Surat ul Qalam

Surah: 68

Verse: 11

سورة القلم

ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ۱۱﴾

[And] scorner, going about with malicious gossip -

بے وقار ، کمینہ ، عیب گو ، چغل خور ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

هَمَّازٍ ... A Hammaz, Ibn `Abbas and Qatadah both said, "This is slander." ... مَّشَّاء بِنَمِيمٍ going about with Namim, This refers to the one who goes around among people instigating discord between them and carrying tales in order to corrupt relations between people when they are good and pleasant. It is confirmed in the Two Sahihs that Mujahid reported from Tawus that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah once passed by two graves and he said, إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ وَأَمَّا الاْخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَة Verily, these two are being punished, and they are not being punished for something major. One of them was not careful about protecting himself from urine (when relieving himself). The other one used to spread Namimah." This Hadith has been recorded by the Group in their books through routes of transmission that are all on the authority of Mujahid. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah said, "I heard the Messenger of Allah saying, لاَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّات The slanderer will not enter into Paradise." This Hadith has been reported by the Group except for Ibn Majah. Concerning Allah's statement, مَنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] آیت نمبر ١٠ سے ١٣ تک چار آیات میں کافروں کے ایک رئیس کی اخلاقی حالت کو رسول اللہ کے مقابلہ میں پیش کیا گیا ہے اور اس کا نام لینے کی ضرورت اس لئے پیش نہیں آئی کہ ان صفات والا کردار صرف ایک ہی تھا۔ اور اس کی یہ صفات پڑھ کر ہر ایک کو معلوم ہوجاتا تھا کہ ان آیات کا روئے سخن کس طرف ہے اور یہ قرآن کی انتہائی حکمت کی دلیل ہے کہ کسی برے شخص کا نام لیے بغیر محض صفات سے ہی اس کی نشاندہی کردی جائے اور ہر ایک کو معلوم ہوجائے کہ جس شخص میں یہ اور یہ صفات پائی جاتی ہوں وہ ایسے اخلاق کا مالک ہوتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ہَمَّازٍ مَّشَّآئٍم بِنَمِیْمٍ :” ھماز مشاء بنیم :” ھماز “ ” ھمز یھمزھمزا “ (ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے ، بہت طعنہ دینے والا ، عیب لگانے والا ۔ ” مشاء “ ” مشی یمشی مشیا “ (ض) (چلنا) سے مبالغے کا صیغہ ہے ، بہت چلنے والا ، بہت دوڑدھوپ کرنے والا ۔ ” نمیم “ چغلی ، خرابی ڈالنے کی نیت سے کسی کی بات دوسرے شخص تک پہنچانا۔ ان دونوں صفتوں کا خلاصہ دوسروں پر عیب لگانا ہے۔ ” ھماز “ وہ جو دوسرے کے منہ پر عیب لگاتا اور طعنہ دیتا ہے۔ ” مشاء بنیم “ وہ جو پیٹھ پیچھے چغلی کرتا ہے۔ یعنی بس چلے تو جرأت سے منہ پر طعنہ زنی اور عیب جوئی کرتا ہے اور بس نہ چلے تو پیٹھ پیچھے دوڑ دھوپ جاری رکھتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ہَمَّازٍ مَّشَّاۗءٍؚبِنَمِيْمٍ۝ ١١ ۙ همز الْهَمْزُ کالعصر . يقال : هَمَزْتُ الشیء في كفّي، ومنه : الْهَمْزُ في الحرف، وهَمْزُ الإنسان : اغتیابه . قال تعالی: هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ [ القلم/ 11] يقال : رجل هَامِزٌ ، وهَمَّازٌ ، وهُمَزَةٌ. قال تعالی: وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] وقال الشّاعر : وإن اغتیب فأنت الْهَامِزُ اللُّمَزَهْ وقال تعالی: وَقُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزاتِ الشَّياطِينِ [ المؤمنون/ 97] . ( ھ م ز ) الھمز کے آصل معنی کسی چیز کو دبا کر نچوڑ نے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ ھمزت الشئی فی کفی میں نے فلاں چیز کو اپنی ہتھیلی میں دبا کر نچوڑ اور اس سے حرف ہمزہ ہے جو کہ زبان جو جھٹکا د ے کر پڑھا جاتا ہے اور ھمز کے معنی غیبت کرنا بھی آتے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ [ القلم/ 11] طعن آمیز شارتیں کر نیوالا چغلیاں لئے پھر نیوا لا اور ھامز وھمزۃ وھما ز کے معنی عیب چینی کرنے والا کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ ؎ وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغلخور کی خرابی ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 456 ) وان غتبت فانت الھا مز اللمزۃ اگر غیبت کی جائے تو تو طعن آمیز اشارتیں کرنے والا بد گو ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَقُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزاتِ الشَّياطِينِ [ المؤمنون/ 97] کہو اے پروردگار میں شیاطین کے وسا س پناہ مانگتا ہوں ۔ مشی المشي : الانتقال من مکان إلى مکان بإرادة . قال اللہ تعالی: كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، وقال : فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلى بَطْنِهِ [ النور/ 45] ، إلى آخر الآية . يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَامْشُوا فِي مَناكِبِها[ الملک/ 15] ، ويكنّى بالمشي عن النّميمة . قال تعالی: هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ [ القلم/ 11] ، ويكنّى به عن شرب المسهل، فقیل : شربت مِشْياً ومَشْواً ، والماشية : الأغنام، وقیل : امرأة ماشية : كثر أولادها . ( م ش ی ) المشی ( ج ) کے معنی ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف قصد اور ارادہ کے ساتھ منتقل ہونے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی چمکتی اور ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلى بَطْنِهِ [ النور/ 45] ان میں سے بعض ایسے ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔ فَامْشُوا فِي مَناكِبِها[ الملک/ 15] تو اس کی راہوں میں چلو پھرو ۔ اور کنایۃ مشی کا لفظ چغلی کھانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ [ القلم/ 11] طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا ۔ اور کنایۃ کے طور پر مشئی کے معنی مسہل پینا بھی آتے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ شربت مشیا ومشو ا میں نے مسہل دواپی الما شیۃ مویشی یعنی بھیڑ بکری کے ریوڑ کو کہتے ہیں اور امراۃ ماشیۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے بچے بہت ہوں ۔ نم النَّمُّ : إِظْهَارُ الحَدِيثِ بِالوِشَايَةِ ، والنَّمِيمَةُ الوِشَايَةُ ، ورَجُلٌ نَمَّامٌ. قال تعالی: هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ [ القلم/ 11] وأصل النَّمِيمَةِ : الهَمْسُ والحَرَكَةُ الخَفِيفَةُ ، ومنه : أَسْكَتَ اللَّهُ نَامَّتَهُ أي : ما يَنِمُّ عليه مِنْ حَرَكَتِهِ ، والنَّمَّامُ : نَبْتٌ يَنِمُّ عليه رَائِحَتُهُ ، والنَّمْنَمَةُ : خُطُوطٌ مُتَقَارِبَةٌ ، وذلک لقِلَّةِ الحَرَكَةِ من کاتِبِهَا في كِتَابَتِهِ. ( ن م م ) النم ( ن ) کے معنی چغلی کھانے کے ہیں ۔ اور چغلخوری کو نمیۃ کہاجاتا ہے ۔ نمام چغل خور ۔ قرآن پاک میں ہے : هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ [ القلم/ 11] طعن آمیز اشارتیں کرنیوالا چغلیاں لئے پھرنے والا اصل میں نمیمۃ کے معنی ھمس ( پاؤں کی آہٹ ) اور حرکت خفیفہ کے ہیں ۔ اسی سے محاورہ ہے : اسکت اللہ نامتہ ۔ خدا اس کی حرکت کو بند کردے یعنی وہ مرجائے ۔ النمام گھاس جس کی خوشبو اس کے وجود پر دلالت کرے ۔ النمنمۃ ۔ قریب قریب خطوط گویا کتابت میں قلت حرکت پر دالی ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (ھماز مشاء بنمیم، طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے) یعنی لوگوں کی عزت وآبرو کے بارے میں سخت زبان درازی کرنے والا اور ان پر ایسی باتوں کا عیب دھرنے والا جوان کے اندر موجود نہ ہوں۔ قول باری (مشاء بنمیم) سے وہ شخص مراد ہے، جو ایک کی بات دوسرے تک پہنچاتا ہو مقصد اس کا یہ ہو کہ اس طرح لگائی بجھائی کرکے لوگوں کو آپس میں لڑا دے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (لا یدخل الجنۃ قتات) چغلخور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(68:11) ھماز : ھمز مصدر (باب نصر، ضرب) سے ۔ بڑا عیب گو۔ عیب جو، طعن کرنے والا۔ بطور طعن آنکھ سے اشارہ کرنا۔ ھمز الشیطین شیطانی وسوسہ۔ ھامز عیب چین۔ چغل خور۔ مشاء بہت چلنے والا۔ مشی سے مبالغہ کا صیغہ۔ بنمیم : ب تعدیہ کا۔ نمیم مصدر واسم ۔ چغلی کھانا۔ مشاء بنمیم وہ شخص وج بڑی تندہی اور زور شور سے ادھر اور ادھر کی ادھر چغلی کھاتا پھرے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) طعن اور تشنیع کرنے والا ہو اور چغل خوری اور چغلیاں کھاتا پھرتا ہو۔