Surat ul Mulk

Surah: 67

Verse: 5

سورة الملك

وَ لَقَدۡ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِمَصَابِیۡحَ وَ جَعَلۡنٰہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیٰطِیۡنِ وَ اَعۡتَدۡنَا لَہُمۡ عَذَابَ السَّعِیۡرِ ﴿۵﴾

And We have certainly beautified the nearest heaven with stars and have made [from] them what is thrown at the devils and have prepared for them the punishment of the Blaze.

بیشک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں ( ستاروں ) سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنا دیا اور شیطانوں کے لئے ہم نے ( دوزخ کا جلانے والا ) عذاب تیار کر دیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاء الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ ... And indeed We have adorned the nearest heaven with lamps, This refers to the stars which have been placed in the heavens, some moving and some stationary. In Allah's statement, ... وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ ... and We have made them (as) missiles to drive away the Shayatin, The pronoun `them' in His statement, "and We have made them" is the same type of statement as the stars being referred to as lamps. This does not mean that they are actually missiles, because the stars in the sky are not thrown. Rather, it is the meteors beneath them that are thrown and they are taken from the stars. And Allah knows best. Concerning Allah's statement, ... وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ and We have prepared for them the torment of the blazing Fire. means, `We have made this disgrace for the devils in this life and We have prepared for them the torment of the blazing Fire in the Hereafter.' This is as Allah said in the beginning of Surah As-Saffat, إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَأءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَكِبِ وَحِفْظاً مِّن كُلِّ شَيْطَـنٍ مَّارِدٍ لااَّ يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلاِ الااٌّعْلَى وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ دُحُوراً وَلَهُمْ عَذابٌ وَاصِبٌ إِلاَّ مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Verily, We have adorned the near heaven with the stars (for beauty). And to guard against every rebellious devil. They cannot listen to the higher group (angels) for they are pelted from every side. Outcast, and theirs is a constant (or painful) torment. Except such as snatch away something by stealing, and they are pursued by a flaming fire of piercing brightness. (37:6-10) Qatadah said, "These stars were only created for three purposes: - Allah created them as adornment for the heaven (sky), - as missiles for the devils and - as signs for navigation. Therefore, whoever seeks to interpret any other meanings for them other than these, then verily he has spoken with his own opinion, he has lost his portion and burdened himself with that which he has no knowledge of." Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim both recorded this statement.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 یہاں ستاروں کے دو مقصد بیان کئے گئے ہیں ایک آسمانوں کی زینت کیونکہ وہ چراغوں سے جلتے ہیں دوسرا کہ شیطان آسمانوں کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ شرارہ بن کر ان پر گرتے ہیں۔ تیسرا مقصد ان کا یہ ہے جسے دوسرے مقامات پر بیان فرمایا گیا ہے کہ ان سے برو بحر میں راستوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة حجر کی آیت نمبر ١٧ پر حاشیہ نمبر ٩

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ ۔۔۔۔۔۔:” الدنیا “ ‘” دنا یدنو “ میں سے ” ادنی “ کی مؤنث ہے ، سب سے قریب ، اگرچہ سات آسمانوں میں سے ہر آسمان خالق کی کاریگری کا عظیم الشان نمونہ ہے ، مگر زمین کے سب سے قریب آسمان کی زینب و حفاظت کا جو اہتمام ہم نے کیا ہے وہ تو کچھ کچھ تمہیں بھی نظر آرہا ہے ، اس کے لیے تو کسی خاص آلے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں ستاروں کے تین فائدے بیان فرمائے ہیں، پہلا فائدہ زینت ہے ، رات کو چھوٹے بڑے لا تعداد ستاروں کے ساتھ آسمان جس قدر مزین ہوتا ہے اور حسین و جمیل نظر آتا ہے اگر ستارے نہ ہوتے تو اتنا ہی بد صورت دکھائی دیتا اور بےزیب ہوتا ۔ دوسرا فائدہ روشنی ہے جو ” مصابیح “ ( چراغوں) کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے ۔ اگرچہ یہ چراغ نہ ہوتے تو ہر رات انتہائی تاریک ہوتی ۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ ان ستاروں کے ذریعے سے ان شیطانوں کو مار بھگایا جاتا ہے جو فرشتوں کی باتیں سن کر کاہنوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ، تا کہ وہ لوگوں کو غیب دانی کے دعویٰ سے گمراہ کرسکیں ۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (٦ تا ١٠) کی تفسیر ۔ چوتھا فائدہ دوسری جگہ بیان فرمایا ( وَبِالنَّجْمِ ہُمْ یَہْتَدُوْنَ ) (النحل : ١٦)” اور ستاروں کے ساتھ وہ راستہ معلوم کرتے ہیں ۔ “ یعنی ستارے بحر و بر میں راستہ اور سمت معلوم کرنے کے کام آتے ہیں ۔ ان کے علاوہ ستاروں میں سعادت یا نحوست سمجھنا یا انہیں کسی اختیار کا مالک سمجھنا شرک ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُ‌جُومًا لِّلشَّيَاطِينِ (And We have decorated the nearest sky with lamps, and have made them devices to stone the devils, and We have prepared for them the punishment of Hell....67:5). The word &masabih& (translated above as &lamps& ) stands for &stars&. The fact that the sky is decorated with stars does not necessarily imply that they should be studded with them inside or under the sky. The decoration is available also to the situation when the stars are far below the sky in space as modern research has proved it by observation. This is not contradictory to the classical interpretation. The statement &[ We ] have made them [ stars ] devices to stone the devils& probably implies that some fiery matters originating from the stars are used to shoot at them, and the stars themselves remain intact in their position. Since this illuminated matter seems to the common people as &falling stars&. [ Qurtubi ]. This further shows that devils who attempt to eavesdrop on celestial conversations for information are driven away before they can reach the stars. [ Qurtubi ]. Thus far evidence and proofs of Allah&s consummate knowledge and power were adduced with reference to the various types of creation. In the verses that follow the subject of punishment for unbelievers and of re-ward for believers and the obedient is taken up, thus: وَلِلَّذِينَ كَفَرُ‌وا بِرَ‌بِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ (And for those who disbelieve, there is the punishment of Jahannam ...67:6). The subject runs through seven verses. Thereafter, the subject of Divine knowledge and power is revisited.

(آیت) وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ ، مصابیح سے مراد ستارے ہیں اور نیچے کے آسمان کو ستاروں سے مزین کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ستارے آسمان کے اندر یا اس کے اوپر لگے ہوئے ہوں بلکہ یہ تزیین اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ستارے آسمان سے بہت نیچے خلا میں ہوں جیسا کہ تحقیق جدید سے اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے یہ اس کے منافی نہیں اور ستاروں کو شیاطین کے دفع کرنے کے لئے انگارے بنا دینے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ستاروں میں سے کوئی مادہ آتشیں ان کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہو ستارے اپنی جگہ رہتے ہوں، عوام کی نظر میں چونکہ یہ شعلہ ستارہ کی طحر حرکت کرتا ہوا نظر آتا ہے اسلئے اس کو ستارہ ٹوٹنا اور عربی میں انقضاض الکوب کہہ دیتے ہیں (قرطبی) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شیاطین جو آسمانی خبریں چرانے کے لئے چڑھتے ہیں وہ کواکب اور ستاروں سے نیچے ہی دفع کردیئے جاتے ہیں (قرطبی) یہاں تک مختلف مخلوقات میں غور و فکر کے ذریعہ حق تعالیٰ کے کمال علم وقدرت کے دلائل بیان ہوئے آگے منکرین اور کفار کا عذاب اور پھر مؤمنین اور اطاعت شعار لوگوں کا ثواب بیان ہوا ہے وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّم سے سات آیتوں تک یہ مضمون چلا ہے۔ آگے پھر وہی علم وقدرت کا بیان ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰہَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابَ السَّعِيْرِ۝ ٥ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ زين الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين، ( زی ن ) الزینہ زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک پہلو کے اعتبار سے زینت کہہ سکتے ہیں سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] ، وقوله : وَآتَيْناهُ فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ النحل/ 122] ، وتارة عن الأقرب، فيقابل بالأقصی نحو : إِذْ أَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوى[ الأنفال/ 42] ، وجمع الدّنيا الدّني، نحو الکبری والکبر، والصّغری والصّغر . وقوله تعالی: ذلِكَ أَدْنى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهادَةِ [ المائدة/ 108] ، أي : أقرب لنفوسهم أن تتحرّى العدالة في إقامة الشهادة، وعلی ذلک قوله تعالی: ذلِكَ أَدْنى أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ [ الأحزاب/ 51] ، وقوله تعالی: لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ [ البقرة/ 220] ، متناول للأحوال التي في النشأة الأولی، وما يكون في النشأة الآخرة، ويقال : دَانَيْتُ بين الأمرین، وأَدْنَيْتُ أحدهما من الآخر . قال تعالی: يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَ [ الأحزاب/ 59] ، وأَدْنَتِ الفرسُ : دنا نتاجها . وخصّ الدّنيء بالحقیر القدر، ويقابل به السّيّئ، يقال : دنیء بيّن الدّناءة . وما روي «إذا أکلتم فدنّوا» من الدّون، أي : کلوا ممّا يليكم . دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا هے۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی ۔ اور آیت کریمہ ؛وَآتَيْناهُ فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ النحل/ 122] اور ہم نے ان کو دینا بھی خوبی دی تھی اور آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی اقرب آنا ہے اوراقصی کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ إِذْ أَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوى[ الأنفال/ 42] جس وقت تم ( مدینے کے ) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر ۔ الدنیا کی جمع الدنیٰ آتی ہے جیسے الکبریٰ کی جمع الکبر والصغریٰ کی جمع الصغر۔ اور آیت کریمہ ؛ذلِكَ أَدْنى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهادَةِ [ المائدة/ 108] اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت ادا کریں ۔ میں ادنیٰ بمعنی اقرب ہے یعنی یہ اقرب ہے ۔ کہ شہادت ادا کرنے میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھیں ۔ اور آیت کریمہ : ذلِكَ أَدْنى أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ [ الأحزاب/ 51] یہ ( اجازت ) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہیں ۔ بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ [ البقرة/ 220] تا کہ تم سوچو ( یعنی ) دنای اور آخرت کی باتوں ) میں غور کرو ) دنیا اور آخرت کے تمام احوال کی شامل ہے کہا جاتا ہے ادنیت بین الامرین وادنیت احدھما من الاخر ۔ یعنی دوچیزوں کو باہم قریب کرنا ۔ یا ایک چیز کو دوسری کے قریب کرتا ۔ قرآن میں ہے : يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَ [ الأحزاب/ 59] کہ باہر نکلاکریں تو اپنی چادریں اپنے اوپر ڈٖال لیا کریں َ ادنت الفرس ۔ گھوڑی کے وضع حمل کا وقت قریب آپہنچا ۔ الدنی خاص ک حقیر اور ذیل آدمی کو کہا جاتا ہے اور یہ سیئ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے کہا کاتا ہے :۔ ھودنی یعنی نہایت رزیل ہے ۔ اور حومروی ہے تو یہ دون سے ہیے یعنی جب کھانا کھاؤ تو اپنے سامنے سے کھاؤ ۔ صبح الصُّبْحُ والصَّبَاحُ ، أوّل النهار، وهو وقت ما احمرّ الأفق بحاجب الشمس . قال تعالی: أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] ، وقال : فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] ، والتَّصَبُّحُ : النّوم بالغداة، والصَّبُوحُ : شرب الصّباح، يقال : صَبَحْتُهُ : سقیته صبوحا، والصَّبْحَانُ : الْمُصْطَبَحُ ، والْمِصْبَاحُ : ما يسقی منه، ومن الإبل ما يبرک فلا ينهض حتی يُصْبَحَ ، وما يجعل فيه الْمِصْبَاحُ ، قال : مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكاةٍ فِيها مِصْباحٌ الْمِصْباحُ فِي زُجاجَةٍ [ النور/ 35] ، ويقال للسّراج : مِصْبَاحٌ ، والْمِصْبَاحُ : مقرّ السّراج، والْمَصَابِيحُ : أعلام الکواكب . قال تعالی: وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنْيا بِمَصابِيحَ [ الملک/ 5] ، وصَبِحْتُهُمْ ماء کذا : أتيتهم به صَبَاحاً ، والصُّبْحُ : شدّة حمرة في الشّعر، تشبيها بالصّبح والصّباح، وقیل : صَبُحَ فلان أي : وَضُؤَ ( ص ب ح) الصبح والصباح دن کا ابتدائی حصہ جبکہ افق طلوع آفتاب کی وجہ سے سرخ ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] کیا صبح کچھ دور ہے ۔ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] تو جن کو ڈرسنا یا گیا ہے ۔ ان کے لئے برادن ہوگا ۔ التصبح صبح کے وقت سونا ۔ الصبوح صبح کی شراب کو کہتے ہیں اور صبحتہ کے معنی صبح کی شراب پلانے کے ہیں ۔ الصبحان صبح کے وقت شراب پینے والا ( مونث صبحیٰ ) المصباح (1) پیالہ جس میں صبوحی پی جائے (2) وہ اونٹ جو صبح تک بیٹھا رہے (3) قندیل جس میں چراغ رکھا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكاةٍ فِيها مِصْباحٌ الْمِصْباحُ فِي زُجاجَةٍ [ النور/ 35] اس کے نور کی مثال ایسی ہے گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ اور چراغ ایک قندیل میں ہے ۔ اور چراغ کو بھی مصباح کہاجاتا ہے اور صباح کے معنی بتی کی لو کے ہیں ۔ المصا بیح چمکدار ستارے جیسے فرمایا : وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنْيا بِمَصابِيحَ [ الملک/ 5] اور ہم نے قریب کے آسمان کو تاروں کے چراغوں سے زینت دی ۔ صبحتم ماء کذا میں صبح کے وقت انکے پاس فلاں پانی پر جاپہنچا اور کبھی صبیح یا صباح کی مناسبت سے بالوں کی سخت سرخی کو بھی صبح کہا جاتا ہے ۔ صبح فلان خوبصورت اور حسین ہونا ۔ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ رجم الرِّجَامُ : الحجارة، والرَّجْمُ : الرّمي بالرِّجَامِ. يقال : رُجِمَ فهو مَرْجُومٌ ، قال تعالی: لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ [ الشعراء/ 116] ، أي : المقتولین أقبح قتلة، وقال : وَلَوْلا رَهْطُكَ لَرَجَمْناكَ [هود/ 91] ، إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ [ الكهف/ 20] ، ويستعار الرّجم للرّمي بالظّنّ ، والتّوهّم، وللشّتم والطّرد، نحو قوله تعالی: رَجْماً بِالْغَيْبِ وما هو عنها بالحدیث المرجّم «7» وقوله تعالی: لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] ، أي : لأقولنّ فيك ما تكره والشّيطان الرَّجِيمُ : المطرود عن الخیرات، وعن منازل الملإ الأعلی. قال تعالی: فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ [ النحل/ 98] ، وقال تعالی: فَاخْرُجْ مِنْها فَإِنَّكَ رَجِيمٌ [ الحجر/ 34] ، وقال في الشّهب : رُجُوماً لِلشَّياطِينِ [ الملک/ 5] ( ر ج م ) الرجام ۔ پتھر اسی سے الرجیم ہے جس کے معنی سنگسار کرنا کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے رجمۃ ۔ اسے سنگسار کیا اور جسے سنگسار کیا گیا ہوا سے مرجوم کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے ؛ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ [ الشعراء/ 116] کہ تم ضرور سنگسار کردیئے جاؤ گے ۔ إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ [ الكهف/ 20] کیونکہ تمہاری قوم کے لوگ تمہاری خبر پائیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے ۔ پھر استعارہ کے طور پر رجم کا لفظ جھوٹے گمان تو ہم ، سب وشتم اور کسی کو دھتکار دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے رَجْماً بِالْغَيْب یہ سب غیب کی باتوں میں اٹکل کے تکے چلاتے ہیں ۔ (176) ، ، وماھو عنھا بالحدیث المرکم ، ، اور لڑائی کے متعلق یہ بات محض انداز سے نہیں ہے ۔ اور شیطان کو رجیم اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ خیرات اور ملائم اعلیٰ کے مراتب سے راندہ ہوا ہے قرآن میں ہے :۔ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ [ النحل/ 98] تو شیطان مردود کے وسواس سے خدا کی پناہ مانگ لیاکرو ۔ فَاخْرُجْ مِنْها فَإِنَّكَ رَجِيمٌ [ الحجر/ 34] تو بہشت سے نکل جا کہ راندہ درگاہ ہے ۔ اور شھب ( ستاروں ) کو رجوم کہا گیا ہے قرآن میں ہے :۔ رُجُوماً لِلشَّياطِينِ [ الملک/ 5] ان کی شیاطین کے لئے ایک طرح کا زوبنایا ہے ۔ رجمۃ ورجمۃ ۔ قبر کا پتھر جو بطور نشان اس پر نصب کیا جاتا ہے ۔ شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو عد ( اعداد) والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] ، أي : عِدَّةَ الشّهر، وقوله : أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] ، فإشارة إلى شهر رمضان . وقوله : وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] ، فهي ثلاثة أيّام بعد النّحر، والمعلومات عشر ذي الحجّة . وعند بعض الفقهاء : المَعْدُودَاتُ يومُ النّحر ويومان بعده فعلی هذا يوم النّحر يكون من المَعْدُودَاتِ والمعلومات، والعِدَادُ : الوقت الذي يُعَدُّ لمعاودة الوجع، وقال عليه الصلاة والسلام :«ما زالت أكلة خيبر تُعَادُّنِي» وعِدَّانُ الشیءِ : عهده وزمانه . ( ع د د ) العدد الاعداد تیار کرنا مہیا کرنا یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعددت ھذا لک کے منعی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے کہ تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] اور جہاں تک ہوسکے ( فوج کی جمیعت سے ) ان کے ( مقابلے کے لئے مستعد رہو ۔ اور جو ) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں ۔ أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] اور ہم نے جھٹلا نے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اعتدت بھی اسی ( عد ) سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] تم روزوں کا شمار پورا کرلو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم ماہ رمضان کی گنتی پوری کرلو ۔ أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] گنتی کے چند روز میں ماہ رمضان کی طرف اشارہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] اور گنتی کے دنوں میں خدا کو یاد کرو ۔ میں سے عید قربان کے بعد کے تین دن مراد ہیں اور معلومات سے ذوالحجہ کے دس دن بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ایام معدودۃ سے یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن مراد ہیں اس صورت میں یوم النحر بھی ان تین دنوں میں شامل ہوگا ۔ العداد اس مقرر وقت کو کہتے ہیں جس میں بیماری کا دورہ پڑتا ہو ۔ آنحضرت نے فرمایا مازالت امۃ خیبر تعادنی کہ خیبر کے دن جو مسموم کھانا میں نے کھایا تھا اس کی زہر بار بار عود کرتی رہی ہے عد ان الشئی کے معنی کسی چیز کے موسم یا زمانہ کے ہیں عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا سعر السِّعْرُ : التهاب النار، وقد سَعَرْتُهَا، وسَعَّرْتُهَا، وأَسْعَرْتُهَا، والْمِسْعَرُ : الخشب الذي يُسْعَرُ به، واسْتَعَرَ الحرب، واللّصوص، نحو : اشتعل، وناقة مَسْعُورَةٌ ، نحو : موقدة، ومهيّجة . السُّعَارُ : حرّ النار، وسَعُرَ الرّجل : أصابه حرّ ، قال تعالی: وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيراً [ النساء/ 10] ، وقال تعالی: وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ [ التکوير/ 12] ، وقرئ بالتخفیف «2» ، وقوله : عَذابَ السَّعِيرِ [ الملک/ 5] ، أي : حمیم، فهو فعیل في معنی مفعول، وقال تعالی: إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلالٍ وَسُعُرٍ [ القمر/ 47] ، والسِّعْرُ في السّوق، تشبيها بِاسْتِعَارِ النار . ( س ع ر ) السعر کے معنی آگ بھڑکنے کے ہیں ۔ اور سعرت النار وسعر تھا کے معنی آگ بھڑکانے کے ۔ مجازا لڑائی وغیرہ بھڑکانے کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے : ۔ استعر الحرب لڑائی بھڑک اٹھی ۔ استعر اللصوص ڈاکو بھڑک اٹھے ۔ یہ اشتعل کے ہم معنی ہے اور ناقۃ مسعورۃ کے معنی دیوانی اونٹنی کے ہیں جیسے : ۔ موقدۃ ومھیجۃ کا لفظ اس معنی میں بولا جاتا ہے ۔ المسعر ۔ آگ بھڑکانے کی لکڑی ( کہرنی ) لڑائی بھڑکانے والا ۔ السعار آگ کی تپش کو کہتے ہیں اور سعر الرجل کے معنی آگ یا گرم ہوا سے جھلس جانے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيراً [ النساء/ 10] اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے ۔ وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ [ التکوير/ 12] اور جب دوزخ ( کی آگ ) بھڑکائی جائے گی ۔ عَذابَ السَّعِيرِ [ الملک/ 5] دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ تو یہاں سعیر بمعنی مسعور ہے ۔ نیز قران میں ہے : ۔ إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلالٍ وَسُعُرٍ [ القمر/ 47] بیشک گنہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں ( مبتلا ہیں ) السعر کے معنی مروجہ نرخ کے ہیں اور یہ استعار ہ النار ( آگ کا بھڑکنا ) کے ساتھ تشبیہ کے طور پر بولا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم نے پہلے آسمان کو ستاروں سے آراستہ کر رکھا ہے اور ہم نے ان ستاروں کو مارنے قتل کرنے اور جلا دینے کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور ہم نے شیطانوں کے لیے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥{ وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ } ” اور ہم نے سب سے قریبی آسمان کو سجا دیا ہے چراغوں سے “ یعنی زمین سے قریب ترین آسمان کو ستاروں سے مزین کردیا گیا ہے۔ { وَجَعَلْنٰـہَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ } ” اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ “ ان ستاروں میں ایسے میزائل نصب کردیے گئے ہیں جو غیب کی خبروں کی ٹوہ میں عالم بالا کی طرف جانے والے شیاطین ِجن کو نشانہ بناتے ہیں۔ { وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ ۔ } ” اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9 "The nearest heaven": the heaven the stars and planets of which can be seen with the naked eye; the objects beyond that which can be seen only through telescopes are the distant heaven; and the heavens still farther away are those which have not yet been seen even with telescopes. 10 The word masabih in the original has been used as a common noun, and therefore, automatically gives the meaning of the lamp's being splendid and glorious. It means: "We have not created this universe dark, dismal and desolate, but have decked and decorated it with stars, the glory and grandeur of which at night strike man with amazement." 11 This does not mean that the stars themselves are pelted at the Satans, nor that the meteorites shoot out only to drive away the Satans, but it means that the countless meteorites which originate from the stars and wander in space at tremendous speeds and which also fall to the earth in a continuous shower prevent the Satans of the earth from ascending to the heavens. Even if they try to ascend heavenward these meteorites drive them away. This thing has been mentioned here because the Arabs believed about the soothsayers, and this also was the claim made by the soothsayers themselves, that the Satans were under their control, or that they had a close contact with them, and through them they received news of the unseen, and thus, could foretell the destinies of the people. That is why at several places in the Qur'an, it has been stated that there is absolutely no possibility of the Satans' ascending to the heavens and bringing news of the unseen. (For explanation, see E.N.'s 9-12 of AI-Hijr, E.N.'s 6, 7 of As-Saaffat) . As for the truth about meteorites, man's information in this regard is still without a scientific basis. However, the theory which seems best to account for all the facts known today and the information gathered from the examination of the meteorites fallen on the earth, is that meteorites originate from the disintegration of one or more planets and wander in space and sometimes fall to the earth under its gravitational pull. (See Erlcyclopaedia Britannica, vol. XV, under "Meteorites") .

سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :9 قریب کے آسمان سے مراد وہ آسمان ہے جس کے تا روں اور سیاروں کو ہم برہنہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں اس سے آگے جن چیزوں کے مشاہدے کے لیے آلات کی ضرورت پیش آتی ہو وہ دور کے آسمان ہیں ۔ اور ان سے بھی زیادہ دور کے آسمان وہ ہیں جن تک آلات کی رسائی بھی نہیں ہے ۔ سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :10 اصل میں لفظ مصابیح نکرہ استعمال ہوا ہے اور اس کے نکرہ ہونے سے خود بخود ان چراغوں کے عظیم الشان ہونے کا مفہوم پیدا ہوتا ہے ۔ ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ کائنات ہم نے اندھیری اور سنسان نہیں بنائی ہے بلکہ ستاروں سے خوب مزین اور آراستہ کیا ہے جس کی شان اور جگمگاہٹ رات کے اندھیروں میں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے ۔ سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :11 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی تارے شیطانوں پر پھینک مارے جاتے ہیں ، اور یہ مطلب بھی نہیں کہ شہاب ثاقب صرف شیطانوں کو مارنے ہی کے لیے گرتے ہیں ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ تاروں سے جو بے حد و حساب شہاب ثاقب نکل کر کائنات میں انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ گھومتے رہتے ہیں ، اور جن کی بارش زمین پر بھی ہر وقت ہوتی رہتی ہے ، وہ اس امر میں مانع ہے کہ زمین کے شیاطین عالم بالا میں جا سکیں ۔ اگر وہ اوپر جانے کی کوشش کریں بھی تو یہ شہاب انہیں مار بھگاتے ہیں ۔ اس چیز کو بیان کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ عرب کے لوگ کاہنوں کے متعلق یہ خیال رکھتے تھے اور یہی خود کاہنوں کا دعویٰ بھی تھا ، کہ شیاطین ان کے تابع ہیں ، یا شیاطین سے ان کا رابطہ ہے ، اور ان کے ذریعہ سے انہیں غیب کی خبریں حاصل ہوتی ہیں اور وہ صحیح طور پر لوگوں کی قسمتوں کا حال بتا سکتے ہیں ۔ اس لیے قرآن میں متعدد مقامات پر یہ بتایا گیا ہے کہ شیاطین کے عالم بالا میں جانے اور وہاں سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کا قطعا کوئی امکان نہیں ہے ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الحجر ، حواشی 9 تا 12 ۔ الصافات ، حواشی 6 ، 7 ۔ رہا یہ سوال کہ ان شہابوں کی حقیقت کیا ہے ، تو اس کے بارے میں انسان کی معلومات اس وقت تک کسی قطعی تحقیق سے قاصر ہیں ۔ تاہم جس قدر بھی حقائق اور واقعات جدید ترین دور تک انسان کے علم آئے ہیں ، اور زمین پر گرے ہوئے شہابیوں کے معائنے سے جو معلومات حاصل کی گئی ہیں ، ان کی بناء پر سائنس دانوں میں سب سے زیادہ مقبول نظریہ یہی ہے کہ یہ شہابیے کسی سیارے کے انفجار کی بدولت نکل کر خلا میں گھومتے رہتے ہیں اور پھر کسی وقت زمین کی کشش کے دائرے میں آ کر ادھر کا رخ کر لیتے ہیں ( ملاحظہ ہو انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ، ایڈیشن 1967ء ۔ جلد 15 ۔ لفظ ( Meteorites ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: چراغوں سے مراد ستارے اور اَجرام فلکی ہیں جو رات کے وقت سجاوٹ کا بھی ذریعہ بنتے ہیں، اور ان سے شیطانوں کو مارنے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ شیطانوں کو مارنے کی تفصیل سورۂ حجر (۱۵:۱۸) کے حاشیہ میں گذر چکی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(67:5) ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح : واؤ عاطفہ لقد میں لام تاکید کا اور قد ماضی پر داخل ہو کر تحقیق کا فائدہ دیتا ہے اور فعل ماضی کو حال سے قریب کردیتا ہے۔ زینا ماضی جمع متکلم تزیین (تفعیل) مصدر۔ ہم نے زینت دی۔ ہم نے سنوارا۔ ہم نے آراستہ کیا۔ السماء موصوف الدنیا صفت، موصوف و صفت مل کر زینا کا مفعول الدنیا۔ دانیۃ اور دنیۃ کا اسم تفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ اول صورت میں اس کے معنی بہت قریب اور نزدیک کے ہیں اور دوسری صورت میں بہت ذلیل اور بہت حقیر کے معنی ہیں۔ اس کی جمع دنی ہے جیسے کبری کی جمع کبر اور صغری کی جمع صغر ہے۔ جب دنیا کا استعمال آخرت کے مقابلے میں ہوتا ہے تو اس کے معنی اول اور پہلے کے ہوتے ہیں اور جب قصوی کے مقابلہ میں ہوتا ہے تو اس کے معنی زیادہ قریب کے ہوتے ہیں۔ السماء الدنیا نیچے والا آسمان جو دوسرے آسمانوں سے زمین کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ بمصابیح۔ ب حرف جر مصابیح جمع جو منتہی الجموع کے وزن پر ہے اور بوجہ غیر منصرف ہونے کے مفتوح ہے جیسے مساجد۔ مصابیح بمعنی چراغ۔ جمع ستاروں کو چراغ اس لئے کہا گیا کہ وہ بھی چراغوں کی طرح روشن و تاباں ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور ہم نے قریب کے آسمان کو (ستاروں کے) چراغوں سے روشن و آراستہ کر رکھا ہے۔ وجعلنھا وجوما للشیطین۔ جملہ معطوف ہے جعلنا کا عطف زینا پر ہے۔ ھا مفعول ثانی ہے۔ رجوما آلات سنگ باری رجم کی جمع ہے رجم اصل میں مصدر ہے اور جس چیز کے لئے سنگسار کیا جائے اس کے لئے بطور اسم مستعمل ہے۔ فائدہ : مطلب آیت کا یہ ہے کہ شیاطین جب ملائکہ کی باتیں چوری چھپے سننا چاہتے ہیں تو ان کے مارنے کے لئے ستاروں کو ہم نے آتشیں پتھر بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ستارے اپنی جگہ سے ہٹ کر شیطانوں پر پتھروں کی طرح برستے ہیں بلکہ ان سے مجسم شعلے پھوٹ کر شیطانوں پر برستے ہیں۔ واعتدنا لہم عذاب السعیر : اعتدنا کا عطف زینا پر ہے لہم میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الشیاطین ہے۔ عذاب السعیر مضاف مضاف الیہ مل کر اعتدنا کا مفعول ہے۔ السعیر۔ دہکتی ہوئی آگ۔ دوزخ۔ سعر (باب فتح) مصدر۔ بمعنی آگ بھڑکانا ۔ سے بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے دہکتی ہوئی آگ۔ دوزخ۔ مطلب یہ کہ وہ شیاطین جو ملائکہ کی باتیں چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں ان کو شہاب ثاقب کی شکل میں ستاروں سے سنگباری ہوتی ہے۔ اور آخرت میں ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی ان سے شعلے نکلتے ہیں جو شیطانوں پر پھینکے جاتے ہیں تاکہ وہ آسمان میں ” ملاء اعلیٰ “ کی گفتگو سن کر غیب سے متعلق کوئی بات اچک نہ سکیں۔ یہ آسمان میں ستاروں کا دوسرا فائدہ ہے۔ (دیکھیے صافات 7) واضح رہے کہ مصابیح مصباح کی جمع ہے اور اس سے مراد روش ستارے ہیں عام اس سے کہ وہ سیارے ہوں یا ثوابت کیونکہ سب اپنے افلاک اور مجاری میں ہیں۔ سلف کے ہاں معروف یہ ہے کہ سماء اور فلک ایک نہیں ہیں ان کو ایک کہنا صرف ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے متقدمین فلاسفہ اور شریعت کے نظریات کو مع کرنے کی کوشش کی یہ۔9 یعنی آخرت میں انہیں (شیاطین) کو دوزخ کا عذاب دیا جائے گا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پہلے آسمان کی خصوصیت اور خوبصورتی۔ قرآن مجید میں یہ بات کئی مقامات پر بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے آسمان کو ستاروں سے مزّین فرمایا ہے۔ ستاروں کے کئی فائدے ہیں، ان میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ لوگ ستاروں کے ذریعے راستوں کی راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور انہی ستاروں سے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندو بست کیا گیا ہے۔ کیونکہ شیاطین آسمان دنیا کے دروازوں کے قریب جا کر ملائکہ کی گفتگو سننا چاہتے ہیں تو ستارے شیاطین پر انگارے بن کر برستے ہیں اس طرح شاتطین پر مستقل طور پر عذاب مسلّط کردیا گیا ہے۔ اس بندوبست سے پہلے شیاطین آسمان کے قریب جا کر ملائکہ کی کچھ نہ کچھ باتیں سن کر کاہنوں، نجومیوں اور اس قسم کے لوگوں کے دلوں میں جھوٹ، سچ ملا کر کوئی بات ڈال دیتے تھے۔ اسے آٹھویں پارے میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ ” تاکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل اس جھوٹ کی طرف مائل ہوں اور وہ اسے پسند کریں اور تاکہ وہ، وہ برائیاں کریں۔ “ (الانعام : ١١٣) اہل مکہ اسی بات کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر چسپاں کرتے اور کہتے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس فرشتہ نہیں بلکہ شیطان آتے ہیں جو پہلے لوگوں کے واقعات سنانے کے ساتھ اسے مزید باتیں بتاتے ہیں۔ اس الزام کی یہاں مجمل الفاظ میں تردید کی گئی ہے۔ انیسویں پارے میں کھلے الفاظ میں وضاحت فرمائی۔ ” کیا میں تمہیں بتلاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں وہ ہر ایک جھوٹے اور گنہگار پر اترتے ہیں اور انہیں سنی سنائی باتیں پہاچ تے ہیں۔ “ (الشعراء : ٢٢١ تا ٢٢٣) خالقِ کائنات کا ارشاد ہے کہ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے اسے خوبصورت بنایا اور شیاطین سے انہیں محفوظ کردیا۔ اگر کوئی شیطان چوری چھپے سننا چاہے تو ایک روشن اور بھڑکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ پہلے زمانے میں فلکیات کا علم رکھنے والے ماہرین نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد وہ برج نہیں ہیں۔ بروج سے مراد کچھ اہل علم نے پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں، جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان میں داخل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بروج سے مراد آسمان کے دروازوں میں ڈیوٹی دینے والے چوکیدار ملائکہ ہوں جن کو اللہ تعالیٰ نے شہاب ثاقب کی صورت میں اسلحہ دے رکھا ہو جن سے وہ شیاطین کو بھگاتے ہیں۔ اکثر علماء نے بروج سے مراد ستارے اور سیارے لیے ہیں جن سے آسمان کو خوبصورت اور محفوظ بنایا گیا ہے۔ حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے برج کے بارے میں ہمیں کوئی وضاحت نہیں ملتی، البتہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آسمان کی حفاظت اور شیاطین کے تعاقب کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے : ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ حدیث پہنچی جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر ہلاتے ہیں جس طرح کہ چٹان پر پھوار پڑتی ہے حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ ملائکہ اس حکم کا نفاذ کرتے ہیں جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا وہ کہتے ہیں حق فرمایا۔ وہی سب سے بلند وبالا ہے پس شیاطین اسے چوری چھپے سنتے ہیں اور ان کے سننے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے کندھوں پر سوار ہوتے ہوئے آسمان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سفیان نے اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھتے ہوئے اسے بیان کیا۔ بسا اوقات سننے والے شیطان پر شہاب ثاقب لپکتا ہے پہلے اس کے کہ وہ اس بات کو اپنے ساتھی تک پہنچائے وہ اس کو جلا دیتا ہے اور بسا اوقات شہاب ثاقب اسے نہیں پہنچتا یہاں تک کہ شیطان وہ بات نیچے والوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ بات چلتے چلتے زمین والوں تک پہنچ جاتی ہے ابو سفیان کہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس بات کو زمین والوں تک پہنچا دیتا اور اسے جادو گر کے کان میں ڈالتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملاتا ہے اس کی ایک بات کی وجہ سے اس کی تصدیق ہوجاتی ہے وہ کہتا ہے میں نے فلاں فلاں موقع پر تمہیں فلاں فلاں بات نہیں بتلائی تھی جو حق ثابت ہوئی تھی اس وجہ سے کہ وہ بات انھوں نے آسمان سے سنی ہوتی ہے۔ “ (رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُّبِیْنٌ) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان دنیا یعنی پہلے آسمان کو ستاروں سے مزین فرمایا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو شیطان کے لیے شباب ثاقب بنادیا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے شیاطین کے لیے جلادینے والاعذاب تیار کیا ہے۔ تفسیر بالقرآن ستاروں کے فوائد : ١۔ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے انھیں آراستہ کیا۔ (الحجر : ١٦) ٢۔ بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے۔ (الفرقان : ٦١) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو ستاروں سے سجایا۔ (البروج : ١) ٤۔ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے آراستہ کردیا ہے۔ (الصافات : ٦) ٥۔ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور شیطانوں سے محفوظ کردیا۔ (حٰم السجدۃ : ١٢) (ق : ٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

کمال کی طرح اس کائنات کی ہر چیز میں جمال بھی مقصود بالذات ہے بلکہ کمال اور جمال ایک ہی حقیقت کے دو نام یا دو پہلو ہیں ، کسی چیز میں کمال ہی اس کی خوبصورتی کا اعلیٰ درجہ ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن نے پہلے آسمانوں کی خوبصورتی کی طرف متوجہ کیا اور اس کے بعد کمال کی طرف۔ ولقد .................... بمصابیح (٧٦ : ٥) ” اور ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے “۔ یہ سمائے دنیا کہلاتا ہے۔ شایدہ یہ وہ بلندی ہے جو زمین کے مکان اور قرآن کے مخاطب انسانوں کے فہم کے قریب ہے۔ مصابیح اور چراغوں سے مراد ستارے اور سیارے ہیں جو ہمیں نظر آتے ہیں ، جن انسانوں سے قرآن مخاطب تھا وہ آسمانوں کو دیکھ کر یہی سمجھتے تھے کیونکہ ان کے پاس رصد گاہیں نہیں تھیں اور اس وقت بھی اور آج بھی کوئی آنکھوں سے آسمان کو دیکھے تو اس میں ستارے روشن چراغ نظر آتے ہیں۔ یہ منظر کس قدر خوبصورت ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں۔ اس قدر خوبصورت کہ انسان کے دل کو کھینچ لیتا ہے۔ اس منظر کے کئی رنگ ہیں۔ صبح وشام اس کا الگ الگ نظارہ ۔ طلوع اور غروب کا الگ نظارہ ہے۔ تاریک رات اور چاندنی ہے۔ گھڑی بھر میں مناظر بدلتے رہتے ہیں۔ جگہ کی تبدیلی سے مناظر بدلتے ہیں۔ زاویہ کی تبدیلی سے بدلتے ہیں لیکن جو منظر بھی سامنے آئے ذہن کو گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہ اکیلا ستارہ جو دور افق پر چمک رہا ہے گویا وہ خوبصورت آنکھ ہے ، نہایت محبت سے پکارتی ہے۔ پھر وہ دو ستارے جو الگ نظر آتے ہیں ، یہ اژدحام سے دور محو گفتگو ہیں۔ اور وہ ستاروں کا جھرمٹ جو جگہ جگہ نظر آتا ہے وہ کائنات کے میلے کا ایک حلقہ یاراں ہے جو کبھی یہاں جمع ہوتا ہے تو کبھی وہاں ! یہ باریک چاند جو ایک رات ایک شاخ کی طرح ہوتا ہے اور ایک رات اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے اور پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر معدوم ہوجاتا ہے اور دوبارہ وہ ولادت پاتا ہے۔ ہر رات کو اس کا نیا روپ ہوتا ہے۔ یہ وسیع فضائے کائنات جس کی لمبائیوں اور دوریوں تک بینائی ساتھ نہیں دیتی۔ اور خوبصورت اس قدر کہ آنکھیں دیکھتی رہ جائیں۔ یہ ہے حقیقی خوبصورتی ، جس کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا ، لیکن انسان اگر ان خوبصورتیوں کو الفاظ کا جامہ پہنانا چاہے تو ممکن نہیں۔ انسانی عبارات اس سے قاصر ہیں۔ قرآن کریم انسانوں کو اس آسمان اور اس پوری کائنات کے جمال کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ کیونکہ جمال کائنات کا ادراک ہی ایک ذریعہ ہے جس کی وساطت سے انسان خالق کائنات کے جمال کا تصور کرسکتا ہے۔ اور یہی ادراک انسان کو اس بلند مقام تک پہنچاتا ہے ، جس تک انسان کبھی پہنچنے کی تمنا کرسکتا ہے کیونکہ اس یونٹ تک پہنچ جاتا ہے جہاں سے آگے وہ ابدی حیات پاسکتا ہے۔ اب وہ ایک خوبصورت آزاد اور لازوال دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ زندگی اس دنیا کی آلودگیوں سے پاک ہوتی ہے اور انسانی زندگی کے وہ لمحات لازوال لمحات ہوتے ہیں جن میں کوئی انسان اس کائنات کے لازوال حسن کا ادراک کرلے ، ایسے ہی حالت میں وہ ذات باری کے قریب ترہوجاتا ہے اور ذات باری کے کمالات کا تصور کرسکتا ہے۔ اور اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ انسان کے یہ خوبصورت ستارے ایک دوسرا کام بھی کرتے ہیں۔ یہ شہاب ثاقی بن کر شیطانوں پر بمباری بھی کرتے ہیں۔ وجعلنھا ................ للشیطین (٦٥ : ٥) ” اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا “۔ ہم نے ” فی ظلال القرآن “ میں یہ رویہ اختیار کیا ہے کہ غیبی امور کے بارے میں بات کو اسی حد میں رکھیں جس حد تک قرآن کریم نے کہہ دی ہے۔ اس معاملے میں قرآن نے جو پہلو بتایا ہے اسی تک محدود رہیں۔ جس قدر قرآن نے کہہ دیا ہے وہ ایک مکمل بات ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ ایک مخلوق ہے ، جس کا نام شیطان اور شیاطین ہے ، قرآن میں ان شیطانوں کی بعض صفات وارد ہیں۔ ظلال القرآن میں اس موضوع پر پہلے بات ہوچکی ہے۔ اس پر مزید اضافے کی ضرورت نہیں ہے ، اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ یہ شیطان جب عالم بالا میں جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انکو شہاب ثاقب بھگاتے ہیں ، دوسری جگہ آیا ہے۔ وحفظا ................ مارد (٧).................... الا من ........ شھاب ثاقب (٧٣ : ٠١) ” اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کردیا .... تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے “۔ یہ شہاب ثاقب کس طرح پیچھا کرتا ہے۔ یہ شہاب کس قدر بڑا ہے۔ اس کی شکل کیا ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں اللہ نے تفصیلات ہمیں نہیں بتائی اور کوئی دوسرا ذریعہ علم انسانوں کے پاس نہیں ہے ، جس سے کوئی بات پوچھی جاسکے۔ بس جس قدر قرآن نے کہہ دیا اس پر اکتفا کرنا چاہئے۔ اور یہی یہاں مقصود ہے۔ اگر اس سے زیادہ بتانا مقصود ہوتا تو اللہ بتا دیتا۔ اس لئے جس چیز کو اللہ نے ہمارے لئے موجب خیروبرکت نہیں سمجھا ، اس کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔ شیاطین کا رجم بھی اسیے ہی معاملات میں سے ہے ، جس کا تفصیلی علم ہمیں نہیں دیا گیا۔ اور دنیا میں شہاب ثاقب کی سزا کے علاوہ آخرت میں ان کے لئے اور سزا ہے۔ واعتدنا ................ السعیر (٨٦ : ٥) ” اور ان شیطانوں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کررکھی ہے “۔ یہ بمباری دنیا اور آگ کا عذاب آخرت میں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ ” ولقد زینا “ دوسری دلیل عقلی خاص۔ دلیل اول سے بطور ترقی فرمایا کہ آسمانوں کو تو میں نے پیدا کردیا، لیکن کیا پہلے آسمان کو ستاروں سے مزین کسی اور نے کیا ہے ؟ نہیں نہیں یہ بھی ہم ہی نے کیا ہے۔ اسی طرح ” وجعلناھا رجوما للشیاطین “۔ تیسری دلیل عقلی خاص۔ ستاروں کو شیاطین کیلئے رجوم اور ان کی تیز آگ کو ان کے لیے عذاب ہم ہی نے بنایا کیا یہ کام کسی دوسرے کا ہے، ہرگز نہیں، اسی طرح برکات دہندہ بھی کوئی اور نہیں عذاب سعیر سے عذاب جہنم نہیں بلکہ شہاب ثاقب کا عذاب مراد ہے یہ تینوں دلائل آسمانی حالات سے متعلق ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) اور ہم نے آسمان دنیا یعنی ورلے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کررکھا ہے اور ہم نے ان چراغوں کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے اور ہم نے ان شیاطین کے لئے دوزخ کا عذاب تیار کررکھا ہے آسمان دنیا ورلا آسمان اس میں تارے نظر آتے ہیں جو رات میں چراغوں کی طرح چمکتے ہیں۔ رات کی تاریکی میں دیکھنے والوں کو بھلے معلوم ہوتے ہیں زمین کی مخلوق کے ہزاروں منافع ان تاروں سے وابستہ ہیں تری اور خشکی کے راستوں کا پتہ ، مغرب، مشرق، شمال، جنوب کا معلوم ہونا، پھولوں کا رنگ پھولوں کی رنگت پھلوں کا رنگ اور خدا جانے ان تاروں کے کیا کیا اثرات ہیں جو حکماء اور فلاسفر یا کاشتکار اور باغبان جانتے ہیں۔ قرآن سے چراغوں کی زینت کے ساتھ مخلوق کے ایک روحانی فائدے کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ چراغ یعنی تارے شیاطین کو غیب کی خبریں سننے سے روکتے ہیں۔ جب کبھی کوئی شیطان آسمان کے قریب پہنچتا ہے تو ان تاروں سے ان کا رجم کیا جاتا ہے اور آگ کا ایک شعلہ ان کی طرف لپکتا ہے یہ تو دنیامیں ہوتا ہی رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ہم نے ان شیاطین کے لئے دمکتی ہوئی آگ یعنی جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے علاوہ بیشمار منافع کے بڑا فائدہ یہ ہے کہ دنیا میں ان پر شہاب پھینکے جاتے ہیں اور آخرت میں ان کو جہنم کا عذاب ہوگا۔ اس موقعہ پر مفسرین نے کئی باتیں ذکر کی ہیں تاروں کی نوعیت تاروں کا آسمان سے تعلق یعنی یہ تارے قندیل کی طرح آسمان میں لٹکے ہوئے ہیں یا آسمان میں جڑے ہوئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ مگر ہم نے تطویل کے اندیشے سے تمام مباحث کو چھوڑ دیا ہے اور جو بات مشہور ہے وہ اختیار کرلی ہے وہ یہ کہ ارے آسمان دنیا کی زینت اور رونق کا سبب ہیں شیاطین کے لئے شہاب ہیں اور شیاطین کو دفع کرتے ہیں تری اور خشکی میں مسافروں کو راستے کا ان سے پتہ ملتا ہے اس کے علاوہ علم ہیئت میں جو ان تاروں کے فوائد بیان کئے گئے ہیں ان کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے اور تفصیل چھوڑ دی ہے۔ اوپر سے حضرت حق تعالیٰ کا بیان ہورہا تھا اسی سلسلے میں موت وحیات کا ذکر آگیا پھر آسمانوں کی پیدائش اور ان کے سات طبقات کا ذکر فرمایا پھر ان کے کمال پر توجہ دلائی اور نظر توجہ اور نگاہ تامل کو دعوت دی کہ کوئی عیب اور کوئی تفاوت بیان کرو اور بار بار دیکھ کر بتائو کہ ہم نے ان آسمان کو جیسا بنایا ہے اور جو رعایتیں اور مصالح ان کی بناوٹ میں ملحوظ رکھے ہیں ان میں کیا عیب ہے اور یہ کیسے ہونے چاہئیں تھے جیسا کہ حضرت شاہ صاحب (رح) نے فرمایا ہے یعنی جیسا چاہیے ویسا نہ ہو۔ یعنی کسی اور طرح سے بنائے جاتے۔ بہرحال اسی سلسلے میں آسمان دنیا کا ذکر فرمایا اور تاروں کے فوائد ذکر کئے ان شیاطین کا ذکر فرمایا اور دنیا وآخرت میں ان کے عذاب کا ذکر فرمایا۔ اب اس سلسلے میں جو لوگ شیاطین کی پیروی کرتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور اپنے پروردگار کی توحید کا انکار کرتے ہیں ان کے انجام کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔