Surat ut Taghabunn

Surah: 64

Verse: 12

سورة التغابن

وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۲﴾

And obey Allah and obey the Messenger; but if you turn away - then upon Our Messenger is only [the duty of] clear notification.

۔ ( لوگو ) اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو ۔ پس اگر تم اعراض کرو تو ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ... Obey Allah, and obey the Messenger; Allah commands obedience to Him and to His Messenger in all that His legislates and in implementing His orders. Allah also forbids one from all that His Messenger forbids and prohibits. Allah the Exalted said, ... فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلَإغُ الْمُبِينُ but if you turn away, then the duty of Our Messenger is only to convey clearly. meaning, `if you refrain from abiding by the faith, then the Messenger's mission is to convey and your mission is to hear and obey. Az-Zuhri said, "From Allah comes the Message, its deliverance is up to the Messenger, and the adherence is up to us." Tawhid Allah states that He is the One, Whom all creations need and seek, the One other than Whom there is no (true) God. اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُوْمِنُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

12۔ 1 یعنی ہمارے رسول کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ اس کا کام صرف تبلیغ ہے۔ امام زہری فرماتے ہیں، اللہ کا کام رسول بھیجنا ہے، رسول کا کام تبلیغ اور لوگوں کا کام تسلیم کرنا ہے (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ وَ اَطِیْعُوا اللہ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ : سلسلہ کلام کے مطابق مطلب یہ ہے کہ مصیبت آنے پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ نہ موڑو ، بلکہ تمام حالات میں ، اچھے ہوں یا برے ، اللہ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو ۔ ” اطیعوا “ کو ” الرسول “ کے ساتھ دوبارہ لانے سے ظاہر ہے کہ جس طرح اللہ کا حکم مستقل شریعت ہے اسی طرح رسول کا حکم بھی مستقل شریعت ہے ، دونوں میں سے کسی کی مخالفت کی گنجائش نہیں ۔ دوسرے لوگ جن کا حکم مانا جاتا ہے وہ یہ مقام نہیں رکھتے ، ان کا وہی حکم مانا جائے گا جو کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو ۔ اس نکتے کی وضاحت سورة ٔ نساء کی آیت (٥٩) :(وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ) سے ہوتی ہے کہ ” اولی الامر “ کے ساتھ ” اطیعوا “ کو دوبارہ نہیں لایا گیا ۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ نسائ ( ٥٩) کی تفسیر۔ ٢۔ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْن : پھر اگر مصیبتوں سے گھبرا کر تم نے اطاعت سے منہ موڑ لیا تو اپنا ہی نقصان کرو گے ، ہمارے رسول کے ذمے صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام صاف صاف تم تک پہنچا دیں ، سو وہ اس نے پہنچا دیے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ۝ ٠ ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ۝ ١٢ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ بَلَاغ : التبلیغ، نحو قوله عزّ وجلّ : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] ، وقوله عزّ وجلّ : بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35] ، وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] ، فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] . والبَلَاغ : الکفاية، نحو قوله عزّ وجلّ : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] ، وقوله عزّ وجلّ : وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ [ المائدة/ 67] ، أي : إن لم تبلّغ هذا أو شيئا مما حمّلت تکن في حکم من لم يبلّغ شيئا من رسالته، وذلک أنّ حکم الأنبیاء وتکليفاتهم أشدّ ، ولیس حكمهم كحكم سائر الناس الذین يتجافی عنهم إذا خلطوا عملا صالحا وآخر سيئا، وأمّا قوله عزّ وجلّ : فَإِذا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ [ الطلاق/ 2] ، فللمشارفة، فإنها إذا انتهت إلى أقصی الأجل لا يصح للزوج مراجعتها وإمساکها . ويقال : بَلَّغْتُهُ الخبر وأَبْلَغْتُهُ مثله، وبلّغته أكثر، قال تعالی: أُبَلِّغُكُمْ رِسالاتِ رَبِّي [ الأعراف/ 62] ، وقال : يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ [ المائدة/ 67] ، وقال عزّ وجلّ : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ ما أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ [هود/ 57] ، وقال تعالی: بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عاقِرٌ [ آل عمران/ 40] ، وفي موضع : وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا [ مریم/ 8] ، وذلک نحو : أدركني الجهد وأدركت البلاغ ۔ کے معنی تبلیغ یعنی پہنچا دینے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] یہ ( قرآن ) لوگوں کے نام ( خدا ) پیغام ہے ۔ بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35]( یہ قرآن ) پیغام ہے سود اب وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے ۔ وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے ۔ فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] تمہارا کام ہمارے احکام کا ) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے ۔ اور بلاغ کے معنی کافی ہونا بھی آتے ہیں جیسے : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں ( خدا کے حکموں کی ) پوری پوری تبلیغ ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ [ المائدة/ 67] اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ اگر تم نے یہ یا کوئی دوسرا حکم جس کا تمہیں حکم جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے نہ پہنچا یا تو گویا تم نے وحی الٰہی سے ایک حکم کی بھی تبلیغ نہیں کی یہ اس لئے کہ جس طرح انبیاء کرام کے درجے بلند ہوتے ہیں اسی طرح ان پر احکام کی بھی سختیاں ہوتی ہیں اور وہ عام مومنوں کی طرح نہیں ہوتے جو اچھے اور برے ملے جلے عمل کرتے ہیں اور نہیں معاف کردیا جاتا ہے اور آیت کریمہ : فَإِذا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ [ الطلاق/ 2] پھر جب وہ اپنی میعاد ( یعنی انقضائے عدت ) کو پہنچ جائیں تو ان کو ( زوجیت میں ) رہنے دو ۔ میں بلوغ اجل سے عدت طلاق کا ختم ہونے کے قریب پہنچ جا نامراد ہے ۔ کیونکہ عدت ختم ہونے کے بعد تو خاوند کے لئے مراجعت اور روکنا جائز ہی نہیں ہے ۔ بلغتہ الخبر وابلغتہ کے ایک ہی معنی ہیں مگر بلغت ( نفعیل ) زیادہ استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : أُبَلِّغُكُمْ رِسالاتِ رَبِّي [ الأعراف/ 62] تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں ۔ يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ [ المائدة/ 67] اے پیغمبر جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ ما أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ [هود/ 57] 1. اگر تم رو گردانی کردگے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ می نے تمہیں پہنچا دیا ہے ۔ 2. اور قرآن پاک میں ایک مقام پر : بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عاقِرٌ [ آل عمران/ 40] 3. کہ میں تو بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ۔ آیا ہے یعنی بلوغ کی نسبت کبر کی طرف کی گئی ہے ۔ اور دوسرے مقام پر ۔ وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا [ مریم/ 8] 4. اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں ۔ ہے یعنی بلوغ کی نسبت متکلم کی طرف ہے اور یہ ادرکنی الجھد وادرکت الجھد کے مثل دونوں طرح جائز ہے مگر بلغنی المکان یا ادرکنی کہنا غلط ہے ۔ مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جهگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

فرائض میں اللہ تعالیٰ کی، سنن میں رسول کی یا یہ کہ توحید میں اللہ کی اور قبولیت میں رسول کی اطاعت کرو سو اگر تم ان دونوں کی اطاعت سے اعراض کرو گے تو محمد کے ذمہ تو منصب رسالت کو صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢{ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ } ” اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی۔ “ { فَاِنْ تَوَلَّــیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۔ } ” پھر اگر تم نے پیٹھ موڑ لی تو جان لو کہ ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمے تو صرف صاف صاف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ “ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے احکام لوگوں تک پہنچا کر اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے ۔ ان احکام کے بارے میں اب ہر کوئی خود جواب دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کے مقابلے میں اب کسی انسان کی دلیل بازی نہیں چلے گی۔ جیسے سود کی حرمت کا حکم سن کر بعض لوگوں نے کہا تھا : { اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ٧} کہ کاروبار کا منافع بھی تو ربا (سود) ہی کی مانند ہے ! ایسے لوگوں کو واضح طور پر بتادیا گیا کہ : { وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰواط } (البقرۃ : ٢٧٥) کہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے۔ اب بھلا تم کون ہو اللہ کے واضح حکم کے بعد اپنی منطق بگھارنے والے ؟ اگر تم اللہ کو مانتے ہو ‘ اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مانتے ہو ‘ اس کے قرآن کو مانتے ہو تو پھر اللہ ‘ اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے احکامات کے مقابلے میں تمہاری کوئی دلیل نہیں چلے گی۔ تمہیں سب احکام بےچون و چرا تسلیم کرنے ہوں گے ۔ بقولِ اکبر الٰہ آبادی : ؎ رضائے حق پر راضی رہ ‘ یہ حرفِ آرزو کیسا ! خدا خالق ‘ خدا مالک ‘ خدا کا حکم ‘ تو کیسا ؟ اور اگر نہیں مانتے ہو تو سیدھی طرح اقرار کرو کہ ہم نہیں مانتے۔ بس تمہارے پاس یہی دو راستے ہیں ‘ یا تو اطاعت و فرمانبرداری کی روش اپنائو یا پھر اس کے در سے اٹھ کر چلے جائو ! (either obey or go away) ۔ تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

27 In view of the context, it means: "Whatever the circumstances. good or bad. you should remain steadfast to obedience to Allah and His Messenger. But if under the pressure of hardships you turned away from obedience, you would only harm your own selves. The only responsibility of Our Messenger was to guide you to the right path, which the Messenger has fulfilled in the best way possible. "

سورة التَّغَابُن حاشیہ نمبر :27 سلسلہ کلام کے لحاظ سے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اچھے حالات ہوں یا برے حالات ، ہر حال میں اللہ اور رسول کی اطاعت پر قائم رہو ۔ لیکن اگر مصائب کے ہجوم سے گھبرا کر تم اطاعت سے منہ موڑ گئے تو اپنا ہی نقصان کرو گے ۔ ہمارے رسول پر صرف یہ ذمہ داری تھی کہ راہ راست تم کو ٹھیک ٹھیک بتا دے ، سو اس کا حق رسول نے ادا کر دیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(64:12) فان تولیتم : جملہ شرطیہ ہے ف سببیہ ہے (ایمان و اطاعت کے امر کا پہنچنا روگردانی کا سبب ہے۔ ان شرطہ ۔ بمعنی اگر۔ تولیتم ماضی جمع مذکر حاضر تولی (تفعل) مصدر۔ بمعنی منہ پھیرنا۔ پھرجانا۔ روگردانی کرنا۔ اگر تم نے منہ موڑا۔ اگر تم پھرگئے۔ فانما علی رسولنا البلاغ المبین۔ ف جواب شرط کے لئے ہے اور سابقہ جملہ کا جواب شرط ہے۔ البلغ المبین۔ موصوف و صفت، البلغ پہنچا دینا۔ کافی ہونا۔ مصدر ہے اور قرآن مجید میں یہ لفظ بمعنی تبلیغ آیا ہے۔ المبین ابانۃ سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ بمعنی ظاہر کرنے والا۔ البلغ المبین۔ وہ تبلیغ جو تمام امور کو مفصل طور پر صاف صاف بیان کر دے۔ جملہ شرطیہ کے بعد جواب کی علت محذوف ہے۔ ای فلابأس علیہ۔ ترجمہ یوں ہوگا :۔ اگر تم نے (اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت سے) روگردانی کی۔ تو اس کا (اللہ کے رسول پر) کوئی ضرر نہیں ۔ کیونکہ ہمارے رسول کے ذمہ تو صرف تبلیغ مبین تھی (جو وہ بطریق احسن فرض ادا کرچکے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی وہ جو مصیبت یا تکلیف بھیجتا ہے ہمیں علم و حکمت کی بنا پر بھیجتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ تم میں سے کون واقعی صبر و استقامت کی راہ اتخیار کر کے اپنے درجات بلند کریگا اور کون بےصبری اور ناشکری کا مظاہرہ کر کے اپنی بدبختی میں اضافہ کرے گا۔4 یعنی مصیبت کے وقت بےصبری اور نا شکری کا مظاہرہ نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو اللہ و رسول کی اطاعت میں مشغول کر کے اپنی تکلیف کے احساس کو کم کرو اور اللہ کے ہاں اجر کے مستحق ہو۔5 سو اس نے پہنچا دیا اگر تم اسے نہ مانو گے تو اپنی ہی عاقبت خراب کرو گے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہرگز کوئی الزام نہ دے سکو گے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ چونکہ وہ اس فریضہ تبلیغ کو باحسن وجوہ ادا کرچکے پس ان کا تو کوئی ضرر نہیں تمہارا ہی ضرر ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ایمانداروں کا فرض ہے کہ وہ عسر اور یسر میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں۔ مومن ہو یا نافرمان، کافر ہو یا مسلمان، امیر ہو یا غریب ہر کسی کی زندگی نشیب و فراز، سُکھ اور دکھ پر مشتمل ہوتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ نافرمانوں کے مقابلے میں ایمانداروں کی زندگی قدرے مشکل ہوتی ہے۔ کیونکہ ایماندار شخص اللہ اور اس کے رسول کا پابند ہوتا ہے جس وجہ سے دنیا میں وہ فوائد اور آسائشیں حاصل نہیں کرسکتا جو نافرمان حاصل کرلیتے ہیں۔ مصیبت ہو یا راحت، مشکل ہو یا آسانی، نفع ہو یا نقصان ایمانداروں کو حکم ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر توکل کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں۔ ایماندار کو اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو اسے مصیبت سے نجات دے۔ لہٰذا ایماندار کو ” اللہ “ پر ہی توکل اور اعتماد کرنا چاہیے۔ اس میں اسی کا فائدہ ہے اگر ایمان کا دعویٰ رکھنے والے لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ پھیر لیں تو ہمارے رسول پر حق بات پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں توکل کا معنٰی ہے کہ وسائل اور اسباب کو استعمال کرتے ہوئے کام کا نتیجہ اور انجام اللہ کے سپرد کیا جائے، توکل پریشانیوں سے نجات پانے کا پہلا ذریعہ ہے اگر کسی کا اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور توکل نہیں تو وہ حوصلہ ہار بیٹھے گا اور مسائل کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ بلا شبہ اسباب کا استعمال لازم اور ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ نے مسائل کے حل کے لیے مادی وسائل میں ایک قوت رکھی ہے۔ سردی اور گرمی سے بچنے کے لیے موسم کے مطابق لباس اور رہائش اختیار نہ کی جائے تو انسان کی صحت پر مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سفر کے لیے سواری درکار ہے، دشمن سے بچاؤ کے لیے اسلحہ کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آدمی کے پاس وسائل ہوں تو وہ کسی حد مطمئن اور اپنی کامیابی کے بارے میں پر اعتماد ہوتا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ عقیدے میں کمزور اور مادہ پرست انسان کی نگاہ صرف اسباب پر رک جاتی ہے اس کا ذہن مسبب الاسباب کی طرف بہت کم متوجہ ہوتا ہے۔ اکثر اوقات دنیا دار انسان کامیابی کو اپنی محنت اور صلاحیت کا نتیجہ سمجھتا ہے وہ اس حقیقت کو فراموش کردیتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی عطا نہ ہوتی تو جس طرح میری جان پہچان کے لوگ وسائل سے محروم ہیں۔ میں بھی اسی طرح تہی دامن ہوتا تو پھر میرا کیا حال ہوتا اسے یہ خیال بھی رہنا چاہیے کہ مالک حقیقی کی مشیّت اور حکم شامل حال نہ ہو تو وسائل اور اسباب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اس دنیا و جہاں میں ہر روز رونما ہونے والے واقعات اس فکر اور عقیدے کی تائید کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسباب کی قوت کو سلب کرلیا جاتا ہے تو پھر سب کچھ موجود ہونے کے باوجود انسان ناکامی اور نامرادی کا سامنا کرتا ہے۔ اگر اسباب بذات خود انسان کی مشکلات کا مداوا ہوتے تو ڈاکٹر اور حکیم موت کی وادیوں میں بسیرا نہ کرتے۔ محض وسائل ہی مسائل کا حل ہوتے تو بڑے بڑے فرمانروا اقتدار کے ایوانوں سے نکل کر جیل کی کال کوٹھڑیوں میں ایڑیاں نہ رگڑتے اس لیے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیم یہ ہے کہ وسائل کو ہر حال میں استعمال کیا جائے مگر اس کی قوت کار کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اسباب اسی وقت کارآمد اور مفید ثابت ہوں گے جب مالک حقیقی کا حکم جاری ہوگا۔ اس حقیقت کے پیش نظر مسلمان کا فرض ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ذرائع اور وسائل کو اختیار کرتے ہوئے ان کے اثرات اور نتائج کو اللہ کا انعام تصور کرے۔ توکّل علی اللہ کی تکمیل تب ہوتی ہے کہ جب آدمی یہ عقیدہ بنا لے کہ کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی ” اللہ “ میری مدد کرنے پر قادر ہے اور وہ میری مدد ضرور فرمائے گا۔ مسائل ١۔ ایمانداروں کو ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے۔ ٢۔ اللہ کے سوا کوئی معبود اور حاجت روا، مشکل کشا نہیں۔ ٣۔ ایمانداروں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد رکھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ پر توکل کے فوائد : ١۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : ٣) ٢۔ اللہ پر ایمان لانے والوں اور توکل کرنے والوں کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ (الشوریٰ : ٣٦) ٣۔ اللہ صبر کرنے والوں اور توکل کرنے والوں کو بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ (العنکبوت : ٥٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آگے دعوت ایمان کے سلسلے میں ان کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ واطیعواللہ .................... المبین (٤٦ : ٢١) ” اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو لیکن اگر تم اطاعت سے منہ موڑتے ہو تو ہمارے رسول پر صاف صاف حق پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ اس سے قبل ان کو لوگوں کا انجام بتایاجاچکا ہے جو منہ موڑتے ہیں۔ یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ رسول کا کام تبلیغ پر ختم ہوجاتا ہے۔ اگر اس نے بات پہنچادی تو وہ اپنے فریضے سے سبکدوش ہوگیا۔ اور اس طرح لوگوں پر حجت تمام ہوگئی اور اب لوگ اس معصیت اور منہ موڑنے کے انجام کا انتظار کریں جو انہیں ابھی ابھی سنا دیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہ پیرگراف عقیدہ توحید کے قرار داد پر ختم ہوتا ہے جس کا وہ انکار کرتے تھے اور تکذیب کرتے تھے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے مومنین کا تعلق اللہ کے ساتھ کیسا ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرما نبرداری اور توکل اختیار کرنے کا حکم دوسری نصیحت یہ فرمائی ﴿ وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ ﴾ (اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو (اس میں بندوں کا اپنا ہی بھلا ہے) اللہ کے رسول نے پیغام پہنچا دیا اگر کوئی شخص روگردانی کرے تو اللہ کے رسول پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اسی کہ واضح طور پر قیغام پہنچادے) جو نہ مانے گا وہ اپنا ہی برا کرے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ ” واطیعوا اللہ “ ترغیب الی الاطاعۃ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم اطاعت سے روگردانی کرو گے تو اس سے ہماری پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تو کچھ نقصان نہیں، کیونکہ آپ کے ذمہ تو ہے تبلیغ جس کا آپ نے حق ادا کردیا بلکہ اس سے تم اپنے دین و دنیا ہی کا نقصان کرو گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(12) اور اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کہا مانو اور اطاعت کرو پس اگر تم روگردانی کرو گے اور منہ موڑو گے تو سوائے اس کے نہیں کہ ہمارے رسول کے ذمہ صاف صاف پہنچادینا ہے۔ یعنی ہر دکھ سکھ کی حالت میں اللہ تعالیٰ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرمانبرداری ضروری ہے اگر کوئی ایسا نہ کرے گا تو اللہ اور رسول کو کوئی ضرر نہیں رسول کا کام صرف کھول کر پہنچادینا ہے وہ کام اپنا کرچکا اب اگر نافرمانی کرو گے تو تم کو ہی نقصان پہنچے گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوچکے۔