Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 69

سورة الأنعام

وَ مَا عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ لٰکِنۡ ذِکۡرٰی لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۶۹﴾

And those who fear Allah are not held accountable for the disbelievers at all, but [only for] a reminder - that perhaps they will fear Him.

اور جو لوگ پرہیزگار ہیں ان پر ان کی باز پرس کا کوئی اثر نہ پہنچے گا اور لیکن ان کے ذمہ نصیحت کر دینا ہے شاید وہ بھی تقویٰ اختیار کریں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ ... There is no responsibility for them upon those who have Taqwa, means, when the believers avoid sitting with wrongdoers in this case, they will be innocent of them and they will have saved themselves from their sin. Allah's statement, ... وَلَـكِن ذِكْرَى لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ but (their duty) is to remind them, that they may avoid that. means, We commanded you to ignore and avoid them, so that they become aware of the error they are indulging in, that they may avoid this behavior and never repeat it again.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

69۔ 1 مِنْ حِسَابِھِمْ کا تعلق آیات الٰہی کا استہزاد (جھٹلانے) کرنے والوں سے ہے۔ یعنی وہ لوگ جو ایسی مجالس سے اجتناب کریں گے کہ اللہ کا جو گناہ استہزاد کرنے والوں کو ملے گا وہ اس گناہ سے محفوظ رہیں گے۔ 69۔ 2 یعنی اجتناب و علیحدگی کے باوجود وعظ و نصیحت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ حتی المقدر ادا کرتے رہیں۔ شاید وہ بھی اپنی اس حرکت سے باز آجائیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٦] کفار مکہ کی مجالس استہزاء میں بیٹھنے کی ممانعت اور استثنائی صورت :۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ جو لوگ مجلسوں میں بیٹھ کر اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے گناہوں کا بار انہی پر ہے اور جو لوگ ایسی مجلسوں میں شامل ہونے یا بیٹھنے سے گریز کرتے ہیں ان پر نہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص اس غرض سے ایسی مجلسوں میں جائے کہ انہیں جا کر سمجھائے اور نصیحت کرے تو یہ جائز بلکہ ضروری ہے۔ ممکن ہے وہ اس نصیحت سے متاثر ہو کر اپنی کرتوتوں سے باز آجائیں۔ تاہم یہ حکم صرف مجالس سے ہی مخصوص نہیں بلکہ عام ہے۔ ظالموں کے گناہوں کا بار انہیں پر ہے جو لوگ ان سے اجتناب کرتے ہیں اور ان سے کسی قسم کا تعاون نہیں کرتے۔ ان پر نہیں بلکہ نھی عن المنکر کا فریضہ ہر شخص پر اور ہر ضرورت کے وقت واجب ہے اور اس سے بعض لوگوں کو فی الواقع ہدایت نصیب ہو ہی جاتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا عَلَي الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ ۔۔ : شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں، یعنی اگر کوئی متقی شخص چاہے کہ ایسے جاہلوں کے پاس نصیحت کے لیے بھی نہ بیٹھے تو اس کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ نہ بیٹھے تو اس پر ان کے گمراہ رہنے کا کوئی گناہ نہیں، البتہ انھیں نصیحت کرے تو بہتر ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ ڈر جائیں تو اسے نصیحت کرنے کا ثواب مل جائے۔ (موضح) اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ پرہیزگار لوگ اگر ان کی مجلس میں نصیحت کے لیے بیٹھ جائیں تو کچھ حرج نہیں ہے، لیکن ہم نے جو کنارہ کرنے کا حکم دیا ہے تو اس نصیحت کے پیش نظر کہ شاید تمہارے کنارہ کرنے کی وجہ سے وہ اس قسم کی بےہودگی سے باز آجائیں۔ واللہ اعلم ! (ابن کثیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

When the verse cited above was revealed, the noble Companions submitted: Ya Rasul Allah, if this absolute prohibition of going in their gatherings remained in force, we shall be deprived of offering Salah and Tawaf in al-Masjid al-Haram because these people keep sitting there all the time (before Hijrah and the Conquest of Makkah) doing nothing but fault-finding and ill-speaking. Thereupon, revealed was the next verse (69): وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ وَلَـٰكِن ذِكْرَ‌ىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿٦٩﴾. It means when people who observe restraint go to al-Masjid al-Haram for their own rightful purpose, then, they are not responsible for the evil deeds of those wicked people present there. However, it does remain their duty that they should tell them what is right and true which may perhaps help them take the right path.

جب آیت مذکورہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر ان کی مجلس میں جانے کی مطلقاً ممانعت رہی تو ہم مسجد حرام میں نماز اور طواف سے بھی محروم ہوجائیں گے، کیونکہ وہ لوگ تو ہمیشہ وہاں بیٹھے رہتے ہیں، (یہ واقعہ ہجرت اور فتح مکہ سے پہلے کا ہے) اور ان کا مشغلہ ہی عیب جوئی اور بدگوئی ہے، اس پر دوسری آیت اس کے بعد والی نازلی ہوئی : وَمَا عَلَي الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ ، یعنی جو لوگ احتیاط رکھنے والے ہیں وہ اگر اپنے کام سے مسجد حرام میں جائیں تو ان شریر لوگوں کے اعمال بد کی ان پر کوئی ذمہ داری نہیں، ہاں اتنی بات ان کے ذمہ ہے کہ حق بات ان کو پہنچا دیں کہ شاید وہ اس سے نصیحت حاصل کر کے صحیح راستہ پر آجائیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا عَلَي الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ وَّلٰكِنْ ذِكْرٰي لَعَلَّہُمْ يَتَّقُوْنَ۝ ٦٩ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ حسب الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً وحُسْبَاناً ، قال تعالی: لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] ، وقیل : لا يعلم حسبانه إلا الله، ( ح س ب ) الحساب کے معنی گنتے اور شمار کرنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ حسبت ( ض ) قرآن میں ہے : ۔ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] اور برسوں کا شمار اور حساب جان لو ۔ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔ اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٩) جو آپ کے ساتھ اور قرآن کریم کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ان کی مجالس کو چھوڑ دیجیے تاکہ ان کا مذاق اور ان کی عیب جوئی قرآن کریم اور آپ کے علاوہ دوسری چیزوں میں ہو۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس وقت مکہ مکرمہ میں تھے تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا تو آپ کے بعض اصحاب (رض) کو یہ چیز شاق گزری تو پھر اللہ تعالیٰ نے بغرض نصیحت ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت دے دی چناچہ فرما دیا کہ جو لوگ کفر وشرک فواحش اور مذاق اڑانے سے بچتے ہیں، ان پر ان کے مذاق اڑانے اور ان کے گناہ اور کفر وشرک کا کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن ان کے ذمہ قرآن کریم کے ذریعے نصیحت کردینا ہے تاکہ ایسے لوگ کفر وشرک فواحش اور قرآن کریم اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے استہزاء سے بچیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

45. Those who avoid disobedience to God will not be held responsible for the errors of those who disobey. This being the case, the former have no justification for taking it upon themselves to persuade the latter to obedience or to consider themselves obliged to answer all their questions, however absurd and flimsy, until the Truth is forced down their throats. Their duty is merely to admonish and place the Truth before those whom they find stumbling about in error. If there is no response to this call except remonstration and obstinate argument they are under no obligation to waste their time and energy on them. They should rather devote their time and energy to instructing and admonishing those who have an urge to seek out the Truth.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :45 مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا کی نافرمانی سے خود بچ کر کام کرتے ہیں ان پر نافرمانوں کے کسی عمل کی ذمہ داری نہیں ہے ، پھر وہ کیوں خواہ مخواہ اس بات کو اپنے اوپر فرض کرلیں کہ ان نافرمانوں سے بحث و مناظرہ کر کے ضرور انہیں قائل کر کے ہی چھوڑیں گے ، اور ان کے ہر لغو و مہمل اعتراض کا جواب ضرور ہی دیں گے ، اور اگر وہ نہ مانتے ہوں تو کسی نہ کسی طرح منوا کر ہی رہیں گے ۔ ان کا فرض بس اتنا ہے کہ جنہیں گمراہی میں بھٹکتے دیکھ رہے ہوں انہیں نصیحت کریں اور حق بات ان کے سامنے پیش کر دیں ۔ پھر اگر وہ نہ مانیں اور جھگڑے اور بحث اور حجت بازیوں پر اتر آئیں تو اہل حق کا یہ کام نہیں ہے کہ ان کے ساتھ دماغی کشتیاں لڑنے میں اپنا وقت اور اپنی قوتیں ضائع کرتے پھریں ۔ ضلالت پسند لوگوں کے بجائے انہیں اپنے وقت اور اپنی قوتوں کو ان لوگوں کی تعلیم و تربیت اور اصلاح و تلقین پر صرف کرنی چاہیے جو خود طالب حق ہوں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:69) من حسابھم میں ضمیر ہم کافروں کے لئے یعنی تقویٰ اختیار کرنے والوں پر کافروں کے حساب سے کچھ بوجھ نہ ہوگا۔ انہیں معنوں میں آیۃ 52 میں استعمال ہوا ہے۔ ولکن ذکریٰ ۔ لیکن نصیحت کرنا تقویٰ اختیار کرنے والوں پر فرض ہے ۔ تقدیر کلام یوں ہے ولکن علیہم ذکریٰ ۔ لعلہم یتقون۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب بھی کافروں کے لئے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب مشرکین کے ساتھ بیٹھنے کی ممانعت ہوگئی تو مسلمانوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کی کہ اس قطع تعلق کی صورت میں ہم نہ مسجد میں جاسکتے ہیں اور نہ طواف کرسکتے ہیں اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ تم ان کے پا بیٹھ سکتے ہو لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کو نصحیت کرتے رہو شاید کہ وہ اس قسم کی یا وہ گوئی سے باز آجائیں ( کبیر قرطبی) مگر اس صورت میں بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت سورة نسا انکم اذا مثلھم سے منسوخ ہے (دیکھئے نسا آیت 140) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یعنی کوئی جانے کہ ایسے جاہلوں کو پاس نصیحت کو بھی نہ بیٹھو تو اپنے اوپر گناہ نہیں ان کے گمراہ رہنے کا لیکن نصیحت بہتر ہے کہ شاید ان کو ڈرہو تو نصیحت والا ثواب پاوے۔ (مو ضح) اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ پرہیز گا اگر ان کی مجلس میں بیٹھ جائیں تو کچھ حرج نہیں ہے لیکن ہم نے اعراض کا جو حکم دیا ہے تو اس کی نصحیت کے پیش نظر کہ شاید تمہارے اعراض کی وجہ سے وہ اس قسم کی بیہودگی سے باز آجائیں واللہ اعلم (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی بضرورت وہاں جانے والے گناہ گار نہ ہوں گے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : مشرکین اور منکرین اللہ تعالیٰ کی سطوت وقدرت جاننے کے باوجود معبودان باطل پر امیدیں لگائے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں اور دین کو کھیل تماشا سمجھتے ہیں۔ ان سے اجتناب کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ان کا انجام بتلایا گیا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں ان لوگوں سے اجتناب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ١۔ جو دین کو کھیل اور تماشا سمجھتے ہیں۔ ٢۔ جو دنیا کے اسباب و وسائل اور ترقی پر غرور کرتے ہیں۔ یہاں اجتناب سے مراد ان لوگوں کے ساتھ قلبی محبت اور ان کے لادینی اشغال میں حصہ دار بننا ہے۔ ایسے لوگوں سے ایک حد تک دور رہتے ہوئے نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔ قرآن مجید متعدد مقامات پر یہ حقیقت عیاں کرتا ہے کہ دنیا پرست لوگوں نے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے جس طرح تما شا دل بہلانے کے لیے اور کھیل جسمانی تقویت کے لیے ہوتا ہے یہی سوچ اور وطیرہ دنیا دار کا دین کے بارے میں ہوا کرتا ہے یہ دین کو دنیاوی مفاد، شہرت و منصب اور محض ذہنی سکون کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کے مشاغل سے دور رہتے ہوئے انھیں موقع بموقع نصیحت کرتے رہنا چاہیے اور ان کو یہ حقیقت باور کرانی چاہیے کہ جس دنیا کے جاہ و جلال اور اسباب و وسائل پر تم نازاں خود سپردگی کا انداز اختیار کیے ہوئے ہو۔ مرنے کے بعد یہ سب دھرے کا دھرا رہ جائے گا اور تمہیں ایسی عدالت میں پیش ہونا ہے جہاں کسی ولی کی ولایت، سفارشی کی سفارش اور فدیہ دینے والے کا فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح دنیا کے اسباب ہی نہیں بلکہ جن لوگوں اور معبودان باطل پر بھروسہ کیے ہوئے ہو وہ بھی تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔ جو لوگ دنیا کے بندے اور برائی کے دھندے میں مبتلا ہو کر موت کی آغوش میں جائیں گے انھیں جہنم میں پینے کے لیے ابلتا ہوا پانی اور اذیّت ناک عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ دنیا کے بندے بن کر توحیدو رسالت کا انکار کرنے والے تھے۔ (عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنْ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِی قَوْلِہٖ وَیُسْقٰی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ یَتَجَرَّعُہُ قَالَ یُقَرَّبُ إِلَیْہِ فَیَتَکَرَّہُہُ فَإِذَا دَنَا مِنْہُ شُوِیَ وَجْہُہُ وَوَقَعَتْ فَرْوَۃُ رَأْسِہٖ وَإِذَا شَرِبَہُ قَطَّعَ أَمْعَاءَ ہُ حَتَّی خَرَجَ مِنْ دُبُرِہٖ )[ رواہ احمد ] ” حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہنمیوں کے بارے فرمایا کہ ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا وہ ان کو جلا دے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ ان کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس کو ناپسند کریں گے۔ جونہی وہ اس کے قریب ہوگا تو اس کا چہرہ جھلس جائے گا۔ اس کے سر کے بال بھی گرجائیں گے اور جب وہ پیے گا تو اس کی آنتیں کٹ جائیں گی یہاں تک کہ وہ اس کی پشت سے نکل جائے گا۔ “ (إِنَّ شَجَرَۃَ الزَّقُّوْمِ ۔ طَعَامُ الْأَثِیْمِ کَالْمُہْلِ یَغْلِیْ فِی الْبُطُونِ کَغَلْیِ الْحَمِیْمِ ۔ خُذُوْہُ فَاعْتِلُوْہُ إِلٰی سَوَآءِ الْجَحِیمِ ۔ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِہٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِ ۔ ذُقْ إِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْکَرِیْمُ ۔ إِنَّ ہٰذَا مَا کُنْتُمْ بِہِ تَمْتَرُوْنَ ) [ الدخان : ٤٣ تا ٥٠] ” بلاشبہ زقوم کا درخت گنہگار کا کھانا ہوگا۔ جو پگھلے تانبے کی طرح پیٹ میں جوش مارے گا۔ جیسے کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔ پھر حکم ہوگا کہ اسے پکڑ لو پھر اسے گھسیٹتے ہوئے جہنم کے درمیان تک لے جاؤ۔ پھر حکم ہوا کہ کھولتے پانی کا عذاب اس کے سر پر انڈیل دو ۔ پھر اسے کہا جائے گا چکھ ! تو بڑا معزز اور شریف بنا پھرتا تھا۔ یہ ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے۔ “ مسائل ١۔ گمراہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔ ٢۔ دین کو کھیل تماشا سمجھنے والوں کو نصیحت کرنی چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی کار ساز نہیں۔ ٤۔ کافروں کے لیے کھولتے ہوئے پانی کا عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خیر خواہ نہیں ہوگا : ١۔ وہ اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی خیر خواہ اور نہ ہی کوئی مددگار پائیں گے۔ (الاحزاب : ١٧) ٢۔ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، وہ خیر خواہ اور مددگار نہیں پائیں گے۔ (الاحزاب : ٦٥) ٣۔ نہیں ہے کوئی ان کے لیے اللہ کے سوا خیر خواہ۔ (ھود : ٢٠) ٤۔ نہیں ہے تمہارے لیے کوئی اللہ کے سوا خیر خواہ اور پھر تم نہیں مدد کیے جاؤ گے۔ (ھود : ١١٣) ٥۔ نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی خیر خواہ اور نہ مدد گار۔ ( العنکبوت : ٢٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٦٩۔ اسلامی نظام میں متعین اور مشرکین کے درمیان کوئی مشترکہ ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ متقین اور مشرکین دو علیحدہ علیحدہ امتیں ہیں ۔ اگرچہ رنگ ونسل اور قوم و حکومت میں وہ ایک ہوں ۔ کیونکہ اسلامی پیمانے کے مطابق رنگ ‘ نسل اور قوم کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اہل تقوی ایک امت ہیں اور ظالم اور مشرک بالکل ایک دوسری امت ہیں ۔ ظالموں کے حساب و کتاب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری اہل تقوی پر نہیں ہے ۔ ہاں ان کی ذمہ داری اس حد تک ضروری ہے کہ وہ ظالموں کی اصلاح کے لئے سعی کرتے رہیں تاکہ وہ بھی انکی طرح اہل تقوی بن جائیں اور ان کی امت کا حصہ بن جائیں ۔ اگر اہل تقوی اور اہل ظلم کے درمیان نظریاتی اتحاد نہیں ہوجاتا تو پھر ان کے درمیان کسی اور بات پر اشتراک نہیں ہوسکتا ۔ یہ ہے دین اسلام اور یہ ہے اللہ کا کلام ۔ اگر کوئی اس کے سوا کوئی اور بات کرتا ہے یا کوئی اور طرز عمل اختیار کرتا ہے تو یہ فعل اس کا اپنا ہوگا لیکن اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اپنے اس طرز عمل کے سبب دین اسلام سے خارج بھی ہو سکتا ہے ۔ ذرا مزید مطالعہ کیجئے ‘ قرآن کریم کچھ مزید ہدایات دیتا ہے ‘ اہل حق واہل باطل کے درمیان مکمل جدائی کی کچھ مزید حدود وقیود بیان کی جاتی ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل کفر سے اگر بالکل ہی دور رہیں تو ان کو حق بات کیسے پہنچائی جائے۔ اور نصیحت اور موعظت کا راستہ کیسے نکالا جائے۔ اس کے لیے ملنے کی ضرورت ہوتی ہے اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : (وَ مَا عَلَی الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰکِنْ ذِکْرٰی لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ ) ( اور جو لوگ احتیاط کرتے ہیں ان پر ظالموں کے حساب میں سے کچھ بھی نہیں ہے لیکن نصیحت ہے تاکہ وہ ڈرنے لگیں) ۔ اگر دینی یا دنیاوی ضرورت سے ان کے پاس جانا ہوجائے تو جو لوگ ایمان میں مضبوط اور منکر کو منکر جانتے ہوئے اپنی ذات کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ان پر ان لوگوں کے حساب یعنی باز پرس اور طعن کرنے کے گناہ کا کوئی اثر نہ ہوگا جو تمسخر و استہزاء میں مشغول ہوں، یہ لوگ ان کے پاس جائیں ان کو نصیحت کریں۔ ممکن ہے نصیحت ان لوگوں کے حق میں کار گر ہوجائے اور وہ طعن وتشنیع اور عیب جوئی سے پرہیز کریں، جس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلیں۔ صاحب روح المعانی ج ٧ ص ١٨٤ نے ابو جعفر سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ (فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ) نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا کہ مشرکین جب قرآن کریم کا استہزاء کرنے لگیں اور ہم اسی وقت وہاں سے اٹھ جائیں۔ پھر تو مسجد حرام میں نہیں بیٹھ سکتے۔ اور بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کرسکتے۔ (کیونکہ مشرکین تو اپنی حرکت سے باز آنے والے نہیں) اس پر آیت (وَ مَا عَلَی الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ ) نازل ہوئی۔ جس میں یہ بتادیا گیا کہ جب تم اپنے اعمال میں لگے ہوئے ہو ان کی مجلس میں شریک نہیں ہو تو تم پر ان کے اعمال کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اور جب اختلاط ہوجائے تو ان کی نصیحت اور خیر خواہی سے بھی غافل نہ ہونا۔ ممکن ہے نصیحت اثر کر جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

69 اور جو لوگ محتاط اور پرہیز گار ہیں ان پر اس قسم کے عیب جو اور نکتہ چینیوں کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے البتہ ان محتاط لوگوں کے ذمہ ان بدقماش لوگوں کو نصیحت کرنا اور سمجھانا ہے تاکہ اس قسم کے طعن وتشنیع اور لغو نکتہ چینی سے باز آجائیں یعنی ہرچند کہ ایمان داروں پر کوئی ذمہ داری سوائے نصیحت اور سجھانے کی نہیں ہے اور وہ بھی بشرط قدرت و استطاعت … لیکن پھر بھی ایسی مجالس کی شرکت سے بچنا چاہئے اور گناہگاروں کی مجلس میں جبکہ وہ گناہ کی باتیں کر رہے ہوں خصوصیت کے ساتھ نہیں شریک ہونا چاہئے۔