Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 123

سورة الأعراف

قَالَ فِرۡعَوۡنُ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَکُمۡ ۚ اِنَّ ہٰذَا لَمَکۡرٌ مَّکَرۡتُمُوۡہُ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡہَاۤ اَہۡلَہَا ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾

Said Pharaoh, "You believed in him before I gave you permission. Indeed, this is a conspiracy which you conspired in the city to expel therefrom its people. But you are going to know.

فرعون کہنے لگا کہ تم موسیٰ پر ایمان لائے ہو بغیر اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں؟ بیشک یہ سازش تھی جس پر تمہارا عمل درآمد ہوا ہے اس شہر میں تاکہ تم سب اس شہر سے یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو ۔ سو اب تم کو حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Fir`awn threatens the Magicians after They believed in Musa and Their Response to Him Allah tells, قَالَ فِرْعَوْنُ امَنتُم بِهِ قَبْلَ أَن اذَنَ لَكُمْ ... Fir`awn said: "You have believed in him (Musa) before I gave you permission. Allah mentions the threats that the Fir`awn - may Allah curse him - made to the magicians after they believed Musa, peace be upon him, and the deceit and cunning that Fir`awn showed the people. Fir`awn said, ... إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُواْ مِنْهَا أَهْلَهَا ... Surely, this is a plot which you have plotted in the city to drive out its people, meaning Fir`awn proclaimed, `Musa's defeating you today was because you plotted with him and agreed to that.' Fir`awn also said, إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ He (Musa) is your chief who has taught you magic. (20:71) However, Fir`awn and all those who had any sense of reason knew for sure that what Fir`awn said was utterly false. As soon as Musa came from Madyan, he called Fir`awn to Allah and demonstrated tremendous miracles and clear proofs for the Truth that he brought. Fir`awn then sent emissaries to various cities of his kingdom and collected magicians who were scattered throughout Egypt. Fir`awn and his people chose from them, summoned them, and Fir`awn promised them great rewards. These magicians were very eager to prevail over Musa in front of Fir`awn, so that they might become closer to him. Musa neither knew any of them nor saw or met them before. Fir`awn knew that, but he claimed otherwise to deceive the ignorant masses of his kingdom, just as Allah described them, فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ (Thus he (Fir`awn) fooled his people, and they obeyed him. (43:54) Certainly, a people who believed Fir`awn in his statement, أَنَا رَبُّكُمُ الاَْعْلَى (I am your lord, most high). (79:24), are among the most ignorant and misguided creatures of Allah. In his Tafsir, As-Suddi reported that Ibn Mas`ud, Ibn Abbas, and several other Companions, commented, إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ (Surely, this is a plot which you have plotted in the city...), "Musa met the leader of the magicians and said to him, `If I defeat you, will you believe in me and bear witness that what I brought is the truth.' The magician said, `Tomorrow, I will produce a type of magic that cannot be defeated by another magic. By Allah! If you defeat me, I will believe in you and testify to your truth.' Fir`awn was watching them, and this is why he said what he said." His statement, لِتُخْرِجُواْ مِنْهَا أَهْلَهَا (to drive out its people), means, so that you all cooperate to gain influence and power, replacing the chiefs and masters of this land. In this case, power in the state will be yours, ... فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ "but you shall come to know," what I will do to you. He then explained his threat,

فرعون سیخ پا ہو گیا جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کیلئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو یہ تمہارا استاد ہے تم اس کے شاگرد ہو تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ بھئی تو پہلے چلا جا پھر ہم آجائیں گے اس طرح میدان قائم ہو ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائینگے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے ۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے ۔ کوئی بےوقوف انسان بھی اس کے ایک جملہ کو بھی صحیح نہیں سمجھ سکتا ۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گذارتے ہیں ، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں ، مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں فرعون انہیں اپنی رضامندی کا یقین دلاتا ہے خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں حضرت موسیٰ ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے نہ سنا ہے نہ ملے ہیں نہ جانتے ہیں ۔ لیکن وزیرے چنیں شہریارے چناں وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا ؟ اس نے کہا آج میدان میں ہماری جانب جو جادو پیش کیا جائے گا اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے ۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی ۔ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال یہ چلتا اور کہتا ہے کہ تم اپنے ایکے ، اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو ، اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں ۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کے کھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا ۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا ۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمھجتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہوگئے ، بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا ؟ یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے ۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کراچکا ہے لیکن اب جبکہ ہم پر حق واضح ہو گیا ہم اس پر ایمان لے آئے تو تو چڑ رہا ہے ۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن پھر خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے اس لئے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ ہمیں صبر عطا فرما ، ثابت قدمی دے ، ہمیں اسلام پر ہی موت دے ، تیرے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں ۔ ایسا نہ ہو اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں ۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں ، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر ، کسر اٹھا نہ رکھ ، جو جی میں ہے کر گذر تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے ۔ ہم صبر کرلیں گے کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا ۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی ہے ۔ گناہگاروں کے لئے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے جہاں نہ موت آئے نہ کارآمد زندگی ہو ۔ اور مومنوں کے لئے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں ۔ سبحان اللہ یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

123۔ 1 یہ جو کچھ ہوا فرعون کے لئے بڑا حیران کن اور تعجب خیز تھا اس لئے اسے اور تو کچھ نہیں سوجھا، اس نے یہی کہہ دیا کہ تم سب آپس میں ملے ہوئے ہو اور اس کا مقصد ہمارے اقتدار کا خاتمہ ہے۔ اچھا اس کا انجام عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ۔۔ : یعنی میری اجازت سے پہلے تمہیں کوئی حق نہ تھا کہ تم موسیٰ کی برتری اور کامرانی کا اعلان کرتے۔ ہر متکبر و سرکش یہی چاہتا ہے کہ لوگ اس کی ہاں میں ہاں ملائیں اور جو کچھ وہ کہے اسے مان کر اسی کی تشہیر و اشاعت کریں، اسی طرح دنیا میں ہر متکبر اور سرکش حکمران کا یہ قاعدہ ہے کہ جب وہ دلیل کے میدان میں ہار جاتا ہے تو جیل، پھانسی، سولی اور قتل کی دھمکی دینے پر اتر آتا ہے اور اس کے لیے ایسے قوانین وضع کرتا ہے جن کی رو سے کسی پر اس کا جرم ثابت کیے بغیر اسے سزا دی جاسکے۔ چناچہ یہی کام فرعون نے کیا، جب وہ دلیل کے میدان میں شکست کھا گیا تو سزا دینے کی دھمکی پر اتر آیا اور فی الفور عوام کے سامنے دو الزام لگا دیے، پہلا کہ یہ جادوگروں اور موسیٰ کی باہمی سازش ہے اور دوسرا یہ کہ یہ لوگ اس سازش کے ذریعے سے مصریوں کو ملک بدر کرکے حکومت پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔ اس لیے پہلے ” فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ “ (سو تم جلد جان لو گے) کہہ کر دھمکی دی، پھر اس دھمکی کی وضاحت بھی سنا دی۔ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَ : یعنی ایک جانب سے ہاتھ اور دوسری جانب سے پاؤں کٹوا کر تمہیں سولی دے دوں گا۔ عام طور پر لوگ سولی اور پھانسی کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں، حالانکہ پھانسی میں تو گلے میں رسا ڈال کر گلا گھونٹ کر مارا جاتا ہے، جبکہ سولی میں ایک اونچا کھمبا کھڑا کرکے اس کے اوپر ایک آڑی لکڑی باندھ دی جاتی ہے، پھر ملزم کو اوپر چڑھا کر اس کے بازو اس آڑی لکڑی کے ساتھ باندھ دیے جاتے ہیں، جبکہ جسم اونچی لکڑی کے ساتھ بندھا ہوتا ہے، وہ وہیں دھوپ، سردی، پرندوں کی نوچ کھسوٹ اور دشمنوں کے تیروں یا نیزوں کے زخم کھاتا ہوا دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لیے سورة طٰہٰ (٧) میں ہے : ” میں تمہیں ہر صورت کھجور کے تنوں پر بری طرح سولی دوں گا۔ “ یہ پھانسی سے کہیں زیادہ خوف ناک سزا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The foregoing verses had a detailed account of the contest between the prophet Musa (علیہ السلام) and the sorcerers and that after their defeat the sorcerers declared their faith in Allah. Some historical reports say that subsequent to their declaration of faith in Allah, six hundred thousand more people followed suit and declared their belief in Allah. Before this open contest there were only two individuals believing in Allah. Now a great army of people became Muslims. It was, obviously an embarrassing situation for the Pharaoh. Like a clever politician he managed to conceal his state of mind before the people, and changed the situation by putting the blame of conspiracy and rebellion on the sorcerers. He claimed that they had joined hands with Musa (علیہ السلام) and Harun in order to create disorder in the country. Then he said to the sorcerers, “ You have believed in him before I permitted you.|" This was a threat to the sorcerers on the one hand, and on the other, he tried to convince his people that the sorcerers made a hasty decision in accepting their faith and fell prey to the trap of Musa (علیہ السلام) and Harun. Otherwise, he would have also believed in him in case Musa (علیہ السلام) and Harun proved truthful in their claim. It was a clever design of Pharaoh. He tried to keep his people stay in their former ignorance and make people believe that the contest was pre-plotted between the prophet Musa (علیہ السلام) and the sorcerers. He cleverly twisted the fact that the miracle of Musa (علیہ السلام) and the open conversion of the sorcerers to the true Faith was purely to expose the ignorance and falsehood of the Pharaoh. He turned it into a polit¬ical issue by saying, |"So that you may expel its people from there.|" He wanted to make his people believe that they planned the whole matter to gain power over the country and expel the people from there.

خلاصہ تفسیر فرعون ( بڑا گھبرایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ساری رعایا ہی مسلمان ہوجائے تو ایک مضمون گھڑ کر ساحروں سے) کہنے لگا کہ ہاں تم موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ہو بدون اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں بیشک ( معلوم ہوتا ہے کہ) یہ ( جو کچھ جنگ زرگری کے طور پر ہوا ہے) ایک کارروائی تھی جس پر تمہارا عمل درآمد ہوا ہے اس شہر میں ( خفیہ سازش ہوگئی ہے کہ تم یوں کرنا ہم یوں کریں گے پھر اس طرح ہار جیت ظاہر کریں گے اور یہ کارروائی ملی بھگت اس لئے کی ہے) تاکہ تم سب ( مکر) اس شہر سے وہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو ( پھر بفراغ خاطر سب مل کر یہاں ریاست کرو) سو ( بہتر ہے) اب تم کو حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے) اور وہ یہ ہے کہ) میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا پھر تم سب کو سولی پر ٹانگ دوں گا ( تاکہ اوروں کو عبرت ہو) انہوں نے جواب دیا کہ ( کچھ پرواہ نہیں) ہم مر کر ( کسی برے ٹھکانے تو نہ جائیں گے بلکہ) اپنے مالک ہی کے پاس جائیں گے ( جہاں ہر طرح امن و راحت ہے، سو ہمارا نقصان ہی کیا ہے) اور تو نے ہم میں کونسا عیب دیکھا ہے ( جس پر اس قدر شور وغل ہے) بجز اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے ( سو یہ کوئی عیب کی بات نہیں پھر اس سے اعراض کرکے حق تعالیٰ سے دعا کی کہ) اے ہمارے رب ! ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما ( کہ اگر یہ سختی کرے تو مستقل رہیں) اور ہماری جان حالت اسلام پر نکالئے ( کہ اس کی سختی سے پریشان ہو کر کوئی بات ایمان کے خلاف نہ ہوجائے) اور ( جب موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ معجزہ عظیمہ منظر عام پر ظاہر ہوا اور ساحرین ایمان لے آئے اور بعضے اور لوگ بھی آپ کے تابع ہوگئے اس وقت قوم فرعون کے سرداروں نے ( جو کہ اعیان سلطنت تھے یہ دیکھ کر کہ بعضے آدمی مسلمان ہو چلے فرعون سے) کہا کہ کیا آپ موسیٰ ( علیہ السلام) کو اور ان کی قوم ( تابعین) کو یوں ہی ( مخلی بالطبع ومطلق العنان آزاد) رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں ( فساد یہ کہ اپنا مجمع بڑھائیں جس کے اخیر میں اندیشہ بغاوت ہے) اور وہ ( یعنی موسیٰ (علیہ السلام) آپ کو اور آپ کے ( تجویز کئے ہوئے) معبودوں کو ترک کئے رہیں ( یعنی ان کے معبود ہونے کے منکر رہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی قوم بھی ایسا ہی کرے یعنی آپ اس کا انتظام کیجئے) فرعون نے کہا کہ ( سردست یہ انتظام مناسب معلوم ہوتا ہے کہ) ہم بھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کردیں ( تاکہ ان کا زور نہ بڑھنے پائے) اور ( چونکہ عورتوں کے بڑھنے سے کوئی اندیشہ نہیں نیز ہم کو اپنے کار و خدمت کے لئے بھی ضرورت ہے اس لئے) عوتوں کو زندہ رہنے دیں اور ہم کو ہر طرح کا ان پر زور ہے ( اس انتظام میں کوئی دشواری نہ ہوگی) معا رف و مسائل ان سے پہلی آیات میں مذکور تھا کہ فرعون نے اپنی قوم کے سرداروں کے مشورہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لئے جن ساحروں کو پورے ملک سے جمع کیا تھا وہ میدان مقابلہ میں ہار گئے۔ اور صرف یہی نہیں کہ اپنی ہار مان لی بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے۔ تاریخی روایات میں ہے کہ جادوگروں کے سردار مسلمان ہوگئے تو ان کو دیکھ کر قوم فرعون کے چھ لاکھ آدمی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے اور اعلان کردیا۔ اس مقابلہ اور مناظرہ سے پہلے تو صرف دو حضرات موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) فرعون کے مخالف تھے۔ اس وقت سب سے بڑے جادوگر جو قوم میں اقتدار کے مالک تھے اور ان کے ساتھ چھ لاکھ عوام مسلمان ہو کر ایک بہت بڑی طاقت مقابلہ پر آگئی۔ اس وقت فرعون کی پریشانی اور سراسیمگی بیجا نہ تھی مگر اس نے اس کو چھپا کر ایک چالاک ہوشیار سیاست دان کے انداز میں پہلے تو جادوگروں پر یہ باغیانہ الزام لگایا کہ تم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ خفیہ سازش کرکے یہ کام اپنے ملک وملت کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا ہے اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ ، یعنی یہ ایک سازش ہے جو تم نے میدان مقابلہ میں آنے سے پہلے شہر کے اندر آپس میں کر رکھی تھی۔ اور پھر جادوگروں کو خطاب کر کے کہا اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ یعنی کیا تم نے میری اجازت سے پہلے ہی ایمان قبول کرلیا۔ یہ استفہام انکاری بطور زجر و تنبیہ کے تھا۔ اور اپنی اجازت سے پہلے ایمان لانے کا ذکر کرکے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ہم خود بھی یہی چاہتے تھے کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کا حق پر ہونا واضح ہوجائے تو ہم بھی ان کو مانیں اور لوگوں کو بھی اجازت دیں کہ وہ مسلمان ہوجائیں لیکن تم لوگوں نے جلد بازی کی اور حقیقت کو سوچے سمجھے بغیر ایک سازش کے شکار ہوئے۔ اس چالاکی سے ایک طرف تو لوگوں کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ اور جادوگروں کی تسلیم کو ایک سازش قراردے کر ان کو قدیم گمراہی میں مبتلا رکھنے کا انتظام کیا، اور دوسری طرف سیاسی چالاکی یہ کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا عمل اور جادوگروں کا اسلام جو خالص فرعون کی گمراہی کو کھولنے کے لئے تھا، قوم اور عوام سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا اس کو ایک ملکی اور سیاسی مسئلہ بنانے کے لئے کہا، لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا یعنی تم لوگوں نے یہ سازش اس لئے کی ہے کہ تم چاہتے ہو کہ ملک مصر پر تم غالب آجاؤ اور اس کے باشندوں کو یہاں سے نکال دو ، ان چالاکیوں کے بعد ان سب پر اپنی ہیبت اور حکومت کا رعب وخوف جمانے کے لئے جادوگروں کو دھمکیاں دینی شروع کیں، اول تو مبہم انداز میں کہا، فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ یعنی تم ابھی دیکھ لوگے کہ تمہاری اس سازش کا کیا انجام ہوتا ہے، اس کے بعد اس کو واضح کر کے بتلایا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِہٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ۝ ٠ ۚ اِنَّ ہٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْہُ فِي الْمَدِيْنَۃِ لِتُخْرِجُوْا مِنْہَآ اَہْلَہَا۝ ٠ ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۝ ١٢٣ وأَذِنَ : استمع، نحو قوله : وَأَذِنَتْ لِرَبِّها وَحُقَّتْ [ الانشقاق/ 2] ، ويستعمل ذلک في العلم الذي يتوصل إليه بالسماع، نحو قوله : فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ البقرة/ 279] . ( اذ ن) الاذن اور اذن ( الیہ ) کے معنی تو جہ سے سننا کے ہیں جیسے فرمایا ۔ { وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ } ( سورة الِانْشقاق 2 - 5) اور وہ اپنے پروردگار کا فرمان سننے کی اور اسے واجب بھی ہے اور اذن کا لفظ اس علم پر بھی بولا جاتا ہے جو سماع سے حاصل ہو ۔ جیسے فرمایا :۔ { فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة البقرة 279) تو خبردار ہوجاؤ کہ ندا اور رسول سے تمہاری چنگ ہے ۔ مكر المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ( م ک ر ) المکر ک ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] اور خدا خوب چال چلنے والا ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ اور دوسرے معنی کے متعلق فرمایا : ۔ وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے : مدن المَدينة فَعِيلَةٌ عند قوم، وجمعها مُدُن، وقد مَدَنْتُ مَدِينةً ، ون اس يجعلون المیم زائدة، قال تعالی: وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفاقِ [ التوبة/ 101] قال : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلى حِينِ غَفْلَةٍ مِنْ أَهْلِها [ القصص/ 15] . ( م دن ) المدینۃ ۔ بعض کے نزدیک یہ فعیلۃ کے وزن پر ہے اس کی جمع مدن آتی ہے ۔ اور مدنت مدینۃ کے معنی شہر آیا ہونے کے ہیں ۔ اور بعض کے نزدیک اس میں میم زیادہ ہے ( یعنی دین سے مشتق ہے ) قرآن پاک میں ہے : وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفاقِ [ التوبة/ 101] اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں ۔ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی آیا ۔ وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلى حِينِ غَفْلَةٍ مِنْ أَهْلِها [ القصص/ 15] اور وہ شہر میں داخل ہوئے ۔ سوف سَوْفَ حرف يخصّص أفعال المضارعة بالاستقبال، ويجرّدها عن معنی الحال، نحو : سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي[يوسف/ 98] ، وقوله : فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ [ الأنعام/ 135] ، تنبيه أنّ ما يطلبونه۔ وإن لم يكن في الوقت حاصلا۔ فهو ممّا يكون بعد لا محالة، ويقتضي معنی المماطلة والتأخير، واشتقّ منه التَّسْوِيفُ اعتبارا بقول الواعد : سوف أفعل کذا، والسَّوْفُ : شمّ التّراب والبول، ومنه قيل للمفازة التي يَسُوفُ الدلیل ترابها : مَسَافَةٌ ، قال الشاعر : إذا الدّليل اسْتَافَ أخلاق الطّرق والسُّوَافُ : مرض الإبل يشارف بها الهلاك، وذلک لأنها تشمّ الموت، أو يشمّها الموت، وإمّا لأنه ممّا سوف تموت منه . ( س و ف ) سوف ۔ حرف تسویف یہ حرف ہے جو فعل مضارع کو معنی حال سے مجرد کر کے معنی استقبال کے لئے خاص کردیتا ہے ( اسی لئے اسے حرف استقبال بھی کہتے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي[يوسف/ 98] میں اپنے پروردگار سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا ۔ اور آیت : ۔ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ [ الأنعام/ 135] عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا ۔ میں متنبہ کیا ہے جس بات کا وہ مطالبہ کرتے ہیں اگرچہ فی الحال وہ حاصل نہیں ہے ۔ لیکن وہ لامحالہ ہوکر رہے گی ۔ اور اس میں مماطلتہ ( ٹال مٹول ) اور تاخیر کے معنی پائے جاتے ہیں اور چونکہ وعدہ کرنے والا سوف افعل کذا کا محاورہ استعمال کرتا ہے اسلئے التسویف ( تفعیل ) کے معنی ٹال مٹول کرنا بھی آجاتے ہیں ۔ السوف ( ن) کے معنی مٹی یابول کی بو سونگھنے کے ہیں پھر اس سے اس ریگستان کو جس میں راستہ کے نشانات بنے ہوئے ہوں اور قافلہ کا رہنما اس کی مٹی سونگھ کر راہ دریافت کرے اسے مسافتہ کہا جاتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( درجز ) ( 246) اذاللیل استاف اخلاق الطرق جب رہنما بت نشان راستوں پر سونگھ سونگھ کر چلے ۔ السوف ۔ اونٹوں کے ایک مرض کا نام ہے جس کی وجہ سے وہ مرنے کے قریب ہوجاتے ہیں اور اس مرض کو سواف یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اس سے موت کی بو سونگھ لیتے ہیں یا موت ان کو سونگھ لیتی ہے اور یا اس لئے کہ اس سے جلد ہی ان کی موت آجاتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٣۔ ١٢٤) فرعون کہنے لگا میرے حکم سے پہلے تم نے ایسا کیا یہ تمہاری اور موسیٰ (علیہ السلام) کی کوئی تدبیر ہے، میں تمہارا دایاں ہاتھ اور بایاں پیر کاٹ دوں گا اور نہرکنارے تمہیں پھانسی دوں گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٣ (قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِہٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ج) (اِنَّ ہٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْتُمُوْہُ فِی الْْمَدِیْنَۃِ ) یہ تمہاری ایک (سوچی سمجھی) سازش ہے جو تم سب نے مل کر چلی ہے شہر کے اندر اب فرعون کی جان پر بن گئی کہ لوگوں پر جادوگروں کی اس شکست کا کیا اثر پڑے گا ‘ عوام کو کیسے مطمئن کیا جاسکے گا ؟ لیکن وہ بڑا ذہین اور genius شخص تھا ‘ فوراً پینترا بدلا اور بولا مجھے سب پتا چل گیا ہے ‘ یہ موسیٰ بھی تمہارا ہی ساتھی ہے ‘ تمہارا گروگھنٹال ہے۔ یہ سب تمہاری آپس کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے اور تم سب نے مل کر ہمارے خلاف ایک سازش کا جال بنا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:123) مکر۔ چال۔ نیز ملاحظہ ہو 7:99 ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (123 تا 126 ) ۔ امنتم (تم ایمان لے آئے) ۔ اذن (اجازت دے دی) ۔ مکر تم وہ (تم نے تدبیر کی۔ سازش کی) ۔ لتخر جوا (تاکہ تم نکال لے جائو) ۔ لاقطعن (البتہ میں ضرور کاٹوں گا) ۔ اصلبن (میں ضرور پھانسی دوں گا ) ۔ ماتنقم (تو دشمنی نہیں کرتا ) ۔ افرغ (ڈال دے) ۔ تشریح : آیت نمبر (123 تا 126 ) ۔ ” اس واقعہ کے بعد جب کہ تمام جادو گروں نے ایک سچائی کو دیکھ کر ایمان قبول کرلیا اور ہر طرح کے خطرات سے بےنیاز ان اہل ایمان نے بھرے دربار میں صاف صاف کہہ دیا تو فرعون سمجھ گیا کہ اب پانسہ پلٹ چکا ہے اور تیرکمان سے نکل چکا ہے۔ اس کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں ان جادو گروں کے بعد ساری رعایا ہی موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان نہ لے آئے لوگوں کو بد ظن کرنے کے لئے فوراً یہ چال چلی کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگروں کے درمیان پہلے سے بنایا ہوا منصوبہ اور سازش قرار دے دیا۔ اور ان لوگوں کو بد ترین جسمانی تکلیفوں ، جیلوں اور پھانسی پر چڑھا دینے کی دھمکی دی۔ مگر یہ چال خود فرعون کے خلاف الٹی پڑگئی۔۔۔۔ ۔ فرعون کے بھرے دربار میں ایمان لانے والے ان جادوگروں نے اعلان کردیا۔ کہا اے فرعون ہم تیری دھمکیوں کی وجہ سے اپنا ایمان تبدیل نہیں کریں گے۔ اب ہم اس ذات کے بندے بن چکے ہیں جس کے پاس ہمیں جانا ہے۔ ہم تیری بندگی اور تجھے ” رب اعلیٰ “ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ انہوں نے فرعون کو چیلنج کردیا کہ آخر تیری دشمنی کیوں ہے ؟ ہمارا جرم کیا ہے یہی نا کہ ہم اللہ کی آیات اور نشانیوں پر ایمان لے آئے ہیں۔ اس سے پہلے ہم بیخبر تھے لیکن جب ہمیں سچائی کا علم ہوگیا تو ہم نے جھوٹ اور باطل کو چھوڑ دیا۔ اس پر مزید یہ کہ انہوں نے تمام مجمع کے سامنے اللہ سے دعا کی اے اللہ ہمیں اس راستے میں صبر کرنے اور ڈٹے رہنے کی توفیق عطا فرما۔ اور جب ہم اس دنیا سے جائیں تو اے اللہ ہم تیرے فرماں بردارہوں۔ فرعون نے اپنی شکست اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے یہ بہانہ گھڑا کہ تم لوگوں کی سازش اس لئے تھی تاکہ اس ملک کے رہنے والوں سے ان کا ملک چھین لو اور خود اس سر زمین پر قبضہ کر کے یہاں کے رہنے والوں کو نکال باہر کرو مگر یہ سیاست بھی بیکار گئی کیونکہ بعض روایات کے مطابق چھ لاکھ افراد نے وہیں اسلام قبول کرلیا اور فرعون کے مقابلے میں ایک بہت بڑی جماعت تیار ہوگئی جس سے فرعون اور اس کے حاشیہ بردار لوگ بوکھلا اٹھے۔۔۔۔ ۔۔ وہ ان اہل ایمان کو وہ سزائیں تو نہ دے سکے جس کا اعلان کیا گیا تھا البتہ فرعون کو اپنے ایوانوں اور اقتدار کی سلامتی کی فکر لا حق ہوگئی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جادو گروں کے ایمان لانے پر فرعون کا ان پر سازش کرنے کا الزام اور ان کو مار ڈالنے کی دھمکیاں۔ اس پر جادوگروں کا رد عمل اور عزم و استقلال کا مظاہرہ۔ حق و باطل کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت بالکل عیاں دکھائی دیتی ہے کہ حق ہمیشہ دلائل کی بنیاد پر باطل پر غالب رہا ہے اور غالب رہے گا۔ یہی بات قرآن مجید نے دو ٹوک الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ ” کافر اور مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو ہر جانب پھیلا کر رہے گا۔ اس نے اپنے رسول کو دین حق اور ہدایت کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ اس کا دین تمام باطل ادیان پر غالب آجائے خواہ یہ بات کفار کے لیے کتنی ہی ناگوار ہو۔ “ (سورۃ الصف : ٨، ٩) سورۃ المجادلۃ کی آیت ٢١ میں یہ فرمایا کہ ” اللہ نے یہ بات لکھ چھوڑی ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آکر رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ قوت رکھنے والا غالب ہے۔ “ یہی بات جادوگروں کے مقابلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے کہی گئی تھی۔ اے موسیٰ خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ یقین جانیے کہ آپ ہی غالب رہیں گے۔ جادوگر جہاں سے بھی حملہ آور ہو کامیاب نہیں ہوتا۔ “ (طٰہٰ ٦٨ تا ٦٩) اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا اور جو جادوگر تھوڑی دیر پہلے فرعون زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے جونہی ان کے سامنے حقیقت منکشف ہوئی تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت پر ایمان لانے کا دو ٹوک الفاظ میں نہ صرف اعلان کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوئے تاکہ دیکھنے والے یہ جان جائیں کہ جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں شکست کھاچکے ہیں۔ فرعون یہ ہزیمت کس طرح برداشت کرسکتا تھا اس لیے اس نے اپنی ذلت چھپانے اور لوگوں پر تسلط قائم رکھنے کے لیے ایمان لانے والوں پر سازش کا الزام لگایا کہ تم نے میری اجازت کے بغیر ایمان لانے کا اعلان کیا یہ تم جادوگروں کی ہمارے خلاف بہت بڑی سازش ہے تاکہ تم ہمیں اقتدار سے محروم کرکے ملک سے نکال دو ۔ لیکن یاد رکھو کہ عنقریب تمہارا انجام تمہارے سامنے ہوگا۔ سورۃ طٰہٰ آیت ٧١ تا ٧٣ میں یہ بیان ہوا ہے کہ فرعون نے یہ بھی الزام لگایا کہ درحقیقت یہ تمہارا استاد جادوگر ہے جس کے ساتھ مل کر تم نے یہ کام کیا ہے لہٰذا میں تمہارے مخالف سمت میں ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا اور کھجوروں کے بلند تنوں پر تمہیں پھانسی دی جائے گی اور تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم سزا دینے میں کتنے سخت لوگ ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ایمانداروں نے کہا کہ ہمارے پاس سچ اور حق کے دلائل آچکے ہیں جن پر ہم تمہیں اور تمہارے مفادات کو ہرگز تر جیح نہیں دے سکتے۔ لہٰذا جو کچھ تو کرنا چاہتا ہے کر گزر تیری سزا تو اس دنیا کی حد تک محدود ہے بلاشبہ ہم اپنے رب پر ایمان لے آئے ہیں تاکہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے اور جو ہم نے جادو کا مظاہرہ کیا ہے اسے معاف کر دے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ یہ بیان ہوا ہے کہ جب فرعون نے ان کے مخالف سمت میں ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی چڑھانے کی دھمکی دی تو صاحب ایمان لوگوں نے پر اعتماد انداز میں جواب دیا کہ یقیناً ہم اپنے رب کی طرف ہی لوٹنے والے ہیں۔ ہمارا صرف اتنا قصور ہے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لے آئے ہیں جو ہم تک پہنچ چکی ہیں۔ ہم اپنے رب کے حضور یہ فریاد کرتے ہیں کہ اے ہمارے پالنہار ہمیں فرعون کی اذیتوں پر صبر و استقامت عنایت فرما اور ہماری موت تیرے تابعدار بندوں جیسی ہو۔ فرعون نے صاحب عزیمت لوگوں کو مار ڈالنے کی دھمکی دی تھی اس لیے انھوں نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے اسے جواب دیا کہ دنیا میں کسی نے بھی ہمیشہ نہیں رہنا لہٰذا ہمیں موت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ موت تو اپنے رب تک پہنچنے کا ایک وسیلہ ہے اس لیے ہم مر کر اپنے رب کی طرف ہی پلٹنے والے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انھوں نے اپنے رب کے ہاں بہتر انجام کی دعا کی تھی مومن کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی کامیابی نہیں ہوسکتی کہ وہ صبر و استقامت کے ساتھ اللہ کے راستے میں جان قربان کر دے۔ سچے ایمان کی یہ نشانی ہے کہ وہ انسان کو ایک لمحہ میں صبر و استقامت اور ایمان و ایقان کی ایسی بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے جس کا دنیا دار شخص تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہی وہ جذبہ اور ایمان کا درجہ ہے جس کا اظہار حضرت خبیب (رض) نے تختۂ دار پر چڑھتے ہوئے اہل مکہ کے سامنے کیا تھا۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس آدمیوں کو کفار کی جاسوسی کے لیے روانہ کیا اور ان کا ذمہ دار عاصم بن ثابت انصاری کو بنایا جو کہ عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا تھے یہ لوگ جب ہداۃ مقام پر پہنچے جو کہ عسفان اور مکہ کے درمیان ہے تو کسی نے بنی لحیان کے لوگوں کو بتایا جو ہذیل قبیلے کی شاخ ہے انھوں نے دو سو تیرا نداز ان کے تعاقب میں بھیجے یہ لوگ ان کے نشان ڈھونڈتے چل پڑے۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) نے ایک جگہ کھجوریں کھائیں تھیں جو مدینہ سے ساتھ لی تھیں۔ بنولحیان کے لوگوں نے وہاں کھجوریں دیکھیں تو پہچان لیں کہ یہ یثرب کی کھجوریں ہیں عاصم اور ان کے ساتھیوں کے تعاقب میں چل پڑے۔ جب عاصم نے ان کو دیکھا تو ایک ٹیکری پر پناہ لی کافروں نے ان کو گھیر لیا اور کہنے لگے تم ٹیکری سے اتر آؤ اور اپنے آپ کو ہمارے سپرد کر دو ۔ اور ہم تم سے پکاوعدہ کرتے ہیں کہ تم کو نہیں ماریں گے یہ سن کر عاصم بن ثابت جو کہ ان کے سردار تھے نے کہا اللہ کی قسم ! میں اپنے آپ کو کافروں کے سپرد نہیں کروں گا۔ اے اللہ ! ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہماری خبر دے دے۔ اس پر کافروں نے تیروں کی بارش شروع کردی اور عاصم سمیت سات کو شہید کردیا۔ باقی جو تین بچ گئے وہ کافروں کے اقرار پر بھروسہ کرکے اتر آئے انھی میں خبیب، زید بن دثنہ اور ایک اور شخص تھے جب کافروں کے قابو میں آگئے تو انھوں نے دھوکہ دیا اور اپنی کمانوں کی رسی کھول کر ان کے ہاتھ باندھ دیے۔ تیسرا شخص کہنے لگا یہ پہلا دھوکہ ہے میں تمہارے ساتھ نہیں جانے والا۔ میں تو اپنے شہید ساتھیوں کی پیروی چاہوں گا۔ کافروں نے ان کو زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانے۔ آخر کار انھوں نے اسے شہید کر ڈالا۔ اور خبیب اور زید بن دثنہ کو پکڑ کرلے گئے۔ ان دونوں کو غلام بنا کر مکہ میں مشرکین کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ خبیب کو حارث بن عامر کے بیٹوں نے خریدا۔ بدر کے دن خبیب نے ان کے باپ حارث کو قتل کیا تھا۔ خبیب چند دنوں تک ان کے پاس قید رہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں مجھ سے عبید اللہ بن عیاض نے بیان کیا ان سے حارث کی بیٹی بیان کرتی تھی جب حارث کے گھر کے افراد متفق ہوگئے کہ انھیں قتل کردیا جائے تو انھی دنوں خبیب نے زینب سے ایک استرا مانگا تو زینب نے ان کو دے دیا۔ اس وقت اتفاق سے میرا ایک بیٹا انجانے میں خبیب کے پاس آگیا۔ میں نے دیکھا تو کم سن ان کے ران پر بیٹھا ہوا ہے اور استرا ان کے ہاتھ میں ہے یہ منظر دیکھ کر میں گھبرا گئی۔ خبیب نے میرا چہرہ دیکھ کر پہچان لیا میں گھبرا رہی ہوں اور پوچھا کیا تو یہ سمجھتی ہے میں اس بچے کو مار ڈالوں گا یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ زینب کہتی ہیں میں نے خبیب کی مانند کوئی نیک آدمی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم ! میں نے ایک دن دیکھا کہ وہ لوہے کی زنجیر میں جکڑے ہوئے انگور کا گچھا ان کے ہاتھ میں تھا کھا رہے تھے۔ ان دنوں مکہ میں پھل بالکل نہیں ملتا تھا۔ زینب کہتی تھیں یہ اللہ تعالیٰ کا رزق ہے جو خبیب کو اس نے عنایت فرمایا۔ جب خبیب کو قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے گئے تو انھوں نے درخواست کی مجھے دو رکعت پڑھنے دو ۔ انھوں نے اجازت دے دی۔ خبیب نے دو رکعت ادا کیں، پھر وہ کہنے لگے اگر تم یہ خیال نہ کرتے کہ میں مارے جانے سے ڈرتا ہوں تو میں اپنی رکعات لمبی ادا کرتا۔ یا اللہ ان کافروں کو ایک ایک کرکے ہلاک کر دے۔ پھر حارث کے بیٹے نے انھیں شہید کردیا۔ حضرت خبیب (رض) نے اس چیز کی ابتدا کی جو بھی مسلمان اسیر ہو کر مارا جائے تو وہ دو رکعت نماز ادا کرلے۔ جس دن حضرت عاصم (رض) شہید ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمالی۔ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی دن اپنے صحابہ (رض) کو خبر دی اور ان کی مصیبت بیان کی۔ ان کے شہید ہونے کے بعد قریش کے کافروں نے کسی کو عاصم کی لاش پر بھیجا کہ ان کے بدن کا کوئی ٹکڑا کاٹ کر لائے جس کو وہ کاٹ نہ سکے۔ حضرت عاصم (رض) نے بدر کے دن قریش کے سردار کو قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے عاصم کی لاش پر بھڑوں کا چھتہ بھیج دیا۔ انھوں نے قریش کے آدمیوں سے عاصم کو بچا لیا وہ ان کے بدن کا کوئی ٹکڑا نہ کاٹ سکے۔ “ (رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر، باب یستأسر الرجل) مسائل ١۔ سچا ایمان نصیب ہوجائے تو آدمی دنیا کی تکالیف کی پروا نہیں کرتا۔ ٢۔ مشکل اور مصیبت کے وقت انسان کو اللہ تعالیٰ سے صبر اور استقامت مانگنا چاہیے۔ ٣۔ ہر انسان نے بالآخر اللہ تعالیٰ کی طرف ہی پلٹ کرجانا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ سے ایمان کی سلامتی اور اس پر استقامت طلب کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن مواحد لوگوں پر مشرکین کے مظالم : ١۔ فرعون قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ (البقرۃ : ٤٩) ٢۔ فرعون مومنوں کو کئی طرح کے عذابوں میں مبتلا کرتا تھا۔ (الاعراف : ١٤١) ٣۔ فرعون نے موحد ین کو ٹانگ اور بازو کاٹنے کی دھمکی دی۔ (الاعراف : ١٢٤) ٤۔ فرعون نے اللہ پر ایمان لانے والوں کو ہاتھ پاؤں کاٹنے اور کھجور کے تنوں پر پھانسی دینے کی دھمکی دی۔ (طہٰ : ٧١) ٥۔ فرعون نے اپنی موحدہ بیوی کو دین سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کی تکالیف دیں۔ (التحریم : ١١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ذرا انداز ملاحظہ ہو۔ تم اس پر ایمان لائے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ گویا یہ ان کا قانونی فرض تھا کہ وہ اس سے اجازت لیں کہ وہ ایمان قبول کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ خود مختار نہیں ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کے شعور و وجدان کو کوئی حرکت نہیں کرنا چاہئے اور وہ اپنے شعور کے معاملے میں بھی خود مختار نہیں ہیں۔ اگر ان کے قلب و نظر پر کوئی روشنی پڑتی ہے تو انہیں حجاب کرنا چاہئے اور اس معاملے میں بھی فرعون سے پوچھنا چاہئے۔ اگر ان کے دلوں میں کوئی عقیدہ یا یقین بیٹھتا ہے تو انہیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ فرعون کے اذن کے بغیر ایسا کریں غرض ان کا فرض ہے کہ ہر قسم کی نئی روشنی سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ لیکن ہر طاغوتی طاقت جاہل اور غبی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر طاغوتی طاقت متکبر ، مغرور اور انتہا پسند ہوتی ہے۔ نیز ہر طاغوتی طاقت اپنے اقتدار کے بارے میں نہایت حساس ہوتی ہے اور اسے ایسی باتوں سے اپنا اقتدار خطرے میں نظر آتا ہے اور طاغوتی تخت اور اقتدار متزلزل نظر آتا ہے۔ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا ۔ یقینا کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اس دار السلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بےدخل کردو۔ اچھا تو اس کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے۔ اور ایک دوسری آیت میں ہے (انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر) یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ بالکل واضح ہے۔ حضرت موسیٰ کی دعوت رب العالمین کی طرف تھی اور ہر وہ دعوت جو رب العالمین کی طرف ہوتی ہے وہ نہایت خوفناک ہوتی ہے ۔ جہاں بھی رب العالمین کی طرف دعوت پھیل جائے وہاں طاغوتی نظام باقی ہی نہیں رہتا۔ اس لئے کہ طاغوتی نظام قائم ہی اس بات پر ہوتا ہے کہ اس میں رب العالمین کے اقتدار اور قانون کے بجائے دوسرے انسانوں کا اقتدار اور قانون نافذ ہوتا ہے اور انسان زمین پر بطور رب کام کرتے ہیں۔ انسانوں کو اپنا غالم بناتے ہیں اور ان کے لئے جو چاہتے ہیں قوانین بناتے ہیں۔ در اصل یہ دو مستقل نظام حیات ہوتے ہیں جو ایک جگہ جمع ہو ہی نہیں ہوسکتے۔ بلکہ یہ دو الگ الگ دین ہوتے ہیں اور ان کے دو الگ الگ رب ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو فرعون اچھی طرح جانتا تھا۔ اس کی جماعت بھی اچھی طرح جانتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حجرت موسیٰ کی دعوت کے نتیجے میں فرعون کا اقتدار متزلزل ہوگیا تھا اور اب جبکہ جادوگر سب کے سب سجدے میں گر گئے اور انہوں نے اعلان کردیا کہ انہوں نے رب العالمین کی دعوت تسلیم کرلی ہے اور وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے رب پر ایمان لائے ہیں۔ یہ جادوگر اس وقت کے مذہبی لیڈر اور کاہن تھے اور انہوں نے دینی اعتبار سے فرعون کو رب الناس کا مقام دیا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے ان کو اس قدر وحشیانہ اور عبرت آموز سزا کی دھمکی دی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

123 فرعون نے اپنی حکومت کو بچانے اور عام بغاوت کو دبانے کے لئے جادوگروں سے کہا کہ تم میری اجازت دینے سے پہلے ہی اس موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے یہ ایک سازش ہے جو تم سب نے مل کر کی ہے تاکہ تم اس ملک مصر کے حقیقی باشندوں کو اور مصر کی حکمران قوم کو اس ملک مصر سے نکال دو اور حاکم قوم کو یہاں سے بےدخل کرکے اپنا راج قائم کرلو لہٰذا عنقریب تم کو اس کا نتیجہ اور انجام معلوم ہوا جاتا ہے۔