Surat ul jumaa

Surah: 62

Verse: 1

سورة الجمعة

یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ الۡمَلِکِ الۡقُدُّوۡسِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱﴾

Whatever is in the heavens and whatever is on the earth is exalting Allah , the Sovereign, the Pure, the Exalted in Might, the Wise.

۔ ( ساری چیزیں ) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ تعالٰی کی پاکی بیان کرتی ہیں ( جو ) بادشاہ نہایت پاک ( ہے ) غالب و با حکمت ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah the Exalted said, يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الاَْرْضِ ... Whatsoever is in the heavens and whatsoever is on the earth glorifies Allah -- Everything praises and glorifies Allah. Allah states that everything in the heavens and the earth glorifies His praises, including all types of living creatures and inanimate objects. Allah the Exalted said in another Ayah, وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلاَّ يُسَبِّحُ بِحَمْدَهِ Glorify Him and there is not a thing but glorifies His praise. (17:44) Allah said, ... الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ... the King, the Holy, meaning that He is the Owner and King of the heavens and the earth Who has perfect control over their affairs. He is the Holy, free of all shortcomings, His attributes are perfect, ... الْعَزِيزِ الْحَكِيم the Almighty, the All-Wise. Its explanation is already discussed in many places. The Favor that Allah granted by sending Muhammad Allah the Exalted said,

قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے اور ہر جگہ بھی فرمایا ہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو تمام مخلوق خاہ آسمان کی ہو ، خواہ زمین کی ، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے ، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصر ف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے ، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے ، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے ، وہ عزیز و حکیم ہے ۔ اس کی تفسیر کئی بار گذر چکی ہے ۔ امیون سیم راد عرب ہیں ۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے ۔ الخ ، یعنی تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا ؟ اور وہ مسلمان ہو جائیں تو وہ راہ راست پر ہیں اور اگر منہ پھیر لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اور بندوں کی پوری دیکھ بھال کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہاں عرب کا ذکر کرنا اس لئے نہیں کہ غیر عرب کی نفی ہو بلکہ صرف اس لئے کہ ان پر احسان و اکرام بہ نسبت دوسروں کے بہت زیادہ ہے ۔ جیسے اور جگہ ہے وانہ لذکر لک ولقومک یعنی یہ تیرے لئے بھی نصیحت ہے اور تیری قوم کے لئے بھی ، یہاں بھی قوم کی خصوصیت نہیں کیونکہ قرآن کریم سب جہان الوں کے لئے نصیحت ہے اسی طرح اور جگہ فرمان ہے ( ترجمعہ ) اپنے قرابت دار اور کنبہ والوں کو ڈرا دے ، یہاں بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کی تنبیہہ صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے بلکہ عام ہے ، ارشاد باری ہے ۔ ( ترجمہ ) لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں اور جگہ فرمان ہے ( ترجمہ ) یعنی اس کے ساتھ میں تمہیں خبردار کر دوں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے ، اسی طرح قرآن کی بات فرمایا ( ترجمہ ) تمام گروہ میں سے جو بھی اس کا انکار کرے وہ جہنمی ہے ، اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں ، جن سے صاف ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت روئے زمین کی طرف تھی ، کل مخلوق کے آپ پیغمبر تھے ، ہر سرخ و سیاہ کی طرف آپ نبی بنا کر بھیجے گئے تھے ۔ ( ترجمہ ) سورہ انعام کی تفسیر میں اس کا پورا بیان ہم کر چکے ہیں اور بہت سی آیات و احادیث وہاں وارد کی ہیں فالحمد اللہ یہاں یہ فرمانا کہ ان پڑھوں یعنی عربوں میں اپنا رسول بھیجا اس لئے ہے کہ حضرت خلیل اللہ کی دعا کی قبولیت معلوم ہو جائے ، آپ نے اہل مکہ کے لئے دعا ماگنی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان میں ایک رسول ان ہی میں سے بھیجے جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائی ، انہیں پاکیگی سکھائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے ، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور جبکہ مخلوق کو نبی اللہ کی سخت حاجت تھی سوائے چند اہل کتاب کے جو حضرت عیسیٰ کے سچے دین پر قائم تھے اور افراط تفریط سے الگ تھی باقی تمام دنیا دین حق کو بھلا بیٹھی تھی اور اللہ کی نامرضی کے کاموں میں مبتلا تھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ، آپ نے ان ان پڑھ کو اللہ کے کلام کی آیتیں پڑھ سنائیں انہیں پاکیزگی سکھائی اور کتاب و حکمت کا معلم بنا دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے ، سنئے عرب حضرت ابراہیم کے دین کے دعویدار تھے لیکن حالت یہ تھی کہ اصل دین کو خورد برد کر چکے تھے اس میں اس قدر تبدل تغیر کر دیا تھا کہ توحید شرک سے اور یقین شک سے بدل چکا تھا ساتھ ہی بہت سی اپنی ایجاد کردہ بدعتیں دین اللہ میں شامل کر دی تھیں ، اسی طرح اہل کتاب نے بھی اپنی کتابوں کو بدل دیا تھا ان میں تحریف کر لی تھی اور متغیر کر دیا تھا ساتھ ہی معنی میں بھی الٹ پھیر کر لیا تھا پس اللہ پاک نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم الشان شریعت اور کامل مکمل دین دے کر دنیا والوں کی طرف بھیجا کہ اس فساد کی آپ اصلاح کریں ، اہل دنیا کو اصل احکام الٰہی پہنچائیں اللہ کی مرضی اور نامرضی کے احکام لوگوں کو معلوم کرا دیں ، جنت سے قریب کرنے والے عذاب سے نجات دلوانے والے تمام اعمال بتائیں ، ساری مخلوق کے ہادی بنیں اصول و فروغق سب سکھائیں ، کوئی چھوٹی بڑی بات باقی نہ چھوڑیں ۔ تمام تر شکوک و شبہات سب کے دور کر دیں اور یاسے دین پر لگوں کو ڈال دیں جن میں ہر بھلائی موجود ہو ، اس بلند و بالا خدمت کے لئے آپ میں وہ برتریاں اور بزرگیاں جمع کر دیں جمع کر دیں جو نہ آپ سے پہلے کسی میں تھیں نہ آپ کے بعد کسی میں ہو سکیں ، اللہ تعالیٰ آپ پر ہمیشہ ہمیشہ درود و سلام نازل فرماتا رہے آمین! دوسری آیت کی تفسیر میں حضرت ابو ہریرہ سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر سورہ جمعہ نازل ہوئی جب آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو لوگں نے پوچھا کہ اخرین منھم سے کیا مراد ہے تین مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا تب آپ نے اپنا ہاتھ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر پر رکھا اور فرمایا اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس ہوتا تو بھی ان لوگوں میں سے ایک یا کئی ایک پا لیتے ۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ یہ سورت مدنی ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری تمام دنیا والوں کی طرف ہے صرف عرب کے لئے مخصوص نہیں کیونکہ آپ نے اس آیت کی تفسیم میں فارس والوں کو فرمایا ۔ اسی عام بعثت کی بناء پر آپ نے فارس و روم کے بادشاہوں کے نام اسلام قبول کرنے کے فرامین بھیجے ۔ حضرت مجاہد وغیرہ بھی فرماتے ہیں اس سے مراد عجمی لوگ ہیں یعنی رب کے سوا کے جو لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کی وحی کی تصدیق کریں ۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ اب سے تین تین پشتوں کے بعد آنے والے میرے امتی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ وہ اللہ عزت و حکمت والا ہے ، اپنی شریعت اور اپنی تقدیر میں غالب با حکمت ہے ، پھر فرمان ہے یہ اللہ کا فضل ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی زبردست عظیم الشان نبوت کے ساتھ سرفراز فرمانا اور اس امت کو اس فضل عظیم سے بہرہ ور کرنا ، یہ خاص اللہ کا فضل ہے ، اللہ اپنا فضل جسے چاہے دے ، وہ بہت بڑے فضل و کرم والا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کی نماز میں سورة جمعہ اور منافقون پڑھا کرتے تھے (صحیح مسلم) تاہم ان کا جمعہ کی رات کو عشا کی نماز میں سورة جمعہ اور کافرون کا پڑھنا صحیح روایت سے ثابت نہیں، البتہ ایک ضعیف روایت میں ایسا آتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] یہ تسبیح زبان قال سے بھی ہوتی ہے مگر ہم اسے سمجھ نہیں سکتے اور زبان حال سے بھی۔ یعنی کائنات کی ایک ایک چیز اس بات پر شاہد ہے کہ اس کا بنانے والا ہر طرح کے عیوب و نقائص سے پاک ہے۔ [٢] ان صفات کی تشریح کے لیے سورة حشر کی آیت نمبر ٢٣ ملاحظہ فرمائیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یُسَبِّحُ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ۔۔۔۔: اس آیت کے معانی سورة ٔ حدید (١) اور سورة ٔ حشر (١، ٢٤) میں گزر چکے ہیں۔ اس سے پہلے تمام رسولوں کی ابتداء میں ” سبح “ ماضی کے صیغے کے ساتھ آیا ہے ، یہاں مضارع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جو حال اور استقبال کے لیے ہے ، جس میں تجدد اور استمرار پایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز ہر عیب اور کمی سے اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ پاک ہونے کی شہادت دے رہی ہے اور ہمیشہ دیتی رہے گی۔ ٢۔ اس آیت میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا آئندہ آیت کے ساتھ تعلق اسی کی تفسیر میں آرہا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary يُسَبِّحُ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ (All that is in the heavens and all that is in the earth proclaim the purity of Allah,...62:1] Surahs of the Qur&an that begin with &sabbaha& or &yusabbihu& [ proclaiming Allah&s purity ] are called Musabbihat, in all of which it is established that everything in the heaven and earth proclaims the purity of Allah. That all creatures in the heavens and the earth declare the purity of Allah in a symbolic way is understandable. Everyone may understand that every single particle created by Allah bears testimony to the wisdom and power of the Wise Creator in their circumstantial language, which is their tasbih (proclamation). However, the fact is that, everything proclaims tasbih in its real sense in its own way, because Allah has bestowed some sort of sense and perception to every particle of this universe, even to stones and trees, according to their ability. Since the first demand upon sense and perception is to recognize its Creator and Maker, and glorify Him, therefore, it is not far-fetched to conceive that everything in nature really declares the purity of Allah in its own peculiar language, though human ears might not be able to hear it. Thus the Qur&an on one occasion says: وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ (...but you do not understand their extolling ...[ 17:44] At the commencement of most Surahs called Musabbihat the past indefinite tense sabbaha is employed. Only at the beginning of Surahs Al-Jumu&ah and At-Taghabun the present form yusabbihu is used. The different forms at the beginning of different Surah have fresh rhetorical elegance and refinement. The past tense connotes certitude, and therefore mostly this tense has been used. The present form connotes continuity, which is employed in two places for this purpose.

خلاصہ تفسیر سب چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں (قلاً یا حالاً ) اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں، جو کہ بادشاہ ہے (عیبوں سے) پاک ہے زبردست ہے حکمت والا ہے وہی ہے جس نے (عرب کے) ناخواندہ لوگوں میں انہی (کی قوم) میں سے (یعنی عرب میں سے) ایک پیغمبر بھیجا جو ان کو اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کو (عقائد باطلحہ اور اخلاق ذمیمہ سے) پاک کرتے ہیں اور ان کتاب اور دانشمندی (کی باتیں جس میں سب علوم ضروریہ دینیہ آگئے) سکھلاتے ہیں اور یہ لوگ (آپ کی بعثت کے) پہلے سے کھلی گمراہی میں تھے (یعنی شرک و کفر میں اور مراد اکثر ہیں کیونکہ جاہلیت میں بھی بعضے موحد تھے، مگر تاہم تکمیل ہدایت کے وہ بھی مداح تھے) اور (علاوہ ان موجودین کے) دوسروں کے لئے بھی (آپکو مبعوث فرمایا) جو (اسلام لا کر) ان میں سے ہونے والے ہیں لیکن ہنوز ان میں شامل نہیں ہوئے (خواہ بوجہ اس کے کہ موجود ہیں مگر اسلام نہیں لائے یا بوجہ اس کے کہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے اس میں تمام امت قیامت تک عربی و عجمی سب آگئے اور ان کو منہم اس لئے فرمایا، کیونکہ مسلمان سب رشتہ اسلام میں منسلک اور متحد ہیں کذافی الخازن) اور وہ زبردست حکمت والا ہے (کہ اپنی قدرت اور حکمت ایسا نبی بھیجا اور پہلی آیت میں فی نفسہ ان صفات کا اثبات مقصود تھا پس تکرار نہ رہا اور) یہ (رسول کے ذریعہ سے ضلال سے نکل کر کتاب و حکمت و ہدایت کی طرف آنا) خدا کا فضل ہے وہ فضل جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے (اگر سب کو بھی عنایت کرے تو وسعت ہے مگر وہ اپنی حکمت سے جس کو چاہے تخصیص فرماتا ہے اور جس کو چاہے بےبہرہ رکھتا ہے، جیسا کہ اوپر امیین کے ایمان لانے سے اور آئندہ کی آیت میں علماء یہود کے ایمان نہ لانے سے یہ امر ظاہر ہے، آگے بعض مکذبین رسالت کی تقبیح ہے کہ) جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی حالت اس گدھے کی سی حالت ہے جو بہت سی کتابیں لادے ہوئے ہے (مگر ان کتب کے نفع سے محروم ہے، اسی طرح اصل مقصود اور نفع علم کا عمل ہے جب یہ نہ ہوا اور صرف تحصیل و حفظ علم میں تعب ہوا تو بالکل ایسی ہی مثال ہوگئی اور گدھے کی تخصیص اس لئے کہ وہ جانوروں میں بیوقوف مشہور ہے تو اس میں زیادہ تنفیر ہوگئی غرض) ان لوگوں کی بری حالت ہے، جنہوں نے خدا کی آیتوں کو جھٹلایا ( جیسے یہ یہود ہیں) اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو (توفیق) ہدایت (کی) نہیں دیا کرتا (کیونکہ جان کر عناد کرتے ہیں اور اگر ہدایت ہوگی تو بعد ترک عنا کے ہوگی اور تورات پر عمل کرنے کے لوازم میں سے ہے ایمان لانا آنحضرت پر جیسا کہ اس میں حکم ہے، پس ایمان نہ لانا مستلزم ہے ترک عمل بالتوراة کو اور اگر یہ لوگ یہ کہیں کہ ہم باوجود اس حالت کے بھی اللہ کے مقبول ہیں تو) آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ اے یہودیوں اگر تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ تم بلا شرکت غیرے اللہ کے مقبول (محبوب) ہو تو تم (اس کی تصدیق کے لئے ذرا) موت کی تمنا کر (کے دکھلا) دو اگر تم (اس دعوے میں) بچے ہو اور (ہم ساتھ ہی یہ کہہ دیتے ہیں کہ) وہ (خاص مدعی) کبھی اس (موت) کی تمنا نہ کریں بوجہ (خوف سزا) ان اعمال (کفریہ) کے جو اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو خوب اطلاع ہے ان ظالموں (کے حال) کی (جب تاریخ مقدمہ کی آوے گی، فرد قرار داد جرم سنا کر سزا کا حکم کردیا جائے گا اور اس وعدہ سزا کی تاکید کیلئے) آپ ( ان سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو ( اور اس کی تمنا باوجود دعویٰ ولایت کے اس لئے نہیں کرتے ہو کہ سزا بھگتنا ہوگی) وہ (موت ایک روز) تم کو آپکڑے گی پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے (خدا) کے پاس لے جائے جاؤ گے پھر وہ تم کو تمہارے سب کئے ہوئے کام بتلا دے گا (اور سزا دے گا) ۔ معارف و مسائل (آیت) يُسَـبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْض، قرآن کریم کی جو سورتیں سبح یا یسبح سے شروع ہوتی ہیں ان کو مسبحات کہا جاتا ہے، ان سب میں تمام زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب کیلئے اللہ تعالیٰ کی تسبیح خوانی ثابت کی گئی ہے، یہ تسبیح حالی یعنی بزبان حال تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کا ذرہ ذرہ اپنے صانع حکیم کی حکمت وقدرت پر گواہی دیتا ہے یہی اس کی تسبیح ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ ہر چیز اپنے اپنے طرز میں حقیقی تسبیح کرتی ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ شعور و ادراک اللہ تعالیٰ نے ہر شجر و حجر اور ہر چیز میں اس کے حوصلے کے مطابق رکھا ہے اس عقل و شعور کا لازمی تقاضا تسبیح ہے مگر ان چیزوں کی تسبیح کو لوگ سنتے نہیں، اسی لئے قرآن کریم میں فرمایا (آیت) ولکن لاتفقہون تسبیحہم، اکثر سورتوں کے شروع میں سبح بصیغہ ماضی آیا ہے، صرف سورة جمعہ اور سورة تغابن میں بلفظ مضارع یسبح لایا گیا ہے، تیغیر عنوان میں ایک بلاغت و لطافت بھی اس کا سبب ہوگئی ہے وہ یہ ہے کہ صیغہ ماضی قطعیت اور یقین پر دلالت کرتا ہے اس لئے اکثر وہی استعمال فرمایا اور رصیغہ مضارع کی دلالت اسمرار و دوام پر ہے، دو جگہ اس فائدہ کے لئے صیغہ مضارع استعمال فرمایا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يُسَـبِّحُ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيْزِ الْحَكِـيْمِ۝ ١ سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] ، ( س ب ح ) السبح اس کے اصل منعی پانی یا ہوا میں تیز رفتار ری سے گزر جانے کے ہیں سبح ( ف ) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا پھر استعارہ یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] سب ( اپنے اپنے ) فلک یعنی دوائر میں تیز ی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ اور گھوڑے کی تیز رفتار پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] اور فرشتوں کی قسم جو آسمان و زمین کے درمیان ) تیر تے پھرتے ہیں ۔ اور کسی کام کو سرعت کے ساتھ کر گزرنے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] اور دن کے وقت کو تم بہت مشغول کا رہے ہو ۔ التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی کرنا کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شر پر بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے ابعد اللہ خدا سے ہلاک کرے پس تسبیح کا لفظ قولی ۔ فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] قو اگر یونس (علیہ السلام) اس وقت ( خدا کی تسبیح ( و تقدیس کرنے والوں میں نہ ہوتے ۔ یہاں بعض نے مستحین کے معنی مصلین کئے ہیں لیکن انسب یہ ہے کہ اسے تینوں قسم کی عبادت پر محمول کیا جائے الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة «1» . الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي «3» . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں ۔ دوم حکمرانی کی قوت اور قابلیت کے پائے جانے کو کہتے ہیں ۔ خواہ نافعل اس کا متولی ہو یا نہ ہو ۔ چناچہ پہلے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں ۔ تو اس کو تباہ کردیتے ہیں ۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] کہ اس نے تم میں پیغمبر کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا ۔ قدس التَّقْدِيسُ : التّطهير الإلهيّ المذکور في قوله : وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً [ الأحزاب/ 33] ، دون التّطهير الذي هو إزالة النّجاسة المحسوسة، وقوله : وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ [ البقرة/ 30] ، أي : نطهّر الأشياء ارتساما لك . وقیل : نُقَدِّسُكَ ، أي : نَصِفُكَ بالتّقدیس . وقوله : قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ [ النحل/ 102] ، يعني به جبریل من حيث إنه ينزل بِالْقُدْسِ من الله، أي : بما يطهّر به نفوسنا من القرآن والحکمة والفیض الإلهيّ ، والبیتُ المُقَدَّسُ هو المطهّر من النّجاسة، أي : الشّرك، وکذلک الأرض الْمُقَدَّسَةُ. قال تعالی: يا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ [ المائدة/ 21] ، وحظیرة القُدْسِ. قيل : الجنّة . وقیل : الشّريعة . وکلاهما صحیح، فالشّريعة حظیرة منها يستفاد القُدْسُ ، أي : الطّهارة . ( ق د س ) التقدیس کے معنی اس تطہیرالہی کے ہیں جو کہ آیت وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً [ الأحزاب/ 33] اور تمہیں بالکل پاک صاف کردے ۔ میں مذکور ہے ۔ کہ اس کے معنی تطہیر بمعنی ازالہ نجاست محسوسہ کے نہیں ہے اور آیت کریمہ : وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ [ البقرة/ 30] اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ ہم تیرے حکم کی بجا آوری میں اشیاء کو پاک وصاف کرتے ہیں اور بعض نے اسکے معنی ۔ نصفک بالتقدیس بھی لکھے ہیں ۔ یعنی ہم تیری تقدیس بیان کرتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ [ النحل/ 102] کہدو کہ اس کو روح القدس ۔۔۔ لے کر نازل ہوئے ہیں ۔ میں روح القدس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قدس یعنی قرآن حکمت اور فیض الہی کے کر نازل ہوتے تھے ۔ جس سے نفوس انسانی کی تطہیر ہوتی ہے ۔ اور البیت المقدس کو بیت مقدس اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ نجاست شرک سے پاک وصاف ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : يا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ [ المائدة/ 21] تو بھائیو ! تم ارض مقدس ( یعنی ملک شام ، میں جسے خدا نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے ۔ داخل ہو ۔ میں ارض مقدسہ کے معنی پاک سرزمین کے ہیں ۔ اور خطیرۃ القدس سے بعض کے نزدیک جنت اور بعض کے نزدیک شریعت مراد ہے اور یہ دونوں قول صحیح ہیں۔ کیونکہ شریعت بھی ایک ایسا حظیرہ یعنی احاظہ ہے جس میں داخل ہونے والا پاک وصاف ہوجاتا ہے۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزیز العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لهذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جتنی بھی مخلوقات اور زندہ چیزیں آسمان و زمین میں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں وہ خدا ایسا بادشاہ ہے اس کی بادشاہت ہمیشہ سے ہے وہ اولاد اور شریک سے پاک ہے اپنی بادشاہت میں زبردست اور حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١{ یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ ۔ } ” تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ‘ جو بادشاہ ہے ‘ (ہر عیب سے) پاک ہے ‘ بہت زبردست ہے ‘ بہت حکمت والا ہے۔ “ یہ آیت گویا اس سورة مبارکہ کے لیے ایک نہایت ُ پرشکوہ اور پرجلال تمہید اور آغاز کلام ہے۔ سورة الصف کے آغاز میں تسبیح باری تعالیٰ کا ذکر صیغہ ماضی میں تھا ‘ جبکہ یہاں فعل مضارع آیا ہے۔ اس طرح تسبیح باری تعالیٰ کے ضمن میں گویا زمان و مکان کا احاطہ کرلیا گیا ہے ۔ اس آیہ مبارکہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے چار اسماء وارد ہوئے ہیں اور یہ ایک غیر معمولی بات ہے ‘ اس لیے کہ عام طور پر آیات کے اختتام پر اسمائِ باری تعالیٰ دو ‘ دو کے جوڑوں کی صورت میں آتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 For explanation, sec E.N.'s 1, 2 of Surah AI-Hadid, and E.N.'s 36, 37, 41 of Surah AI-Hashr above. This introduction bears a deep relevance to the theme that follows. In spite of the fact that the Jews of Arabia were witnessing clear signs of Apostleship in the person of the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) and his high character and works and in spite of the clear good news given by the Prophet Moses (peace be upon him) in the Torah, which only applied to him, they were denying him only because they did not want to acknowledge the prophet hood of a person who did not belong to their own community and race. They openly proclaimed that they would believe only in that which had come to them, and would not accept any teaching, which came through a non-Israelite prophet, even if it was from God. For this acttitude in the following verses they have been reproved. Hence the reason for beginning the discourse with the introductory sentence. First, it says that everything in the universe is glorifying Allah; that is, the entire universe testifies that AIIah is free from all those faults and weaknesses because of which the lews have formed the concept of their racial superiority. He is not related to anyone: He has nothing to do with favouritism: He treats all His creatures with equal justice, mercy and care. No particular race and nation is His favourite so that He may be bound to bless it whatever it may do; and He is not prejudiced against any race or nation so that He may deprive it of His bounties even if it possesses all the good qualities. Then, it says that He is the Sovereign; that is, no worldly power can restrict His authority and powers, as if to say: "You, O Jews, are His servants and subjects. 'It is not for you to decide whom He should appoint His Messenger, and whom He should not, for your guidance. " Then it says that He is Holy; that is, HE is far exalted and glorified that His judgements may be mistaken. Human judgements may have mistakes but His decrees are perfect. In the end, two more attributes of Allah have been mentioned: that He is All-Mighty, i.e. none can fight Him and win and that He is All-Wist, i.e. whatever He does, it is always the very demand of wisdom, and His plans and designs are so well-planned that none in the world can hinder and frustrate them.

سورة الْجُمُعَة حاشیہ نمبر :1 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد پنجم ، تفسیر سورہ حدید ، حواشی 1 ، 2 ، الحشر ، حواشی 36 ، 37 ، 41 ۔ آگے کے مضمون سے یہ تمہید بڑی گہری مناسبت رکھتی ہے ۔ عرب کے یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و صفات اور کارناموں میں رسالت کی صریح نشانیاں بہ چشم سر دیکھ لینے کے باوجود ، اور اس کے باوجود کہ تَوراۃ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ کے آنے کی صریح بشارت دی تھی جو آپ کے سوا کسی اور پر چسپاں نہیں ہوتی تھی ، صرف اس بنا پر آپ کا انکار کر رہے تھے کہ اپنی قوم اور نسل سے باہر کے کسی شخص کی رسالت مان لینا انہیں سخت ناگوار تھا ۔ وہ صاف کہتے تھے کہ جو کچھ ہمارے ہاں آیا ہے ہم صرف اسی کو مانیں گے ۔ دوسرے کسی تعلیم کو ، جو کسی غیر اسرائیلی نبی کے ذریعہ سے آئے ، خواہ وہ خدا ہی کی طرف سے ہو ، تسلیم کرنے کے لیے وہ قطعی تیار نہ تھے ۔ آگے کی آیتوں میں اسی رویہ پر انہیں ملامت کی جا رہی ہے ، اس لیے کلام کا آغاز اس تمہیدی فقرے سے کیا گیا ہے ۔ اس میں پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ۔ یعنی یہ پوری کائنات اس بات پر شاہد ہے کہ اللہ ان تمام نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے جن کی بنا پر یہودیوں نے اپنی نسلی برتری کا تصور قائم کر رکھا ہے ۔ وہ کسی کا رشتہ دار نہیں ہے ۔ جانب داری ( Favouristism ) کا اس کے ہاں کوئی کام نہیں ۔ اپنی ساری مخلوق کے ساتھ اس کا معاملہ یکساں عدل اور رحمت اور ربوبیت کا ہے ۔ کوئی خاص نسل اور قوم اس کی چہیتی نہیں ہے کہ وہ خواہ کچھ کرے ، بہرحال اس کی نوازشیں اسی کے لیے مخصوص رہیں ، اور کسی دوسری نسل یا قوم سے اس کو عداوت نہیں ہے کہ وہ اپنے اندر خوبیاں بھی رکھتی ہو تو وہ اس کی عنایات سے محروم رہے ۔ پھر فرمایا گیا کہ وہ بادشاہ ہے ، یعنی دنیا کی کوئی طاقت اس کے اختیارات کو محدود کرنے والی نہیں ہے ۔ تم بندے اور رعیت ہو ۔ تمہارا یہ منصب کب سے ہو گیا کہ تم یہ طے کرو کہ وہ تمہاری ہدایت کے لیے اپنا پیغمبر کسے بنائے اور کسے نہ بنائے ۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کہ وہ قدوس ہے ۔ یعنی اس سے بدرجہا منزہ اور پاک ہے کہ اس کے فیصلے میں کسی خطا اور غلطی کا امکان ہو ۔ غلطی تمہاری سمجھ بوجھ میں ہو سکتی ہے ۔ اس کے فیصلے میں نہیں ہو سکتی ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی دو مزید صفتیں بیان فرمائی گئیں ۔ ایک یہ کہ وہ زبردست ہے ، یعنی اس سے لڑ کر کوئی جیت نہیں سکتا ۔ دوسری یہ کہ وہ حکیم ہے ، یعنی جو کچھ کرتا ہے وہ عین مقتضائے دانش ہوتا ہے ، اور اس کی تدبیریں ایسی محکم ہوتی ہیں کہ دنیا میں کوئی ان کا توڑ نہیں کر سکتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ٤۔ اس سورة میں جمعہ کی نماز کا ذکر ہے اس لئے اس سورة کا نام سورة جمعہ ہے۔ بعض علماء نے جمعہ کی نماز کو بھی کفایہ لکھا ہے لیکن صحیح مذہب یہی ہے کہ اور فرض نمازوں کی طرح جمعہ کی نماز فرض عین ہے چناچہ اس مذہب کی تائید کا بیان آئندہ کی آیتوں کی تفسیر میں آتا ہے حدیث ٢ ؎ شریف میں آیا ہے کہ تین جمعہ کو نماز کو جو شخص بغر عذر کے محض سستی سے چھوڑ دے تو اس کا دل سخت ہوجاتا ہے بعضی روایات اس حدیث کی معتبر ہیں ضرورت ہو تو اکثر علماء کے نزدیک جمعہ کی نماز سے پہلے جمعہ کے دن سفر کرنا جائز ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور حضرت عمر فاروق (رض) کے زمانہ میں فقط خطبہ کے وقت کی اذان تھی۔ حضرت عثمان (رض) کی خلافت میں خطبہ سے پہلے کی اذان کے سوا ایک اور اذان شروع ٣ ؎ ہوئی اور سب صحابہ نے اس کو جائز رکھا۔ امام کو خطبہ کھڑے ہو کر پڑھنا چاہئے امیر معاویہ نے اپنی خلافت میں بیٹھ کر جو خطبہ پڑھا ہے اس پر اور صحابہ نے اعتراض کیا ہے غسل کرنا جمعہ کے دن بہتر ہے لیکن بغیر غسل کے بھی جمعہ کی نماز ہوجاتی ہے۔ اکثر علماء کے نزدیک جمعہ کی نماز کا وقت وہی ظہر کا وقت ہے صرف امام احمد بن حنبل کے نزدیک جمعہ کی نماز زوال سے پہلے بھی جائز ہے بعض حدیثوں سے اگرچہ اس حنبلی مذہب کی تائید ہوتی ہے لیکن جمہور علماء نے ان حدیثوں کا طرح طرح سے جواب دیا ہے۔ جمعہ کی نماز کے لئے چالیس آدمیوں کی جماعت کا ہونا اور بڑی بستی کا ہونا جو بعض علماء نے شرط کے طور پر لکھا ہے یہ روایت صحیح نہیں ہے خطبہ ہوتے وقتے دنیا کی بات کرنا منع ہے جمعہ کی نماز سے پہلے چار رکعت سنت کا پڑھنا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں ہے۔ صحیح قول یہ ہے کہ جمعہ کے دن قبولیت دعاء کی گھڑی عصر سے غروب تک کے وقت میں ہے جمعہ کی نماز کے بعد دو سنتیں اکثر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھی ہیں اور چار رکعتوں کا ارشاد بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے۔ خطبہ چھوٹا پڑھنا اور جمعہ کی نماز لمبی پڑھنا سنت ہے صحیح قول یہی ہے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے خطبہ سنت ہے جمعہ کے دن صبح کی نماز میں الم سجدہ اور سورة دھر کا پڑھنا اور جمعہ کی نماز میں کبھی سورة جمعہ اور سورة منافقون کا اور کبھی سبح اسم اور سورة غاشیہ کا پڑھنا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے جمعہ اور عید ایک دن مل کر آئیں تو ایک نماز مستحب رہ جاتی ہے خطبہ ہوتے وقت تحیۃ الجمعہ کی دو رکعتیں پڑھنے اور نہ پڑھنے میں علماء کا اختلاف ہے لیکن قوی مذہب یہی ہے کہ خطبہ کے وقت انکا پڑھنا جائز ہے حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحیتہ المسجد کے علاوہ ہیں مسواک کرنا ‘ سفید کپڑے پہننا ‘ خوشبو لگانا ‘ جمعہ کے دن سنت ہے ‘ خطبہ شروع ہونے سے پہلے جمعہ کے دن جامع مسجد میں پہنچ جانا بڑا ثواب ہے صفیں چیرنا اور لوگوں کو روندنا منع ہے۔ امام پیچھے آئے اور صف کو چیر کر اپنی جگہ پر جائے تو جائز ١ ؎ ہے۔ ہجرت سے پہلے مکہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جمعہ پڑھنا ثابت نہیں ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور قرآن شریف کا ذکر کرنے سے پہلے اپنی آسمان و زمین کی بادشاہت کا ذکر اس لئے فرمایا کہ مکہ کے مشرک لوگوں کو یہ تنبیہ ہوجائے کہ آسمان و زمین اور ان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اسی واسطے ہر چیز اپنی حالت کے موافق اللہ تعالیٰ کے نام کی تسبیح اور اس کی تعظیم اور عبادت میں لگی ہوئی ہے۔ باوجود اس کے جن و انس میں جو کوئی اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور عبادت میں کسی کو شریک کرتا ہے وہ بڑی غلطی پر ہے اس تنبیہ سے مقصود یہ ہے کہ شرک کی خرابی سے یہ لوگ آگاہ ہوجائیں گے تو قرآن شریف کے موافق اللہ تعالیٰ کے رسول ان کو توحید کا راستہ جو بتاتے ہیں اس راستہ کی ان کے دل میں عظمت پیدا ہوجائے گی اور توحید کی عظمت کے سبب سے یہ لوگ شرک کو برا جاننے لگیں گے۔ اوپر گزر چکا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں نبوت کے قائم رہنے کی دعا کی اور ان کی وہ دعا ان کے دنوں بیٹوں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق کے حق میں قبول ہو کر ایک مدت تک حضرت اسحاق کی اولاد اور اولاد دالاولاد میں نبوت رہی۔ اب اس دعاء کے اثر سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل میں نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہوئے تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا اثر ان کے دونوں بیٹوں کی اولاد میں پورا ہوجائے اور ان کی دعا کا کوئی جز رائیگاں نہ جائے۔ عرب کی قوم میں سے ملت ابراہیمی کا عمل اٹھ کر ان میں جہالت اور اس جہالت کے سبب سے بت پرستی پھیل گئی تھی ‘ اس لئے عرب کو ان پڑھ فرمایا اور یہ فرمایا کہ نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کی ہدایت سے پہلے یہ لوگ بےراہ ہو رہے تھے۔ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ قرآن کے ساتھ جہاں حکمت کا لفظ آتا ہے اس کے معنی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے ہوتے ہیں سورة اعراف کی آیت قل ایایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا اور سورة سبا کی آیت و ما ارسلناک الا کافۃ للناس سے اور صحیح احادیث سے آپ کی نبوت کا جن و انس کے لئے عام ہونا ظاہر ہے اس لئے ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی پیدائش تو عرب میں ہے لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت عرب و عجم وغیرہ سب مخلوقات کے لئے قیامت تک عام ہے اسی واسطے جو لوگ ان آیتوں کے نازل ہونے تک موجودہ عرب کی قوم سے علیحدہ ہیں۔ واخرین منھم لما یلحقوا بھم فرمایا اور قیامت تک کے قرآن پر ایمان لانے والے لوگوں کو آیت کے حکم میں داخل کردیا گیا یہود کو یہ جو حسد تھا کہ نبی آخر الزمان بنی اسماعیل میں کیوں پیدا ہوئے بنی اسرائیل میں کیوں نہیں پیدا ہوئے۔ اس کا جواب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ بات اللہ کے فضل اور حکمت کے بالکل برخلاف ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کی اولاد میں تو ایک مدت تک نبوت رہی اور دوسرے بیٹے کی نسل کو اللہ تعالیٰ اپنے اس فضل وکرم سے محروم رکھے۔ اس واسطے اللہ کے اس فضل و کرم پر کسی کو حسد کا کوئی موقع نہیں ہے۔ (٢ ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی وجوب الجمعۃ فصل ثانی ص ١٢١۔ ) (٣ ؎ مشکوٰۃ شریف باب الخطبۃ والصلوٰۃ فصل اول ص ١٢٣۔ ) (١ ؎ مذکورہ بالا سب مسائل کے لئے مشکوٰۃ شریف ابواب متعلقہ جمعہ ملاحظہ فرمایئے ص ١٩٩ تا ١٢٥۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(62:1) یسبح : مضارع واحد مذکر غائب تسبیح (تفعیل) مصدر۔ پاکی بیان کرتا ہے۔ تسبیح کرنا ہے ۔ مضارع کا صیغہ استمرار کے لئے ہے ۔ للہ : لام استحقاق کا ہے۔ اللہ مفعول لہ ہے۔ ما فی السموت وما فی الارض : ما موصولہ ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (ہر وقت) اللہ کی تسبیح کرتی رہتی ہے۔ نیز ملاحظہ ہو آیت (57:1) الملک : (بادشاہ) ۔ القدوس : (بہت پاک) جملہ نقائص سے منزہ قدس سے مبالغہ کا صیغہ ۔ العزیز۔ (غالب) الحکیم (دانا۔ حکمت والا) یہ تمام اللہ (تبارک تعالیٰ ) کی صفات ہیں اور اسی نسبت سے مجرور ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١ تا ٨۔ اسرار ومعارف۔ ذکرالٰہی۔ ارض وسما کی ہر شے اپنے شعور وادارک کے مطابق اللہ کا ذکر کرتی ہے اور ہر ذرہ اپنے حال سے تو اس کی پاکی پہ دلالت کرتا ہے کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے جو ہر عیب سے پاک اور زبردست ہے اور بڑاحکمت کا مالک ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے ان پڑھ عربوں میں اپنارسول مبعوث فرمایا جو امی تھا کہ عربوں میں پڑھنے لکھنے کارواج نہ تھا بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ معجزہ۔ خود رسول اللہ نے کبھی پڑھنالکھنا نہیں سیکھا عموما ایسی قوم کی اصلاح محال ہوتی ہے اور انہیں کچھ سمجھانا بہت مشکل مگر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ نے انہیں ایسابنادیا کہ دنیا کے لیے وہ علم و حکمت کے خزینے ثابت ہوئے اور بجاطور پر جہانگیر وجہاں بان وجہاں دار وجہاں آرائ ، کا مصداق بن گئے اور خود نبی لامی نے پوری انسانیت کو معرفت باری کے ساتھ ایک خوبصورت اور حقوق وفرائض کا صحیح ترین ذمہ دار نظام حیات بخشا جو اسی امی قوم کے ہاتھوں زمانے میں رائج ہوا۔ فرائض نبوت۔ وہ نبی ان پر آیات تلاوت فرماتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور نہیں کتاب اللہ کی اور حکمت کی یعنی سنت یا وہ تفسیر جو آپ نے ارشاد فرمائی کی تعلیم دیتا ہے یہ چہارگانہ فرائض نبوت ہیں اول دعوت کہ قرآنی تعلیمات کے مطابق اللہ پر ایمان لانے کی دعوت جو ایمان لائے اس کا تزکیہ کرے۔ تصوف۔ ظاہری پاکیزگی ، کپڑوں اور بدن کی غذا کے حلال اور پاکیزہ رکھنے کی تعلیم اور باطنی پاکیزگی اخلاقیات و عادات اور کردار سازی اس کا قاعدہ یہ تھا کہ جو ایمان لاکر آپ کی نگاہ پاک میں آیا صحابی ہوگیا یعنی باطنی پاکیزگی پا گیا یوں کہ ، ثم تلین جلودھم وقلوبھم الی ذکر اللہ ، کہ کھال سے لے کرنہال خانہ دل تک ہر ذرہ بدن اللہ کا ذاکر ہوگیا۔ یہ کیفیت جسے تزکیہ کہا گیا یہی تصوف کہلائی بلکہ تصوف تزکیہ ہی کا فارسی ترجمہ ہے کہ سب سے پہلے یہ عجمی زبان ہے جسمیں ترجمہ ہواصحابہ کی صحبت سے تابعی بن گئے تابعین کی صحبت نے تبع تابعی بنادیے مگر بعد میں وہ تیزی اور قوت نہ رہی لوگ ذکرقلبی کرتے اور برسوں ایسے حضرات کی صحبت میں بیٹھتے جن کے قلوب میں برکات نبوی کی کیفیات ہوتیں اور اپنے دل روشن کرتے جس سے ان کے اخلاق سدھرتے اور کردار میں نکھارآتا اور شریعت پر عمل کرنے میں خلوص دل بھی نصیب ہوتا مگر پھر اس میں بھی وراثت درآئی ناہل لوگ پیر بن گئے اور رسومات کا پلندہ بناکر اسے بدنام کردیامگر اس سب سے اصل کی افادیت مجروح نہیں ہوتی۔ قرآن کے مفاہیم متعین فرمانا فرائض نبوت میں سے ہے۔ اور جب ظاہری اور دلی پاکیزگی نصیب ہوئی تو انہیں کتاب کی تعلیم فرمائی اور حکمت یعنی کتاب اللہ کے مفاہیم کا شعور عطا فرمایا یعنی جس طرح الفاظ قرآن سکھائے ویسے ہی ان کے معانی ومفاہیم ارشاد فرمائے گویا قرآن کے معانی متعین کرنا فرائض نبوت میں سے ہے ہر کس وناقص اپنی پسند کے معانی پہنانے کا حق نہیں رکھتا حالن کہ یہ ایسی قوم تھی جو خود بھی اپنے حال سے نالاح تھی اور جانتی تھی کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں صاف گمراہی ہے مگر حق کیا ہے انہیں خبر نہ تھی۔ بعد میں آنے والوں کا اعزاز۔ اور بعد میں آنے والے ایسے لوگ جو انہی جیسے ہوگئے ان سے مل گئے یعنی قیامت تک آنے والے وہ لوگ جو عقیدہ وعمل میں صحابہ ہی کی پیروی کریں گے وہ بھی ایسی برکات رسالت پائیں گے یہ بعد والوں کے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ انہیں ایسی عظیم الشان ہستیوں کے قدموں میں جگہ ملے اور عظمت صحابہ بھی اس سے واضح ہے کہ اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔ یہ اس کا کرم ہے اس کی مہربانی ہے اور وہ جس پر چاہے اپنا کرم کردے گویا جو بھی صحابہ کا اتباع کرلے اس نے اللہ کے فضل کو پالیا اور صحابہ نے نبی کریم کا اتباع کرکے یہ کرم حاصل کیا واقعی اللہ بہت بڑا فضل وکرم کرنے والا ہے یہ بات تو ان پڑھ لوگوں کی تھی جن کی قسمت چمک اٹھی مگر وہیں کچھ لوگ خود کو عالم وفافضل بھی سمجھتے تھے اور ان کے علم کا چرچا بھی تھا یعنی علماء یہود جن کو تورات نصیب ہوئی مگر وہ اس کے حق ادا نہ کرسکے ۔ علم کی صفت۔ علم کی صفت یہ ہے کہ انسان کا کردار علم کی روشنی میں ڈھل جائے اور اگر عمل کو متاثر نہ کرے تو وہ علم نہ ہوگامحض خبر کہہ سکتے ہیں ۔ چناچہ بڑی بڑی کتابیں پڑھنے کے باوجود ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی گدھے پر بڑی بڑی کتابیں لادی گئی ہوں کہ علوم تورات کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا اور باوجود تورات میں سے جاننے کے اللہ کی کتاب کا انکار کردیا اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے اب اس سے زیادہ اور کیا برائی کرسکتے تھے اور اللہ ایسا بےنیاز ہے کہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں فرماتا۔ یہود کو بھی نبی کریم کی صداقت پر شک نہ تھا۔ یہ بدنصیب کہتے ہیں کہ یہ ولی اللہ یعنی اللہ کے دوست ہیں اور باقی لوگوں کی طرح نہیں ہیں تو آپ انہیں فرمائیے گا کہ اگر تمہیں اپنی آخرت کی کامیابی کا اس قدر یقین ہے تو موت کی تمنا کرکے دیکھو کہ تمہارے دعوے کی صداقت کا پتہ چلے مگر یہ ہرگز موت کی تمنا نہ کریں گے انہیں یقین ہے کہ آپ کے فرمان پر تمنا کربیٹھے تو موت آجائے گی اور اپنے کرتوتوں کا بھی ان کو پتہ ہے لہذا آخرت سے ڈرتے ہیں کہ اللہ ایسے ظالموں کو جانتا ہے۔ کافر اور بدکار موت سے بہت ڈرتا ہے۔ یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ کافر اور بدکار موت سے ڈرتا ہے اس کا تجربہ اپنے ہاں بھی ہے اور عالم کفر یامغرب میں تو اب اس ڈرنے ان کی زندگی اجیرن کردی ہے کہ ہر کافر ڈرتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ کیوں ڈرتا ہے لہذا انہوں نے اس کا نام ہی ، انجاناخوف رکھ دیا ہے لیکن ان پر یہ بھی واضح فرمادیجئے کہ تم جس موت سے بھاگتے ہو اپنے وقت پر آکر رہے گی اور پھر تمہیں اس اللہ کے حضور پیش ہوناپڑے گا جو تمام پوشیدہ اور ظاہر باتوں سے واقف ہے اور اس کی بارگاہ میں تمہارے سارے کاموں سے پردہ اٹھایاجائے گا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اوپر کی سورت میں توحید و رسالت کا اثبات اور مکذبین کا مستحق عقوبت قتل ہونا مذکور تھا۔ اس سورت کے اول میں توحید و رسالت کا اثبات اور مکذبین میں سے یہود کا جو بعنوان قوم موی اوپر کی سورت میں مذکور ہوئے ہیں مستحق مذمت و وعید ہونا مذکور ہے اور چونکہ ان یہود کا اصل مرض حب دنیا تھا اس لئے مسلمانوں کو اس سے بچانے کے لئے دوسرے رکوع میں بضمن احکام جمعہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے کا امر اور عکس سے نہی ارشاد ہے، پس دونوں سورتوں کے اخیر میں تجارت کا ذکر ہے اول میں دینیہ کا دوسری میں دنیویہ کا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورت : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے رد عمل میں بنی اسرائیل دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک جماعت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی اور دوسرے گروہ نے ان کا انکار کردیا۔ سورة الجمعہ کی ابتدا ” سَبَّحَ “ کے پرجلال لفظ سے کی گئی ہے جس کا معنٰی اور مفہوم یہ ہے کہ کوئی اللہ کی ذات کو مانے یا نہ مانے اسے یاد کرے یا اس کا انکار کرے وہ تو وہ ہستی ہے جسے زمین و آسمانوں کی ہر چیز ان الفاظ میں یاد کرتی ہے کہ ” اللہ “ کلی اختیارات کا مالک اور ہر قسم کی حاجت اور نقص سے پاک ہے۔ ہر نقص اور حاجت سے مبرّا ہونے کے ساتھ ہر اعتبار سے پوری کائنات پر غالب ہے۔ اس کے غالب ہونے میں صرف قوت ہی نہیں بلکہ حکمت بھی پائی جاتی ہے۔ یہ اس کی قوت اور حکمت کا کرشمہ ہے کہ اس نے اَن پڑھ لوگوں میں سے ایک شخص کو رسول بنایا ہے جو ان کے سامنے اس کے فرمان پڑھتا ہے اور ان کے عقائد، اخلاق اور کردار کو پاکیزہ بناتا ہے۔ افکار و نظریات، اخلاق اور کردار کو پاکیزہ بنانے کے ساتھ انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ یہ رسول ان لوگوں کے لیے بھی بھیجا گیا ہے جو ابھی تک مسلمانوں سے نہیں ملے۔ رسول کا پیغام آنے والے لوگوں تک پہنچانے اور انہیں مسلمانوں کے ساتھ شامل کرنے پر اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غالب اور حکمت والا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئندہ نسلوں کے لیے بھی رسول ہیں جو ابھی تک مسلمانوں کے ساتھ نہیں ملے۔ مسلمانوں کے ساتھ نہ ملنے والے لوگوں میں ایک تو وہ لوگ ہیں جو اس زمانے میں ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، دوسرے وہ لوگ ہیں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد پیدا ہوں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان سب کے لیے رسول بنایا گیا ہے گویا کہ آپ ہر دور کے لوگوں کے لیے رسول بنائے گئے ہیں۔ آپ کے بعد نہ کوئی رسول آیا ہے اور نہ ہی آئے گا کیونکہ آپ کے بعد کسی رسول کی ضرورت نہیں۔ اس مقام پر یہ ارشاد ہوا کہ جن لوگوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث کیے گئے وہ لوگ اَن پڑھ تھے۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” اَلنَّبِیَ الْاُمِیُّ “ ہیں۔ اُمی کے مفسرین نے چار معانی بیان کیے ہیں۔ ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی شخص سے نہ سیکھا نہ پڑھا اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اُمی ہیں۔ ٢۔ آپ مکہ کے شہر میں پیدا ہوئے جسے قرآن مجید نے امّ القرایٰ قرار دیا ہے اس نسبت سے آپ امی ہیں۔ ٣۔ آپ بنی اسماعیل میں سے ہیں کیونکہ نبوت ہمیشہ بنی اسرائیل میں رہی ہے اس لیے اہل کتاب بنی اسماعیل کو امی کہتے ہیں گویا کہ امی سے مراد بنی اسماعیل میں نبی۔ ٤۔ آپ قیامت کے روز سب سے بڑی امت کے نبی ہوں گے اس لیے کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ اس بنا پر آپ کو ” اَلنَّبِیَ الْاُمِیُّ “ کے لقب سے ملقب فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر اس قدر احسانات فرمائے ہیں کہ وہ ان کا شمار کرنا چاہے تو جدید مشینری کے ذریعے بھی انہیں شمار نہیں کرسکتا۔ تمام احسانات و انعامات میں سب سے بڑا احسان اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی ہے۔ ہدایت کا مؤثر، مدلّل، قابل اعتماد ذریعہ اور نمونہ انبیاء کی شخصیات ہیں۔ ان شخصیات میں سب سے ممتاز شخصیت رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے آپ آخری نبی ہیں آپ نے انسانیت کی اصلاح اور فلاح کے لیے سب سے بڑھ کر کوششیں اور تکلیفیں اٹھائیں۔ اس لیے مومنوں کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ خاص احسان ہے کہ اس نے تم ہی سے یعنی انسانوں میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرمایا ہے جو تمہارے اپنے آپ سے بھی تم پر زیادہ مہربان ہے اور درگزر کرنے والا ہے۔ (التوبہ : ١٢٨) اس کی شب و روز کی محنتیں، صبح و شام کی دعائیں اور ہر وقت یہ تمنا اور خواہش ہے کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنائے، گناہوں اور جرائم سے پاک کرے اور تمہیں کتاب و حکمت کے ذریعے دنیا و آخرت کی ترقیوں سے سرفراز کرے۔ نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری اور آپ کی تعلیمات سے پہلے تم سراسر گمراہی اور جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے۔ آپ کی کوششوں اور محبت و اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج انسانیت نے اپنا مقام پایا، غلاموں کو آزادی نصیب ہوئی ‘ عورتوں کو حقوق ملے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا طریقہ اور دنیا میں رہنے سہنے کا سلیقہ آیا۔ یہ رب کریم کا لوگوں پر عظیم ترین احسان ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو لوگوں کو ان کی عقل پر چھوڑ دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسا عظیم اور بےمثال رسول مبعوث فرمایا۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے انسانیت ہر قسم کی جہالت اور تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہی تھی۔ خصوصاً عرب اور اہل مکہ کی حالت یہ تھی کہ یہاں کے دانشور اس سوچ میں غلطاں رہتے تھے کہ ہم تاریکیوں سے کس طرح نجات پائیں۔ اسی کے نتیجے میں حلف الفضول کا معاہدہ طے پایا جس میں اہل دانش نے بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا کہ معاشرے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کا تدارک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (ابن ہشام) اسی سلسلہ کی دوسری کڑی یہ تھی کہ ایک موقع پر ورقہ بن نوفل ‘ زید بن عمرو مزید نام لکھنے اور چند دوسرے لوگ حرم میں بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ تمام مروجہ مذاہب کا جائزہ لے کر طے کیا جائے کہ کونسا مذہب سچا ہے ؟ اس کے لیے یہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے جس کے نتیجے میں ورقہ بن نوفل عیسائیت کے قریب ہوئے اور کچھ نے یہودیت کو مناسب سمجھا۔ حضرت سعید (رض) کے والد اور حضرت عمر (رض) کے ماموں جناب زید بن عمرو نے سب سے براءت کا اعلان کیا۔ وہ بیت اللہ میں سجدہ ریز ہو کر زاروقطار روتے ہوئے دعا کرتے کہ اے کعبہ کے رب ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ تیری عبادت اس طرح کرنی ہے تو میں اسی طرح کرنے کو تیار ہوں لیکن آسمانی ہدایت مفقود ہوجانے کی وجہ سے وہ دین کی روشنی سے محروم رہے اس کے متعلق ایک سوال کے جواب میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (نَعَمْ إِنَّہٗ یُبْعَثُ أُمَّۃً وَّاحِدَۃً ) کیوں نہیں ! وہ ایک امت کی حیثیت سے اٹھایا جائے گا۔ (ابن ہشام) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد سے قبل کی جہالت اور تاریکی کی نشاندہی کرتے ہوئے حضرت علی (رض) کے برادر مکرم حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب نے حبشہ کے حکمران کے سامنے اس کا یوں اعتراف کیا تھا : (فَکَانَ الَّذِی کَلَّمَہُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ (رض) فَقَالَ لَہ أَیُّہَا الْمَلِکُ کُنَّا قَوْمًا أَہْلَ جَاہِلِیَّۃٍ نَعْبُدُ الْأَصْنَامَ وَنَأْکُلُ الْمَیْتَۃَ وَنَأْتِی الْفَوَاحِشَ وَنَقْطَعُ الْأَرْحَامَ وَنُسِیءُ الْجِوَارَ وَیَأْکُلُ الْقَوِیُّ مِنَّا الضَّعِیفَ فَکُنَّا عَلَی ذَلِکَ حَتَّی بَعَثَ اللَّہُ إلَیْنَا رَسُولًا مِنَّا نَعْرِفُ نَسَبَہُ وَصِدْقَہُ وَأَمَانَتَہُ وَعَفَافَہُ فَدَعَانَا إلَی اللَّہِ لِنُوَحِّدَہُ وَنَعْبُدَہُ وَنَخْلَعَ مَا کُنَّا نَعْبُدُ نَحْنُ وَآبَاؤُنَا مِنْ دُونِہِ مِنْ الْحِجَارَۃِ وَالْأَوْثَانِ وَأَمَرَنَا بِصِدْقِ الْحَدِیثِ وَأَدَاءِ الْأَمَانَۃِ وَصِلَۃِ الرَّحِمِ وَحُسْنِ الْجِوَارِ وَالْکَفِّ عَنْ الْمَحَارِمِ وَالدِّمَاءِ وَنَہَانَا عَنْ الْفَوَاحِشِ وَقَوْلِ الزُّورِ وَأَکْلِ مَالِ الْیَتِیمِ وَقَذْفِ الْمُحْصَنَاتِ وَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّہَ وَحْدَہُ لَا نُشْرِکُ بِہِ شَیْءًا وَأَمَرَنَا بالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ وَالصِّیَامِ ) (سیرت ابن ہشام) ” وہ کلمے جو حضرت جعفر (رض) نے نجاشی کو کہے تھے وہ یہ تھے اے نجاشی ہماری قوم جاہل تھی ہم میں بتوں کی عبادت، مردار کھانا، فحاشی کرنا، رشتے داریوں کو توڑنا، پڑوسیوں کو تنگ کرنا اور طاقت وار لوگوں کا کمزوروں پر ظلم کرنا جیسی بیماریاں پائی جاتی تھیں ہم یہ کام کر رہے تھے یہاں تک کہ اللہ نے ہم میں سے ہی ایک رسول بھیجا ہم اس کا نسب، صداقت، امانت داری اور معاف کرنا جیسی صفات جانتے تھے اس نے ہمیں ایک اللہ کی دعوت کی عبادت کی طرف بلایا اور ہمیں بتوں اور پتھروں کی عبادت سے روکا اور اس کی عبادت سے جس کی عبادت ہمارے آباؤ اجداد کرتے تھے اس نے ہمیں سچ بولنے، امانت کو اس کی مالک کی طرف لوٹانے، صلہ رحمی کرنے اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا اور ہمیں حرام کھانے، کسی کا ناحق خون بہانے، فحاشی کرنے، بری باتیں کرنے، یتیموں کا مال کھانے اور پاک دامنہ عورتوں پر تہمت لگانے سے منع کیا اور ہمیں حکم دیا کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں اور اس نے ہمیں نماز پڑھنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور روزے رکھنے کا حکم دیا۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَأُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُورَۃُ الْجُمُعَۃِ (وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ ) قَالَ قُلْتُ مَنْ ہُمْ یَا رَسُول اللّٰہِ فَلَمْ یُرَاجِعْہُ حَتَّی سَأَلَ ثَلاَثًا وَفِینَا سَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ وَضَعَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَدَہُ عَلَی سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ لَوْ کَانَ الإِیمَانُ عِنْدَ الثُّرَیَّا لَنَالَہُ رِجَالٌ، أَوْ رَجُلٌ مِنْ ہَؤُلاَءِ ) (رواہ البخاری : باب قَوْلُہُ (وَآخَرِینَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوا بِہِمْ ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب سورة جمعہ نازل ہوئی تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے تھے۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ ” وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْابِھِمْ “ سے کون لوگ مراد ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے تین بار یہی سوال کیا۔ اس وقت ہم لوگوں میں حضرت سلمان فارسی (رض) بھی موجود تھے۔ آپ نے ان پر اپنا ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو اس کے قبیلے کے لوگ وہاں بھی پہنچ جاتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل مکہ اور صرف اس دور کے لیے نبی نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے نبی مبعوث کیے گئے ہیں ؟ (عَنْ أَبِی ذَرٍّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی بُعِثْتُ إِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِی وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ فَیُرْعَبُ الْعَدُوُّ وَہُوَ مِنِّی مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ وَقِیلَ لِیْ سَلْ تُعْطَہْ وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی فَہِیَ نَاءِلَۃٌ مِنْکُمْ إِنْ شَاء اللّٰہُ تَعَالَی مَنْ لَّمْ یُشْرِکْ باللّٰہِ شَیْءًا قَالَ الْأَعْمَشُ فَکَانَ مُجَاہِدٌ یَرٰی أَنَّ الْأَحْمَرَ الْإِنْسُ وَالْأَسْوَدَ الْجِنُّ ) (رواہ احمد : مسند ابی ذر) ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں عنایت کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں۔ ١۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ہر کالے اور گورے کے لیے رسول بنایا ہے۔ ٢۔ میرے لیے ساری زمین پاک اور مسجد بنادی گئی ہے۔ ٣۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی رسول کے لیے حلال نہیں تھا۔ ٤۔ میری رعب سے مدد فرمائی گئی ہے کیونکہ ایک مہینہ کی مسافت پر ہونے کے باوجود دشمن مجھ سے لرزاں رہتا ہے۔ ٥۔ مجھے ( قیامت کے دن) کہا جائے گا مانگ عطا کیا جائے گا اور تیری امت کے حق میں تیری شفاعت قبول کی جائے گی اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہوگا اس کو میری شفاعت پہنچے گی۔ “ مسائل ١۔ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی حاجت اور نقص سے مبرّا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے نافذ کرنے پر پوری طرح اختیار رکھتا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے میں حکمت پائی جاتی ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اَ ن پڑھ لوگوں میں مبعوث فرمایا۔ ٦۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ایک انسان تھے۔ ٧۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی آیات کے ذریعے لوگوں کا تزکیہ کرتے، انہیں قرآن مجید کی تعلیم سے آراستہ کرتے اور انہیں دانائی کی باتیں بتلایا کرتے تھے۔ ٨۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری سے پہلے لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ ٩۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کے لیے بھی رسول منتخب کیے گئے جو آپ کے بعد پیدا ہوئے اور ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن نبی (علیہ السلام) کی نبوت کے مرکزی مقاصد : ١۔ نبوت کے منصبی فرائض۔ (البقرۃ : ١٥١) ٢۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کتاب و حکمت کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا گیا۔ (الجمعۃ : ٢) ٣۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں میں نبوت کے فرائض کا تذکرہ۔ (البقرۃ : ١٢٩) ٤۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے بوجھ اتارنے اور انہیں غلامی سے نجات دلانے کیلئے تشریف لائے۔ (الاعراف : ١٥٧) ٥۔ نبوت اللہ تعالیٰ کا مومنوں پر احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : ١٦٤) ٦۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے (الاحزاب : ٤٥) ٧۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کا سورج بنایا گیا۔ (الاحزاب : ٤٦) ٨۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رؤف الرحیم تھے۔ (التوبۃ : ١٢٨) ٩۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری دنیا کے رسول ہیں۔ (الاعراف : ١٥٨) ١٠۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کے رسول ہیں۔ (سباء : ٢٨) ١١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحمت عالم تھے۔ (الانبیاء : ١٠٧) ١٢۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آخری نبی ہیں۔ (الاحزاب : ٤٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس آغاز میں بتایا جاتا ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کررہی ہے۔ لیکن یہ کائنات جو تسبیح کررہی ہے اس میں سے جن چیزوں کا انتخاب کیا گیا ہے وہ اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اور اس کے ساتھ گہرا ربط رکھتی ہیں۔ سورت کا نام جمعہ ہے۔ اس میں یہ تعلیم ہے کہ جمعہ کی اہمیت کیا ہے ، اس دن تمام امور سے فارغ ہوکر اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور جمعہ کی نماز کے وقت لہو ولعب اور محنت وتجارت چھوڑ کر ، اللہ کے ذکر کی طرف آنا چاہئے۔ لوگ جمعہ کو چھوڑ کر اور خطبہ جمعہ چھوڑ کر جس مال تجارت کی طرف بھاگے ہیں ، اس کا مالک تو اللہ ہے ، جو بادشاہ مطلق ہے۔ دنیا کا یہ مال اس کے اختیار میں ہے اور وہ ” القدوس “ ہے۔ وہ مقدس ہے اور پاک ہے اور پوری کائنات اس کی پاکی اور تقدیس بیان کررہی ہے۔ جبکہ یہ لوگ اس کی تقدیس چھوڑ کر لہو ولعب اور تجارت کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ وہ ” العزیز “ ہے ، یہودیوں کو جو دعوت مباہلہ دے رہا ہے ، وہی غالب ہے ، وہ سب لوگوں کو اٹھا کر ان سے حساب و کتاب کا انتظام کرتا ہے۔ اور وہ ” الحکیم “ ہے۔ جس نے عربوں جیسی ناخواندہ قوم سے ایک رسول اٹھایا جو آیات پڑھ کر سناتا ہے ، علم و دانش سکھاتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم خطبہ جمعہ کا مقصود ہے۔ غرض جو صفات یہاں آغاز میں لائی گئی ہیں ، سورت کا مضمون بھی انہی کی سمت پر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ قدوس ہے، عزیز ہے، حکیم ہے اس نے تعلیم وتزکیہ کے لئے بےپڑھے لوگوں میں اپنا رسول بھیجا یہاں سے سورة الجمعہ شروع ہو رہی ہے۔ پہلے رکوع میں ارشاد فرمایا کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو بھی مخلوق ہے سب اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی چار صفات جلیلہ بیان فرمائیں یعنی ﴿الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ ﴾ جس کا ترجمہ اور مطلب سورة الحشر کے ختم کے قریب آیت کریمہ ﴿ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ﴾ کی تفسیر کے ذیل میں بیان کیا جا چکا ہے۔ مزید جو دو صفات بیان فرمائیں ان میں ایک العزیز اور دوسری الحکیم ہے ان دونوں صفات کا تذکرہ بار بار قرآن مجید میں فرمایا ہے، العزیز عزت والا زبردست غلبہ والا اور الحکیم حکمت والا۔ ان دونوں صفات کے بار بار بیان کرنے میں مخلوق کو اس بات پر تنبیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غالب ہے اس کی گرفت سے نکل کر کوئی کہیں نہیں جاسکتا اور یہ کہ وہ حکمت والا ہے اس کا کوئی فعل اور کوئی امر حکمت سے خالی نہیں ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے ایک بہت بڑے احسان کا تذکرہ فرمایا، اور وہ یہ ہے کہ اس نے امیین (یعنی بےپڑھے لوگوں) میں ایک رسول بھیجا جو انہیں میں سے ہے، امیین سے عرب مراد ہیں جن میں پڑھنے لکھنے کا بہت کم رواج تھا اگرچہ شاعری کرتے رہتے تھے۔ (جس کے لئے علم سے متصف ہونا ضروری نہیں ہے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نحن امة امیة یعنی ہم (عرب) بےپڑھے لوگ ہیں لانکتب ولا نحسب نہ لکھنا جانتے ہیں نہ حساب جانتے ہیں، اہل مکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ہوئی وہ امی تھے اور خود آپ بھی امی تھے جیسا کہ آیت بالا میں رسولا منھم اور سورة الاعراف میں ﴿فَاٰمِنُوْا باللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ﴾ فرمایا ہے اور سورة عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطاب کر کے فرمایا ہے۔ ﴿ وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ٠٠٤٨﴾ (اور آپ اس کتاب سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ کوئی کتاب اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو باطل والے شبہ لگالیتے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” یسبح للہ الخ “ مضمون توحید کا اعادہ ہے۔ اس سورت سے چونکہ نئے مضمون یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی ابتداء ہوئی ہے اس لیے شروع میں مسئلہ توحید کا اعادہ کیا گیا تاکہ یہ حقیقت ذہن میں رہے کہ انفاق اور جہاد مسئلہ توحید کی خاطر ہیں۔ اس آیت کی تفسیر اور الفاظ کے معنی پہلے گذر چکے ہیں۔ کائنات کی ہر چیز اللہ کی توحید کا اقرار کرتی اور اس کی تسبیح و تنزیہ بجا لاتی ہے۔ یہاں تک کہ جمادات اپنی مخصوص حیات اور شعور کی بنا پر تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں۔ کل شیئ وان کان جمادا فلہ نوع من الحیاۃ والشعور فیقربوحدانیتہ ویسبحہ ولکن لا تفقہون تسبیحہم (مظہری ج 9 ص 275) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اس اللہ تعالیٰ کو پاکی کے ساتھ یاد کرتی ہے اور اس کی پاکی بیان کرتی ہے جو بادشاہ ہے نہایت پاک ذات ہے بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے یعنی زمین و آسمان ہر ایک چیز زبان حال سے یا زبان قال سے اس اللہ تعالیٰ کی پاکی کا اظہار کرتی ہے جو بادشاہ ہے جس کی سلطنت دائمی ہے جو جملہ عیوب سے پاک ومنزہ ہے کمال قوت کا مالک بڑی حکمت والا ہے۔