Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 128

سورة الأعراف

قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہِ اسۡتَعِیۡنُوۡا بِاللّٰہِ وَ اصۡبِرُوۡا ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰہِ ۟ ۙ یُوۡرِثُہَا مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ الۡعَاقِبَۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۸﴾

Said Moses to his people, "Seek help through Allah and be patient. Indeed, the earth belongs to Allah . He causes to inherit it whom He wills of His servants. And the [best] outcome is for the righteous."

موسٰی ( علیہ السلام ) نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ تعالٰی کا سہارا حاصل کرو اور صبر کرو ، یہ زمین اللہ تعالٰی کی ہے ، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وہ مالک بنا دے اور آخر کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللّهِ وَاصْبِرُواْ ... Musa said to his people: "Seek help in Allah and be patient," and promised them that the good end will be theirs and that they will prevail, saying, ... إِنَّ الاَرْضَ لِلّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

128۔ 1 جب فرعون کی طرف سے دوبارہ اس ظلم کا آغاز ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ سے مدد حاصل کرنے اور صبر کرنے کی تلقین کی اور تسلی دی کہ اگر تم صحیح رہے تو زمین کا اقتدار بالآخر تمہیں ہی ملے گا

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا باللّٰهِ ۔۔ : فرعون کی دھمکیوں پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دینا ضروری سمجھا، چناچہ انھیں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے اور صبر کرنے کی تلقین فرمائی، جس پر انھوں نے ظالموں سے پناہ کی وہ دعا لازم کرلی جو اللہ تعالیٰ نے سورة یونس میں ذکر فرمائی ہے : ( رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ، وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ) [ یونس : ٨٥، ٨٦ ] موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں تسلی دیتے ہوئے یہ خوش خبری بھی سنائی کہ آج اگر مصر پر فرعون حکمران ہے تو کل اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی سرزمین کا وارث، یعنی حکمران بنا سکتا ہے۔ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ : ” عَاقِبَۃٌ“ کا لفظی معنی تو انجام ہے جو اچھا بھی ہوسکتا ہے اور برا بھی، جیسا کہ فرمایا : ( فَانْــظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ ) [ القصص : ٤٠ ] ” سو دیکھو ظالموں کا انجام کیسا تھا۔ “ مگر جب اس پر ” الف لام “ آجائے تو اس کا معنی اچھا انجام ہی ہوتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After being defeated by the prophet Musa (علیہ السلام) ، Pharaoh enforced the law of killing the male children of the Israelites. They were greatly alarmed of the punishment they had experienced before the coming of the prophet Musa (علیہ السلام) . The prophet Musa (علیہ السلام) was also mindful of this fact. Out of his kindness, he offered two wise solutions to the Israelites. He said to them that only way of getting out of this trial was, firstly, to seek help from Allah and, secondly, to remain patient until the things change into their favour. He also promised them that they shall inherit the whole land if they faithfully observed the two instructions. This is what the verse said فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَـٰذِهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُ‌وا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ ۗ أَلَا إِنَّمَا طَائِرُ‌هُمْ عِندَ اللَّـهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌هُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿١٣١﴾ وَقَالُوا مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِّتَسْحَرَ‌نَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ ﴿١٣٢﴾ |"Seek help from Allah and be patient; surely, the land belongs to Allah, He lets whomsoever He wills inherit it, from among his servants.|" This implies that all the lands belong to Allah, and He lets whomsoever He wills inherit the land. And decidedly the end result is for the God-fearing. So, if they observe &Taqwa& (keep away from disobedience) by acting upon the two instructions offered above they shall ultimately rule the whole country. The Only Way To Success A little reflection over the above two teachings of the prophet Musa (علیہ السلام) will show that it is the sovereign remedy which never fails against any difficulty. The first ingredient of this recipe is seeking help from Allah which is the essence of the remedy. It is for the obvious reason that if the Creator of the universe comes to one&s help who is there to stop Him? Maulana Rumi said in a couplet: خاک و باد و آب و آتش بندہ اند بامن وتو مردہ باحق زندہ اند |"The earth, the air, the water and the fire, all are servants of Allah. To me and to you they are dead, but to Allah they are full of life.|" It is reported in a Hadith: When Allah wills to do something everything turns in favour of that purpose. Therefore, nothing is more powerful against an enemy than seeking Allah&s help with all the sincerity of one&s heart. Simply uttering out some formula words for seeking help are not enough. The second important ingredient of the recipe is being patient. The Arabic word &Sabr& rendered as patience literally signifies to keep oneself under one&s control against unfavourable happenings. It is common knowledge that nothing significant can be achieved without undergoing difficulties and hardships. One who readily prepares himself to face hardships is generally successful in most of his objec¬tives. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said in a Tradition, |"No greater blessing has been given to anyone other than patience.|" (Abu Dawud)

خلاصہ تفسیر (اس مجلس کی گفتگو کی خبر جو بنی اسرائیل کو پہنچی تو بڑے گھبرائے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے چارہ جوئی کی تو) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا سہارا رکھو اور مستقل رہو ( گھبراؤ مت) یہ زمین اللہ کی ہے جس کو چاہیں مالک ( اور حاکم) بنائیں اپنے بندوں میں سے ( سو چند روز کے لئے فرعون کو دے دی ہے) اور خیر کامیابی ان ہی کو ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ( سو تم ایمان وتقوی پر قائم رہو، انشاء اللہ تعالیٰ یہ سلطنت تم ہی کو مل جائے گی، تھوڑے دنوں انتظار کی ضرورت ہے) قوم کے لوگ ( غایت حسرت وحزن سے جس کا طبعی ( قتضاء تکرار شکوہ ہے) کہنے لگے کہ ( حضرت) ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے آپ کی تشریف آوری کے قبل بھی ( کہ فرعون بیگار لیتا تھا اور مدتوں ہمارے لڑکوں کو قتل کرتا رہا) اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی ( کہ طرح کی تکلیفیں پہنچائی جارہی ہیں یہاں تک کہ اب پھر قتل اولاد کی تجویز ٹھہری ہے) موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا ( گھبراؤ مت) بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کردیں گے اور بجائے ان کے تم کو اس زمین کا حاکم بنادیں گے پھر تمہارا طرز عمل دیکھیں گے) کہ شکر وقدر وطاعت کرتے ہو یا بےقدری اور غفلت و معصیت، اس میں ترغیب ہے اطاعت کی اور تحذیر ہے معصیت سے) اور ( جب فرعون اور اس کے تابعین نے انکار و مخالفت پر کمر باندھی تو) ہم نے فرعون والوں کو ( مع فرعون کے حسب عادت مذکورہ رکوع اول پارہ ہذا، ان بلیات میں) مبتلا کیا (١) قحط سالی میں اور (٢) پھلوں کی کم پیداواری میں تاکہ وہ ( حق بات کو) سمجھ جائیں ( اور سمجھ کر قبول کرلیں) سو ( وہ پھر بھی نہ سمجھے بلکہ یہ کیفیت تھی کہ) جب ان پر خوشحالی ( یعنی ارزانی وپیداواری) آجاتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لئے ہونا ہی چاہئے (یعنی ہم مبارک طالع ہیں یہ ہماری خوش بختی کا اثر ہے، یہ نہ تھا کہ اس کو خدا کی نعمت سمجھ کر شکر بجا لاتے اور اطاعت اختیار کرتے) اور اگر ان کو کوئی بدحالی (جیسے قحط و کم پیداواری مذکور) پیش آتی تو موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے ( کہ یہ ان کی نحوست سے ہوا، یہ نہ ہوا کہ اس کو اپنے اعمال بد کفرو تکذیب کی شامت اور سزا سمجھ کر تائب ہوجاتے حالانکہ یہ سب ان کی شامت اعمال تھی، جیسا کہ فرماتے ہیں کہ) یاد رکھو کہ ان کی ( اس) نحوست ( کا سبب) اللہ کے علم میں ہے ( یعنی ان کے اعمال کفریہ تو اللہ کو معلوم ہیں یہ نحوست انہی اعمال کی سزا ہے) لیکن (اپنی بےتمیزی سے) ان میں اکثر لوگ ( اس کو) نہیں جانتے تھے اور ( بلکہ اوپر سے) یوں کہتے ( کہ خواہ) کیسی ہی عجیب بات ہمارے سامنے لاؤ کہ اس کے ذریعہ سے ہم پر جادو چلاؤ جب بھی ہم تمہاری بات ہرگز نہ مانیں گے۔ معارف و مسائل فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں شکست کھانے کے بعد بنی اسرائیل پر اس طرح غصہ اتارا کہ ان کے لڑکوں کو قتل کرکے صرف عورتوں کو باقی رکھنے کا قانون بنادیا، تو بنی اسرائیل گھبرائے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے جو عذاب فرعون نے ان پر ڈالا تھا وہ پھر آگیا۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اس کو محسوس فرمایا تو پیغمبرانہ شفقت اور حکمت کے مطابق اس بلاء سے نجات حاصل کرنے کے لئے اس کو دو چیزوں کی تلقین فرمائی، ایک دشمن کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا، دوسرے کشودکار تک صبر ومہلت سے کام لینا۔ اور یہ بھی بتلا دیا کہ اس نسخہ کا استعمال کرو گے تو یہ ملک تمہارا ہے تمہیں غالب آؤ گے۔ یہی مضمون ہے پہلی آیت کا جس میں فرمایا ہے، اسْتَعِيْنُوْا باللّٰهِ وَاصْبِرُوْا یعنی اللہ سے مدد طلب کرو اور صبر کرو۔ اور پھر فرمایا اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ، یعنی ساری زمین اللہ کی ہے وہ جس کو چاہے اس کو اس زمین کا وارث ومالک بنائے گا۔ اور یہ بات متعین ہے کہ انجام کار کامیابی متقی پرہیزگاروں ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اگر تم نے تقوی اختیار کیا جس کا طریقہ اوپر مذکور ہوا ہے کہ استعانت بااللہ اور صبر کا التزام کیا جائے تو انجام کار تم ہی ملک مصر کے مالک و قابض ہو گے۔ مشکلات و مصائب سے نجات کا نسخہ اکسیر : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو جو حکیمانہ نسخہ دشمن پر غالب آنے کے لئے تلقین فرمایا تھا، غور کیا جائے تو یہی وہ نسخہ اکسیر ہے جو کبھی خطا نہیں ہوتا، جس کے بعد کامیابی یقینی ہوتی ہے، اس نسخہ کا پہلا جزء استعانت باللہ ہے، جو اصل روح ہے اس نسخہ کی۔ وجہ یہ ہے کہ خالق کائنات جس کی مدد پر ہو تو ساری کائنات کا رخ اس کی مدد کی طرف پھرجاتا ہے، کیونکہ ساری کائنات اس کے تابع فرمان ہے۔ خاک وباد وآب وآتش بندہ اند بامن وتو مردہ باحق زندہ اند حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے اسباب خودبخود مہیا ہوتے چلے جاتے ہیں اس لئے دشمن کے مقابلہ میں کوئی بڑی سے بڑی قوت انسان کے لئے اتنی کار آمد نہیں ہو سکتی جتنی اللہ تعالیٰ سے امداد کی طلب، بشرطیکہ طلب صادق ہو، محض زبان سے کچھ کلمات بولنا نہ ہو۔ دوسرا جزء اس نسخہ کا صبر ہے۔ صبر کے معنی اصل لغت کے اعتبار سے خلاف طبع چیزوں پر ثابت قدم رہنے اور نفس کو قابو میں رکھنے کے ہیں۔ کسی مصیبت پر صبر کرنے کو بھی اسی لئے صبر کہا جاتا ہے کہ اس میں رونے پیٹنے اور واویلا کرنے کے طبعی جذبہ کو دبایا جاتا ہے ہر تجربہ کار عقلمند جانتا ہے کہ دنیا میں ہر بڑے مقصد کے لئے بہت سی خلاف طبع محنت ومشقت برداشت کرنا لازمی ہے، جس شخص کو محنت ومشقت کی عادت اور خلاف طبع چیزوں کی برداشت حاصل ہوجائے وہ اکثر مقاصد میں کامیاب ہوتا ہے۔ حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ صبر ایسی نعمت ہے کہ اس سے زیادہ وسیع تر نعمت کسی کو نہیں ملی ( ابوداود)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِہِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللہِ وَاصْبِرُوْا۝ ٠ ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلہِ۝ ٠ ۣ ۙ يُوْرِثُہَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ۝ ٠ ۭ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِيْنَ۝ ١٢٨ استِعَانَةُ : طلب العَوْنِ. قال : اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ [ البقرة/ 45] الا ستعانہ مدد طلب کرنا قرآن میں ہے : ۔ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ [ البقرة/ 45] صبر اور نماز سے مدد لیا کرو ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔ عاقب والعاقِبةَ إطلاقها يختصّ بالثّواب نحو : وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] ، وبالإضافة قد تستعمل في العقوبة نحو : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] ، ( ع ق ب ) العاقب اور عاقبتہ کا لفظ بھی ثواب کے لئے مخصوص ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] اور انجام نیک تو پرہیز گاروں ہی کا ہے ۔ مگر یہ اضافت کی صورت میں کبھی آجاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٨) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ مصر کی زمین کا اللہ جس کو چاہیں وارث بنادیں۔ اور جنت تو کفر وشرک اور فواحش سے بچنے والوں کے لیے ہی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٨ (قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اسْتَعِیْنُوْا باللّٰہِ وَاصْبِرُوْا ج) (اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰہِقف یُوْرِثُہَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖط وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ) یعنی اتنی بڑی آزمائش میں ثابت قدم رہنے کے لیے اللہ سے مدد کی دعا کرتے رہو اور صبر کا دامن تھامے رکھو۔ انجام کار کی کامیابی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والوں کا مقدر ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(127 ۔ 129) ۔ فرعون چھ سو برس دنیا میں زندہ رہا اور چار سو برس تک بادشاہی کی اس عرصہ میں کوئی تکلیف اس کو نہیں ہوئی سر میں درد تک نہ ہوا اگر ایک روز بھی بھوکا رہتا یا کوئی تکلیف اٹھاتا تو خدائی کا دعوی بھول جاتا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے یہ حکم دیا رکھا تھا کہ جو بچہ پیدا ہو اگر لڑکا ہو تو مار ڈالا جائے اور لڑکی ہو تو چھوڑ دی جائے۔ سورة قصص میں جو ذکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا آویگا اس کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے اور فرعون ہی کے گھر میں پرورش پاکر سیانے ہوگئے تو اس نے وہ حکم موقوف کردیا اب جو حضرت موسیٰ نے رسالت کا دعوی کیا اور جادو گروں پر غالب ہو کر خدا کا پیغام لوگوں کو پہنچانے لگے تو فرعون کے وزیروں اسیروں نے فرعون کے پاس جاکر بطور مشورہ یہ بات کہی کہ موسیٰ ( علیہ السلام) اور اس کے پیروی کرنے والوں کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہے ورنہ یہ لوگ آپ کی رعیت کو بہکا بہکا کر آپکی طرف سے پھیر دیں گے اور خدا کی طرف متوجہ کریں گے اور آپ کو اور آپ کے دین وآئین کو اور معبودوں کو چھوڑ دیں گے تو پھر فرعون نے جل کر وہی اگلا حکم جاری کرنے کو کہا کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے ہمارے سامنے اس لوگوں کی کیا ہستی ہے ہم سب سے زبردست ہیں جب بنی اسرائیل کو اس بات کو خبر پہنچی کہ وہ ملعون پھر ایسا ارادہ کرتا ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے اس کی شکایت کی آپ نے یہ جواب دیا کہ خدا سے مدد چاہو اور صبر کرو آخر میں خدا سے ڈرنے والوں کو بھلائی اور بہتری ہوگی گویا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرعون پر فتح پانے کا وعدہ کیا تو ان کی قوم نے کہا کہ ہماری تو ہمیشہ یہی حالت رہی کہ جب آپ نہیں تھے جب بھی اس مصیبت میں گرفتار تھے کہ ہمارے لڑکے قتل کئے جاتے تھے اور اب بھی وہی تکلیف ہے یہ کم بخت پھر وہی حکم جاری کر رہا ہے کہ ہمارے لڑکے قتل کئے جاویں اور لڑکیاں چھوڑ دی جاویں حضرت موسیٰ نے فرمایا گھبراؤ نہیں بہت جلد خدا تمہارے دشمنوں کو غارت کرے گا اور یہ کافر مع اپنے ہوا خواہوں کے ہلاک ہوگا اور تم لوگ دنیا میں سلطنت کی باگ ہاتھ میں لوگے پھر اللہ تعالیٰ ہیں آزمائے گا کہ تم کیا عمل کرتے ہو چناچہ یہ بات ظہور میں بھی آئی کہ فرعون مع اپنے لشکر کے دریا میں غرق ہوگیا اور داؤد و سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں سارے ملک مصر پر ہی اسرائیل کا قبضہ ہوگیا اور پھر بنی اسرائیل نے وہ برے عمل کئے جن کا ذکر جگہ جگہ قرآن میں ہے صحیح بخاری ومسلم میں عمرو (رض) بن عوف انصاری کی ایک بڑی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھ کو اپنی امت کی تنگ دستی کی حالت کا کچھ خوف نہیں بلکہ مجھ کو یہ خوف ہے کہ جب ان کو پچھلی امتوں کی طرح فارغ البالی ہوجاویگی تو ان میں طرح طرح کے نسیان پیدا ہوجاویں گے اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ ان آیتوں اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب پیدا ہوا کہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بنی اسرائیل کی فارغ البالی کے زمانہ کے فساد کا خوف تھا وہی خوف حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی امت کی فارغ البالی کے زمانہ کا تھا اور اسی خوف کا ظہور جس طرح بنی اسرائیل میں ہوا اسی طرح امت محمد یہ میں ہوا فرعون نے اپنی صورت کے بت بنا کر لوگوں کو پوجا کے لئے دے رکھے تھے اور اپنے آپ کو بڑا خدا اور ان مورتوں کو چھوٹے خدا کہتا تھا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 پہلے بھی ہمارے بچوں کو قتل کیا جاتا رہا ہے اور ہم سے مشقت کے کام لیے جاتے رہے ہیں اور آج تیرے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہو کر آنے کے بعد بھی یہی سلسلہ جاری ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ سو تم ایمان وتقوی پر قائم رہو انشاء اللہ یہ سلطنت تم ہی کو مل جائے گی تھوڑے دنوں انتظار کی ضرورت ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب پھر پردہ گرتا ہے ، فرعون اور اس کے حوالی و موالی کو سازش اور دھمکیوں اور سخت تندی کی حالت میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور اب اس قصے کا ایک دوسرا خاص منظر سامنے آتا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے تشدد کی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ اس منظر میں حضرت موسیٰ اپنی قوم میں نظر آتے ہیں ، آپ اپنی قوم کے ساتھ ایک نبی کے قلب کے ساتھ ایک نبی کی زبان میں بات کررہے ہیں ، آپ کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے رب کی پوری پوری معرفت حاصل ہے۔ آپ رب تعالیٰ کی سنت جاریہ کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں ، آپ کو علم ہے کہ اللہ کے منصوبھے اور اس کی تقدیر کے فیصلوں پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ آپ ان کو نصیحت کرتے ہیں کہ آپ یہ مشکلات انگیز کریں۔ صبر سے کام لیں اور اللہ سے ان مشکلات کی برداشت کے لیے مدد اور معاونت طلب کریں۔ آپ انہیں اس کائنات کی اصل صورت حال سے آگاہ کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ زمین اللہ کی ملکیت ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور آخری انجام ان لوگوں کا اچھا ہوتا ہے جو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ، صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ اور جب وہ لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ اے موسیٰ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم یہ مصائب تھے اور آپ کے آنے کے بعد بھی ہم ان مشکلات سے دو چار ہیں اور یہ مشکلات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں تو آپ ان کو ان الفاظ میں تسلی دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کرہ ارض کی خلافت تمہیں دے دے لیکن پھر تمہاری بھی آزمائش کا دور شروع ہوگا۔ قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ وَاصْبِرُوْا ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۭ قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ۔ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا " اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو ، زمین اللہ کی ہے ، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے ، اور آخری کامیابی انہی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں " اس کی قوم کے لوگوں نے کہا " تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں " اس نے جواب دیا " قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو "۔ نبی کی بصیرت دیکھ رہی ہے کہ اللہ کی قوتیں اس کائنات میں کس طرح متصرف ہیں۔ اور اللہ کی حقیقت اور قوت کس قدر عظیم ہے۔ اور اس کائنات میں سنت الہیہ کس طرح جاری وساری ہے اور اللہ کی راہ میں مشکلات برداشت کرنے والے لوگوں کے لیے اس میں کیا کیا مراعات ہیں ؟ جو لوگ رب العالمین کی طرف دعوت دیتے ہیں ، ان کے لیے جائے پناہ صرف ایک ہے اور وہ مامون محفوظ اور قابل بھروسہ جائے پناہ ہے۔ ان کا صرف ایک ہی ولی اور آقا ہوتا ہے جو بڑی قوت والا اور ناقابل شکست ہے۔ لہذا ایسے لوگوں کو اس وقت تک صبر اور مصابرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے جب تک ان کا آقا ان کے لیے فتح و کامرانی کے احکام صادر نہیں کرتا ، انہیں اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ انسان کو معلوم نہیں ہے کہ غیب میں اس کے لیے کیا کیا پوشیدہ ہے اور اس کی بھلائی کس چیز میں ہے ؟ یہ زمین اللہ کی ہے۔ فرعون اور اس کی قوم یہاں مسافرین ہیں اور ان کے چلے جانے کے بعد یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ یہاں کس قوم کو لاتا ہے اور اسے اس زمین کا وارث بناتا ہے۔ یہ کام اللہ اپنے سنن جاریہ کے مطابق کرتا ہے ، لہذا جو لوگ رب العالمین کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ اس بات کو خاطر میں نہیں لاتے کہ ان کا جس طاغوتی طاقت سے مقابلہ ہے ، وہ اس سرزمین پر بظاہر بڑی مستحکم نظر آتی ہے اور اس کی بنیادوں میں کوئی تزلزل نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس زمین کا مالک اللہ ہے اور وہ کسی مناسب وقت میں کسی سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے بندے کے حوالے کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آخری اچھا انجام بہرحال متقین کا ہوتا ہے ، چاہے طویل عرصے کے بعد یہ انجام ظاہر ہو یا جلدی ظاہر ہو۔ لہذا رب العالمین کی طرف دعوت دینے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دلوں سے اپنے انجام کے بارے میں ہر خلجان کو نکال دیں اور یہ گمان نہ کریں کہ آج جن اہل باطل کی زمین پر چلت پھرت ہے وہ ہمیشہ اسی طرح رہیں گے۔ یہ تو نبی کی چشم بصیرت تھی جو اس کائنات میں ہونے والے واقعات کو دور تک دیکھ رہی تھی لیکن بنی اسرائیل بھی تو بنی اسرائیل تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت فرمانا اور صبر و دعاء کی تلقین کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم یعنی بنی اسرائیل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں مصر جا کر بس گئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد مصریوں نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے اور پرائے کا معاملہ شروع کردیا، بنی اسرائیل غیر ملکی تھے ان کو فرعون کی قوم نے خوب دبا کر رکھا، ان کو خوب ستاتے تھے بیگاریں لیتے تھے اور طرح طرح کے ظلم و ستم ڈھاتے تھے۔ ان کے مجبور و مقہور ہونے کا یہ عالم تھے کہ مصری لوگ ان کے بچوں کو قتل کردیتے تھے اور یہ اف نہیں کرسکتے تھے۔ جب حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) مبعوث ہوئے تو قوم فرعون کی دشمنی اور زیادہ بڑھ گئی خصوصاً جب فرعون کے بلائے ہوئے جادوگروں سے مقابلہ ہوا اور جادو گر مسلمان ہوگئے تو فرعونیوں کی طرف سے ظلم و ستم کا مظاہرہ اور بڑھ چڑھ کر ہونے لگا۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہم تو مصیبت ہی مصیبت میں ہیں آپ کی تشریف آوری سے پہلے بھی دکھ ہی دکھ میں مبتلا تھے اور آپ اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی تکلیف ہی تکلیف ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ صبر کرو اور اللہ سے مدد مانگو صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کے مظالم سے کوئی چھٹکارا دینے والا نہیں صبر کے ساتھ دعائیں بھی کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ سے مدد بھی مانگتے رہو۔ یہ نہ سوچو کہ فرعون کی اتنی بڑی حکومت ہے اور اس کا مضبوط تسلط ہے ہم اس کے چنگل سے کہاں چھوٹ سکتے ہیں، بظاہر تم تو عاجز ہو لیکن اللہ تعالیٰ کو سب کچھ قدرت ہے۔ وہ زمین کا مالک ہے۔ اسے اختیار وقدرت ہے وہ جس سے چاہے اپنی زمین کو چھین لے اور جسے چاہے اس پر تسلط عطا فرما دے۔ دنیا میں حق و باطل کی جنگ رہتی ہے اور جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں اچھا انجام انہیں کا ہوتا ہے۔ تم اللہ سے ڈرتے رہو تقویٰ اختیار کرو تاکہ حسن عاقبت کے انعام سے نوازے جاؤ۔ تم اپنے رب سے دعا مانگتے رہو۔ اسی سے لو لگاؤ، عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک فرما دے گا اور تمہیں زمین کی خلافت عطا فرما دے گا۔ لیکن خلافت ملنے کے بعد تم دوسرے امتحان میں پڑجاؤ گے۔ اب تو صبر کا امتحان ہے۔ اس وقت شکر کا امتحان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ زمین پر تسلط ہوجانے کے بعد تم کیا طریقہ اختیار کرتے ہو اور کیسے اعمال میں لگتے ہو۔ اس خلافت ارضی کو شکر کا ذریعہ بناتے ہو یا گناہوں میں پڑ کرنا شکری میں مبتلا ہوتے ہو۔ طاعت اور فرمانبر داری کی ترغیب دینے کے لیے اور گناہوں سے بچنے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو پیشگی آگاہ فرما دیا کہ دیکھو تمہیں ابھی اقتدار نہیں ملا جب اقتدار ملے گا تو زمین میں فساد نہ کرنا اور اللہ کے نیک بندے بن کر رہنا۔ سورة یونس میں ہے (وَ اَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰی وَ اَخِیْہِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِکُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قِبْلَۃً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنے لوگوں کے لیے مصر میں گھر بر قرار رکھو اور تم سب اپنے گھروں کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو اور نماز قائم رکھو اور اہل ایمان کو بشارت دو ) چونکہ بنی اسرائیل بہت زیادہ مقہور تھے۔ کھلے طور پر نماز نہیں پڑھ سکتے تھے اس لیے حکم فرمایا کہ گھروں ہی میں نماز پڑھتے رہو۔ اس کے بعد سورة یونس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا مذکور ہے جو فرعون اور فرعونیوں کے حق میں بددعاء تھی اور ان کی دعا قبول ہونے کا تذکرہ ہے۔ اس سے تمام اہل ایمان کو سبق مل گیا کہ اگر کسی جگہ کافروں کے ماحول میں ہوں اور مغلوبیت کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوں اور دشمن کے سامنے عبادت کرنے میں مشکلات ہوں تو اپنے گھروں میں عبادت کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

121: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دی اور فرمایا فرعونیوں کی جانب سے اس وقت جو کچھ تمہارے ساتھ ظلم وستم ہورہا ہے اس پر صبر کرو اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے اللہ سے مدد مانگو اور یاد رکھو زمین اللہ کی ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کا مالک اور حکمران بنا دیتا ہے اور آخر کار غلبہ انہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو صبر کریں اور اللہ سے مدد چاہیں۔ یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لطیف انداز میں اپنی قوم کو فرعون سے نجات پانے اور بالآخر حکومت مصر مل جانے کی خوشخبری سناد ی “ تصریح بما رمز الیه من البشارة قبل و کشف عنه وھو اھلاک فرعون واستخلافھم بعده فی ارض مصر ” (مدارک ج 3 ص 54) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

128 جب یہ خبر بنی اسرائیل کو پہنچی تو انہوں نے گھبرا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توجہ دلائی تب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور اسی سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو اور صبر سے کام لو یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اور حضرت حق کی ملک ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے زمین کا مالک اور حاکم بنادے اور وہ جس کو چاہتا ہے ملک کا وارث بنادیتا ہے ہاں یہ بات یاد رکھو کہ انجام کار اور آخرکار انہی کا بھلا ہوتا ہے جن کا شیوہ تقویٰ اور پرہیزگاری ہے یعنی ملک کا حاکم کرے جو حق ہے حضرت آدم (علیہ السلام) کا۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں آخرکار انہی کو کامیابی میسر ہوتی ہے۔