تعارف سورة القلم سورة 68 کل رکوع 2 آیات 52 الفاظ و کلمات 306 حروف 1295 مقام نزول مکہ مکرمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کرتے ہیں ان کے لئے ان کے رب کے پاس نعمتوں سے بھرپور جنتیں ہیں۔ اور کفار کے لئے نار جہنم۔ فرمایا کہ ان کفار نے کیا سمجھ رکھا ہے کہ اللہ اپنے فرمانبردار بندوں کو اور مجرموں کو ایک جیسا درجہ اور مقامدیں گے اور ان کے ساتھ یکساں سلوک کریں گے۔ ہرگز نہیں بلکہ اللہ فرماں برداروں کو آخرت کی نعمتیں عطا فرمائیں گے اور کفار و مشرکین کے لئے جہنم کی ابدی تکلیفیں ہوں گی۔ فرمایا کہ قیامت کے دن جب سارے حجابات اٹھادیئے جائیں گے اور لوگون کو سجدہ کی طرف بلایا جائے گا تو اہل ایمان اللہ کے سامنے سجدے میں گر جائیں گے مگر وہ لوگ دنیا میں صحیح سالم ہونے کے باوجود اللہ کے سامنے سجدہ نہیں کرتے تھے وہ اس دن بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرنے سے محروم رہیں گے۔ ان کی نظریں نیچی ہوں گی اور ان پر ہر طرح کی ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیے جانے والے ظلم و ستم اور تکذیب سے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچتی تھی اس پر انہیں صبر و استقامت کی تلقین فرمائی ہے۔ کفار جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے تھے ان کو جواب اور کفار و مشرکین کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لا کر مکمل اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرین ورنہ وہ باغ والے جنہوں نے کسی نصیحت والے کی نصیحت کو نہیں سنا اور آخر کار وہ تباہ وبرباد ہو کر رہ گئے اسی طرح اگر کفار قریش نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصیحتوں کو نہ مانا تو ان کا انجام بھی باغ والوں سے مختلف نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے قلم اور اس سے لکھی جانے والی اس تحریر کی قسم کھا کر جسے فرشتے لکھ رہے ہیں فرمایا ہے کہ اللہ کے فضل وکرم سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیوانے یا مجنون نہیں ہیں بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اخلاق کریمانہ کے اس اعلیٰ مقام پر فائز ہیں جہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیض اور اجرو ثواب کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیوانہ کہنے والے اور اپنے آپ کو عقل مند سمجھنے والے بہت جلد اس بات کو جان لیں گے کہ دیوان کون ہے ؟ اور عقل مند کون ؟ یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پروردگار اچھی طرح جانتا ہے راستے سے بھٹکے ہوئے کون لوگ ہیں اور کون سیدھے راستے پر چل رہے ہیں۔ وہ کفار سب کچھ اس لئے کر رہے ہیں کہ آپ ان کے دبائو میں آجائیں۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان جھٹلانے والوں کے کسی دبائو میں نہ آئیے۔ ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے دبائو میں آکر دین کے معاملہ میں ذرا سی نرمی اختیار کریں تو وہ بھی ڈھیلے پڑجائیں گے۔ خاص طور پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کے دبائو میں ذرا بھی نہ آئیں جو بہت قسمیں کھانے والا، بےوقعت، طعنے دینے والا، چغلیاں کھانے والا، بھلائی سے روکنے والا، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا، انتہائی بد عمل، گناہ گار اور ان تمام عیبوں کے ساتھ ساتھ وہ ” ولدالزنا “ بھی ہے۔ جسے اس بات پر بھی بڑا ناز ہے کہ وہ بہت زیادہ مالدار ہے۔ جب اس کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو نہایت تکبر اور نفرت سے کہتا ہے کہ یہ تو گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم بہت جلد اس کی ناک پر داغ لگائیں گے یعنی اس کو ذلیل و رسوا کرکے رکھ دیں گے۔ ارشاد ہے ہم نے ان مکہ والوں کو باغ والوں کی طرح آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ جب انہوں نے اس بات پر قسم کھائی تھی کہ ہم صبح کو سارا پھل اور غلہ جمع کرکے لے آئیں گے اور کسی غریب کو ذرا سی چیز بھی نہ دیں گے وہ یہ فیصلہ کرتے وقت انشاء اللہ تک کہنا بھول گئے۔ فرمایا کہ وہ ابھی آرام سے رات کو سوئے ہوئے تھے کہ اللہ کے حکم سے ان کے باغ پر ایک آفت گھوم گئی اور انکا باغ تباہ و برباد ہوکر رہ گیا۔ وہ صبح ہی صبح ایک دوسرے کو آواز دینے لگے کہ فوراً سویرے سویرے اپنے باغ کی طرف چلو۔ وہ چپکے چپکے باتیں کرتے جا رہے تھے تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو اور کوئی غریب ان کی آہٹ سن کر اس کے ساتھ نہ لگ جائے۔ وہ تو یہ سمجھ رہے تھے کہ بس ہم جائیں گے اور سارا پھل سمیٹ کرلے آئیں گے۔ لیکن جب وہ اپنے باغ پر پہنچے اور راکھ کا ڈھیر دیکھا تو کہنے لگے شاید ہم رات کے اندھیرے میں کسی اور کے باغ پر پہنچ گئے ہیں۔ مگر کچھ دیر کے بعد ان کو پتہ چل گیا کہ یہ ان ہی کا باگ ہے اور وہ اللہ کے حکم سے تباہ ہوچکا ہے اور وہ اپنے باغ سے محروم ہوچکے ہیں۔ ان بھائیوں میں سے جو نیک اور معتدل مزاج تھا اس نے کہا دیکھو میں نے تمہیں پہلے ہی منع کیا تھا کہ ایسا نہ کرو لیکن تمہیں مانے اب بھی وقت ہے کہ تم اللہ کی حمدو ثنا کرکے اس سے معافی مانگ لو۔ پہلے تو وہ سب کے سب آپس میں اس سارے واقعہ کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے رہے۔ پھر جب ان کو عقل آئی اور انہوں نے اپنی غلطی پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ ہم ہی خطا وار ہیں۔ ہم سرکش ہوگئے تھے۔ ہمیں اس پر افسوس ہے۔ ہم اپنے اللہ کی حمدو ثنا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اللہ ہماری غلطی کو معاف کرکے ہمیں اس سے بہتر باغ عطا فرمادے گا۔ ہم اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ دیکھو ہمارا عذاب ایسا ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لئے انکے رب کے پاس نعمت بھری جتنیں ہیں۔ فرمایا کہ انہوں نے کیا سمجھ رکھا ہے کیا ہم اپنے فرمانبردار بندوں اور مجرموں کو ایک جیسا درجہ دیں گے اور ان کے ساتھ یکساں سلوک کریں گے ؟ ہرگز نہیں۔ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو ایسی بےتکی باتیں کرتے ہیں۔ کیا ان کے پاس کوئی ایسی کتاب ہے جس میں یہ پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے آخرت میں وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور انہیں ان کی من پسندتمام نعمتیں دی جائیں گے۔ کیا انہوں نے اللہ سے کوئی عہدو پیمان کر رکھا ہے کہ وہاں وہی سب کچھ ہوگا جو یہ لوگ اپنے لئے پسند کرتے ہیں ۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے پوچھئے کہ جن کو وہ اللہ کا شریک بنا رہے ہیں کیا ان میں سے ان باتوں کوئی ذمہ دار ہے۔ انہیں چاہیے اپنے ان شریکوں کو لے کر تو آئیں اگر وہ اپنی بات سے سچے ہیں۔ فرمایا کہ جس دن پنڈلی کھولی جائے گی یعنی درمیان کے سارے پردے ہٹا دئیے جائیں گے۔ لوگوں کو سجدہ کی طرف بلایا جائے گا تو وہ کافر اللہ کے سامنے سجدہ نہ کرسکیں گے۔ ان کی نظریں نیچی ہوں گے۔ ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ کیونکہ جب یہ لوگ بالکل درست اور صحیح تھے اور ان کو اللہ کے سامنے سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو وہ اس کا انکار کرتے تھے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ دین کو پھیلائیے۔ ان کفار کے معاملہ کو مجھ پر چھوڑئیے۔ میں خود ان کو تباہی کی طرف آہستہ آہستہ لے جاؤں گا کہ ان کو اس کی خبر بھی نہ ہوگی۔ میں ان کو مہلت اور ڈھیل دے رہا ہوں لیکن میری تدبیر بہت زبردست ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس تبلیغ دین پر ان سے کچھ اجرت اور معاوضہ مانگ رہے ہیں کہ وہ اس کے نیچے دبے چلے جا رہے ہیں۔ یا ان لوگوں کے پاس غیب کا کوئی علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں ؟ فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کیجئے اور مچھلی والے (حضرت یونس (علیہ السلام) ) کی طرح نہ ہوجائیے۔ جب انہوں نے اپنے رب کو اس حال میں پکارا کہ وہ غم سے گھٹے جا رہے تھے۔ اگر آپو کے رب کا کرم نہ ہوتا تو وہ خراب حالت میں ایک چٹیل میدان میں پڑے رہ جاتے۔ آخر کار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب نے ان کو اور برگزیدہ کرلیا اور ان کو صالحین میں سے کردیا۔ فرمایا کہ یہ کفار جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن میں اس طرح کی باتیں سنتے ہیں تو وہ آپ کو ایسی گندی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ جیسے وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدم اکھاڑ دیں گے۔ اسی لئے وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیوانہ کہتے ہیں۔ حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس قرآن کو پیش کر رہے ہیں وہ تو سارے جہاں والوں کے لئے سراسر نصیحت ہی نصیحت ہے۔
سورة القلم کا تعارف اس سورت کے دو نام بیان کیے جاتے ہیں ن اور قلم۔ دونوں نام اس کی ابتداء میں موجود ہیں یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی یہ باون آیات پر مشتمل ہے جنہیں دو رکوع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ سورت مکہ معظمہ کے اس دور میں نازل ہوئی جس دور میں مشرکین مکہ آپ کی مخالفت میں اندھے ہوچکے تھے۔ ان کے اندھے پن کا عالم یہ تھا کہ وہ آپ کے شاندار ماضی اور اعلیٰ اخلاق کو جاننے کے باوجود آپ کو دیوانہ مشہور کرتے تھے۔ ان کے پروپیگنڈے کے توڑ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق اور عزت کو اجاگر فرمانے کے لیے نون اور قلم کی قسم اٹھا کر واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ مجنون نہیں ہیں۔ نون اور قلم کی قسم اٹھا کر یہ ثابت کیا ہے کہ جس قرآن کی وجہ سے تم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجنون کہتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی نازل کیا جارہا ہے، عنقریب وقت آنے والا ہے جب تمہیں پتہ چل جائے گا مجنون کون ہے اور سیدھے راستے سے کون بھٹک چکا ہے۔ کفار کے پروپیگنڈہ کا مقصد یہ تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس قدر بدنام اور خوف زدہ کردیا جائے کہ آپ خوف اور بےعزتی سے ڈر کر اپنی دعوت کو چھوڑ دیں یا کچھ نرمی کے لیے تیار ہوجائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس خوف سے بےنیاز کرنے اور کفار کی سازش سے بچانے کے لیے حکم ہوا کہ کسی حال میں جھوٹے لوگوں کے ساتھ نرمی نہیں کرنی اور نہ ہی کسی جھوٹے اور کمینے کی بات کو تسلیم کرنا ہے۔ اس کے بعد مشرکین کے ایک نمائندے کا کردار ذکر کیا گیا ہے یہ اس قدر کمینہ ہے کہ جھوٹی قسمیں کھانے والا اور چغلیایاں کرتا پھرتا ہے۔ بھلائی کے کاموں سے روکتا ہے، ظلم کرنے والا ہے اور پرلے درجے کا گھٹیا انسان ہے۔ یہ اس لیے اخلاقی حدود سے گزر چکا ہے کیونکہ اس کے پاس بہت مال اور جوان بیٹے ہیں اس لیے قرآن مجید کے ارشادات کو پہلے لوگوں کی کہانیاں قرار دیتا ہے۔ عنقریب اس کی سونڈ پر داغ لگائے جائیں گے۔ کیا ایسے لوگوں کو علم نہیں کہ ان سے پہلے کچھ لوگ ایسے گزر چکے ہیں جن کے پاس مال اور بہت بڑا باغ تھا۔ انہوں نے کمزوروں کے حقوق سلف کرنے کا فیصلہ کیا ان کے اپنے آدمی نے انہیں سمجھایا لیکن وہ باز نہ آئے جس کا نتیجہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے باغ کو خاکستر کردیا اور وہ اپنے آپ پر افسوس کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ کر پائے۔ اس بات کی طرف اشارہ کر کے اہل مکہ کو سمجھایا گیا ہے کہ اگر اپنی ہلاکت اور بربادی سے بچنا چاہتے ہو تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت قبول کرلو۔ جو تمہارا ہی ایک فرد ہے اگر تم برائی کے راستے سے بچ جاؤ اور نیکی کا راستہ اختیار کرلو، تو اللہ تعالیٰ تمہیں جنت نعیم میں داخل کرے گا۔ اس کے بعد مشرکین کو چند سوال کیے گئے ہیں اور پھر یہ سوال کیا کہ فرمابردار اور نافرمان برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیونکہ اہل مکہ تعصب میں آکر نیکی اور برائی کا امتیاز ختم کرچکے تھے اس لیے فرمایا کہ تم کس طرح کے فیصلے کرتے ہو ؟ کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس سے پڑھ کر تم ایسی باتیں کرتے ہو ؟ جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں انہیں سمجھانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ اس دن تمہارا کیا حال ہوگا جب رب ذوالجلال اپنی پنڈلی سے پردہ اٹھائیں گے تو نیک بندئے اس کے حضور سر بسجود ہوجائیں گے اور نافرمان کھڑے کے کھڑے رہ جائیں گے وہ سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن کر نہیں پائیں گے۔
سورة القلم ایک نظر میں یہ ممکن نہیں ہے کہ اس سورت کے نزول کی تاریخ کا تعین کیا جاسکے۔ چاہے اس کا آغاز ہو یا دوسرے پیراگراف ہوں ۔ نیز یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی ابتدائی آیات پہلے نازل ہوئیں اور دوسری آیات اور دوسری آیات بعد میں نازل ہوئیں۔ ان احتمالات میں سے کسی کو ترجیح بھی نہیں دی جاسکتی۔ روایات میں آتا ہے کہ سورت علق کے بعدنازل ہونے والی یہ دوسری سورت ہے ، اور مختلف مصاحف کی ترتیب میں بھی یہ دوسری سورت ہے۔ لیکن سورت کا سیاق کلام ، اس کے موضوعات ومضامین اور اس کا اسلوب اس موقف کے خلاف ہیں ۔ بلکہ نظریوں آتا ہے کہ یہ سورت انفرادی دعوت کے سہ سالہ دور کے بعد نازل ہوئی ہے ، جبکہ دعوت عام شروع ہوگئی تھی اور قریش نے علی الاعان دعوت اسلامی کی مخالفت شروع کردی تھی۔ قریش نے رسول اللہ کے بارے میں انپا یہ شرمناک الزام لگانا شروع کردیا تھا۔ اور قرآن نے اسے نقل کرکے اس کی تردید شروع کردی تھی۔ اور اس کے ساتھ قرآن کریم نے دعوت اسلامی کی راہ روکنے والوں کو دھمکی دینا بھی شروع کردی تھی۔ یہ دھمکی اس سورت میں موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلقات تخلی تک پہنچ گئے تھے۔ اور یہ احتمال کہ اس سورت کی پہلی آیات بھی سورة علق کی ابتدائی آیات کی طرح نہایت ہی ابتدائی دور کی ہیں اور یہ کہ یہاں جس جنون کی نفی کی گئی ہے ، اس سے مراد وہ خیال ہے جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آغاز وحی کے دور میں لاحق تھا کہ شاید آپ کو کوئی جنون لاحق ہوگیا ہے تو یہ نہایت ہی غلط بات ہے۔ کیونکہ ایک تو اس بارے میں کوئی صحیح ثابت شدہ روایت نہیں ہے ، دوسرا یہ کہ سورت کا انداز بیان مسلسل ہے اور اس سورت کے آغاز میں جس جنون کا ذکر ہے۔ ………لمجنون (2:68) ” تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہو “۔ اس سے مراد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا تاثر نہیں ہے بلکہ مراد وہ جنون ہے جو سورت کے آخر میں مخالفین آپ پر الزام لگاتے کیونکہ سورت کے آخر میں آیا ہے۔ وان یکاد…………لمجنون (51:68) ” اور یہ کافر لوگ کلام نصیحت (قرآن) سنتے ہیں تو کہیں ایسی نظروں سے دیکھتے کہ گویا تمہارے قدم اکھاڑ دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ ضرور دیوانہ ہے “۔ یہی وہ بات ہے کہ جس کا جواب سورت کے آغاز میں بھی دیا گیا ہے۔ نیز سورت کے مطالعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تمام کڑیاں باہم ملی ہوئی ہیں۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس سورت کی آیات 12 سے لے کر 33 تک مدنی ہیں۔ ان آیات میں باغ والوں کا ذکر آیا ہے ، ان کی آزمائش کا ذکر ہے ۔ نیز آیات 42 سے آیات 50 تک بھی مدنی ہیں جن میں صاحب الحوت یعنی مچھلی والے کے قصے ، کی طرف اشارہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ پوری سورت مکی ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز مکی ہے اور اس پر گہری مکی چھاپ ہے۔ اور سورت کا سیاق اور انداز سورت کے مکی اور مدنی ہونے میں زیادہ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ یہ پوری سورت اپنے موضوع کے ارد گرنہایت ربط اور ترتیب کے ساتھ چل رہی ہے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ یہ سورت ترتیب نزول کے اعتبار سے دوسری سورت تو نہیں ہے ، لیکن یہ بات درست ہے کہ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عام دعوت شروع کردی تھی۔ اور یہ سورت اس حکم کے بعد نازل ہوئی ہے۔ وانذر…………الاقربین ” اور اے پیغمبر اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کو ڈرائیں “۔ اس وقت تک قرآن کریم کا ایک حصہ نازل ہوگیا تھا۔ جس میں انئیائے سابقین کے احوال اور قصص بھی آگئے تھے جن کے بارے میں اہل مکہ نے کہا۔ اساطیر الاولین (15:68) ” پرانی کہانیاں ہیں “۔ اور قریش کو پورے اسلام کی دعوت دے دی گئی تھی۔ اور اہل قریش غلط اور باطل الزامات عائد کرے دعوت اسلامی کے مقابلے پر اتر آئے تھے۔ اور انہوں نے تحریک کے خلاف شدید حملے کرکے اس کی آنکھیں دکھانا شروع کردی تھیں۔ سورت کی آخرت آیت۔ وان یکاد……………لمجنون (51:68) ” اور یہ کافر لوگ کلام نصیحت (قرآن) سنتے ہیں تو کہیں ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ گویا تمہارے قدم اکھاڑ دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ ضرور دیوانہ ہے “۔ اس سے نظر آتا ہے کہ آپ نے عام لوگوں کو دعوت دینا شروع کردی تھی ۔ آغاز دعوت میں یہ منظر نہ تھا۔ آغاز میں تو افراد کو دعوت دی جاتی تھی اور انفرادی ذرائع سے دی جاتی تھی۔ اور کفار کے جلسہ ہائے عام میں بات نہ کی جاتی تھی اور دعوت کا یہ منظر نامہ نبوت کے تیسرے سال کے عد کی بات ہوسکتی ہے۔ پھر اس سورت میں یہ بھی ہے کہ مشرکین نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے مصالحت کی تجاویز بھی پیش کرنا شروع کردی تھیں تاکہ کچھ لو اور کچھ دو کے معاملے پر یہ مسئلہ طے ہوجائے اور نظریاتی معاملات میں مصالحت ہوجائے۔ لیکن قرآن نے صاف صاف جواب دیا۔ ودوا لو…………فیدھنون (9:68) ” یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں۔ “ ظاہر ہے کہ اگر دعوت ایک ایک فرد کو دی جارہی ہے تو اس اجتماعی فیصلے کا مطالبہ کس طرح ہوسکتا ہے۔ کیونکہ انفرادی دعوت سے کوئی معاشرتی خطرہ پیدا نہیں ہوتا۔ اور اس قسم کا خطرہ تو تب ہوتا ہے جب دعوت ظاہر ہو اور زور پکڑ لے۔ یوں بیشمار دلائل و شواہد خود سورت کے اندر ایسے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت ابتدائی دور کی نہیں ہے اور یہ سورت کم از کم نبوت کے تین سال بعد نازل ہوئی۔ اور اس کا عرصہ اس سے بھی متاخر ہوسکتا ہے۔ یعنی دعوت کے آغاز اور نزول کے درمیان تین سال سے بھی زیادہ عرصہ ہوسکتا ہے۔ یہ بات بھی معقول نظر نہیں آتی کہ تین سال گزر گئے ہوں اور ان میں قرآن کریم نازل نہ ہوا ہو۔ معقول بات یہی ہے کہ اس تین سال کے عرصے میں کئی سورتیں اور ان کے اجزاء نازل ہوئے ہوں گے۔ جن کے اندر صرف عقیدے اور نظریہ کی بات ہوگی اور ان میں مخالفتوں پر تنقید زیادہ نہ ہوگی جس طرح اس سورت میں سخت تنقید وارد ہے۔ اول سے آخر تک تنقیدی جملے ہیں۔ لیکن اس سے اس کی نفی بھی نہیں ہوتی کہ سورة المزمل اور المدثر اور یہ سورت دعوت کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئی ہیں۔ اگرچہ بہت ابتدائی نہ بھی ہوں ، جس طرح مصاحف میں آیا ہے۔ اور اسباب دلائل وہی ہیں جن کی طرف اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ یہ بحث و استدلال سورة المزمل اور المدثر پر بھی صادق آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پودا ، یعنی اسلامی نظریہ حیات کا صاف وستھرا پودا اس زمین میں سب سے پہلے لگایا جارہا تھا۔ نظریہ نہایت بلند اور صاف ستھری شکل میں اور عربوں کے اندر جو جہالت اور جاہلیت چھائی ہوتی تھی ، اس کی آب وہوا اس پودے کے لئے بےحد ناموافق تھی۔ نہ صرف عربوں میں بلکہ پورے کرہ ارض پر سے صحیح عقیدہ توحید اٹھ چکا تھا۔ قریش کے ہاں ملت ابراہیم کے کچھ مدھم سے خطوط تھے۔ اور جن کو انہوں نے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ، لیکن ان کے اندر انہوں نے مشرکانہ خرافات ، انسانوں اور قصے کہانیوں اور اوبام اور سنی سنائی باتوں کو ملادیا تھا۔ اس کے مقابلے میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ملت ابراہیمی کو جس صاف اور ستھری صورت میں پیش کیا ، جس قدر سیدھے اور سادہ طریقے سے بیان کیا ، اور جس قدر جامع اور مانع عقیدہ توحید کی شکل میں ان کے سامنے رکھا ، ان کو یہ بالکل نئی چیز نظر آئی ، کیونکہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عقائد اس سرچشمے سے تھے جس سے ابراہیم (علیہ السلام) کا دین حنیف اول آیا تھا۔ پھر اس کو اللہ نے اس جدید دور کے لئے مزید مکمل نظریہ و عمل کی شکل دے دی تھی کیونکہ اس دین کو اب قیامت تک کے لوگوں کی رہنمائی کرنی تھی اس لئے کہ اب انسان وہ انسان نہ رہا تھا جو ابراہیم (علیہ السلام) کے دور کا پسماندہ انسان تھا ، اب تو انسانیت عقلی اعتبار سے رشد وبلوغ کے دور میں داخل ہوگئی تھی۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیش کردہ عقیدہ توحید اور عربوں میں مروجہ بیشمار الہوں کے عقیدے کے درمیان ایک بہت بڑا انقلابی اور بنیادی فرق تھا۔ ان ارباب متفرقون کے علاوہ یہ لوگ اب جنوں کی بھی پوجا کرتے تھے۔ ملائکہ کی پرستش بھی کرتے تھے۔ نیز دوسری اقوام سے بھی انہوں نے ادھر ادھر کے عقائد ٹکڑیوں کی شکل میں لے رکھے تھے جبکہ قرآن میں یکلخت تمام الہوں کی نفی کرکے صرف ایک اللہ کہ الٰہ مانا گیا تھا ، واحد الہہ عظیم الہہ۔ ہر چیز پر قادر الہہ ، اور ایسا الہہ جو ہر وقت اپنی کائنات اور پوری مخلوقات کا نگہبان ہے اور جس کا ارادہ اور راست ان کے ساتھ متعلق ہے۔ پھر اس وقت اہل عرب کے اندر جو طبقات تھے ، طاقتور قائل کے سردار ، کاہن اور خانہ کعبہ کے مجاور اور خادم اور عام لوگ ، ان کے درمیان مختلف قسم کے امتیازات قائم تھے جبکہ اسلام کا نظریہ حیات ان تمام امتیازات کو ختم کررہا تھا ، تمام انسانوں اور انسانوں میں سے محمود وایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کررہا تھا جیسا کہ قرآن کریم کی عام تعلیمات تھیں۔ اس طرح قرآن کریم ایک اخلاقی انقلاب کا داعی تھا۔ عربوں میں رائج اخلاقیات کو ختم کرکے ایک نیا اخلاقی نظام قائم کر رہا تھا ، جس پر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمل پیرا تھے۔ صرف اخلاقی انقلاب ہی اس بات کے لئے کافی تھا کہ قریش اس دین جدید کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں ، لیکن ان کو صرف جدید اخلاقیات ہی پر اعتراض نہ تھا بلکہ اس کے ساتھ دوسرے اعتبارات بھی تھے اور قریش کے نزدیک سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے بصوں کو برا بھلا کہتے تھے۔ بعض لوگوں کے نزدیک یہ بات بھی قابل اعتراض تھی کہ مکہ اور طائف کے دو شہروں میں بعض نہایت ممتاز لوگ بھی تھے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ یہ قرآن کسی ممتاز شخص پر نازل کیا جاتا۔ لو لا……………عظیم ” یہ قرآن ان دوشہروں کے کس یعظیم آدمی پر نازل کیوں نہیں کیا گیا ؟ دو شہروں سے مراد مکہ اور طائف ہیں۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگرچہ قریش کی ایک اعلیٰ شاخ کیچشم وچراغ تھے لیکن بعثت سے پہلے آپ سردار نہ تھے۔ جبکہ اہل مکہ میں سرداری کا نظام تھا ، نیز جو ثقیف میں بھی سرداری کا نظام تھا جبکہ اس وقت کی عرب سوسائٹی میں اقتدار قبائل کے سرداروں کے پاس ہوا کرتا تھا۔ اور ان سرداروں کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ اپنی سرداری چھوڑ کر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت شروع کردیں۔ یہ بہت ہی برا انقلاب تھا۔ (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سرداری نظام کو ختمکرکے مرکزی انتظامیہ قائم کرنا چاہتے تھے) ۔ پھر خود قریش کے اندرونی خاندانی رقابتیں بھی زوروں پر تھی۔ مثلاً ابوجہل جیسا ضدی آدمی اس بات پر تلا ہوا تھا کہ دین اسلام میں داخل ہوکر وہ کسی طرح بنو عبدمناف کی سیادت کو قبول کرے۔ اخنس ابن شریق اور ابو سفیان کیس اتھ اس کی جو گفتگو تاریخ کی کتابوں میں نقل ہئی کہ یہ تینوں ایک دوسرے سے چھپ کر تین راتیں قرآن سنتے رہے اور ہر رات یہ وعدہ کرتے رہے کہ یہ دوبارہ نہ آئیں گے مگر آتے ہی رہے۔ بعد میں انہوں نے آخر کار حلف اٹھایا کہ آئندہ نہ آئیں کہ اگر عوام نے انہیں دیکھ لیا تو ان پر اثر ہوجائے گا ، جب اخنس ابن ابن شریق نے ابوجہل سے ، اس کی رائے دریافت کی تو اس کا جواب یہ تھا : ” تم نے کیا سنا ؟ ہم اور بنو عبدمناف ایک دوسرے سیعزت اور شرف کے حصول کے لئے لڑتے رہے۔ انہوں نے لوگوں کو کھانے کھلائے تو ہم نے بھی کھلائے۔ انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم بھی سواریاں دیں یہاں تک کہ گھٹنے سے گھٹنا ملا کر ہم نے گھوڑوں پر مقابلہ کیا۔ اور ہم یوں تھے جیسے مقابلہ کرنے والے سوار۔ اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک نبی پیدا ہوگیا ہے جس پر آسمان سے وحی آتی ہے تو ہم نبی کہاں سے لائیں۔ خدا کی قسم ! ہم اس پر کبھی ایمان نہ لائیں گے اور نہ اس کی تصدیق کریں گے “۔ ان وجوہات کے علاوہ بھی بعض اسباب تھے اور بعض ایسے حالات تھے کہ لوگوں کے مفادات ، ان کے طبقات ، اور ان کے نفسیاتی تصورات اور عزت نفس پر زد پڑتی تھی۔ یہ تصورات اور برتری کا یہ شعور ایام جاہلیت سے ان کے دل و دماغ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس لئے یہ تمام قوتیں اس سعی میں لگی ہوئی تھیں کہ اس نظریاتی پودے کو کسی طرح اکھاڑ پھینکیں ، قبل اس کے کہ اس کی جڑیں مضبوط ہوجائیں اور گہری زمین کے اندر چلی جائیں۔ اور قبل اس کے کہ یہ درخت تنو مند ہو کر پھیل جائے۔ خصوصاً اس وقت جب یہانفرادی خفیہ دعوت کی دور سے گزر کر تحریک آگے بڑھ گئی۔ اللہ نے اپنے نبی کو حکم دے دیا کہ اب علانیہ اجتماعی دعوت شروع کردیں اور دعوت کے خدوخال واضح ہونے لگے اور قرآن کریم مسلسل نازل ہونے لگا اور شرکیہ عقائد اور غلط رسومات کو اس نے جڑ سے اکھاڑنا شروع کردیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگرچہ نبی تھے۔ آپ پر رب تعالیٰ کی طرف سے وحی آرہی تھی ، عالم بالا سے آپ کا رابطہ تھا لیکن بہرحال آپ بشر تھے ، انسانوں کے جذبات اور خلجانات آپ کی ذات کا حصہ تھے ، آپ کو سخت مخالفت کا سامنا تھا۔ مشرکین نے اب ہر طرف سے مخالفت شروع کردی تھی۔ آپ اور آپ کے مٹھی بھر ساتھی یہ تمام مشکلات جھیل رہے تھے۔ آپ بھی مشرکین باتیں سنتے تھے اور آپ کے مٹھی بھر ساتھی بھی مشرکین کی باتیں سنتے تھے۔ یہ لوگ آپ پر ذاتی حملے کرتے تھے۔ ویقولون انہ لمجنون (51:68) ” وہ کہتے تھے کہ ضرور یہ دیوانہ ہے “۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وہ جو مزاح کرتے تھے یہ اس کا ایک نمونہ ہے۔ جو قرآن نے نقل کردیا ہے۔ یہ تو تھا ان کا حملہ آپ کی ذات کے بارے میں۔ اس کے علاوہ جو لوگ مسلمان ہوگئے ان اقربا ان پر اپنے گھروں میں مظالم ڈھا رہے تھے۔ مسلمان قلیل تھے ، ضعیف تھے اس پر ان کا مزاح اور ٹھٹھے ، ان کے لئے شدید اذیت کا باعث ہوا کرتے تھے۔ اگرچہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کے متعلق تھے۔ چناچہ اس پارے میں اور دور کی تمام سورتوں میں یہ نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور مسلمانوں کو بہت زیادہ تسلی دیتا ہے۔ اور ان کو اپنی نگہداشت میں رکھے ہوئے ہے ، وہ ان کا ولی اور نگہبان ہے۔ اللہ ان کو تسلی دیتا ہے۔ ان کی تعریف کرتا ہے اور اس دعوت کا جو اخلاقی پہلو ہے ، اسے نمایاں کیا جاتا ہے جو نبی کریم کی ذات اور مسلمانوں کے نفوس کے اندر نمایاں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ الزامات کی تردید فرماتا اور ضعیف مسلمانوں کے دلوں کو مطمئن فرماتا ہے اور یہ تسلی دیتا ہے کہ دشمنوں کے ساتھ لڑنے کے لئے وہ کافی ہے اور ان کا بندوبست وہ خود کردے گا۔ تم فکرنہ کرو ، اگرچہ تمہارے دشمن قوی اور مضبوط ہیں۔ سورة القلم میں اس قسم کی بیشمار تسلیاں ہیں۔ ن والقلم…………عظیم (1:68 تا 4) ” قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں ، تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہو ، اور یقینا تمہارے لئے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو “۔ اور دوسری جگہ ہے : ان للمتقین……………تحکمون (34:68 تا 36) ” یقینا خدا ترس لوگوں کے لئے ان کے رب کے ہاں نعمت بھری جنتیں ہیں۔ کیا ہم فرماں برداروں کا مال مجرموں کا سا کردیں ؟ تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے تم کیسے حکم لگاتے ہو “۔ اور نبی کے کھلے اور ممتاز دشمن کے بارے میں اللہ فرماتا ہے : ولا تطع…………الخرطوم (10:68 تا 16) ” ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا ہے ، بےوقعت آدمی ہے ، طعنے دیتا ہے ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ، بھلائی سے روکتا ہے ، ظلم و زیادتی میں حد سے گزرجانے والا ہے ، سخت بداعمال ہے ، جفاکار ہے ، اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے۔ اس بناپر کہ وہ بہت مال اور اولاد رکھتا ہے۔ جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔ عنقریب ہم اس کی سونڈ پرداخ لگائیں گے “۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مکذبین کے ساتھ نمٹ لینے کا اعلان کرتا ہے۔ فذرنی……………متین (44:68 تا 45) ” پس اے نبی تم اس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ۔ ہم ایسے طریقے سے ان کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ میں ان کی رسی درازکررہا ہوں۔ میری چال بڑی زبردست ہے “۔ اور اس دنیا کے عذاب کے سوا ان کو آخر کا عذاب بھی دیا جائیگا ، جو بہت ہی سخت ہے۔ یوم یکشف……………سلمون (42:68 تا 43) ” جس روز سخت وقت آپڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لئے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے ، ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ، ذلت ان پر چھائی ہوگی ، یہ جب صحیح سالم تھے ، اس وقت انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا۔ (اور یہ انکار کرتے تھے) ان کے سامنے باغ والوں کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ یہ اس دنیا کا قصہ ہے ، اس سے عرب واقف تھے ، سخت اترانے والے مالک تھے اس باغ کے۔ یہ تہدید ہے کبراء قریش کو جو اپنے مال واولاد پر اترا رہے تھے ، جس طرح اس سے قبل کہا گیا کہ ان کا سخت رویہ ، اس وجہ سے ہے کہ یہ حال مال واولاد ہیں۔ سورت کے آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ صبر جمیل اختیار کریں۔ فاصبر ……………الحوت (48:68) ” اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائو “۔ ان تسلیوں سے ، ان تعریفوں سے ، ان حوصلہ افزائیوں سے ، مکذبین کو ان شدید دھمکیوں سے ، جو خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جارہی ہیں ، اور خدا کی طرف سے ان کے خلاف اس اعلان جنگ سے ، ان سب امور سے کیا معلوم ہوتا ہے ؟ یہ کہ یہ دور مسلمانوں پر سخت تھا ، تعداد بہت کم تھی ، مخالفین طاقتور تھے ، غریب اور نادار لوگوں پر تشدد ہورہا تھا ، اور نہایت ہی مشکل حالات میں ناموافق زمین پر تحریک اسلامی کا پودا لگایا جارہا تھا۔ یہ نظریاتی پودا جبکہ اسے اکھاڑنے کی سعی ہر طرف سے ہورہی تھی۔ اس سورت کے اسلوب بیان سے ، اس کے انداز تعبیر سے ، اس کے موضوعات سخن سے بھی وہ حالات اچھی طرح عیاں ہیں ، جو تحریک اسلامی کو اس وقت درپیش تھے۔ مخالفین اپنے خیالات ، تصورات اور اعتراضات کیحوالے سے نہایت ہی سادہ ، بدوی نظر آتے ہیں اور ان کی ترجیحات اور اجتماعات نہایت فرو تر قسم کے ہیں جیسا کہ کسی بھی پرلے درجے کی پسماندہ سوسائٹی میں ہوتا ہے۔ جس انداز سے اللہ تعالیٰ ان کی افتراء پردازیوں کا رد فرماتا ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کی سوسائٹی کیسی تھی۔ ماانت……………المفتون (2:68 تا 6) ” تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہو ، اور یقینا تمہارے لئے ایسا اجر ہے ، جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔ عنقریب تم بھی دیکھ لوگے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے “۔ اور اس طرح اللہ کی جانب سے شدید دھمکی کے بعد بھی معلوم ہوتا ہے کہ حالات کس قدر سخت تھے اور یہ لوگ کس قدر اجذ تھے۔ فذرنی…………متین (45:68) ” پس اے نبی تم اس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ۔ ہم ایسے طریقے سے ان کو بتدریج تباہ کی طرف لے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ میں ان کی رسی دراز کررہا ہوں۔ میری چال بڑی زبردست ہے “۔ اور حالات کی سنگینی اور ان لوگوں کی ددیت ان سخت الفاظ سے بھی معلوم ہوتی ہے ، جو ان سے ایک شخص کے بارے میں استعمال ہوئے۔ ولا تطع……………زنیم (10:68 تا 13) ” ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا ہے ، بےوقعت آدمی ہے ، طعنے دیتا ہے ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ، بھلائی سے روکتا ہے ، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے ، سخت بداعمال ہے ، جفاکار ہے ، اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے۔ ان کے لئے اللہ نے جس قصے کا انتخاب کیا ہے ، وہ بھی بعض سادہ لوح لوگوں کا قصہ ہے ، جن کی فکر ، جن کا تصور ، جن کی سرکشی اور حرکات کا انعکاس اس سے خوب ہوتا ہے ۔ ذرا اس قصے کے کرداروں کے اقوال دیکھیں۔ وھم…………مسکین (24:68) ” اور وہ آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے کہ آج کوئی مسکین تمہارے ساتھ باغ میں نہ آنے پائے “۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان لوگوں کو جس انداز میں خطاب کیا جاتا ہے ، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بہت سادہ تھے۔ ام لکم……………زعیم (37:68 تا 40) ” کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو کہ تمہارے لئے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو ؟ یا پھر کیا تمہارے لئے روز قیامت تک ہم پر کوئی عہدوپیمان ثات ہے کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگائو ؟ ان سے پوچھو تم میں سے کون اسکا ضامن ہے ؟ “ یہ وہ صفات ہیں جو ان قرآنی تعبیرات سے ، واضح طور پر سامنے آتی ہیں ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی ایام میں دعوت اسلامی کو کس قدر سادہ لوح لوگوں سے واسطہ تھا۔ اور دعوت اسلامی کو کن حالات سے گزرنا پڑا۔ اور ان سادہ لوح بدوی لوگوں کو دعوت اسلامی اور قرآن نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آخری عہد میں کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا اور ان کی سادگی ، ان کی فکر ، ان کے تصورات اور ان کے شعور اور ان کی ترجیحات میں کس قدر عظیم انقلاب برپا کردیا۔ چناچہ قرآن کے آخری دور یعنی 23 سال بعد کے اسالیب کلام ، طرز خطاب ، انہی لوگوں کے شعور ، افکار اور ترجیحات میں کیا انقلاب برپا ہوا ؟ حالانکہ بیس بائیس سال کا عرصہ اقوام کے عروج وزوال کی تاریخ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ اس طرح تھوڑا ہوتا ہے جس طرح پلک جھپکنے کا وقت۔ 23 سال کا عرصہ اور ایک بدوی قوم کے اندر ایک عظیم انقلاب۔ یہ سوسائٹی اس قلیل وقت میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور اس نے دنیا سے علمی ، فکری اور سیاسی قیادت چھین لی اور پھر دنیا کو اس مقام تک پہنچایا جس تک وہ کبھی نہ پہنچی تھی۔ نہ نظریاتی اعتبار سے ، نہ اس زاویہ سے کہ کسی نظریہ نے لوگوں کی زندگیوں کو اس قدر بدل کر رکھ دیا ہو ، نہ اس اعتبار سے ، نہ اس زاویہ سے کہ کسی نظریہ نے لوگوں کی زندگیوں کو اس قدر بدل کر رکھ دیا ہو ، نہ اس اعتبار سے کہ کسی نظریہ نے اس قدر وسیع آبادی کو مختصر وقت میں اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو اور اس رواداری ، محبت اور فکری غذا فراہم کی ہو ، اور شعوری ضروریات پوری کی ہوں ، ایک اجتماعی نظام دیا ہو ، تنظیمی ادارے دیئے ہوں ، اور تمام پہلوئوں سے انسانیت کو بلند کیا ہو ؟ اس سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے سادہ ترین بدویت کے اندر کس قدر عظیم انقلاب برپا کیا ، جو گہرا بھی تھا ، جامع ومانع بھی تھا اور وسیع بھی تھا۔ غرض یہ ایک ہمہ گیر انقلاب تھا جس نے ضعف کو قول میں بدل دیا۔ قلت کو کثرت میں بدل دیا۔ اور فکر کی کایا پلٹ دی۔ یاد رہے کہ انسانوں کی ظاہری صف بندی کے مقابلے میں فکری اصلاح مشکل ترین کام ہوتا ہے۔