانوں کے فرشتے معین ہیں۔ پھر ہر آسمان کے الگ فرشتے ہیں۔ پھر ملائکہ مقربین ہیں۔ لیکن ذات باری تعالیٰ تو ایک ہی ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 اوپر کی آیتوں میں کمال قدرت کا ثابت ہے علما سلف سے مقول ہے کہ اللہ تعالیٰ ہے تو عرش پر لیکن اس کا علم ہر جگہ ہے، صحابہ وتابعین اور اہل سنت کا یہی اعتقاد ہے صرف بعض بدعتی فرقے ہی اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کے منکر ہیں اور یہ گمراہو کا اعتقاد ہے کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔ (وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ توحید تینوں آتیوں کا مقصود مشترک ہے یعنی عبادت کے لائق وہ ہے جس میں یہ صفات ہوں کہ وہ خالق افق وآفاق کا ہے اور عالم غیب و شہادت کا ہو ارآخر کی دوآیتوں میں بعث کی خبر اور اس کے امتناع کا دفع اور محاسبہ علی الکسب پر تنبیہ بھی ہے جس سے شرک پر وعید ثابت ہوگئی اور دوسرے اجل کے علم کو اپنے ساتھ مخصوص فرمایا کیونکہ پہلے اجل کا گو قطعی علم نہ سہی مگر ظنی طور پر علامات سے معلوم ہوجاتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : توحید کے دلائل کا تذکرہ جاری ہے۔ اس سے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق اس کی موت وحیات کا ذکر تھا۔ اب اللہ تعالیٰ یہ بتلانا چاہتا ہے کہ اے انسان تجھے ہوش کے ناخن لینے اور اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کو پیدا کرنے کے بعد الگ تھلگ ہو کر گوشہ نشین نہیں ہوا۔ بلکہ جس طرح وہ زمین و آسمان کے چپہ چپہ اور ذرہ ذرہ سے واقف اور ان کے نظام کو سنبھالے ہوئے ہے اسی طرح وہ انسان کی جلوت و خلوت اور ہر قسم کی نقل و حرکت سے واقف ہے۔ کسب کا لفظ استعمال فرما کر انسان کے کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اسے اپنے فکر و عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے کردار سے پوری طرح واقف ہے۔ تخلیق کائنات کا پہلے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اے انسان ! اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات کبریا ہے جو لامحدود وسعتوں کی حامل زمین جو تہ در تہ سات طبقات پر مشتمل ہے اور آسمان جو اپنی وسعت و کشادگی اور رفعت و بلندی کے اعتبار سے انسانی تخیلات سے ماوراء ہے جب ان کے ایک ایک ذرّے پر اللہ تعالیٰ کنٹرول کیے ہوئے ہے تو تجھے بھی غور کرنا چاہیے کہ تیری جلوت و خلوت، اچھی اور بری حرکت۔ اللہ تعالیٰ کے اختیار سے باہر نہیں ہوسکتی یہ تو اس کی حکمت بالغہ اور ابدی فیصلے کا نتیجہ ہے کہ اس نے انسان کو ایک مدت معینہ تک ڈھیل دے رکھی ہے لیکن انسان کی کوتاہ بینی کا عالم یہ ہے کہ وہ چار سو پھیلی ہوئی اس کی قدرت کی نشانیوں سے اعراض اور انحراف کرتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ جب بھی انسان کے سامنے انبیاء (علیہ السلام) نے حق پیش کیا تو انسانوں کی غالب اکثریت نے اس کی تکذیب کی۔ اس تکذیب کا نتیجہ عنقریب ان کے سامنے آجائے گا جو اللہ تعالیٰ کی پکڑ کی صورت میں ہوگا۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تجلی فرمائی اس وقت وہ اندھیری رات میں پتھر پر چلنے والی چیونٹی کو دیکھ رہا تھا دس فرسخ کے فاصلے سے۔ “ [ (الشفا) بحوالہ ابن کثیر ]

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٣ : ” وہی ایک خدا آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی ‘ تمہارے کھلے اور چھپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یا بھلائی تم کماتے ہو اس سے خوب واقف ہے ۔ “ وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ‘ وہی آسمانوں اور زمین کی حاکم مطلق ہے ۔ اس حق حاکمیت میں وہ منفرد ہے ۔ زمین و آسمان دونوں پر اس کی حکومت کو تسلیم کیا جانا چاہئے ۔ اللہ کی شان حاکمیت ‘ زمین و آسمان میں پوری طرح جاری وساری ہے ۔ یوں کہ زمین و آسمان میں اللہ کا جاری کردہ ناموس کائنات ان پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ اس سے سرتابی نہیں کرسکتے ۔ اسی طرح اللہ کی منشا یہ ہے کہ انسانوں کی زندگی کے اندر بھی اللہ کا حکم ‘ قانون اور شریعت جاری ہو ‘ اس لئے کہ جس طرح اللہ نے ذمین و آسمان کی تخلیق فرمائی ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھی پیدا کیا ہے ۔ انسانی اپنی ابتدائی تخلیق کے وقت اس زمین کی مٹی سے پیدا کیا گیا ۔ اس کے اندر وہ خصائص رکھے گئے جن کی وجہ سے وہ انسان بنا اور اس زمین ہی سے اس کے رزق کا بھی بندوبست کیا گیا ۔ یہ انسان اپنی جسمانی تخلیق کے زاویہ سے بھی اسی قانون قدرت کا تابع ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کی ذات کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا ‘ نہ اس کی ماں اور باب کی مشیت اور ارادے کا اس میں کوئی دخل ہوتا ہے ۔ وہ دونوں باہم ملتے ضرور ہیں لیکن وہ بچے میں روح نہیں ڈال سکتے نہ جنین کو وجود بخش سکتے ہیں ۔ یہ بچہ ان تمام قوانین قدرت کے مطابق مدت حمل پوری کرکے اس ناموس فطرت کے مطابق بطن مادر سے باہر آتا ہے جو اس کے لئے رب ذوالجلال نے تجویز کیا ہے ۔ وہ اس ہوا میں سانس لیتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیمانوں کے مطابق بنایا ہے اور وہ اسی قدر اور اسی کیفیت کے مطابق سانس لیتا ہے جو اللہ کے قانون قدرت نے وضع فرمائے ۔ اس کا احساس رنج والم ‘ اس کا بھوک اور پیاس کا احساس ‘ اس کا کھانا اور پینا اور عام طور پر زندہ رہنا عین ناموس فطرت کے مطابق ہوتا ہے ۔ اس میں اس کے ارادے کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔ اپنے فطری وجود کے اعتبار سے انسان اور زمین و آسمان کی فطرت اور ناموس کے اندر کوئی فرق نہیں ہے ۔ اللہ وہ ذات ہے کہ انسان کے بھیدوں سے بھی واقف ہے ۔ اور اس کی ظاہری باتوں سے بھی واقف ہے ۔ وہ جو اعمال بھی کرتا ہے چاہے وہ ظاہری ہوں یا خفیہ ہوں ان سب سے اللہ اچھی طرح باخبر ہے اس لئے حق تو یہ ہے کہ وہ اللہ کے اس ناموس اور قانون کا بھی اتباع کرے جو اللہ نے اس کی اختیاری زندگی کے لئے تجویز کیا ہے ۔ وہ اپنے نظریات وزندگی جو ناموس تکوینی کے اندر جکڑی ہوئی ہے اور وہ زندگی جو اختیاری ہے دونوں میں وہ اللہ کی شریعت کے تابع ہو ‘ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائیں ۔ ان دونوں زندگیوں کے اندر کوئی تضاد اور کشمکش نہ ہو ‘ کوئی عملی تصادم نہ ہو اور یہ دونوں ناموس باہم تکڑا کر پاش پاش نہ ہوجائیں کہ اس کائنات اور زندگی میں الہی ناموس ہو اور اختیاری اور قانون اور شرعی زندگی طاغوتی اور غیر اسلامی بنیادوں پر استوار نہ ہو۔ درس نمبر ٥٦ ایک نظر میں : افتتاح سورة کے بعد یہ ایک دوسری لہر ہے ۔ پہلی لہر کے اثرات نہایت ہی دور رس تھے ۔ اس نے اس پوری کائنات کو حقیقت وجود باری سے بھر دیا تھا ۔ صرف زمین و آسمان کی تخلیق اور نور وظلمت کے ظہور سے اس میں اس حقیقت پر استدلال کیا گیا ۔ پھر یہ بتایا گیا کہ اس تاریک مادے سے اللہ نے انسان جیسی مخلوق کو پیدا کیا ۔ اس کی زندگی کے خاتمے کے لئے ایک مقررہ وقت دیا اور بتایا گیا کہ بعث بعد الموت کے لئے بھی ایک وقت مقرر ہے جس کا سوائے اللہ کے کسی کو علم نہیں ہے ۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ ذات باری لوگوں کے تمام افعال واقوال کو جانتی ہے ۔ وہ چھپے اور ظاہر سے بھی واقف ہے اور ان کے پورے اعمال سے باخبر ہے ۔ وجود باری جو انفس اور آفاق میں تاباں ہے ‘ وہ منفرد اور واحد وجود ہے ۔ اس جیسا کوئی دوسرا وجود نہیں ہے اللہ کے سوا کوئی اور خالق نہیں ہے ۔ وہ بھرپور ‘ روشن اور نہایت ہی چھایا ہوا وجود حق ہے ۔ ان آیات و دلائل کی روشنی میں اس کی تکذیب نہایت ہی مکروہ فعل ہے جس کی کوئی سند نہیں ہے اور یہ منکر معذور تصور ہوگا ۔ اس لئے اس لہر میں مشرکین کے موقف کو اس وجود برحق کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے کہ یہ لوگ دعوت اسلامی کا انکار ایسے حالات میں کر رہے ہیں کہ ذات باری پر روشن دلائل ان کے انفس وآفاق میں واضح طور پر موجود ہیں ‘ اس لئے ان کا یہ موقف نہایت ہی مکروہ اور ناپسندیدہ ہے ۔ ان منکرین کا یہ طرز عمل خود ان کے اپنے احساس و شعور کی رو سے بھی مکروہ ہے اس لئے کہ قرآن ان کے سامنے یہ دلائل پیش کر رہا تھا ۔ چناچہ پہلے ہی معرکے میں قرآن کریم انہیں شکست دے دیتا ہے اور لوگوں کی فطرت کی گہرائیوں کے اندر اس سچائی کو اتار دیتا ہے اگرچہ بظاہر وہ مکابرہ میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن دراصل عناد کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ۔ قرآن کریم اس عہد میں ان کے عناد اور غرور اور مکابرہ کی ایک تصویر کبھی تو نہایت ہی تہدید آمیز لہجے میں اور تلخ نوائی کے ساتھ پیش کرتا ہے اور کبھی ان کو یوں دعوت دیتا ہے کہ ذرا اس سے پہلے کے جھٹلانے والوں کے انجام کی تاریخ پر غور کرو ۔ جس میں بیشمار سامان عبرت وبصیرت ہے ۔ بعض اوقات ان جھٹلانے والوں کا انجام بھی سامنے رکھ دیتا ہے اور بیشمار ہدایات واشارات فراہم کردیتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ ھُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ ) (یعنی وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمین میں معبود ہے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ (فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ ) معنی وصفی سے متعلق صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے اور عبادت کے لائق ہے۔ بعض حضرات نے جار مجرور کو المالک اور المتصرف سے بھی متعلق بتایا ہے جو محذوف ہے اور مطلب یہ ہے وَ ھُوَ الْمَالِکُ وَ الْمُتَصَرِّفُ الْمُدَبِّرُ فِیْھِمَا حَسْبُ مَا یَقْتَضِیْہِ مَشِیْءَۃِ المبینۃ علی الحکم البالغۃ (من روح المعانی ص ٨٩ ج ٧) اللہ تعالیٰ کو ظاہر اور پوشیدہ ہر چیز کا علم ہے پھر فرمایا (یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَ جَھْرَکُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُوْنَ ) کہ جو اقوال و اعمال ہیں جو جو نیتیں اور ارادے ہیں جو تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سب کو جانتا ہے۔ تمہارے اعمال کو بھی جانتا ہے خواہ یہ اعمال قلب کے ہوں یا جو ارح کے اس کے بعد تکذیب کرنے والوں کی عادت بیان فرمائی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5 لفظ اللہ سے وصف مشہور مراد ہے یعنی فاعل اور متصرف، اب حرف جار لفظ اللہ کے متعلق ہوگا اور ظرفیت کا معنی درست ہوگا۔ اس آیت کی ابتداء میں حصر ہے اس لیے اس کے باقی حصوں میں بھی حصر ہوگا یعنی زمین و آسمان میں وہی متصرف ہے اور وہی تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ یہ صفتیں اللہ کے سوا کسی اور میں نہیں ہیں۔ لہذا اس کے سوا متصرف و کارساز بھی کوئی نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

3 اور وہی معبود برحق ہے آسمانوں میں اور وہی معبود برحق ہے زمین میں وہ تمہارے پوشیدہ اور چھپے احوال کو بھی جانتا ہے اور تمہارے کھلے اور ظاہر احوال کو بھی خوب جانتا ہے اور جو کچھ تم عمل کرتے رہتے ہو خواہ وہ پوشیدہ عمل ہوں یا علانیہ ہوں ان سب کو بھی جانتا ہے۔