Surat ul Mulk

Surah: 67

Verse: 13

سورة الملك

وَ اَسِرُّوۡا قَوۡلَکُمۡ اَوِ اجۡہَرُوۡا بِہٖ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۳﴾

And conceal your speech or publicize it; indeed, He is Knowing of that within the breasts.

تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ظاہر کرو وہ تو سینوں کی پوشیدگیوں کو بھی بخوبی جانتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And whether you keep your talk secret or disclose it, verily, He is the All-Knower of what is in the breasts. meaning, that which occurs in the hearts (ideas, thoughts, etc.).

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13۔ 1 یہ پھر کافروں سے خطاب ہے۔ مطلب ہے کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں چھپ کر باتیں کرو یا اعلان یہ سب اللہ کے علم میں ہے، اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ وہ تو سینوں کے رازوں اور دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تمہاری باتیں کس طرح اس سے پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَکُمْ اَوِاجْھَرُوْابِہٖ ۔۔۔۔: شروع سورت سے اللہ تعالیٰ کی ان قدرتوں کا بیان ہو رہا تھا جو مخلوق کی استطاعت سے باہر ہیں ، درمیان کی سات آسات میں ان سے کفر کرنے والوں اور ان پر ایمان رکھنے والوں کا انجام ذکر فرمایا ، اب دوبارہ اللہ کی قدرتوں کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ فرمایا تم اپنی بات چھپا کر کرو یا بلند آواز سے کرو اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے ، بلکہ وہ اس سے بڑھ کر دلوں کے ارادے اور نیتیں جو زبان پر آکر قول بننے کی منزل تک نہیں پہنچیں ، انہیں بھی جانتا ہے۔ مخلوق بےچاری نہ چھپی بات کو جانتی ہے اور نہ ایک وقت میں بہت سے لوگوں کی اونچی آواز سے کی ہوئی باتوں کو جا ن سکتی ہے دلوں کی بات جاننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ مزید دیکھئے سورة ٔ اعلیٰ (٧) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْہَرُوْا بِہٖ۝ ٠ ۭ اِنَّہٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۝ ١٣ سرر (كتم) والسِّرُّ هو الحدیث المکتم في النّفس . قال تعالی: يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] ، وقال تعالی: أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْواهُمْ [ التوبة/ 78] ( س ر ر ) الاسرار السر ۔ اس بات کو کہتے ہیں جو دل میں پوشیدہ ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] وہ چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے ۔ جهر جَهْر يقال لظهور الشیء بإفراط حاسة البصر أو حاسة السمع . أمّا البصر فنحو : رأيته جِهَارا، قال اللہ تعالی: لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً [ البقرة/ 55] ، أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً [ النساء/ 153] ( ج ھ ر ) الجھر ( ف) اس کے اصل معنی کسی چیز کا حاسہ سمع یا بصر میں افراط کے سبب پوری طرح ظاہر اور نمایاں ہونے کے ہیں چناچہ حاسہ بصر یعنی نظروں کے سامنے کسی چیز کے ظاہر ہونے کے متعلق کہا جاتا ہے رایتہ جھرا کہ میں نے اسے کھلم کھلا دیکھا قرآن میں ہے :۔ لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً [ البقرة/ 55] کہ جب تک ہم خدا کو سامنے نمایاں طور پر نہ دیکھ لیں تم پر ایمان نہیں لائیں گے ۔ أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً [ النساء/ 153] ہمیں نمایاں اور ظاہر طور پر خدا دکھا دو ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا صدر الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ، وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] ، ثم استعیر لمقدّم الشیء كَصَدْرِ القناة، وصَدْرِ المجلس، والکتاب، والکلام، وصَدَرَهُ أَصَابَ صَدْرَهُ ، أو قَصَدَ قَصْدَهُ نحو : ظَهَرَهُ ، وكَتَفَهُ ، ومنه قيل : رجل مَصْدُورٌ: يشكو صَدْرَهُ ، وإذا عدّي صَدَرَ ب ( عن) اقتضی الانصراف، تقول : صَدَرَتِ الإبل عن الماء صَدَراً ، وقیل : الصَّدْرُ ، قال : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] ، والْمَصْدَرُ في الحقیقة : صَدَرٌ عن الماء، ولموضع المصدر، ولزمانه، وقد يقال في تعارف النّحويّين للّفظ الذي روعي فيه صدور الفعل الماضي والمستقبل عنه . ( ص در ) الصدر سینہ کو کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] میرے پروردگار اس کا م کے لئے میرا سینہ کھول دے ۔ اس کی جمع صدور آتی ہے جیسے فرمایا : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] اور جو بھید دلوں میں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے ۔ وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں ۔ پھر بطور استعارہ ہر چیز کے اعلیٰ ( اگلے ) حصہ کو صدر کہنے لگے ہیں جیسے صدرالقناۃ ( نیزے کا بھالا ) صدر المجلس ( رئیس مجلس ) صدر الکتاب اور صدرالکلام وغیرہ صدرہ کے معنی کسی کے سینہ پر مارنے یا اس کا قصد کرنے کے ہیں جیسا کہ ظھرہ وکتفہ کے معنی کسی کی پیٹھ یا کندھے پر مارنا کے آتے ہیں ۔ اور اسی سے رجل مصدور کا محاورہ ہے ۔ یعنی وہ شخص جو سینہ کی بیماری میں مبتلا ہو پھر جب صدر کا لفظ عن کے ذریعہ متعدی ہو تو معنی انصرف کو متضمن ہوتا ہے جیسے صدرن الابل عن الماء صدرا وصدرا اونٹ پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹ آئے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے ۔ اور مصدر کے اصل معنی پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹنا کے ہیں ۔ یہ ظرف مکان اور زمان کے لئے بھی آتا ہے اور علمائے نحو کی اصطلاح میں مصدر اس لفظ کو کہتے ہیں جس سے فعل ماضی اور مستقبل کا اشتقاق فرض کیا گیا ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور تم لوگ رسول اکرم کے ساتھ مکر و خیانت کی خواہ خفیہ طور پر بات کرو یا علی الاعلان لڑائی کی وہ تمہارے دلوں میں جو نیکی یا برائی ہے اس سے بخوبی واقف ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20 The address is to all human beings, whether they are believers or unbelievers. For the believer it contains the admonition that while living his life in the world he should always remember that not only his open and hidden deeds but even his secret intentions and innermost thoughts are not hidden from Allah; and for the unbeliever the warning that he may do whatever he may please fearless of God, but nothing that he does can remain un-noticed and unseen by Him.

سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :20 یہ بات تمام انسانوں کو خطاب کر کے فرمائی گئی ہے ، خواہ وہ مومن ہوں یا کافر ۔ مومن کے لیے اس میں یہ تلقین ہے کہ اسے دنیا میں زندگی بسر کرتے ہوئے ہر وقت یہ احساس اپنے ذہن میں تازہ رکھنا چاہیے کہ اس کے کھلے اور چھپے اقوال و اعمال ہی نہیں ، اس کی نیتیں اور اس کے خیالات تک اللہ سے مخفی نہیں ہیں ۔ اور کافر کے لیے اس میں تنبیہ ہے کہ وہ اپنی جگہ خدا سے بے خوف ہو کر جو کچھ چاہے کرتا رہے ، اس کی کوئی بات اللہ کی گرفت سے چھوٹی نہیں رہ سکتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(67:13) واسروا قولکم او اجھروا بہ : کلام مستانفہ ہے اسروا فعل امر ۔ جمع مذکر حاضر۔ اسرار (افعال) مصدر تم چھپاؤ۔ تم چھپا کر کہو۔ اوجھروا بہ : او بمعنی یا۔ اجھروا فعل امر حاضر ، جمع مذکر۔ جھر (باب فتح) مصدر۔ تم زور سے کہو۔ تم کھلم کھلا کہو، تم بلند آواز سے کہو۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ انہ یعلم الجھر من القول ویعلم ما تکتمون (21:110) جو بات پکار کر کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے۔ اسروا او اجھروا۔ دونوں امر کے صیغے ہیں لیکن امر بمعنی خبر سے یعنی تمہارا چپکے چپکے باتیں کرنا اور بلند آواز سے بولنا دونوں علم الٰہی میں برابر ہیں۔ پہلے کفار کا ذکر غائبانہ تھا اب اس آیت میں تہدید کے طور پر غائب سے حاضر کی طرف کلام کو موڑ کر روئے خطاب کافروں کی طرف کردیا گیا ہے۔ انہ علیہم بذات الصدور۔ بیشک وہ دلوں کی بات بھی (خوب) جانتا ہے یعنی زبان پر لانے سے پہلے ہی وہ ان باتوں کو جانتا ہے نہ اس کو بلند آواز سے بولنے کی ضرورت ہے نہ آہستہ آہستہ کہنے کی۔ یہ مساوات (سابقہ) یعنی بلند آواز یا آہستہ بولنے کا اس کے نزدیک برابر ہونا اس کی یہ علت ہے کہ وہ تو بولنے سے قبل ہی اس بات کا علم رکھتا ہے ۔ اس لئے بلند آواز سے بولنا یا آہستہ بولنا سب اس کے نزدیک برابر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ حاصل استدلال کا یہ ہے کہ وہ ہر شے کا خالق مختار ہے، پس تمہارے احوال و اقوال کا بھی خالق ہے اور خلق بالاختیار مسبوق بالعلم ہوتا ہے پس علم ضروری ہوا، اور تخصیص اقوال کی مقصود نہیں بلکہ حکم عام ہے تخصیص ذکری شاید اس بنا پر ہو کہ اقوال کثیر الوقوع ہیں، غرض اس کو سب علم ہے وہ ہر ایک کو مناسب جزا دے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واسروا .................... الخبیر تم کوئی بات خفیہ کرو یا جہرا کرو ، اللہ کو تو علم ہے۔ وہ جہر ، خفی اور دل کی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ انہ علیم ............................ الصدور (٧٦ : ٣١) ” وہ دلوں کا حال جانتا ہے “۔ وہ بات جو ابھی دل کو چھوڑ کر منہ پر نہیں آئی۔ کیونکہ ان باتوں کو دلوں کے اندر اس نے تو پیدا کیا ہے جس طرح دلوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) اور تم اپنی بات کو چھپا کر کہو یا اس کو کھول کر کہو اور آواز سے کہو وہ سب جانتا ہے کیونکہ وہ سینوں کی پوشیدہ باتوں تک سے بخوبی واقف ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی ان منافقوں سے فرماتے تھے کہ تم نے فلاں موقعہ پر یہ کہا فلاں موقعہ پر اپنی مجلس میں یہ بدزبانی کی تو یہ منکر آپس میں چپکے چپکے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بدگوئی کرتے اس پر حضرت حق نے فرمایا کہ تم کوئی بات چھپا کر کہو یا پکار کر اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے، وہ سینوں تک کے بھیدوں سے واقف ہے اور باخبر ہے آگے اسی باخبر ہونے کی دلیل ہے۔