Surat ul jumaa

Surah: 62

Verse: 6

سورة الجمعة

قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ ہَادُوۡۤا اِنۡ زَعَمۡتُمۡ اَنَّکُمۡ اَوۡلِیَآءُ لِلّٰہِ مِنۡ دُوۡنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۶﴾

Say, "O you who are Jews, if you claim that you are allies of Allah , excluding the [other] people, then wish for death, if you should be truthful."

کہہ دیجئے کہ اے یہودیو! اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو دوسرے لوگوں کے سوا تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Say: "O you Jews! If you pretend that you are friends of Allah, to the exclusion of other people, then long for death if you are truthful." meaning, `if you claim that you are on the correct guidance and that Muhammad and his Companions are being led astray, then invoke Allah to bring death to the misguided group among the two, if you are truthful in your claim.' Allah said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 جیسے وہ کہا کرتے تھے کہ ' ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے چہیتے ہیں (وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ ۭقُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ ۭ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۭيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۡ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 5 ۔ المائدہ :18) اور دعویٰ کرتے تھے کہ ' جنت میں صرف وہی جائے گا جو یہودی یا نصرانی ہوگا ' (وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ تِلْكَ اَمَانِيُّھُمْ ۭ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 111۔ ) 2 ۔ البقرۃ :111) 6۔ 2 تاکہ تمہیں وہ اعزازو اکرام حاصل ہو جو تمہارے غرور کے مطابق تمہارے لئے ہونا چاہیئے، 6۔ 3 اس لیے کہ جس کو یہ علم ہو کہ مرنے کے بعد اس کے لیے جنت ہے وہ تو وہاں جلد پہنچنے کا خواہش مند ہوتا ہے حافظ ابن کثیر نے اس کی تفسیر دعوت مباہلہ سے کی ہے۔ یعنی اس میں ان سے کہا گیا ہے کہ اگر تم نبوت محمدیہ کے انکار اور اپنے دعوائے ولایت و محبوبیت میں سچے ہو تو مسلمانوں کے ساتھ مباہلہ کرلو۔ یعنی مسلمان اور یہودی دونوں مل کر بارگاہ الہی میں دعا کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہے اسے موت سے ہمکنار فرما دے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] ان سب قباحتوں کے باوجود یہ سمجھتے تھے کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہذا ہم ہی تمام دنیا میں اس کے چہیتے اور پیارے ہیں۔ مرنے کے بعد صرف ہم ہی جنت میں جائیں گے۔ باقی سب لوگ دوزخ میں جائیں گے۔ نیز یہ کہ مرتے ہی ہم سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس نظریہ کو مردود قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو تو پھر تو تمہیں جلد از جلد مرنے کی آرزو کرنا چاہیے تاکہ اس دنیا کے جھنجھٹوں اور جنجالوں سے تمہیں نجات مل جائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ ہَادُوْٓا اِنْ زَعَمْتُمْ ۔۔۔۔۔: ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (٩٤ تا ٩٦) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّـهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ (Say, |"0 those who are Jews, if you claim that you are the friends of Allah to the exclusion of all other people, then express your desire for death, if you are true…62:6) Friends of Allah to the exclusion of all other people, then express your desire for death, if you are true…62:6) Despite their kufr, shirk and moral aberration, the Jews claimed نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ (…We are the sons of Allah and His favourites) [ 5:18] and they also claimed لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا (…no one shall ever enter Paradise unless he is a Jew) [ 2:111]. In other words, they believed themselves to be safe and immune from the punishment of the Hereafter, and thought that the blessings of Paradise are their personal property. Obviously, if a person believes that the blessings of the Hereafter are a zillion times better than the blessings of this world, he must, of necessity, wish for death, so that he is able to enter Paradise sooner and start enjoying its blessings forthwith. He sees with his own eyes that this world is not free from miseries, sorrows and hardships and one has to suffer from certain diseases as long as he is living here. Then if he believes that, as soon as he dies, he will certainly receive those numerous and eternal blessings, a wise man should naturally wish for death in his heart, so that he may be set free from this miserable world and reach the next world where he will reside forever in eternal peace and comfort. That is why the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is instructed in the present verse to challenge that if they are Allah’ s children and His beloved ones they do not have any fear of punishment in the Hereafter, then the reason demands that they should wish for death. Then the Holy Qur’ an itself falsified them in the following words:

قُلْ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ هَادُوْٓا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِيَاۗءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ، یہود اپنے کفر و شرک اور ساری بد اخلاقیوں کے باوجود یہ دعویٰ بھی رکھتے تھے (آیت) نحن ابنآو اللہ و احبآوہ، یعنی ہم تو اللہ کی اولاد اور محبوب ہیں اور اپنے سوا کسی کو جنت کا مستحق نہ کہتے تھے بلکہ یوں کہا کرتے تھے (آیت) لن یدخل الجنة الامن کان ھودا، گویا وہ آخرت کے عذاب سے اپنے آپ کو بالکل محفوظ و مامون سمجھتے اور جنت کی نعمتوں کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے تھے اور یہ ظاہر ہے کہ جس شخص کا یہ ایمان ہو کہ آخرت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے ہزاروں درجے افضل و بہتر ہیں اور دنیا میں ہر وقت یہ بھی دیکھتا رہتا ہے کہ یہاں کی زندگی رنج و غم اور تکلیفوں سے اور محنتوں سے خالی نہیں اور بیماریاں بھی آتی ہی رہتی ہیں اور اس کو یہ بھی یقین ہو کہ موت آتے ہی مجھے وہ عظیم اور دائمی نعمتیں ضرور مل ہی جائیں گی، تو اس کا مقتضا یہ ہے کہ اگر اس میں ذرا بھی عقل و فہم ہے تو اس کے دل میں موت کی تمنا پیدا ہو اور وہ دل سے چاہے کہ موت جلد آجائے تاکہ دنیا کی مکدر اور رنج و غم سے بھری ہوئی زندگی سے نکل کر خالص راحت اور آرام کی دائمی زندگی میں پہنچ جائے۔ اس لئے آیت مذکورہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کی گئی کہ آپ یہود سے فرمائیں کہ اگر تمہارا یہ دعویٰ کہ ساری مخلوق میں تم ہی اللہ کے محبوب اور لاڈلے ہو اور تمہیں یہ خطرہ بالکل نہیں کہ آخرت میں تمہیں کوئی عذاب ہوسکتا ہے تو پھر عقل کا تقاضا یہ ہے کہ تم موت کی تمنا کرو اور اس کے مشتاق رہو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ ہَادُوْٓا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِيَاۗءُ لِلہِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ ٦ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ زعم الزَّعْمُ : حكاية قول يكون مظنّة للکذب، ولهذا جاء في القرآن في كلّ موضع ذمّ القائلون به، نحو : زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا[ التغابن/ 7] ، لْ زَعَمْتُمْ [ الكهف/ 48] ، كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ [ الأنعام/ 22] ، زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ [ الإسراء/ 56] ، وقیل للضّمان بالقول والرّئاسة : زَعَامَةٌ ، فقیل للمتکفّل والرّئيس : زَعِيمٌ ، للاعتقاد في قوليهما أنهما مظنّة للکذب . قال : وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ [يوسف/ 72] ، أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمٌ [ القلم/ 40] ، إمّا من الزَّعَامَةِ أي : الکفالة، أو من الزَّعْمِ بالقول . ( ز ع م ) الزعمہ اصل میں ایسی بات نقل کرنے کو کہتے ہیں جس میں جھوٹ کا احتمال ہو اس لئے قرآن پاک میں یہ لفظ ہمیشہ اس موقع پر آیا ہے جہاں کہنے والے کی مذمت مقصود ہے چناچہ فرمایا : ۔ زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا[ التغابن/ 7] کفار یہ زعم کو کہتے ہیں ۔ لْ زَعَمْتُمْ [ الكهف/ 48] مگر تم یہ خیال کرتے ہو ۔ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ [ الأنعام/ 22] جن کو شریک خدائی سمجھتے تھے ۔ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ [ الإسراء/ 56] جنہیں تم نے ) اللہ کے سوا ( معبود ) خیال کیا ۔ اور زعامۃ کے معنی ذمہ داری اٹھانے اور ریاست ( سرداری ) کے ہیں اور کفیل ( ضامن اور رئیں کو زعیم کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں کی بات میں جھوٹ کا احتمال ہوسکتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ [يوسف/ 72] اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ، أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمٌ [ القلم/ 40] ان میں سے کون اس کا ذمہ دار ہے ۔ یہاں زعیم یا تو زعامہ بمعنی کفالۃ سے ہے اور یا زعم بلقول سے ہے ۔ ولي والوَلَايَةُ : تَوَلِّي الأمرِ ، وقیل : الوِلَايَةُ والوَلَايَةُ نحو : الدِّلَالة والدَّلَالة، وحقیقته : تَوَلِّي الأمرِ. والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] ، إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] ، وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] ، ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] ، نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] ، وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] ، قال عزّ وجلّ : قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] ، وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] ، ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] ( و ل ی ) الولاء والتوالی الوالایتہ ( بکسر الواؤ ) کے معنی نصرت اور والایتہ ( بفتح الواؤ ) کے معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دلالتہ ودلالتہ کی طرح ہے یعنی اس میں دولغت ہیں ۔ اور اس کے اصل معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ الوالی ولمولی ۔ یہ دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں اور مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰٰ کے متعلق ولی المومنین ومولاھم دونوں طرح بول سکتے ہیں ۔ چناچہ معنی اول یعنی اسم فاعل کے متعلق فرمایا : ۔ اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] جو لوگ ایمان لائے ان کا دوست خدا ہے إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] میرا مددگار تو خدا ہی ہے ۔ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] اور خدا مومنوں کا کار ساز ہے ۔ ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] یہ اسلئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کار ساز ہے ۔ نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] خوب حمائتی اور خوب مددگار ہے ۔ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] اور خدا کے دین کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو وہی تمہارا دوست ہے اور خوب دوست ہے ۔ اور ودسرے معنی یعنی اسم مفعول کے متعلق فرمایا : ۔ قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] کہدو کہ اے یہود اگر تم کو یہ دعوٰی ہو کہ تم ہی خدا کے دوست ہو اور لوگ نہیں ۔ وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] اور پیغمبر ( کی ایزا ) پر باہم اعانت کردگی تو خدا ان کے حامی اور ودست دار ہیں ۔ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] پھر قیامت کے تمام لوگ اپنے مالک پر حق خدائے تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ تَّمَنِّي : تقدیر شيء في النّفس وتصویره فيها، وذلک قد يكون عن تخمین وظنّ ، ويكون عن رويّة وبناء علی أصل، لکن لمّا کان أكثره عن تخمین صار الکذب له أملك، فأكثر التّمنّي تصوّر ما لا حقیقة له . قال تعالی: أَمْ لِلْإِنْسانِ ما تَمَنَّى [ النجم/ 24] ، فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ [ البقرة/ 94] ، وَلا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً [ الجمعة/ 7] والأُمْنِيَّةُ : الصّورة الحاصلة في النّفس من تمنّي الشیء، ولمّا کان الکذب تصوّر ما لا حقیقة له وإيراده باللفظ صار التّمنّي کالمبدإ للکذب، فصحّ أن يعبّر عن الکذب بالتّمنّي، وعلی ذلک ما روي عن عثمان رضي اللہ عنه :( ما تغنّيت ولا تَمَنَّيْتُ منذ أسلمت) «1» ، وقوله تعالی: وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لا يَعْلَمُونَ الْكِتابَ إِلَّا أَمانِيَّ [ البقرة/ 78] قال مجاهد : معناه : إلّا کذبا «2» ، وقال غيره إلّا تلاوة مجرّدة عن المعرفة . من حيث إنّ التّلاوة بلا معرفة المعنی تجري عند صاحبها مجری أمنيّة تمنیتها علی التّخمین، وقوله : وَما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلا نَبِيٍّ إِلَّا إِذا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ [ الحج/ 52] أي : في تلاوته، فقد تقدم أنّ التّمنّي كما يكون عن تخمین وظنّ فقد يكون عن رويّة وبناء علی أصل، ولمّا کان النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم کثيرا ما کان يبادر إلى ما نزل به الرّوح الأمين علی قلبه حتی قيل له : لا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ [ طه/ 114] ، ولا تُحَرِّكْ بِهِ لِسانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [ القیامة/ 16] سمّى تلاوته علی ذلک تمنّيا، ونبّه أنّ للشیطان تسلّطا علی مثله في أمنيّته، وذلک من حيث بيّن أنّ «العجلة من الشّيطان» «3» . وَمَنَّيْتَني كذا : جعلت لي أُمْنِيَّةً بما شبّهت لي، قال تعالیٰ مخبرا عنه : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] . ۔ التمنی کے معنی دل میں کسی خیال کے باندھے اور اس کی تصویرکھنیچ لینے کے ہیں پھر کبھی یہ تقدیر محض ظن وتخمین پر مبنی بر حقیقت مگر عام طور پر تمنی کی بنا چونکہ ظن وتحمین پر ہی ہوتی ہے اس لئے ا س پر جھوٹ کا رنگ غالب ہوتا ہے ۔ کیونکہ اکثر طور پر تمنی کا لفظ دل میں غلط آرزو میں قائم کرلینے پر بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ لِلْإِنْسانِ ما تَمَنَّى [ النجم/ 24] کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ۔ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ [ البقرة/ 94] تو موت کی آرزو تو کرو ۔ وَلا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً [ الجمعة/ 7] اور یہ ہر گز نہیں کریں گے ۔ الامنیۃ کسی چیز کی تمنا سے جو صورت ذہن میں حاصل ہوتی ہے اسے امنیۃ کہا جاتا ہے ۔ اور کزب چونکہ کسی وغیرہ واقعی چیز کا تصور کر کے اسے لفظوں میں بیان کردینے کو کہتے ہیں تو گویا تمنی جھوت کا مبدء ہے مہذا جھوٹ کو تمنی سے تعبیر کر نا بھی صحیح ہے اسی معنی میں حضرت عثمان (رض) کا قول ہے ۔ ماتغنیت ولا منذ اسلمت کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں نہ راگ گایا ہے اور نہ جھوٹ بولا ہے اور امنیۃ کی جمع امانی آتی ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لا يَعْلَمُونَ الْكِتابَ إِلَّا أَمانِيَّ [ البقرة/ 78] اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطل کے سوا ( خدا کی ) کتاب سے واقف نہیں ہیں ۔ مجاہد نے الا امانی کے معنی الا کذبا یعنی جھوٹ کئے ہیں اور دوسروں نے امانی سے بےسوچے سمجھے تلاوت کرنا مراد لیا ہے کیونکہ اس قسم کی تلاوت بھی اس منیۃ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی ہے جس کی بنا تخمینہ پر ہوتی ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلا نَبِيٍّ إِلَّا إِذا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ [ الحج/ 52] اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر اس کا یہ حال تھا کہ ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آروزو میں ( وسوسہ ) ڈال دیتا تھا ۔ میں امنیۃ کے معنی تلاوت کے ہیں اور پہلے بیان ہوچکا ہے کہ تمنی ظن وتخمین سے بھی ہوتی ہے ۔ اور مبنی بر حقیقت بھی ۔ اور چونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر روح الامین جو وحی لے کر اترتے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی تلاوت کے لئے مبا ورت کرتے تھے حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آیت لا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ [ طه/ 114] اور ولا تُحَرِّكْ بِهِ لِسانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [ القیامة/ 16] کے ذریعہ منع فرما دیا گیا ۔ الغرض اس وجہ سے آپ کی تلاوت کو تمنی سے موسوم کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ ایسی تلاوت میں شیطان کا دخل غالب ہوجاتا ہے اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی فرمایا ہے ان العا جلۃ من الشیطان کہ جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے منیتی کذا کے معنی فریب وہی سے جھوٹی امید دلانے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن نے شیطان کے قول کی حکایت کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] اور ان کو گمراہ کرتا ۔ اور امید دلاتا رہوں گا ۔ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی معنی مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

یہود کی خام خیالی قول باری ہے (قل یایھا الذین ھادوا ان زعمتم انکم اولیاء للہ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صادقین، ان سے کہو ” اے لوگوجو یہودی بن گئے ہو ! اگر تمہیں یہ گھمنڈ ہے کہ باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر بس تم ہی اللہ کے چہیتے ہو تو موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس زعم میں سچے ہو ) تا قول باری (واللہ علیم بالظلمین، اور اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے) ایک روایت کے مطابق یہودا اس گھمنڈ میں مبتلا تھے کہ باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر صرف یہی لوگ اللہ کے پیارے اور چہیتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بتادیا کہ اگر یہ موت کی تمنا کریں گے تو مرجائیں گے۔ اس آیت کے ذریعہ دو وجوہ سے ان پر حجت تام ہوگئی۔ ایک تو یہ کہ اگر یہ لوگ اللہ کے ہاں اپنی قدرومنزلت کے دعوے میں سچے ہوتے تو موت کی ضرور تمنا کرتے کیونکہ موت کے ذریعے جنت میں داخل ہوجانا دنیا میں زندہ رہنے سے بہتر ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ یہ لوگ موت کی تمنا نہیں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ دی ہوئی خبر حقیقت نفس الامری کے لحاظ سے حرف بہ حرف سچی ثابت ہوئی۔ اس لئے یہ چیز بھی نبوت کے واضح ترین دلائل میں سے ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے جو دین اسلام سے منہ موڑ کر یہودیت پر قائم ہیں اور بنی یہودا ہیں کہ اگر تم بلا شرکت نبی کریم اور آپ کے اصحاب کے اللہ کے مقبول ہو تو پھر تم اس دعوے کی تصدیق کے لیے ذرا موت کی تمنا کرو، چناچہ حضور نے ان سے فرمایا کہ کہو اللہ تعالیٰ ہمیں موت دے اللہ کی قسم ان میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو یہ کہے مگر یہ کہ اس کو فورا موت نہ آجائے، چناچہ وہ لوگ اس بات سے ڈرے اور انہوں نے موت کی تمنا نہیں کی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦{ قُلْ یٰٓــاَ یُّہَا الَّذِیْنَ ہَادُوْآ اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّــکُمْ اَوْلِیَــآئُ لِلّٰہِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ کہہ دیجیے کہ اے وہ لوگو جو یہودی ہوگئے ہو ‘ اگر تمہیں واقعی یہ گمان ہے کہ بس تم ہی اللہ کے دوست ہو باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر “ زعم کا لفظ ” خیال خام “ کے معنی میں ہم اردو میں بھی استعمال کرتے ہیں کہ فلاں شخص کو فلاں چیز کا بڑا زعم ہے۔ تو اگر تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے چہیتے اور محبوب ہونے کا ایسا ہی زعم ہے : { فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ } ” تو تم موت کی تمنا کرو ‘ اگر تم واقعی سچے ہو۔ “ اگر تم واقعی اللہ کے محبوب اور دوست ہو تو تمہیں اپنے دوست سے وصل کی تمنا ہونی چاہیے اور یہ تمنا چونکہ موت کے ذریعے پوری ہوسکتی ہے اس لیے تمہارے دلوں میں ہر وقت موت کی خواہش موجزن رہنی چاہیے۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورة البقرۃ (آیات ٩٤ ‘ ٩٥ ‘ ٩٦) میں بھی آچکا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10 This point is noteworthy. It has not been said: "O Jews". but "O you who have became Jcws, or who have adopted Judaism", the reason being that the way of life brought by the Prophet Moses (peace be on him) and the Prophets after and before him, was Islam itself. None of those Prophets was a Jew, nor bad judaism been born in their time, but Judaism as such came into being much later. It is ascribed to the tribe which descended from Judah, the fourth son of the Prophet Jacob (peace be upon him) . When after the Prophet Solomon (peace be upon him 1 his kingdom broke into two parts, this tribe became ruler over the state which came to be known as Judaea. The other tribes of the Israelites established their separate state which became famous as Samaria. Then Assyria not only destroyed Samaria but also wiped out those Israelite tribes which had founded that state. After that only the decedents of Judah besides those of Benjamin remained. Who because of the predominance of the descendents of Judah, began to be called the "Jcws" . Judaism is the name of the framework of the doctrines, customs, and religious rules and regulations which the priests, rabbis and Iearned men'of this race prepared according to their own ideas, theories and trends for many centuries. This framework started being shaped in the 4th century B.C. and continued to develop till the 5th century A.D. It contains a very small element of the Divine guidance brought by the Messengers of AIIah, and even that element has been corrupted That is why at many places in the Qur'an they have been addressed as alladhina hadu "O you who have become Jews". AII of these were not the Israelites but there were among them also converts who had embraced .ludaism. .Whenever in the Qur'an the children of Israel have been addressed, the words «sad are: "O children of Israel", and where the followers of Judaism have been addressed, the words are; alladhina hadu "O you who have become Jews" . 11 At several places in the Qur'an their claim has been described in detail, as in AI Baqarah: 111: "They say: none shall enter Paradise unless he be a Jew', in AI-Baqarah: 80: "The fire of Hell is not going to touch us, and even if it does at aII, it will be only for a few days', and in AI-Ma'idah: 18: "We are the sons of AIIah and His beloved ones." Sane such claims arc also found in the books of the Jews themselves The world at least knows that they regard there. selves as the chosen people of God, and cherish the false notion that Cod has a special relationship with them, which is not shared by any other human group or class. 12 This has been stated for the second time in the Qur'an, addressing the .lews First, in Al-Baqarah: 94-96, it was said: "Say to them: If the abode of the Hereafter with AIIah is exclusively reserved for you and Trot for the rest of mankind, then you should long for death, if you are sincere in your claim. Believe it that they will never wish for it, for (they arc fully aware of) what they have sent before them for the Hereafter. And Allah knows well the mentality of the transgressors. You will find that of aII mankind, they are the greediest for life; any they are even greedier than the idolators. Each one of them longs to have a life of a thousand years, but a long life can by no means remove them away from the Doom, for AIIah is watching whatever they are doing." Now the same thing has been repeated here. But this is not a mere repetition. In the verses of Al-Baqarah, it was said when no war had yet take place between the Muslims and the Jews. In this Surah it was reiterated at the time when after several battles their power in Arabia had been finally and absolutely, crushed. These battles and their results proved by experience and observation that what had been said in AI-Baqarah was correct. In Madinah and Khaiber the Jewish strength was much superior to that of the Muslims both in numbers and in resources. Then they had the pagans of Arabia and the hypocrites of Madinah also as their allies who were bent upon wiping out the Muslims. But in spite of this great disparity in numbers the Muslims overwhelmed the Jews mainly because they were least afraid of dying for the cause of Allah; they were rather fond of it, and would enter the battlefield fully prepared to embrace death. For they believed that they were fighting in the way of God and had complete faith that the one who fell martyr in His way would be blessed with Paradise. Contrary to this, the Jews were not prepared to fight and lay down their life for any cause, neither the cause of God, nor the cause of their nation nor for their own self, properties and honour. They only loved to live, in whatever way or fashion it be. T his had made them cowardly.

سورة الْجُمُعَة حاشیہ نمبر :10 یہ نکتہ قابل توجہ ہے ۔ اَے یہودیو نہیں کہا ہے بلکہ اَے وہ لوگو جو یہودی بن گئے ہو یا جنہوں نے یہودیت اختیار کر لی ہے فرمایا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل دین جو موسیٰ علیہ السلام اور ان سے پہلے اور بعد کے انبیاء لائے تھے وہ تو اسلام ہی تھا ۔ ان انبیاء میں سے کوئی بھی یہودی نہ تھا ، اور نہ ان کے زمانے میں یہودیت پیدا ہوئی تھی ۔ یہ مذہب اس نام کے ساتھ بہت بعد کی پیداوار ہے ۔ یہ اس خاندان کی طرف منسوب ہے جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے چوتھے بیٹے یہوداہ کی نسل سے تھا ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد جب سلطنت دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی تو یہ خاندان اس ریاست کا مالک ہوا جو یہودیہ کے نام سے موسوم ہوئی ، اور بنی اسرائیل کے دوسرے قبیلوں نے اپنی الگ ریاست قائم کر لی جو سامِریہ کے نام سے مشہور ہوئی ۔ پھر اسیریا نے نہ صرف یہ کہ سامریہ کو برباد کردیا بلکہ ان اسرائیلی قبیلوں کا بھی نام و نشان مٹادیا جو اس ریاست کے بانی تھے ۔ اس کے بعد صرف یہوداہ ، اور اس کے ساتھ بن یامین کی نسل باقی رہ گئی جس پر یہوداہ کی نسل کے غلبے کی وجہ سے یہود ہی کے لفظ کا اطلاق ہونے لگا ۔ اس نسل کے اندر کاہنوں اور ربیوں اور احبار نے اپنے اپنے خیالات و نظریات اور رجحانات کے مطابق عقائد اور رسوم اور مذہبی ضوابط کا جو ڈھانچہ صدہا برس میں تیار کیا اس کا نام یہودیت ہے ۔ یہ ڈھانچا چوتھی صدی قبل مسیح سے بننا شروع ہوا اور پانچویں صدی عیسوی تک بنتا رہا ۔ اللہ کے رسولوں کی لائی ہوئی ربانی ہدایت کا بہت تھوڑا ہی عنصر اس میں شامل ہے ۔ اور اس کا حلیہ بھی اچھا خاصا بگڑ چکا ہے ۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں اکثر مقامات پر ان کو الَّذِیْنَ ھَادُوْا کہہ کر خطاب کیا گیا ہے ، یعنی اے وہ لوگو جو یہودی بن کر رہ گئے ہو ۔ ان میں سب کے سب اسرائیل ہی نہ تھے ، بلکہ وہ غیر اسرائیلی بھی تھے جنہوں نے یہودیت قبول کر لی تھی ۔ قرآن میں جہاں بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا ہے وہاں اے بنی اسرائیل کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، اور جہاں مذہب یہود کے پیروؤں کو خطاب کیا گیا ہے وہاں اَلَّذِیْنَ ھَادُوْا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ سورة الْجُمُعَة حاشیہ نمبر :11 قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ان کے اس دعوے کی تفصیلات دی گئی ہیں ۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ یہودیوں کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہو گا ( البقرہ ۔ 111 ) ہمیں دوزخ کی آگ ہرگز نہ چھوئے گی ، اگر ہم کو سزا ملے گی بھی تو بس چند روز ( البقرہ ۔ 80 ، آل عمران ۔ 24 ) ۔ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ( المائدہ ۔ 18 ) ایسے ہی کچھ دعوے خود یہودیوں کی اپنی کتابوں میں بھی ملتے ہیں ۔ کم از کم یہ بات تو ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کی بر گزیدہ مخلوق ( Chosen People ) کہتے ہیں اور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ خدا کا ان کے ساتھ ایک خاص رشتہ ہے جو کسی دوسرے انسانی گروہ سے نہیں ہے ۔ سورة الْجُمُعَة حاشیہ نمبر :12 یہ بات قرآن مجید میں دوسری مرتبہ یہودیوں کو خطاب کر کے کہی گئی ہے ۔ پہلے سورہ بقرہ میں فرمایا گیا تھا ان سے کہو ، اگر آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے اللہ کے ہاں مخصوص ہے تو پھر تم موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو ۔ لیکن یہ ہرگز اس کی تمنا نہ کریں گے اپنے ان کرتوتوں کی وجہ سے جو یہ کر چکے ہیں ، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے ۔ بلکہ تم تمام انسانوں سے بڑھ کر ، حتیٰ کہ مشرکین سے بھی بڑھ کر ان کو کسی نہ کسی طرح جینے کا حریص پاؤ گے ۔ ان میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ ہزار برس جیے ، حالانکہ وہ لمبی عمر پائے تب بھی اسے یہ چیز عذاب سے نہیں بچا سکتی ۔ ان کے سارے کرتوت اللہ کی نظر میں ہیں ( آیات 94 ۔ 96 ) اب اسی بات کو پھر یہاں دہرایا گیا ہے ۔ لیکن یہ محض تکرار نہیں ہے ۔ سورہ بقرہ والی آیات میں یہ بات اس وقت کہی گئی تھی جب یہودیوں سے مسلمانوں کی کوئی جنگ نہ ہوئی تھی ۔ اور اس سورۃ میں اس کا اعادہ اس وقت کیا گیا ہے جب ان کے ساتھ متعدد معرکے پیش آنے کے بعد عرب میں آخری اور قطعی طور پر ان کا زور توڑ دیا گیا ۔ ان معرکوں نے اور ان کے اس انجام نے وہ بات تجربے اور مشاہدے سے ثابت کر دی جو پہلے سورہ بقرہ میں کہی گئی تھی ۔ مدینے اور خیبر میں یہودی طاقت بلحاظ تعداد مسلمانوں سے کسی طرح کم نہ تھی ، اور بلحاظ وسائل ان سے بہت زیادہ تھی ۔ پھر عرب کے مشرکین اور مدینے کے منافقین بھی ان کی پشت پر تھے اور مسلمانوں کو مٹانے پر تلے ہوئے تھے ۔ لیکن جس چیز نے اس نامساوی مقابلے میں مسلمانوں کو غالب اور یہودیوں کو مغلوب کیا وہ یہ تھی کہ مسلمان راہ خدا میں مرنے سے خائف تو درکنار ، تہ دل سے اس کے مشتاق تھے اور سر ہتھیلی پر لیے ہوئے میدان جنگ میں اترتے تھے ۔ کیونکہ انہیں اس بات کا یقین تھا کہ وہ خدا کی راہ میں لڑ رہے ہیں ، اور وہ اس بات پر بھی کامل یقین رکھتے تھے کہ اس راہ میں شہید ہونے والے کے لیے جنت ہے ۔ اس کے بر عکس یہودیوں کا حال یہ تھا کہ وہ کسی راہ میں بھی جان دینے کے لیے تیار نہ تھے ، نہ خدا کی راہ میں ، نہ قوم کی راہ میں ، نہ خود اپنی جان اور مال اور عزت کی راہ میں ۔ انہیں صرف زندگی درکار تھی ، خواہ وہ کیسی ہی زندگی ہو ۔ اسی چیز نے ان کو بزدل بنا دیا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

5: یہی بات سورۃ بقرہ (۲:۹۵) میں بھی فرمائی گئی ہے۔ یہ بہت آسان چیلنج تھا جو یہودیوں کو دیا گیا تھا، ان کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ سامنے آ کر یہ کہہ دیں کہ ہم موت کی تمنا کرتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی یہ کہنے کے لئے آگے نہیں بڑھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے دیا ہوا چیلنج ہے، اس لئے جونہی وہ یہ تمنا کریں گے، واقعی انہیں موت آجائے گی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(62:6) قل : ای قیل یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ یایھا الذین : یا حرف نداء ہے جو قریب ، بعید، اوسط، سب کی نداء کے لئے موضوع ہے۔ ایھاوای تھا پر اکثر و بیشتر یہی حرف نداء آتا ہے ۔ نداء میں جب منادی پر ال داخل ہو تو مذکر میں ایھا اور مؤنث میں ایتھا بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہاں منادی الذین (اسم موصول) ہے۔ ھادوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ھود (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پشیمان ہونا۔ حق کی طرف لوٹنا۔ یہودی ہونا۔ یہاں مراد یہودی ہوئے ۔ بچھڑے ہوئے۔ بچھڑے کی پوجا سے توبہ کی تھی اس لئے یہود کہلائے۔ قرآن مجید میں ان لوگوں کو جنہوں نے یہودیت قبول کرلی تھی خواہ وہ بنی اسرائیل تھے یا نہیں الذین ھادوا کے الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے جبکہ جہاں بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا ہے وہاں الفاظ ینبی اسرائیل استعمال ہوئے ہیں۔ ان زعمتم ۔۔ من دون الناس۔ جملہ شرط ہے ان نافیہ زعمتم ماضی جمع مزکر حاضر۔ زعم (باب نصر) مصدر۔ تم نے سمجھا۔ تم نے دعوی کیا۔ انکم بیشک تم۔ ان حرف مشبہ بالفعل کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ اولیاء للہ : اللہ کے دوست، اللہ کے پیارے۔ یہاں اولیاء اللہ استعمال کیا ہے تاکہ مدعی ولایت اور وہ جسے اللہ نے اپنی ولایت کے لئے مختص کردیا ہو، فرق واضح ہوجائے۔ من دون الناس : من حرف جار۔ دون الناس مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر۔ یہ ان کے اسم کی ضمیر کی طرف راجع ہے اور اس سے حال ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کہہ دیجئے ! اے لوگو ! جو یہودی ہوگئے ہو اگر تم سمجھتے ہو کہ لوگوں کو چھوڑ کر (صرف) تم ہی اللہ کے پیارے ہو ۔۔ فتمنوا الموت : جملہ جواب شرط ہے ف جواب شرط کے لئے ہے۔ تمنوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تمنی (تفعل) مصدر۔ الموت مفعول بہ۔ تو موت کی تمنا کرو، موت کی آرزو کرو۔ یعنی تم جو کہتے ہو کہ صرف ہم ہی اللہ کے دوست ہیں اور یہ کہ اللہ کے بیٹے اور لاڈلے ہیں اور یہ کہ صرف اہی جنت میں داخل ہوسکے گا یہودی ہوگا تو اس دنیا کے صعوبتوں سے رہائی پانے کے لئے کیوں نہیں موت کی التجاء کرتے کہ جلدی ہی اگلے جہاں کو جاکر جنت میں داخل ہوکر عیش و عشرت کی زندگی بسر کرسکو۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :۔ والذی نفس محمد بیدہ لو تمنوا الموت مابقی علی ظھرھا یھودی الامات۔ تو اس ذوت کی قسم جس کی قدرت میں میری جان ہے اگر وہ موت کی تمنا کرتے تو ان میں سے ایک بھی زندہ نہ رہتا۔ (ضیاء القرآن) ان کنتم صدقین : جملہ شرطیہ ہے جس کا جواب شرط محذوف ہے ای ان کنتم صدقین فتمنوا الموت اذا۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو موت کی آرزو کرو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ اسے مرنے کے بعد جنت نصیب ہوگی وہ لازماً یہ چاہے گا کہ دنیا کے جھنجھٹ سے جلد از جلد نجات پائے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جن لوگوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اور ظالم ہوئے ان میں سر فہرست یہودی ہیں۔ اس لیے انہیں ایک بار پھر براہ راست مخاطب کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو یہودی کہہ کر مخاطب نہیں کیا بلکہ انہیں ” ھَادُوْ “ کے الفاظ سے مخاطب کیا ہے جس کا معنٰی ہے کہ اے لوگو ! جو یہودی بن چکے ہو اگر تمہیں اس بات کا خیال ہے کہ تم اللہ کے چہیتے ہو تو پھر موت کی تمنا کرو بشرطیکہ تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ لیکن یہ لوگ موت کی تمنا ہرگز نہیں کریں گے کیونکہ یہ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں، یہ اپنے مظالم کو بھول سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ظالموں کے ایک ایک ظلم کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے فرمائیں کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تمہیں آکر رہے گی پھر تم اس ذات کے سامنے پیش کیے جاؤ گے جو پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے۔ وہ تمہیں بتائے گا کہ تم دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ (المائدۃ : ١٨) اسی بنا پر یہودی یہ کہتے ہیں کہ ہم چند دن کے لیے جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ (البقرۃ : ٨٠) یہاں تک موت کی تمنا کرنے کا مسئلہ ہے نہ کوئی موت کی تمنا کرتا ہے اور نہ کسی کو کرنی چاہیے لیکن یہودیوں کو یہ بات اس لیے کہی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے چہیتے اور جنت کے مالک سمجھتے ہیں۔ جس شخص کو یہ یقین ہے کہ وہ اپنے رب کا چہیتا اور جنت اس کی اپنی ہے تو اسے موت سے گھبرانے کی بجائے اپنے مشن کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دینی چاہیے۔ لیکن یہودی دنیا کی خاطر نہ صرف اپنے دین کو فروخت کرتے ہیں بلکہ اپنی عزت کا سودا کرنے سے بھی باز نہیں آتے، دنیا کی حرص کی وجہ سے ان کا اللہ اور آخرت پر حقیقی ایمان نہیں جس وجہ سے وہ سب سے زیادہ موت سے ڈرتے ہیں حالانکہ موت سے بھاگنے والا اس سے بچ نہیں سکتا اور نہ ہی وہ اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ سے چھپا سکتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے غائب اور ظاہر کو جانتا ہے، وہ قیامت کے دن لوگوں کو بتلائے گا کہ جو وہ دنیا میں عمل کرتے رہے۔ (اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِہِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا قُلْ فَادْرَءُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (آل عمران : ١٦٨) ” یہ وہ لوگ ہیں جو خود بھی بیٹھے رہے اور اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے۔ فرما دیجئے اگر تم سچے ہو تو اپنے آپ سے موت ہٹا کر دکھاؤ۔ “ (اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ۔۔ ) (النساء : ٧٨) ” تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں پالے گی۔ چاہے تم مضبوط قلعوں میں بند ہوجاؤ۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ أَنَّہَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْمَدِینَۃَ وُعِکَ أَبُو بَکْرٍ وَ بلاَل (رض) قَالَت فَدَخَلْتُ عَلَیْہِمَا فَقُلْتُ یَا أَبَتِ کَیْفَ تَجِدُکَ وَیَا بلاَلُ کَیْفَ تَجِدُکَ قَالَتْ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ إِذَا أَخَذَتْہُ الْحُمَّی یَقُولُ کُلُّ امْرِءٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ ) (رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی وَبَاءِ الْمَدِینَۃِ ) ” ام المؤمنین حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے تو حضرت ابوبکر اور بلال (رض) کو شدید بخار ہوگیا حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں ان کے ہاں گئی اور ان کی تیماداری کی۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ ہر انسان اپنے گھر میں صبح کرتا ہے اور موت جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔ “ (عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَمَنْ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ قَالَتْ عَاءِشَۃُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِہٖ إِنَّا لَنَکْرَہُ الْمَوْتَ قَالَ لَیْسَ ذَاکِ وَلٰکِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَان اللّٰہِ وَکَرَامَتِہِ فَلَیْسَ شَیْءٌ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ فَأَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ وَأَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَاب اللّٰہِ وَعُقُوبَتِہٖ فَلَیْسَ شَیْءٌ أَکْرَہَ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ وَکَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ ) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب، من أحب لقاء اللّٰہ أحَب اللّٰہ لقاء ہ) ” حضرت عبادہ بن صامت (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ (رض) یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں میں سے کسی ایک نے کہا کہ ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بات یہ نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو اس کو اللہ کی رضامندی اور انعام و اکرام کی بشارت دی جاتی ہے۔ اس بشارت کی وجہ سے موت اسے تمام چیزوں سے زیادہ عزیز ہوتی ہے اس وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب کی وعید سنائی جاتی ہے۔ یہ وعید اسے اپنے گردو پیش کی تمام چیزوں سے ناپسند ہوتی ہے اسی وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ “ مسائل ١۔ یہودیوں کا دعویٰ جھوٹا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہیں۔ اپنے دعوے میں جھوٹے ہونے کی وجہ سے یہودی تمام لوگوں کی نسبت موت سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ ٢۔ کوئی موت سے بھاگے یا نہ بھا گے موت ہر صورت اسے آلے گی۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے غائب اور ظاہر کو جانتا ہے وہ قیامت کے دن لوگوں کو بتلائے گا جو وہ دنیا میں عمل کیا کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن موت ایک حقیقت ہے جس سے کوئی بچ نہیں سکتا : ١۔ ہر شے فنا ہوجائے گی۔ (الرحمن : ٢٦، القصص : ٨٨) ٢۔ قلعہ بند ہونے کے باوجود موت نہیں چھوڑتی۔ (النساء : ٧٨) ٣۔ موت کی جگہ اور وقت مقرر ہے۔ (الاعراف : ٣٤) ٤۔ پہلے انبیاء فوت ہوئے۔ (آل عمران : ١٤٤) ٥۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی موت سے ہمکنار ہوں گے (اور ہوئے) ۔ (الزمر : ٣٠) ٦۔ موت کا وقت مقرر ہے۔ (آل عمران : ١٤٥) ٧۔ موت کی جگہ متعین ہے۔ (آل عمران : ١٥٤) ٨۔ موت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ (آل عمران : ١٦٨) ٩۔ سب کو موت آنی ہے۔ (الانبیاء : ٣٥) ١٠۔ ” اللہ “ نے کسی بشر کو ہمیشہ رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا۔ ( الانبیاء : ٣٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل یایھا الذین .................... کنتم تعملون (٨) (٢٦ : ٦ تا ٨) ” ان سے کہو ، ” اے لوگو جو یہودی بن گئے ہو ، اگر تمہیں یہ گھمنڈ ہے کہ باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر بس تم ہی اللہ کے چہیتے ہو تو موت کی تمناکرو۔ اگر تم اپنے اس زعم میں سچے ہو “۔ لیکن یہ ہرگز اس کی تمنا نہ کریں گے اپنے ان کرتوتوں کی وجہ سے جو یہ کرچکے ہیں ، اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ ان سے کہو ” جس موت سے تم بھاگتے ہو ، وہ تو تمہیں آکر رہے گی۔ پھر تم اس کے سامنے پیش کیے جاﺅ گے جو پوشیدہ وظاہر کا جاننے والا ہے ، اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو “۔ مباہلہ کے معنی یہ ہیں کہ فریقین آمنے سامنے کھڑے ہوجائیں اور دونوں مل کر دعا کریں کہ اے اللہ ہم دونوں میں سے جو برسرباطل ہے ، اسے ہلاک کردے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جن جن لوگوں کو مباہلہ کے لئے دعوت دی وہ ڈر کر سامنے نہیں آئے۔ کسی نے بھی حضور اکرم کی دعوت مباہلہ قبول نہیں کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے دل ہی دل میں اسلام کی حقانیت کے قائل تھے۔ وہ جانتے تھے کہ رسول اللہ سچے ہیں اور یہ دین حقیقی دین ہے۔ امام احمد نے روایت کی ہے اسماعیل ابن یزید زرقی سے ، انہوں نے ابو یزید سے ، انہوں نے فرات سے ، انہوں نے عبدالکریم ابن مالک جزری سے ، انہوں نے عکرمہ سے ، انہوں نے ابن عباس (رض) سے کہ ابوجہل ملعون نے یہ کہا کہ اگر میں نے محمد کو خانہ کعبہ میں دیکھا تو میں اس پر حملہ کردوں گا یہاں تک کہ میں اس کی گردن دبادوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اس نے ایسا کیا ہوتا تو فرشتے اسے اعلانیہ پکڑ لیتے اور اگر یہودی موت کی تمنا کرتے تو وہ مرجاتے۔ اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے کہ جہنم میں ان کے مقامات کیا ہیں اور جن لوگوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعوت مباہلہ دی تھی اگر وہ نکلتے تو جب واپس آتے تو نہ ان کا مال ہوتا اور نہ ان کے اہل و عیال موجود ہوتے۔ (بخاری ، ترمذی) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ آیت ان کے لئے مباہلے کا چیلنج نہ ہو ، محض چیلنج ہو۔ کیونکہ ان کا زعم تھا کہ وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اللہ کے محبوب اور دوست ہیں تو کیوں نہیں جلدی کرتے کہ اللہ کے ہاں انعامات پائیں۔ دوست تو دوست کی ملاقات کے لئے بےتاب ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان کے اس دعوے پر تبصرہ کیا گیا کہ یہ جھوٹے ہیں اور جو دعویٰ کر رے ہیں ان میں وہ سچے نہیں ہیں۔ ان کو یہ یقین نہیں ہے کہ انہوں نے دنیا میں آخرت کے لئے کوئی اچھا عمل کیا ہے ، جس پر ان کو اجروثواب ملنے والا ہے۔ انہوں نے تو برے کام ہی آگے بھیجے ہیں ، جن کی وجہ سے وہ موت سے بہت ڈرتے ہیں۔ اور جس شخص کے پاس زاد راہ نہ ہو ، وہ سفر پر نہیں نکلتا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں کا اپنے بارے میں یہ گمان تھا کہ ہم اللہ کے دوست ہیں اور ہمارے سوا اللہ کا کوئی دوست نہیں بلکہ یوں کہتے تھے کہ ﴿نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ ١ؕ﴾ (ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں) اور یوں بھی کہتے تھے کہ دارالآخرۃ صرف ہمارے لئے ہے ان کی ان باتوں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿قُلْ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِيَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ٠٠٦﴾ (آپ فرما دیجئے کہ اے یہودیو اگر تم نے یہ خیال کیا ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو دوسرے لوگ اس دوستی میں شریک نہیں تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو) مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں پکا یقین ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے اولیاء ہو اور اس میں کسی دوسرے کی شرکت نہیں ہے تو اس دنیا والی زندگی میں کیوں تکلیفیں اٹھا رہے ہو، اگر اپنے کو حق پر سمجھتے ہو اور یہ خیال کرتے ہو کہ مرتے ہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے تو تمہیں جلد از جلد مرجانا چاہیے تاکہ دنیا چھٹے اور جنت ملے جبکہ تم جانتے اور مانتے ہو کہ جنت کی زندگی اس دنیا کی زندگی سے بہت زیادہ بہتر ہے۔ تمہیں جلد سے جلد مر کر جنت کے لئے فکر مند ہونا چاہئے اگر یوں کہو کہ موت کا لانا اپنے قبضہ میں نہیں ہے تو موت کی تمنا ہی کر کے دکھا دو اگر تم اپنے عقیدہ میں سچے ہو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ ” قل یا ایہا الذین ھادوا “ یہ یہود کو دعوت مباہلہ ہے تم خاتم النبیین کی بعثت سے پہلے فخر کیا کرتے تھے اب وہی رسول آگیا ہے، تو محض اپنی دنیوی ریاست کے تحفظ کی خاطر اس پر ایمان نہیں لاتے ہو، اور دعوی کرتے ہو کہ تم ہی حق پر ہو اور تم اللہ کے محبوب اور برگزیدہ بندے ہو تو آؤ مباہلہ کرلو۔ دونوں فریق ایک کھلے میدان میں نکل کر ایک دوسرے پر بد دعا کریں کہ اللہ جھوٹے کو ہلاک کردے۔ مگر یہود مباہلہ کے لیے ہرگز تیار نہ ہوں گے۔ کیونکہ انہیں پانے کرتوت معلوم ہیں، اور وہ خوب جانتے ہیں کہ اگر پیغمبر (علیہ السلام) کے مقابلہ میں مباہلہ کے لیے نکلے تو ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکے گا۔ فادعوا بالموت علی الضال من الفئتین ان کنتم صدقین (ابن کثیر ج 4 ص 364) ۔ سورة بقرہ میں اس سے ملتی جلتی ایک آیت گذر چکی ہے۔ ” قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ۔ الایۃ “ (بقرہ رکوع 11) ۔ اس آیت کی تفسیر میں تمنی موت سے مباہلہ کا مراد ہونا خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے۔ ملاحظہ تفسیر ابن جریر ج 1 ص 424 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بھی یہی تفسیر کرتے ہیں۔ ای ادعوا بالموت علی ای الفریقین اکذب (ابن جریر ج 1 ص 425) ۔ اسی طرح امام قتادہ، ابو العالیہ اور ربیع بن انس سے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ یہی تفسیر متعین ہے۔ ثم ھذا الذی فسر بہ ابن عباس الایۃ ھو المتعین وھو الدعاء علی ای الفریقین اکذب منہم او من المسلمین علی وجہ المباھلۃ ونقلہ ابن جریر عن قتادۃ وابی العالیۃ والربیع بن انس رحمہم اللہ تعالیٰ (ابن کثیر ج 1 ص 127) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) اے پیغمبر آپ ان یہود سے فرمائیے اے یہودیو اور اے یہود ہونے والو ! اگر تم کو یہ دعویٰ ہے کہ اور سب لوگوں کے علاوہ تم ہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہو تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ یعنی بےعمل کی یہ حالت کہ توریت کے احکام کی صریح خلاف ورزی کے مرتکب ہو اور دعویٰ یہ کرتے ہو کہ نحن ابنوا اللہ واحیاوہ اور لن تمسسنا النار الا ایاما معدودۃ اور لن یدخل الجنۃ الا من کان دودا او نصاریٰ ۔ غرض یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کی نگاہ محبت والفت اور بخشش میں تم ہی تم ہو کوئی دوسرا یعنی مسلمان اور اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے مستحق ہی نہیں ہیں تو تم موت کی تمنا کرو جیسا کہ عاشقین الٰہی کا دستور ہے کہ وہ موت کو پسند کرتے ہیں اور موت سے گھبراتے نہیں جیسا کہ ہم سورة بقرہ میں اس پر سیر حاصل بحث کرچکے ہیں اور بتاچکے ہیں کہ لقائے الٰہی کے شوق میں موت کی تمنا مذموم نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس کو معلوم ہو کہ مجھ کو اللہ کے ہاں درجہ ہے اور خطرہ نہیں تو بیشک وہ مرنے سے خوش ہو اور نہ ڈرے۔ خلاصہ : یہ کہ اگر تم اس دعوے میں سچے ہو تو تم موت کی تمنا کرو اور مرنے کے نام پر خوشی کا اظہار کرو لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ اس کو آگے بیان فرمایا۔