Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 14

سورة الحاقة

وَّ حُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَ الۡجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَّاحِدَۃً ﴿ۙ۱۴﴾

And the earth and the mountains are lifted and leveled with one blow -

اور زمین اور پہاڑ اٹھا لئے جائیں گے اور ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیئے جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And the earth and the mountains shall be removed from their places, and crushed with a single crushing. meaning, they will be stretched out to the extent of the surface (of the earth) and the earth will change into something else other than the earth. فَيَوْمَيِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

14۔ 1 یعنی اپنی جگہوں سے اٹھا لیے جائیں گے اور قدرت الہی سے اپنی قرار گاہوں سے ان کو اکھیڑ لیا جائے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] آغاز قیامت کے حوادث :۔ یہاں سے اب قیامت کی ان چند کیفیات کا ذکر شروع ہو رہا ہے، جن کا اس سورة کی آیت نمبر ٣ میں اشارہ کیا گیا تھا۔ یعنی قیامت کا آغاز نفخہ صور اول سے ہوگا۔ اس نفخہ کا فوری اثر یہ ہوگا کہ سب جاندار مخلوق پر موت طاری ہوجائے گی۔ نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ زمین میں پھنسائے ہوئے لمبے چوڑے پہاڑوں کے سلسلے نفخہ صور کی دہشت سے اس طرح ہوجائیں گے جیسے انہیں کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ بنادیا گیا ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّۃً وَّاحِدَۃً۝ ١٤ ۙ حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ مصاد رکے فرق کیا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ بوجھ جو حسی طور پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ کوئی چیز پیٹھ لادی جائے اس پر حمل ( بکسرالحا) کا لفظ بولا جاتا ہے اور جو بوجھ باطن یعنی کوئی چیز اپنے اندر اٹھا ہے ہوئے ہوتی ہے اس پر حمل کا لفظ بولا جاتا ہے جیسے پیٹ میں بچہ ۔ بادل میں پانی اور عورت کے حمل کے ساتھ تشبیہ دے کر درخت کے پھل کو بھی حمل کہہ دیاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا پنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ جبل الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل : أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] ( ج ب ل ) قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا |" ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟ دك الدَّكُّ : الأرض الليّنة السّهلة، وقد دَكَّهُ دَكّاً ، قال تعالی: وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبالُ فَدُكَّتا دَكَّةً واحِدَةً [ الحاقة/ 14] ، وقال : دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا [ الفجر/ 21] ، أي : جعلت بمنزلة الأرض اللّيّنة . وقال اللہ تعالی: فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا [ الأعراف/ 143] ، ومنه : الدُّكَّان . والدّكداك «4» : رمل ليّنة . وأرض دَكَّاء : مسوّاة، والجمع الدُّكُّ ، وناقة دكّاء : لا سنام لها، تشبيها بالأرض الدّكّاء . ( دک ک ) الدک ( اسم ) کے معنی نرم اور ہموار زمین کے ہیں ۔ اور دلہ ( ن) دکا کے معنی کوٹ کر ہموار کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبالُ فَدُكَّتا دَكَّةً واحِدَةً [ الحاقة/ 14] اور زمین اور پہاڑ دونوں اٹھائے جائیں گے پھر ایک بارگی توڑ کر برابر کردیئے جائیں گے ۔ دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا [ الفجر/ 21] یعنی زمین کوٹ کوٹ کر ہموار کردی جائیگی ۔ فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا [ الأعراف/ 143] جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہواتو ( تجلی انوار بانی نے ) اس کو ریزہ ریزہ کردیا ۔ اور اسی سے دکان ہے جس کے معنی ہموار چبوترہ کے ہیں ۔ الدکداک نرم ریت ہموار زمین ۔ ج د ک ۔ اور ہموار زمین کے ساتھ تشبیہ دے کر ناقۃ دکآء اس اونٹنی کو کہہ دیتے ہیں جس کی کوہان نہ ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:14) وحملت الارض والجبال جملہ معطوف ہے اور اس کا عطف نفخ پر ہے حملت ماضی واحد مؤنث غائب حمل (باب ضرب) مصدر ۔ اٹھانا۔ وہ اٹھائی گئی (وہ اٹھائی جائے گی) یعنی زمین اور پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اٹھالیا جائے گا۔ دکتا : ماضی مجہول تثنیہ مؤنث غائب۔ دک (باب ضرب) مصدر سے ۔ بمعنی ریزہ ریزہ کرنا۔ ڈھا کر برابر کرنا۔ کوٹ کر ہموار کرنا۔ اصل میں دک نرم اور ہموار زمین کو کہتے ہیں۔ اور چونکہ نرم زمین ہموار اور ریزہ ریزہ ہوتی ہے اسی لئے اسی مناسبت سے اس کی مصدر کے معنی مقرر ہوئے۔ تمام زمین کو واحد لایا گیا ہے اور تمام پہاڑوں کو واحد لایا گیا ہے ۔ لہٰذا زمین اور پہاڑوں کے لئے تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو آیت (21:30) ان السموت والارض کانتا رتقا ففتقنھما کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے ان دونوں کو جدا جدا کردیا۔ دکۃ مفعول مطلق موصوف واحدۃ صفت، اسم فاعل واحد مؤنث۔ ایک ہی بار میں ۔ یعنی زمین اور پہاڑوں کو یکبارگی اٹھا کر کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

جب صور پہلی بار پھونکا جائے گا اور اس کے بعد یہ ہولناک حرکان وتغیرات ہوں گے۔ وحملت .................... واحدة (٩٦ : ٤١) ” اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا “۔ زمین اور پہاڑوں کو یکبارگی اٹھا کر پٹخ دینا جو سب اونچ نیچ کو برابر کر دے اور یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا۔ یہ زمین جس کے اندر انسان پرامن طور پر چلتا پھرتا ہے اور اطمینان سے زندگی بسر کرتا ہے۔ اور یہ زمین انسان کے نیچے نہایت ہی سکون سے رکی ہوئی ہے۔ اور یہ اونچے ، گہرے اور مضبوط پہاڑ جن کے ثبات وفرار سے انسان کو خوف ہوتا ہے۔ اپنی اس اونچائی اور عظمت کے باوجود اٹھا کر پٹخ دیئے جائیں گے۔ جس طرح بال کو اٹھا کر مار دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسان کو قدرت خداوندی کے مقابلے میں اس کی اور اس کرہ ارض کی کمزوری ، چھوٹائی اور نہایت ہی بےوزنی کا اظہار کرتا ہے۔ جب صور میں ایک بار پھونک مار دی گئی او یہ سب ہولناک واقعات ہوگئے زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ تو یہ سورت جس ہولناک امرکا اظہار کررہی ہے یہ امر اس دن وقوع پذیر ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) اور زمین اور پہاڑ اٹھا لئے جائیں گے یعنی اپنی جگہ سے اور ایک ہی چوٹ میں دونوں چورا چورا اور ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔