Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 34

سورة الأنعام

وَ لَقَدۡ کُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَصَبَرُوۡا عَلٰی مَا کُذِّبُوۡا وَ اُوۡذُوۡا حَتّٰۤی اَتٰہُمۡ نَصۡرُنَا ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَکَ مِنۡ نَّبَاِی الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۳۴﴾

And certainly were messengers denied before you, but they were patient over [the effects of] denial, and they were harmed until Our victory came to them. And none can alter the words of Allah . And there has certainly come to you some information about the [previous] messengers.

اور بہت سے پیغمبر جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں ان کی بھی تکذیب کی جاچکی ہے سو انہوں نے اس پر صبر ہی کیا ، ان کی تکذیب کی گئی اور ان کو ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ کہ ہماری امداد ان کو پہنچی اور اللہ کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں اور آپ کے پاس بعض پیغمبروں کی بعض خبریں پہنچ چکی ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا ... Verily, (many) Messengers were denied before you, but with patience they bore the denial, and they were hurt, till Our help reached them, This comforts the Prophet's concern for those who denied and rejected him. Allah also commands the Prophet to be patient, just as the mighty Messengers before him were. He also promised him victory, just as the previous Messengers were victorious and the good end was theirs, after the denial and harm their people placed on them. Then, victory came to them in this life, just as victory is theirs in the Hereafter. Allah said, ... وَلاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللّهِ ... and none can alter the Words of Allah. This refers to His decision that victory in this life and the Hereafter is for His believing servants. Allah said in other Ayat, وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَـلِبُونَ And, verily, Our Word has gone forth of old for Our servants, the Messengers. That they verily would be made triumphant. And that Our hosts, they verily would be the victors. (37:171-173) and, كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ Allah has decreed: "Verily! It is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, Almighty. (58:21) Allah said; ... وَلَقدْ جَاءكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ Surely, there has reached you the information about the Messengers (before you). who were given victory and prevailed over the people who rejected them. And you (O Muhammad), have a good example in them. Allah said next,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

34۔ 1 نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مزید تسلی کے لئے کہا جا رہا ہے کہ یہ پہلا واقع نہیں ہے کہ کافر اللہ کے پیغمبر کا انکار کر رہے ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں جن کی تکذیب کی جاتی رہی ہے پس آپ بھی ان کی اقتدا کرتے ہوئے اسی طرح صبر اور حوصلے سے کام لیں، حتٰی کہ آپ کے پاس بھی اسی طرح ہماری مدد آجائے، جس طرح پہلے رسولوں کی ہم نے مدد کی اور ہم اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتے۔ ہم نے وعدہ کیا ہوا ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) 040:051 یقینا ہم اپنے پیغمبروں اور اہل ایمان کی مدد کریں گے (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ) 058:021 اللہ نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب رہیں گے وغیرها من الایات (الصافات) 34۔ 2 بلکہ اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا کہ آپ کافروں پر غالب و منصور رہیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ 34۔ 3 جن سے واضح ہے کہ ابتدا میں گو ان کی قوموں نے انھیں جھٹلایا، انھیں ایذائیں پہنچائیں اور ان کے لئے عرصہ حیات تنگ کردیا لیکن بالآخر اللہ کی نصرت سے کامیابی و کامرانی اور نجات ابدی انہی کا مقدر بنی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٨] حق کو غالب کرنے کے لئے اللہ کی سنت یا قوانین کیا ہیں ؟ کلمات سے یہاں مراد اللہ کے وہ قوانین یا سنت جاریہ ہے جو حق و باطل کے معرکہ میں پیش آتے ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ کوئی نبی یا رسول جب اپنی دعوت کا آغاز کرتا ہے تو ہر طرف سے اس کی مخالفت پر لوگ کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔۔ پھر انہی میں سے کچھ سلیم فطرت اور اخلاق فاضلہ رکھنے والے لوگ نبی پر ایمان لاتے ہیں اور اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ اب یہ ایمان لانے والی جماعت اور خود نبی کی ذات مخالفین کے ظلم و تشدد کا نشانہ بنتے، ظلم و ستم سہتے اور صبر و ثبات سے کام لیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ان کی افرادی قوت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہ ستم زدہ لوگ مقابلتاً کمزور ہونے کے باوجود باطل سے ٹکر لینے پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اللہ کی مدد ان کے شامل حال ہوتی ہے اس سے پہلے نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہرگز نہیں کہ ایمان لانے والوں کو آزمائے بغیر اور انہیں مشکلات و مصائب سے گزارے بغیر از خود ہی بعض معجزانہ قسم کے حالات پیدا کر کے حق کو باطل پر غالب کر دے۔ یہ ایسے قوانین ہیں جن میں کوئی بھی تبدیلی نہیں لاسکتا۔ جیسا کہ آپ کو پہلے رسولوں کے حالات سے یہ باتیں معلوم ہو ہی چکی ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ۔۔ : اس آیت میں ایک دوسرے طریقے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ صرف آپ ہی کو نہیں، بلکہ آپ سے پہلے کئی انبیاء و رسل کو بھی جھٹلایا گیا، اس لیے آپ بھی اسی طرح صبر و استقامت سے کام لیں جس طرح انھوں نے لیا۔ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ : ” لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ“ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی نصرت اور آپ کو غالب اور کفار کو مغلوب کرنے کا وعدہ کیا ہے، جیسے : ( اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ ) [ المؤمن : ٥١ ] ” بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ “ اور فرمایا : (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ) [ المجادلۃ : ٢١ ] ” اللہ نے لکھ دیا کہ ضرور بالضرور میں غالب رہوں گا اور میرے رسول۔ “ اور فرمایا : (هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۭ ) [ الفتح : ٢٨ ] ” وہی ہے جس نے اپنا رسول بھیجا ہدایت اور دین حق کے ساتھ، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے۔ “ تو یہ وعدہ ہر حال میں پورا ہوگا، لہٰذا آپ اطمینان رکھیں کہ اللہ کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا، جس طرح انھوں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اسی طرح آپ بھی صبر و استقامت سے اپنی دعوت پیش کرتے رہیں اور کسی بےچینی کو اپنے اندر راہ نہ پانے دیں۔ یقیناً آپ کی بھی اسی طرح نصرت و تائید کی جائے گی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰٓي اَتٰىہُمْ نَصْرُنَا۝ ٠ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللہِ۝ ٠ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ۝ ٣٤ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں أذي الأذى: ما يصل إلى الحیوان من الضرر إمّا في نفسه أو جسمه أو تبعاته دنیویاً کان أو أخرویاً ، قال تعالی: لا تُبْطِلُوا صَدَقاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذى [ البقرة/ 264] ( ا ذ ی ) الاذیٰ ۔ ہرا س ضرر کو کہتے ہیں جو کسی جاندار کو پہنچتا ہے وہ ضرر جسمانی ہو یا نفسانی یا اس کے متعلقات سے ہو اور پھر وہ ضرر دینوی ہو یا اخروی چناچہ قرآن میں ہے : ۔ { لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى } ( سورة البقرة 264) اپنے صدقات ( و خیرات ) کو احسان جتا کر اور ایذا دے کر برباد نہ کرو ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو۔ بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ( ب د ل ) الا بدال والتبدیل والتبدل الاستبدال کے معنی ایک چیز کو دوسری کی جگہ رکھنا کے ہیں ۔ یہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض میں پہلی چیز کے بدلہ میں دوسری چیز لینا شرط ہوتا ہے لیکن تبدیل مطلق تغیر کو کہتے ہیں ۔ خواہ اس کی جگہ پر دوسری چیز نہ لائے قرآن میں ہے فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کو اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع گیا ۔ كلم الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها، ( ک ل م ) الکلم ۔ یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٤) جیسا کہ آپ کی قوم آپ کی تکذیب کرتی ہے، اسی طرح اور قوموں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی، چناچہ انہوں نے اپنی قوم کی تکذیب اور ان کی تکلیف پر صبر کیا، یہاں تک کہ اللہ کی طرف سے بصورت عذاب ان کی قوم کی ہلاکت کا وقت آگیا۔ اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں کہ وہ اپنے خاص بندوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد فرماتے ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے پاس پیغمبروں کے واقعات قرآن کریم میں پہنچ چکے ہیں کہ جیسا آپ کی قوم نے آپ کی تکذیب کی، اسی طرح ان کی قوموں نے انکی بھی تکذیب کی اور اس پر انہوں نے صبر کیا، اگرچہ ان کی یہ تکذیب آپ پر گراں گزرتی ہے۔ (لیکن آپ بھی صبر فرمائیے، اللہ ان کفار سے عنقریب خود ہی نمٹ لے گا )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٤ (وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوْا عَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰیٓ اَتٰٹہُمْ نَصْرُنَاج ولاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ج) ہمارا ایک قانون ‘ ایک طریقہ اور ایک ضابطہ ہے ‘ اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا۔ آپ کو جس منصب پر فائز کیا گیا ہے اس کے بارے میں ہم نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ یہ بہت بھاری بوجھ ہے : (اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا ) (المزمل) بیشک ہم آپ پر عنقریب ایک بھاری بوجھ ڈالنے والے ہیں۔ (وَلَقدْ جَآءَ کَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ ) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم میں ہے کہ ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو برس تک صبر کیا۔ اب اس کے بعد تلخ ترین بات آرہی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22. The point emphasized here is that no one has the power to change God's Law regarding the conflict between Truth and falsehood. Lovers of Truth must of necessity pass through trials and persecution so as to be gradually tempered. Their endurance, their honastyy of conviction, their readiness to sacrifice and to undertake all risk for their cause, the strength of their faith and the extent of their trust in God must be tested. They must pass through this phase of persecution to develop in thenselves those qualities which can be developed nowhere else but on earth. They are also required to defeat the forces of ignorance by virtue of their moral excellence and the nobility of their character. Only after they have established their moral superiority over their adversaries will God's help arrive. No one can secure that help before hand.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :22 یعنی اللہ نے حق اور باطل کی کش مکش کے لیے جو قانون بنا دیا ہے اسے تبدیل کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے ۔ حق پرستوں کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ ایک طویل مدت تک آزمائشوں کی بھٹی میں تپائے جائیں ۔ اپنے صبر کا ، اپنی راستبازی کا ، اپنے ایثار اور اپنی فداکاری کا ، اپنے ایمان کی پختگی اور اپنے توکل علی اللہ کا امتحان دیں ۔ مصائب اور مشکلات کے دور سے گزر کر اپنے اندر وہ صفات پرورش کریں جو صرف اسی دشوار گزار گھاٹی میں پرورش پا سکتی ہیں ۔ اور ابتداءً خالص اخلاق فاضلہ و سیرت صالحہ کے ہتھیاروں سے جاہلیت پر فتح حاصل کر کے دکھائیں ۔ اس طرح جب وہ اپنا اصلح ہونا ثابت کر دیں گے تب اللہ کی نصرت ٹھیک اپنے وقت پر ان کی دستگیری کے لیے آپہنچے گی ۔ وقت سے پہلے وہ کسی کے لائے نہیں آسکتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:34) اوذوا۔ وہ ستائے گئے۔ ان کو ایذاء دی گئی۔ ایذاء (افعال) سے ماضی مجہول کا صیغہ۔ جمع مذکر غائب۔ اذی مادہ۔ اذی یوزی ایذاء واوذی یوذی ایذائ۔ مبدل۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ تبدیل (تفعیل) مصدر۔ تبدیل کرنے والا۔ نبای۔ اسم مجرور۔ مضاف۔ خبر۔ انبائ۔ جمع۔ خبریں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 اس آیت میں ایک دوسرے طریقے سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے (کبیر) کلمات الہ سے مراد یہ ہے کہ اس نے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غالب اور ان مشرین کو مغلوب کرنے کا وعدہ کیا ہے اسے پوراہو نے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی لہذا جس طرح انہوں نے صبر و استقامت کا مظاہر کیا اسی طرح آپ بھی صبر و استقامت سے اپنی دعوت پیش کرتے رہیں اور کسی بےچینی کو اپنے اندر راہ پانے دیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ حاصل مضمون تسلی دہی کا یہ ہوا کہ یہ جو آپ کی تکذیب کررہے ہیں یہ واقع میں بوجہ اس کے کہ آپ مبلغ عند اللہ ہیں اللہ کی اور عاس کی آیات کی تکذیب کررہے ہیں پس ظاہرا تو آپ کی تکذیب ہے اور حقیقتا اور قصدا اللہ کی تکذیب ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٣٤۔ خدا پرستی کی دعوت ایک قدیم دعوت ہے ۔ تاریخ قدیم کی دور دراز وادیوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔ یہ راہ بالکل سیدھی ہے اور بالکل واضح ہے ۔ اس کے خطوط بالکل سیدھے ہیں ۔ اس پر چلنے والے پاؤں ہمیشہ ثابت قدم رہے ہیں ۔ مختلف قسم کے جرائم پیشہ لوگوں نے اس راہ کو روکنے کی کوشش کی ہے ۔ نیز گمراہوں اور ان کے شدید ترین پیروکاروں نے اس دعوت کی راہ ہمیشہ روکی ہے ۔ اس راہ میں کئی داعیوں کو سخت مشکلات سے دو چار ہونا پڑا ۔ خون دینا پڑا اور جان دینی پڑی لیکن قافلہ داعیان حق نے ہمیشہ اپنا سفر بالکل سیدھی سمت میں جاری رکھا ۔ یہ قافلہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس سیدھی راہ سے ادھر ادھر نہ ہوا ۔ نہ اس نے اس راہ کو چھوڑ کر روگردانی اختیار کی ۔ لیکن انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے اور آخر کار اللہ کی نصرت صرف اللہ کے اصولوں اور فیصلوں کے مطابق آتی ہے ۔ ” تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں ‘ مگر اس تکذیب پر اور ان اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں ‘ انہوں نے صبر کیا ‘ یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی ۔ اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے اور پچھلے رسولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں ۔ “ یہ وہ الفاظ ہیں جو اللہ کی جانب سے اپنے رسول کو کہے جارہے ہیں ۔ یہ ایک یاد دہانی ہے اور ایک گونہ تسلی ہے ۔ ہمدردی اور تسلی کا ہاتھ آپ کے سرپر پھیرا جارہا ہے ۔ اور ان الفاظ کے اندر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آنے والے داعیوں کے بھی نقوش راہ واضح ہیں ۔ ایک واضح راستہ دکھایا جاتا ہے ‘ ان کا کردار بھی ان کے لئے متعین کردیا جاتا ہے اور آگاہ کردیا جاتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کہنے سے مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ سکتے ہیں اور جو مشکلات پہلے لوگوں کو پیش آئیں وہ ہر داعی حق کی راہ میں آتی ہیں ۔ یہ الفاظ داعیان حق کو بتاتے ہیں کہ دعوت حق کے لئے سنت الہیہ ایک ہی ہے اور دعوت حق بھی ایک ہی ہے ۔ اس میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی دعوت ہے کہ اکثر لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں اور مکذبین کی روش ہمیشہ ایسی ہی رہی ہے ‘ اس دعوت کے حاملین کو ہمیشہ اذیت دی جاتی رہی ہے اور اس تکذیب اور ایذا رسانی پر داعیوں کو صبر کرنا پڑتا ہے اور پھر صبر کے مرحلے کے بعد آخر کار داعیوں کو فتح و کامرانی نصیب ہوتی ہے ۔ لیکن نصرت اللہ کے طے کردہ اصولوں کے مطابق اور اپنے وقت پر آتی ہے ۔ یہ نصرت محض اس لئے قبل از وقت نہیں آجاتی کہ کچھ پاک طینت اور بےگناہ داعیوں کو جھٹلایا جاتا ہے اور انہیں اذیت دی جاتی ہے ۔ یا یہ کہ گمراہ لوگ اور گمراہی کے لیڈر ان پاک طینت لوگوں کو اذیت دینے پر قادر ہیں ۔ نیز یہ امر بھی سنت الہیہ کی رفتار کو تیز نہیں کرسکتا کہ ایک مخلص ‘ ذاتی خواہشات سے پاک وصاف ‘ نہایت ہی پاک طینت کارکن اور داعی اپنے دل کے اندر شدید خواہش رکھتا ہے کہ اس کی قوم راہ راست پر آجائے اور وہ اس حقیقت پر بہت ہی فکر مند اور دل گرفتہ ہے کہ اس کی قوم ضلالت میں گری ہوئی ہے اور یہ کہ اس کی قوم دنیا کی تباہی اور آخرت کے عذاب کی راہ پر چل پڑی ہے ۔ یہ تمام امور سنت الہیہ کو قبل از وقت ظاہر نہیں کرسکتے ۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی جلد بازی کی وجہ سے اپنے کسی کام میں جلد بازی نہیں کرتا ۔ اور اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے ۔ چاہے ان کلمات کا تعلق عباد صالحین کی آخری فتح سے ہو یا ان کے متعلق کسی طے شدہ تقدیر سے ہو ۔ یہ ایک فیصلہ کن دو ٹوک اور سنجیدہ فیصلہ ہے ۔ اس کا مقصد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی اور اطمینان دلانا ہے اور مشکلات راہ پر آپ کے ساتھ ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار ہے ۔ اب یہ سنجیدہ فیصلہ اپنے اثرات کو اپنی آخری ممکن حدوں تک پہنچاتا ہے ۔ ان خدشات کی راہ بھی روک دی جاتی ہے جو ممکن تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں پیدا ہوجائیں ۔ اس لئے کہ فطری طور پر ایک انسان یہ چاہتا ہے کہ اس کی قوم سدھر جائے اور ایک رسول تو پوری بشریت کی ہدایت کا مشتاق ہوتا ہے ۔ وہ خواہش مند ہوتا ہے اور انتظار میں ہوتا ہے کہ کب اس کی قوم اس کی دعوت پر لبیک کہتی ہے اور کب ہدایت پذیرہو جاتی ہے ؟ اس قسم کی خواہشات نزول قرآن کے وقت بعض مسلمانوں کے دل میں بھی جوش مارتی تھیں جن کی طرف اسی سورة کی دوسری آیات میں اشارت موجود ہیں ۔ اس قسم کی خواہشات انسانوں کے اندر نہایت ہی قدرتی اور فطری ہوتی ہیں ۔ لیکن اس دعوت اسلامی کے فیصلہ کن انداز ‘ اس کے حقیقی مزاج اس کے بارے میں رسولوں کے کردار اور پھر عوام الناس کے کردار کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن کریم ذار سخت لہجے میں یوں مخاطب ہوتا ہے : ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی : اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا (وَ لَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوْاعَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّآی اَتٰھُمْ نَصْرُنَا) (اور آپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا جا چکا ہے انہوں نے مخالفین کی تکذیب و ایذاء رسانی پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی) اس میں دو باتیں ہیں۔ اول تو یہ کہ ان لوگوں کا جھٹلانا اور دکھ اور تکلیف دینا کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے جو انبیاء کرام (علیہ السلام) آئے ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں دوسری بات یہ ہے کہ انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے پاس ہماری مدد آگئی۔ انشاء اللہ آپ کے پاس بھی ہماری مدد آجائے گی۔ (وَ لَا مُبَدِّلَ لَکَلِمٰتِ اللّٰہِ ) (اور اللہ کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں) اس کی تفسیر اور ربط بیان کرتے ہوئے صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا کہ (اِنَّا لَنَنْصُرُرُسُلَنَا) (بےشک ہم ضرور ضرور اپنے رسول کی مدد کریں گے) اور فرمایا (کَتَبَ اللّٰہُ لَا غْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ) (اللہ نے لکھ دیا کہ میں ضرور بالضرور غالب ہوں گا اور میرے رسول) اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ سارے رسولوں کے بارے میں ہے جیسے انبیاء سابقین کی مدد ہوئی آپ کی بھی مدد ہوگی۔ اللہ کے کلمات کو یعنی اس کے فیصلوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ پھر فرمایا (وَ لَقَدْ جَآءَ کَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ ) اور البتہ آپ کے پاس پیغمبروں کی بعض خبریں آچکی ہیں یعنی انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے واقعات آپ کو معلوم ہیں ان کی امتوں نے ان کے ساتھ دشمنی اور ایذاء رسانی کا معاملہ کیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اور ظالمین اور معاندین ہلاک اور برباد ہوئے آپ بھی صبر کریں اور مدد کا انتظار کریں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

39 یہ بھی ماقبل ہی کا حصہ ہے۔ یعنی آپ سے پہلے جو پیغمبر گذرے ہیں ان کی بھی اسی طرح ان کی قوموں نے تکذیب کی اور انہیں تکلیفیں دیں تو انہوں نے صبر کیا اور اپنے فرض تبلیغ کی ادائیگی میں لگے رہے یہاں تک کہ ہماری مدد آپہنچی اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کردیا گیا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ اپنے انبیاء کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

34 اور بلاشبہ آپ سے پہلے رسولوں کی بھی تکذیب کی جا چکی ہے اور ان رسولوں کے ساتھ بھی تکذیب کا برتائو ہوچکا ہے پھر ان سابقہ رسولوں نے ان منکرین کے جھٹلانے اور ایذائیں پہنچانے پر صبر کیا اور ان منکرین کی تکذیب اور ایذا پر سہارا اور برداشت سے کاملیا یہاں تک کہ ہماری مدد ان کو پہنچ گئی اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور یقینا ان گذشتہ رسولوں کے بعض حالات آپ تک پہونچ بھی چکے ہیں۔