Surat ul Qalam

Surah: 68

Verse: 17

سورة القلم

اِنَّا بَلَوۡنٰہُمۡ کَمَا بَلَوۡنَاۤ اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ ۚ اِذۡ اَقۡسَمُوۡا لَیَصۡرِمُنَّہَا مُصۡبِحِیۡنَ ﴿ۙ۱۷﴾

Indeed, We have tried them as We tried the companions of the garden, when they swore to cut its fruit in the [early] morning

بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says, إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ ... Verily, We have tried them, meaning, `We have tested them.' ... كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ ... as We tried the People of the Garden, This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation. ... إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning, meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity. وَلاَ يَسْتَثْنُونَ

سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا ، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کر دیا ہے ، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے ، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے ، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی ، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ، اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کر دی گئی ہے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہو گئے ( ابن ابی حاتم ) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو ، حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا ، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے ، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے ، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا ۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے ، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے ۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہو چکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہو گیا ہے ، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا ، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے ، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہو گیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں ، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہو گیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں ، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں ، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے ، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا ، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد و ثناء نہیں کرتے؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی ، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے ، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا ، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم ، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے ، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے ۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کر دیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کر لیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کر دیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے ، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں ، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

17۔ 1 مراد اہل مکہ ہیں یعنی ہم نے ان کو مال و دولت سے نوازا تاکہ وہ اللہ کا شکر کریں نہ کہ کفر وتکبر لیکن انہوں نے کفر و استکبار کیا تو ہم نے انہیں بھوک اور قحط کی آزمائش میں ڈال دیا جس میں وہ نبی کی بددعا کی وجہ سے کچھ عرصہ مبتلا رہے۔ 17۔ 2 باغ والوں کا قصہ عربوں میں مشہور تھا۔ یہ باغ (یمن) سے دو فرسخ کے فاصلے پر تھا اس کا مالک اس کی پیداوار غربا و مساکین پر بھی خرچ کرتا تھا، لیکن اس کے مرنے کے بعد جب اس کی اولاد اس کی وارث بنی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے تو اپنے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں، ہم اس کی آمدنی میں سے مساکین اور سائلین کو کس طرح دیں ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس باغ کو تباہ کردیا، کہتے ہیں یہ واقعہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے کے تھوڑے عرصے بعد پیش آیا (فتح القدیر) یہ ساری تفصیل تفسیری روایات کی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤] یعنی ان قریش مکہ کو بھی اسی طرح آزمائش میں ڈال رکھا ہے جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ اِنَّا بَلَوْنٰـہُمْ کَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ ۔۔۔۔: اہل مکہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا۔ تمام لوگ حج کے لیے انکے پاس آتے اور اپنی ضروریات کے لیے ان کے گاہک بنتے تھے ، وہ جہاں جاتے اہل حرم ہونے کی وجہ سے انہیں کوئی کچھ نہ کہتا ۔ ہر قسم کا میوہ ان کے شہر پہنچ جاتا ، ان کی تجارت خوب چمکی ہوئی تھی اور وہ نہایت مال دار اور مکمل امن کی نعمت سے بہرہ ور تھے ۔ ان نعمتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انعام بھی کیا کہ ان میں اپنا آخری رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث فرمایا ، مگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلا دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھوک اور خوف کا عذاب مسلط کردیا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ چلے جانے کے بعد قریش نے آپ کے ساتھ جنگوں کا سلسلہ شروع کردیا ، جس سے وہ خود بھی غیر محفوظ ہوگئے اور ان کی تجارت بھی برباد ہوگئی ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بد دعا سے ان پر قحط مسلط ہوگیا ، یہاں تک کہ وہ مردار تک کھا گئے۔ ( دیکھئے بخاری ، ٤٨٢٨، ٤٨٠٩) اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کی اس حالت کا ذکر ان آیات میں بیان کیا ہے :( وَضَرَبَ اللہ ُ مَثَـلًا قَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَئِنَّۃً یَّاْتِیْہَا رِزْقُہَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللہ ِ فَاَذَاقَہَا اللہ ُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ مِّنْہُمْ فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَہُمُ الْعَذَابُ وَہُمْ ظٰلِمُوْنَ ) (النحل : ١١٢، ١١٣) ” اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی ، اطمینان والی تھی ، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا ، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی نا شکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے اور بلا شبہ یقینا ان کے پاس انہی میں سے ایک رسول آیا تو انہوں نے اسے جھٹلا دیا ، تو انہیں عذاب نے اس حال میں آپکڑا کہ وہ ظالم تھے “۔ یہاں اہل مکہ کی نا شکری اور اس پر سزا کے لیے بطور مثال ایک باغ والوں کا قصہ بیان کیا اور فرمایا :( انا بلونھم کما بلونا اصحب الجنۃ) ” بیشک ہم نے مکذبین کو نعمت دے کر آزمایا جس طرح باغ والوں کو نعمت دے کر آزمایا تھا “۔ یہ چند بھائی تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بہت شاندار باغ عطاء فرمایا تھا، مگر بجائے اس کے کہ وہ اسے اللہ کی نعمت سمجھ کر اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ نکالتے ، انہوں نے قسم کھالی کہ صبح ہوتے ہی اس کا پھل توڑ لیں گے ، کسی مسکین کو نہ آنے دیں گے اور نہ انہیں کچھ دیں گے ، مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کے جانے سے پہلے ہی آگ لگنے یا کسی اور آسمانی آفت سے باغ برباد ہوگیا ۔ صبح گئے تو وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ ٢۔” بلونھم “ ” بلا یبلو “ (ن) آزمانا ، مصیبت میں مبتلا کرنا ، انعام کرنا ۔” لیصرمنھا “ ” صرم یصرم “ (ض) کاٹنا ، کٹنا ، ” صریم “ کٹا ہوا ۔ یہ باغ کہا تھا اور باغ والے کون تھے ؟ قرآن نے ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ قرآن واقعات کو بطور تاریخ نہیں بلکہ بطور عبرت بیان کرتا ہے اور اس کے لیے نفس واقعہ ہی کافی ہے۔ اس مقام پر سورة ٔ کہف کی آیات (٣٢ تا ٤٤) بھی دیکھ لیں ، وہاں بھی عبرت دلانے کے لیے دو باغ رکھنے والے کی مثال بیان کی گئی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ (We have tested them as We had tested the Owners of the Garden....68:17). The preceding verses rebutted the criticisms of pagan Arabs levelled against Allah&s Messenger and gave reasons why the charges are not only unfounded, but also absurd. The present set of verses mentions a story of the past and the unbelievers of Makkah are threatened with punishment. &Testing them& could refer to the forthcoming story, in which the owners of a garden were blessed with Divine favours, but they behaved ungratefully. As a result, a punishment came upon them and the favours were destroyed. The greatest Divine favour upon the Makkans was the advent of the Holy Messenger t. Besides, their businesses flourished and they prospered. This was a test for them to see whether they would behave gratefully to Allah and believe in Him and in His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، or whether they would obstinately persist in disbelief. In the other case, they should draw lessons from the story of the owners of the orchard, lest they be visited by a similar punishment on account of ingratitude. This interpretation would apply even in the case where these verses are taken as Makki, but most commentators take them to be Madani. The &test& referred to here is the terrible famine that held Makkah in its grip, as a result of the Holy Prophet&s prayer against them, for several years during which time people died of hunger and starvation, they were forced to eat carrion and leaves of trees till the Makkans begged the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to pray for their deliverance from the scourge. This incident took place after the migration. The Story of the Owners of a Garden Some elders, such as Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) ، mentioned that this orchard was in Yemen. According to one version of Sayyidna Said Ibn Jubair&s narration, it was about six miles away from San` a&, the famous capital city of Yemen. Other scholars think that it was in Ethiopia [ formerly known as Abyssinia ] [ Ibn Kathir ]. They were from amongst the People of the Book. This incident took place a while after the Ascension of Sayyidna Isa (علیہ السلام) [ Qurtubi ]. They are referred to as the &Owners of the Garden& in the above verse. The description of the story given in the verses indicates that they did not only have a garden, but they also had large tracts of land which they cultivated and had fields of crops. Possibly, side by side with the orchard there were tracts of cultivated land and fields of crops in between the trees. However, they were called the owners of the garden on account of the popularity of the garden. The incident is reported according to the narration of Muhammad Ibn Marwan on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) as follows: There was a garden about two farsakhs (six miles) away from San` a& of Yemen. Its name was Darawan. This garden was set up by a pious and righteous person. His practice was to pick the fruits or harvest the crops with sickle. He would give some of the crop to the poor and indigent who gathered grains for themselves and did their living. Likewise, when the crop was thrashed, and the grain separated from the chaff, he would leave the grain for the poor. So also when fruits were picked from the trees of the orchard, some fruits would fall down, and he would leave them for the indigent. For this reason, the poor always gathered at the orchard at the time of picking the fruit, and separating the grain from the chaff. When the righteous person passed away, he had three sons who inherited the orchard and crop-fields. They held a family meeting and discussed that their family has grown large, and the produce of the orchard and land is not sufficient for them. Therefore, it is no longer possible for them to spare any fruit or grain for the poor. According to other narratives, these boys, like other youngsters, felt that their father was a fool to give so much of fruits and grains to them. They thought it was necessary to put a stop to this. The rest of the story is told in the following verses of the Qur&an. إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِ‌مُنَّهَا مُصْبِحِينَ (...when they had sworn an oath that they would pluck its fruits on the next morning, and did not make any exception (by saying &insha&Allah& ).... 68:17-18). In other words, they swore that they would harvest very early in the morning and return with it before the throng of poor people could arrive at the garden. They had so much of confidence in their plan that they did not say the redeeming words &If Allah wills& whereas it is sunnah to say &insha&Allah& when one mentions that one will do a particular work tomorrow.

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ (یعنی ہم نے آزمائش میں ڈالا ان (اہل مکہ) کو جس طرح آزمائش میں ڈالا تھا باغ والوں کو) سابقہ آیات میں کفار اہل مکہ کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر طعن وتشنیع کا جواب تھا۔ ان آیات میں حق تعالیٰ نے پچھلے زمانے کا ایک قصہ ذکر کر کے اہل مکہ کو تنبیہ فرمائی اور عذاب سے ڈرایا۔ اہل مکہ کو آزمائش میں ڈالنے سے یہ مراد بھی ہو سکتی کہ جس طرح آئندہ آنے والے قصہ میں باغ والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا انہوں نے ناشکری کی جس کے نتیجہ میں عذاب آ گیا اور ان کی نعمت سلب ہوگئی، حق تعالیٰ نے اہل مکہ پر اپنا سب سے بڑا انعام تو یہ فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے اندر پیدا فرمایا اس کے علاوہ ان کی تجارتوں میں برکت عطا فرمائی اور ان کو خوشحال بنادیا، یہ ان کی آزمائش ہے کہا للہت عالیٰ کی ان نعمتوں کے شکر گزار ہوتے ہیں اور اللہ و رسول پر ایمان لاتے ہیں یا اپنے کفر وعناد پر جمے رہتے ہیں۔ دوسری صورت میں ان کو باغ والوں کے قصہ سے عبرت حاصل کرنا چاہئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کفر ان نعمت سے ان پر بھی ایسا ہی عذاب نہ آجائے۔ یہ تفسیر اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ان آیات کو بھی مثل اکثر سورت کے مکی قرار دیا جائے لیکن بہت سے حضرات مفسرین نے ان آیات کو مدنی قرار دیا ہے اور جس آزمائش کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد وہ قحط کا عذاب ہے جو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بد دعا سے ان لوگوں پر مسلط ہوا تھا جس میں وہ بھوک سے مرنے لگے اور مردار جانور اور درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہوگئے تھے۔ یہ واقعہ ہجرت کے بعد کا ہے۔ باغ والوں کا قصہ :۔ یہ باغ بعض سلف جیسے حضرت ابن عباس وغیرہ کے قول پر یمن میں تھا اور حضرت سعید بن جبیر کی ایک روایت یہ ہے کہ صنعاء جو یمن کا مشہور شہر اور دارالسلطنت ہے اس سے چھ میل کے فاصلے پر تھا اور بعض حضرات نے اس کا محل وقوع حبشہ کو بتلایا ہے (ابن کثیر) یہ لوگ اہل کتاب میں سے تھے اور یہ واقعہ رفع عیسیٰ (علیہ السلام) کے کھچ عرص ہبع کا ہے (قرطبی) آیت مذکورہ میں ان کو اصحاب الجنتہ یعنی باغ والوں کے نام سے تعبیر کیا ہے مگر مضمون آیات سے معلوم ہوتا ہے کہا ان کے پاس صرف باغ ہی نہیں بلکہ کاشت کی زمینیں بھی تھیں۔ ہوسکتا ہے کہ باغ کے ساتھ ہی مزروعہ زمین بھی ہو مگر باغوں کی ہشرت کے سبب باغ والے کہہ دیا گیا۔ واقعہان کا بروایت محمد بن مروان حضرت عبداللہ ابن عباس سے اس طحر منقول ہے۔ صنعا یمن سے دو فرسخ کے فاصلے پر ایک باغ تھا جس کو صروان کہا جاتا تھا۔ یہ باغ ایک صالح اور نیک بندے نے لگایات ھا اس کا عمل یہ تھا کہ جب کھیتی کاٹتا تو جو درخت دراتنی سے باقی رہ جاتے تھے ان کو فقراء و مساکین کے لئے چھوڑ دیتا تھا یہ لوگ اس سے غلہ حاصل کر کے اپنا گزارہ کرتے تھے۔ اسی طرح جب کھیتی کو گاہ کو غلہ نکالتا تو جو دانہ بھوسے کیساتھ اڑ کر الگ ہوجاتا، اس دانے کو بھی فقراء و مساکین کے لئے چھوڑ دیتا تھا، اسی طرح جب باغ کے درختوں سے پھل توڑتا تو توڑنے کے وقت جو پھل نیچے گر جاتا وہ بھی فقراء کے لئے چھوڑ دیتا تھا (یہی وجہ تھی کہ جب اس کی کھیتی کٹنے یا پھل توڑنے کا وقت آتا تو بہت سے فقراء و مساکین جمع ہوجاتے تھے) اس مرد مصالح کا انتقال ہوگیا اس کے کتنی بیٹے باغ اور زمین کے وارث ہوئے، انہوں نے آپس میں گفتگو کی کہ اب ہمارا عیال بڑھ گیا ہے اور پیداوار ان کی ضرورت سے کم ہے اس لئے اب ان فقراء کے لئے ا تنا غلہ اور پھل چھوڑ دینا ہمارے بس کی بات نہیں اور بعض روایات میں ہے کہ ان لڑکوں نے آزاد نوجوانوں کی طرح یہ کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا اتنی بڑی مقدار غلہ اور پھل کی لوگوں کو لٹا دیتا تھا۔ ہمیں یہ طریقہ بند کرنا چاہئے، آگے ان کا قصہ خود قرآن کریم کے الفاظ میں حسب ذیل ہے۔ اِذْ اَقْسَمُوْا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِيْنَ وَلَا يَسْتَثْنُوْن یعنی انہوں نے آپس میں حلف قسم کر کے یہ عہد کیا کہا اب کی مرتبہ ہم صبح سویرے ہی جا کر کھیتی کاٹ لیں گے تاکہ مساکین و فقراء کو خبر نہ ہو اور وہ ساتھ نہ لگ لیں اور اپنے اس منصوبے پر ان کو اتنا یقین تھا کہ انشاء اللہ کہنے کی بھی توفیق نہ ہوئی جیسا کہ سنت ہے کہ کل جو کام کرنا ہے جب اس کا ذکر کرے تو یوں کہے کہ ہم انشاء اللہ کل یہ کام کریں گے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّا بَلَوْنٰہُمْ كَـمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ۝ ٠ ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَيَصْرِمُنَّہَا مُصْبِحِيْنَ۝ ١٧ ۙ بلی يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ( ب ل ی ) بلی الثوب ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا بوسیدہ اور پرانا ہونے کے ہیں اسی سے بلاہ السفرہ ای ابلاہ ۔ کا تج اور ہ ہے ۔ یعنی سفر نے لا غر کردیا ہے اور بلو تہ کے معنی ہیں میں نے اسے آزمایا ۔ گویا کثرت آزمائش سے میں نے اسے کہنہ کردیا اور آیت کریمہ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ «3» [يونس/ 30] وہاں ہر شخص ( اپنے اعمال کی ) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا ۔ میں ایک قرآت نبلوا ( بصیغہ جمع متکلم ) بھی ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہاں ہم ہر نفس کے اعمال کی حقیقت کو پہنچان لیں گے اور اسی سے ابلیت فلان کے معنی کسی کا امتحان کرنا بھی آتے ہیں ۔ اور غم کو بلاء کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جسم کو کھلا کر لاغر کردیتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی دسخت آزمائش تھی ۔ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ قْسَمَ ( حلف) حلف، وأصله من الْقَسَامَةُ ، وهي أيمان تُقْسَمُ علی أولیاء المقتول، ثم صار اسما لكلّ حلف . قال : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] ، أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] ، وقال : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] ، فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ [ المائدة/ 106] اقسم ( افعال کے معنی حلف اٹھانے کے ہیں یہ دروصل قسامۃ سے مشتق ہے اور قسیا مۃ ان قسموں کو کہا جاتا ہے جو او لیائے مقتول پر تقسیم کی جاتی ہیں پھر مطلق کے معنی استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں ۔ أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے مارے میں تم قسمیں کھایا کرتی تھے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ہم کو روز قیامت کی قسم اور نفس لوامہ کی ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم ۔ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم صبح ہوتے اس کا میوہ توڑلیں گے ۔ فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ [ المائدة/ 106] اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں ۔ ماسمعتہ وتقاسما باہم قسمیں اٹھانا ۔ قرآن میں ہے : وَقاسَمَهُما إِنِّي لَكُما لَمِنَ النَّاصِحِينَ [ الأعراف/ 21] اور ان کی قسم کھاکر کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ۔ صرم الصَّرْمُ : القطیعة، والصَّرِيمَةُ : إحكام الأمر وإبرامه، والصَّرِيمُ : قطعةٌ مُنْصَرِمَةٌ عن الرّمل . قال تعالی: فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ [ القلم/ 20] ، قيل : أصبحت کالأشجار الصَّرِيمَةِ ، أي : الْمَصْرُومِ حملُهَا، وقیل : کاللّيل، لأنّ اللّيل يقال له : الصَّرِيمُ ، أي : صارت سوداء کاللّيل لاحتراقها، قال : إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] ، أي : يجتنونها ويتناولونها، فَتَنادَوْا مُصْبِحِينَ أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 21- 22] . والصَّارِمُ : الماضي، وناقةٌ مَصْرُومَةٌ: كأنها قطع ثديها، فلا يخرج لبنها حتّى يقوی. وتَصَرَّمَتِ السَّنَةُ. وانْصَرَمَ الشیءُ : انقطع، وأَصْرَمَ : ساءت حاله . ( ص ر م ) الصرم : کے معنی ریوڑ کے ہیں اور الصریمۃ کسی کام کے احکام اور ابرام کو کہتے ہیں اور ریت کے علیحدہ ٹکڑے کو الصریم کہاجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ [ القلم/ 20] تو وہ ایسے ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی ۔ کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ باغ ان درختوں کی طرح ہوگیا جن کے پھل کاٹ لئے گئے ہوں یعنی صریم بمعنی مصروم ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ صریم رات کو بھی کہتے ہیں اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ یعنی کھیتی سوختہ ہوکر رات کی طرح سیاہ ہوگئی ۔ قرآن میں ہے :إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ ڈالیں گے ۔ فَتَنادَوْا مُصْبِحِينَ أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 21- 22] جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو۔ الصارم تیز تلوار ناقۃ مصرومۃ : اونٹنی جس کا دودھ خشک ہوگیا ہو ۔ گویا اس کے پستان کاٹ دیئے گئے ہیں ۔ تصرمت السنۃ سال گزر گیا ۔ انصرم الشئی کسی چیز کا منقطع ہوجانا اصرم الرجل : وہ آدمی بدحال ہوگیا ۔ صبح الصُّبْحُ والصَّبَاحُ ، أوّل النهار، وهو وقت ما احمرّ الأفق بحاجب الشمس . قال تعالی: أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] ، وقال : فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] ، والتَّصَبُّحُ : النّوم بالغداة، والصَّبُوحُ : شرب الصّباح، يقال : صَبَحْتُهُ : سقیته صبوحا، والصَّبْحَانُ : الْمُصْطَبَحُ ، والْمِصْبَاحُ : ما يسقی منه، ومن الإبل ما يبرک فلا ينهض حتی يُصْبَحَ ، وما يجعل فيه الْمِصْبَاحُ ، قال : مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكاةٍ فِيها مِصْباحٌ الْمِصْباحُ فِي زُجاجَةٍ [ النور/ 35] ، ويقال للسّراج : مِصْبَاحٌ ، والْمِصْبَاحُ : مقرّ السّراج، والْمَصَابِيحُ : أعلام الکواكب . قال تعالی: وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنْيا بِمَصابِيحَ [ الملک/ 5] ، وصَبِحْتُهُمْ ماء کذا : أتيتهم به صَبَاحاً ، والصُّبْحُ : شدّة حمرة في الشّعر، تشبيها بالصّبح والصّباح، وقیل : صَبُحَ فلان أي : وَضُؤَ ( ص ب ح) الصبح والصباح دن کا ابتدائی حصہ جبکہ افق طلوع آفتاب کی وجہ سے سرخ ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] کیا صبح کچھ دور ہے ۔ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] تو جن کو ڈرسنا یا گیا ہے ۔ ان کے لئے برادن ہوگا ۔ التصبح صبح کے وقت سونا ۔ الصبوح صبح کی شراب کو کہتے ہیں اور صبحتہ کے معنی صبح کی شراب پلانے کے ہیں ۔ الصبحان صبح کے وقت شراب پینے والا ( مونث صبحیٰ ) المصباح (1) پیالہ جس میں صبوحی پی جائے (2) وہ اونٹ جو صبح تک بیٹھا رہے (3) قندیل جس میں چراغ رکھا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكاةٍ فِيها مِصْباحٌ الْمِصْباحُ فِي زُجاجَةٍ [ النور/ 35] اس کے نور کی مثال ایسی ہے گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ اور چراغ ایک قندیل میں ہے ۔ اور چراغ کو بھی مصباح کہاجاتا ہے اور صباح کے معنی بتی کی لو کے ہیں ۔ المصا بیح چمکدار ستارے جیسے فرمایا : وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنْيا بِمَصابِيحَ [ الملک/ 5] اور ہم نے قریب کے آسمان کو تاروں کے چراغوں سے زینت دی ۔ صبحتم ماء کذا میں صبح کے وقت انکے پاس فلاں پانی پر جاپہنچا اور کبھی صبیح یا صباح کی مناسبت سے بالوں کی سخت سرخی کو بھی صبح کہا جاتا ہے ۔ صبح فلان خوبصورت اور حسین ہونا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧۔ ٢٠) اور ہم نے مکہ والوں کی بدر کے دن قتل و قید اور شکست کے ساتھ اور ترک استغفار کے ساتھ اور بدر میں رسول اکرم کی بددعا کی وجہ سے سات سالہ قحط اور بھوک کی شکایت سے آزمائش کر رکھی ہے جیسا ہم نے باغ والوں یعنی بنی ضروان، بھوک کی شکایت اور ان کے باغوں کو آگ لگا کر آزمائش کی تھی۔ جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ اس باغ کا پھل ضرور صبح سویرے چل کر توڑ ڈالیں گے اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ سو اس باغ پر رات ہی میں عذاب آپڑا سو وہ باغ جل کر ایسا رہ گیا جیسا کہ تاریک رات۔ شان نزول : اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ (الخ) ابن ابی حاتم نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل نے بدر کے دن اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ ان مسلمانوں کو پکڑ کے رسیوں سے باندھ لو اور ان میں سے کسی کو قتل مت کرو تب یہ آیت نازل ہوئی تو جیسا کہ باغ والے پھل توڑنے پر اپنے آپ کو قادر سمجھ کر باتیں ملا رہے تھے اسی طرح ابوجہل مسلمانوں پر اپنے آپ کو قادر سمجھ کر یہ کہہ رہا تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧{ اِنَّا بَلَوْنٰہُمْ کَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِج } ” یقینا ہم نے ان (اہل مکہ) کو اسی طرح آزمایا ہے جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا۔ “ اللہ تعالیٰ لوگوں کو طرح طرح کے امتحانات سے آزماتا رہتا ہے۔ ایک انسان کو اگر دولت کی آزمائش میں ڈالا جاتا ہے ‘ تو کسی دوسرے کو غربت کے امتحان سے دوچار کردیا جاتا ہے۔ سورة الملک کی اس آیت میں تو انسان کی زندگی اور موت کی تخلیق کا مقصد ہی آزمائش بتایا گیا ہے : { الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ ۔ } ” اس نے موت اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔ اور وہ بہت زبردست بھی ہے اور بہت بخشنے والا بھی ۔ “ { اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّہَا مُصْبِحِیْنَ ۔ } ” جبکہ انہوں نے قسم کھائی کہ وہ ضرور اس کا پھل اتار لیں گے صبح سویرے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

12 Here, one should also keep Al-Kahf: 32-44 in view, in which the parable of the owners of two gardens has been cited for teaching a lesson.

سورة الْقَلَم حاشیہ نمبر :12 اس مقام پر سورہ کہف رکوع 5 بھی پیش نظر رہے جس میں اسی طرح عبرت دلانے کے لیے دو باغ والوں کی مثال پیش کی گئی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

7: مکہ مکرَّمہ کے بعض مال دار کافروں کو یہ زعم تھا کہ اگر اﷲ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوتا تو ہمیں مال و دولت سے نہ نہ نوازتا، جیسا کہ سورۃ مومنون (۲۳:۵۶) میں اﷲ تعالیٰ نے ان کے اس خیال کا ذِکر فرمایا ہے۔ یہاں اﷲ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ ہم بعض اوقات کسی کو مال و دولت کو اس آزمانے کے لئے دیتے ہیں، اور اگر وہ اس پر اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کرے تو اس پر دُنیا ہی میں عذاب آجاتا ہے۔ چنانچہ ان آیات میں اسی طرح کا ایک واقعہ بیان فرمایا گیا ہے جو اہل عرب میں مشہور تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک نیک شخص کا بہت بڑا باغ تھا۔ اُس نیک آدمی کا معمول یہ تھا کہ وہ اپنے باغ اور کھیت کی پیداوار کا ایک اچھا خاصہ حصہ غریبوں کو دیا کرتا تھا۔ جب اُس کا انتقال ہوا تو اُس کے بیٹوں نے یہ طے کیا کہ ہمارا باپ بے وقوف تھا جو اتنی ساری پیداوار غریبوں کو دے کر اپنی دولت میں کمی کردیتا تھا۔ اب جو ہم باغ کی کٹائی کریں گے تو ایسا اِنتظام کریں گے کہ کوئی غریب آدمی وہاں آنے ہی نہ پائے۔ اس کے نتیجے میں جب وہ کٹائی کے لئے پہنچے تو اﷲ تعالیٰ نے ان کے باغ پر ایک ایسی آفت بھیج دی کہ سارا باغ تباہ ہو کر رہا گیا۔ اکثر روایتوں کے مطابق یہ واقعہ یمن کے شہر صنعا سے کچھ فاصلے پر ضروان نامی ایک علاقے میں پیش آیا تھا۔ یہ علاقہ اب بھی ضروان کہلاتا ہے، اور میں نے دیکھا ہے۔ وہاں چاروں طرف پھیلے ہوئے سبزے کے درمیان ایک کالے کالے پتھروں والا ویران علاقہ ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہی اُس باغ کی جگہ تھی جو بعد میں آباد نہیں ہوسکی۔ واللہ اعلم۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٧۔ ٣٣۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) کی روایت سے صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی طرح آئی تھی جیسے باغ والوں پر ان کے باغ کے اجڑ جانے کے وقت آئی تھی۔ ان باغ والوں کا قصہ مکہ اور نواح مکہ میں بہت مشہور تھا اس لئے اس کا حوالہ دیا گیا۔ تفسیرابن جریر ١ ؎ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ یمن کے ملک میں ایک شخص کا ایک باغ تھا وہ شخص نیک نیت تھا اللہ کی نعمت کی شکر گزاری میں فضل کے وقت کچھ میوہ اللہ کے نام پر دیا کرتا تھا اس شخص کی وفات کے بعد اس کے لڑکوں کی نیت بدل گئی اور انہوں نے یہ چاہا کہ فقیروں کے آنے سے پہلے اندھیرے منہ باغ جا کر سب میوہ پیڑوں سے توڑ لائیں۔ باغ میں پہنچنے سے پہلے اپنی ناشکری کا انہوں نے یہ پھل پایا کہ وہاں رات کو اللہ کے حکم سے آگ لگ گئی اور سارا باغ جل کر خاک سیاہ ہوگیا۔ جب یہ لوگ باغ پہنچے تو اس کی حالت دیکھ کر ان لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید اندھیرے میں راستہ بھول کر ہم کہیں اور آگئے۔ پھر جب جگہ پہچان گئے تو اپنی ناشکری کی نیت پر بڑا افسوس کیا آخر آیت میں قریش کو ہوشیار کیا کہ دیکھو خدا کی نافرمانی اور اس کی نعمتوں کی ناشکری سے دنیا میں بھی خدا کی آفتیں یوں آیا کرتی ہیں۔ جس طرح تم پر قحط کی اور باغ والوں پر باغ کے جل جانے کی آفت آئی پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ چند روزہ دنیا ہی کیا اور اس کی چلتی پھرتی آفت ہی کیا آخرت کی آفت بڑی آفت ہے جس کی مدت کا کچھ ٹھکانا نہیں صوم کے معنی میوہ توڑنے کے ہیں۔ لایستثنون کے معنی یہ کہ انہوں نے اپنے ارادہ پر انشاء اللہ تعالیٰ نہیں کہا صریم کے معنی کے معنی کٹی ہوئی کھیتی بھوسا۔ حرد کے معنی کوشش ‘ اوسطھم کے معنی ان میں کا صاحب عقل۔ (١ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الدخان ص ٧١٤ ج ٢۔ ) (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٠٦ ج ٤۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(68:17) انا بلونھم : بلونا ماضی جمع متکلم ۔ بلاء وبلو (باب نصر) مصدر جس کا معنی آزمانے کے ہیں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ ہم نے ان کو آزمایا ہم ان کو آزما رہے ہیں۔ کفار مکہ کی اس آزمائش کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) علامہ پانی پتی لکھتے ہیں :۔ انا بلونھم یعنی قحط اور بھوک سے ہم نے اہل مکہ کی آزمائش کی۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ والوں کے لئے بددعا کی تھی کہ الٰہی ان پر زمانہ یوسف جیسا قحط ڈال دے تو اللہ نے ان کو قحط میں مبتلا کردیا۔ یہ ان تک کہ لوگ مردار اور ہڈیاں کھا گئے۔ (تفسیر مظہری) (2) صاحب روح المعانی رقمطراز ہیں :۔ انا بلونھم : ای اصبنا اہل مکۃ ببلیۃ وہی القحط بدعوۃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بددعا پر ہم نے ان پر بلا یعنی قحط نازل کردیا۔ (3) صاحب تفسیر حقانی لکھتے ہیں کہ :۔ انا بلونھم۔ ہم نے ان کو یہ فراخ دستی اور عیش و آرام دے رکھے ہیں یہ ان کی آزمائش ہے (تفسیر حقانی) (4) مولانا اشرف علی تھانوی (رح) لکھتے ہیں :۔ ہم نے جو اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے (کہ دیکھیں یہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کرتے ہیں) بیان القرآن وغیرہ۔ کما بلونا اصحب الجنۃ ک تشبیہ کا ما موصولہ اور اس کے بعد آنے والا جملہ اس کا صلہ الجنۃ میں الف لام عہد کا ہے یعنی جس کا متکلم اور مخاطب کو علم ہو۔ یعنی یہ خاص باغ تھا جس کا علم کفار مکہ اور دیگران کو تھا۔ ہم نے ان کی آزمائش کر رکھی ہے جیسا کہ ہم نے باغوالوں کی آزمائش کی تھی۔ (مولانا اشرف علی تھانوی (رح)) باغ کے متعلق مولانا ممدوح (رح) رقمطراز ہیں :۔ یہ باغ بقول ابن عباس (رض) حبشہ میں تھا۔ اور بقول سعید بن جبیر (رض) یمن میں تھا کذا فی الدر۔ اور یہ قصہ اہل مکہ کو معلوم تھا۔ اور جن باغ والوں کا یہ قصہ ہے ان کے باپ کا اپنے وقت میں معمول تھا کہ ایک بڑا حصہ باغ کے پھل کا مساکین میں صرف کیا کرتا تھا۔ جب وہ مرگیا تو ان لوگوں نے کہا کہ ہمارا باپ احمق تھا کہ اس قدر آمدنی مسکینوں کو دے دیتا تھا اگر یہ سب گھر آوے تو کس قدر فراغت ہو۔ چناچہ ان آیتوں میں ان کا بقیہ قصہ مذکور ہے۔ اذا اقسموا : اذا طرفیہ ہے بمعنی جب۔ جس وقت۔ اقسموا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اقسام (افعال) مصدر۔ انہوں نے قسمیں کھائیں۔ یعنی ہم نے اصحب الجنۃ کو قحط میں اس وقت مبتلا کیا جب انہوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ لیصر منھا مصبحین : کہ صبح ہوتے ہی (مسکینوں کو اطلاع ہونے سے پہلے ہی) ہم باغ کے پھل توڑ لیں گے۔ لیصومنھا مصبحین : جواب قسم ، لام تاکید کا۔ یصر من مضارع تاکید بانون ثقیلہ جمع مذکر غائب۔ صوم (باب نصر) مصدر۔ بمعنی کاٹنا۔ توڑنا۔ (پھل) کاٹنا۔ (کھیتی) کاٹنا۔ صریم کٹا ہوا غلہ، صارم کاٹنے والا۔ کاٹ دینے والا۔ ھا ضمیر مفعول جس کا مرجع الجنۃ ہے۔ مصبحین اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصبی۔ صبح کے وقت کو پانے والے۔ صبح کرنے والے۔ اصباح (افعال) مصدر سے۔ یصرمن کے فاعل سے حال ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی باغ والوں کی طرح ہم نے انہیں بھوک اور قمر و سالی میں مبتلا کردیا۔ ان باغ والوں کا قصہ مکہ والوں میں مشہور و معروف تھا کیونکہ یہ باغ یمن کے شہر صنعا سے چند میل کے فاصلہ پر بنو ثفیف کے ایک نیک شخص کا تھا۔ وہ اس کی پیداوار میں سے اللہ کے حکم کے مطابق صدقہ و خیرات کرتا اس کے انتقال کے بعد جب اس کے وارث آئے تو انہوں نے فقیروں کا حق نکالنا بند کردیا۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ (شوکانی)10 تاکہ فقیر و محتاج اپنا حق مانگنے کے لئے جمع نہ ہو سکیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام (رض) کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی آمدنی کو تین حصوں میں تقسیم کیا کرتا تھا۔ ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے اور دوسرا باغ کی نشوونما پر لگاتا اور تیسرا حصہ غریبوں پر تقسیم کیا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے باغ اور مال میں بڑی برکت عطا فرمائی۔ جب وہ فوت ہوگیا تو اس کے بیٹوں نے سوچا اور فیصلہ کیا کہ ہمارا باپ اپنی آمدنی کو خوامخواہ ضائع کرتا تھا انہوں نے قسمیں اٹھائیں کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ جب غریب لوگ سوئے ہوئے ہوں گے، تو ہم صبح سویرے اٹھ کر باغ کا پھل توڑلیں گے۔ پھل توڑنے کا فیصلہ کرنے کے وقت انہوں نے انشاء اللہ پڑھنے کی ضرورت محسوس نہ کی، وہ اپنے گھر میں سوئے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی آندھی جاری کی کہ جس میں آگ کے بگولے تھے آندھی نے پل جھپکنے میں ان کے باغ کو جلاکر خاکستر کردیا، ادھر یہ اپنے فیصلے کے مطابق علیٰ الصبح اٹھے اور ایک دوسرے کو یہ کہہ کر جگا رہے تھے کہ اگر پھل توڑنا اور اسے غریبوں سے بچانا ہے تو اپنی کھیتی کی طرف جلد پہنچ جاؤ، وہ صبح سویرے اٹھ کر چپکے چپکے اپنے باغ کی طرف چل پڑے تاکہ کوئی مسکین وہاں نہ پہنچ پائے، جب اپنے باغ کی جگہ پر پہنچے تو انہوں نے اس جگہ کو چٹیل میدان پایا وہ کہنے لگے اندھیرے کی وجہ سے ہم اپنے باغ کا راستہ بھول گئے ہیں، کچھ نے کہا نہیں ہم بدنصیب ہوچکے ہیں یوں لگتا ہے کہ ہمارا باغ جلا دیا گیا ہے۔ ان کے درمیانے بھائی نے کہا کہ کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم اللہ کی تسبیح کرو یعنی اس کا شکرادا کرو کہ اس نے تمہیں اپنے باپ کی وراثت میں بہترین باغ عطا فرمایا ہے لیکن تم نے اپنے رب کی ناشکری کی اور یہ فیصلہ کیا کہ ہم غریبوں پر خرچ نہیں کریں گے جس کا نتیجہ ہے کہ ہمارا باغ جلاکر راکھ کردیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے زیادہ تفصیل بیان نہیں کی تاہم معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بحث و تکرار کے دو ران صبح کی روشنی نمودار ہوئی ہوگی اور اس روشنی میں ان کے منجھلے بھائی نے باغ کی جگہ پر پڑی ہوئی راکھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہوگا کہ ہمارا باغ یہاں ہی واقع تھا۔ لیکن بگولہ دارآندھی سے اسے جلاکر راکھ بنا دیا گیا ہے۔ اس پر وہ سخت نادم اور پشیمان ہو کر کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے اس نے ہم پر ظلم نہیں کیا، ہم خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں۔ اس کے بعد ایک بھائی دوسرے کو کہتا ہے کہ تم نے یہ مشورہ دیا تھا۔ دوسرا پہلے کو کہتا ہے کہ یہ تمہاری تجویز تھی اور تم ہی ایسا کرنے پر اصرار کرتے تھے۔ اس طرح وہ ایک دوسرے کو الزام دیتے اور ملامت کرتے رہے بالآخر سب نے مل کر اعتراف کیا کہ یہ مصیبت ہماری وجہ سے آئی ہے کیونکہ ہم اپنے رب کے نافرمان ہوچکے تھے۔ اس کے بعد اپنے رب کے حضور دعائیں کرنے لگے کہ امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے گا یقیناً ہم اپنے رب کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں۔ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد اہل مکہ اور ان کے حوالے سے ہر دور کے مجرموں کو یہ سمجھایا ہے کہ دیکھو اور غور کرو کہ جس مال پر تم اتراتے اور تکبر کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں کس طرح تباہ کرتا ہے اور آخرت میں اس کا عذاب اس سے بھی بڑا ہوگا۔ کاش ! مجرم اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس عذاب کے بارے میں ” عَلَیْھَا طَاءِفَۃٌ“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں کہ اس باغ پر ایک آفت پھر گئی۔ مفسرین نے آفت سے مراد آندھی لی ہے جس میں آگ کے بگولے تھے آندھی میں آگ کے بگولے ہونا عجب بات نہیں کیونکہ دنیا میں آندھی کے ذریعے آگ لگنے کے کئی واقعات مشہور ہیں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں میں نے پاکستان میں ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے قریب وہ علاقہ دیکھا ہے کہ جہاں ٢٠٠١ ء میں ایسی آندھی آئی جس میں آگ کے بڑے بڑے بگولے تھے جس نے نہ صرف کھیتی اور باغوں کو جلایادیا تھا بلکہ مکانوں کی چھتیں بھی جل کر گر پڑی تھیں۔ یہ خوفناک منظر ٹیوی چینلز پر دکھایا گیا اور اخبارات میں اس کی تفصیلات شائع ہوئی۔ آیت ١٧ میں ارشاد ہوا کہ ہم نے مکہ والوں کو اسی طرح ہی آزمایا ہے جس طرح باغ والوں کو آزمایا تھا، باغ والوں نے اپنے رب کا شکر ادا کرنے اور اس کا حکم ماننے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں ذلیل ہوئے اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث فرمائے جن کی ذات اور دعوت کائنات کی سب سے بڑی نعمت تھی اور ہے بالخصوص مکہ والوں کے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی بنایا لیکن انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور دعوت کی قدر نہ کی اور اس آزمائش میں ناکام ہوئے جس کی پاداش میں ذلیل کر دئیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا دنیا میں فائدہ : (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ لَزِمَ الاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللَّہُ لَہُ مِنْ کُلِّ ہَمٍّ فَرَجًا وَمِنْ کُلِّ ضیقٍ مَخْرَجًا وَرَزَقَہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ ) (رواہ ابوداؤد : باب الاستغفار) ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے استغفار کو لازم پکڑ ا، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات عطا فرما دیتا ہے اور ہر تنگی سے نکلنے کی جگہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے خیال بھی نہ ہو۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہر دور کے ظالموں کو کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ ٢۔ بعض دفعہ بخل کی دنیا میں بھی سزا ملتی ہے۔ ٣۔ جب اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے تو پھر ظالم اس کا اقرار کرتے ہیں۔ ٤۔ عذاب کے وقت ظالم لوگ ایک دوسرے کو عذاب آ نے کا موجب قرار دیتے ہیں۔ ٥۔ انسان کو مصیبت میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ ٦۔ دنیا کے عذاب سے آخرت کا عذاب بڑا سخت ہوگا۔ تفسیر بالقرآن دنیا میں عذاب نازل ہونے کی حکمت : ١۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو مختلف عذابوں سے دو چار کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (الاعراف : ١٣٠) ٢۔ ” اللہ تعالیٰ “ بڑھے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب میں اس لیے مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں۔ (السجدہ : ٢١) ٣۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے قوم ! یہ اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے، اسکو چھوڑ دو تاکہ اللہ کی زمین میں چرے اور اس کو کسی طرح تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔ مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو صالح نے کہا تین دن فائدہ اٹھا لو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔ (ھود : ٦٤، ٦٥) ٤۔ پہلے لوگوں کو بڑی بڑی آزمائشوں سے دو چار کیا گیا تاکہ پتہ چل جائے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔ (العنکبوت : ٣) ٥۔ آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنائیں۔ (یونس : ٩٢) ٦۔ ہم نے قرآن میں طرح طرح کے دلائل دیے ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرائیل : ٤١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انا بلونھم ................ یعلمون ہوسکتا ہے کہ یہ قصہ اہل مکہ کے درمیان معروف ہو۔ لیکن یہاں مقصود یہ ہے کہ اس دنیا کے تمام کام دست قدرت میں ہیں۔ اور یہاں کوئی خوشحال ہے یا بدحال ہے ، وہ اللہ کی آزمائش میں ہے۔ اور یہی اس قصے سے یہاں مقصود ومطلوب ہے۔ اس قصے کے کرداروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت ہی پسماندہ قسم کے سادہ لوح لوگ ہیں۔ جس طرح دیہات کے سادہ لوح باشندے ہوتے ہیں۔ زیادہ گہرے افکار سے بہرہ ور نہیں ہوتے۔ اور سیدھی سیدھی بات کرتے ہیں۔ اس دور میں جب یہ آیات اتررہی تھیں تو قرآن کے مخاطب اکثر ایسے ہی سادہ لوگ تھے۔ جو اسلام سے دشمنی رکھتے تھے اور اسلام کا انکار کرتے تھے ، لیکن ان کے دماغ زیادہ پیچیدہ نہ تھے اور نہ فلسفیانہ افکار وہ رکھتے تھے۔ اکثر لوگ سادہ لوح اور سیدھے تھے۔ جہاں تک اس قصے کی طرزادا کا تعلق ہے تو یہ قرآن کے انداز بیان کا ایک نمونہ ہے۔ اس میں ایسی باتیں بھی ہیں جو کسی قصے میں اچانک نمودار ہوتی ہیں اور پڑھنے اور معلوم کرنے کا شوق بڑھاتی ہیں اور اس میں انسانی تدابیر اور ان کے فیل ہونے کے مناظر بھی ہیں کہ انسان کس طرح اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے مگر ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ اور یہ قصہ یوں بیان ہوتا ہے کہ گویا کردار ہمارے سامنے یہ سب کچھ کررہے ہیں۔ ذرا اسے دیکھئے خود قرآن کے الفاظ میں۔ اب ہم باغ والوں کے سامنے ہیں۔ یہ دنیا کی جنت ہے ، آخرت کی جنت نہیں ہے۔ یہ اس باغ کے بارے میں رات فیصلہ کرتے ہیں ، بالعموم جب باغ توڑا جاتا ہے تو ہر معاشرہ میں مساکین بھی اس دن حاضر ہوتے ہیں اور وہ بھی پیداوار میں سے اپنا حصہ پاتے ہیں۔ اور اس باغ کے سلسلے میں بھی یہی معمول تھا۔ لیکن اس باغ کے وراثت میں پانے والے موجودہ مالکان نے ، یہ اسکیم بنائی ہے کہ مساکین کو محروم کردیا جائے۔ واقعات یوں آگے بڑھتے ہیں۔ انا بلونھم .................... یستثنون (٨١) (٨٦ : ٧١۔ ٨١) ”” ہم نے ان (اہل مکہ) کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا ، جب انہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے اور وہ کوئی استثناء نہیں کررہے تھے “۔ انہوں نے یہ طے کیا کہ صبح تڑکے باغ کا پھل توڑ لائیں لیکن اس قرارداد کے بعد انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا۔ یا یہ نہ طے کیا کہ مساکین کے لئے بھی کچھ چھوڑیں گے اور اس پر انہوں نے قسم بھی اٹھائی کہ ایسا ضرور کریں گے اور اس امر کا فیصلہ کرلیا ۔ اور رات کو انہوں نے یہ شریر فیصلہ کیا۔ انہوں نے جو سازش کی یہ انہی کے دلوں میں رہی اور ان کو پتہ ہی نہ چلا کہ رات کی تاریکی میں باغ کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اس کا انہیں تصور بھی نہ تھا۔ یہ تو سوگئے لیکن اللہ تو نہیں سوتا۔ اللہ نے وہ کام کیا جو ان کی تدبیر کے برعکس تھا۔ اور یہ بطور سزا ہوا کہ انہوں نے نعمت کا شکر ادا کرنے کی بجائے سرکشی کی اور مساکین اور فقراء کا حصہ کاٹنے کا فیصلہ کیا حالانکہ وہ پہلے سے چلاآرہا تھا۔ یہ اک اچانک آفت ہے جو اس مرحلے پر سامنے آتی ہے۔ رات کی تاریکی میں دست قدرت کے بھیجے ہوئے کچھ سائے حرکت میں آتے ہیں۔ لوگ سوئے ہوئے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ لوگ مساکین کو دل کھول کر پھل اور کھیتی اور بھوسہ سے نکالے ہوئے دانے دے دیا کرتے تھے۔ آخر یہ ہوا کہ ان میں سے ایک شخص کی موت ہوگئی اس نے اپنے تین لڑکے وارث چھوڑے اب جو کھیتی کاٹنے کا موقع آیا تو ان تینوں بھائیوں نے مشورہ کیا کہ مال کم ہے اہل و عیال زیادہ ہیں اب اگر ہم اسی طرح سخاوت کرتے رہیں اور مسکینوں کو دیتے رہیں تو ہمارے لیے مال کم پڑجائے گا اب تو مسکینوں سے جان چھڑانا چاہیے لہٰذا انہوں نے آپس میں یہ طے کرلیا کہ آئندہ ہم بالکل صبح صبح باغ میں پہنچ جائیں گے اور مسکینوں کے آنے سے پہلے کاٹ کر گھر والوں میں لے آئیں گے۔ مشورے سے آپس میں یہ باتیں طے کیں اور قسمیں بھی کھائیں کہ ہم ضرور ایسا کریں گے۔ لیکن انشاء اللہ کسی کے منہ سے بھی نہ نکلا، اول تو مسکینوں کو محروم کرنے کی قسم کھائی دوسرے انشاء اللہ کہنا بھول گئے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے راتوں رات اس باغ پر آفت بھیج دی، یہ لوگ سو ہی رہے تھے انہیں پتہ بھی نہ چلا کہ باغ کا کیا بنا رات کو جو آفت آئی تو وہ کھیتی ایسی ہوگئی کہ پہلے سے کاٹ دی گئی ہو اسی کو ﴿ فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِيْمِۙ٠٠٢٠﴾ سے تعبیر فرمایا، وہاں پہنچے تو کچھ بھی نہ پایا حضرت ابن عباس (رض) نے ﴿كَالصَّرِیْمِ﴾ کا ترجمہ کالرماد الا سود کیا اور فرمایا ہے کہ بنی خزیمہ کے لغت میں اس کا یہی ترجمہ ہے یعنی ان لوگوں کی کھیتی سیاہ راکھ کی طرح ہوگئی۔ صبح کو جو یہ لوگ اٹھے تو آپس میں ایک دوسرے کو بلایا کہ آؤ اگر تمہیں اپنی کھیتی کی پیداوار پوری لینی ہے اور مسکینوں کو کچھ نہیں دینا ہے تو صبح صبح چلے چلو اور جلدی چلو ورنہ عادت کے مطابق مساکین آجائیں گے، چناچہ یہ تینوں بھائی چل دیئے چلے جا رہے تھے اور آپس میں چپکے چپکے یوں کہہ رہے تھے کہ دیکھو آج ہم تک کوئی مسکین نہ پہنچنے پائے، جو کچھ مشورہ کیا ہے اس پر قابو پانے کی کوشش کرو اور اپنے مال کو اپنے قبضہ میں کرلو۔ باغ میں پہنچے تو دیکھا کہ باغ تو جلا ہوا ہے کہنے لگے کہ ( علیہ السلام) جی یہ ہمارا باغ نہیں ہے ہم تو راستہ بھٹک گئے ہیں چلو اپنا باغ تلاش کرو، ان میں سے بعض نے کہا کہ ارے یہ بات نہیں ہے ہمارا باغ یہیں تھا ہم اس کی خیر سے محروم کردیئے گئے ہیں کیونکہ ہم نے یہ ٹھان لیا تھا کہ مساکین کو کچھ نہیں دینا ہے اس پر ہماری گرفت ہوئی ہے جس وجہ سے ہمیں کچھ بھی نہیں ملا، ان میں سے جو سب سے اچھا آدمی تھا اس نے کہا کہ کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں بیان کرتے یعنی انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے اب جب ان لوگوں نے باغ کو برباد دیکھا تو بڑی ندامت ہوئی اور کہنے لگے کہ ہم اپنے رب کی پاکی بیان کرتے ہیں بلاشبہ ہم نے ظلم کا فیصلہ کیا تھا کہ مسکینوں کو کچھ نہ دیں گے۔ اس کے بعد آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور الزام دینے لگے کہ تو نے یہ رائے دی تھی اور تو نے یوں کہا تھا اور کہنے لگے کہ ہائے ہماری خرابی ہم نے سرکشی والا کام کیا اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرتے۔ مساکین کو دیتے تو اچھا ہوتا سرکشی کر کے ہم نے اس محرومی کو خود مول لیا (اب سمجھ میں آگیا کہ ہمیں وہی کرنا چاہیے تھا جو ہمارے باپ دادا کرتے تھے) امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس باغ سے بہتر عطا فرمائے گا جو باغ جل کر خاکستر ہوگیا ہم اپنے رب کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان لوگوں نے اخلاص کے ساتھ توبہ کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک باغ عطا فرما دیا جس کے انگور کے خوشے اتنے بڑے بڑے تھے کہ ایک خوشہ ایک خچر پر لاد کرلے جاتے تھے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ ” انا بلوناھم “ یہ تخویف دنیوی کا نمونہ ہے۔ ضمیر منصوب اہل مکہ سے کنایہ ہے۔ ” اصحاب الجنۃ “ سے گذشتہ زمانے کے وہ بھائی مراد ہیں جنہوں نے ایک نہایت عمدہ باغ اپنے باپ سے وراثت میں پایا تھا۔ صنعاء الیمن کے قرب و جوار میں ایک شخص رہتا تھا جس کا ایک بہت اچھا باغ تھا جس میں ہر قسم کے میووں اور پھلوں کے درخت تھے یہ شخص بہت نیک تھا اور صرف خدا ہی کو برکات دہندہ سمجھتا تھا باغ کی پیداوار میں سے دل کھول کر خدا کی راہ میں خرچ کرتا اور مساکین کو کھلاتا تھا۔ مساکین صبح صبح ہی اس کے باغ میں پہنچ جاتے اور پھل توڑ کر ان کو کھلاتا اور ساتھ لے جانے کے لیے بھی دیتا اس کی وفات ہوئی تو اس کے بیٹوں نے سوچا کہ ہمارا باپ کوئی عقلمند نہیں تھا۔ وہ اپنی دولت فضول مسکینوں اور غریبوں میں بانٹ دیتا تھا اب انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ راتوں رات ہی پھل توڑ کرلے آئیں کہ جب مساکین وہاں پہنچیں تو وہ پھل سمیٹ کر واپس آچکے ہوں۔ ایک کے سوا یہ تمام بھائی مشرک تھے اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو برکات دہندہ سمجھتے تھے چناچہ انہوں نے قسمیں کھا کر یہ فیصلہ کیا اور جب وہ یہ فیصلہ کر رہے تھے اس وقت وہ استثناء نہیں کر رہے تھے یعنی شرک سے اللہ تعالیٰ کی تقدیس و تنزیہ نہیں کر رہے تھے اور برکات دینے میں اللہ کو وحدہ لا شریک نہیں سمجھ رہے تھے اور انہیں یہ خیال نہیں آرہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت کے بغیر وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ قال ابو صالح، کان استثنائہم قولہم سبحان اللہ ربنا (قرطبی ج 18 ص 241) ۔ مگر ان میں سے ایک جو علم و فہم اور عقل و اعتقاد کے اعتبار سے سب پر فائق تھا اس نے ان کو اس حرکت سے منع کیا تھا اور انہیں سمجھا یا تھا کہ وہ خدا کی تسبیح و تقدیس کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو برکات دہندہ نہ سمجھیں مگر انہوں نے اس کی ایک نہ سنی آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان کے باغ میں پہنچنے سے پہلے ہی اس کو آفت سماویہ سے تباہ و برباد کردیا۔ فرمایا ہم نے ان باغ والوں کو دنیوی نعمتوں سے مالا مال کر کے آزمایا۔ مگر انہوں نے ناشکری کی اور اللہ کے سوا اوروں کو برکات دہندہ سمجھنے لگے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو ان نعمتوں سے محروم کردیا گیا اسی طرح اہل مکہ کو ہم نے تمام دنیوی نعمتیں اور آسائشیں دیں اور سب سے بڑی نعمت ہم نے ان کو یہ عطا کی کہ سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان میں مبعوث فرمایا مگر انہوں نے ان تمام نعمتوں کی بےقدری اور ناشکری کی اور اپنے معبودان باطلہ کو برکات دہندہ سمجھا تو ہم نے ان پر سخت ترین قحط مسلط کردیا ہے۔ 10:۔ ” اذ اقسموا “ انہوں نے قسمیں کھا کر پختہ فیصلہ کرلیا کہ بالکل علی الصبح باغ میں پہنچ کر پھل توڑ لیں گے۔ مقصد یہ تھا کہ مساکین کے پہنچنے سے پہلے اپنا کام ختم کر کے واپس آجائیں۔ ولا یستثنون ای ولا یسحون بقرینۃ لولا تسبحون اور قالو اسبحان ربنا۔ یعنی وہ شرک سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس نہیں کر رہے تھے اور برکات دہندہ ہونے میں اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک نہیں مانتے تھے بلکہ اپنے خود ساختہ معبودوں کو بھی برکات دہندہ سمجھتے تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(17) ہم نے ان مکہ والوں کو بھی اسی طرح آزمایا جس طرح ہم نے ان باغ والوں کی آزمائش کی تھی جبکہ ان لوگوں نے اس بات پر قسمیں کھائی تھیں کہ ہم صبح ہوتے ہی ضرور اس باغ کے پھل توڑ لیں گے۔