Surat ul Qalam

Surah: 68

Verse: 20

سورة القلم

فَاَصۡبَحَتۡ کَالصَّرِیۡمِ ﴿ۙ۲۰﴾

And it became as though reaped.

پس وہ باغ ایسا ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So by the morning it became like As-Sarim. Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry." فَتَنَادَوا مُصْبِحِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

20۔ 1 یعنی جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد خشک ہوجاتی ہے، اس طرح سارا باغ اجڑ گیا، بعض نے ترجمہ یہ کیا ہے، سیاہ رات کی طرح ہوگیا، یعنی جل کر۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِ‌يمِ (Thus, on the next morning, it was like a harvested field ….68:20). The word sarim means to harvest or to collect a crop from the fields&. The word sarim in the context of the verse is used in the sense of masrum or maqtu`, meaning &harvested or cut&. This signifies that the fire burnt the field and stripped it bare. The word sarim also means &night&. From this point of view, the verse signifies &the field became burnt up and black like night&. [ Mazhari ].

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِيْمِ۝ ٢٠ ۙ صرم الصَّرْمُ : القطیعة، والصَّرِيمَةُ : إحكام الأمر وإبرامه، والصَّرِيمُ : قطعةٌ مُنْصَرِمَةٌ عن الرّمل . قال تعالی: فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ [ القلم/ 20] ، قيل : أصبحت کالأشجار الصَّرِيمَةِ ، أي : الْمَصْرُومِ حملُهَا، وقیل : کاللّيل، لأنّ اللّيل يقال له : الصَّرِيمُ ، أي : صارت سوداء کاللّيل لاحتراقها، قال : إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] ، أي : يجتنونها ويتناولونها، فَتَنادَوْا مُصْبِحِينَ أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 21- 22] . والصَّارِمُ : الماضي، وناقةٌ مَصْرُومَةٌ: كأنها قطع ثديها، فلا يخرج لبنها حتّى يقوی. وتَصَرَّمَتِ السَّنَةُ. وانْصَرَمَ الشیءُ : انقطع، وأَصْرَمَ : ساءت حاله . ( ص ر م ) الصرم : کے معنی ریوڑ کے ہیں اور الصریمۃ کسی کام کے احکام اور ابرام کو کہتے ہیں اور ریت کے علیحدہ ٹکڑے کو الصریم کہاجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ [ القلم/ 20] تو وہ ایسے ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی ۔ کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ باغ ان درختوں کی طرح ہوگیا جن کے پھل کاٹ لئے گئے ہوں یعنی صریم بمعنی مصروم ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ صریم رات کو بھی کہتے ہیں اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ یعنی کھیتی سوختہ ہوکر رات کی طرح سیاہ ہوگئی ۔ قرآن میں ہے :إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ ڈالیں گے ۔ فَتَنادَوْا مُصْبِحِينَ أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 21- 22] جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو۔ الصارم تیز تلوار ناقۃ مصرومۃ : اونٹنی جس کا دودھ خشک ہوگیا ہو ۔ گویا اس کے پستان کاٹ دیئے گئے ہیں ۔ تصرمت السنۃ سال گزر گیا ۔ انصرم الشئی کسی چیز کا منقطع ہوجانا اصرم الرجل : وہ آدمی بدحال ہوگیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠{ فَاَصْبَحَتْ کَالصَّرِیْمِ ۔ } ” تو وہ ایسے ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔ “ یعنی رات کو وہ باغ کسی بگولے کی زد میں آیا اور جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(68:20) فاصبحت : ف نتیجہ کی ہے اصبحت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ اصباح (افعال) مصدر ۔ وہ ہوگئی۔ مؤنث کا صیغہ الجنۃ کے لئے آیا ہے۔ یعنی (باغ) ہوگیا ۔ اصبحت ای صارت۔ کالصریم : کاف تشبیہ کا۔ الصریم کٹا ہوا۔ ٹوٹا ہوا۔ صرم سے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ بروزن فعیل بمعنی مفعول یعنی مصروم ہے۔ اصل معنی تو صریم کے یہی ہیں ۔ کٹا ہوا۔ ٹوٹا ہوا۔ جدا کیا ہوا۔ چونکہ صبح رات سے کٹی ہوئی ہے اور رات صبح سے کٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لئے کبھی صریم کا استعمال صبح کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی رات کے معنی میں۔ اسی طرح اس ذرہ ریگ کو صریم کہا جاتا ہے جو تودہ ریگ سے جدا ہوگیا ہو۔ چناچہ الصریم کی تفسیر میں یہ سارے قول بیان کئے گئے ہیں۔ کہ باغ سوکھ کر ایسا سفید ہوگیا جیسے کہ دن ہوتا ہے یا جل کر اتنا سیاہ ہوگیا جیسی کہ رات ہوتی ہے۔ یا اس طرح ٹوٹ ٹوٹ کے ذرہ ذرہ ہوگیا کہ جس طرح ذرہ ہائے ریگ تودہ ریگ سے اذ کر منتشر ہوجاتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 13 ۃ فرار نے ” صریم “ کی تفسیر ” کالی رات “ سے کی ہے۔ یعنی وہ باغ جل کر راکھ ہوگیا۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(20) پھر صبح ہوتے ہوتے وہ باغ ایسا ہوگیا جی سے کٹی ہوئی کھیتی۔ یعنی بالکل صاف زمین کہیں کہیں جلی ہوئی کھیتی کا نشان۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پانچ بھائی تھے ان کا باپ چھوڑ مرا ایک باغ میوہ کا اس کی پیدائش سے سارا گھر آسودہ تھا جس دن میوہ توڑنا ٹھہراتا شہر کے سب فقیر جمع ہو آتے سب کو کچھ کچھ دیتا اسی سے برکت تھی پیچھے بیٹوں نے سمجھا کہ اتنا جو فقیر لے جاویں اپنے ہی کام آوے پھر مشورہ کیا کو سویرے ہی توڑ کر گھر لے آئے فقیر جاویں گے تو وہاں کچھ نہ پائیں گے اور اس پر ایسا یقین کیا کہ انشاء اللہ تعالیٰ بھی نہ کہا رات کو آگ لگی یا دھاڑ پڑی سب صاف ہورہا۔