Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 63

سورة الأنعام

قُلۡ مَنۡ یُّنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ تَدۡعُوۡنَہٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً ۚ لَئِنۡ اَنۡجٰىنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۶۳﴾

Say, "Who rescues you from the darknesses of the land and sea [when] you call upon Him imploring [aloud] and privately, 'If He should save us from this [crisis], we will surely be among the thankful.' "

آپ کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور دریا کی ظلمات سے نجات دیتا ہے ۔ تم اس کو پکارتے ہو تو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے کہ اگر تو ہم کو ان سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah's Compassion and Generosity, and His Power and Torment Allah mentions how He favors His servants, saving them during times of need, in the darkness of land and at sea, such as when storms strike. In such cases, they call on Allah alone, without partners, in supplication. In other Ayat, Allah said, وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ And when harm strikes you at sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him. (17:67) هُوَ الَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتَّى إِذَا كُنتُمْ فِى الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُواْ بِهَا جَأءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَأءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ دَعَوُاْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَيِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هَـذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّـكِرِينَ He it is Who enables you to travel through the land and the sea, till when you are in the ships and they sail with them with a favorable wind, and they rejoice, then comes a stormy wind and the waves come to them from all sides, and they think that they are encircled therein, they invoke Allah, making their faith pure for Him alone, saying: "If You deliver us from this, we shall truly be of the grateful". (10:22) and, أَمَّن يَهْدِيكُمْ فِى ظُلُمَـتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَن يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًاَ بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِ أَءِلَـهٌ مَّعَ اللَّهِ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ Is not He (better than your gods) Who guides you in the darkness of the land and the sea, and Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before His mercy Is there any god with Allah High Exalted be Allah above all that they associate as partners (with Him)! (27:63) Allah said in this honorable Ayah, قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً ... Say: "Who rescues you from the dark recesses of the land and the sea, when you call upon Him begging and in secret." i.e., in public and secret, ... لَّيِنْ أَنجَانَا ... (Saying): `If He (Allah) only saves us... ... مِنْ هَـذِهِ ... from these (dangers), from this distress, ... لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ we shall truly be grateful. thereafter.

احسان فراموش نہ بنو اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہو جاتے ہو ۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو ۔ یہی مضمون قرآن کریم کی آیت ( وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ) 17 ۔ الاسراء:67 ) میں اور آیت ( ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ) 10 ۔ یونس:22 ) میں اور آیت ( اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ۭ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ۭ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ) 27 ۔ النمل:63 ) میں بھی بیان ہوا ہے ۔ تصرعا و خفیتہ کے معنی جھرا او سرا یعنی بلند آواز اور پست آواز کے ہیں ۔ الغرض اس وقت صرف اللہ کو ہی پکارتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس وقت سے نجات دے گا تو ہم ہمیشہ تیرے شکر گزار رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے باوجود اس عہد و پیمان کے ادھر ہم نے انہیں تنگی اور مصیبت سے چھوڑا اور ادھر یہ آزاد ہوتے ہی ہمارے ساتھ شرک کرنے لگے اور اپنے جھوٹے معبودوں کو پھر پکارنے لگے ، پھر فرماتا ہے کیا تم نہیں جانتے کہ جس اللہ نے تمہیں اس وقت آفت میں ڈالا تھا وہ اب بھی قادر ہے کہ تم پر کوئی اور عذاب اوپر سے یا نیجے سے لے آئے جیسے کہ سورۃ سبحان میں آیت ( رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا ) 17 ۔ الاسراء:66 ) تک بیان فرمایا ۔ یعنی تمہارا پروردگار وہ ہے جو دریا میں تمہارے لئے کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل حاصل کرو اور وہ تم پر بہت ہی مہربان ہے ۔ لیکن جب تمہیں دریا میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو جن کی تم عبادت کرتے رہتے تھے وہ سب تمہارے خیال سے نکل جاتے ہیں اور صرف اللہ ہی کی طرف لو لگ جاتی ہے ، پھر جب وہ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ پھیر لیتے ہو فی الواقع انسان بڑا ہی ناشکرا ہے کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ وہ تمہیں خشکی میں ہی دھنسا دے یا تم پر آندھی کا عذاب بھیج دے پھر تم کسی کو بھی اپنا کار ساز نہ پاؤ ۔ کیا تم اس بات سے بھی نڈر ہو کہ وہ تمہیں پھر دوبارہ دریا میں لے جائے اور تم پر تندو تیز ہوا بھیج دے اور تمہیں تمہارے کفر کے باعث غرق کر دے تو پھر کسی کو نہ پاؤ جو ہمارا پیچھا کر سکے ۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اوپر نیچے کے عذاب مشرکوں کیلئے ہیں حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس آیت میں اسی امت کو ڈریا گیا تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے معافی دے دی ۔ ہم یہاں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں اور آثار بیان کرتے ہیں ملاحظہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ پر ہمارا بھروسہ ہے اور اس سے ہم مدد چاہتے ہیں صحیح بخاری شریف میں ہے یلبسکم کے معنی یخلطکم کے ہیں یہ لفظ التباس سے ماخوذ ہے شیعا کے معنی فرقا کے ہیں ۔ حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ اللہ قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ یا اللہ میں تیرے پر عظمت و جلال چہرہ کی پناہ میں آتا ہوں اور جب یہ سنا کہ نیچے سے عذاب لے آئے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی ۔ پھر یہ سن کر کہ یا وہ تم میں اختلاف ڈال دے اور تمہیں ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے تو حضور نے فرمایا یہ بہت زیادہ ہلکا ہے ، ابن مردویہ کی اس حدیث کے آخر میں حضرت جابر کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ اگر اس آپ کی ناچاقی سے بھی پناہ مانگتے تو پناہ مل جاتی ۔ مسند میں ہے حضور سے جب اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ تو ہونے والا ہی ہے اب تک یہ ہوا نہیں ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں ، مسند احمد میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے آپ مسجد بنی معاویہ میں گئے اور دور رکعت نماز ادا کی ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی پھر آپ نے لمبی مناجات کی اور فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزیں طلب کیں ایک تو یہ کہ میری تمام امت کو ڈبوئے نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ چیز عطا فرمائی ، پھر میں نے دعا کی کہ میرے عام امت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی ۔ پھر میں نے دعا کی کہ میری عام امت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی پھر میں نے دعا کی کہ ان میں آپس میں پھوٹ نہ پڑے میری یہ دعا قبول نہ ہوئی ۔ صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے ۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عبداللہ فرماتے ہیں ہمارے پاس عبداللہ بن عمر بنی معاویہ کے محلے میں آئے اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو تمہاری اس مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کس جگہ پڑھی ؟ میں نے مسجد کے ایک کونے کو دکھا کر کہا یہاں پھر پوچھا جانتے ہو یہاں تین دعائیں حضور نے کیا کیا کیں؟ میں نے کہا ایک تو یہ کہ آپ کی امت پر کوئی غیر مسلم طاقت اس طرح غالب نہ آ جائے کہ ان کو پیس ڈالے دوسرے یہ کہ ان پر عام قحط سالی ایسی نہ آئے کہ یہ سب تباہ ہو جائیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی یہ دونوں دعائیں قبول فرمائیں پھر تیسری دعا یہ کی کہ ان میں آپس میں لڑائیاں نہ ہوں لیکن یہ دعا قبول نہ ہوئی یہ سن کر حضرت عبداللہ نے فرمایا تم نے سچ کہا یاد رکھو قیامت تک یہ آپس کی لڑائیاں چلی جائیں گی ، ابن مردویہ میں ہے کہ حضور علیہ السلام بنو معاویہ کے محلے میں گئے اور وہاں آٹھ رکعت نماز ادا کی ، بڑی لمبی رکعت پڑھیں پھر میری طرف توجہ فرما کر فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں اللہ پاک نے دو تو دیں اور ایک نہ دی ، میں نے سوال کیا کہ میری امت پر ان کے دشمن اس طرح نہ چھا جائیں کہ انہیں برباد کر دیں اور ان سب کو ڈبو یا نہ جائے ، اللہ نے ان دونوں باتوں سے مجھے امن دیا پھر میں نے آپ سے لڑائیاں نہ ہونے کی دعا کی لیکن اس سے مجھے منع کر دیا ، ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ تشریف لے گئے اب دریافت کرتا کرتا حضور جہاں تھے وہیں پہنچا دیکھا تو آپ نماز پڑھ رہے ہیں میں بھی آپ کے پیچھے نماز میں کھڑا ہو گیا ، آپ نے بڑی لمبی نماز پڑھی ، جب فارغ ہوئے تو میں کہا حضور بڑی لمبی نماز تھی پھر آپ نے اپنی تینوں دعاؤں کا ذکر کیا ، نسائی وغیرہ میں حضرت انس سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کی آٹھ ٩ رکعت پڑھیں اور حضرت انس کے سوال پر اپنی دعاؤں کا ذکر کیا اس میں عام قحط سالی کا ذکر ہے ، نسائی وعیرہ میں ہے کہ حضور نے ایک مرتبہ ساری رات نماز میں گزار دی صبح کے وقت سلام پھیرا تو حضرت خباب بن ارث رضی اللہ عنہ نے جو بدری صحابی ہیں پوچھا کہ ایسی طویل نماز میں تو میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا آپ نے اس کے جواب میں وہی فرمایا جو اوپر مذکور ہوا ، اس میں ایک دعا یہ ہے کہ اگلی امتوں پر جو عام عذاب آئے وہ میری امت پر عام طور پر نہ آئیں ۔ تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضور نے نماز پڑھی جس کے رکوع سجود پورے تھے اور نماز ہلکی تھی پھر سوال و جواب وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے مسند احمد میں ہے رسول اکرام صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے لئے زمین لپیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے مشرقین مغربین دیکھ لئے جہاں جہاں تک یہ زمین میری لئے لپیٹ دی گئی تھی وہاں وہاں تک میری امت کی بادشاہت پہنچے گی ، مجھے دونوں خزانے دیئے گئے ہیں سفید اور سرخ ، میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میری امت کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کر اور ان پر کوئی ان کے سوا ایسا دشمن مسلط نہ کر جو انہیں عام طور پر ہلاک کر دے یہاں تک کہ یہ خود آپس میں ایک دوسروں کو ہلاک کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قتل کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قید کرنے لگیں اور حضور نے فرمایا میں اپنی امت پر کسی چیز سے نہیں ڈرتا بجز گمراہ کرنے والے اماموں کے پھر جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک ان میں سے اٹھائی نہ جائے گی ، ابن مردویہ میں ہے کہ جب آپ لوگوں میں نماز پڑھتے تو نماز ہلکی ہوتی ، رکوع و سجود پورے ہوتے ایک روز آپ بہت دیر تک بیٹھے رہے یہاں تک کہ ہم نے ایک دوسرے کو اشارے سے سمجھا دیا کہ شاید آپ پر وحی اتر رہی ہے کاموشی سے بیٹھے رہو ۔ جب آپ فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا حضور آج تو اس قدر زیادہ دیر تک آپ کے بیٹھے رہنے سے ہم نے یہ خیال کیا تھا اور آپس میں ایک دوسرے کو اشارے سے یہ سمجھایا تھا کہ آپ نے فرمایا نہیں یہ بات تو نہ تھی بلکہ میں نے یہ نماز بڑی رغبت و یکسوئی سے ادا کی تھی ، میں نے اس میں تین چیزیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے طلب کی تھیں جن میں سے دو تو اللہ تعالیٰ نے دے دیں اور ایک نہیں دی ۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ تمہیں وہ عذاب نہ کرے جو تم سے پہلی قوموں کو کئے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کیا میں نے پھر کہا کہ یا اللہ میری امت پر کوئی ایسا دشمن چھا نہ جائے جو ان کا صفایا کر دے تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ مراد بھی پوری کر دی ، پھر میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تم میں پھوٹ نہ ڈالے کہ ایک دوسرے کو ایذاء پہنچائیں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہ فرمائی ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے میں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے چار دعائیں کیں تو تین پوری ہوئیں اور ایک رد ہو گئی ۔ چوتھی دعا اس میں یہ ہے کہ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہو جائے اور حدیث میں ہے دو چیزیں اللہ نے دیں دو نہ دیں آسمان سے پتھروں کا سب پر برسانا موقوف کر دیا گیا زمین کے پانی کے طوفان سے سب کا غرق ہو جانا موقوف کر دیا گیا لیکن قتل اور آپس کی لڑائی موقوف نہیں کی گئی ( ابن مردویہ ) ابن عباس فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر کے اٹھ کھرے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری امت پر نہ تو ان کے اوپر سے عذاب اتار نہ نیچے سے انہیں عذاب چکھا اور نہ ان میں تفرقہ ڈال کر ایک دوسرے کی مصیبت پہنچا ، اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام اترے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو اس سے پناہ دے دی کہ ان کے اوپر سے یا ان کے نیچے سے ان پر عام عذاب اتارا جائے ( ابن مردویہ ابن ابی کعب سے مروی ہے کہ دو چیزیں اس امت سے ہٹ گئیں اور دور رہ گئیں اوپر کا عذاب یعنی پتھراؤ اور نیچے کا عذاب یعنی زمین کا دھنساؤ ہٹ گیا اور آپس کی پھوٹ اور ایک کا ایک کو ایذائیں پہنچانا رہ گیا ، آپ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر ہے جن میں سے دو تو حضور کی وفات کے پجیس سال بعد ہی شروع ہو گئیں یعنی پھوٹ اور آپس کی دشمنی ۔ دو باقی رہ گئیں وہ بھی ضرور ہی آنے والی ہیں یعنی رجم اور خسف آسمان سے سنگباری اور زمین میں دھنسایا جانا ( احمد ) حضرت حسن اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں گناہ سے لوگ بچے ہوئے تھے عذاب رکے ہوئے تھے جب گناہ شروع ہوئے عذاب اتر پڑے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ با آواز بلند مجلس میں یا منبر پر فرماتے تھے لوگو تم پر آیت ( قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ) 6 ۔ الانعام:65 ) اتر چکی ہے اگر آسمانی عذاب آ جائے ایک بھی باقی نہ بچے اگر تمہیں وہ زمین میں دھنسا دے تو تم سب ہلاک ہو جاؤ اور تم میں سے ایک بھی نہ بچے لیکن تم پر آپس کی پھوٹ کا تیسرا عذاب آ چکا ہے ، ابن عباس سے مروی ہے کہ اوپر کا عذاب برے امام اور بد بادشاہ ہیں نیچے کا عذاب بد باطن غلام اور بد دیانت نو کر چاکر ہیں یہ قول بھی گو صحیح ہو سکتا ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر اور قوی ہے ، اس کی شہادت میں آیت ( ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ ) 67 ۔ الملک:16 ) پیش ہو سکتی ہے ، ایک حدیث میں ہے میری امت میں سنگ باری اور زمین میں دھنس جانا اور صورت بدل جانا ہو گا ، اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں جو قیامت کے قرب کی علامتوں کے بیان میں اس کے موقعہ پر جابجا آئیں گی ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ آپس کی پھوٹ سے مراد فرقہ بندی ہے ، خواہشوں کو پیشوا بنانا ہے ، ایک حدیث میں ہے یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے ، ایک دوسرے کی تکلیف کا مزہ چکھے اس سے مراد سزا اور قتل ہے ، دیکھ لے کہ ہم کس طرح اپنی آیتیں وضاحت کے ساتھ بیان فرما رہے ہیں ۔ تاکہ لوگ غورو تدبر کریں سوچیں سمجھیں ۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! میرے بعد کافر بن کر نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسروں کی گردنوں پر تلواریں چلانے لگو ، اس پر لوگوں نے کہا حضور کیا ہم اللہ کی واحدانیت اور آپ کی رسالت کو مانتے ہوئے ایسا کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں یہی ہو گا ۔ کسی نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم مسلمان رہتے ہوئے مسلمانوں ہی کو قتل کریں اس پر آیت کا آخری حصہ اور اس کے بعد کی آیت ( وکذب بہ ) الخ ، اتری ( ابن ابی حاتم اور ابن جریر )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٠] یعنی خواہ تم کسی سمندر کا سفر طے کر رہے ہو یا خشکی کے مقام پر ہو تو کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے جس سے تمہیں موت سامنے کھڑی نظر آنے لگے تو اس بےبسی کے عالم میں کبھی تو تم بےاختیار ہو کر لاشعوری طور پر اللہ کو پکارنے لگتے ہو اور کبھی دل ہی دل میں گڑگڑا کر اللہ کے حضور فریاد کرنے لگتے ہو کہ آج اگر اللہ نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم ضرور اللہ کے فرمانبردار بن جائیں گے۔ اور یہ ایسی حقیقت ہے جو ہر انسان کو اپنی زندگی میں متعدد بار پیش آتی رہتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ ۔۔ : یہ حالت ان مشرکوں کی تھی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تھے، ہمارے زمانے میں مسلمان کہلانے والے کئی ایسے لوگ ہیں جو مشکل میں پھنسے ہوئے بھی دوسروں کو پکارتے ہیں۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Some Manifestations of Divine Knowledge and Absolute Power In previous verses, there was a description of the perfection of Divine Knowledge and Power, and of their unique expanse. Mentioned in the present verse, there are some manifestations of this very Knowledge and Power. The word: ظُلُومَات (Zulumat) in the first verse (63) is the plural of ظُلمَہ (Zulmah) which means darkness [ and which does not have a plural form in English leaving the translator with no choice but to improvise in order to convey the Qur&anic plural which is necessary as ex-plained ]. Thus, the expression: ظُلُمَاتِ الْبَرِّ‌ وَالْبَحْرِ‌ in this verse means the many a darkness found on land and sea. Since darkness is of many kinds, such as, the darkness of night, the darkness of rain clouds, the darkness of dust storms and the darkness under the waves of the sea, it is to include all these kinds of darkness that the word, ظُلُمَاتِ Zulumat, has been used here. So, the verse means that it was to warn the disbelievers of Makkah against their wrong doings that Allah Ta` ala ordered the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to ask these people as to what they do when they find themselves in deep trouble during their l d trips and sea voyages. Is it not that they would forget all about their idols and start calling on none but Al¬lah? At times, they would confess to their modesty and helplessness openly, while at others, they would be admitting it in the heart of their hearts that no one other than Allah could really save them from such catastrophe. And along with this thought, they would promise to Al¬lah that, should Allah save them from this catastrophe, they would defi¬nitely take to the ways of following truth and being grateful. In other words, once delivered, they would be grateful to Allah, would take Him as their real rescuer and helper, never ascribing any partner to His Di¬vinity because no one they have been worshiping came up to help them in their hour of need. With this experience of theirs in view, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is being asked to find out from them as to who delivers them from their distress and possible destruction? Since their answer was already known as they could have not denied the open fact that no one came to help them in their distress, idol or whatever else they worshipped, except Allah. Therefore, in the second verse (64), Allah Almighty has Himself taken the initiative and commanded the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to tell these people that it is Allah alone who would deliver them from their distress, rather deliver them from every other distress or anxiety they may face in their lives. But, the problem was that they, despite having seen open signs and having found comfort after distress, would go back to Shirk and start indulg¬ing in the worship of false gods. Strange betrayal and fatal ignorance indeed! Not only that these two verses tell us about the perfect power of Al¬lah Ta` ala which delivers human beings from their hour of distress, it also emphasizes that the removal of all sorts of hardships, troubles and anxieties is also in the hands of Allah Ta` ala alone as evident from the behaviour of diehard disbelievers too who are ultimately compelled to turn to Allah when there is nothing left to turn to. The Moral May be, this behaviour of the disbelievers, despite its being a major crime in view of their betrayal, has a certain lesson to teach. That they do turn to Allah in the hour of their distress, as their confession of reality under duress, has for us Muslims a lesson to learn with the rasp of a lash - here we are still not prompt enough to remember Allah i n our hour of trials despite having faith in the absolute power of Allah Ta` ala. at happens is that all our attention is riveted only to mate¬rial support which we hope would get us out of trouble. No doubt, we do not take idols, icons and images as our saviors, but the tragic fact is that the many material support systems, logistics, mechanized res¬cuing squads on land, sea and in the air, and the backup of spot and distant instrumentations, have become no less than idols for us. So impressed with them and so engrossed in them we are that we some-how do not seem to think of Allah and His most perfect power. Accidents and Hardships : The Real Remedy Take sickness as an example. When we get sick, we think of noth¬ing but our doctors and physicians. Take the example of a storm or flood. Once in it, we look forward to being rescued with material help and material means. We think on them depends our destiny, and in doing so, we just do not seem to remember the very Master of the uni¬verse in Whose control lies our destiny. We tend to do this, despite that the Holy Qur&an has, time and again, stated it very clearly that hardships and accidents of the world are generally the outcome of the evil deeds of human beings themselves, and a mild sampling of the punishment of the Hereafter. If looked at from this angle, these hardships are, in a way, mercy for Muslims - for, through them, heedless people are, so to say, given a shot in the arm, so that they may use this occasion to survey their evil deeds and start thinking about how not to indulge in them anymore whereby they could remain safe from the greater and harsher punishment of the Hereafter. The same subject has been taken up elsewhere in the Holy Qur&an in the following words: وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ‌ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ ﴿٢١﴾ We shall make them taste a lesser punishment, prior to the greater punishment, so that they may return - 32:21. Says another verse of the Qur&an: وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ‌ ﴿٣٠﴾ The hardship that reaches you is an outcome of your evil deeds while many of them Allah forgives - 42:30. Talking about the verse of Surah Ash-Shura quoted above, the Holy Prophet (رض) عنہم said: By Him in whose hands lies my life, the common scratch from a piece of wood suffered by a human being, or a faltering of step or an itching in vein are all after-effects of some sin while the sins which Allah Ta` ala forgives are many. As said by ` Allama Al-Baydawi, it means that the diseases and ca¬lamities faced by criminals and sinners are all vestiges of sins while the diseases and calamities of those who are infallible to or protected from sins are there to test their patience and fortitude, and to bless them with the higher ranks of Paradise. So, the essential outcome is that the diseases, accidents, hardships, pain and anxiety faced even by human beings at large - who are not free of sins - are all the consequences and vestiges of sins. This also tells us that the real cure and the primary way out of all such distressing happenings is that people should turn to Allah Jalla Sha&nuhu, seek forgiveness from Him for all their past sins, and firmly resolve that they would abstain from them in the future, and pray to Him alone that He, in His mercy, removes their hardships. However, it never means that the use of material means through medicine and treatment while sick, or to employ material methods of confronting accidents and calamities when struck by them, are useless efforts. Instead of that, the purpose is to emphasize that we should be¬lieve in Allah Ta` ala as the prime mover and maker of things and hap¬penings and, as for the use of material means, we should use them too taking them to be nothing but His blessing, because all means and instruments are invariably His creation and His blessings which serve human beings under His command and will. The fire, the air, the wa¬ter, the dust, and all forces on the face of the earth are but subservient to the command of Allah Ta` ala. Unless He so wills, neither can the fire burn, nor can water extinguish, nor a medicine bring benefit, nor some food hurt. Experience bears the truth that human beings once they become heedless to Allah Ta` ala and start relying on their self-invented defence mechanisms what happens is that with every addi¬tion to their material logistics, there comes a relative increase in concerns and calamities. That a medicine or clinical procedure may turn out to be personally beneficial at a given time, or a material way out to some problem may succeed, is quite possible even when one is involved with heedlessness and sin. But, when looked at collectively, in the perspective of the whole creation of Allah, all manifestations of the reliance on the mate¬rial appear to be unsuccessful. Today, the number and variety of arti¬cles and instruments invented to remove pain and drudgery and to provide comfort and luxury with a gusto that knows no stopping, are things man had not even dreamt of only half a century ago. Who does not know that people at that time were totally deprived of ever-new life-saving drugs, medicine delivery systems, procedures, surgeries, ex¬perts, technicians, labs and hospitals and nursing homes? But, seen in a wider perspective, man deprived of all these facilities fifty years ago, was not as sick and harassed as the man of late nineties. Similarly, we have vaccines to fight against epidemics, mechanized units to con¬trol fire, medical and paramedical squads to cover accidents, and an overseeing communications system which would hasten emergency in-formation, relevant support of professionals and equipment. But, somehow the more we increase our material defences against acci¬dents and calamities, the more we seem to be affected by them. To what reason could we ascribe this except that during the period now behind us the measure of heedlessness to and disobedience of the Creator of the universe of our existence was not as pronounced as it is in our day. Those people used their articles of comfort as blessings from Allah Ta` ala for which they were grateful too. But, the modern man wants to use these conveniences with a sense of heightened self-achievement which is rebellion in disguise. Naturally enough, despite all instrumentations and gadgetries, men and materials, they cannot make people immune from being hit by such hardships. Summing up the main elements of our explanations, we can say that Muslims should specially take a lesson from this reference to dis¬believers that they too remembered Allah when in distress. It is the duty of a true Muslim that he should, in order to remove his pain and anxiety in distress, first rely on and turn to Allah Ta` ala, much more than simply relying on and turning to the material solutions of his try¬ing situation. If he fails to do that, he will meet the same end being witnessed today. Plans will generally fall flat. A thousand efforts are made to stop floods and to minimize losses caused by them, but they keep coming. Ever-new methods of treating diseases are found and used, but diseases keep increasing. Devices and theories are employed to check rising prices of things - which seem to be effective too, though on the surface - but the result on the whole is that prices keep rising on almost a daily basis. Think of crimes like theft, robbery, kidnapping, bribery and smuggling. Governments all over the world, including the most advanced, are employing all sorts of material means to stop them. But, common people do not have to look into a crime graph to find out what is happening - they see that crimes are increasing. We can only wish that human beings of the modern era would do well by rising a little bit higher than the levels of person, identity, profit and loss, and surveying conditions prevailing, then, they would come to re¬alize that, when seen collectively, all our material efforts have failed, in fact, they are compounding our problems. Then, if they were to look at the remedy proposed by the Qur&an which tells us that there is only one way of staying safe from all kinds of hardship, and that is to turn to the Creator of the universe. Whatever material solutions there are, they are fine, and they too should be used as blessings from Him. Other than this, there is no way to ideal security.

خلاصہ تفسیر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان لوگوں سے) کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور دریا کی ظلمات (یعنی شدائد) سے اس حالت میں نجات دے دیتا ہے کہ تم اس کو (نجات دینے کے لئے) پکارتے ہو (کبھی) تذلل ظاہر کرکے اور (کبھی) چپکے چپکے (اور یوں کہتے ہو) کہ (اے اللہ) اگر آپ ہم کو ان (ظلمات) سے (اب کے) نجات دیدیں تو (پھر) ہم ضرور حق شناسی (پر قائم رہنے) والوں میں سے ہوجاویں (یعنی آپ کی توحید کے کہ بڑی حق شناسی ہے قائل رہیں، اور اس سوال کا جواب چونکہ متعین ہے اور وہ لوگ بھی کوئی دوسرا جواب نہ دیں گے اس لئے) آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تم کو ان سے نجات دیتا ہے (جب کبھی نجات ملتی ہے) اور (ان ظلمات مذکورہ کی کیا تخصیص ہے بلکہ) ہر غم سے (وہی نجات دیتا ہے مگر) تم (ایسے ہو کہ) پھر بھی (بعد نجات پانے کے بدستور) شرک کرنے لگتے ہو (جو کہ اعلیٰ درجہ کی ناحق شناسی ہے، اور وعدہ کیا تھا حق شناسی کا، غرض یہ کہ شدائد میں تمہارے اقرار سے توحید کا حق ہونا ثابت ہوجاتا ہے، پھر انکار کب قابل التفات ہے) ۔ معارف و مسائل علم الٓہی اور قدرت مطلقہ کے کچھ مظاہر پچھلی آیتوں میں اللہ جل شانہ کے علم وقدرت کا کمال اور ان کی بےمثال وسعت بیان کی گئی تھی، مذکورہ آیات میں اسی علم وقدرت کے کچھ آثار اور مظاہر کا بیان ہے۔ پہلی آیت میں لفظ ظلمات، ظلمة کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں اندھیری، ظلمات البر والبحر کے معنی خشکی اور دریا کی اندھیریاں ہے۔ چونکہ اندھیری کی مختلف قسمیں ہیں رات کی اندھیری، گھٹا بادل کی اندھیری، گردوغبار کی اندھیری، ان تمام قسموں کو شامل کرنے کے لئے لفظ ظلمات جمع استعمال فرمایا گیا ہے۔ اگرچہ انسان کے سونے اور آرام کرنے کے لئے اندھیرا بھی ایک نعمت ہے، لیکن عام حالات میں انسان کا کام روشنی ہی سے چلتا ہے، اور اندھیری سب کاموں سے معطل کرنے کے علاوہ بہت سے مصائب اور آفات کا سبب بن جاتی ہے، اس لئے عرب کے محاورہ مفسرین کے یہی معنی بیان فرمائے ہیں۔ مطلب آیت کا یہ ہوا کہ اللہ جل شانہ نے مشرکین مکہ کو تنبیہ اور ان کی غلط کاری پر آگاہ کرنے کے لئے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ ان لوگوں سے یہ سوال کریں کہ برّی اور بحری سفروں میں جب بھی وہ کسی مصیبت میں گھر جاتے ہیں، اور اس وقت تمام بتوں کو بھول کر صرف اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں، کبھی علانیہ طور پر اپنی ذلت و عاجزی کا اعتراف کرتے ہیں، اور کبھی دل دل میں اس کا اقرار کرتے ہیں کہ اس مصیبت سے تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں بچا سکتا، اور اس خیال کے ساتھ یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دیتو ہم شکر و حق شناسی کو اپنا شیوہ بنالیں گے، یعنی اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوں گے، اسی کو اپنا کارساز سمجھیں گے، اس کے سوا کسی کو اس کا شریک نہ سمجھیں گے کیونکہ جب ہماری مصیبت میں کوئی کام نہ آیا تو ہم ان کی پوجا پاٹ کیوں کریں، تو اب آپ ان سے پوچھئے کہ ان حالات میں کون ان کو مصائب اور ہلاکت سے نجات دیتا ہے ؟ چونکہ ان کا جواب متعین اور معلوم تھا کہ وہ اس ہدایت کا انکار نہیں کرسکتے کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی بت یا دیوتا اس حالت میں ان کے کام نہیں آیا، اس لئے دوسری آیت میں حق تعالیٰ نے خود ہی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کہہ دیجئے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی تمہیں اس مصیبت سے نجات دیں گے، بلکہ تمہاری ہر تکلیف و پریشانی اور بےچینی کو وہی دور فرمائیں گے، مگر ان سب کھلی ہوئی نشانیوں کے باوجود پھر جب تم کو نجات اور آرام مل جاتا ہے تو تم پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہو، اور بتوں کی پوجا پاٹ میں لگ جاتے ہو، یہ کیسی غداری اور مہلک قسم کی جہالت ہے۔ ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان بھی ہے کہ ہر انسان کو ہر مصیبت اور تکلیف سے نجات دینے پر اس کو پوری قدرت ہے، اور یہ بھی کہ ہر قسم کی مصیبتوں اور تکلیفوں اور پریشانیوں کو دور کرنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، اور یہ بھی کہ یہ ایک ایسی کھلی ہوئی حقیقت اور ہدایت ہے کہ ساری عمر بتوں اور دیوتاؤں کو پوجنے اور پکارنے والے بھی جب کسی مصیبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں اس وقت وہ بھی صرف خدا تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ عبرت مشرکین کا یہ طرز عمل ان کی غداری کے اعتبار سے کتنا ہی بڑا جرم ہو، مگر مصیبت پڑنے کے وقت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور حقیقت کا اعتراف ہم مسلمانوں کے لئے ایک تازیانہ عبرت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کے باوجود مصیبتوں کے وقت بھی خدا تعالیٰ کو یاد نہیں کرتے، بلکہ ہمارا سارا دھیان مادّی سامانوں میں گم ہو کر رہ جاتا ہے، ہم اگرچہ مورتوں اور تصویری بتوں کو اپنا کارساز نہیں سمجھتے، مگر یہ مادّی سامان اور اسباب و آلات بھی ہمارے لئے بتوں سے کم نہیں، جن کی فکروں میں ہم ایسے گم ہیں کہ خدا تعالیٰ اور اس کی قدرت کاملہ کی طرف کبھی دھیان نہیں ہوتا۔ حوادث و مصائب کا اصلی علاج ہم ہر بیماری میں صرف ڈاکٹروں اور دواؤں کو اور ہر طوفان اور سیلاب کے وقت صرف مادّی سامانوں کو اپنا کارساز سمجھ کر اسی کی فکر میں ایسے گم ہوجاتے ہیں کہ مالک کائنات کی طرف دھیان تک نہیں جاتا، حالانکہ قرآن کریم نے بار بار واضح الفاظ میں یہ بیان فرمایا ہے کہ دنیا کے مصائب اور حوادث عموماً انسانوں کے اعمالِ بد کے نتائج اور آخرت کی سزا کا ہلکا سا نمونہ ہوتے ہیں، اور اس لحاظ سے یہ مصائب مسلمانوں کے لئے ایک طرح کی رحمت ہوتے ہیں، کہ ان کے ذریعہ غافل انسانوں کو چونکایا جاتا ہے، تاکہ وہ اب بھی اپنے اعمال بد کا جائزہ لے کر ان سے باز آنے کی فکر میں لگ جائیں، اور آخرت کی بڑی اور سخت سزا سے محفوظ رہیں، اسی مضمون کے لئے قرآن کریم کا ارشاد ہے : (آیت) ولنذیقنھم من العذاب الادنی ” یعنی ہم لوگوں کو تھوڑا سا عذاب قریب دنیا میں چکھا دیتے ہیں آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے تاکہ وہ اپنی غفلت اور برائیوں سے باز آجائیں “۔ قرآن کریم کی ایک آیت میں ارشاد ہے : (آیت) وما اصابکم من مصیبة (شوری) ” یعنی جو مصیبت تم کو پہنچی ہے وہ تمہارے اعمال بد کا نتیجہ ہے اور بہت سے برے اعمال کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں “۔ اس آیت کے بیان میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کسی انسان کو جو کسی لکڑی سے معمولی خراش لگتی ہے، یا قدم کو کہیں لغزش ہوجاتی ہے، یا کسی رگ میں خلش ہوتی ہے یہ سب کسی گناہ کا اثر ہوتا ہے، اور جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں وہ بہت ہیں “۔ بیضاوی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ مراد اس سے یہ ہے کہ مجرموں اور گناہگاروں کو جو امراض اور آفات پیش آتے ہیں وہ سب گناہوں کے آثار ہوتے ہیں اور جو لوگ گناہوں سے معصوم یا محفوظ ہیں ان کے امراض اور آفات ان کے صبر استقلال کے امتحان اور جنت کے بلند درجات عطا کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ عام انسان جو گناہوں سے خالی نہیں ان کو جو بھی بیماریاں اور حوادث و مصائب یا تکلیف اور پریشانی پیش آتی ہے وہ سب گناہوں کے نتائج اور آثار ہیں۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تمام مصائب اور پریشانیوں کا اور ہر قسم کے حوادث اور آفات کا اصلی اور حقیقی علاج یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی طرف رجوع کیا جائے، پچھلے گناہوں سے استغفار اور آئندہ ان سے پرہیز کرنے کا پختہ ارادہ کریں، اور اللہ تعالیٰ ہی سے رفع مصائب کی دعاء کریں۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ مادّی اسباب دواء، علاج اور مصائب سے بچنے کی مادّی تدبیریں بےکار ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اصل کارساز حق تعالیٰ کو سمجھیں اور مادّی اسباب کو بھی اسی کا انعام سمجھ کر استعمال کریں کہ سب اسباب اور آلات اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اسی کی عطا کردہ نعمتیں ہیں، اور اسی کے حکم اور مشیت کے تابع انسان کی خدمت کرتے ہیں، آگ، ہوا، پانی، مٹی اور دنیا کی تمام طاقتیں سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں، بغیر اس کے ارادہ کے نہ آگ جلا سکتی ہے، نہ پانی بجھا سکتا ہے، نہ کوئی دوا نفع دے سکتی ہے نہ کوئی غذا نقصان پہنچا سکتی ہے، مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے خوب فرمایا خاک و باد و آب و آتش بندہ اند بامن و تو مردہ، با حق زندہ اند تجربہ شاہد ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ سے غافل ہو کر صرف مادّی سامانوں کے پیچھے پڑجاتا ہے تو جوں جوں یہ سامان بڑھتے ہیں پریشانیاں اور مصائب اور بڑھتے ہیں مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی شخصی طور پر کسی دوا یا انجکشن کا کسی وقت مفید ثابت ہونا یا کسی مادّی تدبیر کا کامیاب ہوجانا غفلت و معصیت کے ساتھ بھی ممکن ہے، لیکن جب مجموعی حیثیت سے پوری خلق خدا کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ سب چیزیں ناکام نظر آتی ہیں، موجودہ زمانہ میں انسان کو راحت پہنچانے اور اس کی ہر تکلیف کو دور کرنے کے لئے کیسے کیسے آلات اور سامان ایجاد کئے گئے ہیں اور کئے جا رہے ہیں کہ اب سب پچاس سال پہلے کے انسان کو ان کا وہم و گمان بھی نہ ہوسکتا تھا۔ امراض کے علاج کیلئے نئی نئی زوداثر دوائیں اور طرح طرح کے انجکشن اور بڑے بڑے ماہر ڈاکٹر اور ان کے لئے جابجا شفا خانوں کی بہتات کون نہیں جانتا کہ اب سے پچاس ساٹھ برس پہلے کا انسان ان سب سے محروم تھا۔ لیکن مجموعی حالات کا جائزہ لیا جائے تو ان آلات و سامان سے محروم انسان اتنا بیمار اور کمزور نہ تھا، جتنا آج کا انسان بیماریوں کا شکار ہے، اسی طرح آج عام دباؤں کے لئے طرح طرح کے ٹیکے موجود ہیں، حوادث سے انسان کو بچانے کے لئے آگ بجھانے والے انجن اور مصیبت کے وقت فوری اطلاع اور فوری امداد کے ذرائع اور سامان کی فراوانی ہے، لیکن جتنا جتنا یہ مادی سامان بڑھتا جاتا ہے، انسان حوادث اور آفات کا شکار پہلے سے زائد ہوتا جاتا ہے، وجہ اس کے سوا نہیں کہ پچھلے دور میں خالق کائنات سے غفلت اور کھلی نافرمانی اتنی نہ تھی جتنی اب ہے، وہ سامان راحت کو خدا تعالیٰ کا عطیہ سمجھ کر شکر گزاری کے ساتھ استعمال کرتے تھے، اور آج کا انسان بغاوت کے ساتھ استعمال کرنا چاہتا ہے، اس لئے آلات اور سامان کی بہتات اس کو مصیبت سے نہیں بچاتی۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو مشرکین کے اس واقعہ سے عبرت حاصل کرنا چاہئے کہ مصیبت کے وقت وہ بھی خدا ہی کو دیا کرتے تھے، مومن کا کام یہ ہے کہ اپنے تمام مصائب اور تکلیفوں کو دور کرنے کے لئے مادی سامان اور تدبیروں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے، ورنہ انجام وہی ہوگا جو روز مشاہدہ میں آرہا ہے، کہ ہر تدبیر مجموعی حیثیت سے الٹی پڑتی ہے، سیلابوں کو روکنے اور ان کے نقصانات سے بچنے کی ہزار تدبیریں کی جاتی ہیں مگر وہ آتے ہیں اور بار بار آتے ہیں، امراض کے علاج کی نئی نئی تدبیریں کی جاتی ہیں، مگر امراض روز بروز بڑھتے جاتے ہیں، اشیاء کی گرانی رفع کرنے کے لئے ہزاروں تدبیریں کی جاتی ہیں، اور وہ سطحی طور پر مؤ ثر بھی معلوم ہوتی ہیں، لیکن مجموعی حیثیت سے نتیجہ یہ ہے کہ گرانی روز بروز بڑھتی جاتی ہے، چوری، ڈکیتی، اغواء، رشوت ستانی، چور بازاری کو روکنے کے لئے کتنی مادّی تدبیریں آج ہر حکومت استعمال کر رہی ہے، مگر حساب لگائیے تو ہر روز ان جرائم میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے، کاش آج کا انسان صرف شخصی اور سطحی اور سرسری نفع نقصان کی سطح سے ذرا بلند ہو کر حالات کا جائزہ لے تو اس کو ثابت ہوگا کہ مجموعی حیثیت سے ہماری مادّی تدبیریں سب ناکام ہیں بلکہ ہمارے مصائب میں اضافہ کر رہی ہیں، پھر اس قرآنی علاج پر نظر کرے کہ مصائب سے بچنے کی صرف ایک ہی راہ ہے، کہ خالق کائنات کی طرف رجوع کیا جائے، مادّی تدبیروں کو بھی اسی کی عطا کی ہوئی نعمت کے طور استعمال کیا جائے، اس کے سوا سلامتی کی کوئی صورت نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَہٗ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَۃً۝ ٠ۚ لَىِٕنْ اَنْجٰىنَا مِنْ ہٰذِہٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ۝ ٦٣ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے نجات دی ۔ ظلم) تاریکی) الظُّلْمَةُ : عدمُ النّور، وجمعها : ظُلُمَاتٌ. قال تعالی: أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ، ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ، وقال تعالی: أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] ، وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] ، ويعبّر بها عن الجهل والشّرک والفسق، كما يعبّر بالنّور عن أضدادها . قال اللہ تعالی: يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [ البقرة/ 257] ، أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [إبراهيم/ 5] ( ظ ل م ) الظلمۃ ۔ کے معنی میں روشنی کا معدوم ہونا اس کی جمع ظلمات ہے ۔ قرآن میں ہے : أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے ) جیسے دریائے عشق میں اندھیرے ۔ ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ( غرض ) اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک چھایا ہوا ۔ أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] بتاؤ برو بحری کی تاریکیوں میں تمہاری کون رہنمائی کرتا ہے ۔ وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] اور تاریکیاں اور روشنی بنائی ۔ اور کبھی ظلمۃ کا لفظ بول کر جہالت شرک اور فسق وفجور کے معنی مراد لئے جاتے ہیں جس طرح کہ نور کا لفظ ان کے اضداد یعنی علم وایمان اور عمل صالح پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [ البقرة/ 257] ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے ۔ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [إبراهيم/ 5] کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ ضرع الضَّرْعُ : ضَرْعُ الناقةِ ، والشاة، وغیرهما، وأَضْرَعَتِ الشاةُ : نزل اللّبن في ضَرْعِهَا لقرب نتاجها، وذلک نحو : أتمر، وألبن : إذا کثر تمره ولبنه، وشاةٌ ضَرِيعٌ: عظیمةُ الضَّرْعِ ، وأما قوله : لَيْسَ لَهُمْ طَعامٌ إِلَّا مِنْ ضَرِيعٍ [ الغاشية/ 6] ، فقیل : هو يَبِيسُ الشَّبْرَقِ «1» ، وقیل : نباتٌ أحمرُ منتنُ الرّيحِ يرمي به البحر، وكيفما کان فإشارة إلى شيء منكر . وضَرَعَ إليهم : تناول ضَرْعَ أُمِّهِ ، وقیل منه : ضَرَعَ الرّجلُ ضَرَاعَةً : ضَعُفَ وذَلَّ ، فهو ضَارِعٌ ، وضَرِعٌ ، وتَضَرّعَ : أظهر الضَّرَاعَةَ. قال تعالی: تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأنعام/ 63] ، لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ [ الأنعام/ 42] ، لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ [ الأعراف/ 94] ، أي : يَتَضَرَّعُونَ فأدغم، فَلَوْلا إِذْ جاءَهُمْ بَأْسُنا تَضَرَّعُوا[ الأنعام/ 43] ، والمُضَارَعَةُ أصلُها : التّشارک في الضَّرَاعَةِ ، ثمّ جرّد للمشارکة، ومنه استعار النّحويّون لفظَ الفعلِ المُضَارِعِ. ( ض ر ع ) الضرع اونٹنی اور بکری وغیرہ کے تھن اضرعت الشاۃ قرب دلادت کی وجہ سے بکری کے تھنوں میں دودھ اتر آیا یہ اتمر والبن کی طرح کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں زیادہ دودھ یا کھجوروں والا ہونا اور شاۃ ضریع کے معنی بڑے تھنوں والی بکری کے ہیں مگر آیت کریمہ : ۔ لَيْسَ لَهُمْ طَعامٌ إِلَّا مِنْ ضَرِيعٍ [ الغاشية/ 6] اور خار جھاڑ کے سوا ان کے لئے کوئی کھانا نہیں ہوگا میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں ضریع سے خشک شبرق مراد ہے اور بعض نے سرخ بدبو دار گھاس مراد لی ہے ۔ جسے سمندر باہر پھینک دیتا ہے بہر حال جو معنی بھی کیا جائے اس سے کسی مکرو ہ چیز کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے ۔ ضرع البھم چوپایہ کے بچہ نے اپنی ماں کے تھن کو منہ میں لے لیا بعض کے نزدیک اسی سے ضرع الرجل ضراعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی کمزور ہونے اور ذلت کا اظہار کرنے کے ہیں الضارع والضرع ( صفت فاعلی کمزور اور نحیف آدمی تضرع اس نے عجز وتزلل کا اظہار کیا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأنعام/ 63] عاجزی اور نیاز پنہانی سے ۔ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ [ الأنعام/ 42] تاکہ عاجزی کریں لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ [ الأعراف/ 94] تاکہ اور زاری کریں ۔ یہ اصل میں یتضرعون ہے تاء کو ضاد میں ادغام کردیا گیا ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ فَلَوْلا إِذْ جاءَهُمْ بَأْسُنا تَضَرَّعُوا[ الأنعام/ 43] تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے ۔ المضارعۃ کے اصل معنی ضراعۃ یعنی عمز و تذلل میں باہم شریک ہونے کے ہیں ۔ پھر محض شرکت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے اسی سے علماء نحو نے الفعل المضارع کی اصطلاح قائم کی ہے کیونکہ اس میں دوز مانے پائے جاتے ہیں ) خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خ ف ی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔ شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها۔ والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکافات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٣) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کفار مکہ سے فرمائیے کہ خشکی اور دریائی سختیوں اور مصیبتوں سے کون نجات دیتا ہے جس کو تم زبان ودل سے یا یہ کہ آہ وزاری اور عجز کے ساتھ پکارتے ہو کہ اللہ اگر آپ ان سختیوں ومصیبتوں اور آفتوں سے ہمیں نجات دے دیں تو ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٣ (قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَہٗ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ج) ۔ کبھی تم نے غور کیا جب تم سمندر میں سفر کرتے ہو ‘ وہاں گھپ اندھیرے میں جب ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا اور سمندر کی خوفناک طوفانی لہریں ہر لمحہ موت کا پیغام دے رہی ہوتی ہیں تو ایسے میں اللہ کے سوا تمہیں کون بچاتا ہے ؟ کون ہے جو تمہاری دستگیری کرتا ہے اور تمہارے لیے عافیت کا راستہ نکالتا ہے۔ اسی طرح ع اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلے سے ہے تو ! کے مصداق جب کوئی قافلہ صحرا میں بھٹک جاتا ہے ‘ اندھیری رات میں نہ دائیں کا پتا ہوتا ہے نہ بائیں کی خبر ‘ ہر درخت اندھیرے میں ایک آسیب معلوم ہوتا ہے ‘ ایسے خوفناک ماحول اور انتہائی مایوسی کے عالم میں سب خداؤں کو بھلا کر تم لوگ ایک اللہ ہی کو پکارتے ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:63) تضرعا۔ عاجزی کرنا۔ گڑگڑانا۔ بروز تفعل مصدر ہے۔ لئن انجنا۔ اگر وہ (اللہ) ہمیں بجات دیدے (یہ ان کی دعا ہے لئن انجنا من ھذہ لنکونن من الشکرین) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 مگر بعض ایسے بدبخت بھی ہیں جو مشکل کے وقت بھی دوسروں کو پکارتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 63 تا 64 : ینجیکم (تمہیں نجات دیتا ہے) ‘ خفیۃ ( آہستہ۔ چپکے چپکے) انجنا ( ہمیں بچا لیا) ‘ کرب (سختی) ۔ تشریح : آیت نمبر 63 تا 64 : سفر ہو یا حضر۔ جسمانی بیماری ہو یا ذہنی الجھن ‘ مال و منال کا نقصان ہو یا اہل و عیال کا ‘ انفرادی مصیبت ہو یا قومی۔ بہر حال یہ عام مشاہدہ ہے کہ آفت کے وقت جب ظاہری تدبیروں سے کام نہیں چلتا تو انسان کے ہاتھ اس مالک کائنات کے سامنے دعا کو اٹھ جاتے ہیں۔ خواہ وہ چلا چلا کر اور آنسو بہا کر سر پٹک کر مانگے یا دل ہی دل میں اندر ہی اندر۔ بڑے سے بڑا کافر اور بڑے سے بڑا مشرک خوب جانتا ہے کہ آفتوں سے نجات دینے والا وہی ایک اللہ ہے۔ وہ دعا مانگتا ہے یا منت مانتا ہے تو بس اسی سے۔ نہ کسی دیوتا سے ‘ نہ کسی فرعون سے ‘ نہ کیو اللہ کے کسی مقرب سے (بہت سے مذاہب میں چاند اور سورج معبود ہیں یا معبود کے بیٹے کہلاتے ہیں (نعوذ باللہ) ۔ مصیبت جتنی سخت ہو انسان اتنا ہی شین قاف باندھتا ہے ‘ اتنا ہی عاجزی سے ہاتھ لمبے کرتا ہے۔ اتنا ہی زور دار معاہدے کرتا ہے کہ اے اللہ۔ اگر تو ہمیں اس آفت سے بچا لے تو ہم ضرور تیرا احسان مانتیں گے اور تیرے شکر گزار بندے بن جائیں گے۔ جب اللہ اس کی مشکل کشائی کردیتا ہے تو وہ پھر واپس اپنے پرانے مذہب کی طرف لوٹ جاتا ہے کسی اور کو مشکل کشا بنا لیتا ہے۔ پھر بتوں کی پوجا شروع ہوجاتی ہے۔ پھر تثلیث کے عقیدے زور پکڑ لیتے ہیں۔ پھر باد شاہ کی عظمتوں کی بندگی شرو ع ہوجاتی ہے۔ مکہ کے مشرکین کا بھی یہی حال تھا بار بار وہ آفتوں میں پھنستے اپنے تمام بتوں کو چھوڑ کر خوب گڑ گڑا کر اللہ سے دعائیں کرتے اور وفاداری کی قسمیں کھاتے ‘ خوب روتے اور چلاتے لیکن جب آفت ٹل جاتی تو کیسی احسان مندی ‘ کیسی شکر گزاری ‘ پھر دین آباء کی طرف پلٹ جاتے اور شرک میں مبتلا ہوجاتے ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ صرف دنیا میں ہی نہیں بلکہ انسانوں کی موت وحیات پر قادر، حاکم مطلق اور مولیٰ حق ہے گو اس نے ہدایت کا جبری نظام نہیں بنایا لیکن تم اس کی قدرتیں دیکھو اور ان پر غور کرو۔ آسانی اور خوشحالی میں اسی کو پکارو جس کو تم مشکل اور اضطراری حالت میں پکارتے اور اس کے مشکل کشا ہونے کا اقرار کرتے ہو۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی گئی ہے کہ مشرک اور موحد میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مشرک اور کافر صرف مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں۔ جب مشکل ٹل جاتی ہے تو پھر اس کے ساتھ دوسروں کو پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کے برعکس موحد کی یہ شان ہے کہ وہ عسر و یسر، آسانی اور پریشانی میں صرف اور صرف اپنے رب کو پکارتا ہے اور یہی فطرت سلیم کا تقاضا ہے، مشکل اور پریشانی کے وقت مشرک کے دل و دماغ پر غفلت کے پردے اٹھ جاتے ہیں۔ اس وقت اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مشکل کشا دکھائی اور سجھائی نہیں دیتا۔ مشرک انتہائی مشکل میں مبتلا ہوتے ہیں تو وہ بڑی آہ وزاری کے ساتھ دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کو صداؤں پر صدائیں دے رہے ہوتے ہیں اور اپنے دل ہی دل میں یہ عہد کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت سے نجات بخشی تو ہم اس کے شکر گزار بندے بنیں گے۔ لیکن جونہی وہ اس کرب ناک مصیبت سے نجات پاتے ہیں تو پھر اس مشکل کشائی میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں۔ یہاں شکر کرنے سے مراد توحید کا اقرار کرنا ہے اور بحر و بر کی ظلمات سے مراد بادل اور رات کے اندھیروں کے ساتھ صحراؤں کے گرد و غبار اور سمندر کی موجوں اور تہوں کے اندھیرے ہیں۔ ( فَإِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ فَلَمَّا نَجَّاہُمْ إِلَی الْبَرِّ إِذَا ہُمْ یُشْرِکُوْنَ ) [ العنکبوت : ٦٥] ” پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کی حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے خالصتاً اسے ہی پکارتے ہیں۔ اور جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو اس کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی بحر و بر کی مشکلات سے نجات نہیں دے سکتا۔ ٢۔ مصیبت سے نکلنے کے بعد خصوصاً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ٣۔ عقیدہ توحید پر قائم رہنے کے ساتھ شرک سے نفرت کرنا بھی لازم ہے۔ تفسیر بالقرآن خشکی اور تری میں اللہ ہی نجات دینے والا ہے : ١۔ جب تمہیں خشکی کی طرف نجات مل جاتی ہے تو اس سے اعراض کرتے ہو۔ (الاسراء : ٦٧) ٢۔ جب ہم انھیں خشکی کی طرف نجات دیتے ہیں تو وہ شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ (العنکبوت : ٦٥) ٣۔ وہ اللہ کو خالص پکارتے ہیں جب انھیں خشکی کی طرف نجات ملتی ہے۔ (لقمان : ٣٢) ٤۔ ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے اور نافرمانی سے بچتے رہے۔ (حٰم السجدۃ : ١٨) ٥۔ جب ان پر سائبان جیسی کوئی موج چھا جاتی ہے تو اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے خالصاً اسے پکارتے ہیں پھر جب انھیں بچا کر خشکی تک لے آتا ہے تو پھر کچھ بد اعتدال ہوجاتے ہیں۔ (لقمان : ٣٢) مشرک نجات پانے کے بعد شرک کرتا ہے : ١۔ جب ہم انھیں نجات دیتے ہیں تو وہ بغیر حق کے زمین میں بغاوت کرتے ہیں۔ (یونس : ٢٣) ٢۔ جب ہم انھیں نجات دیتے ہیں تو بعد میں وہ شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ ( العنکبوت : ٦٥) ٣۔ آپ فرما دیں اللہ تمہیں اس سے اور ہر مصیبت سے نجات دیتا ہے اور تم شرک کرتے ہو۔ (الانعام : ٦٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٦٣ تا ٦٤۔ خطرات کا تصور اور ہولناک لمحات کی یاد بعض اوقات خود انسانوں کو بھی راہ راست پر لے آتی ہے ۔ اس سے پتھر دل بھی موم ہوجاتے ہیں ۔ اس سے انسان کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ انسان بہت ہی ضعیف ہے اور اسے ہر وقت اللہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ‘ جس کے نتیجے میں اس کی مشکلات دور ہوجاتی ہیں اور اسے نعمت الہیہ بشکل نجات دستیاب ہوتی ہے ۔ (آیت) ” قُلْ مَن یُنَجِّیْکُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَہُ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ ہَـذِہِ لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ (63) (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے پوچھو ‘ صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے ‘ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو ؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ۔ یہ وہ نفسیاتی تجربہ ہے جو ہر اس شخص کو درپیش ہوا ہے جو کبھی مشکلات میں گھرا ہے یا جس نے مشکلات کے اندر گھرے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے ‘ کیونکہ خشکی اور سمندر دونوں میں انسان اس قسم کی مشکلات سے دو چار ہوتا رہتا ہے ۔ ضروری نہیں کہ اندھیروں کا تحقق رات ہی میں ہو ‘ اس لئے کہ لاچاری بھی ایک اندھیرا ہے ۔ خطرہ بھی اندھیرا ہے ۔ خشکی اور سمندر کے غیبی واقعات جن کے انتظار میں پوری دنیا کی نظریں لگی ہوتی ہیں یہ بھی ظلمات ہوتے ہیں ۔ جب بھی انسان خشکی اور سمندر کی ان ظلمتوں میں گھرتا ہے تو اس کائنات میں انہیں صرف اللہ ہی حقیقی متصرف نظر آتا ہے ۔ ایسے حالات میں انسان بڑی عاجزی ‘ یکسوئی اور نہایت ہی راز دارانہ طور پر صرف اللہ ہی کے سامنے دست بدعاء ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں فطرت انسانی اپنی اصل شکل میں تمام پردوں سے باہر آکر عیاں ہوتی ہے ۔ اس وقت فطرت کی گہرائیوں میں جو حقیقت پوشیدہ ہوتی ہے وہ سامنے آتی ہے اور وہ حقیقت ہوتی ہے اللہ وحدہ لاشریک کی حاکمیت ۔ انسان حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اب اس کے ساتھ کسی کو شریک بھی نہیں ٹھہراتا ۔ اس وقت انسان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ شرکیہ تصورات کس قدر بودے ہوتے ہیں ۔ اب شرک کا نام ونشان نہیں ہوتا اور جو لوگ اس کرب والم میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے : ” اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ؟ “ اللہ تعالیٰ اس موقع پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو اصل حقیقت کی طرف متوجہ کریں : (آیت) ” قُلِ اللّہُ یُنَجِّیْکُم مِّنْہَا وَمِن کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِکُونَ (64) ” کہو ‘ اللہ تمہیں اس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے ۔ پھر تم دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ اس کے اندر ہی انہیں یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ وہ پھر بھی شرک جیسے منکر کا ارتکاب کرتے ہیں اور تعجب خیز انداز میں الٹے پھرتے ہیں ۔ یہاں انسانوں کو یہ صورت حال یاد دلائی جاتی ہے کہ اس نجات کے بعد بھی دوبارہ وہ ایسے ہی مشکل حالات میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ یہ مشکلات صرف ایک بار ہی آنے والی تھیں ۔ یہ باری ان پر سے گزر گئی اور اب گویا وہ اللہ کے قبضہ قدرت سے نکل گئے ہیں ۔ اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو یہ انکی بھول ہے ۔ اس سلسلے میں ذیل کی آیت ملاحظہ ہو :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ) (آپ فرما دیجیے کون ہے جو تم کو نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ ظلمات البرو الجر سے شدائد یعنی سختیاں اور مشکلات و مصائب مراد ہیں۔ جب انسان سختیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اللہ کی طرح رجوع کرتا ہے۔ جو لوگ غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اور انہیں پکارتے ہیں وہ لوگ بھی مصیبت کے وقت سب کو چھوڑ کر اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ (تَدْعُوْنَہٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ) میں بیان فرمایا کہ تم آڑے وقت میں عاجزی کے ساتھ پوشیدہ طور پر اللہ ہی کو پکارتے ہو۔ اور یوں کہتے ہو (لَءِنْ اَنْجٰنَا مِنْ ھٰذِہٖ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ ) (اگر ہمیں اس مصیبت سے نجات دیدے تو ہم ضرور بالضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے) یعنی آئندہ ہمیشہ شکر میں لگے رہیں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

69 یہ توحید پر نویں دلیل عقلی ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ ظُلُمٰتِ البَرِّ وَالْبَحْرِ سے وہ شدائد و مشکلات مراد ہیں جو خشکی پر یا سمندروں میں انسانوں کو گھیر لیں۔ عن ابن عباس (رض) شدائد ھما وھوالہما التی تبطل الحواس و تدھش العقول (روح ج 7 ص 179) یعنی جب مشرکین شدائد و مشکلات میں گھر جاتے ہیں تو سب کچھ بھول کر صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں تو جب اللہ ہی متصرف و کارساز ہے تو مصیبت دور ہوجانے کے بعد اپنے معبودوں کو کیوں پکارتے ہو اور پھر شرک کرنا شروع کردیتے ہو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

63 اے پیغمبر آپ ان سے پوچھئے بھلا وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور تری کی تاریکیوں سے بچا کر نکال لاتا ہے جس کو تم انتہائی گڑ گڑا کر کبھی پکارتے ہو اور کبھی چپکے چپکے پکار کر یوں کہا کرتے ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم کو اس بلا سے نجات دیدے تو ہم یقینا اس کے شکر گزار بندوں میں سے ہوجائیں گے اور آئندہ ہمیشہ اس کا حق مانیں گے یعنی کبھی جنگل میں تاریک آندھی آگئی یا سمندر کے طوفان میں گھر گئے تو اس وقت گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہو تو اس مصیبت سے تم کو کون نجات دیتا ہے۔