Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 32

سورة الحاقة

ثُمَّ فِیۡ سِلۡسِلَۃٍ ذَرۡعُہَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُکُوۡہُ ﴿ؕ۳۲﴾

Then into a chain whose length is seventy cubits insert him."

پھر اسے ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ کی ہے جکڑ دو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then fasten him on a chain whereof the length is seventy cubits! Ka`b Al-Ahbar said, "Every ring of it will be equal to the entire amount of iron found in this world." Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas and Ibn Jurayj both said, "Each cubit will be the forearm's length of an angel." Ibn Jurayj reported that Ibn `Abbas said, فَاسْلُكُوهُ (Then fasten him) , "It will be entered into his buttocks and pulled out of his mouth. Then they will be arranged on this (chain) just like locusts are arranged on a stick that is being roasted." Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas that he said, "It will be ran into his behind until it is brought out of his two nostrils so he will not be able to stand on his two feet." Imam Ahmad recorded from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah said, لَوْ أَنَّ رَصَاصَةً مِثْلَ هذِهِ وأشار إلى جُمْجُمَةٍ أُرْسِلَتْ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الاَْرْضِ وَهِيَ مَسِيرَةُ خَمْسِمِايَةِ سَنَةٍ لَبَلَغَتِ الاَْرْضَ قَبْلَ اللَّيْلِ وَلَوْ أَنَّهَا أُرْسِلَتْ مِنْ رَأْسِ السِّلْسِلَةِ لَسَارَتْ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ قَعْرَهَا أَوْ أَصْلَهَا If a drop of lead like this - and he pointed to a skull bone - were sent from the heaven to the earth, and it is a distance of five hundred years travel, it would reach the earth before night. And if it (the same drop of lead) were sent from the head of the chain (of Hell), it would travel forty fall seasons, night and day, before it would reach its (Hell's) cavity or base. At-Tirmidhi also recorded this Hadith and he said, "This Hadith is Hasan." Concerning Allah's statement, إِنَّهُ كَانَ لاَ يُوْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

32۔ 1 ذراع (ہاتھ) یہ کتنا ہوگا اس کی وضاحت ممکن نہیں تاہم اس سے اتنا معلوم ہوا کہ زنجیر کی لمبائی ستر ذراع ہوگی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩] اس کافر کی اس قسم کی سوچ بچار اور اس کے متعلق الٰہی فیصلہ کے اعلان کے درمیان کتنی مدت ہوگی ؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ تاہم یہ اعلان اس کے متعلق عدالت الٰہی سے باقاعدہ شہادتوں کی بنا پر کیے ہوئے فیصلہ کے بعد فرشتوں کو یہ حکم دیا جائے گا کہ اس بدبخت کو پکڑ لو اور اس کو طوق پہنا کر جہنم میں پھینک دو ۔ پھر ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں اس کو پرو دو تاکہ جہنم کے عذاب کے درمیان یہ حرکت تک بھی نہ کرسکے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْ‌عُهَا سَبْعُونَ ذِرَ‌اعًا فَاسْلُكُوهُ (Thereafter, make him enter into a chain, the measure of which is seventy hands....69:32). The phrase &make him enter into a chain& could be interpreted metaphorically as &bind him in a chain& but it could be taken in its primary sense, that is, to pierce the chain through one side of the body, so that it could come out from the other side of it like a string is passed through a pearl or the bead of a rosary. Traditional narratives seem to support the primary sense. [ Mazhari ]

(آیت) ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُ یعنی پھر اس کو ایک زنجیر میں پرو دو جس کی مقدار ستر گز ہے۔ زنجیر میں پرونے کا وہ مفہوم بھی مجازاً لیا جاسکتا ہے جو خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے کہ زنجیر میں جکڑ دو لیکن اس کے حقیقی معنے یہ ہیں کہ زنجیر ان کے بدن کے اندر ڈال کر دوسری طرف نکال لو جیسے موتی یا تسبیح کے دانے پروئے جاتے ہیں بعض روایات حدیث سے اسی حقیقی معنی کی تائید بھی ہوتی ہے۔ (از مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُہَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْہُ۝ ٣٢ ۭ سل سَلُّ الشیء من الشیء : نزعه، كسلّ السّيف من الغمد، وسَلُّ الشیء من البیت علی سبیل السّرقة، وسَلُّ الولد من الأب، ومنه قيل للولد : سَلِيلٌ. قال تعالی: يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، وقوله تعالی: مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ [ المؤمنون/ 12] ، أي : من الصّفو الذي يُسَلُّ من الأرض، وقیل : السُّلَالَةُ كناية عن النطفة تصوّر دونه صفو ما يحصل منه . والسُّلُّ «1» : مرض ينزع به اللّحم والقوّة، وقد أَسَلَّهُ الله، وقوله عليه السلام : «لا إِسْلَالَ ولا إغلال» «2» . وتَسَلْسَلَ الشیء اضطرب، كأنه تصوّر منه تَسَلُّلٌ متردّد، فردّد لفظه تنبيها علی تردّد معناه، ومنه السِّلْسِلَةُ ، قال تعالی: فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُها سَبْعُونَ ذِراعاً [ الحاقة/ 32] ، وقال تعالی: سَلاسِلَ وَأَغْلالًا وَسَعِيراً [ الإنسان/ 4] ، وقال : وَالسَّلاسِلُ يُسْحَبُونَ [ غافر/ 71] ، وروي : «يا عجبا لقوم يقادون إلى الجنّة بالسّلاسل» وماء سَلْسَلٌ: متردّد في مقرّه حتی صفا، قال الشاعر :۔ أشهى إليّ من الرّحيق السَّلْسَلِ وقوله تعالی: سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] ، أي : سهلا لذیذا سلسا حدید الجرية، وقیل : هو اسم عين في الجنّة، وذکر بعضهم أنّ ذلک مركّب من قولهم : سل سبیلا نحو : الحوقلةوالبسملة ونحوهما من الألفاظ المرکّبة، وقیل : بل هو اسم لكلّ عين سریع الجرية، وأسلة اللّسان : الطّرف الرّقيق . ( س ل ل ) سل ( ن ) الشی من الشی کے معنی ایک چیز کے دوسری سے کھینچ لینے کے ہیں جیسے تلوار کا نیام سے سونتنا ۔ یا گھر سے کوئی چیز چوری کھسکا لینا ۔ قرآن میں ہے ۔ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ۔ اسی مناسبت سے باپ کے نطفہ پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے : ۔ جیسے فرمایا :۔ مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ [ المؤمنون/ 12] خلاصے سے ( یعنی ) حقیر پانی سے پیدا کی ۔ یعنی وہ ہر جوہر جو غذا کا خلاصہ ہوتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں بطور کنایہ نطفہ مراد ہے ۔ اور نطفہ پر اس کا اطلاق اس جوہر کے لحاظ سے ہے جس سے نطفہ بنتا ہے ۔ السل : سل کی بیماری کیونکہ یہ انسان سے گوشت اور قوت کو کھینچ لیتی ہے اور اسلہ اللہ کے معنی ہیں |" اللہ تعالیٰ نے اسے سل کی بیماری میں مبتلا کردیا |" ۔ حدیث میں ہے لا اسلال ولا اغلال کہ چوری اور خیانت نہیں ہے ۔ تسلسل الشئی کے معنی کسی چیز کے مضطرب ہونے کے ہیں گویا اس میں بار بار کھسک جانے کا تصور کر کے لفظ کو مکرر کردیا ہے تاکہ تکرار لفظ تکرار معنی پر دلالت کرے اسی سے سلسلۃ ہے جس کے معنی زنجیر کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُها سَبْعُونَ ذِراعاً [ الحاقة/ 32]( پھر ) زنجیر سے جس کی ناپ ستر گز ہے ( جکڑ دو ) ۔ سلسلہ کی جمع سلاسل آتی ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَلاسِلَ وَأَغْلالًا وَسَعِيراً [ الإنسان/ 4] زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ ( تیار کر رکھی ہے ) وَالسَّلاسِلُ يُسْحَبُونَ [ غافر/ 71] اور زنجیر میں ہوں گی اور گھسیٹے جائیں گے ۔ ایک حدیث میں ہے «يا عجبا لقوم يقادون إلى الجنّة بالسّلاسل» اس قوم پر تعجب ہے جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے جنت کی طرف کھینچنے جا رہے ہیں ۔ اور ماء سلسل اس پانی کو کہتے ہیں جو اپنی قرار گاہ میں مضطرب ہو کر صاف ہوجائے ۔ شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) ( 232 ) أشهى إليّ من الرّحيق السَّلْسَلِ اور آیت سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] میں سلسبیل کے معنی تیزی سے بہتے ہوئے صاف لذیذ اور خوشگوار پانی کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ سل اور سبیل سے بنا ہے اور حوقلۃ و بسملۃ وغیرہ کی طرح الفاظ مرکبہ کے قبیل سے ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ ہر تیز رو چشمے کو سلسبیل کہا جاتا ہے ۔ اور زبان کے باریک سرے کو اسلۃ اللسان کہتے ہیں ۔ ذرع الذّراع : العضو المعروف، ويعبّر به عن المذروع، أي : الممسوح بالذّراع . قال تعالی: فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُها سَبْعُونَ ذِراعاً فَاسْلُكُوهُ [ الحاقة/ 32] ذر ع ) الذراع ۔ ہاتھ کہنی سے لے کر درمیانی انگلی کے آخر تک ) کبھی ذراع کا لفظ بول کر مذروع یعنی وہ چیز بھی مراد لی جاتی ہے جس کی پیمائش کی گئی ہو ۔ قرآن میں ہے :۔ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُها سَبْعُونَ ذِراعاً فَاسْلُكُوهُ [ الحاقة/ 32] پھر زنجیر سے جس کی ناپ ستر گز ہی جکڑدو ۔ سلك السُّلُوكُ : النّفاذ في الطّريق، يقال : سَلَكْتُ الطّريق، وسَلَكْتُ كذا في طریقه، قال تعالی: لِتَسْلُكُوا مِنْها سُبُلًا فِجاجاً [ نوح/ 20] ، وقال : فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا[ النحل/ 69] ، يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ [ الجن/ 27] ، وَسَلَكَ لَكُمْ فِيها سُبُلًا [ طه/ 53] ، ومن الثاني قوله : ما سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ [ المدثر/ 42] ، وقوله : كَذلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ [ الحجر/ 12] ، كَذلِكَ سَلَكْناهُ [ الشعراء/ 200] ، فَاسْلُكْ فِيها[ المؤمنون/ 27] ، يَسْلُكْهُ عَذاباً [ الجن/ 17] . قال بعضهم : سَلَكْتُ فلانا طریقا، فجعل عذابا مفعولا ثانیا، وقیل : ( عذابا) هو مصدر لفعل محذوف، كأنه قيل : نعذّبه به عذابا، والطّعنة السُّلْكَةُ : تلقاء وجهك، والسُّلْكَةُ : الأنثی من ولد الحجل، والذّكر : السُّلَكُ. ( س ل ک ) السلوک ( ن ) اس کے اصل بمعنی راستہ پر چلنے کے ہیں ۔ جیسے سکت الطریق اور یہ فعل متعدی بن کر بھی استعمال ہوتا ہے یعنی راستہ پر چلانا چناچہ پہلے معنی کے متعلق فرمایا : لِتَسْلُكُوا مِنْها سُبُلًا فِجاجاً [ نوح/ 20] تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں میں چلو پھرو ۔ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا[ النحل/ 69] اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا ۔ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ [ الجن/ 27] اور اس کے آگے مقرر کردیتا ہے ۔ وَسَلَكَ لَكُمْ فِيها سُبُلًا [ طه/ 53] اور اس میں تمہارے لئے رستے جاری کئے ۔ اور دوسری معنی متعدی کے متعلق فرمایا : ما سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ [ المدثر/ 42] کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے ۔ كَذلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ [ الحجر/ 12] اس طرح ہم اس ( تکذیب و ضلال ) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیتے ہیں ۔ كَذلِكَ سَلَكْناهُ [ الشعراء/ 200] اسی طرح ہم نے انکار کو داخل کردیا ۔ فَاسْلُكْ فِيها[ المؤمنون/ 27] کشتی میں بٹھالو ۔ يَسْلُكْهُ عَذاباً [ الجن/ 17] وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا ۔ بعض نے سلکت فلانا فی طریقہ کی بجائے سلکت فلانا طریقا کہا ہے اور عذابا کو یسل کہ کا دوسرا مفعول بنایا ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ عذابا فعل محذوف کا مصدر ہے اور یہ اصل میں نعذبہ عذابا ہے اور نیزے کی بالکل سامنے کی اور سیدھی ضرف کو طعنۃ سلکۃ کہاجاتا ہے ۔ ( سلکیٰ سیدھا نیزہ ) اور سلکۃ ماده كبک کو کہتے ہیں اس کا مذکر سلک ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:32) ثم پھر (نیز ملاحظہ ہو 69:31 متذکرۃ الصدر) ۔ سلسلۃ زنجیر، واحد، سلاسل جمع زنجیریں۔ ذرعھا : مضاف مضاف الیہ۔ اس کا طول، اس کی درازی، اس کا ناپ۔ ذرع (باب فتح) مصدر سے جس کے معنی پیمائش کرنے اور ناپنے کے آتے ہیں۔ ذراعا : ذراع واحد۔ اذرع (جمع) بازو، ہاتھ سمیت کہنی تک کا حصہ (اردو میں بھی اس اس ماپ کو ہاتھ بھی کہتے ہیں مثلا دو ہاتھ لمبا) ۔ فاسلکوہ : ف زائدہ ہے اسلکوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ سلوک (باب نصر) مصدر سے سلک یسلک چلنا۔ داخل ہونا۔ داخل کرنا۔ اسی سے سنلک لڑی، تار، اور لاسلکی (بلاتار) ہے اور اسی سے مسلک طریقہ دین ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر ستر ہاتھ لمبے زنجیر میں اس کو جکڑ دو ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ وہ ” زنجیریں اس کے پیچھے سے داخل کر کے منہ سے نکالی جائیں گی۔ “ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اس گز کی مقدار خدا کو معلوم ہے کیونکہ یہ گز وہاں کا ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ثم فی .................... فاسلکوہ (٩٦ : ٣٢) ” پھر اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو “۔ آگ کی زنجیروں میں سے ایک گز زنجیر بھی اس کیڑے کے لئے کافی ہے ، لیکن مزید لمبی زنجیر اسے ذلیل کرنے کے لئے اور لفظ سبعین کے استعمال کے لئے ہے۔ یوں انسانوں کو ڈرانا مقصود ہے۔ اب یہ حکم اور ڈگری صادر ہوگئی ہے۔ اس کا اجراء ہوگیا ہے اور مجرم جہنم رسید ہوگیا ہے ، تو آپ اس حکم پر دلائل دیئے جاتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس قدر سخت سزا کا یہ مستوجب کیوں ہوا ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(32) پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر گز ہے اس کو جکڑ دو ۔