Fir`awn threatens the Magicians after They believed in Musa and Their Response to Him
Allah tells,
قَالَ فِرْعَوْنُ امَنتُم بِهِ قَبْلَ أَن اذَنَ لَكُمْ
...
Fir`awn said: "You have believed in him (Musa) before I gave you permission.
Allah mentions the threats that the Fir`awn - may Allah curse him - made to the magicians after they believed Musa, peace be upon him, and the deceit and cunning that Fir`awn showed the people.
Fir`awn said,
...
إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُواْ مِنْهَا أَهْلَهَا
...
Surely, this is a plot which you have plotted in the city to drive out its people,
meaning Fir`awn proclaimed, `Musa's defeating you today was because you plotted with him and agreed to that.'
Fir`awn also said,
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
He (Musa) is your chief who has taught you magic. (20:71)
However, Fir`awn and all those who had any sense of reason knew for sure that what Fir`awn said was utterly false. As soon as Musa came from Madyan, he called Fir`awn to Allah and demonstrated tremendous miracles and clear proofs for the Truth that he brought. Fir`awn then sent emissaries to various cities of his kingdom and collected magicians who were scattered throughout Egypt. Fir`awn and his people chose from them, summoned them, and Fir`awn promised them great rewards. These magicians were very eager to prevail over Musa in front of Fir`awn, so that they might become closer to him. Musa neither knew any of them nor saw or met them before. Fir`awn knew that, but he claimed otherwise to deceive the ignorant masses of his kingdom, just as Allah described them,
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ
(Thus he (Fir`awn) fooled his people, and they obeyed him. (43:54) Certainly, a people who believed Fir`awn in his statement,
أَنَا رَبُّكُمُ الاَْعْلَى
(I am your lord, most high). (79:24), are among the most ignorant and misguided creatures of Allah.
In his Tafsir, As-Suddi reported that Ibn Mas`ud, Ibn Abbas, and several other Companions, commented,
إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city...),
"Musa met the leader of the magicians and said to him, `If I defeat you, will you believe in me and bear witness that what I brought is the truth.'
The magician said, `Tomorrow, I will produce a type of magic that cannot be defeated by another magic. By Allah! If you defeat me, I will believe in you and testify to your truth.'
Fir`awn was watching them, and this is why he said what he said."
His statement,
لِتُخْرِجُواْ مِنْهَا أَهْلَهَا
(to drive out its people),
means, so that you all cooperate to gain influence and power, replacing the chiefs and masters of this land. In this case, power in the state will be yours,
...
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
"but you shall come to know,"
what I will do to you.
He then explained his threat,
فرعون سیخ پا ہو گیا
جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کیلئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو یہ تمہارا استاد ہے تم اس کے شاگرد ہو تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ بھئی تو پہلے چلا جا پھر ہم آجائیں گے اس طرح میدان قائم ہو ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائینگے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے ۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے ۔ کوئی بےوقوف انسان بھی اس کے ایک جملہ کو بھی صحیح نہیں سمجھ سکتا ۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گذارتے ہیں ، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں ، مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں فرعون انہیں اپنی رضامندی کا یقین دلاتا ہے خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں حضرت موسیٰ ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے نہ سنا ہے نہ ملے ہیں نہ جانتے ہیں ۔ لیکن وزیرے چنیں شہریارے چناں وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا ؟ اس نے کہا آج میدان میں ہماری جانب جو جادو پیش کیا جائے گا اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے ۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی ۔ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال یہ چلتا اور کہتا ہے کہ تم اپنے ایکے ، اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو ، اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں ۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کے کھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا ۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا ۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمھجتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہوگئے ، بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا ؟ یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے ۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کراچکا ہے لیکن اب جبکہ ہم پر حق واضح ہو گیا ہم اس پر ایمان لے آئے تو تو چڑ رہا ہے ۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن پھر خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے اس لئے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ ہمیں صبر عطا فرما ، ثابت قدمی دے ، ہمیں اسلام پر ہی موت دے ، تیرے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں ۔ ایسا نہ ہو اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں ۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں ، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر ، کسر اٹھا نہ رکھ ، جو جی میں ہے کر گذر تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے ۔ ہم صبر کرلیں گے کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا ۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی ہے ۔ گناہگاروں کے لئے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے جہاں نہ موت آئے نہ کارآمد زندگی ہو ۔ اور مومنوں کے لئے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں ۔ سبحان اللہ یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے ۔