Surat ul Mulk

Surah: 67

Verse: 8

سورة الملك

تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الۡغَیۡظِ ؕ کُلَّمَاۤ اُلۡقِیَ فِیۡہَا فَوۡجٌ سَاَلَہُمۡ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ نَذِیۡرٌ ﴿۸﴾

It almost bursts with rage. Every time a company is thrown into it, its keepers ask them, "Did there not come to you a warner?"

قریب ہے کہ ( ابھی ) غصے کے مارے پھٹ جائے جب کبھی اس میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے والا کوئی نہیں آیا تھا؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ ... It almost bursts up with fury. meaning, some parts of it almost break apart from other parts due to the severity of its rage and anger with them. ... كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَى قَدْ جَاءنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ فِي ضَلَلٍ كَبِيرٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

8۔ 1 یا مارے غیظ وغضب کے اس کے حصے ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے یہ جہنم کافروں کو دیکھ کر غضب ناک ہوگی جس کا شعور اللہ تعالیٰ اس کے اندر پیدا فرما دے گا اللہ تعالیٰ کے لیے جہنم کے اندر یہ ادراک وشعور پیدا کردینا کوئی مشکل نہیں۔ 8۔ 2 جس کی وجہ سے تمہیں آج جہنم کے عذاب کا مزہ چکھنا پڑا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ ۔۔۔۔:” تمیز “ اصل میں ” تمیز “ ( تفعل) ہے ، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کردی گئی ۔” قریب ہے کہ غصے سے پھٹ جائے “ اس سے آگ کا صاحب شعور ہونا اور کفار پر سخت غصے ہونا ظاہر ہو رہا ہے۔ جہنم کے اس وقت کے سخت غصے اور جوش و خروش کا نقشہ اس سے بہتر الفاظ میں نہیں کھینچا جاسکتا ۔ جہنم میں جب بھی کسی نئے گروہ کے لوگ پھینکنے جائیں گے تو جہنم کے نگران فرشتے ان سے پوچھیں گے ، کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟ یہ سوال ہر گروہ سے ہوگا اور اس لیے نہیں ہوگا کہ فرشتوں کو معلوم نہیں کہ ان کے پاس ڈرانے والے آئے تھے یا نہیں ، بلکہ ایک تو تعجب کے اظہار کے لیے ہوگا کہ اللہ کی طرف سے پیغمبروں اور دین کی دعوت دینے والوں کے ڈرانے کے باوجود تم ایمان نہ لائے اور جان بوجھ کر جہنم کا ایندھن بنے ، دوسرا ان پر حجت تمام کرنے کے لیے اور خود ان کے منہ سے نکلوانے کے لیے کہ انہیں نہ تو بیخبر ی میں جہنم میں پھینکا جا رہا ہے اور نہ بلا جرم ، بلکہ وہ فی الواقع اس کے حق دار ہیں ، چناچہ وہ خود کہیں گے ، کیوں نہیں ، ہمارے پاس ڈرانے والے آئے اور انہوں نے اللہ کی اتاری ہوئی پوری تعلیم بھی ہم تک پہنچائی ، مگر ہم نے انہیں جھٹلا دیا اور اس بات سے سرے سے انکار کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل کی ہے ، بلکہ الٹا انہی کو بڑی گمراہی میں مبتلا قرار دیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ۝ ٠ ۭ كُلَّمَآ اُلْقِيَ فِيْہَا فَوْجٌ سَاَلَہُمْ خَزَنَــتُہَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ۝ ٨ كَادَ ووُضِعَ «كَادَ» لمقاربة الفعل، يقال : كَادَ يفعل : إذا لم يكن قد فعل، وإذا کان معه حرف نفي يكون لما قد وقع، ويكون قریبا من أن لا يكون . نحو قوله تعالی: لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] ، وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] ، تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] ، يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] ، يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] ، إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ولا فرق بين أن يكون حرف النّفي متقدما عليه أو متأخّرا عنه . نحو : وَما کادُوا يَفْعَلُونَ [ البقرة/ 71] ، لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ [ النساء/ 78] . وقلّما يستعمل في كاد أن إلا في ضرورة الشّعر «1» . قال قد كَادَ من طول البلی أن يمصحا«2» أي : يمضي ويدرس . ( ک و د ) کاد ( س ) فعل مقارب ہے یعنی کسی فعل کے قریب الوقوع ہون کو بیان کرنے کے لئے آتا ہے مثلا کا دیفعل قریب تھا وہ اس کا م کو گزرتا یعنی کرنے والا تھا مگر کیا نہیں قرآن میں لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے ۔ وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] قریب تھا کہ یہ ( کافر) لگ تم اس سے بچلا دیں ۔ تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] قریب ہے کہ ( اس فتنہ ) سے آسمان پھٹ پڑیں ۔ ؛ يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] قریب ہے ک کہ بجلی کی چمک ان کی آنکھوں کی بصاحب کو اچک لے جائے ۔ يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] قریب ہوتے ہیں کہ ان پر حملہ کردیں إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] تو تو مجھے ہلا ہی کرچکا تھا ۔ اور اگر ا ن کے ساتھ حرف نفی آجائے تو اثباتی حالت کے برعکدس فعل وقوع کو بیان کرنے کیلئے آتا ہے جو قوع کے قریب نہ ہوا اور حروف نفی اس پر مقدم ہو یا متاخر دونوں صورتوں میں ایک ہی معنی دیتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : وَما کادُوا يَفْعَلُونَ [ البقرة/ 71] اور وہ ا یسا کرنے والے تھے نہیں ۔ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ [ النساء/ 78] کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔ اور کاد کے بعد ا ان کا استعمال صرف ضرورت شعری کے لئے ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ( الرجز) ( 387 ) قد کاد من طول البلیٰ ان یمصحا قریب تھا کہ زیادہ بوسیدہ گی کے باعث وہ سٹ جائے ميز المَيْزُ والتَّمْيِيزُ : الفصل بين المتشابهات، يقال : مَازَهُ يَمِيزُهُ مَيْزاً ، ومَيَّزَهُ تَمْيِيزاً ، قال تعالی: لِيَمِيزَ اللَّهُ [ الأنفال/ 37] ، وقرئ : لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ والتَّمْيِيزُ يقال تارة للفصل، وتارة للقوّة التي في الدّماغ، وبها تستنبط المعاني، ومنه يقال : فلان لا تمييز له، ويقال : انْمَازَ وامْتَازَ ، قال : وَامْتازُوا الْيَوْمَ [يس/ 59] وتَمَيَّزَ كذا مطاوعُ مَازَ. أي : انْفَصَلَ وانْقَطَعَ ، قال تعالی: تَكادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ [ الملک/ 8] . ( م ی ز ) المیر والتمیز کے معنی متشابہ اشیاء کو ایک دوسری سے الگ کرنے کے ہیں ۔ اور مازہ یمیزہ میزا ومیزاہ یمیزا دونوں ہم معنی ہیں چناچہ فرمایا ۔ لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ایک قراءت میں لیمیز اللہ الخبیث ہے ۔ التمیز کے معنی الگ کرنا بھی آتے ہیں اور اس ذہنی قوت پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے فلان لا تمیز لہ فلاں میں قوت تمیز نہیں ہے ۔ انما ز اور امتاز کے معنی الگ ہونے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے :۔ وَامْتازُوا الْيَوْمَ [يس/ 59] اور آج الگ ہوجاؤ اور تمیز کذا ( تفعل ) ماز کا مطاوع آتا ہے اور اس کے معنی الگ اور منقطع ہونے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ تَكادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ [ الملک/ 8] گو یا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی ۔ غيظ الغَيْظُ : أشدّ غضب، وهو الحرارة التي يجدها الإنسان من فوران دم قلبه، قال : قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ [ آل عمران/ 119] ، لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ [ الفتح/ 29] ، وقد دعا اللہ الناس إلى إمساک النّفس عند اعتراء الغیظ . قال : وَالْكاظِمِينَ الْغَيْظَ [ آل عمران/ 134] . قال : وإذا وصف اللہ سبحانه به فإنه يراد به الانتقام . قال : وَإِنَّهُمْ لَنا لَغائِظُونَ [ الشعراء/ 55] ، أي : داعون بفعلهم إلى الانتقام منهم، والتَّغَيُّظُ : هو إظهار الغیظ، وقد يكون ذلک مع صوت مسموع کما قال : سَمِعُوا لَها تَغَيُّظاً وَزَفِيراً [ الفرقان/ 12] . ( غ ی ظ ) الغیظ کے معنی سخت غصہ کے ہیں ۔ یعنی وہ حرارت جو انسان اپنے دل کے دوران خون کے تیز ہونے پر محسوس کرتا ہے ۔ قرآن میں ہے : قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ [ آل عمران/ 119] کہدو کہ ( بدبختو) غصے میں مرجاؤ ۔ غاظہ ( کسی کو غصہ دلانا ) لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ [ الفتح/ 29] تاکہ کافروں کی جی جلائے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے سخت غصہ کے وقت نفس کو روکنے کا حکم دیا ہے اور جو لوگ اپنے غصہ کو پی جاتے ہیں انکی تحسین فرمائی ہے چناچہ فرمایا : وَالْكاظِمِينَ الْغَيْظَ [ آل عمران/ 134] اور غصے کو روکتے ۔ اور اگر غیظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو تو اس سے انتقام لینا مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَإِنَّهُمْ لَنا لَغائِظُونَ [ الشعراء/ 55] اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔ یعنی وہ اپنی مخالفانہ حرکتوں سے ہمیں انتقام پر آمادہ کر رہے ہیں اور تغیظ کے معنی اظہار غیظ کے ہیں جو کبھی ایسی آواز کے ساتھ ہوتا ہے جو سنائی دے جیسے فرمایا : سَمِعُوا لَها تَغَيُّظاً وَزَفِيراً [ الفرقان/ 12] تو اس کے جو ش غضب اور چیخنے چلانے کو سنیں گے ۔ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ فوج الفَوْجُ : الجماعة المارّة المسرعة، وجمعه أَفْوَاجٌ. قال تعالی: كُلَّما أُلْقِيَ فِيها فَوْجٌ [ الملک/ 8] ، هذا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ [ ص/ 59] ، فِي دِينِ اللَّهِ أَفْواجاً [ النصر/ 2] . ( ف و ج ) الفوج کے معنی تیزی سے گزر نیوالی جماعت کے ہیں اس کی جمع افواج ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ كُلَّما أُلْقِيَ فِيها فَوْجٌ [ الملک/ 8] جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی ۔ هذا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ [ ص/ 59] ایک فوج ( ہے تماہرے ساتھ ) داخل ہوگی ۔ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْواجاً [ النصر/ 2] غول کے غول خدا کے دین میں سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ خزن الخَزْنُ : حفظ الشیء في الخِزَانَة، ثمّ يعبّر به عن کلّ حفظ کحفظ السّرّ ونحوه، وقوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21] ( خ زن ) الخزن کے معنی کسی چیز کو خزانے میں محفوظ کردینے کے ہیں ۔ پھر ہر چیز کی حفاظت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے جیسے بھیدہ وغیرہ کی حفاظت کرنا اور آیت :۔ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21] اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں ۔ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ، أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ [ الأنبیاء/ 34] ، أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً [يونس/ 2] ، آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] . والتسوية نحو : سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ [ البقرة/ 6] «1» ، وهذه الألف متی دخلت علی الإثبات تجعله نفیا، نحو : أخرج ؟ هذا اللفظ ينفي الخروج، فلهذا سأل عن إثباته نحو ما تقدّم . وإذا دخلت علی نفي تجعله إثباتا، لأنه يصير معها نفیا يحصل منهما إثبات، نحو : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ [ الأعراف/ 172] «2» ، أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ [ الرعد/ 41] ، أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ [ طه/ 133] أَوَلا يَرَوْنَ [ التوبة : 126] ، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [ فاطر/ 37] . - الثاني : ألف المخبر عن نفسه نحو : أسمع وأبصر . - الثالث : ألف الأمر، قطعا کان أو وصلا، نحو : أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ [ التحریم/ 11] ونحوهما . - الرابع : الألف مع لام التعریف «4» ، نحو : العالمین . - الخامس : ألف النداء، نحو : أزيد، أي : يا زيد . والنوع الذي في الوسط : الألف التي للتثنية، والألف في بعض الجموع في نحو : مسلمات ونحو مساکين . والنوع الذي في آخره : ألف التأنيث في حبلی وبیضاء «5» ، وألف الضمیر في التثنية، نحو : اذهبا . والذي في أواخر الآیات الجارية مجری أواخر الأبيات، نحو : وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا [ الأحزاب/ 10] ، فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا [ الأحزاب/ 67] ، لکن هذه الألف لا تثبت معنی، وإنما ذلک لإصلاح اللفظ . «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6] . ( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعرأتيت المروءة من بابها فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته ويقال للسقاء إذا مخض وجاء زبده : قد جاء أتوه، وتحقیقه : جاء ما من شأنه أن يأتي منه، فهو مصدر في معنی الفاعل . وهذه أرض کثيرة الإتاء أي : الرّيع، وقوله تعالی: مَأْتِيًّا[ مریم/ 61] مفعول من أتيته . قال بعضهم معناه : آتیا، فجعل المفعول فاعلًا، ولیس کذلک بل يقال : أتيت الأمر وأتاني الأمر، ويقال : أتيته بکذا وآتیته كذا . قال تعالی: وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . والإِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] . ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ ارض کثیرۃ الاباء ۔ زرخیز زمین جس میں بکثرت پیداوار ہو اور آیت کریمہ : {إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا } [ مریم : 61] بیشک اس کا وعدہ آیا ہوا ہے ) میں ماتیا ( فعل ) اتیتہ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہاں ماتیا بمعنی آتیا ہے ( یعنی مفعول بمعنی فاعل ) ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ محاورہ میں اتیت الامر واتانی الامر دونوں طرح بولا جاتا ہے اتیتہ بکذا واتیتہ کذا ۔ کے معنی کوئی چیز لانا یا دینا کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی النذیر والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذیر النذیر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨{ تَـکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ } ” قریب ہوگا کہ وہ غصے سے پھٹ جائے۔ “ ایسے معلوم ہوگا کہ ابھی شدت غضب سے پھٹ پڑے گی۔ { کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْہَا فَوْجٌ سَاَلَہُمْ خَزَنَتُہَآ اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَذِیْرٌ ۔ } ” جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کسی ایک گروہ کو تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے : کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ “ قیامت کے دن ہر قوم کا علیحدہ علیحدہ حساب ہوگا ‘ جیسا کہ سورة النمل کی اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے : { وَیَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّـکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَـہُمْ یُوْزَعُوْنَ ۔ } ” اور ذرا تصور کرو اس دن کا جس دن ہم جمع کریں گے ہر امت میں سے ایک فوج ان لوگوں میں سے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے ‘ پھر ان کی درجہ بندی کی جائے گی “۔ گویا جیسے جیسے حساب ہوتا جائے گا ‘ اسی ترتیب سے ہر قوم کے مجرمین کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ ہر گروہ کے پہنچنے پر جہنم پر متعین فرشتے ان سے سوال کریں گے کہ کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

14 The real nature of this question will not be of a question that the keepers of Hell would like to ask them whether a warner from Allah had come to them or not, but the object would be to make them realize that no injustice had been done to them by casting them into Hell. They would try to make them confess that Allah had not kept them uninformed and unwarned: He had sent the Prophets to them; He had informed them of the truth and of the Right Way; He had warned them that if they followed a way other than the Right Way, it would lead them to Hell, in which they had been cast. But they had not listened to the Prophets. Hence, they rightly deserved the punishment which was being meted out to them at that time. This thing has been pointed out over and over again in the Qur'an that the test for which Allah has sent man in the world is not being conducted by keeping man absolutely unaware and uninformed of the requirements of the test only to see whether he found the right way by himself or not; but Allah has made the most appropriate arrangements that could possibly be trade of guiding him to the Right Way, and it is that He has raised the Prophets and sent down the Books. Now the test of man lies in this whether he accepts the Prophets and the Books brought by them and adopts the straight way, or turns away from them to follow his own desires, whites and speculations. Thus, the Prophethood, in fact, is Allah's argument which He has established against tnan and on its acceptance or rejection depends his whole future life. No one, after the appointment of the Prophets, can present the excuse that he remained unaware of the Truth, or that he has been caught and put to the hard test unawares, or that he is being punished while he was innocent. This theme has been presented in countless different ways in the Qur'an; for instance, see AI-Baqarah: 213, and E.N. 230 on it; An-Nisa': 41-42, 165 and E N.'s 64 and 208; Al-An`am: 130-131, and E.N.'s 98-100; Bani Isra'il: 15 and E.N. 17; Ta Ha: 134; Al-Qasas 47, 59, 65 and E.N.'s 66, 83; Fatir: 37; AlMu'min: 50 and E.N. 66.

سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :14 اس سوال کی اصل نوعیت سوال کی نہیں ہو گی کہ جہنم کے کارندے ان لوگوں سے یہ معلوم کرنا چاہتے ہوں کہ ان کے پاس اللہ تعالی کی طرف سے کوئی خبردار کرنے والا آیا تھا یا نہیں ، بلکہ اس سے مقصود ان کو اس بات کا قائل کرنا ہو گا کہ انہیں جہنم میں ڈال کر ان کے ساتھ کوئی بے انصافی نہیں کی جا رہی ہے ۔ اس لیے وہ خود ان کی زبان سے یہ اقرار کرانا چاہیں گے کہ اللہ تعالی نے ان کو بے خبر نہیں رکھا تھا ، ان کے پاس انبیاء بھیجے تھے ، ان کو بتا دیا تھا کہ حقیقت کیا ہے اور راہ راست کونسی ہے ، اور ان کو متنبہ کر دیا تھا کہ اس راہ راست کے خلاف چلنے کا نتیجہ اسی جہنم کا ایندھن بننا ہو گا جس میں اب وہ جھونکے گئے ہیں ، مگر انہوں نے انبیاء کی بات نہ مانی لہذا اب جو سزا انہیں دی جا رہی ہے وہ فی الواقع اس کے مستحق ہیں ۔ یہ بات قرآن مجید میں بار بار ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ اللہ تعالی نے جس امتحان کے لیے دنیا میں انسان کو بھیجا ہے وہ اس طرح نہیں لیا جا رہا ہے کہ اسے بالکل بے خبر رکھ کر یہ دیکھا جا رہا ہو کہ وہ خود راہ راست پاتا ہے یا نہیں ، بلکہ اسے راہ راست بتانے کا جو معقول ترین انتظام ممکن تھا وہ اللہ نے پوری طرح کر دیا ہے ، اور وہ یہی انتظام ہے کہ انبیاء بھیجے گئے ہیں اور کتابیں نازل کی گئیں ہیں ۔ اب انسان کا سارا امتحان اس امر میں ہے کہ وہ انبیاء علیم السلام اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کو مان کر سیدھا راستہ اختیار کرتا ہے یا ان سے منہ موڑ کر خود اپنی خواہشات اور تخیلات کے پیچھے چلتا ہے ۔ اس طرح نبوت درحقیقت اللہ تعالی کی وہ حجت ہے جو اس نے انسان پر قائم کر دی ہے ، اور اسی کے ماننے یا نہ ماننے پر انسان کے مستقبل کا انحصار ہے ۔ انبیاء کے آنے کے بعد کوئی شخص یہ عذر پیش نہیں کر سکتا کہ ہم حقیقت سے آگاہ نہ تھے ، ہمیں اندھیرے میں رکھ کر ہم کو اتنے بڑے امتحان میں ڈال دیا گیا ، اور اب ہمیں بے قصور سزا دی جا رہی ہے ۔ اس مضمون کو اتنی بار اتنے مختلف طریقوں سے قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کا شمار مشکل ہے ۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں: تفہیم القرآن ، جلد اول ، البقرہ ، آیت 213 ، حاشیہ 230 ، النساء آیات41 ۔ 42 ، حاشیہ 64 ۔ آیت 165 ، حاشیہ 208 ۔ الانعام ، آیات 130 ۔ 131 ، 98 تا 100 جلد دوم ، بنی اسرائیل ، آیت 15 ، حاشیہ 17 ۔ جلد سوم طٰہٰ ، آیت 134 ۔ القصص ، آیت 47 ، حاشیہ 66 ، آیت 59 ، حاشیہ 83 ۔ آیت 65 ۔ جلد چہارم ، فاطر ، آیت 37 ، المومن ، آیت50 حاشیہ 66 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(67:8) تکاد تمیز من الغیظ : من الغیظ کا تعلق تمیز سے ہے اور پورے جملے میں تفور کے فاعل (یعنی جہنم) کی حالت بیان کی ہے۔ تکاد مضارع واحد مؤنث غائب تمیز (تفعل) مصدر اصل میں تتمیز تھا۔ ایک ت حذف ہوگئی۔ ایک دوسرے سے جدا ہونا۔ پھٹ جانا۔ (قریب ہے کہ) پھٹ جائے ۔ صاحب اضواء البیان لکھتے ہیں :۔ اثبات ان للنار حسا وادراکا وارادۃ والقران اثبت للنار انھا تعتاظ وتبصر و تتکلم وتطلب المزید کما قال ھھنا۔ تکاد تمیز من الغیظ۔ وقال : اذا رأتھم من مکان بعید سمعوا لہا تغیظا و زفیرا (25:12) جب وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو (غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اس کے جوش و غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے۔ وقال : یوم نقول لجھنم ہل امتلئت وتقول ہل من مزید (50:30) اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی ہے ؟ وہ کہیگی کچھ اور بھی ہے۔ غیظ کے معنی سخت غصہ کے ہیں۔ یعنی وہ حرارت جو انسان اپنے دل کے دوران خون کے تیز ہونے پر محسوس کرتا ہے۔ اگر غیظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے انتقام لینا مراد ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا وانھم لنا لغائظون (26:55) اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔ یعنی وہ اپنی مخالفانہ حرکتوں سے ہمیں انتقام پر آمادہ کر رہے ہیں۔ اور تغیظ کے معنی اظہار غصہ کے ہیں ، جو کبھی ایسی آواز کے ساتھ ہوتا ہے جو سنائی دے۔ جیسا کہ آیت ہذا زیر مطالعہ۔ ترجمہ ہوگا :۔ تو وہ اس کے جوش غصب اور اس کے چیخنے اور چلانے کو سنیں گے۔ کلما : یہ لفظ مرکب ہے کل اور ما سے۔ اس ترکیب میں ظرفت کی وجہ سے لفظ کل ہمیشہ منصوب رہتا ہے۔ اس میں ظرفیت ما کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ ما حرف مصدری ہے یا اسم نکرہ ہے بمعنی وقت کے۔ اکثر کلما کے بعد فعل ماضی آتا ہے۔ جیسے آیت ہذا وغیرہ۔ جب ۔ جب بھی۔ القی ماضی مجہول واحد مذکر غائب القاء (افعال) مصدر بمعنی ڈالنا۔ القی وہ ڈالا گیا۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جھنم (آیت 6) کے لئے ہے۔ فوج : گروہ، لشکر، فوج ۔ مراد یہاں کفار کی جماعت ہے۔ سئالہم خزنتھا : سئال کا فاعل خزنۃ ہے جو خازن کی جمع ہے بمعنی داروغہ ، نگہبان، چوکیدار،۔ خزانچی، یہ مضاف ہے ھا مضاف الیہ، اس کا مرجع بھی جہنم ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب فوج کے لئے ہے۔ الم یاتکم : استفہام تقریری ہے۔ لم یات مضارع نفی جحد بلم ۔ صیغہ واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کیا تمہارے پاس نہیں آیا ؟ نذیر : بمعنی جمع ہے جیسا کہ اگلا جملہ ان انتم ۔۔ سے ظاہر ہے یا یہ مصدر ہے اور مضاف الیہ ہے۔ جس کا مناف محذوف ہے ای اہل انذار (ڈرنے والے) ۔ مطلب یہ کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے عذاب سے ڈرانے والے نہیں آئے تھے۔ (یعنی پیغمبر)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11” جس نے تمہیں اس دن آنے سے خبر دار کیا ہو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یہ سوال بطور توبیخ کے ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اور جہنم کے نگرانوں کی حالت بھی یہی ہوگی۔ کلما .................... نذیر (٧٦ : ٨) ” ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا ، اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے ” کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ “ یہ بات واضح ہے کہ جہنم میں ان سے یہ سوال محض معلومات حاصل کرنے کے لئے نہ ہوگا ، یہ ان کی سرزنش کرنے اور ان کو دلیل کرنے کے لئے ہوگا ، گویا جہنم کے کارندے بھی جہنم کے ساتھ اس غیظ وغضب میں شریک ہوں گے ۔ جس طرح وہ دونوں ان کو عذاب دینے میں شریک ہیں اور کسی مصیبت زدہ اور پریشان شخص پر اگر سرزنش اور دھتکار کے کوڑے بھی لگیں تو اس کی تلخی کی تو حد ہی نہ ہوگی لیکن ذرا ان لوگوں کا جواب سنیں کہ یہ لوگ کس پدر ذلیل و خوار ہوگئے ہیں۔ اب وہ برخورداروں کی طرح اپنی غفلت اور حماقت کا اقرار کرتے ہیں ، جبکہ وہ پہلے بڑے غرور کے ساتھ رسولوں کو گمراہ کہتے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) ایسا معلوم ہوتا ہوگا کہ وہ مارے غصے کے ابھی پھٹ پڑے گی جب بھی اس میں کافروں کا کوئی گروہ اور کوئی دل اور کوئی انبوہ جھونکا جائے گا تو دوزخ کی حفاظت کرنے والے اور دوزخ کے نگہبان فرشتے ان سے دریافت کریں گے اور سوال کریں گے کیا دنیا میں تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا پیغمبر نہیں آیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب دین حق کے منکر جہنم میں ڈالے جائیں گے تو ایک ہیبت ناک اور سخت مکروہ آواز سنیں گے جو گدھے کی آواز جیسی ہوگی۔ شھیق گدھے کی آواز کو کہتے ہیں یعنی آواز خوفناک اور ناپسندیدہ ہوگی دوزخ جوش مار رہی ہوگی اور یہ معلوم ہوتا ہوگا کہ قریب ہے کہ دوزخ پھٹ پڑے، دوزخ کی یہ حالت یا تو بطور تمثیل بیان کی گئی ہے یا واقعی اس ادراک کی بنا پر اس میں جوش ہوگا جو ادراک اس کو حاصل ہوگا پھر جب جب کسی گروہ کو دوزخ میں جھونکا جائے گا تو ہر گروہ کے افراد سے وہاں کے فرشتے پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی پیغمبر دنیا میں نہیں آیا تھا اور اس نے تم کو اس دن سے نہیں ڈریا تھا اور کیا اس پیغمبر نے تم کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کے احکام سے روشناس نہیں کرایا تھا آخر اس جہنم میں تمہارے آنے کی کیا وجہ ہوئی تم کیوں یہاں آئے یہ اس سوال کے جواب میں جو کہیں گے وہ آگے مذکور ہے۔