Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 126

سورة الأعراف

وَ مَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا ؕ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾٪  4

And you do not resent us except because we believed in the signs of our Lord when they came to us. Our Lord, pour upon us patience and let us die as Muslims [in submission to You]."

اور تو نے ہم میں کون سا عیب دیکھا ہے بجز اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے ہیں جب وہ ہمارے پاس آئے ۔ اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہماری جان حالت اسلام پر نکال ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا تَنقِمُ مِنَّا إِلاَّ أَنْ امَنَّا بِأيَاتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاءتْنَا ... They said: "Verily, we are returning to our Lord. And you take vengeance on us only because we believed in the Ayat of our Lord when they reached us! They said, `We are now sure that we will go back to Allah. Certainly, Allah's punishment is more severe than your punishment and His torment for what you are calling us to, this day, and the magic you forced us to practice, is greater than your torment. Therefore, we will observe patience in the face of your punishment today, so that we are saved from Allah's torment.' They continued, ... رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا ... "Our Lord! pour out on us patience," with your religion and being firm in it, ... وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ "and cause us to die as Muslims." as followers of Your Prophet Musa, peace be upon him. They also said to Fir`awn, قَالُواْ لَن نُّوْثِرَكَ عَلَى مَا جَأءَنَا مِنَ الْبَيِّنَـتِ وَالَّذِى فَطَرَنَا فَاقْضِ مَأ أَنتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِى هَـذِهِ الْحَيَوةَ الدُّنْيَأ إِنَّأ امَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَـيَـنَا وَمَأ أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَى إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِماً فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لاَ يَمُوتُ فِيهَا وَلاَ يَحْيَى وَمَن يَأْتِهِ مُوْمِناً قَدْ عَمِلَ الصَّـلِحَـتِ فَأُوْلَـيِكَ لَهُمُ الدَّرَجَـتُ الْعُلَى "So decide whatever you desire to decree, for you can only decide for the life of this world. Verily, we have believed in our Lord, that He may forgive us our faults, and the magic to which you did compel us. And Allah is better (to reward) and more lasting (in punishment). Verily, whoever comes to his Lord as a criminal, then surely, for him is Hell, wherein he will neither die nor live. But whoever comes to Him (Allah) as a believer, and has done righteous good deeds, for such are the high ranks (in the Hereafter). (20:72-75) The magicians started the day as sorcerers and ended as honorable martyrs! Ibn Abbas, Ubayd bin Umayr, Qatadah and Ibn Jurayj commented, "They started the day as sorcerers and ended it as martyrs."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

126۔ 1 یعنی تیرے نزدیک ہمارا یہ عیب ہے۔ جس پر تو ہم سے ناراض ہوگیا ہے اور ہمیں سزا دینے پر تل گیا ہے۔ درآنحالیکہ یہ سرے سے عیب ہی نہیں یہ تو خوبی ہے بہت بڑی خوبی کہ جب حقیقت ہمارے سامنے واضح ہو کر آگئی تو ہم نے اس کے مقابلے میں تمام دنیاوی مفادات ٹھکرا دیئے اور حقیقت کو اپنا لیا۔ پھر انہوں نے اپنا روئے سخن فرعون سے پھیر کر اللہ کی طرف کرلیا اور اس کی بارگاہ میں دست دعا ہوگئے۔ 126۔ 2 تاکہ ہم تیرے اس دشمن کے عذاب کو برداشت کرلیں، اور حق اور ایمان پر ثابت قدم رہیں۔ 126۔ 3 اس دنیاوی آزمائش سے ہمارے اندر ایمان سے انحراف آئے نہ کسی اور فتنے میں ہم مبتلا ہوں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٢] جادوگروں کی ایمانی جرأ ت :۔ فرعون کی یہ تیسری تدبیر بھی بری طرح ناکام ہوگئی وہ چاہتا یہ تھا کہ جادوگروں کو جسمانی عذاب اور قتل کی دھمکی دے کر اس سازش کے الزام کا اعتراف کروا لے لیکن جادوگروں نے اپنے آپ کو ہر سزا کے لیے پیش کر کے یہ ثابت کردیا کہ ان کا یہ ایمان لانا کسی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ اعتراف حق کا نتیجہ ہے یاد رہے کہ یہ وہی جادوگر ہیں جو مقابلے سے پہلے فرعون سے یہ پوچھ رہے تھے کہ اگر ہم نے اپنے مذہب کو موسیٰ (علیہ السلام) کے حملے سے بچا لیا تو ہمیں کچھ انعام و اکرام بھی ملے گا ؟ اور اب ایمان لانے کے بعد ان کی کیفیت یہ ہوگئی کہ وہ فرعون کی ہر سزا کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں دوسری طرف وہی فرعون جو انہیں انعام و اکرام کے علاوہ کرسیاں (اعلیٰ مناصب) بھی دینے کا وعدہ کر رہا تھا اس مقابلے کے فوراً بعد ان کا جانی دشمن بن گیا۔ [١٢٣] یعنی جس پروردگار کی نشانیوں پر ایمان لانے سے ہم تیری نگاہ میں مجرم ٹھہرے ہیں ہم اسی سے التجا کرتے ہیں کہ وہ تیری سختی اور ظلم و ستم پر ہمیں صبر کی توفیق بخشے اور راہ مستقیم پر قائم رکھے ایسا نہ ہو کہ ہم گھبرا کر کوئی بات اس کی تسلیم و رضا کے خلاف کر گزریں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا۔۔ : ” نَقَِمَ مِنْہُ (ض، ع) “ اور ” اِنْتَقَمَ “ عَاقَبَہُ یعنی ” نَقَمَ مِنْہُ “ اور ” اِنْتَقَمَ مِنْہُ “ کا معنی بدلہ لینا، سزا دینا ہے اور ” نَقَّمَ الْأَمْرَ “ کا معنی ” کَرِھَہُ “ یعنی کسی شے سے بہت زیادہ نفرت اور کراہت ہے۔ (قاموس) مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارا کوئی گناہ ہے تو صرف یہ کہ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی فن کو جتنا اس فن والا جانتا ہے کوئی دوسرا نہیں جان سکتا، چناچہ ان جادوگروں نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے کو دیکھا تو فوراً سمجھ گئے کہ یہ ہرگز جادو نہیں ہوسکتا، بلکہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزہ ہے، اس لیے وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے اور ان کے ایمان میں اس قدر پختگی تھی کہ انھوں نے جان تک کی پروا نہیں کی، بلکہ اللہ تعالیٰ سے صبر و استقامت اور ایمان و اسلام پر موت کی دعا کی۔ مشہور قول کے مطابق وہ قتل کردیے گئے، چناچہ طبری اور دوسرے مفسرین نے ابن عباس (رض) کا قول ذکر کیا ہے کہ شروع دن میں وہ جادوگر تھے اور پھر دن کے آخری حصے میں شہداء میں داخل ہوگئے۔ دکتور حکمت بن بشیر نے تفسیر ابن کثیر کی تخریج میں ابن عباس (رض) کے اس قول کے متعلق لکھا ہے کہ ابن عباس (رض) کا یہ قول ابن ابی حاتم نے ضعیف سند کے ساتھ سدی عن ابن عباس کے طریق سے روایت کیا ہے جب کہ سدی نے ابن عباس (رض) سے نہیں سنا (لہٰذا روایت منقطع ہے صحیح نہیں) ۔ قرآن مجید نے اس مقام پر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ ان کا انجام کیا ہوا، نہ ہی سورة شعراء اور سورة طٰہٰ میں یا کسی اور جگہ یہ ذکر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کا مقصد عبرت کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ کی مدد، فرعون کی شکست، جادوگروں کے ایمان لانے، فرعون کی دھمکیوں کے باوجود اس پر قائم رہنے کے عزم اور صبر اور ایمان پر خاتمے کی دعا کا بیان ہے، محض قصہ بیان کرنا نہیں، جیسا کہ سورة نازعات میں فرمایا : (اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى) [ النازعات : ٢٦ ] ” بیشک اس میں اس شخص کے لیے یقیناً بڑی عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا۔ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ فرعون اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا، جیسا کہ اس نے اپنے سرداروں سے کہا تھا : ” مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں۔ “ [ المؤمن : ٢٦ ] اور آل فرعون میں سے وہ مومن جس نے بھرے دربار میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی مخالفت کی اس کے خلاف بھی فرعون نے بدترین سازش کی، مگر وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہ کرسکا اور اس مومن کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی سازشوں سے بچا لیا۔ دیکھیے سورة مومن (٤٥) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ تسلی دے کر بھیجا تھا : (سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا ڔبِاٰيٰتِنَآ ڔ اَنْتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ ) [ القصص : ٣٥ ]” ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو ضرور مضبوط کریں گے اور تم دونوں کے لیے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے، ہماری نشانیوں کے ساتھ تم دونوں اور جنھوں نے تمہاری پیروی کی، غالب آنے والے ہو۔ “ زیر تفسیر مقام پر بھی اگر وہ اپنی اس دھمکی پر عمل کرچکا ہوتا تو اس کی قوم کے سرداروں کو اسے نئے سرے سے بھڑکانے کی کوئی ضرورت نہ تھی، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب) چونکہ قرآن مجید میں ان کے انجام کے متعلق خاموشی اختیار کی گئی ہے اس لیے سلامتی اسی میں ہے کہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا جائے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

This great change in their thought and action was the result of their true faith in Allah. In addition to this, their faith opened the door of knowledge and wisdom upon them which is manifest from their invocation to Allah at this occasion. They prayed, رَ‌بَّنَا أَفْرِ‌غْ عَلَيْنَا صَبْرً‌ا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِين &` O Allah! Shower upon us patience and let death take us while we are Muslims.|" This prayer is not only a manifestation of knowledge and wisdom, but also the best means of getting out of the difficulty they were in. It is because perseverance and patience are the only keys to success over one&s enemy. The report of the commission formed for investigating the causes and effects of the World War has remarked that the Muslims who observe faith in Allah and in the Hereafter are the most valiant and brave people in the battle field, and the most patient in the times of difficulty because they have faith in Allah and in the Hereafter. This is why the German military officials, expert in military sciences, emphat¬ically suggested that they should create honesty and sense of accountability in the Hereafter among their soldiers, as they are the great source of strength and courage. (Tafsir al-Manar) It was A Miracle The instant perfect change of mind of the sorcerers was, in no way, a lesser miracle than the other miracles of the prophet Musa (علیہ السلام) . Those who led a life of infidelity and ignorance for their whole life were instantly changed into the most cognizant, knowledgeable and true Muslims, as faithful as to readily sacrifice their life for their faith. It is a pity that the Muslims and the Muslim states are trying all other ways and means to make themselves powerful and strong, but have become neglectful of the real source of power and strength. That is faith, perseverance and patience.

غور کرنے کا مقام ہے کہ وہ لوگ جو کل تک بدترین کفر میں مبتلا تھے کہ فرعون جیسے بیہودہ انسان کو خدا مانتے تھے، اللہ تعالیٰ کی شان و عظمت سے بالکل ناآشنا تھے، ان میں یکبارگی ایسا انقلاب کیسے آگیا کہ اب پچھلے سب عقائد و اعمال سے یکسر تائب ہو کر دین حق پر اتنے پختہ ہوگئے کہ اس کے لئے جان تک دینے کو تیار نظر آتے ہیں، اور دنیا سے رخصت ہونے کو اس لئے پسند کرتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس چلے جائیں۔ اور صرف یہی نہیں کہ ایمان کی قوت اور جہاد فی سبیل اللہ کی ہمت ان میں پیدا ہوگئی بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی علم و معرفت کے دروازے ان پر کھل گئے تھے یہی وجہ ہے کہ فرعون کے مقابلہ میں اس جرأت مندانہ بیان کے ساتھ یہ دعا بھی کرنے لگے۔ رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ ۔ یعنی اے ہمارے پروردگار ہمیں کامل صبر عطا فرما اور مسلمان ہونے کی حالت میں ہمیں وفات دے۔ اس میں اشارہ اس معرفت کی طرف ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو انسان کا عزم وہمت کچھ کام نہیں آتا، اس لئے اسی سے ثابت قدمی کی دعا کی گئی۔ اور یہ دعا جیسے معرفت حق کا ثمرہ اور نتیجہ ہے اسی طرح اس مشکل کے حل کا بہترین ذریعہ بھی ہے جس میں یہ لوگ اس وقت مبتلا تھے، کیونکہ صبر اور ثابت قدمی ہی وہ چیز ہے جو انسان کو اپنے حریف کے مقابلہ میں کامیاب کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یورپ کی پچھلی جنگ عظیم کے اسباب و نتائج پر غور کرنے والے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ مسلمان جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں، یہی وہ قوم ہے جو میدان جنگ میں سب سے زیادہ بہادر اور مصیبت ومشقت پر صبر کرنے میں سب سے آگے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت جرمنی اقوام میں فنون حرب کے ماہرین اس کی تا کید کرتے تھے کہ فوج میں دینداری اور خوف آخرت پیدا کرنے کی سعی کی جائے کیونکہ اس سے جو قوت حاصل ہوتی ہے وہ کسی دوسری چیز سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ ( تفسیر المنار) ساحروں میں ایمانی انقلاب موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ عصا وید بیضاء سے بھی بڑا تھا : افسوس ہے کہ آج مسلمان اور مسلم حکومتیں اپنے آپ کو قوی بنانے کے لئے ساری ہی تدبیریں اختیار کررہے ہیں مگر اس گُر کو بھول بیٹھے ہیں جو قوت اور وحدت کی روح ہے۔ فرعونی جادوگروں نے بھی اول مرحلہ میں اس کو سمجھ لیا تھا، اور عمر بھر کے خدا ناشناس منکر کافروں کو دم بھر میں نہ فقط مسلمان بلکہ ایک عارف کامل اور مجاہد وغازی بنا دینے کا یہ معجزہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ عصا اور ید بیضاء سے کچھ کم نہ تھا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاۗءَتْنَا۝ ٠ ۭ رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِـمِيْنَ۝ ١٢٦ ۧ نقم نَقِمْتُ الشَّيْءَ ونَقَمْتُهُ : إذا أَنْكَرْتُهُ ، إِمَّا باللِّسانِ ، وإِمَّا بالعُقُوبةِ. قال تعالی: وَما نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْناهُمُ اللَّهُ [ التوبة/ 74] ، وَما نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ [ البروج/ 8] ، هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّاالآية [ المائدة/ 59] . والنِّقْمَةُ : العقوبةُ. قال : فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْناهُمْ فِي الْيَمِ [ الأعراف/ 136] ، فَانْتَقَمْنا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا[ الروم/ 47] ، فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ [ الزخرف/ 25] . ( ن ق م ) نقمت الشئی ونقمتہ کسی چیز کو برا سمجھنا یہ کبھی زبان کے ساتھ لگانے اور کبھی عقوبت سزا دینے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَما نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ [ البروج/ 8] ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی ۔ کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے ۔ وَما نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْناهُمُ اللَّهُ [ التوبة/ 74] اور انہوں نے ( مسلمانوں میں عیب ہی کو کونسا دیکھا ہے سیلا س کے کہ خدا نے اپنے فضل سے ان کو دولت مند کردیا ۔ هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّاالآية [ المائدة/ 59] تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو ۔ اور اسی سے نقمۃ بمعنی عذاب ہے قرآن میں ہے ۔ فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْناهُمْ فِي الْيَمِ [ الأعراف/ 136] تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا گر ان کو در یا میں غرق کردیا ۔ فَانْتَقَمْنا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا[ الروم/ 47] سو جو لوگ نافر مانی کرتے تھے ہم نے ان سے بدلہ لے کر چھوڑا ۔ فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ [ الزخرف/ 25] تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ فرغ الفَرَاغُ : خلاف الشّغل، وقد فَرَغَ فَرَاغاً وفُرُوغاً ، وهو فَارِغٌ. قال تعالی: سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلانِ [ الرحمن/ 31] ، وقوله تعالی: وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] ، أي : كأنّما فَرَغَ من لبّها لما تداخلها من الخوف ( ف ر غ ) الفراغ یہ شغل کی ضد ہے ۔ اور فرغ ( ن ) فروغا خالی ہونا فارغ خالی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] اور موسٰی کی ماں کا دل بےصبر ہوگیا ۔ یعنی خوف کی وجہ سے گویا عقل سے خالی ہوچکا تھا صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں وفی ( موت) وتَوْفِيَةُ الشیءِ : بذله وَافِياً ، وقد عبّر عن الموت والنوم بالتَّوَفِّي، قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] ، وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] يا عِيسى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرافِعُكَ إِلَيَ [ آل عمران/ 55] ، وقدقیل : تَوَفِّيَ رفعةٍ واختصاص لا تَوَفِّيَ موتٍ. قال ابن عباس : تَوَفِّي موتٍ ، لأنّه أماته ثمّ أحياه اور توفیتہ الشیئ کے معنی بلا کسی قسم کی کمی پورا پورادینے کے ہیں اور کبھی توفی کے معنی موت اور نیند کے بھی آتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] خدا لوگوں کی مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو رات کو ( سونے کی حالت میں ) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے ۔ اور آیت : ۔ يا عِيسى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرافِعُكَ إِلَيَ [ آل عمران/ 55] عیسٰی (علیہ السلام) میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ توفی بمعنی موت نہیں ہے ۔ بلکہ اس سے مدراج کو بلند کرنا مراد ہے ۔ مگر حضرت ابن عباس رضہ نے توفی کے معنی موت کئے ہیں چناچہ ان کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسٰی (علیہ السلام) کو فوت کر کے پھر زندہ کردیا تھا ۔ سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٦ (وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلآَّ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَ تْنَا ط) (رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ ) یعنی ایمان کے راستے میں جو آزمائش آنے والی ہے اس کی سختیوں کو جھیلتے ہوئے کہیں دامن صبر ہمارے ہاتھوں سے چھوٹ نہ جائے اور ہم کفر میں دوبارہ لوٹ نہ جائیں۔ اے اللہ ! ہمیں صبر اور استقامت عطا فرما ‘ اور اگر ہمیں موت آئے تو تیری اطاعت اور فرمانبرداری کی حالت میں آئے۔ اس واقعے کے بعد بھی فرعون عملی طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہ کرسکا۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اب بھی شہر میں لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا نے اور بنی اسرائیل کو منظم کرنے میں مصروف رہے۔ قوم کے نوجوانوں نے آپ ( علیہ السلام) کی دعوت پر لبیک کہا اور وہ آپ ( علیہ السلام) کے گرد جمع ہونا شروع ہوگئے۔ آپ ( علیہ السلام) کی اس طرح کی سرگرمیوں سے حکومتی عہدیداروں کے اندربجا طور پر تشویش پیدا ہوئی اور بالآخر انہوں نے فرعون سے اس بارے میں شکایت کی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

92. Faced with utter failure Pharaoh finally resorted to branding the whole magic tournament as a conspiracy concocted by Moses and his accomplice sorcerers. Under threat of death and physical torture he asked the sorcerers to confess that they had acted in collusion with Moses. This last move by Pharaoh was ineffectual. For the sorcerers readily agreed to endure every torture, clearly proving thereby that their decision to accept Moses' message reflected their sincere conviction and that no conspiracy was involved. Pharaoh was hardly left with any choice. He, therefore, gave up all pretence to follow truth and justice, and brazenly resorted to persecution instead. The tremendous and instantaneous change which took place in the characters of the sorcerers is also of significance. The sorcerers had come all the way from their homes with the purpose of vindicating their ancestral faith and receiving pecuniary reward from Pharaoh for overcoming Moses. However, the moment true faith illumined their hearts, they displayed such resoluteness of will and love for the truth that they contemptuously turned down Pharaoh's offer, and demonstrated their full readiness to endure even the worst punishments for the sake of the truth that had dawned upon them.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :92 فرعون نے پانسہ پلٹتے دیکھ کر آخری چال یہ چلی تھی کہ اس سارے معاملہ کو موسیٰ اور جادوگروں کی سازش قرار دیدے اور پھر جادوگروں کو جسمانی عذاب اور قتل کی دھمکی دے کر ان سے اپنے اس الزام کا اقبال کرالے ۔ لیکن یہ چال بھی اُلٹی پڑی ۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو ہر سزا کے لیے پیش کر کے ثابت کر دیا کہ ان کا موسیٰ علیہ السلام کی صداقت پر ایمان لانا کسی سازش کا نہیں بلکہ سچے اعتراف حق کا نتیجہ تھا ۔ اب اس کے لیے کوئی چارہ کار اس کے سوا باقی نہ رہا کہ حق اور انصاف کا ڈھونگ جو وہ رچانا چاہتا تھا اسے چھوڑ کر صاف صاف ظلم و ستم شروع کردے ۔ اس مقام پر یہ بات بھی دیکھنے کے قابل ہے کہ چند لمحوں کے اندر ایمان نے ان جادوگروں کی سیرت میں کتنا بڑا انقلاب پیدا کر دیا ۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے انہی جادوگروں کی ونائت کا یہ حال تھا کہ اپنے دین آبائی کی نصرت و حمایت کے لیے گھروں سے چل کر آئے تھے اور فرعون سے پوچھ رہے تھے کہ اگر ہم نے اپنے مذہب کو موسیٰ کے حملہ سے بچالیا تو سرکار سے ہمیں انعام تو ملے گا نا ؟ یا اب جو نعمت ایمان نصیب ہوئی تو انہی کی حق پرستی اور اولواالعزمی اس حد کو پہنچ گئی کہ تھوڑی دیر پہلے جس بادشاہ کے آگے لالچ کے مارے بچھے جارہے تھے اب اس کی کبریائی اور اس کے جبروت کو ٹھوکر مار رہے ہیں اور ان بدترین سزاؤں کو بھگتنے کے لیے تیار ہیں جن کی دھمکی وہ دے رہا ہے مگر اس حق کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس کی صداقت ان پر کھل چکی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:126) تنقم۔ توبیر کرتا ہے۔ تو انکار کرتا ہے۔ تو عیب دیتا ہے۔ تو پسند کرتا ہے (باب ضرب، سمع) نقم سے جس کے معنی غصہ ہونے ۔ ناپسند کرنے اور انکار کرنے کے ہیں خواہ اس کا اظہار زبان سے ہو یا سزا دے کر۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ ما استفہامیہ ہے۔ افرغ علینا۔ تو ہم پر بہا دے۔ تو انڈیل دے۔ دہانہ کھول دے۔ افرغ (افعال) جس کے معنی بہانا یا دہانہ کھولنے کے ہیں۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ یہاں ایک مادی چیز کے طور پر صبر کے بہانے اور دہانہ کھولنے کا سوال کیا جا رہا ہے ۔ یعنی صبر ان پر اس طرح بہایا جائے کہ وہ سب سے چھا جائے گویا بمنزلہ ظرف کے ہو اور مانگنے والے بمنزلہ مظروف فیہ کے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 تقم ( ض ع) کے معنی کسی شے سے بہت زیادہ نفرت اوکراہت کا اظہار کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا اگر کوئی گناہ ہے تو صرف یہ ہے کہ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں ( ابن عباس (رض) حقیقت یہ ہے کہ کسی فن کو جتنا اس فن والا جانتا ہے کوئی دوسرا نہیں جان سکتا، چناچہ ان جادوں گروں نے جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے معجزہ کو دیکھا تو فورا سمجھ گئے کہ یہ ہرگز جادو نہیں ہوسکتا بلکہ یہ سراسر خدائی معجزہ ہے اس لے ہو اس پر فورا ایمان لے آئے اور ان کے ایمان میں اس قدر بختگی تھی کہ جان تک کی پرواہ نہ کی، مشہور قول کے مطابق وہ قتل کردیئے گئے۔ چناچہ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ شروع دن میں وہ جادو گر تھے اور پھر دن کے آخری حصہ میں شہدا میں داخل ہوگئے ( ابو الفدار اور حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ فرعون نے ان کے الٹے ہاتھ پاؤں کٹواڈالے مگر انہوں نے ایمان کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جیسا کہ ان کی اس دعا سے بھی معلوم ہوتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے جسے چاہے اپنی توفیق سے نواز دے، فتح البیان )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ تاکہ اس کی سختی سے پریشان ہو کر کوئی بات ایمان کے خلاف نہ ہوجائے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ہے وہ ایمان حقیقی کا حامل انسان ، جو نہ خائف ہوتا ہے اور نہ اس کے پاؤں ڈگمگاتے ہیں۔ نہ وہ جھکتا ہے اور نہ غلام ہے۔ جو اپنے انجام کے بارے میں مطمئن ہے اور اس راہ پر راضی ہوگیا ہے۔ اسے یقین ہے کہ وہ رب العالمین کی طرف لوٹنے والا ہے اور وہ اس راہ کو اب نہیں چھوڑ سکتا۔ قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۔ انہوں نے جواب دیا۔ بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے۔ جو شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے اور طاغوتی نظام کے درمیان برپا معرکے کی نوعیت کیا ہے ؟ اور یہ کہ یہ معرکہ ایک نظریاتی معرکہ ہے ، وہ پھر مداہنت نہیں کرتا اور نہ جنگی داؤ پیچ سے کام لیتا ہے نہ درگزر اور عفو سے کام لیتا ہے۔ خصوصاً ایسے دشمن کے مقابلے میں جس کا مقصد یہ ہو کہ اہل ایمان اپنے ایمان اور نظرئیے سے دستبردار ہوجائیں۔ وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاۗءَتْنَا۔ تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انہیں مان لیا۔ جو شخص یہ جانتا ہو کہ وہ کس کے خلاف صف آرا ہے ، اور وہ کس کے مقابلے میں آگے بڑھ رہا ہے ، پھر وہ اپنے دشمن سے امن و عافیت کا سوال نہیں کیا کرتا۔ وہ صرف اپنے رب سے سوال کرتا ہے اور وہ بھی اس ات کا کہ اسے اس فتنے میں صبر و استقامت عطا کی جائے اور یہ کہ وہ اسلام کا وفادار ہے۔ رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ " اے رب ، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمان بردار ہوں "۔ اب سرکشی ایمان کے مقابلے میں بےبس ہوجاتی ہے ، اسے ایک فہم سے اور اطمینان کے ایک پہاڑ سے واسطہ پڑتا ہے۔ سرکشی اور طغیان کی ذہنیت یہ ہوتی ہے کہ اسے اختیار کرنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح اسے انسان کے جسم پر غلبہ اور کنٹرول حاصل ہے ، اس طرح اسے لوگوں کے دل و دماغ پر بھی تسلط حاصل ہے۔ اور جس طرح وہ لوگوں کے جسموں پر حکم چلاتے ہیں اسی طرح وہ لوگوں کے دماغوں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں ، لیکن یہ بات ان کے لئے انہونی ہوتی ہے کہ کوئی دل ان کی نافرمانی کرے حالانکہ ایسا ہوتا ہے ، اس لیے کہ دل تو اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور جب کسی دل کا رابطہ اللہ سے ہوجائے اور وہ سرکشی کے مقابلے میں ڈٹ جائے تو یہ سرکشی بےبس ہوجاتی ہے۔ جب دل اللہ کے ہوجائیں اور ان کا ربط اللہ سے ہوجائے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی بےبس ہوجاتی ہے۔ ایمانی قوت کے مقابلے میں بڑے بڑے سلطان اور جبار عاجز آجاتے ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موقف ہے۔ ایک طرف فرعون ، اس کا طاغوتی نظام اور اس کے پیروکار ہیں اور دوسری جانب بےبس مومن جادوگر ہیں جو کبھی جادوگر تھے۔ اب وہ ایک تاریخی موقف کے حامل ہیں۔ ان کا نظریہ حیات زندگی پر فاتح ہوکر برتری حاصل کرچکا ہے۔ انسانی عزیمت نے جسمانی رنج والم پر برتری حاصل کرلی ہے۔ انسان شیطان پر غالب آگیا ہے۔ بیشک یہ انسانی تاریخ کا ایک دو ٹوک موقف ہے۔ اس موقف کے ذریعے ایک حقیقی آزادی کا اعلان کیا گیا ہے۔ آزادی کی ماہیت کیا ہے ؟ آزادی یہ ہے کہ ایک انسان اپنے عقیدے اور نظریات کو لے کر سرفراز ہوجائے اور جباروں اور سرکشوں کے مقابلے میں ڈٹ جائے۔ اور اس مادی قوت کو ہیچ سمجھ لے جو انسانی جسموں پر تو کنٹرول کرتی ہے لیکن جسے انسان کی روح اور نظریات تک رسائی نہیں ہوتی ، اور جب مادی قوتیں دلوں کو مسخر کرنے سے عاجز آجائیں تو اس مقام سے حقیقی حریت اور آزادی کا جنم شروع ہوتا ہے اور یاد رہے کہ یہ جنم آزاد دلوں میں ہوتا ہے۔ یہ ایک دو ٹوک موقف ہے اور پوری انسانی تاریخ میں یہ موقف واضح طور پر بتاتا ہے کہ مادی قوت بےکس و بےبس ہے۔ ذرا دیکھیے کہ یہ جادوگر ابھی تو فرعون سے معمولی اجرت کے طلبگار تھے اور پھر یہ تمنا رکھتے تھے کہ اس کے دربار میں کرسی نشین ہوجائیں اور بادشاہ کے ساتھ انہیں قرب نصیب ہو۔ یہ حقیر گروہ ، ایمان کے بعد ، اب فرعون کے مقابلے میں سرفرازی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور دار و رسن کے مقابل کے تیار کھڑا ہے۔ حالانکہ مادی اعتبار سے ان کے ماحول ہر چیز اسی حالت میں ہے جو تغیر ہوا ہے۔ وہ صرف یہ ہے کہ ایک حقیر ستارے کو خفیہ اجالا مل گیا ہے ، اور اب یہ حقیر ستارہ نہیں بلکہ حقیر ذرہ ایک مستحکم برج میں داخل ہوگیا ہے اور ایک فانی فرد ازلی اور ابدی قوت تک رسائی حاصل کرچکا ہے۔ قلب مومن پر ایک سوئی رکھ دی گئی ، اب دل مومن قدرت کے اثرات قبول کر رہا ہے ، اس کے ضمیر میں سے قدرتی آوازیں آرہی ہیں ، اور انسانی بصیرت پر انوار پڑتے ہیں ، یہ سوء قلب مومن کو احساس دلاتی ہے جبکہ عالم مادیت میں کچھ بھی تغیر پذیر نہیں ہوتا۔ لیکن انسان عالم مادیت سے سربلند ہوکر ایسے جہان نو میں چلا جاتا ہے جن کے بارے میں پہلے وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ اب دھمکی اپنا راہ لیتی ہے اور ڈراوا تلاش میں رہتا ہے لیکن ایمان اپنی راہ پر دور نکل چکا ہوتا ہے۔ وہ پیچھے کی طرف دیکھا ہی نہیں ، اسے کوئی تردد نہیں ہوتا اور نہ وہ بےراہ ہوتا ہے۔ اس حد تک جب منظر چلتا ہے تو پردہ گر جاتا ہے اور مزید تفصیلات نہیں دی جاتیں کیونکہ یہاں اس منظر کی خوبصورتی اپنے عروج کو پہنچ کر ایک بات بھی مکمل ہوجاتی ہے اور ایک فنی خوبصورتی بھی اپنے کمال تک پہنچ جاتی ہے۔ قرآن کا فنی کمال یہاں پر بھی اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے اور قاری کا وجدان بھی قصے کے نفسیاتی مقاصد کو پا لیتا ہے۔ نہایت ہم آہنگی کے ساتھ اور قرآن کریم کے مخصوص اسلوب اظہار میں۔ (دیکھیے میری کتاب التصویر الفنی) قرآن کے سائے میں اس دلچسپ منظر کے سامنے کھڑے ہو کر ہمیں چاہئے کہ قدرے غور و فکر کریں۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے جادوگروں کی جانب سے ایمان اور رب موسیٰ اور ہارون کو تسلیم کرلینے کے فعل کو اپنے نظام حکومت کے خلاف ایک سازش سمجھا اور اس بات کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت اور اقتدار خطرے میں ہے۔ اس لیے کہ جس اصول پر ایمان کا نظام قائم ہوتا ہے وہ اصول فرعونی نظام کے اساسی اصول سے متضاد ہے۔ اس بات کی تشریح اس سے قبل ہم کرچکے ہیں۔ یہاں بطور تکرار و تاکید دوبارہ یہ بات لائی جاتی ہے ، کسی ایک دل ، کسی ایک ملک ، کسی ایک نظام میں یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ بھی رب العالمین ہو اور اس کے ساتھ ساتھ کوئی انسان بھی رب الناس ہو ، اور اس کے قوانین لوگوں میں رائج اور نافذ ہوں اس لیے کہ اللہ کا دین بھی ایک مکمل نظام ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فرعونی دین بھی ایک مکمل دین ہے۔ جب جادوگروں کے دلوں میں شمع ایمان روشن ہوگئی اور انہوں نے ایمان و کفر کی حقیقت کو پا لیا تو انہوں نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ ان کے اور فرعون کے درمیان ایسا نظریاتی اور اصولی اختلاف ہے ، اور یہ کہ فرعون جو انتقامی کارروائی کی دھمکی دے رہا ہے وہ محض اس لیے دے رہا ہے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ہم نے اللہ کو رب العالمین تسلیم کرلیا ہے۔ اور اس انداز میں ایمان لانا فرعون کے نظام حکومت کے لیے چیلنج ہے۔ اسی طرح فرعون کی حکومت کے اعلی ڈھانچے اور دستوری نظام کے لیے بھی یہ ایک چیلنج ہے۔ یعنی فرعون کا نظام ربوبیت جس بت پرستانہ تصورات پر قائم تھا وہ جڑ سے اکھڑ گئے تھے۔ جو شخص بھی رب العالمین وحدہ لا شریک کی طرف دعوت دیتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لے۔ اس لئے کہ اس ادراک ہی کی وجہ سے اہل ایمان کے لیے تمام مصائب و شدائد قابل برداشت بن گئے۔ اب وہ دار و رسن کے لیے تیار ہوگئے اس لیے کہ انہوں نے ایمان کا دعوی کردیا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ان کا اور فرعون کا دین ان سے جدا ہے اس لیے کہ فرعون نے لوگوں کو غلام بنا کر اور اپنا قانون جاری کرکے اللہ کی رب العالمینی کا انکار کردیا ہے لہذا فرعون کافر ہے۔ اس طرح ہر داعی کو یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ وہ ایمان کی طرف دعوت دے رہا ہے اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والے کافر ہیں اور فرعونی نظام کے داعی ہیں۔ اور یہ دشمنی محض (البغض فی اللہ) ہے۔ اس کی تہ میں کوئی اور داعیہ ، داعیہ ایمان کے سوا نہیں ہے۔ اس کے بعد اس منظر میں ہمیں نظر آتا ہے کہ ایمان کے سامنے پوری زندگی اور اس کی آسائشوں کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ عزم و ارادے کے سامنے رنج والم کے پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں۔ انسانی قوت شیطانی پر فتح یاب ہوتی ہے۔ یہ ایک نہایت ہی فحت بخش اور حیران کن منظر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس منظر کی خوبصورتی کا بیان ممکن نہیں ہے۔ خود نصوص قرآن ہی کو پڑھیے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

118: اور ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ ہم اپنے رب کی ٓیات اور اس کے بھیجے ہوئے معجزات پر ایمان لے آئے ہیں۔ تم اس بات کو جرم سمجھتے ہو حالانکہ ہمارے لیے یہ چیز نہایت قابل فخر ہے۔ اس لیے ہم اس سزا سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ “ رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا الخ ” یہ جادگروں کی دعا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ فرعون مذکورہ بالا سزا دینے پر تلا ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ اے ہمارے آقا و مولا ! اے ہمارے پروردگار ہمیں صبر و استقامت عطا فرما تاکہ ہم اس آزمائش میں ثابت قدم رہیں اور ہمارا خاتمہ ایمان واسلام پر ہو۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ فرعون نے دھمکی کے مطابق جادوگروں کو سزا دے دی تھی “ فقیل ان فرعون اخذ السحرة و قطعھم علی شاطئ النھر وانھ اٰمن بموسی عند ایمان السحرة ستمائة الف ” (قرطبی ج 7 ص 261) ۔ جادوگروں کے ایمان لانے کے ساتھ دوسرے لوگوں میں سے چھ لاکھ نفوس نے اسلام قبول کیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

126 اور تو نے ہم میں سوائے اس کے اور کون سا عیب دیکھا ہے اور تجھ کو سوائے اس کے ہم سے کیا بیر اور دشمنی ہے اور تو ہم سے سوائے اس کے اور کس بات کا انتقام لینا چاہتا ہے کہ ہم اپنے رب کے احکام اور اس کی نشانیوں پر جب وہ احکام اور نشانیاں ہمارے پاس آئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہم پر بکثرت صبر کا فیضان فرما اور ہم کو اسلام اور مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے یعنی اس سخت سزا کی وجہ اس کے علاوہ نہیں معلوم ہوئی کہ ہم کو صرف اس جرم میں تو قتل کرنا چاہتا ہے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان کیوں لائے جبکہ وہ احکام ہمارے پاس پہنچ گئے اچھا اب تجھ کو جو کچھ کرنا ہے وہ کر اور ہم جس رب پر ایمان لائے ہیں اس سے دعا کرتے ہیں۔