Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 135

سورة الأعراف

فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤی اَجَلٍ ہُمۡ بٰلِغُوۡہُ اِذَا ہُمۡ یَنۡکُثُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾

But when We removed the punishment from them until a term which they were to reach, then at once they broke their word.

پھر جب ان سے عذاب کو ایک خاص وقت تک کہ اس تک ان کو پہنچنا تھا ہٹا دیتے ، تو وہ فوراً عہد شکنی کرنے لگتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

But when We removed the punishment from them for a fixed term, which they had to reach, behold! They broke their word!

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

135۔ 1 یعنی ایک عذاب آتا تو اس سے تنگ آکر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آتے تو ان کی دعا سے ٹل جاتا تو ایمان لانے کی بجائے پھر اس کفر اور شرک پر جمے رہتے پھر دوسرا عذاب آجاتا پھر اسی طرح کرتے یوں کچھ کچھ وقفوں سے پانچ عذاب ان پر آئے لیکن ان کے دلوں میں جو فرعونیت اور دماغوں میں جو تکبر تھا وہ حق کی راہ میں ان کے لئے زنجیر پا بنا رہا اتنی اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان کی دولت سے محروم ہی رہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓي اَجَلٍ ہُمْ بٰلِغُوْہُ اِذَا ہُمْ يَنْكُثُوْنَ۝ ١٣٥ كشف كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، ويقال : كَشَفَ غمّه . قال تعالی: وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] ( ک ش ف ) الکشف كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، کا مصدر ہے جس کے معنی چہرہ وغیرہ سے پر دہ اٹھا نا کے ہیں ۔ اور مجازا غم وانداز ہ کے دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] اور خدا تم کو سختی پہچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے ۔ أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔ نكث النَّكْثُ : نَكْثُ الأَكْسِيَةِ والغَزْلِ قَرِيبٌ مِنَ النَّقْضِ ، واستُعِيرَ لِنَقْضِ العَهْدِ قال تعالی: وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمانَهُمْ [ التوبة/ 12] ، إِذا هُمْ يَنْكُثُونَ [ الأعراف/ 135] والنِّكْثُ کالنِّقْضِ والنَّكِيثَةُ کالنَّقِيضَةُ ، وكلُّ خَصْلة يَنْكُثُ فيها القومُ يقال لها : نَكِيثَةٌ. قال الشاعر مَتَى يَكُ أَمْرٌ لِلنَّكِيثَةِ أَشْهَد ( ن ک ث ) النکث کے معنی کمبل یا سوت ادھیڑ نے کے ہیں اور یہ قریب قریب نقض کے ہم معنی ہے اور بطور استعارہ عہد شکنی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمانَهُمْ [ التوبة/ 12] اور اگر اپنی قسمیں توڑ ڈالیں ۔ إِذا هُمْ يَنْكُثُونَ [ الأعراف/ 135] تو وہ عہد توڑ ڈالتے ہیں ۔ النکث والنکثۃ ( مثل النقض والتقضۃ اور نکیثۃ ہر اس مشکل معاملہ کو کہتے ہیں جس میں لوگ عہد و پیمان توڑ ڈالیں شاعر نے کہا ( 437 ) متیٰ یک امر للنکیثۃ اشھد جب کوئی معاملہ عہد شکنی کی حد تک پہنچ جائے تو میں حاضر ہوتا ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

59: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم اور تقدیر میں ان کے لئے ایک وقت توایسا آنا ہی تھا جب وہ عذاب کا شکار ہو کر ہلاک ہوں ؛ لیکن اس سے پہلے جو چھوٹے چھوٹے عذاب آرہے تھے ان کو ایک مدت تک کے لئے ہٹالیا جاتا تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:135) الی اجل۔ ایک مقررہ مدت کے لئے۔ ایک مقررہ مدت تک۔ ھم مالغوہ۔ جس کو انہوں نے مکمل کرنا ہی تھا۔ اس مدت تک انہوں نے پہنچنا ہی تھا۔ یعنی جب ان کو لامحالہ عذاب عظیم آنا ہی تھا۔ یہ عذاب عظیم ان کا دریائے قلزم میں غرق ہونا تھا۔ ان کو جو مہلت دی گئی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجہ میں وہ ایک مقررہ وقت تک تھی اور وہ وقت مقررہ ان کی غرقابی کا وقت تھا۔ اس وقت تک ان کا زندہ رہنا۔ بہرکیف ان کا مقدر تھا۔ اور اس درمیانی عرصہ کے لئے ان کو پہلے عذاب سے (یعنی جراد۔ قمل۔ ضفادع۔ دم سے) نجات دی گئی۔ اس وقت مقررہ کو وہ پہنچنے والے تھے کہ انہوں نے پھر توبہ کا عہد جو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا توڑ دیا۔ اور وہ اس طرح اپنی کرتوت پر غرقابی کے عذاب کے مستحق ہوگئے اور کیفر کردار کو پہنچ گئے۔ اذا۔ یکلخت۔ نیز ملاحظہ ہو 7:107 ۔ ینکثون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ یکث مصدر (باب نصر) وہ توڑنے لگتے ہیں۔ وہ توڑ دیتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ اس وقت تک جو ان کی ہلاکت کے لیے مقرر تھا

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ فرعون اور اس کی قوم جب تمام اخلاقی حدود پامال کرچکی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے جب کوئی قوم کفر و شرک تکبر اور تمرد میں آگے ہی بڑھتی جائے تو اس کا وجود انسانی معاشرے میں کینسر کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ جس سے اس علاقے کے رہنے والے ہی نہیں بلکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اس پر لعنت بھیجتی ہے اس صورتحال میں اللہ تعالیٰ دنیا کے نظام کو چلانے اور قائم رکھنے کے لیے مجرم قوم کا صفایا کردیتا ہے۔ اسی اصول کے تحت اب وقت آن پہنچا تھا کہ فرعون اور آل فرعون کو ہمیشہ کے لیے نیست و نابود کردیا جائے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اس قوم کو دریا میں ڈبکیاں اور غوطے دے دے کر ختم کردیا گیا۔ کیونکہ یہ بار بار اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرتے اور دنیا کی لذات میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کلیتاً غافل اور بےپرواہو چکے تھے۔ جس کے نتیجہ میں انھیں غرقاب کیا گیا۔ جس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی اے میرے رب یہ قوم پر لے درجے کی مجرم ہوچکی ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ بس میرے بندوں کو رات کے وقت لے کر یہاں سے نکل جاؤ لیکن یاد رکھنا مجرم قوم تمہارا تعاقب ضرور کرے گی۔ (الدُّخان، آیت : ٢٢ تا ٢٣) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب رات کی تاریکیوں میں اپنی قوم کو لے کر دریا عبور کرنے کے لیے نکلے تو فرعون نے تمام شہروں میں ہر کارے بھیجے کہ اکٹھے ہوجاؤ۔ ایک چھوٹی سی جماعت نے ہمیں غضب ناک کردیا ہے۔ اس طرح انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا تعاقب کیا جب بنی اسرائیل نے انھیں اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے اے موسیٰ ! ہم تو گھیرے جا چکے ہیں۔ سامنے بحر قلزم ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور پیچھے سے دشمن آپہنچا ہے۔ ہم جائیں تو کدھر جائیں ؟ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ انھیں تسلی دیجیے کہ میرا رب دریا کو عبور کرنے کے لیے کوئی راستہ بنائے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق دریا میں اپنا عصا مارا جس سے بحر قلزم پھٹ گیا اور اس کی لہریں پہاڑوں کی طرح بلند ہو کر اپنی جگہ جم گئیں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر بحیرۂ قلزم میں اترے تو فرعون بھی اپنے لشکر و سپاہ لے کر ان کے تعاقب میں بحیرۂ قلزم میں اتر ا۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” (اور کہلا بھیجا کہ) یہ مٹھی بھر لوگ ہیں جو ہمیں غصہ چڑھا رہے ہیں۔ اور ہم یقیناً ایک مسلح جماعت ہیں۔ ہم فرعونیوں کو نکال لائے ان کے باغات اور چشموں سے اور خزانوں اور بہترین قیام گاہوں سے اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو زمین کا وارث بنا دیا۔ چناچہ ایک دن صبح کے وقت فرعونی ان کے تعاقب میں چل پڑے، جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو اصحاب موسیٰ چیخے ہم پکڑے گئے۔ موسیٰ نے کہا : ہرگز نہیں میرا رب میرے ساتھ ہے وہ جلد رہنمائی کرے گا۔ چناچہ ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ چناچہ سمندر پھٹ گیا اور ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوا۔ ہم دوسروں کو قریب لے آئے۔ اس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا اور دوسروں کو غرق کردیا۔ اس میں لوگوں کے لیے عبرت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بہت سے نشان ہیں۔ اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لاتی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور نہایت مہربان ہے۔ “ (الشعراء، آیت : ٥٤ تا ٦٨) قرآن مجید کے دوسرے مقام پر اس واقعہ کو یوں بیان کیا گیا ہے : ” ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر عبور کر وایا اس کے پیچھے فرعون اور اس کا لشکر زیادتی اور ظلم کے ارادے سے چلا یہاں تک کہ وہ ڈوبنے لگا تو اس نے کہا کہ میں اس اللہ پر ایمان لایا جو بنی اسرائیل کا رب ہے۔ اور میں اپنے ایمان کا اعلان کرتا ہوں۔ لیکن اس کے جواب میں فرمایا گیا کیا اب تو ایمان لاتا ہے ؟ جب کہ اس سے پہلے بغاوت اور فساد کرنے والا تھا۔ ہم تیری لاش کو باقی رکھیں گے تاکہ تیرے بعد آنے والے عبرت حاصل کریں۔ اگرچہ اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت ہی برتتے ہیں۔ “ (یونس آیت ٩٠ تا ٩٢) مفسرین نے تاریخ کی بنیاد پر لکھا ہے کہ فرعون کے لشکر میں ایک لاکھ گھوڑ سوار اور پندرہ لاکھ پیادے تھے بنی اسرائیل کی تعداد چھوٹے بچوں کے علاوہ چھ لاکھ افراد پر مشتمل تھی اور یہ واقعہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے مصر پہنچنے کے ٤٢٦ شمسی سال بعد پیش آیا بظاہر اتنی بڑی تعداد پر یقین نہیں تاہم واللہ اعلم۔ (حوالہ قصص الانبیاء امام ابن کثیر ) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون سے بنی اسرائیل پر مظالم کرنے کا انتقام لیا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی آیت کو جھٹلانے والوں کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوتا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سیاق کلام میں ان تمام نشانیوں کو ایک جگہ لایا گیا ، اس طرح کہ گویا بیک وقت ان سب کا ظہور ہوا ، اور ان کے بعد جب اللہ نے ان مشکلات کو رفع فرمایا تو ایک ہی بات فرعونیوں نے بد عہدی کی ، یہ انداز اس لیے اختیار کیا گیا کہ جب بھی کوئی نشانی آئی اور دور ہوئی تو انہوں نے پھر عہد وفا نہ کیا۔ یہ انداز بیان قرآن کے اسالیب میں سے ایک ہے ، چونکہ واقعات ایک ہی جیسے تھے ، اس لیے ایک ہی جگہ ان کے آغاز کی طرف اشارہ کردیا گیا گویا ایک ہی دل کے ساتھ یہ تمام تجربات پیش آئے اور وہ دل اس قدر سخت ہوچکا تھا کہ کسی تجربے نے بھی اس کے اندر راہ نہ پایا۔ اور کسی نے عبرت نہ حاصل کی۔ یہ تمام نشانیاں جن تفصیلات کے ساتھ آتی رہتی ہیں ، قرآن کریم نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ احادیث مرفوع میں بھی ان کا تذکرہ نہیں آیا۔ ہم بھی فی ظلال القرآن میں اختیار کیے ہوئے اسلوب کے مطابق ان کو یونہی مجمل چھوڑتے ہیں اس لیے کہ قرآن کی تشریح یا قرآن سے ہوگی یا سنت ثابتہ سے۔ یہ اسلوب ہم نے اسرائیلیت سے بچنے کے لیے اپنایا ہے کیونکہ اسرائیلی روایات بےاصل روایات ہوتی ہیں۔ اس قسم کی اسرائیلی روایات تمام سابقہ تفاسیر کا حصہ بن گئی ہیں۔ کوئی ایسی تفسیر نہیں ہے جو ان سے خالی ہو۔ امام طبری کی تفسیر باوجود اس کے کہ وہ ایک نفیس تفسیر ہے اور نہایت ہی قیمتی تفسیر ہے ، ابن کثیر کی تفسیر باوجود اس کے کہ وہ قابل قدر کی تفسیر ہے ، دونوں اسرائیلیت سے خالی نہیں ہیں۔ اس بارے میں حضرت ابن عباس بہت سے بھی روایات منقول ہیں۔ ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ اور تفسیر دونوں میں ذکر کی ہیں اور ان میں سے ایک روایت یہ ہے۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ جب موسیٰ فرعون کے دربار میں آئے تو انہوں نے اس سے یہ مطالبہ کیا کہ میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ اس نے انکار کردیا۔ تو اللہ نے ان پر طوفان بھیجا ، یعنی سخت بارش ہوئی۔ جب یہ بارش طویل عرصے تک برستی رہی تو یہ لوگ ڈر گئے کہ شاید یہ کوئی عذاب نہ ہو ، اہل فرعون نے حضرت موسیٰ سے عرض کی کہ آپ اپنے خدا کے سامنے سوال کریں کہ وہ اس بارش کو بند کردے۔ اگر یہ بند ہوجائے تو ہم تم پر ایمان لائیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ آپ نے رب تعالیٰ سے دعا کی لیکن وہ ایمان نہ لائے اور نہ ہی بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیجا۔ تو اس سال ان کے ہاں فصلیں ، پھل اور چارہ اس قدر ہوا کہ اس سے قبل نہ ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہی تو ہماری تمنا تھی۔ تو اللہ نے ان پر ٹڈی دل بھیج دیے۔ ٹڈی دلوں نے گھاس کو صاف کردیا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ٹڈی دل نے گھاس کو چاٹ لیا ہے تو اب ظاہر ہے کہ یہ فصل کو بھی نہ چھوڑے گی۔ اب پھر انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ رب تعالیٰ سے دست بدعا ہوں کہ ہمیں اس بلا سے نجات ملے۔ اگر نجات مل گئی تو ہم ایمان بھی لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔ اللہ نے ٹڈی دل کو بھی ختم کردیا اور یہ لوگ پھر بھی ایمان نہ لائے اور نہ ہی بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیجا۔ انہوں نے فصل کاتی اور گھروں میں ڈال دی اور کہا اب تو ہم نے فصل گھروں تک پہنچا دی ہے۔ اس پر اللہ نے ان پر سرسریاں پھیلا دیں۔ چناچہ ان میں سے ایک شخص دس پیمانے دانے لے کر پن چکی پر جاتا اور جب آتا واپس ہوتا تو وہ صرف تین پیمانے ہوتا۔ اب پھر انہوں نے حضرت موسیٰ سے درخواست کی کہ اے موسیٰ اللہ سے سوال کریں کہ اگر وہ سرسریوں کو دفع کردیں تو ہم ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔ حضرت نے دعا کی اور ان سے یہ عذاب بھی دور ہوگیا۔ اب بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے اور انہوں نے آپ کے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیجنے سے انکار کردیا۔ یوں ہوا کہ حضرت موسیٰ فرعون کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے مینڈک کی آواز سنی۔ حضرت موسیٰ نے فرعون سے کہا " تم اور تمہاری قوم کو اس سے تکلیف پہنچنے والی ہے "۔ فرعون نے کہا کہ یہ مینڈک کیا سازش کرسکتے ہیں ؟ شام ہونے سے پہلے اس قدر مینڈک امنڈ آئے کہ جب کوئی بات کرتا تو منہ میں مینڈک سے گر جاتا ہے۔ اب پھر انہوں نے حضرت موسیٰ سے عرض کی کہ آپ دعا کریں کہ اللہ ہم سے اس عذاب کو دور کرے۔ ہم ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔ اللہ نے یہ عذاب بھی دور کردیا۔ لیکن اہل فرعون نہ ایمان لائے اور نہ بنی اسرائیل کو بھیجا۔ اب اللہ نے ان پر خون بھیج دیا۔ اب ان کی نہروں میں ، کنوؤں میں ، برتنوں میں تازہ بہ تازہ خون تھا۔ لوگوں نے فرعون کے پاس شکایت کی کہ اب تو آزمائش کی حد ہوگئی ہے ، ہمارے پینے کے لیے بھی پانی نہیں رہا تو فرعون نے کہا کہ درحقیقت موسیٰ نے جادو کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر سحر کہاں سے ہوا ، ہمارے برتنوں میں جو پانی تھا وہ بھی تازہ خون ہے۔ اب پھر وہ حضرت موسیٰ کے پاس آئے کہا اے موسیٰ اپنے رب کو پکارو ، اگر یہ عذاب ہم سے دور ہوجائے تو ہم ضرورت تم پر ایمان لائیں گے۔ آپ نے رب تعالیٰ کو پکارا ، اللہ تعالیٰ نے یہ عذاب بھی دور کردیا۔ انہوں نے پھر بھی یہی کیا کہ نہ ایمان لائے اور نہ بنی اسرائیل کو بھیجا "۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ کیا واقعات ہوئے ، بہرحال اس حدیث میں جو واقعات ذکر ہوئے وہ قرآن سے متضاد نہیں ہیں۔ یہ عذاب اللہ نے بیشک ان پر نازل کیے تاکہ ان کو آزمائے اور جھٹلانے والوں کے ساتھ اللہ کی روش ایسی ہی ہوتی ہے بار بار آزماتا ہے تاکہ وہ مان جائیں۔ فرعون کی قوم ، اپنی بت پرستی اور جاہلیت کے باوجود اور فرعون کی جانب سے ان پر ظلم و تشدد اور ان کی ذلت و خواری کے باوجود ، حضرت موسیٰ کے دامن میں پناہ لیتی تھی کہ وہ اپنے رب سے سوال کرے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ عہد کیا ہوا تھا کہ وہ دعا قبول کرے گا اور آپ یہ دعا کریں کہ ان سے یہ مصیبت دور ہو۔ اگرچہ ، مصر کے حکام وعدہ خلافی کرتے اور ایمان نہ لاتے کیونکہ اس وقت کا نظام حکومت اس نظریہ پہ قائم تھا کہ فرعون ان کا رب اور حاکم ہے۔ یہ لوگ فرعون کی جگہ اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت کے قیام سے خوف کھاتے تھے۔ اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ موسیٰ پر ایمان لانے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ فرعون کا نظام حکومت ختم ہوجائے اور ملک کے اندر صرف اللہ کی حاکمیت قائم ہوجائے۔ رہے وہ لوگ جو جاہلیت جدیدہ کے داعی ہیں تو اللہ تعالیٰ بار بار ان کے رزق پر آفات و بلیات نازل کرتا ہے لیکن وہ اپنی روش سے باز نہیں آتے۔ اور جب زمیندار اور اہل دیہات اس بات کو محسوس کریں اور اللہ کے سامنے دس بدعا ہوں جس طرح کافروں کے تحت الشعور میں بھی اللہ کی جانب رجوع کا داعیہ ہوتا ہے تو آج کل کے جاہلیت زدہ اور اپنے آپ کو سائنٹیفک کہنے والے لوگ کہتے ہیں کہ یہ خرافات میں یقین رکھنا ہے اور جہالت ہے اور یہ کام اہل جاہلیت جدیدہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ان لوگوں کی یہ حرکت قدیم بت پرستوں سے زیادہ بری ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

135 پھر جب ہم موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ان سے ایک وقت متعین تک کے لئے جس تک وہ پہنچنے والے تھے اس بلا اور عذاب کو ہٹا لیتے تب ہی وہ اپنے عہد کو توڑ دیتے۔ یعنی ان کے غرق ہونے کی جو مدت مقرر تھی اس تک ان کو پہنچانا ہی تھا ہم جب ان پر سے ان عارضی بلائوں کو ہٹا لیتے تو وہ فوراً ہی اس عہد کو جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باربار کرتے تھے توڑ دیا کرتے۔