Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 142

سورة الأعراف

وَ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰی ثَلٰثِیۡنَ لَیۡلَۃً وَّ اَتۡمَمۡنٰہَا بِعَشۡرٍ فَتَمَّ مِیۡقَاتُ رَبِّہٖۤ اَرۡبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً ۚ وَ قَالَ مُوۡسٰی لِاَخِیۡہِ ہٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِیۡ فِیۡ قَوۡمِیۡ وَ اَصۡلِحۡ وَ لَا تَتَّبِعۡ سَبِیۡلَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾

And We made an appointment with Moses for thirty nights and perfected them by [the addition of] ten; so the term of his Lord was completed as forty nights. And Moses said to his brother Aaron, "Take my place among my people, do right [by them], and do not follow the way of the corrupters."

اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام ) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس رات مزید سے ان تیس راتوں کو پورا کیا ۔ سو ان کے پروردگار کا وقت پورے چالیس رات کا ہوگیا اور موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اپنے بھائی ہارون ( علیہ السلام ) سے کہا کہ میرے بعد ان کا انتظام رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا اور بد نظم لوگوں کی رائے پر عمل مت کرنا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Musa fasts and worships Allah for Forty Days Allah reminds the Children of Israel of the guidance that He sent to them by speaking directly to Musa and revealing the Tawrah to him. In it, was their law and the details of their legislation. وَوَاعَدْنَا مُوسَى ثَلَثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ... And We appointed for Musa thirty nights and added ten, and he completed the term, appointed by his Lord, of forty nights. Allah stated here that He appointed thirty nights for Musa. The scholars of Tafsir said that Musa fasted this period, and when they ended, Musa cleaned his teeth with a twig. Allah commanded him to complete the term adding ten more days, making the total forty. When the appointed term finished, Musa was about to return to Mount Tur, as Allah said, يبَنِى إِسْرَءِيلَ قَدْ أَنجَيْنَـكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوَاعَدْنَـكُمْ جَانِبَ الطُّورِ الاٌّيْمَنَ O Children of Israel! We delivered you from your enemy, and We made a covenant with you on the right side of the Mount. (20:80) ... وَقَالَ مُوسَى لاَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ And Musa said to his brother Harun: "Replace me among my people, act in the right way and follow not the way of the mischief-makers." Musa left his brother Harun with the Children of Israel and commanded him to use wisdom and refrain from mischief. This was only a reminder, for Harun was an honorable and noble Prophet who had grace and exalted standard with Allah, may Allah's peace and blessings be upon him and the rest of the Prophets.

احسانات پہ احسانات اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا وہ احسان یاد دلاتا ہے جس کی وجہ سے موسیٰ کو شرف ہم کلامی حاصل ہوا اور تورات ملی جو ان سب کے لئے باعث ہدایت و نور تھی جس میں ان کی شریعت کی تفصیل تھی اور اللہ کے تمام احکام موجود تھے ۔ تیس راتوں کا وعدہ ہوا ، آپ نے یہ دن روزوں سے گذارے ۔ وقت پورا کر کے ایک درخت کی چھال کو چبا کر مسواک کی ۔ حکم ہوا کہ دس اور پورے کر کے پورے چالیس کرو ۔ کہتے ہیں کہ ایک مہینہ تو ذوالقعدہ کا تھا اور دس دن ذوالحجہ کے ۔ تو عید والے دن وہ وعدہ پورا ہوا اور اسی دن اللہ کے کلام سے آپ کو شرف ملا اسی دن دین محمدی بھی کامل ہوا ہے ۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے آیت ( اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ) 5- المآئدہ:3 ) وعدہ پورا کرنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے طور کا قصد کیا جیسے اور آیت میں ہے کہ اے گروہ بنی اسرائیل ہم نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور طور ایمان کا وعدہ کیا ۔ آپ نے جاتے ہوئے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بنایا اور انہیں اصلاح کی اور فساد سے بچنے کی ہدایت کی ۔ یہ صرف بطور وعظ کے تھا ورنہ حضرت ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے شریف و کریم اور ذی عزت پیغمبر تھے ۔ صلوات اللہ و سلامہ علیہ و علی سائر

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

142۔ 1 فرعون اس کے لشکر کے غرق کے بعد ضرورت لاحق ہوئی کہ بنی اسرائیل کی ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی کتاب انہیں دی جائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلایا، جس میں دس راتوں کا اضافہ کرکے اسے چالیس کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جاتے وقت حضرت ہارون (علیہ السلام) کو جو ان کے بھائی، بھی تھے اور نبی بھی، اپنا جانشین مقر کردیا تاکہ وہ بنی اسرائیل کی ہدایت و اصلاح کا کام کرتے رہیں اور انہیں ہر قسم کے فساد سے بچائیں۔ اس آیت میں یہی بیان کیا گیا ہے۔ 142۔ 2 حضرت ہارون (علیہ السلام) خود نبی تھے اور اصلاح کا کام ان کے فرائض منصبی میں شامل تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں محض تذکرہ تنبیہ کے طور پر یہ نصیحتیں کیں، میقات سے یہاں مراد وقت معین ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٦] طور کے دامن میں چالیس راتیں :۔ جب بنی اسرائیل کو غلامانہ زندگی سے نجات مل گئی تو اب انہیں ایک ضابطہ یا شریعت کی ضرورت تھی اس غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ سینا پر بلایا کہ یہاں مبارک وادی میں آ کر تنہائی میں اللہ کی عبادت کریں اور اس کے لیے کم سے کم مدت ایک ماہ اور زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن مقرر کی گئی تھی۔ تاہم سورة بقرہ میں چالیس راتوں ہی کا ذکر آیا ہے۔ اس عرصے کے لیے آپ کو حکم یہ تھا کہ دن کو روزے سے رہیں اور شب و روز اللہ کی عبادت اور تفکر و تدبر کر کے اور دل و دماغ کو یکسو کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ شریعت (الواح) کو اخذ کرنے کی استعداد اپنے اندر پیدا کریں۔ [١٣٧] سیدنا ہارون (علیہ السلام) کی نیابت اور قوم کی گؤسالہ پرستی :۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی متلون مزاجی اور ضعیف الاعتقادی کا پورا تجربہ رکھتے تھے اس لیے کوہ سینا کو روانہ ہونے سے پیشتر اپنے بھائی سیدنا ہارون (علیہ السلام) کو اس بات کی تاکید کی کہ اگر یہ لوگ میرے بعد کسی طرح کی گڑبڑ پیدا کرنے کی کوشش کریں تو ان کی اصلاح کی کوشش کرتے رہنا اور فساد پیدا کرنے والوں کی بات ہرگز نہ ماننا۔ گویا اس قوم کی قیادت کے جو اختیارات سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس تھے وہ آپ نے سب لوگوں کے سامنے سیدنا ہارون (علیہ السلام) کو تفویض کردیئے۔ قوم کے متعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا خدشہ سو فیصد درست نکلا۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے جانے کے بعد جلد ہی ان لوگوں نے گؤ سالہ پرستی شروع کردی۔ سیدنا ہارون (علیہ السلام) نے انہیں اپنی امکانی حد تک بہت کچھ سمجھایا لیکن یہ قوم کچھ ایسی اکھڑ واقع ہوئی تھی کہ سیدنا ہارون (علیہ السلام) کے حکم کو کچھ اہمیت ہی نہ دیتی تھی پھر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی پر ان دونوں بھائیوں میں جو مکالمہ ہوا اس کا تفصیلی ذکر آگے آ رہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَوٰعَدْنَا مُوْسٰي ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً ۔۔ : فرعون سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر طلب فرمایا، تاکہ انھیں کتاب دی جائے۔ پہلے تیس دن کی میعاد مقرر کی گئی، پھر اس میں دس دن کا اضافہ کردیا گیا، تاکہ ان چالیس دنوں میں موسیٰ (علیہ السلام) روزہ رکھیں اور دن رات عبادت اور تفکر و تدبر میں مصروف رہیں۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ تیس راتوں کی خلوت سے عبادت اور مناجات کی عادت پڑجائے گی اور مناجات کی لذت سے آشنائی کے بعد دس راتیں بڑھانے سے بھی طبیعت پر بوجھ نہیں پڑے گا، ورنہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تو پہلے ہی چالیس راتیں تھیں جو دس بڑھانے سے مکمل ہوگئیں۔ (واللہ اعلم) بعض روایات میں ہے کہ ان دس دنوں کا اضافہ اس لیے کیا گیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے تیس دن کے روزوں کے بعد مسواک کرلی، جس سے وہ بو جاتی رہی جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب تھی، مگر اس روایت کا کوئی سراغ قرآن و حدیث سے نہیں ملا، نہ کسی صحیح سند سے اس کی تائید ہوتی ہے اور مسواک سے وہ بو جاتی بھی نہیں، کیونکہ وہ درحقیقت معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، اس لیے امام بخاری (رض) نے روزے دار کے لیے مسواک کے مستحب ہونے کا ایک باب مقرر فرمایا ہے : ( بَاب السِّوَاک الرَّطْبِ وَالْیَابِسِ للصَّاءِمِ ) یعنی روزے دار تازہ اور خشک مسواک کرسکتا ہے۔ [ بخاری، الصوم، قبل ح : ١٩٣٤ ] جب موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کی یہ میعاد پوری کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا اور انھیں تورات کی الواح (تختیاں) عطا فرمائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کا مزاج سمجھتے تھے، ہارون (علیہ السلام) اگرچہ اس سے پہلے بھی اصلاح کی کوشش کرتے رہتے تھے مگر ان کی حیثیت ایک مددگار اور وزیر کی تھی، اصل قائد موسیٰ (علیہ السلام) ہی تھے، اب ان دنوں کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں اپنا خلیفہ (جانشین) مقرر فرمایا اور تاکید فرمائی کہ وہ ان کی اصلاح کرتے رہیں اور فسادیوں کے پیچھے مت لگیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

This verse speaks of the period followed by the destruction of the Pharaoh and his people. Having a peaceful time after their deliverance from the Pharaoh and his people the Israelites requested the Prophet Musa (علیہ السلام) to have some religious system of law so that they may act upon it. The Prophet Musa (علیہ السلام) prayed Allah for a code of guidance for them. The Arabic word: واعدنا |"wa` adana& is a derivative of وعدہ ; wa` dah& which signifies a worded expression of offering something good to someone - a promise. Allah made a promise to Musa (علیہ السلام) to send His word to him. It was stipulated that Musa (علیہ السلام) should go to the mount of Sinai and pass thirty nights there sitting in devotion for Allah. These thirty nights were later supplemented with ten more nights to make them forty. There are some points in this verse which demand our attention: Firstly, the number of nights to be passed by the Prophet Musa (علیہ السلام) was fixed to be forty nights in the will of Allah. Why was he first asked to pass thirty nights, and then add ten more nights? No one, in fact, can have access to all the wisdom and insight contained in divine acts. The scholars, however, have provided with some explanations: The famous commentary &Ruh al-Bayan& states that one of the wisdom behind the above commandment is of enjoining the laws gradually or by degrees to make it easier for people to practice. The commentary &Tafsir al-Qurtubi& has said that this was for educating those in authority to give respite to their subordinates if they fail to complete their assignments in the prescribed time. This is what happened with Prophet Musa (علیہ السلام) . When the spiritual excellence that was required could not be achieved by him in thirty nights, ten more nights were added to give him more time to acquire required perfection. The commentators have reported that the Prophet Musa (علیہ السلام) kept fasting constantly for thirty days and nights without breaking his fast in between. After completing thirty days he took the breakfast and presented himself at the fixed point on the Mount Sinai, Allah said to him that the peculiar odor generated by fasting in one&s mouth is liked by Allah. Musa had lost the odor by brushing his teeth, he was therefore, required to observe fasting for ten more days in order to create the odor again. The above reports of the loss of odor, however, cannot be taken to mean that brushing the teeth after fasting is prohibited or is something disliked, firstly, because the above report has been cited without the chain of narrators and secondly because it could be a command¬ment meant specifically for the Prophet Musa (علیہ السلام) and not for other people, or peculiar to the followers of the Torah. The permissibility of brushing one&s teeth during fasting is a practice proved by the Holy Tradition. Al-Baihaqi has reported the following Tradition on the authority of Sayyidah A&ishah that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: خَیرُ خَصَایٔلِ الصَّایٔم اَلسِّوَاکُ . The best act of the one who is fasting is brushing one&s teeth (with miswak). Al-Jami& al-Saghir has said that the status of this Hadith is that of Hasan (a kind of authentic Tradition). One may wonder here how the Prophet Musa (علیہ السلام) could be fasting continuously for thirty days without making a breakfast even at nights, while during his travel for visiting Sayyidna Khizr (Al Khadir علیہ السلام) he could not wait for even half of the day and said آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِ‌نَا هَـٰذَا نَصَبًا |"Give us our food, because this journey has made us tired.|" Tafsir Ruh al-Bayan has explained that this difference was due to the different nature of journeys. This journey was of a created being for another created being while the journey on the mount of Sinai was for the Creator of a devoted created being who had separated himself from the Creation in quest of his Lord. This spiri¬tual journey weakened the vigour of physical demands of hunger and thirst, making him capable of observing fast for continuous thirty days and nights. Lunar or Solar Calendars Another point inferred from this verse is that the laws& of the Prophets (علیہم السلام) counted the change of their dates at night. The above verse also has made a mention of thirty nights instead of thirty days. It is because the lunar calendar was the standard calendar in the laws of the Prophets (علیہم السلام) . The beginning of the lunar month is based on sighting of the moon which is possible only at night. It is why the dates in lunar calendar are changed at sunset. Al-Qurtubi has reported this statement on the authority of Ibn al-Arabi حِسابُ الشَّمسِ لِلمَنافِعِ و حِسَابُ اَلقَمَرِ لِلمَنَاسِکِ |"The solar Calendar is for the benefits in worldly matters while the lunar Calendar is for religious observances.|" According to the commentary of the Companion Abdullah Ibn ` Abbas (رض) the thirty nights were the nights of Zul Qa&dah, the eleventh month of the lunar Calendar. The ten nights added to them were the first ten nights of Zul-Hijjah. This makes us understand that the Torah was given to the Prophet Musa (علیہ السلام) on the day of Eid-al Adha. (Qurtubi) The significance of number forty This verse also implies that the number forty has some special effect in spiritual rectification of one&s heart. It is reported in a Tradi¬tion of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that anyone who worships Allah for forty days with sincerity of his heart, his heart is made a source of wisdom. (Ruh al-Bayan) Practising Gradualism This verse also educates people to fix a period of time for the fulfillment of their objective and to approach their aims gradually, as it is the practice of Allah to do things gradually. Haste and hurry in doing things is not approved by Allah. By creating the universe in six days while Allah had all the powers to create it instantly without requiring a single moment, He has provided people with a wise principle that they should approach their ends by stages in a period of time so that they may give due attention to their objectives. The Torah was also not given to the Prophet Musa (علیہ السلام) in a moment but a period was fixed for it to emphasize the same practice. (Qurtubi) It was by ignoring this principle that the Israelites had lost their faith in Allah. The Prophet Musa (علیہ السلام) while leaving for the mount of Sinai had said that he would be away for thirty days. When he did not return in this period due to being retained for the next ten days, the Israelites, being unduly hasty people said that the Prophet Musa (علیہ السلام) was lost somewhere, so they should choose another leader for their guidance. Consequently, they fell prey to the sorcerer Samiri and started worshipping the golden calf. Had they been a people of patience and practised gradualism, they would have not committed the fatal error of infidelity. The next sentence of the verse said, وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُ‌ونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ |"Musa (علیہ السلام) said to his brother Harun, “ Take my place among my people and keep things right, and do not follow the way of mischief makers.|" This sentence also contains some observations of religious importance. Making one&s deputy when needed. The Prophet Musa (علیہ السلام) made it a point to appoint Sayyidna Harun as his deputy when he intended to leave for the mount of Sinai and said that he should take the responsibility of his people in his absence. This makes it imperative for those who hold some responsible office that they appoint someone to look after the work in their absence. The Holy Prophet used to appoint someone as his deputy whenever he used to leave Madinah. The Companions ` Ali and ` Abdullah ibn Umm Maktum (رض) were appointed as his deputies on different occasions. (Qurtubi) The Prophet Musa (علیہ السلام) gave certain instructions to the Prophet Harun (علیہ السلام) before his departure to the mount of Sinai, indicating that leaving instructions or guidelines for the deputy is also a religious requirement. The first instruction given by the Prophet Musa (علیہ السلام) was just a word اَصلِح “ that is, &set right&. The object of this imperative has not been mentioned. Possibly, he made it a general command to be observed by the Israelites and the Prophet Harun (علیہ السلام) as well. The second instruction was in these words: وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ |"And do not follow the way of mischief-makers.|" It is obvious that Prophet Harun (علیہ السلام) being a Prophet of Allah could not be supposed to indulge in mischief. This instruction, therefore, meant that he should not do any such thing as could help or encourage the mischief makers. This is exactly what the Prophet Harun (علیہ السلام) did when he saw his people following the magician Samiri, so much so that they started worship-ping the golden calf. The Prophet Harun (علیہ السلام) prevented them from this act as well as admonished Samiri against his mischief. Later, the Prophet Musa (علیہ السلام) ، called him to account for this act of theirs, thinking that it was the result of inefficiency on the part of the Prophet Harun (علیہ السلام) . This also serves as a lesson for those who do not care for orderly disposition of matters and take it as a sign of piousness.

خلاصہ تفسیر اور ( جب بنی اسرائیل سب پریشانیوں سے مطمئن ہوگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ اب ہم کو کوئی شریعت ملے تو اس پر اطمینان کے ساتھ عمل کریں، موسیٰ (علیہ السلام) نے حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ اس کا قصہ اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے تیس را توں کا وعدہ کیا ( کہ طور پر آکر اعتکاف کریں تو آپ کو شریعت اور کتاب تورات دی جائے گی) اور دس راتیں مزید ان تیس را توں کا تتمہ بنادیا ( یعنی تورات دے کر ان میں دس راتیں عبادت کے لئے اور بڑھا دیں جس کی وجہ سورة بقرہ میں مذکور ہوچکی ہے) اس طرح ان کے پروردگار کا ( مقرر کیا ہوا) وقت ( سب مل کر) پوری چالیس راتیں ہوگیا اور موسیٰ ( علیہ السلام) کوہ طور آنے لگے تو چلتے وقت) اپنے بھائی ہارون ( علیہ السلام) سے کہہ دیا تھا کہ میرے بعد ان لوگوں کا انتظام رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا اور بدنظم لوگوں کی رائے پر عمل نہ کرنا۔ معارف ومسائل اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کا وہ واقعہ مذکور ہے جو غرق فرعون اور بنی اسرائیل کے مطمئن ہونے کے بعد پیش آیا کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ اب ہم مطمئن ہیں، اب ہمیں کوئی کتاب اور شریعت ملے تو ہم بےفکری کے ساتھ اس پر عمل کریں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق تعالیٰ سے دعا کی۔ اس میں لفظ وٰعَدْنَا وعدہ سے مشتق ہے، اور وعدہ کی حقیقت یہ ہے کہ کسی کو نفع پہنچانے سے پہلے اس کا اظہار کردینا کہ ہم تمہارے لئے فلاں کام کریں گے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنا کلام نازل کرنے کا وعدہ فرمایا اور اس کے لئے یہ شرط لگائی کہ تیس راتیں کوہ طور پر اعتکاف اور ذکر اللہ میں گزار دیں اور پھر ان تیس پر اور دس راتوں کا اضافہ کر کے چالیس کردیا۔ لفظ وٰعَدْنَا کے اصلی معنی دو طرف سے وعدے اور معاہدے کے آتے ہیں، یہاں بھی حضرت حق جل شانہ کی طرف سے عطاء تورات کا وعدہ تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے تیس چالیس راتوں کے اعتکاف کا، اس لئے بجائے وَعَدنَا کے وٰعَدْنَا فرمایا۔ اس آیت میں چند مسائل اور احکام قابل غور ہیں : اول یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہی یہ تھا کہ اعتکاف چالیس راتوں کا کرایا جائے تو پہلے تیس اور بعد میں دس کا اضافہ کرکے چالیس کرنے میں کیا حکمت تھی، پہلے ہی چالیس راتوں کے اعتکاف کا حکم دے دیا جاتا تو کیا حرج تھا، سو اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کا احاطہ تو کون کرسکتا ہے، بعض حکمتیں علماء نے بیان کی ہیں۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ اس میں ایک حکمت تدریج اور آہستگی کی ہے کہ کوئی کام کسی کے ذمہ لگایا جائے تو اول ہی زیادہ مقدار کام کی اس پر نہ ڈالی جائے تاکہ وہ آسانی سے برداشت کرے، پھر مزید کام دیا جائے۔ اور تفسیر قرطبی میں ہے کہ اس طرز میں حکام اور اولوالامر کو اس کی تعلیم دینا ہے کہ اگر کسی کو کوئی کام ایک معین وقت میں پورا کرنے کا حکم دیا جائے اور اس معین میعاد میں وہ پورا نہ کرسکے تو اس کو مزید مہلت دی جائے، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں پیش آیا کہ تیس راتیں پوری کرنے کے بعد جس کیفیت کا حاصل ہونا مطلوب تھا وہ پوری نہ ہوئی اس لئے مزید دس راتوں کا اضافہ کیا گیا کیونکہ ان دس راتوں کے اضافہ کا جو واقعہ مفسرین نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ تیس راتوں کے اعتکاف میں موسیٰ (علیہ السلام) نے حسب قاعدہ تیس روزے بھی مسلسل رکھے بیچ میں افطار نہیں کیا، تیسواں روزہ پورا کرنے کے بعد افطار کرکے مقررہ مقام طور پر حاضر ہوئے تو حق تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ روزہ دار کے منہ سے جو ایک خاص قسم کی رائحہ معدہ کی تبخیر سے پیدا ہوجاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، آپ نے افطار کے بعد مسواک کر کے اس رائحہ کو زائل کردیا، اس لئے مزید دس روزے اور رکھیے تاکہ وہ رائحہ پھر پیدا ہوجائے۔ اور بعض روایات تفسیر میں جو اس جگہ یہ منقول ہے کہ تیسویں روزہ کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے مسواک کرلی تھی جس کے ذریعہ وہ رائحہ صوم زائل ہوگیا تھا، اس سے اس بات پر استدلال نہیں ہوسکتا کہ روزہ دار کے لئے مسواک کرنا مکروہ یا ممنوع ہے کیونکہ اول تو اس روایت کی کوئی سند مذکور نہیں، دوسرے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حکم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات سے متعلق ہو عام لوگوں کے لئے نہ ہو یا شریعت موسوی میں ایسا ہی حکم سب کے لئے ہو کہ روزہ کی حالت میں مسواک نہ کی جائے، لیکن شریعت محمد یہ میں تو بحالت روزہ مسواک کرنے کا معمول حدیث سے ثابت ہے جس کو بیہقی نے بروایت عائشہ (رض) نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، خیر خصائل الصائم السواک یعنی روزہ دار کا بہترین عمل مسواک ہے۔ اس روایت کو جامع صغیر میں نقل کر کے حسن فرمایا ہے۔ فائدہ : اس روایت پر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تلاش خضر میں سفر کر رہے تھے تو آدھے دن بھوک پر صبر نہ ہوسکا اور اپنے ساتھی سے فرمانے لگے اٰتِنَا غَدَاۗءَنَا ۡ لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا یعنی ہمارا ناشتہ لاؤ کیونکہ اس سفر نے ہم کو تکان میں ڈال دیا اور کوہ طور پر مسلسل تیس روزے اس طرح رکھے کہ رات کو بھی افطار نہیں، یہ عجیب بات ہے ؟ تفسیر روح البیان میں ہے کہ یہ فرق ان دونوں سفروں کی نوعیت کے سبب سے تھا، پہلا سفر مخلوق کے ساتھ مخلوق کی تلاش میں تھا، اور کوہ طور کا سفر مخلوق سے علیحدہ ہو کر ایک ذات حق سبحانہ کی جستجو میں، اس کا یہی اثر ہونا تھا کہ بشری تقاضے نہایت مضمحل ہوگئے، کھانے پینے کی حاجت اتنی گھٹ گئی کہ تیس روز تک کوئی تکلیف محسوس نہیں فرمائی۔ عبادات میں قمری حساب معتبر ہے، دنیوی معاملات میں شمسی حساب کی گنجا ئش ہے : ایک اور مسئلہ اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) کے شرائع میں تاریخ کا حساب رات سے ہوتا ہے، کیونکہ اس آیت میں بھی تیس دن کے بجائے تیس راتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ شرائع انبیاء میں مہینے قمری معتبر ہیں اور قمری مہینہ کا شروع چاند دیکھنے سے ہوتا ہے، وہ رات ہی میں ہوسکتا ہے اس لئے مہینہ رات سے شروع ہوتا ہے پھر اس کی ہر تاریخ غروب آفتاب سے شمار ہوتی ہے، جتنے آسمانی مذہب ہیں ان سب کا حساب اسی طرح قمری مہینوں سے اور شروع تاریخ غروب آفتاب سے اعتبار کی جاتی ہے۔ قرطبی نے بحوالہ ابن عربی نقل کیا ہے کہ حساب الشمس للمنافع و حساب القمر للمناسک یعنی شمسی حساب دنیوی منافع کے لئے ہے اور قمری حساب اداء عبادات کے لئے۔ اور یہ تیس راتیں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی تفسیر کے مطابق ماہ ذی القعدہ کی راتیں تھیں اور پھر ان پر دس راتیں ذی الحجہ کی بڑھائی گئیں، اس سے معلوم ہوا کہ تورات کا عطیہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یوم النحر (یعنی عیدالاضحی) کے دن ملا (قرطبی) ایک مسئلہ اصلاح نفسی میں چالیس دن رات کو خاص دخل ہے۔ اس آیت کے اشارہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ چالیس راتوں کو باطنی حالات کی اصلاح میں کوئی خاص دخل ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جو شخص چالیس روز اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے قلب سے حکمت کے چشمے جاری فرمادیتے ہیں۔ (روح البیان) انسان کو اپنے سب کاموں میں تدریج اور آہستگی کی تعلیم : اس آیت سے ثابت ہوا کہ اہم کاموں کے لئے ایک خاص میعاد مقرر کرنا، اور سہولت و تدریج سے انجام دینا سنت الہیہ ہے، عجلت اور جلد بازی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ سب سے پہلے خود حق تعالیٰ نے اپنے کام یعنی پیدائش عالم کے لئے ایک میعاد چھ روز کی متعین فرماکر یہ اصول بتلادیا ہے، حالانکہ حق تعالیٰ کو آسمان زمین اور سارے عالم کو پیدا کرنے کے لئے ایک منٹ کی بھی ضرورت نہیں جب وہ کسی چیز کو پیدا کرنے کے لئے فرمادیں کہ ہوجا وہ فورا ہوجاتی ہے مگر اس خاص طرز عمل میں مخلوق کو یہ ہدایت دینا تھی کہ اپنے کاموں کو غور وفکر اور تدریج کے ساتھ انجام دیا کریں، اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی تو اس کے لئے بھی ایک میعاد مقرر فرمائی اس میں اسی اصول کی تعلیم ہے۔ (قرطبی) اور یہی وہ اصول تھا جس کو نظر انداز کردینا بنی اسرائیل کی گمراہی کا سبب بنا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سابق حکم خداوندی کے مطابق اپنی قوم سے یہ کہہ کر گئے تھے کہ تیس روز کے لئے جارہا ہوں یہاں جب دس روز کی مدت بڑھ گئی تو اپنی جلدبازی کے سبب لگے یہ کہنے کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو کہیں گم ہوگئے، اب ہمیں کوئی دوسرا پشیوا بنالینا چاہئے۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ سامری کے دام میں پھنس کر |" گوسالہ |" پرستی شروع کردی، اگر غور و فکر اور اپنے کاموں میں تدریج و تامل کے عادی ہوتے تو یہ نوبت نہ آتی (قرطبی) آیت کے دوسرے جملہ میں ارشاد ہے وَقَالَ مُوْسٰي لِاَخِيْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ ، اس جملہ سے بھی چند مسائل اور احکام نکلتے ہیں۔ ضرورت کے وقت ناظم امور کو اپنا قائم مقام تجویز کرنا۔ اول یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق کوہ طور پر جاکر اعتکاف کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ساتھی حضرت ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ یعنی میرے پیچھے آپ میری قوم میں میری قائم مقامی کے فرائض انجام دیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص کسی کام کا ذمہ دار ہو وہ اگر کسی ضرورت سے کہیں جائے تو اس پر لازم ہے کہ اس کام کا انتظام کر کے جائے۔ نیز یہ ثابت ہوا کہ حکومت کے ذمہ دار حضرات جب کہیں سفر کریں تو اپنا قائم مقام اور خلیفہ مقرر کر کے جائے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عام عادت یہی تھی کہ جب کبھی مدینہ سے باہر جانا ہوا تو کسی شخص کو خلیفہ بنا کر جاتے تھے، ایک مرتبہ حضرت علی مرتضی کو خلیفہ بنایا، ایک مرتبہ عبداللہ بن ام مکتوم کو، اسی طرح مختلف اوقات میں مختلف صحابہ کو مدینہ میں خلیفہ بنا کر باہر تشریف لے گئے۔ (قرطبی) موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کو خلیفہ بنانے کے وقت ان کو چند ہدایات دیں، اس سے معلوم ہوا کہ جس کو قائم مقام بنایا جائے اس کی سہولت کار کے لئے ضروری ہدایات دے کر جائے، ان ہدایات میں پہلی ہدایت یہ ہے کہ اَصْلِحْ ، اس میں اَصْلِحْ کا مفعول ذکر نہیں فرمایا کہ کس کی اصلاح کرو، اس سے اشارہ اس عموم کی طرف ہے کہ اپنی بھی اصلاح کرو اور اپنی قوم کی بھی، یعنی جب ان میں کوئی بات فساد کی محسوس کرو تو ان کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرو، دوسری ہدایت یہ دی کہ لَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ یعنی فساد کرنے والوں کے راستہ کا اتباع نہ کرو، ظاہر ہے کہ ہارون (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں، ان سے فساد میں مبتلا ہونے کا تو خطرہ نہ تھا اس لئے اس ہدایت کا مطلب یہ تھا کہ مفسدین کی مدد یا ہمت افزائی کا کوئی کام نہ کرو۔ چنانچہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے جب قوم کو دیکھا کہ سامری کے پیچھے چلنے لگے یہاں تک کہ اس کے کہنے سے گوسالہ پرستی شروع کردی تو قوم کو اس بےہودگی سے روکا اور سامری کو ڈانٹا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی کے بعد جب یہ خیال کیا کہ ہارون (علیہ السلام) نے میرے پیچھے اپنے فرض ادا کرنے میں کوتاہی کی تو ان سے مواخذہ فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہئے جو بد نظمی اور بےفکری ہی کو سب سے بڑی بزرگی سمجھتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَوٰعَدْنَا مُوْسٰي ثَلٰثِيْنَ لَيْلَۃً وَّاَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيْقَاتُ رَبِّہٖٓ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَۃً۝ ٠ ۚ وَقَالَ مُوْسٰي لِاَخِيْہِ ہٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ۝ ١٤٢ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خرٰا و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ تمَ تَمَام الشیء : انتهاؤه إلى حدّ لا يحتاج إلى شيء خارج عنه، والناقص : ما يحتاج إلى شيء خارج عنه . ويقال ذلک للمعدود والممسوح، تقول : عدد تَامٌّ ولیل تام، قال : وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [ الأنعام/ 115] ، وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ [ الصف/ 8] ، وَأَتْمَمْناها بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقاتُ رَبِّهِ [ الأعراف/ 142] . ( ت م م ) تمام الشیء کے معنی کسی چیز کے اس حد تک پہنچ جانے کے ہیں جس کے بعد اسے کسی خارجی شے کی احتیاج باقی نہ رہے اس کی ضد ناقص یعنی وہ جو اپنی ذات کی تکمیل کے لئے ہنور خارج شے کی محتاج ہو اور تمام کا لفظ معدودات کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور مقدار وغیرہ پر بھی بولا جاتا ہے مثلا قرآن میں ہے : ۔ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [ الأنعام/ 115] اور تمہارے پروردگار وعدہ پورا ہوا ۔ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ [ الصف/ 8] حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا ۔ وَأَتْمَمْناها بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقاتُ رَبِّهِ [ الأعراف/ 142] . اور دس ( راتیں ) اور ملا کر اسے پورا ( حیلہ ) کردیا تو اس کے پروردگار کی ۔۔۔۔۔ میعاد پوری ہوگئی ۔ وقت الوَقْتُ : نهاية الزمان المفروض للعمل، ولهذا لا يكاد يقال إلّا مقدّرا نحو قولهم : وَقَّتُّ كذا : جعلت له وَقْتاً. قال تعالی: إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] . وقوله : وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ [ المرسلات/ 11] . والمِيقَاتُ : الوقتُ المضروبُ للشیء، والوعد الذي جعل له وَقْتٌ. قال عزّ وجلّ : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ [ الدخان/ 40] ، إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كانَ مِيقاتاً [ النبأ/ 17] ، إِلى مِيقاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ [ الواقعة/ 50] ، ( و ق ت ) الوقت ۔ کسی کام کے لئے مقرر زمانہ کی آخری حد کو کہتے ہیں ۔ اس لئے یہ لفظ معنین عرصہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ۔ وقت کذا میں نے اس کے لئے اتنا عرصہ مقرر کیا ۔ اور ہر وہ چیز جس کے لئے عرصہ نتعین کردیا جائے موقوت کہلاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز کا مومنوں پر اوقات ( مقرر ہ ) میں ادا کرنا فرض ہے ۔ ۔ وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ [ المرسلات/ 11] اور جب پیغمبر اکٹھے کئے جائیں ۔ المیفات ۔ کسی شے کے مقررہ وقت یا اس وعدہ کے ہیں جس کے لئے کوئی وقت متعین کیا گیا ہو قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ [ الدخان/ 40] بیشک فیصلے کا دن مقرر ہے ۔ إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كانَ مِيقاتاً [ النبأ/ 17] کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن اٹھنے کا وقت ہے ۔ إِلى مِيقاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ [ الواقعة/ 50] سب ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے ۔ اور کبھی میقات کا لفظ کسی کام کے لئے مقرر کردہ مقام پر بھی بالا جاتا ہے ۔ جیسے مواقیت الحج یعنی مواضع ( جو احرام باندھنے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں ۔ أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 85] ، ( اخ و ) اخ ( بھائی ) اصل میں اخو ہے اور ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کا ولادت میں ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کی طرف سے یا رضاعت میں شریک ہو وہ اس کا اخ کہلاتا ہے لیکن بطور استعارہ اس کا استعمال عام ہے اور ہر اس شخص کو جو قبیلہ دین و مذہب صنعت وحرفت دوستی یا کسی دیگر معاملہ میں دوسرے کا شریک ہو اسے اخ کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ } ( سورة آل عمران 156) ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں ۔ میں اخوان سے ان کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آیت کریمہ :۔{ أَخَا عَادٍ } ( سورة الأَحقاف 21) میں ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ ان پر بھائیوں کی طرح شفقت فرماتے تھے اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : ۔ { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا } ( سورة هود 61) اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ { وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ } ( سورة هود 50) اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ( ہود ) کو بھیجا ۔ { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا } ( سورة هود 84) اور مدین کی طرف ان کے بھائی ( شعیب ) کو بھیجا ۔ هرن هَارُونُ اسم أعجميّ ، ولم يرد في شيء من کلام العرب . خلف والخِلافةُ النّيابة عن الغیر إمّا لغیبة المنوب عنه، وإمّا لموته، وإمّا لعجزه، وإمّا لتشریف المستخلف . وعلی هذا الوجه الأخير استخلف اللہ أولیاء ه في الأرض، قال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلائِفَ فِي الْأَرْضِ [ فاطر/ 39] ، ( خ ل ف ) خلف ( پیچھے ) الخلافۃ کے معنی دوسرے کا نائب بننے کے ہیں ۔ خواہ وہ نیابت اس کی غیر حاضری کی وجہ سے ہو یا موت کے سبب ہو اور ریا اس کے عجز کے سبب سے ہوا دریا محض نائب کو شرف بخشے کی غرض سے ہو اس آخری معنی کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کو زمین میں خلافت بخشی ۔ ہے چناچہ فرمایا :۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلائِفَ الْأَرْضِ [ الأنعام/ 165] اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] صلح والصُّلْحُ يختصّ بإزالة النّفار بين الناس، يقال منه : اصْطَلَحُوا وتَصَالَحُوا، قال : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] ( ص ل ح ) الصلاح اور الصلح کا لفظ خاص کر لوگوں سے باہمی نفرت کو دورکر کے ( امن و سلامتی پیدا کرنے پر بولا جاتا ہے ) چناچہ اصطلحوا وتصالحوا کے معنی باہم امن و سلامتی سے رہنے کے ہیں قرآن میں ہے : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] کہ آپس میں کسی قرار داد پر صلح کرلیں اور صلح ہی بہتر ہے ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ فسد الفَسَادُ : خروج الشیء عن الاعتدال، قلیلا کان الخروج عنه أو كثيرا،. قال تعالی: لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] ، ( ف س د ) الفساد یہ فسد ( ن ) الشئی فھو فاسد کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کے حد اعتدال سے تجاوز کر جانا کے ہیں عام اس سے کہ وہ تجاوز کم ہو یا زیادہ قرآن میں ہے : ۔ لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] تو آسمان و زمین ۔۔۔۔۔ سب درہم برہم ہوجائیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ واتممنھا بعشر فتم میقات ربہ اربعین لیلۃ۔ ہم نے موسیٰ کو تیس شب و روز کے لئے (کوہ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کردیا۔ اس طرح اس کے رب کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہوگئی) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فتم میقات ربہ اربعین لیلۃ) اس لئے فرمایا کہ جب یہ ارشاد ہوا کہ ثلثین لیلۃ واتمماھا بعشر) تو سننے والوں کے لئے اس وہم کی گنجائش پیدا ہوگئی تھی کہ شاید پہلے بیس راتیں تھیں اور پھر اس تعداد میں دس کا اضافہ ہوا اور اس طرح تیس راتیں ہوگئیں اللہ تعالیٰ نے اس وہم اور گنجائش کو زائل کردیا اور یہ بتادیا کہ اس نے تیس راتوں میں مزید دس راتوں کا اضافہ کر کے چالیس کی تعداد پوری کردی۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٤٢) یعنی پورے ذی قعدہ کے مہینہ میں پہاڑ پر رہنے کا وعدہ کیا اور ذی الحجہ کے دس دن کا اور اضافہ کردیا، سو ان کے پروردگا کا یہ وقت مقرر ہوگیا اور اپنے بھائی سے کہنے لگے میرے قائم مقام ہوجاؤ اور ان کو نیکی کا حکم دو اور ان کے ساتھ برائی میں شامل نہ ہونا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤٢ (وَوٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَۃً ) یعنی کوہ سینا (طور) پر طلب کیا۔ عام طور پر اس طرح کہنے سے دن رات ہی مراد ہوتے ہیں ‘ لیکن عربی محاورہ میں رات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ (وَّاَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّہٖٓ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ج) ۔ اس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پر چلہ مکمل کیا ‘ جس کے دوران آپ نے لگاتار روزے بھی رکھے۔ ہمارے ہاں صوفیاء نے چلہ کاٹنے کا تصور غالباً یہیں سے لیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

99. After the exodus of the Israelites from Egypt which marks, on the one hand, the end of the constraints of slavery and on the other, the beginning of their life as an independent nation, Moses was summoned by God to Mount Sinai in order that he might receive the Law for Israel. He was initially summoned for a period of forty days so that he might single-mindedly devote himself to worshipping, fasting, meditation and reflection and thus develop the ability to receive the revelation which was to put a very heavy burden upon him. In compliance with God's command, Moses left the Israelites at the place now known as the Wadi al-Shaykh which lies between Nabi Salih and Mount Sinai. The place where the Israelites had camped is presently called Maydan al-Rahah. At one end of the valley is a hillock where, according to local tradition, the Prophet Salih pitched his tent after his migration from the land of Thamud. A mosque built as a monument to the Prophet Salih still adorns the landscape. Mount Harun is located at the other end of the valley where, again, according to local tradition, the Prophet Harun (Aaron) stayed after his exasperation with the Israelites because of their cow-worship. The top of the towering Mount Sinai, standing 7,359 feet high, is mostly enveloped by clouds. The cave to which Moses retired for forty days to devote himself to worship and meditation is situated at the top of the mountain, and still attracts many pilgrims. Close to the cave are a mosque and a church. Moreover, a monastery built in the Justinian period stands even today at the foot of the mountain. (See Tafhim al-Qur'an, al-Naml 27: nn. 9-10.) 100. Although Aaron was senior to Moses in age by three years, he was placed under the direction of the Prophet Moses and was required to assist him in connection with his mission, As explained elsewhere in the Qur'an, Aaron was not assigned independent prophethood; he was rather appointed a Prophet by God in response to Moses' prayer that he be appointed as his assistant. (See Ta Ha 20: 29-31 - Ed.)

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :99 مصر سے نکلنے کے بعد جب بنی اسرئیل کی غلامانہ پابندیاں ختم ہوگئیں اور اُنہیں ایک خود مختار قوم کی حیثیت حاصل ہوگئی تو حکمِ خداوندی کے تحت حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ سینا پر طلب کیے گئے تا کہ انہیں بنی اسرائیل کے لیے شریعت عطا فرمائی جائے کہ حضرت موسیٰ ایک پورا چِلّہ پہاڑ پر گزاریں اور روزے رکھ کر ، شب و روز عبادت اور تفکر و تدبر کر کے اور دل و دماغ کو یکسو کر کے اس قول ثقیل کے اخذ کرنے کی استعداد اپنے اندر پیدا کریں جو ان پر نازل کیا جانے والا تھا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس ارشاد کی تعمیل میں کوہ سینا جاتے وقت بنی اسرائیل کو اس مقام پر چھوڑا تھا جو موجودہ نقشہ میں نبی صالح اور کوہ سینا کے درمیان وادی ایشخ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس وادی کا وہ حصہ جہاں بنی اسرائیل نے پڑاؤ کیا تھا آج کل میدان الراحہ کہلاتا ہے ۔ وادی کے ایک سرے پر وہ پہاڑی واقع ہے جہاں مقامی روایت کے بموجب حضرت صالح علیہ السلام ثمود کے علاقے سے ہجرت کر کے تشریف لے آئے تھے ۔ آج وہاں ان کی یادگار میں ایک مسجد بنی ہوئی ہے ۔ دوسری طرف ایک اور پہاڑی جبل ہارون نامی ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی سے ناراض ہو کر جابیٹھے تھے ۔ تیسری طرف سینا کا بلند پہاڑ ہے جس کا بالائی حصہ اکثر بادلوں سے ڈھکا رہتا ہے اور جس کی بلندی ۷۳۹۵ فیٹ ہے ۔ اس پہاڑ کی چوٹی پر آج تک وہ کھوہ زیارت گاہِ عام بنی ہوئی ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے چلّہ کیا تھا ۔ اس کے قریب مسلمانوں کی ایک مسجد اور عیسائیوں کا ایک گرجا موجود ہے اور پہاڑ کے دامن میں رومی قیصر جسٹنین کے زمانہ کی ایک خانقاہ آج تک موجود ہے ۔ ( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو النمل ، حواشی ۹ ۔ ١۰ ) ۔ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :100 حضرت ہارون علیہ السلام اگرچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تین سال بڑے تھے لیکن کار نبوّت میں حضرت موسیٰ کے ماتحت اور مددگار تھے ۔ ان کی نبوت مستقل نہ تھی بلکہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کر کے ان کو اپنے وزیر کی حیثیت سے مانگا تھا جیسا کہ آگے چل کر قرآن مجید میں بتصریح بیان ہوا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

64: فرعون سے نجات پانے اور سمندر عبور کرلینے کے بعد کچھ واقعات اس جگہ بیان نہیں ہوئے، ان کی کچھ تفصیل سور مائدہ (20:50 تا 26) میں گذر چکی ہے۔ ان آیات کے حواشی میں ہم نے یہ تفصیل بقدر ضرورت بیان کردی ہے۔ اب یہاں سے دو واقعات بیان فرمائے جا رہے ہیں جو وادی تیہ (صحرائے سینا) میں پیش آئے جہاں بنی اسرائیل کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے چالیس سال تک مقید کردیا گیا (جس کا واقعہ سورۃ مائدہ میں گذارا ہے) اس دوران انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ اپنے وعدے کے مطابق ہمیں کوئی آسمانی کتاب لا کردیں جس میں ہمارے لیے زندگی گذارنے کے قوانین درج ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی کہ وہ کوہ طور پر آکر تیس دن رات اعتکاف کریں۔ بعد میں کسی مصلحت سے یہ مدت بڑھا کر چالیس دن کردی گئی۔ اسی اعتکاف کے دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلامی کا شرف عطا فرمایا، اور تورات عطا فرمائی جو تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اللہ پاک نے بنی اسرائیل پر اپنا احسان اس بات کا جتلایا کہ ہم نے تمہارے نبی موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کہیں اور ان کو تمہاری ہدایت کے لئے تورات دی یہ بھی فرمایا کہ ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا تھا اور پھر چالیس راتیں پوری کرنے کو کہا یہاں پر مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ ذیقعدہ کی پہلی تاریخ سے موسیٰ ( علیہ السلام) چلہ میں بیٹھے تھے دن کو روزہ رکھتے تھے جب تیس راتیں پوری ہوگئیں تو انہوں نے روزے کی حالت میں مسواک کی اور منہ کو صاف کیا کیونکہ روزہ داروں کے منہ سے ایک طرح کو بو آنے لگتی ہے جس کو اللہ پاک مشک کی خوشبو سے اچھا سمجھتا ہے چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ (رض) (رض) کی ایک حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ پاک کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے غرض کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مسواک کرنے پر اللہ تعالیٰ نے اور دس راتیں چلے میں بڑھا دیں تاکہ روزہ رکھنے سے پھر وہی بو پیدا ہوجائے جب چالیس باتیں پوری ہوگئیں توذی الحج کی دسویں تاریخ کو اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کیں اور جب موسیٰ (علیہ السلام) چلہ پورا کرنے جانے لگے تھے تو انہوں نے اپنے بڑے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو خلیفہ بنا کر یہ کہا تھا کہ بنی اسرائیل کی میرے پیچھے خبر گیری رکھی جاوے کہ کوئی فساد نہ ہونے پاوے اگر کوئی فساد برپاکرے تو اس کی طرف داری تم نہ کرنا ان کی قوم بنی اسرائیل اس عرصہ میں بہک گئے اور تیس راتیں گذرنے کے بعد بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کا انتظار نہ کیا اور بچھڑے کی پوجا شروع کردی جس کا قصہ سورة بقر میں گذر چکا ہے اور اس سورة میں بھی آگے آویگا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے سورة نساء میں عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ سے بڑھ کر عذر معذرت کا قبول کرنے والا کون ہوسکتا ہے جس نے احکام شرع کی انجانی رفع کرنے کے لئے رسولوں کو بھیجا کتابیں نازل فرمائیں اس حدیث کو آیت کو تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ جب تک بنی اسرائیل کو فرعون کی قید سے نجات نہیں ملی تھی جس کے سبب ان کو شریعت موسوی پر پورا پورا عمل نہ کرنے کے عذر کا موقعہ تھا اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے تورات نازل نہیں فرمائی جب فوعون اور اس کو قوم کی ہلاکت کے سبب سے بنی اسرائیل کے اس عذر موقعہ باقی نہیں رہا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلایا اور ان کو چالیس روز کی عبادت کے بعد ان پر تو رات نازل فرمائی تاکہ بنی اسرائیل کو شریعت موسوی کے احکام معلوم ہوجاویں اور ان احکام کی انجانی کا عذر باقی نہ رہے صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة نساء میں ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث بھی گذر چکی ہے کہ جس شخص کی عمر ساٹھ برس کی ہوگئی اس کو دین کے جان لینے کا پورا موقعہ مل گیا اس لئے ایسے شخص کا انجانی کا عذر قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں قبول نہ ہوگا اس حدیث کو بھی آیت کی تفسیر میں یہ دخل ہے کہ اس سے ہر ایک شریعت کے جان یدنے کی آخری حد معلوم ہوتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:142) فاتممناھا بعشر۔ اور پورا کیا ہم نے ان (تیس راتوں) کو (مزید) دس راتوں سے۔ فتم۔ پس تمام ہوا۔ یعنی پورا ہوگیا۔ میقات۔ ظرف زمان ۔ مقررہ وقت۔ میعاد۔ وہ میعاد وقت جس میں مقررہ کام کیا جاوے۔ امام راغب نے اس کو اسم آلہ (بروزن مفعال) کہا ہے۔ اربعین لیلۃ۔ چالیس راتیں۔ یہی مدت چلہ کشی کی اصل ہے۔ وضاحت کے لئے کتب تفسیر کی طرف رجوع کریں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 فرعون سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو کوہ طور پر طلب فرمایا تاکہ انہیں کتاب عطا کی جائے اور تیس دن کی میعاد مقرر کی گئی اور پھر اس میں مزید دس دن کا اضافہ کردیا گیا تاکہ ان چالیس دنوں میں موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) روزہ رکھیں اور دن رات عبادت اور تفکر و تدبر میں مصروف رہیں جب موسیٰ ( علیہ السلام) چالیس دن کی یہ معاد پوری کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے اس کلام فرمایا اور انہیں الواح دیئے اکثر مفسیر ن چالیس دونوں سے ذولقعد اور دس ذوالحجہ کے مراد لیے ہیں اس طرح گو یا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو الواح 10 ذولحجہ کو ملیں اور یہی وہ دن ہے جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آیت الیو اکملت لکم الایتہ نازل ہوتی واللہ اعلم ( ازابن کثیر)7 بنی اسرائیل پر اصل سردراری موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی تھی حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو بنی ( علیہ السلام) تھے لیکن ان کی حیثیت دراصل حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ایک وزیر اور مددگار کی تھی، اور اسی حیثیت سے حضرت موے اللہ تعالیٰ سے انہیں مانگا تھا۔ دیکھئے طحہٰ آیت 30، (کذافی الکبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 17 ۔ آیات 142 تا 147 ۔ اسرار و معارف : چنانچہ جب فرعون سے امن نصیب ہوا تو اب ضرورت پیش آئی کہ اگر بت پرستی درست نہیں تو کوئی طریق عبادت اور شریعت تو ہونا چاہئے جسے اختیار کرکے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کی جائے تو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ طور پر آ کر تیس راتوں کا اعتکاف کریں تاکہ آپ کو کتاب عطا ہو اور پھر دس راتیں مزید بڑھا دی گئیں یعنی مطلوبہ نسبت یا توجہ الی اللہ تیس کی بجائے چالیس راتوں میں نصیب ہوئی غرض ایک حالت مطلوب تھی جو اللہ کریم چاہتے تو بغیر کسی مجاہدے کے بھی عطا فرما سکتے تھے مگر دنیا عالم اسباب ہے لہذا سبب اختیار کرنے کا حکم دیا۔ خلوت کا اثر : جہاں ضرورت ہو خواتین کام کرسکتی ہیں مگر مردوں کے ساتھ آزادانہ میل جول کی اجازت نہیں ہاں خواتین الگ رہ کر کام کریں یہی حنیفیہ کا مسلک ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ڈول کھینچ کر ان کی بکریوں کو بھی پانی پلا دیا اور وہ گھر چلی گئیں آپ کسی سایہ کے نیچے جاکر بیٹھے اور دعا کی اے میرے پروردگار تو جو نعمت اور خیر عطا کرے تیری مرضی کہ میں اس وقت بہت ضرورت مند اور محتاج ہوں۔ اللہ کے الوالعزم رسول کی دعا سفر تھکاوٹ بھوک پیاس اور غریب الوطنی میں قبول ہوئی کہ ادھر وہ بچیاں ھر پہنچیں تو والد گرمی نے جلد آنے کا سبب پوچھا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ سنایا تو فرمایا کہ انہیں بلا کرلے آؤ یہ شعیب (علیہ السلام) تھے آپ بوڑھے بھی تھے اور بینائی بھی نہ تھی ۔ چناچہ ان میں سے ایک بچی اس انداز سے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچی کہ اس کے چلنے سے بھی حیا ٹپک رہی تھی یعنی ان کی دعا کا جواب آیا ۔ واقعی عورت میں حیا ہو تو اللہ کریم کی بہت بڑی نعمت ہے کہ ایک خاتون کے ملنے سے انہیں گھر کنبہ اور ہمدرد سب کچھ میسر آگیا۔ چناچہ انہیں نے آکر فرمایا میرے والد آپ کو یاد فرماتے ہیں کہ آپ نے ہمارا کام کردیا وہ چاہتے ہیں کہ آپ کو اس کا کچھ معاوضہ دیں۔ آپ ساتھ چلے تو مفسرین فرماتے ہیں کہ خود آگے چلے اور انہیں اپنے پیچھے آنے اور راستہ بتانے کا فرمایا کہ اجنبی خاتون پر نظر نہ پڑے۔ جب شعیب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور سب واقع بیان فرمایا تو انہوں نے فرمایا کہ اب یہاں کوئی خطرہ نہیں آپ اس ملک کی حدود سے باہر آگئے کوئی ڈرنے کی بات نہیں اب آپ اس ظالم قوم کے ہاتھ سے بچ نکلے۔ تب ان کی بیٹی نے درخواست کی کہ ابا انہیں ملازم رکھ لیجیے کہ ضرورت تو ہے اور یہ بڑے قوی بھی ہیں کہ پانی کھینچ نکالا اور امانت دار بھی ہیں کہ ہمارے ساتھ بہت دیانت و امانت کا معاملہ فرمایا ۔ اللہ کی طرف سے جو عطا ہو وہی سب سے بہتر انعام ہوتا ہے یہاں سے ثابت ہے کہ کسی ملازمت یا منصب کے لیے دو شرطوں کا ہونا ضروری ہے اول اس کام کی اہلیت رکھتا ہو دوسرے امین اور دیانتدار ہو کہ خلوص سے کام کرے تو انہوں نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ایک بیٹی آپ کے نکاح میں دے دوں مگر شرط یہ ہے کہ آٹھ برس ہمارا کام کریں گے۔ گمراہی کا سبب : یہاں سول پیدا ہوتا ہے کہ کہ کیا بیوی کی خدمت اس کا مہر ہوسکتی ہے تو فقہا کے نزدیک اس کی ذاتی خدمت نہیں مگر ہاں اس کا کام ہو جیسے تجارتی منصوبہ یا کوئی اور کام فارم مواشی وغیرہ تو وہ کام کرنا اور اس کی اجرت مہر میں منتقل کردینا جائز ہے یا پھر جیسے یہاں سب کی خدمت تھی تو والد کا کام اس شرط پر کہ تنخواہ بیٹی کو مہر میں دے جائز ہے پھر یہ بیٹی کا حق ہے کہ وہ چاہے تو والد کو معاف کردے لہذا آپ نے فرمایا کہ آٹھ سال یہاں رہ کر ہماری خدمت کرو اور اگر دس سال کرو تو یہ تمہارا احسان ہوگا بہرحال دونوں میں سے جو مدت بھی آپ پوری کردیں درست ہے کہ میں آپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتا نہ میعاد بڑھا کر اور نہ کوئی ایسا کام کرنے کا حکم دوں گا جو آپ نہ کرسکیں۔ اور ساتھ رہ کر آپ مجھے اللہ کا نیک بندہ پائیں گے کہ کسی کی بھلائی کا احساس و ثبوت اس کے کردار سے ملتا ہے۔ انہوں نے قبول کرلیا کہ دونوں میں سے جو عرصہ بھی پورا کردوں درست ہوگا ہمارے اس معاہدے پر الہ کریم کو گواہ کرتے ہیں۔ گناہ اور غفلت مفضی الی الکفر ہوتی ہے : یعنی نافرمانی اور گناہ یاد الہی سے غفلت کا سبب بنتے ہیں اور اگر یہ غفلت ہمیشہ رہے اور اس کا ازالہ نہ ہو تو نہ صرف یاد حق سے غافل رہتا ہے بلکہ آخرت کی حاضری سے بھی غافل ہو کر منکر ہوجاتا ہے اور یوں کفر میں مبتلا ہونے والا سب نیکیاں برباد کرلیتا ہے کہ جزا تو اسی پر مرتب ہوگی جو عمل اختیار کیا جائے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تشریح آیات نمبر 142 تا 144 فرعون اپنے تمام لاء لشکر کے ساتھ غرق ہوچکا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری قوتیں بنی اسرائیل کو دے کر ان پر جانشینی اور خلافت کی ذمہ داریاں ڈال دی تھیں ۔ اگر ذمہ داریاں ڈال دی جائیں تو اور ذمہ داریوں کی وضاحت نہ کی جائے تو انسان کس طرح اپنی ذمہ داریون کو پورا کرسکتا ہے اس لئے اب بنی اسرائیل کے لئے ایک کتاب اور مستقل شریعت کی ضرورت تھی اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلوایا۔ کوہ طور ایک پہاڑ کا نام نہیں بلکہ یہ متعدد پہاڑ ہیں ۔ کوہ سینا کی چوٹی کا نام طور ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تیس دن کے لئے بلوایا اور اس میں مزیددس دن کا اضافہ فرما کر اس کی مدت کو چالیس دن فرمادیا۔ یہی وہ طور ہے جس کی بلندی 259 فٹ ہے۔ کوہ سینا کے نیچے ایک وادی ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی وقم کے لوگوں کو چھوڑا تھا اسے آجکل میدان الراحہ کہا جاتا ہے۔ یہی وہ طور ہے جس پر اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا۔ اور توریت جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب کوہ طور پر تشریف لے گئے تو اپنی جگہ بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو قائم مقام بنا کر گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ منصب خالی چھوڑ کر نہ جانا چاہیے بلکہ اپنی جگہ کسی موزوں اور معتبر آدمی کو اپنی جگہ نمائندہ مقرر کرکے جانا چاہئے تاکہ قوم کی رہنمائی ہوتی رہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی مدینہ منورہ سے باہر تشریف لیجاتے تو اپنی جگہ کسی کو ذمہ دار بنا کر جاتے تھے۔ اسی سنت پر خلفاء راشدین بھی چل کر ہمیشہ اپنی جگہ کسی کو اپنا جانشین بناتے تھے۔ صحابہ کرام (رض) کا بھی اسی پر عمل رہا اور انہوں نے بھی ہمیشہ اسی سنت کو زندہ رکھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی جب تیس دن کے لئے کوہ طور پر تشریف لے گئے تو اپنی جگہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو واضح ہدایات کے ساتھ اپنا جانشین بناکر گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی سے فرمایا کہ میری جگہ میری قوم میں تم میرے جانشین ہو۔ ان کی اصلاح کا خیال رکھنا اور فسادیوں کے فساد کی پرواہ نہ کرنا بلکہ ان کی بھی اصلاح کرتے رہنا۔ ان ہدایات کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر پہنچ گئے اور اللہ نے ان سے کلام کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی محبت اور تجلیات میں ایسے کھو گئے کہ ایک درخواست کر ڈالی کہ رب العالمین میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں مجھے دیکھنے کی طاقت عطا فرمادیجئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تم مجھے نہیں دیکھ سکتے یعنی تمہاری آنکھوں میں طاقت ہی نہیں ہے کہ تم مجھے دیکھ سکو۔ ہم اپنی تجلی کو پہاڑ پر ڈالتے ہیں چناچہ اللہ نے اپنی تجلی پہاڑ پر ڈالی تو پہاڑ سرمہ سرمہ ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اس ہولناک آواز سے ہی بےہوش ہو کر گر پڑے۔ ہوش میں آئے تو عرض کیا رب العالمین میں اپنی درخواست سے توبہ کرتا ہوں اور میں اس پر پوری طرح یقین کرنے والا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے اپنی رسالت اور کلام کے لئے تمہیں منتخب کرلیا ہے اس بڑی سعادت تمہارے لئے اور کیا ہوگی۔ اب تم صبر شکر کے ساتھ میرا کلام سنو اور اپنی امت تک پہنچا دو ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا اخلقنی فرمانا اس بنا پر ہے کہ حضرت ہارون صرف نبی تھے حاکم اور سلطان نہ تھے اس صفت میں خلیفہ بنانا مقصود ہے استخلاف فی النبوة مقصود نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کے آزاد ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی شکل میں مفصل ہدایات دیں تاکہ وہ اپنی قوم کی تربیت کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آزادی عنایت فرمانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر طلب فرمایا کہ انھیں مفصل کتاب دی جائے۔ تاکہ بنی اسرائیل کو شام و فلسطین کا اقتدار ملنے سے پہلے ان کی تربیت کرسکیں۔ جن پر عمل پیرا ہو کر یہ لوگ اپنے آپ کو قیادت کے اہل ثابت کریں۔ چنانچہ حکم ہوا کہ اے موسیٰ ! آپ تیس دن تک کوہ طور پر اعتکاف کریں۔ جس کو بعد میں چالیس دن کردیا گیا۔ یہ اعتکاف آزادی کا شکریہ بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی اور کتاب کی دستیابی کے لیے روحانی بلندی کا ارتقا بھی تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) میں روحانی صلاحیت پیدا ہو سکے جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور وحی الٰہی کا بار اٹھانے کے لیے ضروری تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر جاتے ہوئے اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) جو عمر میں تین سال بڑے تھے مگر ان کے نائب نبی تھے کو یہ ہدایات دے کر رخصت ہوتے ہیں کہ میری غیر حاضری میں میرا قائم مقام ہوتے ہوئے قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہیں۔ اور اگر قوم برائی کا راستہ اختیار کرے تو ان کی اتباع ہرگز نہ کریں۔ اس سے ثابت ہوا کہ قوم کا حقیقی مصلح وہ ہوتا ہے جو قومی رسم و رواج کے پیچھے لگنے کے بجائے قوم کی اصلاح کرکے انھیں سیدھے راستے پر چلائے۔ ایسے مصلح کا اجر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے نیک کاموں کے ساتھ اس کی تحریک پر نیکی کرنے والوں کے اجر کا بدلہ بھی اسے دیا جائے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کی مدت پوری کرتے ہیں۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے انھیں تورات عنایت فرمائی اور اپنی ہم کلامی کا شرف بخشا۔ ( عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِیِّ (رض) قَالَ جَآءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ إِنِّی أُبْدِعَ بِیْ فَاحْمِلْنِی فَقَالَ مَا عِنْدِیْ فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُول اللّٰہِ أَنَا أَدُلُّہُ عَلٰی مَنْ یَحْمِلُہُ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہٗ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہٖ ) [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب فضل اعانۃ الغازی ] ” حضرت ابو مسعود (رض) فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا میرے پاس سواری نہیں ہے مجھے سواری عنایت کیجیے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے پاس بھی نہیں ہے۔ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں اس کو اس شخص کی طرف رہنمائی کرتا ہوں جو اسے سواری دے سکے۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے کسی کی بھلائی کی طرف رہنمائی کی تو اسے بھی وہ نیکی کرنے والے کی طرح ہی اجر دیا جائے گا۔ “ مسائل ١۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر چالیس دن اعتکاف فرمایا۔ ٢۔ حضرت ہارون جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ، نبی اور ان کے بھائی تھے۔ ٣۔ آدمی کو مفسدین کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن مفسد اور گمراہ لوگوں کے طریقہ سے اجتناب کا حکم : ١۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا کہ فساد کرنے والوں کی راہ سے اجتناب کرنا۔ (الاعراف : ١٤٢) ٢۔ اگر تم پھر جاؤ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ (آل عمران : ٦٣) ٣۔ لوگ زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (المائدۃ : ٦٤) ٤۔ اللہ فساد کرنے والوں کے کام نہیں سنوارتا۔ (یونس : ٨١) ٥۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا زمین میں فساد کا باعث نہ بنو۔ (الاعراف : ٨٥) ٦۔ زمین کی اصلاح کے بعد اس کے بگاڑ کا سبب نہ بنو اور اللہ تعالیٰ کو خوف طمع سے پکارو۔ (الاعراف : ٥٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ آٹھواں منظر ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ اور آپ کے رب العالمین کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے۔ حضرت موسیٰ اس عظیم تقریب کے لیے بڑا اہتمام کرتے ہیں۔ حضرت ہارون کو وصیت کرکے اپنا قائم مقام بناتے ہیں اور اس کے بعد آپ اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی مہم کا پہلا مرحلہ اب مکمل ہوگیا ہے ، اس مرحلے میں بنی اسرائیل کو ذلت اور زبردستی کی زندگی سے نکال دیا گیا ہے۔ اب وہ قوم فرعون کی ایذا رسانیوں اور تشدد کے دائرے سے باہر نکل آتے ہیں۔ ذلت اور غلامی کی شہری زندگی کو ترک کرکے اب وہ صحرا کی آزاد فضاؤں میں گھوم رہے ہیں۔ اور ارض مقدس کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ابھی تک وہ ارض مقدس کی بازیابی کی عظیم اور اصلی مہم کے اہل ہی نہیں بنے۔ یہ تو نہایت ہی عظیم اور کانٹوں سے پر راہ ہے کہ کوئی کرہ ارض پر اقتدار کے مناصب حاصل کرکے فریضہ خلافت ارضی کا منصب سنبھال لے۔ اس سے قتبل کے منظر میں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ان کے دلوں میں بت پرستی اور شرک نے کس طرح گھر کرلیا ہے کہ ایک بت پرست قوم کو دوران سفر دیکھتے ہی اپنے لیے بتوں کا مطالبہ کردیا۔ ان کے اذہان و قلوب سے عقیدہ توحید متزلزل ہوگیا جس کے لیے حضرت موسیٰ کو خاص طور پر رسول بنا کر بھیجا گیا اور اس پر کچھ زیادہ عرصہ بھی نہ گزرا تھا۔ لہذا اس بات کی ضرورت تھی کہ حضرت موسیٰ کو تفصیلی ہدایات دے کر ان کے پاس واپس بھیجا جائے اور آپ نئی ہدایات کے تحت اس قوم کی تنظیم و تربیت کریں تاکہ وہ ارض مقدس کی آزادی کا عظیم فریضہ ادا کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقررہ وقت و مقام میں ملاقات کی دعوت دی تاکہ آپ اللہ تعالیٰ سے براہ راست کوئی ہدایات لیں۔ اور اس ملاقات میں خود حضرت موسیٰ کی بھی مزید تربیت مقصود تھی تاکہ آپ بھی آنے والے مشکل حالات اور مشکل مہمات کے لیے تیار ہوجائیں۔ آپ کی تربیت کا کورس تیس دن مقرر ہوا تھا۔ اس میں دس دن کا مزید اضافہ کردیا گیا۔ یوں چالیس دن تک یہ سلسلہ چلا۔ حضرت موسیٰ نے اس عرصے میں ملاقات الٰہی کے لیے ریاض کیا۔ آپ اس دنیا کی دلچسپیوں سے دور ہوگئے۔ اور عالم بالا کی طرف قریب ہوگئے ، لوگوں سے دور اور رب العالمین سے قرب حاصل کیا۔ آپ کی روح صاف ہوگئی اور آپ کا اندرون روشن ہوگیا اور یوں آپ کو براہ راست رب العالمین کی تربیت میں آنے والے فرائض منصب رسالت کے لیے تیار کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی روانگی سے قبل اپنے بھائی اور جانشین حضرت ہارون کو ان الفاظ میں وصیت کی۔ وَقَالَ مُوْسٰي لِاَخِيْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ ۔ موسیٰ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ " میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا " حضرت موسیٰ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت ہارون بھی اللہ کی جانب سے نبی مسل ہیں۔ لیکن ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کو نصیحت کرے بلکہ نصیحت ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر فرض ہے۔ پھر حضرت موسیٰ کو ان بھاری ذمہ داریوں کا اچھی طرح احساس تھا اور آپ اپنی قوم بنی اسرائیل کو بھی اچھی طرح جانتے تھے۔ حضرت ہارون نے کشادہ دلی سے نصیحت کو سنا اور قبول کیا۔ انہوں نے اس پر برا نہ منایا ، کیونکہ نصیحت برے لوگوں کو اچھی معلوم نہیں ہوتی ، کیونکہ یہ لوگ بھلائی سے چھٹکارا چاہتنے والے ہوتے ہیں اور ان چھوٹے قد والوں پر بھی نصیحت گراں گزرتی ہے جو اپنے آپ کو بہت ہی بڑی چیز سمجھتے ہیں اور ان کو نصیحت کی جائے تو یہ چھوٹے قد کے لوگ اس میں اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ چھوٹے قد والے متکبر وہ ہوتے ہیں کہ تم ان کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہو کہ ان کی امداد کرو اور وہ تمہارے ہاتھکو جھٹک دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو بڑا دکھا سکیں۔ یہ تیس راتیں اور پھر ان میں دس دن کی مزید وسعت میں کیا حالات پیش آئے ؟ ان کے بارے میں ابن کثیر کہتے ہیں " اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ساتھ تیس راتیں مقرر کی تھیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے اس عرصے میں روزے رکھے اور کچھ نہ کھایا۔ اور جب میعاد پوری ہوگئی تو آپ نے درخت کے چھلکے سے مسواک کی۔ اس پر اللہ نے ان کو حکم دیا کہ آپ چالیس دن پورے کریں "

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا طور پر تشریف لے جانا اور وہاں چالیس راتیں گزارنا مصر میں بنی اسرائیل بہت ہی زیادہ مقہور اور مجبور تھے وہاں ان کو حکم تھا کہ ایمان لائیں اور گھروں میں نماز پڑھ لیا کریں۔ جب فرعونیوں سے نجات پا گئے تو اب عمل کرنے اور احکام خداوندیہ کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے شریعت کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت شریف دینے کے لیے طور پہاڑ پر بلایا اور وہاں تیس دن اعتکاف کرنے اور روزے رکھنے کا حکم دیا لیکن تیس راتیں گزارنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مسواک کرلی جس سے وہ خاص قسم کی مہک جاتی رہی جو روزہ دار کے منہ سے پیدا ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے مزید دس راتیں وہیں گزارنے کا حکم دیا۔ جب چالیس راتیں پوری ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں توریت شریف عطا فرما دی جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر جانے کے لیے روانہ ہونے لگے تو اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا کہ میرے پیچھے بنی اسرائیل کی دیکھ بھال کرنا اور ان کی اصلاح کرتے رہنا اور ان میں جو مفسد ہیں ان کا اتباع نہ کرنا یعنی ان کی رائے پر مت چلنا۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) بھی نبی تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی نبوت سے سر فراز فرمایا تھا۔ وہ خود بھی اپنی پیغمبرانہ ذمہ داری کو پورا کرنے والے تھے لیکن قوم کے مزاج اور طبیعت کی کجروی کو دیکھتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو مزید تاکید فرمائی۔ جب دریا پار ہوئے تھے تو بنی اسرائیل نے ایک بت پرست قوم کو دیکھ کر کہا تھا کہ ہمارے لیے بھی ایسا معبود بنا دو ۔ اب خطرہ تھا کہ اس طرح کی کوئی اور حرکت نہ کر بیٹھیں اس لیے ان کی نگرانی کے لیے تاکید فرمائی۔ آخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ ان میں ایک شخص سامری تھا اس نے زیورات کا ایک بچھڑا بنایا اور بنی اسرائیل نے اسے معبود بنا لیا، جیسا کہ چند آیات کے بعد یہاں سورة اعراف میں آ رہا ہے اور سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ (انوار البیان ج ١) نیز سورة طہٰ میں بھی مذکور ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

133: یہ پانچواں واقعہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر میں بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ نے تمہارے دشمن فرعون کو ہلاک کردیا تو میں اللہ کی طرف سے ایک کتاب لاؤں گا جس میں شریعت کے تمام احکام مذکور ہوں گے۔ غرق فرعون کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے کتاب کے لیے التجا کی تو حکم ہوا کہ تیس دن کے روزے رکھو، تیس روزوں کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے منہ کو بو ناگوار سی محسوس ہوئی تو انہوں نے مسواک سے اس کا ازالہ کردیا اس پر اللہ نے حکم فرمایا تمہارے منہ کی بو مجھے کستوری سے بھی زیادہ پسند تھی مگر تم نے مسواک کر کے اس کو زائل کردیا اس لیے اب دس روزے اور رکھو اس طرح پورے چالیس دن ہوگئے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

142 جب بنی اسرائیل کو اطمینان ہوا تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کتاب طلب کی تاکہ اس کتاب پر عمل شروع کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ن جناب باری کی خدمت میں عرض کی اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہیں اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا یعنی ابتدائً کم از کم تیس رات کوہ طور پر آکر اعتکاف کرو اور پورے مہینے کے روزے رکھو تو ہم تم کو تمہاری امت کے لئے کتاب تورات عنایت کردیں گے بشرطیکہ آداب عبودیت اور صلاحیت و استعداد کی تکمیل ہوگئی ورنہ اس مدت میں اضافہ کردیا جائے گا چناچہ ان تیس راتوں میں ہم نے دس راتوں کا اضافہ کرکے ان راتوں کو پورا کردیا لہٰذا اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے رب کی مقررہ مدت چالیس راتیں پوری ہوگئیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پر جاتے وقت اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا تو میری قوم میں میری نیابت یعنی وہی خدمت انجام دیجئو جو میں دیا کرتاہوں اور ان کی اصلاح اور عقائد و اعمال کی درستی کرتا رہیو اور شرارت پسندوں کا راستہ اختیار نہ کیجئو اور مفسدین کی راہ نہ چلیئو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حق تعالیٰ نے وعدہ دیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہ پہاڑ پر تیس رات خلوت کرو کہ تمہاری قوم کو تورات دوں اس مدت میں انہوں نے ایک دن مسواک کی فرشتوں کو ان کے منہ کی بو سے خوشی تھی وہ جاتی رہی اس کے بدل میں دس رات اور بڑھاکر مدت پوری کی۔