Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 94

سورة الأنعام

وَ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقۡنٰکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ تَرَکۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰکُمۡ وَرَآءَ ظُہُوۡرِکُمۡ ۚ وَ مَا نَرٰی مَعَکُمۡ شُفَعَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّہُمۡ فِیۡکُمۡ شُرَکٰٓؤُا ؕ لَقَدۡ تَّقَطَّعَ بَیۡنَکُمۡ وَ ضَلَّ عَنۡکُمۡ مَّا کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴿٪۹۴﴾  17

[It will be said to them], "And you have certainly come to Us alone as We created you the first time, and you have left whatever We bestowed upon you behind you. And We do not see with you your 'intercessors' which you claimed that they were among you associates [of Allah ]. It has [all] been severed between you, and lost from you is what you used to claim."

اور تم ہمارے پاس تن تنہا آگئے جس طرح ہم نے اول بار تم کو پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا اس کو اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے اور ہم تو تمہارے ہمراہ تمہارے ان شفاعت کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم دعوٰی رکھتے تھے کہ وہ تمہارے معاملہ میں شریک ہیں واقعی تمہارے آپس میں قطع تعلق ہوگیا اور وہ تمہارا دعویٰ سب تم سے گیا گزرا ہوا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَقَدْ جِيْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ... And truly you have come unto Us alone as We created you the first time. and this statement will be said on the Day of Return. In another Ayah, Allah said, وَعُرِضُواْ عَلَى رَبِّكَ صَفَا لَّقَدْ جِيْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَـكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ And they will be set before your Lord in rows, (and Allah will say): "Now indeed, you have come to Us as We created you the first time.' (18:48), meaning, just as We started your creation, We brought you back, although you used to deny Resurrection and reject its possibility. Therefore, this is the Day of Resurrection! Allah said, ... وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاء ظُهُورِكُمْ ... You have left behind you all that which We had bestowed on you. The wealth and the money that you collected in the life of the world, you left all this behind you. It is recorded in the Sahih that Allah's Messenger said, يَقُولُ ابْنُ ادَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلاَّ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاس The Son of Adam says, `My money, my money!' But, what part of your money do you have, other than what you eat of it and is thus spent, what you wear and tear and what you gave in charity and thus remains (in the record of good deeds). Other than that, you will depart and leave it to the people. Al-Hasan Al-Basri said, "On the Day of Resurrection, the Son of Adam will be brought, as if he were a golden chariot and Allah, the Most Honored, will ask, `Where is what you collected?' He will reply, `O Lord! I collected it and left it as intact as ever.' Allah will say to him, `O Son of Adam! Where is what you sent forth for yourself (of righteous, good deeds),' and he will realize that he did not send forth anything for himself." Al-Hasan then recited the Ayah, وَلَقَدْ جِيْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاء ظُهُورِكُمْ And truly you have come unto Us alone as We created you the first time. You have left behind you all that which We had bestowed on you. Ibn Abi Hatim recorded this statement. Allah said; ... وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَاءكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاء ... We see not with you your intercessors whom you claimed to be your partners. This chastises and criticizes the disbelievers for the rivals, idols and images that they worshipped in this life, thinking they will avail them in this life and upon Resurrection, if there is Resurrection, as they thought. On the Day of Resurrection, all relationships will be cut off, misguidance will be exposed, and those whom they used to call upon as gods will disappear from them. Allah will then call them, while the rest of creation is listening, أَيْنَ شُرَكَايِيَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ (Where are My (so-called) partners whom you used to assert! (28:62) And, وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ And it will be said to them: "Where are those that you used to worship. Instead of Allah! Can they help you or help themselves!" (26:92-93) Allah said here, وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَاءكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاء (We see not with you your intercessors whom you claimed were partners). meaning partners in worship. That is, partners in a share of your worship. ... لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ ... Now you and they have been cut off, or, the Ayah is recited with the meaning: all connections, means, and ties between you and them have been severed. ... وَضَلَّ عَنكُم ... and vanished from you, you have lost, ... مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ all that you used to claim) of hope in the benefit of the idols and rivals (you worshipped with Allah). Allah said in other Ayat, إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُواْ مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ وَرَأَوُاْ الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الاٌّسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُواْ مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَـلَهُمْ حَسَرَتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَـرِجِينَ مِنَ النَّارِ When those who were followed, declare themselves innocent of those who followed (them), and they see the torment, then all their relations will be cut off from them. And those who followed will say: "If only we had one more chance to return, we would disown them as they have disowned us." Thus Allah will show them their deeds as regret for them. And they will never get out of the Fire. (2:166-167) and, فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَيِذٍ وَلاَ يَتَسَأءَلُونَ Then, when the Trumpet is blown, there will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another. (23:101) and, إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَـناً مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضاً وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّن نَّـصِرِينَ You have taken (for worship) idols instead of Allah, and the love between you is only in the life of this world, but on the Day of Resurrection, you shall disown each other, and curse each other, and your abode will be the Fire, and you shall have no helper. (29:25) and, وَقِيلَ ادْعُواْ شُرَكَأءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُواْ لَهُمْ And it will be said (to them): "Call upon your partners", and they will call upon them, but they will give no answer to them. (28:64) and, وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُواْ And the Day whereon We shall gather them all together, then We shall say to those who committed Shirk... (10:28) until, وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ (And their invented false deities will vanish from them). (10:30)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

94۔ 1 فرادی فرد کی جمع ہے جس طرح سکاری سکران کی اور کسالی کسلان کی جمع ہے۔ مطلب ہے کہ تم علیحدہ علیحدہ ایک ایک کر کے میرے پاس آؤ گے، تمہارے ساتھ نہ مال ہوگا نہ اولاد اور نہ معبود، جن کو تم نے اللہ کا شریک اور اپنا مددگار سمجھ رکھا تھا، یعنی ان میں سے کوئی چیز بھی فائدہ پہنچانے پر قادر نہ ہوگی۔ اگلے جملوں میں انہی امور کی مزید وضاحت ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٧] مرنے کے بعد انسان کی بےبسی :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مندرجہ بالا اقسام سے بھی بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اختیار تصرف میں کسی دوسرے کو بھی شریک سمجھا جائے۔ اسے اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھا جائے، حاجت روا اور مشکل کشا تسلیم کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ ہمارے یہ معبود بت یا اولیاء و بزرگ اللہ سے سفارش کر کے ہمیں اخروی عذاب سے بچا لیں گے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ موت کے ساتھ ہی انسان کی اللہ کے حضور پیشی ہوجاتی ہے اس پیشی کے وقت نہ اس کا مال و دولت موجود ہوتا ہے نہ رشتہ دار نہ وہ بزرگ جن کے متعلق انہوں نے سستی نجات کا عقیدہ وابستہ کر رکھا تھا کیونکہ موت کے بعد انسان ویسے ہی تن تنہا قبر میں جاتا ہے جیسا کہ تن تنہا ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا اور جیسے پیدائش کے بعد یہ مختلف قسم کے تعلقات پیدا ہوئے تھے۔ موت کے ساتھ ہی یہ سب رشتے کٹ جاتے ہیں اور صرف انسان کے اپنے اعمال پر ہی اخروی انجام کا دار و مدار ہوگا۔ موت کے بعد ان ظالموں کو یہ یاد ہی نہ رہے گا کہ دنیا میں ان کے تعلقات کس کس سے تھے اور یہ تعلقات کس کس نوعیت کے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي ۔۔ : یعنی ان سے کہا جائے گا کہ آج تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے ہو کر آئے ہو اور جو مال و اولاد تمہارے پاس تھا وہیں چھوڑ آئے ہو اور ہم تمہارے ساتھ وہ سفارشی بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم کہتے تھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اس بات کا حق دار ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں یہ بھی حق رکھتے ہیں۔ لاؤ دکھاؤ۔ یہ ڈانٹنے کے لیے کہا جائے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَـمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاۗءَ ظُہُوْرِكُمْ۝ ٠ۚ وَمَا نَرٰي مَعَكُمْ شُفَعَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّہُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰۗؤُا۝ ٠ۭ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۝ ٩٤ۧ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ فرد الفَرْدُ : الذي لا يختلط به غيره، فهو أعمّ من الوتر وأخصّ من الواحد، وجمعه : فُرَادَى. قال تعالی: لا تَذَرْنِي فَرْداً [ الأنبیاء/ 89] ، أي : وحیدا، ويقال في اللہ : فرد، تنبيها أنه بخلاف الأشياء کلّها في الازدواج المنبّه عليه بقوله : وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، وقیل : معناه المستغني عمّا عداه، كما نبّه عليه بقوله : غَنِيٌّ عَنِ الْعالَمِينَ [ آل عمران/ 97] ، وإذا قيل : هو مُنْفَرِدٌ بوحدانيّته، فمعناه : هو مستغن عن کلّ تركيب وازدواج تنبيها أنه مخالف للموجودات کلّها . وفَرِيدٌ: واحد، وجمعه فُرَادَى، نحو : أسير وأساری. قال : وَلَقَدْ جِئْتُمُونا فُرادی [ الأنعام/ 94] . ( ف ر د ) الفرد ( اکیلا ) اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ساتھ دوسری نہ ملائی گئی ہو یہ لفظ وتر ( طاق ) سے عام اور واحد سے خاص ہے اس کی جمع فراد ی ہے قرآن میں ہے : ۔ لا تَذَرْنِي فَرْداً [ الأنبیاء/ 89] پروردگار ( مجھے اکیلا نہ چھوڑ ۔ اور اللہ تعالیٰ کے متعلق فرد کا لفظ بولنے میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ وہ تنہا ہے اس کے بر عکس باقی اشیار جوڑا جوڑا پیدا کی گئی ہیں جس پر کہ آیت وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائیں ۔ میں تنبیہ پائی جاتی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اللہ کے فرد ہونے کے معنی یہ ہیں کہ دوسروں سے بےنیاز ہے جیسا کہ آیت : ۔ غَنِيٌّ عَنِ الْعالَمِينَ [ آل عمران/ 97] اہل عالم سے بےنیاز ہے ۔ میں اس پر تبنبیہ کی ہے اور جب یہ کہا جاتا ہے کہ ذات باری تعالیٰ اپنی واحدنیت میں منفرد ہے تو اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ وہ ذات ہر قسم کی ترکیب اور مجانست سے مبرا ہے اور جملہ موجودات کے بر عکس ہے ۔ اور فرید کے معنی واحد یعنی اکیلا اور تنہا کے ہیں اس کی جمع فراد ی آتی ہے جیسے اسیر کی جمع اساریٰ ہے قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ جِئْتُمُونا فُرادی [ الأنعام/ 94] اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے ہمارے پاس آئے ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھسن جائیں وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] اور دریا سے ( کہ ) خشک ( ہورہا ہوگا ) پاور ہوجاؤ ۔ اور بحالت مجبوری چھوڑ نے کے متعلق فرمایا : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] وہ لوگ بہت سے جب باغ چھوڑ گئے ۔ مَرَّةً مَرَّةً ومرّتين، كفَعْلَة وفَعْلَتين، وذلک لجزء من الزمان . قال : يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ [ الأنفال/ 56] ، وَهُمْ بَدَؤُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 13] ، إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً [ التوبة/ 80] ، إِنَّكُمْ رَضِيتُمْ بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 83] ، سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ [ التوبة/ 101] ، وقوله : ثَلاثَ مَرَّاتٍ [ النور/ 58] . مرۃ ( فعلۃ ) ایک بار مرتان ض ( تثنیہ ) دو بار قرآن میں ہے : يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ [ الأنفال/ 56] پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں ۔ وَهُمْ بَدَؤُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 13] اور انہوں نے تم سے پہلی بار ( عہد شکنی کی ) ابتداء کی ۔إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً [ التوبة/ 80] اگر آپ ان کے لئے ستربار بخشیں طلب فرمائیں ۔ إِنَّكُمْ رَضِيتُمْ بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 83] تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر رضامند ہوگئے ۔ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ [ التوبة/ 101] ہم ان کو دو بار عذاب دیں گے ۔ ثَلاثَ مَرَّاتٍ [ النور/ 58] تین دفعہ ( یعنی تین اوقات ہیں ۔ خول قوله تعالی: وَتَرَكْتُمْ ما خَوَّلْناكُمْ وَراءَ ظُهُورِكُمْ [ الأنعام/ 94] ، أي : ما أعطیناکم، والتّخویل في الأصل : إعطاء الخَوَل، وقیل :إعطاء ما يصير له خولا، وقیل : إعطاء ما يحتاج أن يتعهّده، من قولهم : فلان خَالُ مَالٍ ، وخَايِلُ مالٍ ، أي : حسن القیام به . والخَال : ثوب يعلّق فيخيّل للوحوش، والخَال في الجسد : شامة فيه . ( خ و ل ) التخویل ( تفعیل ) کے اصل معنی خول یعنی ایسی چیزیں عطا کرنے کے ہیں جو انسان کو خول کا کام دے اور بقول بعض ایسی چیزیں عطا کرنا جن کی نگہداشت کی ضرورت پڑے ۔ مال کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور یہ کے محاورہ سے ماخوذ ہے یعنی فلاں مال کی خوب نگہداشت کرنے والا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَتَرَكْتُمْ ما خَوَّلْناكُمْ وَراءَ ظُهُورِكُمْ [ الأنعام/ 94] اور جو امال ومتاع ) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ چھوڑ آئے ۔ اور الخال اس کپڑے کو کہا جاتا ہے جو وحسنی جانوروں کو ڈرانے کے لئے کھیت میں لٹکا دیا جاتا ہے ۔ نیز خال کے معیل تل یعنی بدن پر سیاہ نشان کے بھی آتے ہیں ۔ وراء ( وَرَاءُ ) إذا قيل : وَرَاءُ زيدٍ كذا، فإنه يقال لمن خلفه . نحو قوله تعالی: وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] ، ( و ر ی ) واریت الورآء کے معنی خلف یعنی پچھلی جانب کے ہیں مثلا جو زہد کے پیچھے یا بعد میں آئے اس کے متعلق ورآء زید کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی ۔ ظهر الظَّهْرُ الجارحةُ ، وجمعه ظُهُورٌ. قال عزّ وجل : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] ( ظ ھ ر ) الظھر کے معنی پیٹھ اور پشت کے ہیں اس کی جمع ظھور آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] اور جس کا نام اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائیگا شَّفَاعَةُ : الانضمام إلى آخر ناصرا له وسائلا عنه، وأكثر ما يستعمل في انضمام من هو أعلی حرمة ومرتبة إلى من هو أدنی. ومنه : الشَّفَاعَةُ في القیامة . قال تعالی: لا يَمْلِكُونَ الشَّفاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمنِ عَهْداً [ مریم/ 87] ومنه قوله عليه السلام : «القرآن شَافِعٌ مُشَفَّعٌ» الشفاعۃ کے معنی دوسرے کے ساتھ اس کی مدد یا شفارش کرتے ہوئے مل جانے کے ہیں ۔ عام طور پر کسی بڑے با عزت آدمی کا اپنے سے کم تر کے ساتھ اسکی مدد کے لئے شامل ہوجانے پر بولا جاتا ہے ۔ اور قیامت کے روز شفاعت بھی اسی قبیل سے ہوگی ۔ قرآن میں ہے َلا يَمْلِكُونَ الشَّفاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمنِ عَهْداً [ مریم/ 87]( تو لوگ) کسی کی شفارش کا اختیار رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو ۔ اور اسی سے (علیہ السلام) کافرمان ہے «القرآن شَافِعٌ مُشَفَّعٌ» کہ قرآن شافع اور مشفع ہوگا یعنی قرآن کی سفارش قبول کی جائے گی زعم الزَّعْمُ : حكاية قول يكون مظنّة للکذب، ولهذا جاء في القرآن في كلّ موضع ذمّ القائلون به، نحو : زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا[ التغابن/ 7] ، لْ زَعَمْتُمْ [ الكهف/ 48] ، كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ [ الأنعام/ 22] ، زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ [ الإسراء/ 56] ، وقیل للضّمان بالقول والرّئاسة : زَعَامَةٌ ، فقیل للمتکفّل والرّئيس : زَعِيمٌ ، للاعتقاد في قوليهما أنهما مظنّة للکذب . قال : وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ [يوسف/ 72] ، أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمٌ [ القلم/ 40] ، إمّا من الزَّعَامَةِ أي : الکفالة، أو من الزَّعْمِ بالقول . ( ز ع م ) الزعمہ اصل میں ایسی بات نقل کرنے کو کہتے ہیں جس میں جھوٹ کا احتمال ہو اس لئے قرآن پاک میں یہ لفظ ہمیشہ اس موقع پر آیا ہے جہاں کہنے والے کی مذمت مقصود ہے چناچہ فرمایا : ۔ زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا[ التغابن/ 7] کفار یہ زعم کو کہتے ہیں ۔ لْ زَعَمْتُمْ [ الكهف/ 48] مگر تم یہ خیال کرتے ہو ۔ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ [ الأنعام/ 22] جن کو شریک خدائی سمجھتے تھے ۔ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ [ الإسراء/ 56] جنیںُ تم نے ) اللہ کے سوا ( معبود ) خیال کیا ۔ اور زعامۃ کے معنی ذمہ داری اٹھانے اور ریاست ( سرداری ) کے ہیں اور کفیل ( ضامن اور رئیں کو زعیم کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں کی بات میں جھوٹ کا احتمال ہوسکتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ [يوسف/ 72] اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ، أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمٌ [ القلم/ 40] ان میں سے کون اس کا ذمہ دار ہے ۔ یہاں زعیم یا تو زعامہ بمعنی کفالۃ سے ہے اور یا زعم بلقول سے ہے ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ قطع القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] ، ( ق ط ع ) القطع کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام اسی سے اعضاء کا قطع کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] میں پہلے تو ) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسرے طرف کے پاؤں کٹوا دونگا ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ويقال الضَّلَالُ لكلّ عدولٍ عن المنهج، عمدا کان أو سهوا، يسيرا کان أو كثيرا، فإنّ الطّريق المستقیم الذي هو المرتضی صعب جدا، قال النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : «استقیموا ولن تُحْصُوا» ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ اور ضلال کا لفظ ہر قسم کی گمراہی پر بولا جاتا ہے یعنی وہ گمراہی قصدا یا سہوا معمول ہو یا زیادہ کیونکہ طریق مستقیم ۔ جو پسندیدہ راہ ہے ۔۔ پر چلنا نہایت دشوار امر ہے ۔ جیسا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(11) استقیموا ولن تحصوا کہ استقامت اختیار کرو اور تم پورے طور پر اس کی نگہداشت نہیں کرسکوگے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٤) بغیر مال واولاد کے خالی ہاتھ آگئے، جیسا کہ دنیا میں بغیر مال و اولاد کے تمہیں پیدا کیا تھا اور جو ہم نے تمہیں دیا تھا، اسے دنیا ہی میں پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے بتوں کو نہیں دیکھ رہے جن کو تم سفارشی اور ہمارے شریک جانتے تھے، حقیقتا تمہاری دوستی اور محبت کا خاتمہ ہوگیا اور تمہارے وہ معبود جن کی تم پوجا کیا کرتے تھے اور ان کے سفارشی ہونے کا دعوی کرتے تھے وہ سب تم سے گئے گزرے۔ شان نزول : (آیت) ” ولقد جئتمونا “۔ (الخ) ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نضر بن حارث نے کہا کہ عنقریب لات وعزی سفارش کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فمرائی کہ تم ہمارے پاس تنہا تنہا آؤ گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٤ (وَلَقَدْ جِءْتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) یعنی آج اپنے تمام لاؤ لشکر ‘ مال و متاع اور خدم و حشم سب کچھ پیچھے چھوڑ آئے ہو ‘ آج کوئی بھی ‘ کچھ بھی تمہاری مدد کے لیے تمہارے ساتھ نہیں۔ یہی بات سورة مریم میں اس طرح کہی گئی ہے : (وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا ) کہ قیامت کے دن ہر شخص کا محاسبہ انفرادی حیثیت میں ہوگا۔ اور ظاہر ہے اس کے لیے ہر کوئی اکیلا کھڑا ہوگا ‘ نہ کسی کے رشتہ دار ساتھ ہوں گے ‘ نہ ماں باپ ‘ نہ اولاد ‘ نہ بیوی ‘ نہ بیوی کے ساتھ اس کا شوہر ‘ نہ سازو سامان نہ خدم و حشم ! یہاں ایک اور اہم بات نوٹ کیجیے کہ خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ کا مطلب ہے کہ انسان کی تخلیق دو مرتبہ ہوئی ہے۔ ایک تخلیق عالم ارواح میں ہوئی تھی ‘ وہاں بھی سب اکیلے اکیلے تھے ‘ نہ کسی کا باپ ساتھ تھا نہ کسی کی ماں۔ تب ارواح کے مابین کوئی رشتہ داری بھی نہیں تھی۔ یہ رشتہ داریاں تو بعد میں عالم خلق میں آکر ہوئی ہیں۔ آیت زیرنظر میں عالم ارواح کی اسی تخلیق کی طرف اشارہ ہے۔ عالم ارواح کے اس اجتماع میں بنی نوع انسان کے ہر فرد نے وہ عہد کیا تھا جسے عہد الست کہا جاتا ہے۔ جب پروردگار عالم نے اولاد آدم کی ارواح سے سوال کیا : (اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو سب نے جواب دیا : (بَلٰی) (الاعراف : ١٧٢) کیوں نہیں ! عالم ارواح کے اجتماع اور روز محشر کے اجتماع میں ایک لحاظ سے فرق ہے اور ایک لحاظ سے مشابہت۔ فرق یہ ہے کہ پہلے اجتماع میں مجرد ارواح کی شمولیت ہوئی تھی ‘ اس وقت تک انسانوں کو جسم عطا نہیں ہوئے تھے ‘ جب کہ روز محشر کے اجتماع میں یہ دنیاوی اجسام بھی ساتھ ہوں گے۔ ان اجتماعات میں مشابہت یہ ہے کہ پہلے اجتماع میں بھی حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر ان کی نسل کے آخری انسان تک سب کی ارواح موجود تھیں اور قیامت کے دن بھی یہ سب کے سب انسان اپنے پروردگار کے حضور کھڑے ہوں گے۔ (وَّتَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَآءَ ظُہُوْرِکُمْ ج) ۔ وہ کون سی چیزیں ہیں جن میں یہاں ہمیں لپیٹ دیا گیا ہے ‘ اس پر غور کی ضرورت ہے۔ اصل چیز تو انسان کی روح ہے۔ اس روح کے لیے پہلا غلاف یہ جسم ہے ‘ پھر اس غلاف کے اوپر کپڑوں کا غلاف ہے ‘ کپڑوں کے اوپر پھر مکان کا غلاف اور پھر دیگر اشیائے ضرورت۔ اس طرح روح کے لیے جسم اور جسم کی ضروریات کے لیے تمام مادّی اشیاء یعنی اس دنیا کا سازو سامان سب کچھ اس میں شامل ہے۔ ہماری روح درحقیقت ان مادی غلافوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ قیامت کے دن ارشاد ہوگا کہ آج تم ہمارے پاس اکیلے حاضر ہوئے ہو اور دنیا کی تمام چیزیں اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو۔ (وَمَا نَرٰی مَعَکُمْ شُفَعَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّہُمْ فِیْکُمْ شُرَکٰٓوءُ ‘ ا ط) ان مجرم لوگوں کو جن جن کے بارے میں بھی زعم تھا کہ وہ ان کے لیے قیامت کے دِن شفاعت کریں گے وہ سب وہاں ان سے اعلان براءت کردیں گے۔ لات ‘ منات ‘ عزیٰ اور دوسرے معبود ان باطل تو کسی شمار و قطار ہی میں نہیں ہوں گے ‘ اس سلسلے میں انبیاء کرام (علیہ السلام) ‘ ملائکہ اور اولیاء اللہ سے لگائی گئی ان کی امیدیں بھی اس روز بر نہیں آئیں گی۔ (لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَکُمْ ) (وَضَلَّ عَنْکُمْ مَّا کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ) آج ان ہستیوں میں سے کوئی تمہارے ساتھ نظر نہیں آ رہا جن کی سفارش کی امید کے سہارے پر تم حرام خوریاں کیا کرتے تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

تفسیر ابن جریر میں عکرمہ سے روایت ہے کہ نضربن عارث ایک شخص مشرک نے ایک روز کہا کہ مجھ کو کیا پروا ہے لات و منات خدا کے کے روبرو میری شفاعت کو کافی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل ٢ ؎ فرمائی حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ بت پرستوں کے بت جن کو وہ اپنے حمایتی خیال کرتے ہیں اور مالداروں کا مال اولاد والوں کی اولاد جس کے پیچھے لوگ اپنی عمر صرف کرتے ہیں یہ سب یہیں دنیا میں چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں اللہ کے پاس ہر انسان ویسا ہی اکیلا جانے والا ہے جس طرح اکیلا دنیا میں آیا تھا صحیح بخاری و مسلم میں حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا قبر تک ہر انسان کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں اولاد مال اور عمل۔ اولاد اور مال تو اس کی قبر میں اکیلا چھوڑ کر پلٹ آنے والی چیزیں ہیں اگلا عمل اس کے ساتھ رہنے کی چیز ہے ٣ ؎ صحیح مسلم ‘ ترمذی اور نسائی میں وبد اللہ میں عبداللہ بن شخیر (رض) وغیرہ روایت ہے کہ ہر آدمی آٹھ پہر میرا مال میرا مال جھینکتا رہتا ہے اس کا مال کیا ہے کھیل سو گنوایا پہنا سو پہاڑا ہاں کو اللہ کے نام پر دیا سو رہا ٤ ؎ ترمذی اور مسندامام احمد اور دارمی میں حضرت انس (رض) اور زیدبن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ دنیا میں جو شخ صدین کے کاموں میں لگا رہتا ہے اس کا دل دنیا سے غنی رہتا ہے اور بغیر کوشش کے بقدر ضرورت دنیا بھی اس کے ہاتھ آتی ہے اور جو شخص بالکل دنیا کی طرف را غب ہوجاتا ہے وہ ہیمشہ پریشان حال رہتا ہے اور تقدیرے زیادہ کچھ اس کو نہیں ١ ؎ اسی مضمون کی ابوہریرہ (رض) کی حدیث ترمذی میں ہے جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے اور معقل بن یسار (رض) کی حدیث مستدرک حاکم میں ہے جس کو عاکم نے صحیح کہا ہے ٣ غرض اس باب میں جو روایتیں ہیں ان میں ایک کو دوسری سے تقویت ہوجاتی ہے ان حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ دنیا سے کچھ ساتھ لے جانے کی چیز ہے تو نیک عمل ہے باقی دنیا میں پھنسنے اور دین دنیا کی پریشانی کے سوا سب چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں جن کو چھوڑ جانے سے پہلے چھوڑ دیتا موجب نجات ہے حاصل کلام یہ ہے کہ کہ نفربن عارث جیسے لوگوں کی زندگی اور دارو مدار وہی چیزوں پر تھا ایک مال اور اولاد کی ترقی کی کوشش دوسرے بتوں کی پوچا کر کے ان کو قیامت کے دن اپنا سفارشی قرار دینا۔ ان کی اس زندگی کو لا حاصل ٹھہرانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مال اور اولاد تو قبر تک کے ساتھی ہیں اور جن لوگوں کے بہکانے سے انہوں نے بتوں کو اپنا سفارشی ٹھہرایا ہے قیامت کے دن وہ بہکانے والے ان سے اس طرح کی بیزاری ظاہر کریں گے کہ ان بہکنے والوں کو یہ تمنا نہیں کرنا پڑے گی کہ دنیا میں انکا دوبارہ جانا ہوتا تو یہ بھی ان سے ایسی بیزاری ظاہر کرتے۔ ان بہکانے والوں اور بہکنے والوں کی بیزاری کا ذکر سورة بقر میں گذر چکا ہے۔ عالوہ سورة بقرہ کے یہ ذکر سورة ابراہیم میں بھی آوے گا جس میں شیطان بھی بہکنے والے لوگوں سے اپنی بیزاری ظاہر کرے گا ناقابل اعتراض سند سے تفسیر کلبی میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیث بن آدم کی اولاد حضرت آدم (علیہ السلام) کی قبر پر جا کر دعا اور قبر کی تعظیم کیا کرتے تھے یہ حال دیکھ کر شیطان کے بہکانے سے قابیل بن آدم کی اولاد میں سے ایک شخص نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا اگر تم کہو تو میں حضرت آدم کے نام کی ایک مورت بنا دیتا ہوں تم لوگ گھر بیٹھے اس مورت کی تعظیم کیا کرو ٤ ؎ اولاد قابیل نے اس بات کو مان لیا اور یہ پہلی مورت تھی جو دنیا میں بنائی گئی اور رفتہ رفتہ اس مورت کی پوجا ہونے لگی ان بت پرستوں کا اعتقاد یہ ہے کہ جن لوگوں کی مورتوں کو یہ پوجتے ہیں وہ لوگ قیامت کے دن اللہ سے ان بت پرستوں کی سفارش کر کے ان کو عذاب الہی سے بچاویں گے حضرت ادریس (علیہ السلام) اسی قوم کی ہدایت اور اسی کی بت پرستی مٹانے کے لیے نبی ہو کر آئے لیکن ان لوگوں نے حضرت ادریس (علیہ السلام) اسی قوم کی ہدایت اور اسی کی بت پرستی مٹانے کے لیے نبی ہو کر آئے لیکن ان لوگوں نے حضرت ادریس ( علیہ السلام) کو جھٹلایا اور بت پرستی سے باز نہ آئے پھر اس قوم میں کے پانچ نیک شخص مرگئے جن کے نام۔ ود۔ سواع۔ یغوث۔ یعوق۔ نسر تھے شیطان نے اس قوم کے دل میں یہ بات ڈالی کہ برکت کے لیے ان پانچوں شخص کی مورتیں بنالی جاویں اب رفتہ رفتہ اس پہلی مورت کے علاوہ ان پانچوں مورتوں کی بھی پوجا ہونے لگی حضرت نوح ( علیہ السلام) اسی بت پرستی کے مٹانے کے لیے نبی ہو کر آئے اور جب اس وقت کے لوگوں نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اسی بت پرستی کے مٹانے کے لیے نبی ہو کر آئے اور جب اس وقت کے لوگوں نے حضرت نوح ( علیہ السلام) کی نبوت کو نہ مانا تو طوفان آیا جس سے اس زمانے کے سب بت پرست ہلاک ہوگئے طوفان میں یہ پانچوں بت بہہ کر جدہ میں آگئے اور مٹی کے نیچے دب گئے۔ ایک عرصہ کے بعد شیطان کے بہکانے سے عمرو بن لحی مکہ کا ایک شخص ان بتوں کو مکہ میں لایا اور یہاں بھی بت پرستی پھیل گئی۔ سورة مائدہ میں گذر چکا ہے کہ یہ عمرو بن لحی قبیلہ خزاعہ کا ایک سردار تھا اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ دین ابراہیمی کو اسی شخص نے بگاڑا۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دوزخ میں جلتے ہوئے دیکھا الغرض بت پرستی کے جاری کرنے میں شیطان اور انسان دونوں کی شراکت ہے اس لیے قیامت کے دن یہ دونوں بت پرست لوگوں سے پانی بیزاری ظاہر کریں گے ان پانچ بتوں کے باب میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت صحیح بخاری میں ہے جس کا ذکر سورة نوح میں آئے گا :۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ١٤٢۔ ١٤٣ باب مایقال عند من حضرہ الموت ٢ ؎ تفسیر ابن جریر ج ٧ ص ١٧٠ ٣ ؎ صحیح بخاری ج ٢ ص ٩٦٤ باب سکرات الموت صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠٧ کتاب ب الزہد ٤ ؎ صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠٧ کتاب الزہد وجامع ترمذی ج ٢ ص ٥٧ باب ماجاء فی الزھادۃ فی الدنیا والتر غیب الترہیب ج ٢

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:94) جئتمونا۔ تم ہمارے پاس آپہنچے۔ اس میں واؤ اشباع کا اور نا ضمیر جمع متکلم ہے۔ فرادی۔ فرد۔ کی جمع۔ اکیلے اکیلے۔ ایک ایک۔ خولنکم۔ ہم نے تم کو عطا کیا۔ ہم نے تم کو دیا۔ تخویل (تفعیل) سے جس کے معنی ایسی چیزوں کے عطا کرنے کے ہیں جن کی نگہداشت کی ضرورت پڑے۔ جیسے عربی میں کہتے ہیں فلان خال مال او خائل مال۔ یعنی فلاں مال کی خوب نگہداشت کرنے والا ہے (آیۃ ہذا میں : جو مال و متاع ہم نے تم کو دیا تھا تم سب پیچھے چھوڑ آئے) ماضی جمع متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ فیکم۔ ای امورکم۔ تمہارے معاملات میں۔ شرکاء یعنی شرکاء للہ۔ یعنی جن کو تم یہ سمجھتے تھے کہ تمہاری فلاح و بہبود اور نفع و نقصان میں اللہ کے ساتھ شریک ہیں اور عمل و دخل رکھتے ہیں۔ تقطع۔ کٹ گیا ۔ ٹوٹ گیا۔ قطع قطع ہوگیا۔ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ تقطع (تفعل) سے تقطع بینکم۔ ای تقطع ما بینکم من الوصل۔ بیشک تمہارے درمیان جو رشیہ تھا وہ ٹوٹ گیا۔ ضل۔ کھوگیا۔ گم ہوگیا۔ ضاٗع ہوگیا۔ ہلاک ہوگیا۔ بھٹک گیا۔ راہ سے دور جا پڑا۔ ما کنتم تذعمون۔ اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے (وہ کھوگئے)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اس میں سے کچھ بھی اپنے ساتھ نہ لائے اور انہ وہ تمہارے کسی کام آیا۔ (وحیدی)8 اور کہتے تھے کہ جس طرح اللہ اس بات کا حقدار ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں یہ بھی حق رکھتے ہیں یہ بات ان سے تقریع اور توبیخ کے طور پر کہی جائے گی ( ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 94 : فردی (تنہا) ترکتم) تم نے چھوڑا ‘ خولنا (ہم نے دیا) ‘ ورآء ( پیچھے) ظھور ( ظھر) ۔ پیٹھ ‘ شفعآء (شفیع) سفارشی ‘ زعمتم (تم نے گھمنڈ کیا) ‘ تزعمون ( تم دعویٰ کرتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 94 : یہ قیامت کے مناظر میں سے ایک ہے جب مشرکین اللہ کے سامنے پیش ہوں گے اللہ فرمائے گا کہ آج تم اکیلے تن تنہا آئے ہو بالکل جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ نہ آج تمہارا زرق برق لباس ہے ۔ نہ وہ عمارتیں سواریاں حشم و خدم ‘ نہ وہ دولت نہ وہ شوکت جن کے بل بوتے پر تمہاری گردن اکڑی رہا کرتی تھی۔ اور تم ہماری آیات پر بحث و تکرار کا طوفان اٹھا دیا کرتے تھے۔ آج تم خالی ہاتھ ہو کچھ ساتھ نہ لاسکے۔ اور کہاں ہیں آج وہ جھوٹے معبود جنہیں تم اختیار ات میں ہمارا شریک سمجھتے تھے جن پر تمہیں گھمنڈ تھا کہ سفارش کر کے تمہیں میری سزا سے بچالیں گے۔ جنہیں تم پوجتے تھے گویا وہ بھی تمہیں پیدا کرنے میں زندہ رکھنے میں ‘ موت اور قبر و قیامت میں کچھ دخل رکھتے ہیں۔ لائو دکھائو کہاں ہیں وہ ؟ کل جن پر تم ناز کرتے تھے آج وہ کہاں گئے تمہیں بےیارو مدد گار چھوڑ کر۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ” ہر وہ شخص جس نے اللہ کے ساتھ دوسروں کی بندگی کو پسند کیا اس کا حشر اپنی بندگی کرنے والوں کے ساتھ ہی ہوگا “ اس سے مفسرین نے یہ معنی لئے ہیں کہ وہ ہستیاں جنہوں نے اپنی بندگی کرائی ‘ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ لن کہ وہ ہستیاں جنہوں نے اپنی بندگی نہیں کرائی اور اس سلسلہ میں بےگناہ ہیں اگر چہ کچھ لوگ اپنی طرف سے بلا اجازت ان کی پرستش کرتے رہے۔ ( جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وہ بےقصور ٹھہرائے جائیں گے کیونکہ وہ اس شرک کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ اوپر مسئلہ رسالت کی تحقیق مع اس کے متعلقات کے تھی اور اس سے اوپر مسئلہ توحید مذکور تھا آگے پھر توحید کی طرف عود ہے اور اس کے ساتھ چونکہ استدلال میں اپنی نعمتوں کا ذکر ہے اپنے منعم ہونے کا بھی بیان ہے تاکہ شرک کا قبح طبعی بھی ظاہر ہوجائے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : دنیا میں کفار اپنی اجتماعی قوت اور مالی وسائل کی بنا پر قرآن مجید اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن موت کے بعد سب کو اکیلے، اکیلے رب کے حضور پیش ہونا ہوگا۔ جس کے لیے موت کے بعد اٹھنے اور محشر کے میدان میں حاضری کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام سے انحراف اور موت کے بعد اٹھنے کا جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کو خبردار کیا گیا ہے۔ کہ اس وقت کا تصور کرو۔ جب اللہ تعالیٰ ایک، ایک کو اپنی بارگاہ میں اس طرح کھڑا کریں گے جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ جس دولت پر تم اتراتے ہو، جو اقتدار اور اختیار تمہارے تکبر کا باعث بنا ہے جن پیروں فقیروں اور باطل معبودوں پر بھروسہ کرتے ہوئے موت کا انکار اور ہماری آیات سے انحراف کیا وہ سب کا سب پیچھے رہ جائے گا۔ کوئی ایک شخص بھی تمہاری سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا۔ اس وقت تمام وسائل ختم اور ہر قسم کے رشتے ناتے کٹ چکے ہوں گے اور وہ زعم بھی ختم ہوجائے گا جس کی بنا پر مشرک دنیا میں شرک کیا کرتے تھے۔ کہ فلاں، فلاں ہمیں اللہ سے چھڑوائے گا۔ ظالم کو اس کی کربناک موت کا احساس دلاتے ہوئے یہ بھی بتلایا جا رہا ہے کہ جس طرح موت وحیات کی کشمکش اور نزع کے عالم میں مرنے والے کی کوئی مدد نہیں کرسکتا اور موت کے فرشتے ظالم کو جھڑکیاں دیتے ہوئے اسے اپنی جان نکالنے کا حکم دیتے ہیں حالانکہ جان نکالنا یعنی روح قبض کرنا مرنے والے کے اختیار میں نہیں یہ اختیار صرف اور صرف روح قبض کرنے والے فرشتہ کو دیا گیا۔ اس کے سوا کوئی کسی کی روح نہیں نکال سکتا۔ بیشک کوئی آگ میں چھلانگ لگائے یاد ریا میں کود پڑے وہ وقت معین سے پہلے مر نہیں سکتا۔ جس طرح موت کی سختیاں اور نزع کی کربناکیاں انسان کو کسی کی مدد اور سہارے کے بغیر ہی برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ ایسے ہی ہر انسان تن تنہا رب کبریا کی عدالت میں پیش ہوگا۔ وہاں نہ سفارشی ہوگا اور نہ ہی کوئی مددگار اور غم خوار قریب آئے گا۔ اس تصور کو یہ کہہ کر مزید واضح کیا گیا ہے کہ تم ایسے ہی اکیلے اکیلے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے والے ہو۔ جس طرح پیدائش کے وقت انسان اکیلا پیدا ہوتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ تخلیق کے وقت انسان گناہوں سے پاک پیدا ہوتا ہے اور مرتے وقت انسان گناہوں کے انبار ساتھ لے کرجاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو باور کرایا گیا ہے کہ جن سہاروں پہ تم تکیہ اور جن امیدوں کو سہارا بنائے ہوئے ہو۔ وہ سب کی سب دم توڑ جائیں گی اور اس وقت تمہارے اس طرح اوسان خطا ہوں گے کہ کوئی دنیا کے سہاروں کا تصور بھی نہیں کرسکے گا۔ (عَنْ عَاءِشَۃ َ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ قَامَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَلٰی الصَّفَا فَقَالَ یَا فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ یَا صَفِیَّۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللّٰہِ شَیْءًا سَلُونِی مِنْ مَالِی مَا شِءْتُمْ )[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب فی قولہ تعالیٰ وانذر عشیرتک الاقربین ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی ” اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے “ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفا پر کھڑے ہو کر فرمایا اے فاطمہ میری بیٹی، اے صفیہ بنت عبدالمطلب، اے عبدالمطلب کے خاندان کے لوگو ! میرے مال میں سے جو چاہومانگ لو لیکن اللہ کے ہاں میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ “ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّکُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا ثُمَّ قَرَأَ کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِینَ وَأَوَّلُ مَنْ یُکْسٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِبْرَاہِیمُ وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِی یُؤْخَذُ بِہِمْ ذَات الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِی أَصْحَابِی فَیَقُولُ إِنَّہُمْ لَمْ یَزَالُوا مُرْتَدِّینَ عَلٰی أَعْقَابِہِمْ مُنْذُ فَارَقْتَہُمْ فَأَقُولُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیدًا مَا دُمْتُ فیہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی إِلٰی قَوْلِہٖ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ )[ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء، باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی وَاتَّخَذَ اللَّہُ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلاً ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن، بغیر ختنوں کے اکٹھا کیا جائے گا پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی ( کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ ) اور سب سے پہلے قیامت کے دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا میری امت کے بائیں جانب کچھ لوگوں کو علیحدہ کردیا جائے گا میں کہوں گا میری امت میرے اصحاب کدھر گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ لوگ تو آپ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد دین سے پھرگئے تھے پھر میں اللہ کے نیک بندے عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح کہوں گا میں تو اس حد تک گواہ ہوں جب تک میں ان میں موجود تھا۔ جب تو نے مجھے فوت کرلیا وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیدًا مَا دُمْتُ فیہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی إِلٰی قَوْلِہٖ الْعَزِیزُ الْحَکِیم “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃٌ مُسْتَجَابَۃٌ وَإِنِّی اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِی شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی وَہِیَ نَاءِلَۃٌ إِنْ شَاء اللّٰہُ مَنْ مَاتَ مِنْہُمْ لَا یُشْرِکُ باللَّہِ شَیْءًا) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات عن رسول اللہ باب فضل لا حول ولا قوۃ الا باللہ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے اور میں نے وہ دعا اپنی امت کی سفارش کے لیے رکھی ہے۔ انشاء اللہ یہ ہر اس آدمی کو فائدہ دے گی جو شرک کی حالت میں فوت نہ ہوا ہوگا۔ “ مسائل ١۔ لوگ اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں فرداً فرداً بلائے جائیں گے۔ ٢۔ لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے اکٹھا کیا جائے گا۔ ٣۔ دنیا کا سازوسامان دنیا میں ہی رہ جائے گا۔ ٤۔ دنیا کے تمام، رشتے اور تعلقات ختم ہوجائیں گے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کسی کی سفارش قبول نہیں ہوگی : ١۔ کون ہے جو اس کے حکم کے بغیر سفارش کرے۔ (البقرۃ : ٢٥٥) ٢۔ کافر قیامت کے دن سفارشی تلاش کریں گے۔ (الاعراف : ٥٣) ٣۔ قیامت کے دن سفارشی کسی کو فائدہ یا نقصان نہیں دیں گے۔ (یونس : ١٨) ٤۔ سفارش بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ (الانبیاء : ٣٨) ٥۔ اللہ تعالیٰ اپنی پسند کی بات ہی قبول فرمائیں گے۔ (طٰہٰ : ١٠٩) ٦۔ قیا مت کے دن کسی سفارشی کی سفارش کام نہیں آئے گی۔ (المدثر : ٣٨) ٧۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہیں کرسکے گا۔ (یونس : ٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن ہر ایک علیحدہ علیحدہ آئے گا : اس کے بعد فرمایا (وَ لَقَدْ جِءْتُمُوْنَا فُرَادٰی) اس میں قیامت کے دن کی حاضری کی حالت بتائی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا (کہ تم ہمارے پاس تنہا آئے ہو) اور ہر ایک اپنے قبیلے سے اور احباب و اصحاب سے اور ہر جماعت سے علیحدہ ہو کر بالکل تنہا حاضر ہوگا۔ سورة مریم میں فرمایا (لَقَدْ اَحْصٰھُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّا وَ کُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا) (بےشک اس نے سب کو شمار کر رکھا ہے اور ہر ایک اس کے پاس تنہا آئے گا) دنیا میں جو اپنے قبیلوں، جماعتوں لشکروں اور قوموں اور برادریوں پر بھروسہ کر کے زندگیاں گزارتے ہیں اور کفر و شرک و معاصی پر آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ان کے آپس کے یہ تعلقات ختم ہوجائیں گے۔ اور وہاں کوئی کسی کا نہ ہوگا۔ (الّا الْمُتَّقُوْنَ ) پھر فرمایا (کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (یعنی جیسے ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی حالت میں قیامت کے دن آؤ گے۔ ) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بلاشبہ قیامت کے دن تم اس حال میں جمع کیے جاؤ گے کہ تن پر کپڑے نہ ہوں گے اور سب بےختنہ ہوں گے اس کے بعد آپ نے سورة انبیاء کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (کَمَا بَدأْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَآ اِنَّا کُنَّافٰعِلِیْنَ ) (جیسے کہ ہم نے ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح ہم لوٹائیں گے۔ ہمارے ذمہ یہ وعدہ ہے بیشک ہم اس کے مطابق کرنے والے ہیں) پھر فرمایا کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ (رواہ البخاری ج ٢ ص ٦٩٣) سب مال و دولت دنیا ہی میں چھوڑ گئے : پھر فرمایا (وَّ تَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَآءَ ظُھُوْرِکُمْ ) (اور تم نے اپنے پیچھے چھوڑ دیا جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا) اوپر یہ بتایا کہ دنیا میں جو جماعتوں اور قبیلوں پر بھروسہ ہوتا ہے اور جو جماعتیں اپنی مدد کے لیے بنائی جاتی ہیں اور جاہ و اقتدار کے لیے اپنے ماننے والے بنائے جاتے ہیں یہ سب کچھ آخرت میں کام دینے والے نہیں کیونکہ وہاں ہر ایک فرداً فرداً آئے گا۔ اب یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ہم نے دنیا میں تمہیں جو کچھ (مال و دولت، آل و اولاد، نور چشم و خُدّام) عنایت فرمایا تھا تم وہ سب دنیا ہی میں چھوڑ کر آگئے۔ دنیا میں لوگ مال کماتے ہیں ایک کے دس بناتے ہیں۔ تھوڑے مال کو بہت زیادہ کرلیتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مال میں آخرت کا حصہ رکھتے ہوں۔ اور مال کے شرعی حقوق ادا کرتے ہوں۔ عموماً مال ہی کو مقصود بنا لیتے ہیں اسی کے لیے مرتے ہیں اور اسی کے لیے جیتے ہیں کماتے ہیں کھانے کے لیے اور کھاتے ہیں کمانے کے لیے۔ ایسے لوگوں کا مال آخرت میں و بال ہوگا۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہیں اور اس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہیں۔ اور دنیا کے لیے وہ شخص جمع کرتا ہے جس کو عقل نہیں۔ (رواہ احمد و البیہقی فی شعب الایمان کمافی المشکوٰۃ ص ٤٤٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب مرنے والا مرجاتا ہے تو فرشتے آپس میں پوچھتے ہیں (کہ اپنے مال اور اعمال سے) کیا لے کر آیا جو اس نے آگے بھیجا تھا اور دنیا کے لوگ یہ پوچھتے ہیں کیا چھوڑ کر گیا۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان فی المشکوٰۃ ص ٤٤٥) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن انسان کو اس حالت میں لایا جائے گا کہ گویا وہ بھیڑ کا بچہ ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا اس سے اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا کہ میں نے تجھے مال عطا کیا اور تجھ پر انعام کیا سو تو نے کیا کیا ؟ وہ جواب دے گا کہ اے رب ! میں نے اسے جمع کیا اور خوب بڑھایا اور جتنا تھا اس سے خوب زیادہ کر کے چھوڑ آیا۔ مجھے واپس بھیج دیجیے میں سب آپ کے پاس لے کر آتا ہوں۔ اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ مجھے وہ دکھا جو تو نے پہلے سے یہاں بھیجا تھا وہ پھر وہی عرض کرے گا کہ میں نے جمع کیا اور اسے بڑھایا اور جتنا تھا اس سے زیادہ کر کے چھوڑ آیا لہٰذا مجھے واپس بھیج دیجیے میں سب آپ کے پاس لے کر آجاؤں گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ ایسا شخص نکلے گا جس نے کوئی بھی خیر نہیں بھیجی ہوگی لہٰذا اس کو دوزخ کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ (رواہ الترمذی کمافی المشکوٰۃ ص ٤٤٣) پھر فرمایا (وَ مَا نَرٰی مَعَکُمْ شُفَعَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّھُمْ فِیْکُمْ شُرَکٰٓؤُا) (ہم نہیں دیکھ رہے ہیں تمہارے ان سفارشیوں کو جن کی نسبت تم دعویٰ کرتے تھے کہ وہ تمہارے معاملہ میں شریک ہیں) (لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَکُمْ وَ ضَلَّ عَنْکُمْ مَّا کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ) (البتہ تمہارا آپس کا تعلق منقطع ہوگیا اور جو تم دعوے کیا کرتے تھے وہ آئے گئے ہوگئے) قیامت کے دن اہل دنیا کے آپس کے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ اور جن لوگوں کے بارے میں جھوٹا خیال تھا کہ یہ ہماری سفارش کریں گے ان سے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا وہ سب ایک دوسرے سے بیزاری ظاہر کرینگے اور اس وقت علانیہ طور پر واضح ہوجائے گا کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات کے خلاف جو عقائد اور خود ساختہ خیالات تھے سب باطل تھے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

100 فُرٰادٰی۔ فرد یا فرید کی جمع ہے اور یہ ضمیر خطاب سے حال ہے۔ مَا خَوَّ لْنٰکُمْ ای ما اعطینکم یعنی ہم نے جو تمہیں مال و دولت دی تھی شُفَعَاءَکُمْ وہ نیک پیر اور اولیاء اللہ جن کو مشرکین خدا کے یہاں سفارشی سمجھ کر ان کی عبادت کرتے اور ان کی نذریں نیازیں دیتے تھے۔ یہ مشرکین سے کہا جائے گا کہ آج تم سب تنہا اور اکیلے میدان حشر میں آئے ہو آج تمہارے ساتھ نہ وہ مال و دولت ہے۔ نہ انصار واعوان جن پر تم مغرور تھے اور نہ آج تمہارے وہ سفارشی تمہارے ساتھ ہیں جن کو تم اللہ کی عبادت، ربوبیت اور پکار میں شریک کیا کرتے تھے۔ اور جن کے بارے میں تمہیں یقین تھا کہ وہ ہر آڑے وقت میں تمہارے کام آئیں گے۔ آج وہ کہاں ہیں۔ لَقَدْ تَّقَطَّعَ ای الوصل بینکم۔ آج تمہارے اور ان کے درمیان تمام تعلقات منقطع ہوچکے ہیں اور تمہاری تمام خواہشیں اور آرزؤیں خاک میں مل چکی ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

94 یہ ہولناک منظر تو مرتے وقت ہوگا اور قیامت میں جب ہمارے سامنے پیش ہوں گے تو ہم کہیں گے جس طرح ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی طرح تم آخر کار تن تنہا ہمارے حضور آ حاضر ہوئے یعنی جس طرح ماں کے پیٹ سے ننگے غیر مختون اور امراض سے پاک صاف پیدا ہوئے تھے اسی طرح ہماری پیشی میں حاضر ہوگئے اور جو ساز و سامان ہم نے تم کو دیا تھا جس پر تم فخر و غرور کا اظہار کیا کرتے تھے وہ سب تم اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ آج تمہارے ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق یہ سمجھتے اور خیال کرتے تھے کہ وہ تمہاری پرورش اور استحقاق عبادت نیز تمہارے دیگر معاملات میں ہمارے شریک ہیں یعنی وہ تمہارے خود ساختہ شریک بھی آج تمہاری امداد کو تمہارے ساتھ نہیں آئے یقینا اب تمہارے اور ان کے باہمی رابطے اور علاقے سب ٹوٹ پھوٹ گئے اور جو لمبے چوڑے دعوے تم دنیا میں کیا کرتے تھے وہ آج سب تم بھول بھال گئے اور وہ سب گئے گزرے ہوگئے یعنی بت پرستی اور اصنام کو ہمارا شریک ٹھہرانا اور ہماری عبادت میں غیر اللہ کو شریک کرنا۔