Surat ut Taghabunn

Surah: 64

Verse: 18

سورة التغابن

عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۸﴾٪  16

Knower of the unseen and the witnessed, the Exalted in Might, the Wise.

وہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے زبردست حکمت والا ( ہے ) ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

All-Knower of the unseen and seen, the Almighty, the All-Wise. Its explanation has already preceded several times. This is the end of the Tafsir of Surah At-Taghabun, all the praise and appreciation is due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ : یہ صفات یہاں ذکر کرنے سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ میاں بیوی اور والدہ واولاد کے باہمی معاملات سے پوری طرح واقف اللہ تعالیٰ ہی ہے ، لوگوں کو اس کی خبر نہیں ہوسکتی ، کیونکہ وہ ان سے الگ رہتے ہیں ۔ اس لیے ان میں سے ہر ایک کو ہر وقت اس عالم الغیب والشہادۃ کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور اس کی گرفت سے ڈرتے رہنا چاہیے ، کیونکہ وہ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ ١٨ ۧ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے شَّهَادَةُ : قول صادر عن علم حصل بمشاهدة بصیرة أو بصر . وقوله : أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ [ الزخرف/ 19] ، يعني مُشَاهَدَةِ البصر ثم قال : سَتُكْتَبُ شَهادَتُهُمْ [ الزخرف/ 19] ، تنبيها أنّ الشّهادة تکون عن شُهُودٍ ، وقوله : لِمَ تَكْفُرُونَ بِآياتِ اللَّهِ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ [ آل عمران/ 70] ، أي : تعلمون، وقوله : ما أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّماواتِ [ الكهف/ 51] ، أي : ما جعلتهم ممّن اطّلعوا ببصیرتهم علی خلقها، وقوله : عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ [ السجدة/ 6] ، أي : ما يغيب عن حواسّ الناس وبصائرهم وما يشهدونه بهما الشھادۃ ۔ ( 1 ) وہ بات جو کامل علم ویقین سے کہی جائے خواہ وہ علم مشاہدہ بصر سے حاصل ہوا ہو یا بصیرت سے ۔ اور آیت کریمہ : أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ [ الزخرف/ 19] کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے ۔ میں مشاہدہ بصر مراد ہے اور پھر ستکتب شھادتھم ( عنقریب ان کی شھادت لکھ لی جائے گی ) سے اس بات پر تنبیہ کی ہے کہ شہادت میں حاضر ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ [ آل عمران/ 70] اور تم اس بات پر گواہ ہو ۔ میں تشھدون کے معنی تعلمون کے ہیں یعنی تم اس بات کو یقین کے ساتھ جانتے ہو ۔ اور آیت کریمہ ۔ ما أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّماواتِ [ الكهف/ 51] میں نے نہ تو ان کو آسمان کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا ۔ میں تنبیہ کی ہے کہ یہ اس لائق نہیں ہیں کہ اپنی بصیرت سے خلق آسمان پر مطع ہوجائیں اور آیت کریمہ : عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ [ السجدة/ 6] پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے ۔ میں غالب سے وہ چیزیں مراد ہیں جن کا ادراک نہ تو ظاہری حواس سے ہوسکتا ہو اور نہ بصیرت سے اور شہادت سے مراد وہ اشیا ہیں جنہیں لوگ ظاہری آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزیز العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لهذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی قدر دان ہے کہ تمہارے صدقات کو قبول فرما کر بڑھاتا ہے یا یہ کہ معمولی سا صدقہ قبول کرکے اجر عظیم عطا فرماتا ہے اور جو شخص اپنے صدقہ پر احسان جتلائے یا صدقہ نہ دے اس کی فوری گرفت نہیں فرماتا۔ اور صدقہ دینے والوں کے دلوں میں جو احسان اور خوف پوشیدہ ہے اور وہ جو صدقات دیتے ہیں وہ ان سب باتوں سے بخوبی واقف ہے اور جو شخص صدقہ دے کر احسان جتلائے یا صدقہ نہ دے اس کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨{ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ } ” جاننے والا ہے چھپے اور کھلے سب کا ‘ وہ بہت زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا ہے۔ “ یعنی وہ غائب و حاضر ‘ چھپے اور کھلے سب کا جاننے والا ہے۔ اس میں ایک جانب تقویٰ ‘ اطاعت اور انفاق پر کاربند رہنے والے اہل ِایمان کے لیے بشارت اور یقین دہانی مضمر ہے کہ وہ مطمئن رہیں کہ ان کی کوئی نیکی ضائع جانے والی نہیں ہے اور دوسری طرف اعراض و انکار کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے تہدید و تنبیہہ بھی ہے کہ تمہاری کوئی حرکت اللہ سے پوشیدہ نہیں اور وہ تمہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کامل غلبہ و اقتدار کا مالک ہے۔ اس لیے کہ وہ ” العزیز “ ہے۔ اور اگر وہ تمہاری گرفت فوری طور پر نہیں کر رہا بلکہ تمہیں مہلت اور ڈھیل دیے جارہا ہے تو یہ اس کی حکمت ِکاملہ کا مظہر ہے ‘ اس لیے کہ جہاں وہ ” العزیز “ ہے وہاں وہ ” الحکیم “ بھی ہے۔ نوٹ کیجیے ! اس سورت کا اختتام الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ پر ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہ دو اسماء گزشتہ چاروں المُسَبِّحات (سورۃ الحدید ‘ سورة الحشر ‘ سورة الصف ‘ سورة الجمعہ) کے آغاز میں آئے ہیں۔ گویا ان اسماء کو المُسَبِّحات کے ساتھ خصوصی نسبت ہے۔ چناچہ اس سورت (سورۃ التغابن بھی المُسَبِّحات میں سے ہے) کے آغاز میں یہ دونوں نام نہیں آئے تو اختتام پر آگئے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(64:18) علم الغیب والشھادۃ۔ یعنی اس کے علم سے کوئی شے مخفی نہیں۔ جس چیز کا لوگ مشاہدہ کرتے ہیں اور جو چیز لوگوں کے علم سے پوشیدہ ہے اللہ سب کو جانتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ :۔ جو چیز اس وقت موجود ہے اس کو بھی خدا جانتا ہے اور جو چیز پہلے ہوچکی یا آئندہ ہونے والی ہے۔ سب سے خدا تعالیٰ واقف ہے۔ العزیز۔ ہر شے پر غالب ، جس کی قدرت بھی کامل ہے اور علم بھی ہمہ گیر۔ عزۃ سے فعیل کو وزن پر نمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ الحکیم : حکمۃ سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ حکمت والا اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے کیونکہ اصل حکمت اسی کی حکمت ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یعنی اسے ظاہری اعمال اور پوشیدہ نیتوں کی خبر ہے۔ اپنی زبردست قوت اور حکمت سے اس کے مطابق بدلہ دے گا

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب اس سورت کا خاتمہ ایک ایسی صفت الٰہی پر ہوتا ہے کہ جس سے ہمارے دل کے اندر خوف وتقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ علم الغیب ........................ الحکیم (٤٦ : ٨١) ” اللہ حاضر اور غائب ہر چیز کو جانتا ہے ، زبردست اور دانا ہے “۔ اس کے علم کے سامنے سب کچھ کھلا ہے۔ اس کی سلطنت کے سامنے سب کچھ جھکا ہوا ہے۔ وہ اپنی حکمت سے اس پوری کائنات کی تدبیر کررہا ہے۔ یوں کہ لوگ زندہ ہیں اور یوں رہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے۔ اس کی مکمل حکومت ان پر نافذ ہے۔ ہر حاضر اور غائب کو اس کا دست قدرت چلارہا ہے۔ جب یہ تصور قلب مومن میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ اللہ کے سامنے خلوص اور اطاعت کرتے جاتا ہے۔ اور اللہ کے احکام کی اطاعت نہایت آمادگی سے کرتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ ﴾ (وہ غیب اور شہادۃ کا جاننے والا ہے) ﴿ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (رح) ٠٠١٨﴾ (وہ زبردست ہے حکمت والا ہے) ۔ وھذا آخر تفسیر سورة التغابن بفضل اللہ الملیک العلام و الحمدللہ علی التمام والصلوٰة علی البدر التمام وعلی الہ و اصحابہ البررة الکرام

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

16:۔ ” عالم الغیب “ وہ عالم غیب و شہادت ہے، اس سے کوئی چیز مخفی نہیں، وہ دلوں کے اخلاص کو بخوبی جانتا ہے اس لیے ہر شخص کو اس کے اخلاص کے مطابق اس کے عمل کی جزا دے گا وہ قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا مالک ہے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے۔ سورة تغابن میں آیات توحید 1 ۔ یسبح للہ ما فی السموات وما فی الارض۔ الایۃ۔ نفی شرک ہر قسم 2 ۔ خلق السموات والارض بالحق۔ تا۔ واللہ علیہم بذات الصدور۔ نفی شرک فی التصرف۔ 3 ۔ اللہ لا الہ الا ھو۔ نفی شرک ہر قسم۔ سورة تغابن ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(18) ہرچھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی قرض دینے والوں کو نیت کو خوب جانتا ہے جو عمل ظاہری ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے بڑا زبردست اور بڑی حکمت کا مالک ہے۔ تم تفسیر سورہو التغابن