Surat ul Mulk

Surah: 67

Verse: 16

سورة الملك

ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِی السَّمَآءِ اَنۡ یَّخۡسِفَ بِکُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا ہِیَ تَمُوۡرُ ﴿ۙ۱۶﴾

Do you feel secure that He who [holds authority] in the heaven would not cause the earth to swallow you and suddenly it would sway?

کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ آسمانوں والا تمہیں زمین میں نہ دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

How can You feel Secure against the Punishment of Allah while He is Able to seize You however He wills This is another indication of His gentleness and His mercy with His creatures. He is able to punish them because some of them disbelieve in Him and worship others besides Him, yet He is forbearing, He pardons, and He gives respite for an appointed time without hastening. This is as He says, وَلَوْ يُوَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُواْ مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ وَلَـكِن يُوَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَإِذَا جَأءَ أَجَلُهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِ بَصِيراً And if Allah were to punish men for that which they earned, He would not leave a moving creature on the surface of the earth; but He gives them respite to an appointed term: and when their term comes, then verily, Allah is Ever All-Seer of His servants. (35:45) Here Allah says, أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الاَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ Do you feel secure that He, Who is over the heaven, will not cause the earth to sink with you, and then it should quake? meaning, that it would move back and forth, and be disrupted.

وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ۔ ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا ۔ جیسے اور جگہ فرمایا آیت ( وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا 45؀ۧ ) 35- فاطر:45 ) ، یعنی اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک انہیں مہلت دیئے ہوئے ہے ۔ جب ان کا وہ وقت آ جائے گا تو اللہ ان مجرم بندوں سے آپ سمجھ لے گا ۔ یہاں بھی فرمایا کہ زمین ادھر ادھر ہو جاتی ، ہلنے اور کانپنے لگ جاتی اور یہ سارے کے سارے اس میں دھنسا دیئے جاتے ، یا ان پر ایسی آندھی بھیج دی جاتی جس میں پتھر ہوتے اور ان کے دماغ توڑ دیئے جاتے ۔ جیسے اور جگہ ہے آیت ( اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا 68؀ۙ ) 17- الإسراء:68 ) یعنی کیا تم نڈر ہوگئے ہو کہ زمین کے کسی کنارے میں تم دھنس جاؤ یا تم پر وہ پتھر برسائے اور کوئی نہ ہو جو تمہاری وکالت کر سکے ، یہاں بھی فرمان ہے کہ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری دھمکیوں کو اور ڈراوے کو نہ ماننے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ تم خود دیکھ لو کہ پہلے لوگوں نے بھی نہ مانا اور انکار کر کے میری باتوں کی تکذیب کی تو ان کا کس قدر برا اور عبرتناک انجام ہوا ۔ کیا تم میری قدرتوں کا روزمرہ کا یہ مشاہدہ نہیں کر رہے کہ پرند تمہارے سروں پر اڑتے پھرتے ہیں کبھی دونوں پروں سے کبھی کسی کو روک کر ، پھر کیا میرے سوا کوئی اور انہیں تھامے ہوئے ہے؟ میں نے ہواؤں کو مسخر کر دیا ہے اور یہ معلق اڑتے پھرتے یہیں یہ بھی میرا لطف و کرم اور رحمت و نعمت ہے ۔ مخلوقات کی حاجتیں ضرورتیں ان کی اصلاح اور بہتری کا نگراں اور کفیل میں ہی ہوں ، جیسے اور جگہ فرمایا آیت ( اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاۗءِ 79؀ ) 16- النحل:79 ) کیا انہوں نے ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہیں جن کا تھامنے والا سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں یقیناً اس میں ایمانداروں کے لئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

16۔ 1 یہ کافروں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ آسمانوں والی ذات جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو، جو نہایت پر سکون ہے، حرکت، جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ ۔۔۔۔:” تمور “ حرکت کرنے لگے ، یعنی زبردست زلزلے سے لرزنے لگے۔ ( دیکھئے طور : ٩) پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر فرمایا تھا اور اس آیت میں اپنی شان قہاریت کا اظہار کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین اگرچہ تمہارے تابع کردی گئی ہے کہ تم جیسے چاہو اس میں تصرف کرسکو، لیکن یاد رکھو کہ یہ اسی آسمان والے کی ملکیت ہے ، وہ چاہے تو تمہیں اس کے اندر دھنسا دے ( جس طرح قارون کو دھنا دیا ، دیکھئے قصص : ٨١) اور چاہے تو بھونچا سے لرزنے لگے ، لہٰذا اس پر سرکش و خود مختار ہو کر نہیں بلکہ فرما برداروں کی طرح ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرو۔ ( اشرف الحواشی) اس آیت کا اور اس کے بعد والی آیت کا مفہوم سورة ٔ انعام ( ٦٥) اور سورة ٔ کہف ( ٦٨، ٦٩) میں بیان ہوا ہے۔ ٢۔ ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ :” السمائ “ ” سمو “ سے مشتق ہے ، جس کا معنی بلندی ہے۔ ہر وہ چیز جو اوپر ہوا سے ” سماء “ کہہ لیتے ہیں ۔ ان دونوں آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اوپر کی طرف ہے۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر رحمان کا عرش پر ہونا بیان فرمایا ہے۔ معاویہ بن حکم سلمی (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی لونڈی کے متعلق پوچھا کہ کیا میں اسے آزاد کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :( ائتنی بھا)” اسے میرے پاس لاؤ “ ۔ میں اسے آپ کے پاس لے کر آیا تو آپ نے اس سے پوچھا :( این اللہ ؟ ) ” اللہ کہاں ہے ؟ “ اس نے کہا :( فی السمائ)” آسمان میں “۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :( من آنا ؟ ) میں کون ہوں ؟ “ اس نے کہا : ( انت رسول اللہ)” آپ اللہ کے رسول ہیں “۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :( اعتقھا فانھا مومنۃ ) ( مسلم ، المساجد ، باب تحریم الکلام فی الصلاۃ۔۔۔۔ ٥٣٧)” اسے آزاد کر دو ، یہ مومنہ ہے۔ “ تمام سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے ، بعد کے لوگ جو یونانی فلسفے سے متاثر ہوگئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفت علو ( اوپر ہونے کی صفت) کا انکار کردیا ، کسی نے کہاوہ لا مکان ہے ، کسی نے کہا وہ ہر جگہ ہے اور قرآن و حدیث کی صاف نصوص کی تاویل کی ۔ بعض لوگ تو یہاں تک پہنتچ گئے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ سوال ہی کفر ہے کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ انہوں نے یہ خیال نہ کیا کہ یہ سوال تو خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا ہے اور اس کے جواب میں بھی اللہ تعالیٰ کے آسمانوں پر ہونے کے عقیدے کو آپ نے ایمان قرار دیا ہے۔ ( دیکھئے مسلم : ٥٣٧) تو کیا نعوذ باللہ یہ فتویٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی لگایا جائے گا ؟ قرآن مجید ” ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ “ میں اللہ تعالیٰ کا آسمان پر ہونا فرما رہا ہے اور یہ بات انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے کہ وہ دذعا کرتا ہے تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتا ہے ، مگر فلسفے کے مارے ہوئے یہ حضرات کبھی کہتے ہیں کہ اس کا مطلب تو پھر یہ ہوا کہ وہ آسمانوں پر بیٹھا ہوا ہے ، کبھی کہتے ہیں کہ پھر کیا وہ آسمان میں رہتا ہے ؟ اس طرح تو وہ آسمان کا محتاج ہوا جبکہ آسمان و زمین خود اس نے پیدا کیے ہیں ۔ حالانکہ سلف صالحین کے عقیدہ کے مطابق وہ لفظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال کرنا جائز نہیں جو اس نے خود اپنے متعلق استعمال نہ کیا ہو ۔ اب یہ کس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کھڑا ہے یا بیٹھا ہے ؟ قرآن و حدیث سے اللہ تعالیٰ کی بلندی کی جانب ہونا اور عرش پر ہونا ثابت ہے ، اس کی کیفیت کسی کو معلوم نہیں اور وہ عرش کا یا بلندی کا محتاج نہیں بلکہ اس کے عرش پر ہونے کے باوجود عرش خود اس کا محتاج ہے اور اس نے عرش اور آسمان و زمین کو تھام رکھا ہے۔ مخلوق میں کئی چیزیں ہیں جو اوپر ہیں ، مگر ان کے نیچے کی چیزیں اپنے قیام میں ان کی محتاج ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مثال تو اس سے بہت بلند ہے ۔ مومن جب بھی اللہ تعالیٰ کا تصور کرتا ہے اس سے دعا کرتا ہے ، تو اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا پروردگار آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے اور اسے اپنے رب سے تعلق جوڑنے میں کوئی الجھن نہیں ہوتی ۔ تاویلوں کی مصیبت میں پھنسے ہوئے لوگ یہ فیصلہ ہی نہیں کر پاتے کہ ان کا رب کہاں ہے جس کی طرف وہ توجہ کریں ۔ وہ لا مکان کے چکر ہی سے نہیں نکل سکتے ۔ اسلام کے فطری اور سادہ عقائد کو چھوڑ کر فلسفی بھول بھلیاں اختیار کرنے کا یہی انجام ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ فجر (٢٢) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ (Have you become fearless of Him who is in the sky if He makes you sink into the earth, and it starts trembling at once?...67:16). It means: Though Allah has granted the earth such a balanced infrastructure that man cannot go into it without digging, yet Allah has the power to make the earth swallow up all the communities living on its surface. The next verse warns people of another type of punishment:

ارشاد فرمایا، (آیت) ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ ، کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ آسمان والات م ہیں زمین کے اندر خسف کر کے دھنسا دے اور زمین تمہیں نگل جائے یعنی اگرچہ اللہ نے زمین کو ایسا معتدل قوام دیا ہے کہ آدمی بغیر کھودے ہوئے اس کے اندر نہیں اتر سکتا، لیکن وہ اس پر بھی قادر ہے کہ اس کو ایسا بنا دے کہ یہی زمین اپنے اوپر رہنے اولوں کو نگلج ائے، اس کے بعد نیا میں بسنے والوں کو ایک اور طرح کے عذاب سے ڈرایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہارے اوپر یعنی آسمان سے پتھر بھی برسا کر تمہیں ہلاک کیا جاسکتا ہے۔ اللہ کے منکر اور نافرمان دنیا میں اس سے بےفکر ہو کر نہ بیٹھیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ءَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا ہِيَ تَمُوْرُ۝ ١٦ ۙ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ، أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ [ الأنبیاء/ 34] ، أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً [يونس/ 2] ، آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] . والتسوية نحو : سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ [ البقرة/ 6] «1» ، وهذه الألف متی دخلت علی الإثبات تجعله نفیا، نحو : أخرج ؟ هذا اللفظ ينفي الخروج، فلهذا سأل عن إثباته نحو ما تقدّم . وإذا دخلت علی نفي تجعله إثباتا، لأنه يصير معها نفیا يحصل منهما إثبات، نحو : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ [ الأعراف/ 172] «2» ، أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ [ الرعد/ 41] ، أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ [ طه/ 133] أَوَلا يَرَوْنَ [ التوبة : 126] ، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [ فاطر/ 37] . - الثاني : ألف المخبر عن نفسه نحو : أسمع وأبصر . - الثالث : ألف الأمر، قطعا کان أو وصلا، نحو : أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ [ التحریم/ 11] ونحوهما . - الرابع : الألف مع لام التعریف «4» ، نحو : العالمین . - الخامس : ألف النداء، نحو : أزيد، أي : يا زيد . والنوع الذي في الوسط : الألف التي للتثنية، والألف في بعض الجموع في نحو : مسلمات ونحو مساکين . والنوع الذي في آخره : ألف التأنيث في حبلی وبیضاء «5» ، وألف الضمیر في التثنية، نحو : اذهبا . والذي في أواخر الآیات الجارية مجری أواخر الأبيات، نحو : وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا [ الأحزاب/ 10] ، فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا [ الأحزاب/ 67] ، لکن هذه الألف لا تثبت معنی، وإنما ذلک لإصلاح اللفظ . ا : الف با معنی کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ دوسرا وہ جو وسط کلام میں واقع ہو ۔ تیسرا وہ جو آخر کلام میں آئے ۔ ( ا) وہ الف جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ اس کی چند قسمیں ہیں : ۔ (1) الف الاستخبار اسے ہمزہ استفہام کہنے کے بجائے الف استخبار کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ کیونکہ اس میں عمومیت ہے جو استفہام و انکار نفی تبکیت پر زجرو تو بیخ ) تسویہ سب پر حاوی ہے۔ چناچہ معنی استفہام میں فرمایا ۔ { أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ } [ البقرة : 30]( انہوں نے کہا ) کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور تبکیت یعنی سرزنش کبھی مخاطب کو ہوتی ہے اور کبھی غیر کو چناچہ ( قسم اول کے متعلق ) فرمایا :۔ (1){ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُم } [ الأحقاف : 20] تم اپنی لذتیں حاصل کرچکے ۔ (2) { أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا } [ البقرة : 80] کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے ؟ (3) { آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ } [يونس : 91] کیا اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ؟ اور غیر مخاظب کے متعلق فرمایا :۔ (4) { أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا } [يونس : 2] کیا لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے ؟ (5) { أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِل } [ آل عمران : 144] تو کیا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں ؟ (6) { أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ } [ الأنبیاء : 34] بھلا اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟ (7) { آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ } [ الأنعام : 143] بتاؤ تو ( خدا نے ) دونوں نروں کو حرام کیا ہے ۔ یا دونوں ماديؤں کو ۔ اور معنی تسویہ میں فرمایا ، { سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا } [إبراهيم : 21] اب ہم گهبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے ۔ { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ } ( سورة البقرة 6) تم خواہ انہیں نصیحت کردیا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لانے کے ۔ اور یہ الف ( استخبار ) کلام مثبت پر داخل ہو تو اسے نفی میں تبدیل کردیتا ہے ۔ جیسے اخرج ( وہ باہر نہیں نکلا ) کہ اس میں نفی خروج کے معنی پائے جائے ہیں ۔ اس لئے کہ اگر نفی کے معنی نہ ہوتے تو اس کے اثبات کے متعلق سوال نہ ہوتا ۔ اور جب کلام منفی پر داخل ہو تو اسے مثبت بنا دیتا ہے ۔ کیونکہ کلام منفی پر داخل ہونے سے نفی کی نفی ہوئی ۔ اور اس طرح اثبات پیدا ہوجاتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَلَسْتُ بِرَبِّكُم } [ الأعراف : 172] کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ( یعنی ضرور ہوں ) { أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ } [ التین : 8] کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے یعنی ضرور ہے ۔ { أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ } [ الرعد : 41] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کا بندوبست کرتے ہیں ۔ { أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَة } [ طه : 133] کیا ان کے پاس کھلی نشانی نہیں آئی ۔ { أَوَلَا يَرَوْنَ } [ التوبة : 126] اور کیا یہ نہیں دیکھتے { أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم } [ فاطر : 37] اور کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی ۔ (2) الف جو مضارع کے صیغہ واحد متکلم کے شروع میں آتا ہے اور میں |" کے معنی رکھتا ہے جیسے اسمع و ابصر یعنی میں سنتاہوں اور میں دیکھتا ہوں (3) ہمزہ فعل امر خواہ قطعی ہو یا وصلي جیسے فرمایا :۔ { أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ } [ المائدة : 114] ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ { رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ } [ التحریم : 11] اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا ۔ (4) الف جو لام کے ساتھ معرفہ بنانے کے لئے آیا ہے جیسے فرمایا { الْعَالَمِينَ } [ الفاتحة : 2] تمام جہانوں (5) الف نداء جیسے ازید ( اے زید ) ( ب) وہ الف جو وسط کلمہ میں آتا ہے اس کی پہلی قسم الف تثنیہ ہے ( مثلا رجلان ) اور دوسری وہ جو بعض اوزان جمع میں پائی جاتی ہے مثلا مسلمات و مساکین ۔ ( ج) اب رہا وہ الف جو کلمہ کے آخر میں آتا ہے ۔ وہ یا تو تانیث کے لئے ہوتا ہے جیسے حبلیٰ اور بَيْضَاءُمیں آخری الف یا پھر تثنیہ میں ضمیر کے لئے جیسا کہ { اذْهَبَا } [ الفرقان : 36] میں آخر کا الف ہے ۔ وہ الف جو آیات قرآنی کے آخر میں کہیں بڑھا دیا جاتا ہے جیسے { وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا } [ الأحزاب : 10] { فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا } [ الأحزاب : 67] تو یہ کوئی معنوی اضافہ نہیں کرتا بلکہ محض لفظی اصلاح ( اور صوتی ہم آہنگی ) کے لئے آخر میں بڑھا دیا جاتا ہے ( جیسا کہ ابیات کے اواخر میں الف |" اشباع پڑھاد یتے ہیں ) سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ خسف الخُسُوف للقمر، والکسوف للشمس «1» ، وقال بعضهم : الکسوف فيهما إذا زال بعض ضوئهما، والخسوف : إذا ذهب كلّه . ويقال خَسَفَهُ اللہ وخسف هو، قال تعالی: فَخَسَفْنا بِهِ وَبِدارِهِ الْأَرْضَ [ القصص/ 81] ، وقال : لَوْلا أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا لَخَسَفَ بِنا [ القصص/ 82] ، وفي الحدیث : «إنّ الشّمس والقمر آيتان من آيات اللہ لا يُخْسَفَانِ لموت أحد ولا لحیاته» «2» ، وعین خَاسِفَة : إذا غابت حدقتها، فمنقول من خسف القمر، وبئر مَخْسُوفَة : إذا غاب ماؤها ونزف، منقول من خسف اللہ القمر . وتصوّر من خسف القمر مهانة تلحقه، فاستعیر الخسف للذّلّ ، فقیل : تحمّل فلان خسفا . ( خ س ف ) الخسوف کا لفظ چاند کے بےنور ہونے اور کسوف کا لفظ سورج کے بےنور ہونے پر بولا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ خسوف قدر ہے بےنور ہونے کو کہاجاتا ہے اور کسوف پوری طرح بےنور ہوجانے کو کہتے ہیں ، عام اس سے کہ وہ سورج ہو یا چاند کہاجاتا ہے خسفہ اللہ اللہ نے اسے زمین میں دھنسادیا ( متعدی ) خسف ھو ( لازمی ) زمین میں دھنس جانا ۔ قرآن میں ہے :۔ فَخَسَفْنا بِهِ وَبِدارِهِ الْأَرْضَ [ القصص/ 81] پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا ۔ لَوْلا أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا لَخَسَفَ بِنا [ القصص/ 82] اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا ۔ حدیث میں ہے ( ا اا) ان الشمس والقمر ایتان من ایات اللہ لایخسفان لموت احد ولا لحیاتہ کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو کسی کی موت پاپیدائش کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے ۔ اور عین خاسفہ ( اندر دھنسی ہوئی آنکھ ) کا محاورہ خسف القمر سے منقول ہے بئر مخسوفۃ وہ کنواں جس کا پانی غائب ہوگیا ہو اور چاند گہن لگنے سے چونکہ ماند پڑجاتا ہے اس لیے بطور استعارہ خسیف بمعنی ذلت ورسوائی بھی آجاتا ہے چناچہ کہا جاتا ہے ۔ تحمل فلان خسفا ۔ فلاں شخص ذلیل ہوگیا ۔ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ مور المَوْر : الجَرَيان السَّريع . يقال : مَارَ يَمُورُ مَوْراً. قال تعالی: يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً [ الطور/ 9] ومَارَ الدم علی وجهه، والمَوْرُ : التُّراب المتردِّد به الرّيح، وناقة تَمُورُ في سيرها، فهي مَوَّارَةٌ. ( م و ر ) المور ۔ کے معنی تیز رفتاری کے ہیں ۔ اور یہ مار یمور مورا سے ہے چناچہ قرآن میں ہے يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً [ الطور/ 9] جس دن آسمان لرز نے لگے کپکپاکر ۔ مار الرم علیٰ وجھہ کے معنی چہرہ پر تیزی سے خون جاری ہونے کے ہیں اور مور غبار کو بھی کہتے ہیں جو ہوا میں ادہر ادھر اڑتا ہے اور ناقۃ تمور فی میرھا کے معنی ہیں اونٹنی کا تیز رفتاری کی وجہ سے غبار اڑاتے ہوئے چلے جانا ۔ اور تیز رو اونٹنی کو موارۃ کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے مکہ والو جب تم اللہ کی نافرمانیاں کر رہے ہو کیا تم اس بات سے مطمئن ہوگئے کہ جو آسمان میں عرش پر قائم ہے جس طرح اس نے قارون پر عذاب نازل کیا تمہیں بھی ساتویں زمین تک دھنسا دے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦{ ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا ہِیَ تَمُوْرُ ۔ } ” کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ یکایک لرزنے لگے۔ “ کیا تم اس بات سے خائف نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر زلزلہ آجائے ‘ زمین شق ہوجائے اور تم اس کے اندر دھنس جائو ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

25 This does trot mean that Allah lives in the heavens, but it has been so said because man naturally looks up to the heaven whenever he wants to turn to Allah, raises his hands heavenward in prayer and implores Allah turning his eyes up to heaven whenever he finds himself helpless in an affliction. Then whenever a calamity befalls him suddenly, he says it has descended from heaven; whenever something unusual happens, he says it has come from heaven; and he calls the Books revealed by Allah as heavenly Books. Accordingly to a tradition-in Abu Da'ud, a person came before the Holy Prophet with a black slave-girl and said: "It has become obligatory on me to set a slave free; can 1 set this slave-girl free? Holy Prophet asked the slave-girl, "Where is Allah?" She pointed heavenward with her forger. The Holy Prophet asked, "Who am I?" She first pointed towards him and then towards the heaven, by which she obviously meant to say: "You have come from Allah." Thereupon the Holy Prophet said: "Set her free; she is a believer." (A story closely resembling this has been narrated in Mu'watta, Muslim and Nasa'i also) . About Hadrat Khawla bint Tha`Ibah.. Hadrat 'Umar once said to the people: "She is the lady whose complaint was heard above the seven heavens" (In E.N. 2 of Surah al-Mujadalah, we have given full details concerning this) . All this clearly shows that it is natural with man that whenever he thinks of God, his mind turns to the heaven above and not to the earth below. In view of this very thing the words man fis-samaa. (He Who is in the heaven) have been used about Allah. There is no room here for any doubt that the Qur'an regards AIIah Almighty as living in the heaven. In fact, there cannot be any basis for this doubt, for in the very beginning of this Surah Al-hulk, it has been stated: "He Who created seven heavens, one above the other", and in Al-Baqarah it has been said "You will face Allah in whatever direction you turn your face." (v : I15)

سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :25 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالی آسمان میں رہتا ہے ، بلکہ یہ بات اس لحاظ سے فرمائی گئی ہے کہ انسان فطری طور پر جب خدا سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو آسمان کی طرف دیکھتا ہے ۔ دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے ۔ کسی آفت کے موقع پر سہاروں سے مایوس ہوتا ہے تو آسمان کا رخ کر کے خدا سے فریاد کرتا ہے ۔ کوئی ناگہانی بلا آ پڑتی ہے تو کہتا ہے یہ اوپر سے نازل ہوئی ہے ۔ غیر معمولی طور پر حاصل ہونے والی چیز کے متعلق کہتا ہے یہ عالم بالا سے آئی ہے ۔ اللہ تعالی کی بھیجی ہوئی کتابوں کو کتب سماوی یا کتب آسمانی کہا جاتا ہے ۔ ( ابو داؤد میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ ایک شخص ایک کالی لونڈی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھ پر ایک مومن غلام آزاد کرنا واجب ہو گیا ہے ، کیا میں اس لونڈی کو آزاد کر سکتاہوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے؟ اس نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کردیا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اور میں کون ہوں؟ اس نے پہلے آپ کی طرف اور پھر آسمان کی طرف اشارہ کیا ، جس سے اس کا یہ مطلب واضح ہو رہا تھا کہ آپ اللہ کی طرف سے آئے ہیں ۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اسے آزاد کر دو ، یہ مومنہ ہے ( اسی سے ملتا جلتا قصہ موطا ، مسلم اور نسائی میں بھی روایت ہوا ہے ) ۔ حضرت خولہ بنت ثعلبہ کے متعلق حضرت عمر نے ایک مرتبہ لوگوں سے فرمایا ، یہ وہ خاتون ہیں جن کی شکایت سات آسمانوں پر سنی گئی ( تفسیر سورہ مجادلہ حاشیہ 2 میں ہم اس کی تفصیل نقل کر چکے ہیں ) ۔ ان ساری باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات کچھ انسان کی فطرت ہی میں ہے کہ وہ جب خدا کا تصور کرتا ہے تو اس کا ذہن نیچے زمین کی طرف نہیں بلکہ اوپر آسمان کی طرف جاتا ہے ۔ اسی کو ملحوظ رکھ کر یہاں اللہ تعالی کے متعلق من فی السماء ( وہ جو آسمان میں ہے ) کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں ۔ اس میں اس شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ قرآن اللہ تعالی کو آسمان میں مقیم قرار دیتا ہے ۔ یہ شبہ آخر کیسے پیدا ہو سکتا ہے جبکہ اسی سورہ ملک کے آغاز میں فرمایا جا چکا ہے کہ الذی خلق سبع سموات طباقا ( جس نے تہ بر تہ سات آسمان پیدا کیے ) اور سورہ بقرہ میں ارشاد ہوا ہے ، فاینما تولوا فثم وجہ اللہ ۔ ( پس تم جدھر بھی رخ کرو اس طرف اللہ کا رخ ہے ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: آخرت کا عذاب تو اپنی جگہ ہے، لیکن بد اعمالیوں کے نتیجے میں اس دُنیا میں بھی عذاب آسکتا ہے مثلا یہ کہ اِنسان کو قارون کی طرح زمین میں دھنسا دیا جائے، اور زمین تھرتھرانے لگے جس کے نتیجے میں اِنسان زمین کے اندر اور زیادہ دھنستا چلا جائے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٦۔ ١٩۔ اوپر کی آیتوں میں حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ اس دن کی سزا کے یہ لوگ منکر ہیں تو اللہ کی قدرت سے یہ بھی کچھ دور نہیں کہ اس دن کی سزا سے پہلے ابھی اللہ کے حکم سے زمین کو جنبش ہو جس سے فوراً ان لوگوں کو قارون کی طرح مع ان کے گھروں کے زمین کے اندر دھسا دیا جائے یا قوم لوط کی طرح ان پر پتھروں کا مینہ برسا دیا جائے۔ جاصب اس ہوا اور گھٹا کو کہتے ہیں جس میں پتھر ہوں۔ پھر فرمایا کہ جب ایسی فوری آفت ان پر آجائے گی اس وقت اسی طرح ان لوگوں کو بھی عذاب الٰہی کی قدر کھل جائے گی جس طرح پچھلی امتوں کو عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد عذاب کے جھٹلانے کی قدر کھل گئی اس کے بعد عقل کی رسائی سے باہر ایک اور قدرت کے نمونہ کا ذکر فرمایا کہ اگرچہ بھاری مادی چیز کا میلان اوپر سے نیچے کی طرف عقل کی رسائی کی حد تک ہے مگر پر دار جانوروں کا یہ حال ہے کہ جب تک قدرت الٰہی نے ان کو تھام رکھا ہے زمین و آسمان کے مابین ہوا میں اڑتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ ان جانوروں کی روک تھام کی طرح اللہ تعالیٰ نے باوجود ان لوگوں کی نافرمانی کے وقت مقررہ تک ہر ایک طرح کے عذاب کو بھی اپنی رحمت سے روک رکھا ہے ورنہ وہ قادر مطلق جب چاہے ان کی ہلاکت کا کوئی سبب پیدا کرسکتا ہے کیونکہ ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے جدھر جس ارادہ سے وہ نگاہ کرے ایک پل میں سب کچھ ہوسکتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(67:16) ی امنتم من فی السماء ہمزہ استفہامیہ ہے استفہام انکاری ہے۔ یعنی نڈر نہ ہونا چاہیے۔ امنتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ امن (باب سمع) مصدر ۔ تم امن میں ہوئے تم مطمئن ہوگئے۔ تم نڈر ہوگئے۔ من اسم موصول ۔ فی السمائ۔ صلہ۔ من محل نصب میں ہے بوجہ امنتم کے مفعول ہونے کے۔ کیا تم نڈر ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے۔ ان یخسف بکم الارض : ان مصدریہ۔ یخسف مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب۔ خسف فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ بمعنی دھنسنا۔ دھنسا دینا۔ کہ وہ تم کو دھنسا دے۔ خسف فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ بمعنی دھنسنا یا دھنسانا۔ خسف سے بطور استعارہ ۔ ذلت بھی مراد ہوتی ہے۔ مثلا تحمل زید خسفا۔ زید نے ذلت برداشت کی خسرف (چاند گرہن) بھی اسی مادہ خسف سے مشتق ہے۔ فاذا ہی تمور : اذا مفاجات (ناگہاں، اچانک) کے لئے ہے۔ اور تمور کا معنی ہے ہلنے لگے۔ زمین میں زلزلہ آجائے۔ یعنی اچانک زمین میں لرزہ پیدا ہوجائے (اور اللہ کافروں کو زمین کے اندر دھنسا دے) (تفسیر مظہری) ۔ (اور) کیا تم اس بات سے امن میں ہوگئے ہو کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور یکایک تمہارے دھنسانے کے لئے زمین ہلنے اور لرزنے لگے ، جیسا کہ زلزلے کے وقت ہوتا ہے زمین ہل کر پھٹ جاتی ہے اور آدمی اور بڑے بڑے مکانات اندر سما جاتے ہیں۔ (تفسیر حقانی) صاحب روح المعانی اور علامہ عبد اللہ یوسف علی نے اذا کو مفاجات کی بجائے ظرفیت کے لئے بمعنی جب، جسوقت، لیا ہے ۔ اور اس صورت میں ان یخسف ۔۔ تمور کا ترجمہ ہوگا :۔ کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے جب کہ وہ زلزلے کی صورت میں پھٹی پڑتی ہو تمور : مضارع واحد مؤنث غائب مور (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پھرنا، تیز چلنا، وہ لرزتی ہے ، وہ پھرتی ہے، وہ جنبش کرتی ہے۔ وہ پھٹتی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی بھونچال سے لرزنے لگے… پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر فرمایا تھا اور اس میں اپنی شان قہاریت کا اظہار کیا ہے … مطلب یہ ہے کہ زمین کوچہ تمہارے تابع کردی گئی ہے کہ تم جیسے چاہو اس میں تصرف کرسکو لیکن یاد رکھو کہ یہ اسی آسمان والے کی ملکیت ہے وہ چاہے تو تمہیں اس کے اندر دھنسا دے اور چاہے تو بھونچال سے لرزنے لگے۔ لہٰذا اس پر سرکش و خود مختار ہو کر نہیں بلکہ تابعداروں کی طرح ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس ذات نے تمہیں پیدا کیا اور زمین کو تمہارے لیے فرش کے طور پر بچھایا ہے کیا اس سے بےخوف ہو کر اس کی نافرمانیاں کرتے ہو۔ یاد رکھو اگر وہ چاہے تو نافرمانوں کو زمین میں دھنسا دے یا آسمان سے پتھروں کی بارش برسا کر انہیں نیست ونابود کر دے۔ جس رب کے حضور تم نے قبروں سے نکل کر پیش ہونا ہے وہ آسمانوں میں ہے۔ کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ زمین کو اس طرح ہلا دے کہ تمہیں زمین میں دھنسا کر رکھ دے۔ کیا تم اس ہستی سے بےپرواہ ہوگئے ہو جو آسمان میں ہے وہ چاہے تو تمہاری نافرمانیوں کی وجہ سے تم پر پتھروں کی بارش برسائے پھر تمہیں معلوم ہو کہ اس کا ڈرانا کیسا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی ” اللہ “ کے ڈر سے بےخوف ہوگئے تھے۔ جب وہ ” اللہ “ کے ڈر سے بےخوف ہوئے تو ” اللہ “ نے کسی کو زمین میں دھنسا دیا اور کسی پر پتھروں کی بارش برسائی۔ غور کرو ! کہ میرا عذاب کیسا ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے بارے میں دو مرتبہ اشارہ کیا ہے کہ وہ آسمان میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آسمان کا اپنا وجود ہے لیکن یہاں آسمان سے مراد رفعت اور بلندی ہے۔ یہ مفہوم لینے کی اس لیے ضرورت ہے کہ اس کا ارشاد ہے کہ اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے چھ دن میں پیدا فرمایا۔ پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔ ( السجدۃ : ٣) دوسرے مقام پر فرمایا کہ یہ قرآن اس ذات کی طرف سے اتارا گیا ہے، جس نے زمین اور بلندو بالا آسمانوں کو پیدا کیا، وہ بڑا مہربان اور عرش پر متمکن ہے۔ ( طٰہٰ : ٤، ٥) ان دلائل کی روشنی میں ہمارا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش معلی پر جلوہ نما ہے اور اپنے علم، اقتدار اور اختیار کے اعتبار سے ہر جگہ موجود ہے۔ ” معاویہ بن حکم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد پہاڑ اور جوانیہ کے علاقہ میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ میری بکریوں میں سے ایک بکری کو بھیڑیا اٹھا کرلے گیا ہے میں انسان تھا جس طرح دوسروں کو غصہ آتا ہے، مجھے بھی غصہ آگیا۔ میں نے اس لڑکی کے منہ پر طمانچہ دے مارا۔ اس حرکت کے بعد میں رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے اسے میرا بڑا جرم قرار دیا۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا میں اسے آزاد کردوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا : اسے میرے پاس لاؤ میں لڑکی کو آپ کی خدمت میں لے گیا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا آسمانوں میں ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کہ میں کون ہوں ؟ اس نے جواب دیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا اسے آزاد کردو یہ ایمان دا رہے۔ “ (رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ الْکَلاَمِ فِی الصَّلاَۃِ وَنَسْخِ مَا کَانَ مِنْ إِبَاحَتِہِ ) ” حضرت حذیفہ بن اسید غفاری (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرہ مبارک کے سائے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے دوران گفتگو ہم نے قیامت کا ذکر کیا۔ باتیں کرتے ہوئے ہماری آوازیں بلند ہوگئیں۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نہ پوری ہوجائیں۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دابہ جانور کا نکلنا، یاجوج و ماجوج کا ظاہر ہونا، دجال کا آنا، عیسیٰ ابن مریم [ کا زمین پر نازل ہونا، دھواں کا ظاہرہونا اور زمین کا تین مرتبہ دھنسنا ایک مرتبہ مغرب میں، ایک مرتبہ مشرق میں اور ایک مرتبہ جزیرۃ العرب میں اور آخر میں آگ یمن سے عدن کی طرف رونما ہوگی جو لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کرے گی۔ “ (رواہ ابوداؤد : باب أمارات الساعۃ، قال البانی صحیح) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو مجرموں کو زمین میں دھنسا دے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو آسمان سے ظالموں پر پتھروں کی بارش برسائے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں سے پہلے کئی ظالموں کی گرفت کی۔ غور کرو ! اللہ کی پکڑ کس قدر سخت ہوگی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا ظالم اقوام کی گرفت کرنا : ١۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : ١٣٦) ٢۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقہ : ٦) ٣۔ ثمود زور دار دھماکے کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقہ : ٥) (الحجر : ٧٤) (ھود : ٨٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ء امنتم ........................ نکیر یہ انسان جو اس سدھائی ہوئی مطیع فرمان سواری پر سوار ہوکر مزے لوٹ رہا ہے اور اس سواری کے اندر ہی اپنا رزق دودھ کی شکل میں حاصل کرتا ہے ، اسے معلوم ہے کہ یہ مطیع فرمان سواری ایک دن بگڑ جائے گی اور جب اللہ کا حکم ہوگا تو یہ ایسی نہ رہے گی۔ یہ ذرا سا جھٹکا ہی دے گی کہ اس کے اوپر کی تمام چیزیں ادھر ادھر بکھر جائیں گی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح لرز جائیں گے اور یہ اس قدر تیز جھکولے کھانے لگے گی اور ایسے حالات بڑے زلزلوں اور بڑی بڑی آتش نشانیوں کے وقت بھی ہوتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رکی ہوئی اور تابع زمین کے اندر کس قدر سرکشی ہے جو ناقابل کنٹرول ہے۔ اس کی زمام تو اللہ نے پکڑ رکھی ہے۔ اس لئے یہ جھٹکے نہیں کھاتی ہے اور جب یہ چند سیکنڈ یا ایک منٹ کے لئے بھی جھٹکے دے تو زمین کے اوپر انسانوں نے جس قدر پختہ سے پختہ قلعے تعمیر کیے ہوئے ہیں ، سب مسمار ہوجاتے ہیں۔ اور یہ بستیوں کی بستیاں اس کے پیٹ کے اندر دھنس جاتی ہیں اور جب انسان اس کے اندر جارہے ہوں تو کوئی چیز بھی انہیں بچا نہ سکے۔ زلزلوں ، آتش فشانی اور دھنسنے کے وقت یہ فرعون انسان پھر چوہوں کی طرح ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔ جس طرح چوہے پنجرے میں بند ہوں اور وہ نکلنے کے لئے ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔ ایک منٹ پہلے تو یہ غافل ، مست ، سرکش اور اس ذات عالی مقام سے غافل تھے جس نے اس سرکش سواری کی زمان کو تھام رکھا تھا اور اب ہر طرف بھگڈر ہے۔ انسان اس دنیا میں ایسی آندھیاں بھی دیکھتے ہیں جو بادوباراں کے ساتھ پتھر بھی برسارہی ہوتی ہیں اور جس جس بستی سے گزرتی ہیں ، درختوں ، خیموں اور مکانات کو اڑاتی چلی جاتی ہیں۔ جنگلات کو جلا کر بھسم کردیتی ہیں اور لوگ دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ بےبس دیکھتے چلے جاتے ہیں۔ ان کا علم اور ان کی قوت اور ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ یہ طوفان ہزاروں میل کی رفتار سے چلتے ہیں اور پتھر اڑاتے اور سمندروں کو خشکیوں پر چڑھاتے چلے جاتے ہیں تو انسان ان کے سامنے ایک مچھر اور چیونٹی کے برابر رہ جاتا ہے ، لیکن یہ اللہ کی قوت ہی ہوتی ہے جو اپنی افواج کو روکتی ہے اور پھر یہ زمین اور یہ سواری قرار پکڑتی ہے۔ قرآن کریم انسانوں کو یاد دلاتا ہے کہ یہ سواری جو تمہارے لئے سدھائی ہے اور بڑی سلامتی سے چل رہی ہے ، تم کہیں دھوکہ نہ کھا جاﺅ، یہ تو خالق کائنات کے کنٹرول میں ہے اور اسی نے اسے تمہارے لئے سدھایا ہے ، اس کی سرکشیاں جب شروع ہوں گی تو تم پھر اپنے آپ کو کسی صورت میں بچا نہ سکو گے۔ یہ زمین جھکولے کھاسکتی ہے اور تیز رفتاری اختیار کرسکتی ہے۔ یہ اپنے اندر سے گرم گرم لاوا بھی اگل سکتی ہے ، یہ تمہیں زمین کے اندر بھی دھنسا سکتی ہے ، پتھروں کی بارش بھی ہوسکتی ہے۔ کوئی انسانی طاقت اس کو نہیں روک سکتی۔ اور نہ کوئی انسانی طاقت اسے تباہی و بربادی سے دور کرسکتی ہے۔ اللہ اس قدر ڈراتا ہے کہ دل دہل جاتے ہیں اور اعصاب شل ہوجاتے ہیں اور اعضا تھرتھرانے لگتے ہیں۔ فستعلمون ................ نذیر (٧٦ : ٧١) ” پھر تمہیں معلوم ہوجائے کہ میری تنبیہہ کیسی ہوتی ہے “۔ اب ان کے سامنے تاریخی واقعات کی طرف ایک مجمل اشارہ پیش کیا جاتا ہے کہ ازمنہ ماضیہ میں بعض منکرین کا عبرتناک انجام تمہارے سامنے ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ ” ء امنتم من فی السماء۔ تا۔ فکیف کان نکیر “ تخویف دنیوی من فی السماء سے اللہ تعالیٰ مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے آسمانوں میں ہونے سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے آسمانوں میں ہونے سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے اور کیفیت سے بحث کرنا جائز نہیں۔ الایۃ من المتشابہات لکونہ تعالیٰ منزھا عن التمکین فی السماء فمذھب السلف السکوت (مظہری ج 10 ص 25) ۔ وائمۃ السلف لم یذھبوا الی غیرہ تعالیٰ والایۃ عندھم من المتشابہ وقد قال (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امنوا بمتشباہہ ولم یقل اولوہ فھم مومنون بانہ عز وجل فی السماء علی المعنی الذی ارادہ سبحانہ مع کمال التنزیہ (روح ج 29 ص 15) ۔ فرمایا کیا تم اللہ تعالیٰ سے نڈر ہوگئے ہو اور اس پر مطمئن ہوچکے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں نہیں دھنسا دے گا یا آسمان سے پتھر برسا کر تمہیں ہلاک نہیں کرے گا۔ جب اس کا عذاب کسی شکل میں آگیا تو تمہیں میرے ڈرانے کا حال معلوم ہوجائیگا اور تم جان لوگے کہ میں کس طرح عذاب لاتا ہوں ” نذیر “ مصدر ہے بمعنی انذار (روح) ۔ ان سے پہلے بھی گذشتہ قوموں کے کافروں نے تکذیب کی تو ان پر میرا انکار کیسا رہا۔ نکیر بمعنی انکار ہے اور یائے متکلم محذوف ہے جس پر کسرہ راء دال ہے مقصد عذاب کی شدت وفظاعت کا اظہار ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(16) کیا تم اس سے نڈر اور بےخوف ہگئے ہو جو آسمان میں بھی حکمراں اور متصرف ہے کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ زمین یکایک لرزنے لگے۔ یعنی آسمان اس کی سلطنت اور اس کی حکمرانی کا مظہر ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کی حکومت صرف آسمان میں ہے بلکہ حکومت اس کی جس طرح زمین میں ہے اسی طرح آسمان میں ہے۔ من فی السماء یا تو حضرت حق تعالیٰ کی علوشان کی وجہ سے آسمان کی جانب نسبت فرمائی یا اس وجہ سے کہ عام کافر یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں ہے اور رحمت و عذاب اس کی طرف سے اترا کرتے ہیں۔ اس لئے من فی السماء فرمایا ہم نے تیسیر میں بھی حکمراں متصرف کے تفسیری الفاظ بڑھا کر ان تمام شبہات کو دفع کردیا ہے زمین پر تو اس کی حکومت ظاہر ہی ہے کہ اس نے زمین کو تمہارے لئے مسخر کررکھا ہے اسی طرح آسمان میں بھی وہی حکمراں ہے تو کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور زمین پانی کی طرح حرکت کرنے لگے اور تھر تھرا کر الٹ پلٹ ہوجائے اور تم دھنس جائو اور زمین برابر ہوجائے جیسا کہ عام طور پر خسف کے موقعہ پر دیکھا گیا ہے اس لئے اس سے جو آسمان میں ہے کسی وقت بےخوف اور نڈر نہ ہونا چاہیے بلکہ ہر وقت اس سے ڈرتے رہنا چاہیے، اور اس کی نافرمانی سے احتراز اور اجتناب کرنا چاہیے۔ صاحب قاموس نے تمور کے معنی کئے ہیں تفطرب ذھاباومجیا آگے پھر تنبیہہ فرماتے ہیں۔