تعارف سورة الحاقہ سورة نمبر 69 کل رکوع 2 آیات 52 الفاظ و کلمات 260 حروف 1134 مقام نزول مکہ مکرمہ “ الحاقہ ” واقع ہونے والی وہ قیامت جب بلند وبالا اور مضبوط پہاڑ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دئیے جائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور پورے نظام کائنات کو الٹ کر رکھ دیا جائے گا۔ ” آخرت “ وہ حقیق دن جب میدان حشر قائم ہوگا اور اس میں ہر شخص کو حاضر ہو کر اللہ کی عدالت میں اپنی زندگی بھر کے کیے ہوئے کاموں کا حساب دینا ہوگا۔ ہر شخص کا نامہ اعمال اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا جن کے اعمال بہتر ہوں گے وہ اپنا نامہ اعمال خوشی اور مسرت کے ساتھ ایک دوسرے کو دکھاتے اور پڑھواتے پھریں گے اور جن کے اعمال نامے خراب ہوں گے وہ نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ کہتے ہوں گے کاش یہ دن دیکھنے سے پہلے ہی مٹی ہوگئے ہوتے وہ اپنی بدنصیبی پر رنج و غم میں مبتلا ہوں گے۔ فرمایا کہ جو لوگ قیامت، آخرت اور رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات کے منکر ہوتے ہیں ان کو اسی دنیا میں قیامت کی تباہ کاریاں دکھا دی جاتی ہیں چناچہ قوم عاد، قوم ثمود، قوم فرعون اور قو م لوط جو دنیاوی اعتبار سے نہایت مضبوط اور خوش حال قومیں تھیں جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانیوں کی انتہا کردی تو پھر ان پر شدید ترین عذاب آئے۔ کوئی طاقت و قوت ان کے کام نہ آسکی اور آج ان کے کھنڈرات اس کے گواہ ہیں کہ ان میں سے کسی کو بھی باقی نہیں رکھا گیا اور دنیا سے ان کا وجود مٹا دیا گیا ہے۔ ایسے نافرمانیوں کو آخرت میں اس سے بھی شدید عذاب دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ نے پہلے ہی سے آگاہ کرنے والا کلام اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ بھیج دیا ہے وہ ایسا کلام ہے جو نہ تو کسی شاعر کا قول ہے اور نہ کسی کاہن کا بلکہ اللہ رب العالمین کا کلام ہے جو ایک مقدس فرشتے کے ذریعہ پہنچایا گیا ہے۔ جو لوگ اللہ کے اس کلام پر عمل کریں گے ان کو دنیا اور آخرت میں بلندی اور نجات ملے گی اور اگر نافرمانی کے طریقے اختیار کیے گئے تو اللہ کا دستور یہی ہے کہ وہ ظالموں کو آخرت سے پہلے اسی دنیا میں ان کا بدترین ٹھکانا دکھا دیا کرتا ہے۔ فرمایا کہ جب قوم عاد اور قوم ثمود نے قیامت، آخرت، رسول اور اس کے لائے ہوئے کلام کو جھٹلایا تو ایک سخت اور دہشت ناک چنگھاڑ کے ذریعہ ان کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ قوم عاد جن کو اپنی طاقت اور مال و دولت پر بڑا ناز تھا ان کو شدید طوفانی آندھیوں سے تباہ کیا گیا۔ ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس طرح طوفان مسلط کیا گیا کہ وہ طوفانی ہوائیں ان کو اس طرح اٹھا اٹھا کر پٹک رہی تھیں کہ ان کے وجود کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح ہر طرف بکھرے ہوئے نظر آتے تھے اور آج ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچا ہے۔ قوم ثمود کو ایک زبردست اور زوردار دھماکے سے تباہ کیا گیا۔ فرمایا کہ قوم عاد اور قوم ثمود کی طرح جس قوم نے بھی اللہ کی بھیجی ہوئی سچائی کو جھٹلایا اس کا یہی انجام ہوا۔ چناچہ قوم فرعون، اس سے پہلے منکرین اور قوم لوط جن کی بستیوں کو الٹ کر پھینک دیا گیا تھا سب کو نافرمانی کی سکت سزا دی گئی اور ان کو سختی سے پکڑا گیا۔ فرمایا کہ طوفان نوح کے موقع پر اللہ نے اپنے فرمانبرداروں کو کشی میں سوار کرا کے بچا لیا تاکہ اس واقعہ سے ہر شخص عبرت حاصل کرسکے۔ اس کو ایک یادگار بنایا گیا تاکہ یادر رکھنے والے کان اس کو محفوظ کرلیں۔ فرمایا کہ میدان حشر میں جب اچھے یا برے اعمال نامے ہر شخس کے سامنے رکھ دئیے جائیں گے تو ان لوگوں کی خوشی کا ٹھکانا نہ ہوگا جنہوں نے نیک اعمال کیے تھے لیکن برے اعمال والے لوگ جو حسرت اور افسوس کرتے ہوئے ہوں گے ان کے لئے اللہ کی طرف سے حکم ہوگا کہ ان کو پکڑو، ان کی گردنوں میں طوق ڈالو اور گھسٹتے ہوئے جہنم میں لے جا کر جھونک دو اور انہیں ستر ہاتھ لمبی زنجیروں میں جکڑ دو کیونکہ یہ وہ بدنصیب لوگے ہیں جو دنیا میں نہ تو اللہ پر ایمان لائے اور نہ انہوں نے کسی غریب اور محتاج کو سہارا دیا۔ آج ان کا کوئی جگری اور گہرادوست ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ان کا آج کھانا بھی زخموں کی پیپ (دھو ون) کے سوا کچھ نہیں ہے جو ایسے منکرین کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تما چیزوں کو قسم کھا کر جو آدمی کو نظر آتی ہیں یا نظر نہیں آتیں فرمایا ہے کہ یہ کلام یعنی (قرآن مجید) ایک معزز اور ایک بزری والے فرشتے کے ذریعہ بھیجا گیا کلام الٰہی ہے۔ یہ کسی شاعر یا کاہن کی باتیں اور کلام نہیں ہے۔ نہ اس کو ہمارے رسول نے خود سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کیا ہے بلکہ اللہ کا نازل کیا ہوا کلام ہے اگر اس کلام کو نبی گھڑ کر ہماری طرف منسوب کرتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکر کر ان کی رگ جان کو کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی ہمیں اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔ یہ قرآن کریم ان لوگوں کے دھیان دینے کی چیز ہے جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں۔ فرمایا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے اس کلام کو ہی لوگ جھٹلاتے ہیں جن کا مزاج ہی کفرو انکار بن چکا ہے جو آخر کار ان کافروں کے لئے حسرت و افسوس کا ذریعہ بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ کہ یہ ہمارا کلام بالکل سچا کلام ہے یعنی اس کی سچائی دنیا پر کھل کر رہے گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا دین پہنچانے کی جو جدوجہد کر رہے ہیں وہ کرتے رہیے اور اپنے رب عظیم کی تسبیح اور حمدو ثنا کرتے رہیے۔
سورة الحاقہ کا تعارف یہ سورت اپنے نام ہی سے شروع ہوتی ہے مکہ میں نازل ہوئی دو رکوع اور باون آیات پر مشتمل ہے، یہ مکہ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی۔ اس میں مجموعی طور پر دو مضمون بیان کیے گئے ہیں۔ پہلے رکوع میں قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرنے سے بتلایا کہ قوم ثمود کو سخت آندھی سے ہلاک کیا گیا جو سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی اس نے قوم ثمود کو اس طرح پھٹک پھٹک کر زمین پردے مارا کہ ان کا کچومبر نکل گیا یہ زمین پر اس طرح پڑے ہوئے تھے جیسے کھجور کے گنے گرے پڑے ہوئے ہوں۔ قوم ثمود کے بعد فرعون اور اس کے لشکر کی ہلاکت کا ذکر کیا ہے جنہیں آنے والے لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا گیا بشرطیکہ کوئی نصیحت کے طور پر سننے والا ہو یہ وہ لوگ تھے جو اللہ اور اس کے رسول اور قیامت پر یقین نہیں رکھتے تھے حالانکہ قیامت ہر صورت برپا ہونے والی ہے۔ اس دن پہاڑ ایک ہی دھماکے سے ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا اور آٹھ ملائکہ اپنے رب کا عرش اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ جس شخص کو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا گیا وہ آواز پر آواز دے گا کہ آؤ میرا اعمال نامہ پڑھو۔ میرا ایمان تھا کہ ایک دن مجھے میر احساب ملنے والا ہے وہ جنت عالی میں بڑی عیش کی زندگی بسر کرے گا اس کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے اسے کہا جائے گا کھاؤ اور پیو کیونکہ تم دنیا میں اچھے کام کیا کرتے تھے۔ جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنے آپ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا کہ کاش ! مجھے یہ اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور نہ ہی مجھے اپنے حساب کتاب سے واسطہ پڑتا۔ وہ اپنے گزرے ہوئے وقت پر افسوس کرتے ہوئے کہے گا کہ نہ میرے مال نے مجھے فائدہ دیا اور نہ میرا اقتدار میرے کام آیا۔ وہ اس افسوس میں مبتلا ہوگا کہ اسے پکڑ لیا جائے گا اور ستر فٹ لمبی زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے کیونکہ یہ اپنے عظیم رب پر حقیقی ایمان نہیں رکھتا اور نہ ہی مسکینوں کا خیال کرتا تھا۔ آج اس کا کوئی خیر خواہ نہیں ہوگا اور اسے کھانے کے لیے جہنمیوں کے زخموں کی پیپ دی جائے گی جسے صرف مجرم ہی کھائیں گے۔ اس سورت کا دوسرا بنیادی مضمون یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھا کر کفار کے الزامات کی تردید کی ہے کہ یہ قرآن جبرائیل امین کے ذریعے نازل ہوا ہے نہ کسی شاعر کا کلام ہے اور نہ کسی کاہن کی گفتگو ہے۔ اسے صرف رب العالمین نے نازل کیا ہے یہ ادھر ادھر کی مداخلت سے اس حد تک پاک ہے کہ اگر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی طرف سے اس میں کوئی بات ڈالنے کی کوشش کرتے تو ان کا بھی دایاں ہاتھ کاٹ دیا جاتا اور کوئی انہیں بچانے والا نہ ہوتا۔ یہ نصیحت ہے پرہیزگاروں کے لیے جو لوگ اس نصیحت سے فائدہ حاصل نہیں کرتے وہ کافر ہیں اور کفار کے لیے ہلاکت اور افسوس کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
سورة الحاقہ ایک نظر میں یہ نہایت ہی ہولناک ، خوفناک اور پرشوکت سورت ہے۔ آپ جب چاہیں اسے پڑھیں۔ آپ کے احساسات میں ایک زلزلہ برپا ہوگا۔ اول سے لے کر آخر تک احساسات کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ خوفناک ضربات لگاتی ہے ، دو ٹوک باتی کرتی ہے ، اور اس کی اسکرین پر منظر کے بعد منظر آتا ہے اور ہر منظر میں یہ اصرار ہے کہ احساس کرو ، کبھی خوفناک انداز میں ، کبھی پرشوکت انداز میں ، کبھی عذاب آخرت دیکھا کر اور کبھی اچھی طرح جھنجھوڑ کر۔ لطف یہ ہے کہ پوری سورت پردہ احساس پر ایک ہی مفہوم اور ایک ہی حرکت پیدا کرنا چاہتی ہے۔ خبردار یہ معاملہ یعنی دین و ایمان کا معاملہ ایک سنجیدہ اور اہم اور فیصلہ کن معاملہ ہے ، اس میں کوئی بات برائے وزن بیت نہیں ہے۔ اور نہ مزاح ہے ۔ دنیا میں بھی اہم ہے ، آخرت میں بھی اہم ہے۔ اللہ کے حساب و کتاب میں بھی اہم ہے۔ نہ دنیا میں اس پر سودا بازی ہو سکتی ہے اور نہ قیامت میں اس میں سے کسی جز کو ترک کیا جاسکتا ہے۔ اس میں ذراسی چوک بھی غضب الٰہی کو دعوت دینا ہے۔ اپنے آپ کو اللہ کی پکڑ کا مستوجب بنانا ہے۔ اگرچہ وہ رسول خدا کیوں نہ ہوں ، لہٰذا تمام انسان کو یہاں تک کہ رسول اللہ خیر البشر بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں ، یہ حق ہے ۔ حق الیقین اور عین الیقین ہے اور رب العالمین کی طرف سے ہے۔ یہ مفہوم اس لفظ سے بھی ظاہر ہے ، جو اس سورت میں قیامت کے لئے استعمال ہوا ہے۔ الحاقۃ (1:69) الحاقہ ، اس لفظ کا صوتی ترنم اور اس کا مفہوم ، یعنی وہ امر جس کا وقوع ہونا ہے ، ہونی شدنی ہے ، سنجیدہ ، دو ٹوک سچائی اور طے شدہ ہونے کا مفہوم پردہ احساس پر چھوڑتا ہے۔ لفظ کے تلفظ ہی میں ایک قاری بوجھ محسوس کرتا ہے اور پھر یہ مفہوممضبوطی سے شعور میں بیٹھ جاتا ہے۔ نہایت قرار و سکون کے ساتھ۔ اس میں حرف حا کا مد ہے اور یہ مدبالالف ہے اور بعد ہ قاف مشدد ہے اور آخر میں تائے تانیث ہے جو وقف کی صورت میں ہاکا آواز دیتی ہے گویا ایک بھاری بوجھ اٹھا کر آرام سے رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد قیامت کے منکرین ایک ایک کرکے اسکرین پر آتے ہیں۔ ان کا سخت عذاب میں مبتلا کرکے دکھایا جاتا ہے۔ ہر ایک کی تباہی فیصلہ کن ہے۔ یہ احساس دلایا جائے کہ قیامت فیصلہ کن ہے لہٰذا تمام دارومدار ایمان پر ہے۔ کذبت ثمود…………واعیۃ (4:69 تا 21) ” اور عاد نے اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کو جھٹلایا تو ثمود ایک حادثہ سے ہلاک کیے گئے اور عاد ایک بڑی شدیدطوفانی آندھی سے تباہ کردیئے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط رکھا ، تم دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح بچھڑے پڑے ہیں گویا وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں ۔ اب کیا ان میں سے کوئی باقی بچا نظر آتا ہے ؟ اور اسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اس سے پہلے کے لوگوں نے اور تلپٹ ہونے والی بستیوں نے کیا۔ ان سب نے اپنے رسول کی بات نہ مانی تو اس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا۔ جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کردیا تھا ، تاکہ اس واقعہ کو تمہارے لئے سبق آموز یادگار بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں “۔ یوں جس نے بھی دین و ایمان اور حساب و کتاب اور قیامت کو نظر انداز کیا اللہ تعالیٰ کی خوفناک پکڑ سے دو چار ہوا۔ اور اسے اللہ نے پیس کر رکھ دیا۔ یہ سب مناظر بتاتے ہیں کہ ایمان اور قیامت کا معاملہ خصوصاً نہایت ہی سنجیدہ ، فیصلہ کن ، دو ٹوک اور قطعی ہے۔ یہ مزاح کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ کھیل تماشا نہیں کہ ان پر نظر ڈال کر نظر انداز کردیا جائ۔ یہ سنجیدگی اور قیامت کے خوفناک مناظر۔ ان سے یہ بات جھلکتی ہے کہ ایک دن یہ پوری کائنات ختم کردی جائے گی اور جلال ربانی کا ظہور ہوگا۔ اور نہایت ہی خوفناک دن ہوگا۔ جس میں بڑے بڑے اجرام فلکی ٹوٹ کر ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔ فاذ نفخ…………ثمنیۃ (13:69 تا 17) ” پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک مار دی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا ، اس روز وہ ہونے والاواقعہ پیش آجائے گا۔ اس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی ، فرشتے ان کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے “۔ فاما من اوتی……………حسابیہ (19:69 تا 20) ” اس وقت جس کا اعمال نامہ اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا ، وہ کہے گا ” لو دیکھو ، پڑھو میرا نامہ اعمال میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے “۔ یہ نجات پاچکا ہے لیکن پھر بھی مارے خوف کے اسے یقین نہیں آرہا ہے۔ واما من……………سلطنیہ (25:69 تا 29) ” اور جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیاجائے گا وہ کہے گا ” کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ کاش میری وہی موت (جو دنیا میں آئی تھی) فیصلہ کن ہوتی۔ آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔ میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا “۔ کس قدر فریاد وفغاں ہے۔ اور یہ کس طرح پردہ ‘ احساس پر بیٹھ جاتی ہے۔ یہ ہے رنگ اس سورت کا۔ اور اس سورت کی ہولناکی اور سنجیدگی اور قطعیت اس وقت بھی سامنے آتی ہے جب مجرمین کو نہایت ہی سخت الفاظ میں فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ فضائے عدالت خوفناک ہے۔ ہر طرف خاموشی اور آواز ہے : خذوہ…………فاسلکوہ (30:69 تا 32) ” پکڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو ، پھر اسے جہنم میں جھونک دو ، پھر اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو “۔ اس حکم کا ایک ایک فقرہ اس قدر بھاری ہے کہ زمین و آسمان کے بوجھ سے زیادہ ہے اور وادی شعور میں اس کے گولے اس قدر دھماکے سے گرتے ہیں کہ انسان حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ دل و دماغ پر ایک سنجیدگی طاری ہوجاتی ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے دلائل بھی گنوائے جاتے ہیں۔ اور جن سے اس جرم کا انجام منصفانہ ثابت ہوجاتا ہے۔ انہ کان……………الخاطئون (33:69 تا 37) ” یہ نہ بزرگ و برتر اللہ پر ایمان لاتا تھا اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔ لہٰذا آج نہ یہاں اس کا کوئی یار غم خوار ہے اور نہ زخموں کے دھو ون کے سوا کوئی کھانا۔ خطاکاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا “۔ پھر اسی مفہوم کو ایک ہولناک قسم کھا کر کتاب میں بیان کیا جاتا ہے کہ اس دین کی حقیقت کیا ہے لوگوں کو چاہے کہ وہ اس پر غور کریں : فلا اقسم……………رب العلمین (38:69 تا 43) ” پس میں قسم نہیں کھاتا ہوں ان چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے ، یہ ایک رسول کریم کا قول ہے ، کسی شاعر کا قول نہیں ہے ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے ، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے “۔ اور آخر میں آخری ضرب لگائی جاتی ہے۔ دو ٹوک دھمکی دی جاتی ہے اور جو بھی اس دین سے کھیلتا ہے ، یا اس میں تبدیلی کرتا ہے اسے سخت گرفت کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ کام کرنے والے محمد رسول اللہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ولو تقول…………حجزین (44:69 تا 47) ” اور اگر اس (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود گھڑ کر کوئی بات ہماری طرف منسوب کی ہوتی تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے ، پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس کام سے روکنے والا نہ ہوتا “۔ اس معاملہ میں نہ نرمی کی جاسکتی ہے ، نہ خواہشات کی پیروی۔ اور سورت کا خاتمہ اس قرار داد پر ہوتا ہے ، جو بالکل فیصلہ کن دو ٹوک ہے اور جس سے معاملہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وانہ لتذکرۃ…………العظیم (48:69 تا 56) ” در حقیقت یہ پرہیز گا رلوگوں کے لئے ایک نصیحت ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں۔ ایسے کافروں کے لئے یقینا یہ موجب حسرت ہے اور یہ بالکل یقینی حق ہے ، پس اے نبی اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کر “۔ یہ ایسا خاتمہ ہے کہ بات کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے ۔ فیصلہ کن قرار داد آجاتی ہے اور ہر قسم کی لغویت سے دامن جھاڑ لیا جاتا ہے اور پس رب عظیم کے نام کی تسبیح اور حسن انجام کا انتظار۔ یہ مفہوم اور معنی جو یہ سورت انسانی احساس و شعور میں بٹھانا چاہتی ہے ، اس کا اسلوب ، اس کے اثرات ، اس کے مناظر ، اس کی تصاویر اور اس کے سائے نہایت ہی خوبصورتی سے ، نہایت موثر انداز میں قاری اور سامع کے ذہن نشین کراتے ہیں۔ سورت کا انداز ایسا ہے کہ اپنے زندہ وتابندہ اور متحرک مناظر کے ذریعے انسانی احساس کو ہر طرف سے گھیر لیا جاتا ہے ، اس طرح کہ انسان اس تاثر سے نکل کر کہیں بھاگ نہیں سکتا۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ یہ معانی ، مضامین اور واقعات زندہ ہیں اور ابھی وقوع پذیر ہورہے ہیں۔ اقوام عاد وثمود کی تباہیاں یوں بیان ہوئیں کہ گویا ابھی یہ واقعات ہورہے ہیں۔ فرعون اور قوم لوط کی بستیاں جو الٹ دی گئی تھیں ، یوں نظر آتی ہیں کہ گویا نظر آرہی ہیں اور انسان اشارہ کرسکتا ہے کہ وہ رہیں۔ طوفان نوح گویا برپا ہی اور وہ ہے کشتی بھری ہوئی پردہ خیال پر۔ اور نہایت ہی مختصر الفاظ ایک دو آیات میں ، معانی کے سمندر اور تصاویر پیش کردی جاتی ہیں۔ ذرا پڑھئے : واما عاد……………من باقیۃ (6:69 تا 8) ” اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کردیئے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط رکھا۔ (تم وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح بچھڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔ اب کیا ان میں سے کوئی تمہیں باقی بچا نظر آتا ہے ؟ “ کون ہے جو ان آیات کو سمجھ کر پڑھے اور اس کے پردہ احساس پر تیز طوفانی ہوا کا منظر نکھر نہ جائے ، جو ہر طرف سے دھاڑتی چنگھاڑتی آرہی ہو اور توڑ پھوڑ کر ہر چیز کو نیست ونابود کررہی ہو۔ پوری سات راتیں چل رہی ہو اور آٹھ دن چل رہی ہو اور لوگوں کی لاشوں کا منظر اس میں یوں ہو کہ جیسے کھجور کے درخت جڑ سے اکھاڑ پھینکے گئے ہوں۔ کانھم…………خاویۃ (7:69) ” جیسا کہ کھجور کے بوسید تنے گرے پڑے ہوں “۔ یہ ایسا منظر ہے جو زندہ ، آنکھوں کے سامنے مشتمل ہوتا ہے۔ بادل میں تخیل کی شکل میں زندہ ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی پکڑ کے دوسرے سب مناظر جو اس میں بیان ہوئے۔ پھر ہمارے سامنے اس دنیا کا خاتمہ کے مناظر آتے ہیں۔ یہ نہایت ہی خوفناک اور ہولناک مناظر ہیں۔ یہ مناظر ہمارے تخیل کے اندر وہ زلزلہ برپا کرتے ہیں کہ پورے ماحول کو خوف ، رعب اور درماندگی سے بھردیتے ہیں۔ وحملت……………واحدۃ (14:69) ” زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائیگا “۔ جو بھی اسے پڑھے گا اس کے پردہ تخیل پر زمین اپنے پہاڑوں سمیت اتھٹی ہے اور یکبارگی دے ماری جاتی ہے اور ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے اور۔ وانشقت……………ارجائھا (17:69) ” اس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی ، فرشتے ان کے اطراف و جوانب میں ہوں گے “۔ جو بھی اسے پڑھتا ہے اس کے ذہن میں زمین و آسمان کے اس نظام کا انجام بیٹھ جاتا ہے کہ اس خوبصورت آسمان کا یہ انجام ہوگا۔ اور پھر۔ والملک…………خافیۃ (18-17:69) ” فرشتے اس کے اطراف میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے “۔ اس سے انسان کے ذہن میں بادشاہ کے جلال کا تصور آجاتا ہے۔ اب ذرا اس شخص کی خوشی کو دیکھیں جو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں پاتا ہے اور کامیاب ہوجاتا ہے۔ لوگوں کو خوشی کے مارے دکھاتا پھرتا ہے اور پھولا نہیں سماتا۔ ھاء م……………حسابیہ (20:69) ” لو دیکھو ، پڑھو میرا نامہ اعمال میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے “۔ اور پھر تباہ ہونے والے کا منظر جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جاتا ہے اس کے الفاظ ، کلمات اور تاثرات سے حسرت اور مایوسی ٹپکتی پڑتی ہے۔ یلیتنی…………سلطنیہ (25:69 تا 29) ” کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ کاش میری وہی موت (جو دنیا میں آئی تھی) فیصلہ کن ہوتی ۔ آج میرا مال میرے کچھ کا منہ آیا۔ میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا “۔ اور جب انسان اللہ کا آخری فیصلہ سنتا ہے تو کانپ اٹھتا ہے۔ خذوہ…………فاسلکوہ (30:69 تا 32) ” پکڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو ، پھر اسے جہنم میں جھونک دو ، پھر اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو “۔ اور اللہ کے کارندے ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر ان سب امور کی تعمیل کرتے ہیں۔ اور یہ بدبخت مارا جاتا ہے۔ اور یوں ہوجاتی ہے اس کی حالت : فلیس……………الخاطئون (35:69 تا 37) ” لہٰذا آج نہ یہاں اس کا کوئی یار غم خوار ہے اور نہ زخموں کے دھو ون کے سوا اس کے لئے کوئی کھانا ، جسے خطاکاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا “۔ اور آخر میں وہ عظیم دھمکی آتی ہے جس میں تمام انسانوں کے ساتھ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی شامل ہیں۔ کوئی نہیں ہے جو اسے سن کر کانپ نہ جاتا ہو۔ اور ہیبت میں مبتلا نہ ہوجاتا ہو۔ ولو تقول……………حجزین (44:69 تا 47) ” اور اگر اس (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خودگھڑ کر کوئی بات ہماری طرف منسوب کی ہوتی تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے ، پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس کام سے روکنے والا نہ ہوتا “۔ غرض پوری سورت میں پرشوکت ، زندہ ، متحرک مناظر ہیں اور انسانی احساس اس پوری سورت میں ان کی شدید گرفت میں رہتا ہے۔ پوری سورت میں انسانی شعو بڑے اضطراب ، الحاح اور دبائو میں رہتا ہی اور اس پر مثبت اور حقیقی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سورت میں آیات کے قافے اور مقطعے نہایت نغمہ بار اور متنوع ہیں۔ مناظر اور ماحول کے لحاظ سے اثر آفرینی کی جاتی ہے۔ بعض جگہ مدطویل ہے ، بعض جگہ تشدید ہے ، اور بعض جگہ سکتہ ہے۔ مثلاً الحاقۃ……………ما الحاقۃ (1:69 تا 3) میں مد اور تشدید کے بعد یا ہائے ساکتہ آتی ہے یا اس سے قبل یاء ہے ۔ ان تمام مناظر میں جن میں تباہی کے مناظر ہیں ، دنیا میں یا آخرت میں یا خوشی اور غم کے مناظر ہیں ، ان میں یہی قافیہ ہے۔ اس کے بعد جب حکم بادشاہی یا عدالت عالیہ کا فیصلہ آتا ہے تو یہ قافیہ ایک خوفناک انداز بادشاہی اختیار کرلیتا ہے۔ خذو ……………صلوہ (31:69) ” اس کے بعد جب اس فیصلے کے دلائل دیئے جاتے ہیں تو یہ قافیہ میم ونون سے بدل جاتا ہے اور انداز فیصلہ کن اور دو ٹوک ہوجاتا ہے۔ انہ کان……………العظیم (52:69) حروف قافیہ تغیر اور مد کی نوعت میں تبدیلی مناظر اور موقف اور انداز کلام کی مناسبت سے ہے۔ ہر موقعہ کے محل اور ماحول کے مطابق الفاظ اور قافیوں کا انتخاب ہے۔ اور ہر جگہ احساس پر ایک نیا اثر ہوتا ہے ، الغرض یہ ایک نہایت پر تاثیر سورت ہے ، پرشوکت کلام ربانی ہے ۔ اثر کا عالم وہی جانے جو اسالیب کلام عرب سے ذرا بھی واقف ہو۔ انداز کلام بہترین بیانیہ کلام ہے ، بہترین نمونہ ہے ، بہترین تبصرہ اور بہترین دلائل ہیں۔