Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 125

سورة الأعراف

قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۱۲۵﴾ۚ

They said, "Indeed, to our Lord we will return.

انہوں نے جواب دیا کہ ہم ( مر کر ) اپنے مالک ہی کے پاس جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

125۔ 1 اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اگر ہمارے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا تو تجھے بھی اس بات کے لئے تیار رہنا چاہیے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تجھے اس جرم کی سخت سزا دے گا اس لئے کہ ہم سب کو مر کر اس کے پاس جانا ہے اس کی سزا سے کون بچ سکتا ہے ؟ گویا فرعون کے عذاب دنیا کے مقابلے میں اسے عذاب آخرت سے ڈرایا گیا ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ موت تو ہمیں آنی ہی آنی ہے اس سے کیا فرق پڑے گا کہ موت سولی پر بھی آئے یا کسی اور طریقے سے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ : یعنی موت سے کسی حال میں چھٹکارا نہیں، وہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور آنی ہے، اگر ہماری قسمت میں یہی لکھا ہے کہ ہمارا خاتمہ سولی پر ہو تو ہمیں بڑی خوشی سے سولی دو ، ہمیں کوئی پروا نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Pharaoh made all the efforts that he could to control his people. The belief in Allah, or |"Iman& as it is called by the Qur&an, is a great power. When it finds it&s way into one&s heart, one finds himself as powerful as to face the whole world and all the forces gathered together against him. This was a great change. Only a few hours ago, the sorcerers were the worshippers of Pharaoh, but having faith in Allah they demonstrated such a great power and courage that in response to all the threats to their lives by the Pharaoh, they only said with perfect satisfaction that, in that case, إِنَّا إِلَىٰ رَ‌بِّنَا مُنقَلِبُونَ |"To our Lord we are sure to return.|" The sorcerers were fully aware of Pharaoh&s power and authority over them. They did not say that Pharaoh will not be able to kill them because of their new faith. Their answer was to suggest that the whole life of this temporary world had no value in their eyes. Their satisfac¬tion was due to the fact that they were sure of meeting the Lord of the worlds after passing away from this world. There they shall get an everlasting life of peace and comfort. Another interpretation of their answer is that though the Pharaoh had all the power to finish their life, but soon he will be presented before the Lord of the worlds where he shall be taken to account for his despotism. In another verse, the following statement is also included in the answer of the sorcerers, فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِي هَـٰذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا You may pass any judgment you can against us, but your judgment will be restricted to this worldly life.|" (72:20) This also shows their total indifference towards the temporary life of this world.

اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ، یعنی اگر تو ہمیں قتل کردے گا تو مضائقہ نہیں، ہم اپنے رب کے پاس چلے جائیں گے، جہاں ہم کو ہر طرح کی راحت ملے گی۔ جادوگر چونکہ فرعون کی سطوت وجبروت سے ناواقف نہ تھے اس لئے یہ نہیں کہا کہ ہم تیرے قابو میں نہیں آئیں گے یا ہم مقابلہ کریں گے بلکہ اس کی دھمکی کو صحیح مان کر یہ جواب دیا کہ یہ مانا کہ تو ہمیں ہر قسم کی سزا دینے پر دنیا میں قادر ہے مگر ہم دنیا کی زندگی ہی کو ایمان لانے کے بعد کوئی چیز نہیں سمجھتے، دنیا سے گزر جائیں گے تو اس زندگی سے بہتر زندگی ملے گی اور اپنے رب کی ملاقات نصیب ہوگی۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ اس زندگی میں جو تیرا دل چاہے کرلے، آخر کار ہم اور تم سب رب العالمین کے سامنے پیش ہوں گے اور وہ ظالم سے مظلوم کا انتقام لیں گے اس وقت اپنے اس عمل کا نتیجہ تیرے سامنے آجائے گا۔ چناچہ ایک دوسری آیت میں اس موقع پر ان جادوگروں کے یہ الفاظ منقول ہیں، فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ ۭ اِنَّمَا تَقْضِيْ هٰذِهِ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا، یعنی جو تیرا جی چاہے ہمارے بارے میں حکم دے دے، بس اتنا ہی تو ہے کہ تیرا حکم ہماری اس دنیوی زندگی پر چل سکتا ہے اور تیرے غصہ کے نتیجے میں وہ زندگی ختم ہو سکتی ہے مگر ایمان لانے کے بعد ہماری نظر میں اس دنیوی زندگی کی وہ اہمیت ہی باقی نہیں رہی جو ایمان لانے سے پہلے تھی کیونکہ ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ زندگی راحت یا کلفت کے ساتھ گزر ہی جائے گی، فکر اس زندگی کی کرنا چاہئے جس کے بعد موت نہیں اور جس کی راحت بھی دائمی ہے اور کلفت بھی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ۝ ١٢٥ ۚ انقلاب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، والِانْقِلابُ : الانصراف، قال : انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] ، وقال : إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الأعراف/ 125] ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں الانقلاب کے معنی پھرجانے کے ہیں ارشاد ہے ۔ انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ ( یعنی مرتد ہوجاؤ ) وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا ۔إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الأعراف/ 125] ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٥۔ ١٢٦) جادوگر کہنے لگے ہم تو اپنے پروردگار کے پاس جائیں گے تو نے ہم میں کون ساعیب دیکھا، جس کی وجہ سے سزا دینا چاہتا ہے، صرف یہی کہ جب ہمارے سامنے آیات الہی آئیں ہم ان پر ایمان لے آئیں۔ ہمارے پروردگار سولی اور ہاتھ پیر کاٹے جانے کے وقت ہم پر صبر کا فیضان فرماتا کہ ہم کفر نہ اختیار کریں، اور اخلاص کے ساتھ مومن ہی مریں۔ (یعنی موت کی سختی کہیں کفر پر مجبور نہ کردے )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٥ (قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ) جادو گروں پر انکشافِ حق سے حاصل ہونے والی یقین کی پختگی اور گہرائی کا یہ عالم تھا کہ ایک مطلق العنان بادشاہ کی اتنی بڑی دھمکی ان کے پائے استقامت میں ذرا بھی لرزش پیدا نہ کرسکی۔ ان کے اس جواب کے ایک ایک لفظ سے ان کے دل کا اطمینان جھلکتا اور چھلکتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی موت سے کسی حال میں چھٹکارا نہیں وہ کسی شکل میں ضرور آتی ہے اگر ہماری قسمت میں بھی لکھا ہے کہ ہماری زندگی کا خاتمہ پھانسی کے تختے پر ہو تو ہمیں بڑی خوشی سے بھانسی دو ہمیں کوئی پروا نہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ جہاں ہر طرح امن و راحت ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

125 ان نو مسل جادوگروں نے جواب دیا یقیناً ہم سب تو اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں یعنی تیری سزا کا ہم کو کوئی خطرہ نہیں ہے آخر تو ہم مرکر اپنے پروردگار ہی کی طرف جائیں گے پھر ہمیں اندیشہ کیا ہے۔