After being defeated by the prophet Musa (علیہ السلام) ، Pharaoh enforced the law of killing the male children of the Israelites. They were greatly alarmed of the punishment they had experienced before the coming of the prophet Musa (علیہ السلام) . The prophet Musa (علیہ السلام) was also mindful of this fact. Out of his kindness, he offered two wise solutions to the Israelites. He said to them that only way of getting out of this trial was, firstly, to seek help from Allah and, secondly, to remain patient until the things change into their favour. He also promised them that they shall inherit the whole land if they faithfully observed the two instructions. This is what the verse said فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَـٰذِهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ ۗ أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّـهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿١٣١﴾ وَقَالُوا مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ ﴿١٣٢﴾ |"Seek help from Allah and be patient; surely, the land belongs to Allah, He lets whomsoever He wills inherit it, from among his servants.|" This implies that all the lands belong to Allah, and He lets whomsoever He wills inherit the land. And decidedly the end result is for the God-fearing. So, if they observe &Taqwa& (keep away from disobedience) by acting upon the two instructions offered above they shall ultimately rule the whole country. The Only Way To Success A little reflection over the above two teachings of the prophet Musa (علیہ السلام) will show that it is the sovereign remedy which never fails against any difficulty. The first ingredient of this recipe is seeking help from Allah which is the essence of the remedy. It is for the obvious reason that if the Creator of the universe comes to one&s help who is there to stop Him? Maulana Rumi said in a couplet: خاک و باد و آب و آتش بندہ اند بامن وتو مردہ باحق زندہ اند |"The earth, the air, the water and the fire, all are servants of Allah. To me and to you they are dead, but to Allah they are full of life.|" It is reported in a Hadith: When Allah wills to do something everything turns in favour of that purpose. Therefore, nothing is more powerful against an enemy than seeking Allah&s help with all the sincerity of one&s heart. Simply uttering out some formula words for seeking help are not enough. The second important ingredient of the recipe is being patient. The Arabic word &Sabr& rendered as patience literally signifies to keep oneself under one&s control against unfavourable happenings. It is common knowledge that nothing significant can be achieved without undergoing difficulties and hardships. One who readily prepares himself to face hardships is generally successful in most of his objec¬tives. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said in a Tradition, |"No greater blessing has been given to anyone other than patience.|" (Abu Dawud)
خلاصہ تفسیر (اس مجلس کی گفتگو کی خبر جو بنی اسرائیل کو پہنچی تو بڑے گھبرائے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے چارہ جوئی کی تو) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا سہارا رکھو اور مستقل رہو ( گھبراؤ مت) یہ زمین اللہ کی ہے جس کو چاہیں مالک ( اور حاکم) بنائیں اپنے بندوں میں سے ( سو چند روز کے لئے فرعون کو دے دی ہے) اور خیر کامیابی ان ہی کو ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ( سو تم ایمان وتقوی پر قائم رہو، انشاء اللہ تعالیٰ یہ سلطنت تم ہی کو مل جائے گی، تھوڑے دنوں انتظار کی ضرورت ہے) قوم کے لوگ ( غایت حسرت وحزن سے جس کا طبعی ( قتضاء تکرار شکوہ ہے) کہنے لگے کہ ( حضرت) ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے آپ کی تشریف آوری کے قبل بھی ( کہ فرعون بیگار لیتا تھا اور مدتوں ہمارے لڑکوں کو قتل کرتا رہا) اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی ( کہ طرح کی تکلیفیں پہنچائی جارہی ہیں یہاں تک کہ اب پھر قتل اولاد کی تجویز ٹھہری ہے) موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا ( گھبراؤ مت) بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کردیں گے اور بجائے ان کے تم کو اس زمین کا حاکم بنادیں گے پھر تمہارا طرز عمل دیکھیں گے) کہ شکر وقدر وطاعت کرتے ہو یا بےقدری اور غفلت و معصیت، اس میں ترغیب ہے اطاعت کی اور تحذیر ہے معصیت سے) اور ( جب فرعون اور اس کے تابعین نے انکار و مخالفت پر کمر باندھی تو) ہم نے فرعون والوں کو ( مع فرعون کے حسب عادت مذکورہ رکوع اول پارہ ہذا، ان بلیات میں) مبتلا کیا (١) قحط سالی میں اور (٢) پھلوں کی کم پیداواری میں تاکہ وہ ( حق بات کو) سمجھ جائیں ( اور سمجھ کر قبول کرلیں) سو ( وہ پھر بھی نہ سمجھے بلکہ یہ کیفیت تھی کہ) جب ان پر خوشحالی ( یعنی ارزانی وپیداواری) آجاتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لئے ہونا ہی چاہئے (یعنی ہم مبارک طالع ہیں یہ ہماری خوش بختی کا اثر ہے، یہ نہ تھا کہ اس کو خدا کی نعمت سمجھ کر شکر بجا لاتے اور اطاعت اختیار کرتے) اور اگر ان کو کوئی بدحالی (جیسے قحط و کم پیداواری مذکور) پیش آتی تو موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے ( کہ یہ ان کی نحوست سے ہوا، یہ نہ ہوا کہ اس کو اپنے اعمال بد کفرو تکذیب کی شامت اور سزا سمجھ کر تائب ہوجاتے حالانکہ یہ سب ان کی شامت اعمال تھی، جیسا کہ فرماتے ہیں کہ) یاد رکھو کہ ان کی ( اس) نحوست ( کا سبب) اللہ کے علم میں ہے ( یعنی ان کے اعمال کفریہ تو اللہ کو معلوم ہیں یہ نحوست انہی اعمال کی سزا ہے) لیکن (اپنی بےتمیزی سے) ان میں اکثر لوگ ( اس کو) نہیں جانتے تھے اور ( بلکہ اوپر سے) یوں کہتے ( کہ خواہ) کیسی ہی عجیب بات ہمارے سامنے لاؤ کہ اس کے ذریعہ سے ہم پر جادو چلاؤ جب بھی ہم تمہاری بات ہرگز نہ مانیں گے۔ معارف و مسائل فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں شکست کھانے کے بعد بنی اسرائیل پر اس طرح غصہ اتارا کہ ان کے لڑکوں کو قتل کرکے صرف عورتوں کو باقی رکھنے کا قانون بنادیا، تو بنی اسرائیل گھبرائے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے جو عذاب فرعون نے ان پر ڈالا تھا وہ پھر آگیا۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اس کو محسوس فرمایا تو پیغمبرانہ شفقت اور حکمت کے مطابق اس بلاء سے نجات حاصل کرنے کے لئے اس کو دو چیزوں کی تلقین فرمائی، ایک دشمن کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا، دوسرے کشودکار تک صبر ومہلت سے کام لینا۔ اور یہ بھی بتلا دیا کہ اس نسخہ کا استعمال کرو گے تو یہ ملک تمہارا ہے تمہیں غالب آؤ گے۔ یہی مضمون ہے پہلی آیت کا جس میں فرمایا ہے، اسْتَعِيْنُوْا باللّٰهِ وَاصْبِرُوْا یعنی اللہ سے مدد طلب کرو اور صبر کرو۔ اور پھر فرمایا اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ، یعنی ساری زمین اللہ کی ہے وہ جس کو چاہے اس کو اس زمین کا وارث ومالک بنائے گا۔ اور یہ بات متعین ہے کہ انجام کار کامیابی متقی پرہیزگاروں ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اگر تم نے تقوی اختیار کیا جس کا طریقہ اوپر مذکور ہوا ہے کہ استعانت بااللہ اور صبر کا التزام کیا جائے تو انجام کار تم ہی ملک مصر کے مالک و قابض ہو گے۔ مشکلات و مصائب سے نجات کا نسخہ اکسیر : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو جو حکیمانہ نسخہ دشمن پر غالب آنے کے لئے تلقین فرمایا تھا، غور کیا جائے تو یہی وہ نسخہ اکسیر ہے جو کبھی خطا نہیں ہوتا، جس کے بعد کامیابی یقینی ہوتی ہے، اس نسخہ کا پہلا جزء استعانت باللہ ہے، جو اصل روح ہے اس نسخہ کی۔ وجہ یہ ہے کہ خالق کائنات جس کی مدد پر ہو تو ساری کائنات کا رخ اس کی مدد کی طرف پھرجاتا ہے، کیونکہ ساری کائنات اس کے تابع فرمان ہے۔ خاک وباد وآب وآتش بندہ اند بامن وتو مردہ باحق زندہ اند حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے اسباب خودبخود مہیا ہوتے چلے جاتے ہیں اس لئے دشمن کے مقابلہ میں کوئی بڑی سے بڑی قوت انسان کے لئے اتنی کار آمد نہیں ہو سکتی جتنی اللہ تعالیٰ سے امداد کی طلب، بشرطیکہ طلب صادق ہو، محض زبان سے کچھ کلمات بولنا نہ ہو۔ دوسرا جزء اس نسخہ کا صبر ہے۔ صبر کے معنی اصل لغت کے اعتبار سے خلاف طبع چیزوں پر ثابت قدم رہنے اور نفس کو قابو میں رکھنے کے ہیں۔ کسی مصیبت پر صبر کرنے کو بھی اسی لئے صبر کہا جاتا ہے کہ اس میں رونے پیٹنے اور واویلا کرنے کے طبعی جذبہ کو دبایا جاتا ہے ہر تجربہ کار عقلمند جانتا ہے کہ دنیا میں ہر بڑے مقصد کے لئے بہت سی خلاف طبع محنت ومشقت برداشت کرنا لازمی ہے، جس شخص کو محنت ومشقت کی عادت اور خلاف طبع چیزوں کی برداشت حاصل ہوجائے وہ اکثر مقاصد میں کامیاب ہوتا ہے۔ حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ صبر ایسی نعمت ہے کہ اس سے زیادہ وسیع تر نعمت کسی کو نہیں ملی ( ابوداود)