Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 139

سورة الأعراف

اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا ہُمۡ فِیۡہِ وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۳۹﴾

Indeed, those [worshippers] - destroyed is that in which they are [engaged], and worthless is whatever they were doing."

یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں یہ تباہ کیا جائے گا اور ان کا یہ کام محض بے بنیاد ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ هَـوُلاء مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ ... "Verily, these people will be destroyed for that which they are engaged in, (they will perish), ... وَبَاطِلٌ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ "and all that they are doing is in vain." Commenting on this Ayah, Imam Abu Jafar bin Jarir reported from Abu Waqid Al-Laythi that; they (the Companions) went out from Makkah with the Messenger of Allah for (the battle of) Hunayn. Abu Waqid said, "Some of the disbelievers had a lote tree whose vicinity they used to remain in, and upon which they would hang their weapons on. That tree was called `Dhat Al-Anwat'. So when we passed by a huge, green lote tree, we said, `O Messenger of Allah! Appoint for us a Dhat Al-Anwat as they have.' He said, قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى لِمُوسَى by He in Whose Hand is my soul! You said just as what the people of Musa said to him: ... اجْعَل لَّنَا إِلَـهًا كَمَا لَهُمْ الِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ إِنَّ هَـوُلاء مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ "Make for us a god as they have gods." He said: "Verily, you are an ignorant people. Verily, these people will be destroyed for that which they are engaged in, and all that they are doing is in vain."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

139۔ 1 یعنی مورتیوں کے پجاری جن کے حال نے تمہیں بھی دھوکے میں ڈال دیا، ان کا مقدر تباہی اور ان کا یہ فعل باطل اور خسارے کا باعث ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٥] یعنی میرا تو مشن ہی یہی ہے کہ ایسے بتوں کو برباد کر دوں اور ایسے باطل پرستوں کو ختم کر دوں اور ایک تم ہو کہ مجھی سے کہہ رہے ہو کہ میں تمہیں بت بنا دوں۔ اللہ نے تمہیں فضیلت اس لیے تو نہیں بخشی کہ تم اپنے سے حقیر اور اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیز کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤ لہذا ایسی جہالت کی باتیں نہ کرو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ ۔۔ : موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے مطالبے کے جواب میں چار باتیں فرمائیں، پہلی یہ کہ تم لوگ جہالت، یعنی نادانی اور اکھڑ پن اختیار کر رہے ہو، جیسا کہ پچھلی آیت میں گزرا ہے۔ دوسری یہ کہ یہ لوگ اس وقت جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ تباہ و برباد کردیا جانے والا ہے اور اس سے پہلے بھی یہ جو کچھ کرتے آئے ہیں، باطل ہے۔ ایسے کام کا مطالبہ دنیا میں گمراہی و تباہی اور آخرت میں عذاب کا باعث ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا ہُمْ فِيْہِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ ١٣٩ ها هَا للتنبيه في قولهم : هذا وهذه، وقد ركّب مع ذا وذه وأولاء حتی صار معها بمنزلة حرف منها، و (ها) في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ [ آل عمران/ 66] استفهام، قال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ [ آل عمران/ 66] ، ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] ، هؤُلاءِ جادَلْتُمْ [ النساء/ 109] ، ثُمَّ أَنْتُمْ هؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ [ البقرة/ 85] ، لا إِلى هؤُلاءِ وَلا إِلى هؤُلاءِ [ النساء/ 143] . و «هَا» كلمة في معنی الأخذ، وهو نقیض : هات . أي : أعط، يقال : هَاؤُمُ ، وهَاؤُمَا، وهَاؤُمُوا، وفيه لغة أخری: هَاءِ ، وهَاءَا، وهَاءُوا، وهَائِي، وهَأْنَ ، نحو : خَفْنَ وقیل : هَاكَ ، ثمّ يثنّى الکاف ويجمع ويؤنّث قال تعالی: هاؤُمُ اقْرَؤُا كِتابِيَهْ [ الحاقة/ 19] وقیل : هذه أسماء الأفعال، يقال : هَاءَ يَهَاءُ نحو : خاف يخاف، وقیل : هَاءَى يُهَائِي، مثل : نادی ينادي، وقیل : إِهَاءُ نحو : إخالُ. هُوَ : كناية عن اسم مذكّر، والأصل : الهاء، والواو زائدة صلة للضمیر، وتقوية له، لأنها الهاء التي في : ضربته، ومنهم من يقول : هُوَّ مثقّل، ومن العرب من يخفّف ويسكّن، فيقال : هُو . ( ھا ) ھا ۔ یہ حرف تنبیہ ہے اور ذا ذہ اولاٰ اسم اشارہ کے شروع میں آتا ہے اور اس کے لئے بمنزلہ جز سمجھنا جاتا ہے مگر ھا انتم میں حرف ھا استہفام کے لئے ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ [ آل عمران/ 66] دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا ۔ ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] دیکھو تم ایسے صاف دل لوگ ہو کہ ان لوگوں سے ودستی رکھتے ہو ۔ هؤُلاءِ جادَلْتُمْ [ النساء/ 109] بھلا تم لوگ ان کی طرف سے بحث کرلیتے ہو ۔ ثُمَّ أَنْتُمْ هؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ [ البقرة/ 85] پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کردیتے ہو ۔ لا إِلى هؤُلاءِ وَلا إِلى هؤُلاءِ [ النساء/ 143] نہ ان کی طرف ( ہوتے ہو ) نہ ان کی طرف ۔ ھاءم ـ اسم فعل بمعنی خذ بھی آتا ہے اور ھات ( لام ) کی ضد ہے اور اس کی گردان یون ہے ۔ ھاؤم ھاؤم ۔ ھاؤموا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ هاؤُمُ اقْرَؤُا كِتابِيَهْ [ الحاقة/ 19] لیجئے اعمالنامہ پڑھئے اور اس میں ایک لغت بغیر میم کے بھی ہے ۔ جیسے : ۔ ھا ، ھا ، ھاؤا ھائی ھان کے بروزن خفن اور بعض اس کے آخر میں ک ضمیر کا اضافہ کر کے تنبیہ جمع اور تذکرو تانیث کے لئے ضمیر میں تبدیل کرتے ہیں جیسے ھاک ھاکما الخ اور بعض اسم فعل بنا کر اسے کھاؤ یھاء بروزن خاف یخاف کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک ھائی یھائی مثل نادٰی ینادی ہے اور بقول بعض متکلم مضارع کا صیغہ اھاء بروزن اخال آتا ہے ۔ تبر التَّبْر : الکسر والإهلاك، يقال : تَبَرَهُ وتَبَّرَهُ. قال تعالی: إِنَّ هؤُلاءِ مُتَبَّرٌ ما هُمْ فِيهِ [ الأعراف/ 139] ، وقال : وَكُلًّا تَبَّرْنا تَتْبِيراً [ الفرقان/ 39] ، وَلِيُتَبِّرُوا ما عَلَوْا تَتْبِيراً [ الإسراء/ 7] ، وقوله تعالی: وَلا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَباراً [ نوح/ 28] ، أي : هلاكا . ( ت ب ر ) التبر ( ض ) کے معنی توڑ دینے اور ہلاک کردینے کے ہیں کہا جاتا ہے ۔ تبرہ وتبرہ اس نے اسے ہلاک کرڈالا ۔ قرآن میں ہے ؛ إِنَّ هؤُلاءِ مُتَبَّرٌ ما هُمْ فِيهِ [ الأعراف/ 139] یہ لوگ جس ( شغل ) میں ( پھنسے ہوئے ) ہیں وہ بربادہونیوالا ہے ۔ وقال : وَكُلًّا تَبَّرْنا تَتْبِيراً [ الفرقان/ 39] اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے تباہ کردیں ۔ وَلا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَباراً [ نوح/ 28] اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی بڑھا ۔ بطل البَاطِل : نقیض الحق، وهو ما لا ثبات له عند الفحص عنه، قال تعالی: ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] ( ب ط ل ) الباطل یہ حق کا بالمقابل ہے اور تحقیق کے بعد جس چیز میں ثبات اور پائیداری نظر نہ آئے اسے باطل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں سے : ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا کے پکارتے ہیں وہ لغو ہیں ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣٩) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم حکم الہی سے ناواقف ہو۔ یہ جس شرک میں مبتلا ہیں، وہ ہلاک کیا جائے گا اور یہ شرک فی نفسہ گمراہی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:139) ھؤلاء قوم کی طرف اشارہ ہے۔ متبر اسم مفعول ۔ واحد۔ تتبیر (تفعیل) مصدر۔ ٹوٹ جانے والا۔ ٹوٹا ہوا۔ تباہ برباد۔ ہر ٹوٹے ہوئے برتن کو بھی متبر کہتے ہیں تبات۔ ہلاکت، متبر۔ کلہاڑا۔ (جس سے ہلاک کیا جاسکتا ہے) قرآن میں ہے ولیتبروا ما علوا تتبیرا (17:7) اور جس چیز پر غلبہ پاویں اسے تباہ کردیں۔ ولاتزد الظالمین الاتبارا۔ (71:28) اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی لا۔ ما ھم فیہ۔ جس (کام) میں وہ لگے ہوئے ہیں۔ (وہ ہلاک و برباد ہونے والا ہے)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یہ بھی ان کے مطالبہ کی تر دید اور اس کا جواب ہے، یعنی اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ دنیا میں گمراہی و بربادی اور آخرت میں عذاب کا باعث ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم کو سمجھاتے ہیں کہ جس بت پرستی میں وہ پڑے ہوئے ہیں وہ نہایت ہی بری چیز ہے اور ان کی جانب سے یہ سراسر غیر معقول مطالبہ ہے ، کیا تم ایسے لوگوں کی پیروی کرتے ہو جو خود ہلاک و برباد ہونے والے ہیں ؟ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے " یہ شرک و بت پرستی ، یہ بتوں کی پوجا پاٹ ، یہ بت پرستانہ تہذیب و تمدن جس میں کئی رب ہوں اور ان ارباب کے نیچے پھر مسند نشستیں اور مذہبی لیڈر ہوں اور حاکم و محکوم ہوں اور وہ بت پرستی سے اپنے حقوق کا تعین کرتے ہوں۔ یہ تمام خرافات اور توہمات زندگی کے فاسد تصور پر مبنی ہیں اور باطل اور بےاصل ہیں۔ اور ان تصورات اور اعمال نے دنیا سے ختم ہونا ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے ہلاکت ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

131: یہ بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام ہے۔ یعنی یہ گائے کے پجاری جس دین پر ہیں یہ عنقریب میرے ہاتھوں برباد ہونے والا ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ محض باطل اور لا حاصل ہے اس سے انہیں نہ دنیا میں کچھ نفع ملیگا نہ آخرت میں۔ “ یعنی یدمر اللہ تعالیٰ دینھم الذي ھم علیه علی یدي۔ وان ذلک لا ینفھم اصلا ” (روح ج 9 ص 40) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

139 بلاشبہ یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں اور یہ لوگ جس دین میں ہیں وہ تباہ و برباد کیا جانے والا ہے اور جو کچھ یہ کررہے ہیں وہ بےبنیاد اور باطل ہے۔ یعنی فطرتاً باطل کو دوام نہیں باطل پھلتا پھولتا نہیں۔