Surat ul Mumtahina

Surah: 60

Verse: 13

سورة الممتحنة

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ قَدۡ یَئِسُوۡا مِنَ الۡاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الۡکُفَّارُ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡقُبُوۡرِ ﴿٪۱۳﴾  8 النصف

O you who have believed, do not make allies of a people with whom Allah has become angry. They have despaired of [reward in] the Hereafter just as the disbelievers have despaired of [meeting] the inhabitants of the graves.

اے مسلمانو! تم اس قوم سے دوستی نہ رکھو جن پر اللہ کا غضب نازل ہو چکا ہے جو آخرت سے اس طرح مایوس ہو چکے ہیں جیسے کہ مردہ اہل قبر سے کافر نا امید ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Just like in the beginning of the Surah, Allah the Exalted forbids taking the disbelievers as protecting friends at the end of the Surah, saying, يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا لاَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ... O you who believe! Take not as friends the people who incurred the wrath of Allah. referring to the Jews, Christians and the rest of the disbelievers whom Allah became angry with and cursed. Those who deserved being rejected and banished by Him. (Allah says here), `how can you become their allies, friends and companions, after Allah decided that they earn the despair of receiving any good or delights in the Hereafter' Allah's statement, ... قَدْ يَيِسُوا مِنَ الاْخِرَةِ .. Surely, they have despaired of the Hereafter, ... كَمَا يَيِسَ الْكُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ just as the disbelievers have despaired of those (buried) in graves. This has two possible meanings. First, the disbelievers despair of ever again meeting their relatives buried in graves, because they do not believe in Resurrection or being brought back to life. Therefore, they have no hope that they will meet them again, according to their creed. Secondly, just as the disbelievers who are buried in graves have lost hope in receiving any kind of goodness (i.e., after seeing the punishment and knowing that Resurrection is true. Al-A`mash reported from Abu Ad-Duha from Masruq that Ibn Mas`ud said, كَمَا يَيِسَ الْكُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ (just as the disbelievers have despaired of those (buried) in graves). "Just as the disbeliever despairs when he dies and realizes and knows his (evil) recompense." This is the saying of Mujahid, `Ikrimah, Muqatil, Ibn Zayd, Al-Kalbi and Mansur; Ibn Jarir preferred this explanation. This is the end of the Tafsir of Surah Al-Mumtahinah, all praise and thanks be to Allah.

کفار سے دلی دوستی کی ممانعت اس سورت کی ابتداء میں جو حکم تھا وہی انتہا میں بیان ہو رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے جن پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت اتر چکی ہے اور اللہ کی رحمت اور اس کی شفقت سے دور ہو چکے ہیں تم ان سے دوستانہ اور میل ملاپ نہ رکھو ، وہ آخرت کے ثواب سے اور وہاں کی نعمتوں سے ایسے ناامید ہو چکے ہیں جیسے قبروں والے کافر ، اس پچھلے جملے کے دو معنی کے گئے ہیں ایک تو یہ کہ جیسے زندہ کافر اپنے مردہ کافروں کے دوبارہ زندہ ہونے سے مایوس ہو چکے ہیں ، دوسرے یہ کہ جس طرح مردہ کافر ہر بھلائی سے ناامید ہو چکے ہیں وہ مر کر آخرت کے احوال دیکھ چکے اور اب انہیں کسی قسم کی بھلائی کی توقع نہیں رہی ، الحمد اللہ سورہ ممتحنہ کی تفسیر ختم ہوئی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13۔ 1 اس سے بعض یہود، بعض منافقین اور بعض نے تمام کافر مراد لئے ہیں۔ یہ آخری قول ہی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اس میں یہود و منافقین بھی آجاتے ہیں، علاوہ ازیں سارے کفار ہی غضب الٰہی کے مستحق ہیں، اس لئے مطلب یہ ہوگا کہ کسی بھی کافر سے دوستانہ تعلق مت رکھو، جیسا کہ یہ مضمون قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ 13۔ 2 آخرت سے مایوس ہونے کا مطلب، قیامت کے برپا ہونے سے انکار ہے۔ ایک دوسرے معنی اس کے یہ کئے گئے ہیں کہ قبروں میں مدفون کافر، ہر قسم کی خیر سے مایوس ہوگئے۔ کیونکہ مر کر انہوں نے اپنے کفر کا انجام دیکھ لیا، اب وہ خیر کی کیا توقع کرسکتے ہیں (ابن جریر طبری) ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٠] سورة کے آخر میں ایک دفعہ پھر تاکید مزید کے طور پر اسی بات کو دہرایا گیا ہے کہ معاند قسم کے کافر کبھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ لہذا ان سے دوستی کی پینگیں مت بڑھاؤ۔ نہ ہی ان پر اعتماد کرو۔ جن پر اللہ ناراض ہے۔ اللہ کے دوستوں کو ان سے ناراض ہی رہنا چاہئے۔ [٣١] اصحاب قبور سے کافروں کی مایوسی کی مختلف توجہیات :۔ اس جملہ کے دو مختلف مطلب صحابہ سے منقول ہیں۔ ایک یہ کہ کافروں کا نہ آخرت پر ایمان ہے، نہ ہی قبروں سے مردوں کے دوبارہ جی اٹھنے پر۔ وہ آخرت میں جزاء و سزائے اعمال کی ویسے ہی توقع نہیں رکھتے جیسے مردوں کے قبروں سے جی اٹھنے کی توقع نہیں رکھتے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو کافر قبروں میں پہنچ چکے ہیں حقیقت حال ان کے سامنے کھل کر آچکی ہے اور آخرت میں اللہ کی رحمت اور مہربانی سے ایسے ہی مایوس ہوچکے ہیں۔ جیسے کہ یہ کافر آخرت کے قیام سے ہی مایوس ہیں۔ یہ دونوں مطلب درست ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ بعض لوگوں نے، جو قبروں میں پڑے ہوئے اولیاء اللہ کے تصرفات کے قائل ہیں، ایک تیسرا مطلب بھی کشید کرلیا ہے جو یہ ہے کہ اہل قبور کے تصرفات سے جو لوگ مایوس ہیں اور اس بات کا یقین نہیں رکھتے وہ کافر ہیں۔ گویا اہل قبور کے تصرفات کو تسلیم نہ کرنا کافروں کا کام ہے۔ (نعوذ باللہ من شرور انفسا)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللہ ُ عَلَیْھِمْ : سورت کے شروع میں ” لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیا “ میں مشرکین کی دوستی سے منع فرمایا تھا، آخر میں یہود کی دوستی سے منع فرمایا۔ قرآن مجید میں ” مغضوب علیہم “ عموماً یہود کو کہا گیا ہے۔ دیکھئے سورة ٔ فاتحہ میں ” غیر المغضوب علیھم “ کی تفسیر۔ ٢۔ قَدْ یَـئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الکُفَّارُمِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ : اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے ، ایک یہ کہ ” من “ بیانیہ ہے اور ” اصحب القبور “” الکفار “ کا بیان ہے ۔ یعنی ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ تعالیٰ غصے ہوگیا ( کیونکہ انہوں نے حق کو جانتے ہوئے اور یہ پہچانتے ہوئے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے نبی ہیں، آپ پر ایمان لانے سے انکار کردیا ، اس لیے) وہ آخرت ( کی ہر خیر) سے ناامید ہوچکے ، جس طرح وہ کافر آخرت ( کی ہر خیر) سے ناامید ہوچکے جو قبروں والوں میں سے ہیں ، یعنی وہ کافر جو فوت ہوچکے اور اپنی آنکھوں سے اپنے عذاب کو دیکھ کر ہر خیر سے مایوس ہوچکے ان کی طرح یہ یہودی بھی جان بوجھ کر حق کو جھٹلانے کی وجہ سے آخرت ( کی ہر بھلائی) سے مایوس ہیں ، سو انہیں دوست مت بناؤ ۔ متن میں ترجمہ اسی مفہوم کے مطابق کیا گیا ہے اور طبری نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ” من “ ابتدائیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ تعالیٰ غصے ہوا ، جو آخرت کے واقع ہونے سے اسی طرح ناامید ہیں جس طرح کفار قبروں والوں کے واپس آنے سے ناامید ہوچکے ہیں ۔ یہ دونوں تفسیریں درست ہیں۔ ٣۔ بعض اہل علم نے ” مغضوب علیہم “ کو عام رکھا ہے اور فرمایا ہے کہ جس طرح ” ک عدوی وعدوکم “ کے الفاظ عام ہیں ، اسی طرح ” مغضوب علیہم “ کے الفاظ بھی عام ہیں ان میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین و منافقین سبھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے سبھی کی دوستی سے منع فرمایا ہے اور ان سب پر اللہ کا غضب بھی ہے۔ سبھی آخرت میں کسی بھی خیر کی توقع سے محروم ہیں اور سب کافر اس بات سے بھی ناامید ہوچکے ہیں کہ مرنے والے ان کے پاس دوبارہ آئیں گے ۔ قرآن مجید میں یہود کے علاوہ دوسرے کفار کے لیے بھی ” غضب “ کا لفظ آیا ہے۔ دیکھئے سورة ٔ اعراف (٧١) ، نحل (١٠٦) ، شوریٰ (١٦) اور سورة ٔ فتح (٦) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللہُ عَلَيْہِمْ قَدْ يَىِٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ كَـمَا يَىِٕسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۝ ١٣ ۧ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] غضب الغَضَبُ : ثوران دم القلب إرادة الانتقام، ولذلک قال عليه السلام : «اتّقوا الغَضَبَ فإنّه جمرة توقد في قلب ابن آدم، ألم تروا إلى انتفاخ أوداجه وحمرة عينيه» «2» ، وإذا وصف اللہ تعالیٰ به فالمراد به الانتقام دون غيره : قال فَباؤُ بِغَضَبٍ عَلى غَضَبٍ [ البقرة/ 90] ، وَباؤُ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ [ آل عمران/ 112] ، وقال : وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي [ طه/ 81] ، غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ [ المجادلة/ 14] ، وقوله : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ [ الفاتحة/ 7] ، قيل : هم اليهود «3» . والغَضْبَةُ کالصّخرة، والغَضُوبُ : الكثير الغضب . وتوصف به الحيّة والنّاقة الضجور، وقیل : فلان غُضُبَّةٌ: سریع الغضب «4» ، وحكي أنّه يقال : غَضِبْتُ لفلان : إذا کان حيّا وغَضِبْتُ به إذا کان ميّتا «5» . ( غ ض ب ) الغضب انتقام کے لئے دل میں خون کا جوش مارنا اسی لئے آنحضرت نے فرمایا ہے اتقو ا الغضب فانہ جمرۃ توقدئی قلب ابن ادم الم ترو الی امتقاخ اوداجہ وحمرتۃ عینیہ کہ غصہ سے بچو بیشک وہ انسان کے دل میں دہکتے ہوئے انگارہ کی طرح ہے تم اس کی رگوں کے پھولنے اور آنکھوں کے سرخ ہوجانے کو نہیں دیکھتے لیکن غضب الہیٰ سے مراد انتقام ( اور عذاب ) ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَباؤُ بِغَضَبٍ عَلى غَضَبٍ [ البقرة/ 90] تو وہ اس کے ) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہوگئے ۔ وَباؤُ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ [ آل عمران/ 112] اور وہ خدا کے غضب ہی گرمحتار ہوگئے ۔ وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي [ طه/ 81] اور جس پر میرا غصہ نازل ہوا ۔ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ [ المجادلة/ 14] اور خدا اس پر غضب ناک ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ [ الفاتحة/ 7] نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا ۔ میں بعض نے کہا کہ مغضوب علیھم سے یہود مراد ہیں اور غضبۃ کے معنی سخت چٹان کے ہیں ۔ المغضوب بہت زیادہ غصے ہونے والا یہ سانپ اور تزر مزاج اونٹنی پر بھی بولا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ فلاں غضبۃ کے معنی ہیں فلاں بہت جلد غصے ہونے والا ہے ۔ بعض نے بیان کیا ہے کہ غضیت لفلان کے معنی کسی زندہ شخص کی حمایت میں ناراض ہونا ہیں اور غضبت بہ کے معنی کیس مردہ شخص کی حمایت کے لئے غضب ناک ہونا ۔ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ يأس اليَأْسُ : انتفاءُ الطّمعِ ، يقال : يَئِسَ واسْتَيْأَسَ مثل : عجب واستعجب، وسخر واستسخر . قال تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا[يوسف/ 80] ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ [يوسف/ 110] ، ( ی ء س ) یأس ( مصدرس ) کے معنی ناامید ہونیکے ہیں اور یئس ( مجرد) واستیئاس ( استفعال ) دونوں ہم معنی ہیں جیسے ۔ عجب فاستعجب وسخرو استسخر۔ قرآن میں ہے : فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا[يوسف/ 80] جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہوکر صلاح کرنے لگے ۔ حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ [يوسف/ 110] یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے ۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا «1» [يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . و «أُخَر» معدول عن تقدیر ما فيه الألف واللام، ولیس له نظیر في کلامهم، فإنّ أفعل من کذا، - إمّا أن يذكر معه «من» لفظا أو تقدیرا، فلا يثنّى ولا يجمع ولا يؤنّث . - وإمّا أن يحذف منه «من» فيدخل عليه الألف واللام فيثنّى ويجمع . وهذه اللفظة من بين أخواتها جوّز فيها ذلک من غير الألف واللام . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ یہ اصل میں ولاجر دار الحیاۃ الاخرۃ ہے ( اور دار کا لفظ الحیاۃ الاخرۃ کی طرف مضاف ہے ) اور اخر ( جمع الاخریٰ ) کا لفظ الاخر ( معرف بلام ) سے معدول ہے اور کلام عرب میں اس کی دوسری نظیر نہیں ہے کیونکہ افعل من کذا ( یعنی صیغہ تفصیل ) کے ساتھ اگر لفظ من لفظا یا تقدیرا مذکورہ ہو تو نہ اس کا تثنیہ ہوتا اور نہ جمع اور نہ ہی تانیث آتی ہے اور اس کا تثنیہ جمع دونوں آسکتے ہیں لیکن لفظ آخر میں اس کے نظائر کے برعکس الف لام کے بغیر اس کے استعمال کو جائز سمجھا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ الاخر سے معدول ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ قبر القَبْرُ : مقرّ الميّت، ومصدر قَبَرْتُهُ : جعلته في القَبْرِ ، وأَقْبَرْتُهُ : جعلت له مکانا يُقْبَرُ فيه . نحو : أسقیته : جعلت له ما يسقی منه . قال تعالی: ثُمَّ أَماتَهُ فَأَقْبَرَهُ [ عبس/ 21] ، قيل : معناه ألهم كيف يدفن، والْمَقْبَرَةُ والْمِقْبَرَةُ موضع الْقُبُورِ ، وجمعها : مَقَابِرُ. قال : حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقابِرَ [ التکاثر/ 2] ، كناية عن الموت . وقوله : إِذا بُعْثِرَ ما فِي الْقُبُورِ [ العادیات/ 9] ، إشارة إلى حال البعث . وقیل : إشارة إلى حين كشف السّرائر، فإنّ أحوال الإنسان ما دام في الدّنيا مستورة كأنّها مَقْبُورَةٌ ، فتکون القبور علی طریق الاستعارة، وقیل : معناه إذا زالت الجهالة بالموت، فكأنّ الکافر والجاهل ما دام في الدّنيا فهو مَقْبُورٌ ، فإذا مات فقد أنشر وأخرج من قبره . أي : من جهالته، وذلک حسبما روي : ( الإنسان نائم فإذا مات انتبه) «2» وإلى هذا المعنی أشار بقوله : وَما أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ [ فاطر/ 22] ، أي : الذین هم في حکم الأموات . ( ق ب ر ) القبر کے معنی میت کو دفن کرنے جگہ کے ہیں اگر یہ قبرتہ ( ضرب ونصر ) کا مصدر ہو تو اس کے میت کو قبر میں دفن کر نیکے ہوتے ہیں ۔ اوراقبرتہ کے معنی کیس کیلئے قبر مہیا کرنے کے ہیں تاکہ اسے دفن کیا جائے جیسے اسقینہ کے معنی پینے کے لئے پانی مہیا کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ ثُمَّ أَماتَهُ فَأَقْبَرَهُ [ عبس/ 21] پھر اس کو موت دی ۔ پھر قبر میں دفن کرایا ۔ بعض نے اقبرہ کے معنی یہ کئے ہیں کہ اسے الہام کردیا کہ کس طرح میت کو دفن کیا جائے ۔ المقبرۃ والمقبرۃ ( قبر ستان ) جمع مقابر قرآن میں سے : ۔ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقابِرَ [ التکاثر/ 2] یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں ۔ یہ موت سے کنایہ ہے اور آیت کریمہ : ۔ إِذا بُعْثِرَ ما فِي الْقُبُورِ [ العادیات/ 9] کہ جو مردے قبروں میں ہیں وہ باہر نکال لئے جائیں گے ۔ میں حیات بعد الممات یعنی موت کے بعد زندہ ہونے کی طرف اشارہ ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ دلوں کے اسرار ظاہر کردینے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جب تک انسان دنیا میں رہتا ہے اس کے بھید مستور رہتے ہیں گویا قبر میں مدفون ہیں تو یہاں قبور سے مجازا دل مراد ہیں بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ جب موت کی وجہ سے جہالت کا پردہ اٹھ جائے گا گو یا کا فر اور جاہل جب تک دنیا میں رہتے ہیں جہالت کی قبروں میں مدفون رہتے ہیں چونکہ مرنے کے بعد وہ جہالت دور ہوجاتی ہے ۔ تو گویا وہ قبر جہالت سے دوبارہ زندہ کر کے نکالے گئے ہیں ۔ جیسا کہ مروی ہے الانسان نائم اذا مات کہ انسان دنیامیں سویا رہتا ہے جب موت آکر دستک دیتی ہے تو اس کی آنکھیں کھلتی ہیں اور اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَما أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ [ فاطر/ 22] اور تم ان کو جو قبروں میں مدفون ہیں نہیں سنا سکتے ۔ یعنی جو لوگ جہالت کے گڑھے میں گرنے کی وجہ سے مردوں کے حکم میں ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی مدد کرنے اور حضور کا راز فاش کرنے میں ان یہودیوں سے دوستی مت کرو جن پر اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ غضب فرمایا، ایک مرتبہ اس وقت جبکہ ان لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بند ہیں، اور دوسری مرتبہ حضور کی تکذیب پر یہ جنت کی نعمتوں سے ایسے ناامید ہوگئے جیسا کہ کفار مکہ مردوں کی واپسی سے یا یہ کہ منکر نکیر کے سوال سے یا یہ مطلب ہے کہ مغضوب علیہم سے مت دوستی کرو بلکہ ان لوگوں میں سے ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا (الخ) ابن منذر نے بواسطہ ابن اسحاق، محمد، عکرمہ، ابوسعید، حضرت عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر اور زید بن حارث کچھ یہودیوں سے دوستی رکھتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ } ” اے اہل ِایمان ! ان لوگوں کے ساتھ دوستی مت کرو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا ہے “ نوٹ کیجیے ‘ جس مضمون سے سورت کا آغاز ہوا تھا اختتام پر وہی مضمون دوبارہ آگیا ہے۔ قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ سے یہودی مراد ہیں اور یہاں اہل ایمان کو واضح طور پر منع کیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ تمہاری دوستی نہیں ہونی چاہیے۔ { قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ ۔ } ” یہ لوگ آخرت سے مایوس ہوچکے ہیں جیسے کہ کفار مایوس ہوچکے ہیں اصحابِ قبور میں سے۔ “ آیت کے اس حصے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت سے ایسے مایوس ہوچکے ہیں جیسے قبروں میں پڑے ہوئے کفار اپنی نجات سے مایوس ہیں ۔ ظاہر ہے مرنے کے بعد کفار پر تمام حقائق منکشف ہوچکے ہیں اور ان حقائق کو دیکھتے ہوئے انہیں سزا سے بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ دوسرا مفہوم یوں ہے کہ یہ لوگ آخرت سے ایسے مایوس ہوچکے ہیں جیسے کفار اصحاب القبور کے دوبارہ اٹھنے سے مایوس ہیں۔ یہ دونوں مفاہیم اپنی اپنی جگہ درست ہیں ‘ اس لیے اس فقرے کے تراجم دونوں طرح سے کیے گئے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

24 The words in the original can have two meanings: First, that they have despaired of their well-being and rewards in the Hereafter just as the deniers of the life-after-death have despaired of the resurrection of their near and dear ones, who are dead and gone into the graves. This meaning has been given by Hadrat 'Abdullah bin 'Abbas and Hadrat Hasan Basri, Qatadah and Dahak (may AIlah bless them) . The second meaning can.be: They have despaired of the mercy and forgiveness of the Hereafter just as the disbelievers, who are Iying in the graves, have despaired of every good, for they are certain of their being involved in the punishment. This meaning has been related from Hadrat `Abdullah bin Mas'ud and from Mujahid, 'Ikrimah, Ibn Zaid, Kalbi, Muqatil, Mansur (may Allah bless them all) .

سورة الْمُمْتَحِنَة حاشیہ نمبر :24 اصل الفاظ ہیں قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْرِ ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ آخرت کی بھلائی اور اس کے ثواب سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح زندگی بعد موت سے انکار کرنے والے اس بات سے مایوس ہیں کہ ان کے جو عزیز رشتہ دار قبروں میں جا چکے ہیں وہ کبھی پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ۔ یہ معنی حضرت عبداللہ بن عباس ، اور حضرات حس بصری ، قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ نے بیان کیے ہیں ۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ وہ آخرت کی رحمت و مغفرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر ہر خیر سے مایوس ہیں ، کیونکہ انہیں اپنے مبتلائے عذاب ہونے کا یقین ہو چکا ہے ۔ یہ معنی حضرت عبداللہ بن مسعود ، اور حضرات مجاہد ، عِکْرِمہ ، ابن زید ، کلبی ، مقاتل اور منصور رحمہم اللہ سے منقول ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

11: یعنی جس طرح کافر لوگ اپنے مرے ہوئے عزیزوں دوستوں اور باپ دادوں سے مایوس ہیں کہ وہ ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے، اسی طرح یہ لوگ آخرت کی زندگی سے مایوس ہیں۔ بعض مفسرین نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ ’’یہ لوگ آخرت سے ایسے ہی مایوس ہوچکے ہیں جیسے وہ کافر مایوس ہیں جو قبروں میں جا چکے‘‘ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جو کافر قبروں میں جا چکے ہیں، انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ آخرت کی زندگی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے، اسی طرح یہ لوگ بھی آخرت کی زندگی سے مایوس ہوچکے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(60:13) لا تتولوا۔ فعل نہی، جمع مذکر حاضر۔ تولی (تفعل) مصدر۔ دوستی مت رکھو۔ دوستی نہ کرو۔ قوما۔ منصوب بوجہ مفعول۔ اس قوم سے۔ غضب اللہ علیہم : ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع قوما ہے۔ جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ جن پر اللہ غصہ ہوا۔ قوما کی نعت ہے۔ قوم سے مراد یا تو یہودی ہیں یا عام کافر مراد ہیں۔ قد یئسوا۔ ماضی پر داخل ہوکر قد تاکید کا فائدہ دیتا ہے۔ یئسوا ماضی جمع مذکر غائب یاس (باب سمع) مصدر۔ تحقیق وہ ناامید ہوگئے (آخرت سے) یہ بھی قوما کی نعت ہے۔ کما یئس : کما مرکب ہے ک تشبیہ اور ما موصولہ سے اور بعد کو آنے والا جملہ ما کا صلہ ہے۔ یئس۔ ماضی واحد مذکر غائب (اوپر ملاحظہ فرمائیں یئسوا آیت ہذا) ۔ یعنی جس طرح کافر لوگ قبروں میں پڑے ہوئے لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے اور ان کے ثواب و عذاب پانے کی امید نہیں رکھتے۔ اسی طرح یہ لوگ بھی جن پر اللہ کا عذاب نازل ہوا آخرت سے مایوس ہوچکے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 مراد تمام کافر ہیں چاہے وہ یہودی ہوں یا نصاریٰ یا مشرک یا منافق2 یعنی انہیں یہ امید نہیں ہے کہ کوئی شخص قبر میں جانے کے بعد پھر اٹھے گا اور ان سے ملاقات کرے گا…دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جیسے قبر والوں میں سے کافر مایوس ہوچکے۔ “ یعنی انہوں نے مرنے کے بعد جب آخرت کے عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیا تو وہ آخرت کے ثواب اور نجات سے بھی مایوس ہوگئے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ مراد اس سے یہود ہیں۔ 5۔ جو کافر مرجاتا ہے بوجہ اس کے کہ اس کو معائنہ آخرت کا ہوجاتا ہے حقیقت امر پر یقین کے ساتھ مطلع ہوجاتا ہے کہ اب میری بخشش نہ ہوگی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : الممتحنہ کی ابتدا جس حکم کے ساتھ کی گئی ہے اسی پر اس کا اختتام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی تفصیل کے ساتھ مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی صورت بھی اللہ اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائیں۔ اس کے دلائل دیتے ہوئے مشرکین کے خلاف ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا اعلانِ برأت پیش کیا گیا جس کے لیے ارشاد ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کا طریقہ وہی شخص اختیار کرے گا جو اللہ کے حضور حاضر ہونے اور آخرت کی جوابدہی کا عقیدہ رکھتا ہے بالفاظ دیگر دوسرے شخص سے ایسے مضبوط ایمان اور جرأت مندانہ کردار کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کے بعد اس بات کی وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہر کافر سے ہر قسم کی لاتعلقی کا حکم نہیں دیتا وہ ان کفار کے ساتھ تعلقات توڑنے اور لڑنے کا حکم دیتا ہے جو تمہارے اور تمہار دین کے دشمن ہیں۔ انہی کلمات پر سورة کا اختتام کیا جا رہا ہے اے ایمان والو ! اللہ اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کیونکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوچکا ہے لہٰذا ایماندار شخص کو کسی مغضوب علیہ کے ساتھ رشتہ داری اور قلبی لگاؤ نہیں رکھنا چاہیے۔ جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے وہ آخرت سے اس طرح ہی مایوس ہوچکے ہیں جس طرح کفار قبروں والوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔ ” اَصْحَابِ الْقُبُوْرِ “ صحابہ کرام (رض) نے کفار کی مایوسی کے دو مفہوم اخذ کیے ہیں۔ ١۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور دیگر صحابہ نے یہ مفہوم لیا ہے کہ جو لوگ موت کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرتے ہیں وہ اس بات سے مایوس ہیں کہ ان کے جو عزیز و اقرباء فوت ہوچکے ہیں وہ دوبارہ کبھی زندہ ہوں گے۔ ٢۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور حضرت مجاہد (رح) اور ان کے ہم فکر اصحاب اس آیت کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ جو کافر فوت ہوچکے ہیں انہوں نے اپنی قبروں میں اس حقیقت کو پالیا ہے کہ آخرت میں انہیں عذاب کے سوا کچھ نہیں ملے گا گویا کہ وہ اللہ کی رحمت سے کلی طور پر مایوس ہوچکے ہیں۔ ہمارے دور میں کچھ نادان لوگوں نے اپنے باطل عقیدہ کی تائید کے لیے اس آیت کا بالکل ہی مخالف مفہوم لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ا ہل قبور کے اختیارات سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو کافر ہیں۔ (عَاءِشَۃَ (رض) أَنَّ یَہُودِیَّۃً دَخَلَتْ عَلَیْہَا، فَذَکَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ ، فَقَالَتْ لَہَا أَعَاذَکِ اللَّہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِفَسَأَلَتْ عَاءِشَۃُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ قَالَتْ عَاءِشَۃُ (رض) فَمَا رَأَیْتُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بَعْدُ صَلَّی صَلاَۃً إِلاَّ تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ زَادَ غُنْدَرٌ عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ) (رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی عَذَابِ الْقَبْرِ ) ” سیدہ عائشہ (رض) کے پاس ایک یہودی عورت آئی وہ قبر کے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہنے لگی تجھے اللہ عذاب کے قبر سے محفوظ فرمائے۔ سیدہ عائشہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عذاب قبر کے متعلق پوچھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں عذاب قبر برحق ہے سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی ایسی نماز پڑھتے نہیں دیکھا جس میں آپ نے عذاب قبر سے پناہ نہ مانگی ہو۔ (غندر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ عذاب قبر برحق ہے۔ ) “ مسائل ١۔ کسی ایماندار کو کسی کافر اور مشرک کے ساتھ قلبی تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ ٢۔ کفار اور مشرکین پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے۔ ٣۔ کسی ایماندار کے لیے جائز نہیں کہ وہ مغضوب علیہ کے ساتھ رشتہ داری یا دلی محبت کرے۔ ٤۔ کافر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا غضب کن لوگوں پر نازل ہوتا ہے : ١۔ مشرکوں پر اللہ کا غضب ہوتا ہے۔ (الاعراف : ١٥٢) ٢۔ بنی اسرائیل مغضوب لوگ ہیں۔ (البقرۃ : ٦١) ٣۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کا نتیجہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان قیامت تک کے لیے باہم اختلافات رہیں گے۔ ( المائدۃ : ٦٤) ٤۔ انبیاء کی تکذیب کی وجہ سے وہ اللہ کے غضب کے مستحق قرار پائے۔ (آل عمران : ١١٢) ٥۔ یہودی اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے۔ (البقرۃ : ٩٠) ٦۔ گمراہ اور مغضوب کو دلی دوست نہیں بنانا چاہیے۔ (الممتحنہ : ١٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آخر میں اثر انگیر تبصرہ : یا یھا الذین .................... القبور (٠٦ : ٣١) ” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، ان لوگوں کو دوست نہ بنایو ، جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے ، جو آخرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر مایوس ہیں “۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس قوم سے مراد یہودی ہیں ، جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اور اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ قرآن کریم میں کئی جگہ اس قوم کے لئے یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، لیکن یہ آیت عام بھی ہوسکتی ہے کہ اس کے مفہوم میں وہ لوگ بھی آجائیں جو مشرکین ہیں اور جن کا تذکرہ اس پوری سورت میں ہوا ہے اور اللہ کے تمام دشمن اس سے مراد ہوں۔ کیونکہ اللہ کے سب دشمن آخرت سے مایوس ہیں اور وہ آخرت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اور ان کو تشبیہ ان کفار سے دی گئی ہے جو قبروں میں ہیں۔ ان کو تو معلوم ہوچکا ہے کہ انہوں نے کفر اور شرک کا ارتکاب کیا۔ اب وہ دائمی جہنمی ہیں۔ دنیا کی مہلت ختم ہے۔ اب حشر میں صرف حساب ہونا ہے اور انہوں نے جہنم میں گرنا ہے۔ یہ آخری پکار پوری سورت کی پکاروں کو اور پوری سورت کی دعوتوں کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ اس طرح سورت کا خاتمہ اور آغاز ایک ہی مضمون سے ہوا کہ مغضوب علیھم کو دوست نہ بناؤ اور اس خاتمے کے اندر سورت کی تمام آواز کو جمع کردیا گیا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل کفر سے دوستی نہ کرنے کا دوبارہ تاکیدی حکم شروع سورت میں اور درمیان سورت میں کافروں کو دوست بنانے کی ممانعت کا تذکرہ تھا یہاں اس آیت میں خصوصی طور پر یہودیوں سے دوستی کرنے کی ممانعت فرمائی ہے، یوں تو تمام کافروں پر اللہ کا غضب ہے لیکن بعض آیات میں چونکہ یہودیوں کے مغضوب علیہم ہونے کا خصوصی تذکرہ آیا ہے۔ (کمافی سورة البقرہ فبآء وا بغضب علی غضب) و کمافی سورة آل عمران ﴿ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ﴾ اسی لیے بعض مفسرین نے یہاں ﴿ قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ﴾ سے یہودیوں کو مراد لیا ہے، مفسر قرطبی نے لکھا ہے کہ بعض فقراء مسلمین یہودیوں کو مومنین کی خبریں پہنچا دیتے تھے اور کچھ پھل مل جاتا تھا اس آیت میں ان کو منع فرما دیا، اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ﴿قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ﴾ سے یہود و نصاری دونوں قومیں مراد ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ منافق مراد ہیں۔ درحقیقت عموم الفاظ میں تمام کافروں کو مراد لینے کی گنجائش ہے، ابتداء سورت میں جو دشمنان اسلام سے دوستی کرنے کی ممانعت فرمائی تھی آخر سورت میں پھر بطور تاکید اس حکم کو دہرا دیا ہے۔ ﴿ قَدْ يَىِٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ ﴾ یہ ﴿قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ ﴾ کی صفت ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو کافر مرگئے قبروں میں چلے گئے اب دنیا میں آنے سے اور کسی طرح کی خیر ملنے سے ناامید ہوگئے اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہوا، آخرت سے ناامید ہوگئے یہ ایمان قبول نہیں کرتے اور آخرت کو نہیں مانتے ان کا ڈھنگ یہ ہے کہ جیسے ان کے عقیدہ میں قیامت قائم نہیں ہوگی اور میدان حشر میں حاضر نہیں ہوں گے جب ان کا یہ حال ہے تو ایسے لوگوں سے دوستی کرنے کا کیا موقع ہے۔ ھذا اذا کانت ” من “ بیانیة كما اختارہ جماعة واختار ابوحیان کونھا لابتداء الغایة والمغنی ان ھولاء القوم المغضوب علیھم قد یئسوا من الاخرة كما یئسوا من موتاھم ان یبعثو ویلقو ھم فی دار الدنیا وھو مروی عن ابن عباس والحسن و قتادة فالمراد بالکفار اولائك لقوم ووضع الظاھر موضع ضمیر ھم تسجیلا لکفر ھم واشعارًا بعلة یاسھم۔ (راجع روح المعانی صفحہ ٨٣: ج ٢٩) اور صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں کہ چونکہ جس طرح آیت ﴿ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ ﴾ آپ کی نبوت کو اور اسی طرح مخالف نبی کے کافر اور غیر ناجی ہونے کو خوب جانتے ہیں گو وہ عاروحسد کی وجہ سے اتباع بھی نہ کرتے تھے اس لیے ان کو دل سے یقین تھا کہ ہم ناجی نہیں ہیں تو شیخی کے مارے ظاہراً اس کے خلاف کرتے ہوں پس حاصل یہ ہوا کہ جن کی گمراہی ایسی مسلم ہے کہ وہ خود بھی اس کو دل سے تسلیم کرتے ہیں ایسے گمراہوں سے تعلق رکھنا کیا ضروری ہے ؟ اور یہ نہ سمجھا جائے کہ جو گمراہ اشد درجہ کا نہ ہو اس سے دوستی جائز ہے جواز دوستی سے تو مطلق کفر مانع ہے مگر اس صفت سے وہ عدم جواز اور شدید ہوجائے گا اور شاید تخصیص یہود کی اس جگہ اس لیے ہو کہ مدینہ میں یہود زیادہ تھے اور دوسرے وہ لوگ شریر و مفسد بھی بہت تھے۔ انتھی۔ تم سورة الممتحنہ وانتھی والحمد للہ اولًا وآخرًا

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ آخر میں مومنین پر زجر ہے تاکہ انتہائے سورت ابتدا سے مرتبط ہوجائے۔ مغضوب علیہم سے یہود یا یہود و نصاری یا تمام کفار مراد ہیں۔ (قرطبی، روح) ۔ ” من اصحاب القبور “ میں من بیانیہ ہے یا ابتدائیہ پہلی صورت میں الاخرۃ سے پہلے ثواب مضاف مقدر ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ اے ایمان والو ! ایسے کفار سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا قہر و غضب نازل ہوچکا ہے اور وہ آخرت کے اجر وثواب سے بالکل اسی طرح محروم و مایوس ہوچکے ہیں جس طرح وہ کفار جو مر کر قبروں میں پہنچ چکے ہیں اور دوسری صورت میں ” الکفار “ وضع مظہر موضع مظمر کے قبیل سے ہوگا اور مفہوم یہ ہوگا کہ یہ کفار آخرت کی آمد سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح وہ اپنے مرے ہوئے اسلام کے دوبارہ زندہ ہونے سے مایوس ہیں۔ قد یئسوا من خیر الاخرۃ وثوابھا، کما یئس الذین ھم اصحاب القبور ای الکفار الموتی، وکون (من) بیانیۃ روی عن مجاھد وابن زید وابن جبیر وابن وھو اختیار ابن عطیۃ وجماعۃ واختار ابو حبان کونھا لابتداء الغایۃ والمعنی ان ھؤلاء القوم المغضوب علیہم قد یئسوا من الاخرۃ کما یئسوا من موتاہم ان یبعثوا ویلقوا فی دار الدنیا وھو مروی عن ابن عباس والحسن وقتادۃ، والمراد بالکفار اولئک القوم (روح ج 28 ص 82) سورة الممتحنہ میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ کفار سے دوستی کی ممانعت۔ 2 ۔ احکام نساء مومنات مہاجرات ونساء مومنین کہ نزدکفار مانند 3 ۔ شرائط بیعت زنان سورة الممتحنۃ ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) اے دعوت ایمانی کے قبول کرنے والو ! ان لوگوں سے دوستی اور موالات نہ کرو جن پر اللہ تعالیٰ نے غصہ اور غضب فرمایا ہے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ آخرت کے اجروثواب سے ایسے ہی ناامید ہوئے جیسے وہ کافر ناامید ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں۔ کہتے ہیں کہ بعض فقراء مسلمین یہود سے اس بنا پر تعلق رکھتے تھے کہ وہ ان کو اپنے باغات کی کوئی خدمت دے دیا کرتے تھے اور اس سے کچھ منفعت ہوجاتی تھی اور یہ ہوسکتا ہے کہ جب کوئی آدمی خدمت کرتا ہے تو اس سے کسی وقت کوئی بات بلا قصد ایسی بھی نکل جاتی ہوگی جو مفاد عامہ مسلمین کے خلاف ہوتی ہوگی۔ اس بنا پر ارشاد ہوا کہ مغضوب قوم سے دوستی اور موالات وموادات نہ کرو جو اپنے اعمال و افعال کی بنا پر آخرت کے ثواب سے اسی طرح مایوس اور ناامید ہوئے بیٹھے ہیں جس طرح وہ کفار جو قبروں والے ہیں یعنی وہ کفار جو مر کر قبروں میں مدفون ہیں انہوں نے عالم برزخ میں معائنہ عذاب کرلیا اور وہ آخرت کے ثواب سے ناامید ہوگئے اسی طرح یہ یہود بھی ناامید ہیں آخرت سے اور اس کے اجروثواب سے کافر معائنہ کرنے کے بعدناامید ہوئے اور یہ چونکہ اہل کتاب ہیں یہ برے بھلے کو پہلے ہی سے جانتے ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ یہ نبی آخرالزماں کی رسالت کے منکر ہیں اور آخری دین کو نہیں مانتے اس لئے یہ یقینا عذاب کے مستحق ہیں اور ان کو آخرت میں ثواب کا کوئی حصہ نہیں یعنی وہ اصحاب قبور معائنہ اور مشاہدہ کرنے کے بعد مایوس اور ناامید ہوئے اور یہ دنیا ہی میں ناامید ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ مغضوب علیہم ہیں اور ان کو آخرت میں کوئی فلاح نہیں۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ قوم مغضوب علیہم آخرت کے ثواب سے اسی طرح مایوس اور ناامید ہیں جس طرح کافران لوگوں کی بعثت سے اور دوبارہ زندہ ہونے سے مایوس ہیں جو مرچکے ہیں اور اصحاب قبور ہیں اور قبر والوں میں سے ہیں یعنی جس طرح کافر اپنے مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے اور قیامت کے دن اٹھنے سے مایوس ہیں اسی طرح یہود آخرت کے اجروثواب سے مایوس ہیں۔ مطلب قریب قریب دونوں کا یکساں ہے اور مراد یہود کی مایوسی کا اظہار ہے کہ یہ لوگ خود بھی دل سے جانتے ہیں کہ یہ ناجی نہیں ہیں اور یہی وجہ ان کے سخت ترین کافر ہونے کی ہے کہ جانتے بوجھتے دین حق کو قبول نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں سے مسلمانوں کو ہرگز دوستی نہ کرنی چاہیے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی منکروں کو توقع نہیں کہ قبر سے اٹھے گا یہ کافر بھی ویسے ہی ناامید ہیں۔ الحمد للہ والمنہ ثم تفسیر سورة الممتحنۃ فی یوم الخمیس بین صلوٰۃ الظھر والعصر ثلثۃ من صفر المظفر 1375 ھ مطابق 22 ستمبر 1955 ء ولہ الحمد یارب لک الحمد کما ینبغی لجلال وجھک ولعظیم سلطانک قد سخ لی سانحۃ فی وسط الممتحنۃ اعنی صال علی بالسکین شیطان الانس فجرحنی وابتلیت ثلثۃ اشھرثم بمافنی اللہ تعالے وبراۃ والحمد للہ علی ذلک وقعۃ الواقعۃ 9 ستمبر 1955 بعد صلوۃ الجمۃ علی الطریق