Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 166

سورة الأعراف

فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُہُوۡا عَنۡہُ قُلۡنَا لَہُمۡ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ ﴿۱۶۶﴾

So when they were insolent about that which they had been forbidden, We said to them, "Be apes, despised."

یعنی جب وہ ، جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا اس میں حد سے نکل گئے تو ہم نے ان کو کہہ دیا تم ذلیل بندر بن جاؤ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So when they exceeded the limits of what they were prohibited, We said to them: "Be you monkeys, despised." خَاسِيِينَ (despised), humiliated, disgraced and rejected.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

166۔ 1 عَتَوا کے معنی ہیں جنہوں نے اللہ کی نافرمانی میں حد سے تجاوز کیا۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ نجات پانے والے صرف وہی تھے، جو منع کرتے تھے اور باقی دونوں عذاب الٰہی کی زد میں آئے ؟ یا زد میں آنے والے صرف معصیت کار تھے ؟ باقی دو جماعتیں نجات پانے والی تھیں ؟ امام ابن کثیر نے دوسری رائے کو ترجیح دی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُہُوْا عَنْہُ قُلْنَا لَہُمْ كُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِـِٕـيْنَ۝ ١٦٦ عتو العُتُوُّ : النبوّ عن الطاعة، يقال : عَتَا يَعْتُو عُتُوّاً وعِتِيّاً. قال تعالی: وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيراً [ الفرقان/ 21] ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ [ الذاریات/ 44] ، عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّها[ الطلاق/ 8] ، بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ [ الملک/ 21] ، مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا[ مریم/ 8] ، أي : حالة لا سبیل إلى إصلاحها ومداواتها . وقیل :إلى رياضة، وهي الحالة المشار إليها بقول الشاعر : 310 ۔ ومن العناء رياضة الهرم وقوله تعالی: أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمنِ عِتِيًّا[ مریم/ 69] ، قيل : العِتِيُّ هاهنا مصدرٌ ، وقیل هو جمعُ عَاتٍ وقیل : العَاتِي : الجاسي . ( ع ت و ) عتا ۔ یعتوا ۔ عتوا ۔ عتیا ۔ حکم عدولی کرنا قرآن میں ہے : فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ [ الذاریات/ 44] تو انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سر کشی کی ۔ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيراً [ الفرقان/ 21] اور اسی بنا پر بڑے سر کش ہورہے ہیں ، عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّها[ الطلاق/ 8] اپنے پروردگار کے امر سے سر کشی کی ۔ بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ [ الملک/ 21] لیکن یہ سر کشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا[ مریم/ 8] کے معنی یہ ہیں کہ میں بڑھاپے کی ایسی حالت تک پہنچ گیا ہوں جہاں اصلاح اور مداوا کی کوئی سبیل نہیں رہتی یا عمر کے اس وجہ میں ریا ضۃ بھی بیکار ہوتی ہے اور لفظ ریا ضت سے وہی معنی مراد ہیں جن کی طرف شاعر نے اشارہ کیا ہے ( الکامل ) ( 302 ) امن العناء ریاضۃ الھرم اور انتہائی بڑھاپے میں ریاضت دینا سراسر تکلیف وہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمنِ عِتِيًّا[ مریم/ 69] جو خدا سے سخت سر کشی کرتے تھے میں بعض نے کہا ہے کہ عتیا مصدر بعض نے کہا ہے کہ عات کی جمع ہے اور العانی کے معنی سنگ دل اور اجڈ بھی آتے ہیں ۔ قرد القِرْدُ جمعه قِرَدَةٌ. قال تعالی: كُونُوا قِرَدَةً خاسِئِينَ [ البقرة/ 65] ، وقال : وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنازِيرَ [ المائدة/ 60] ، قيل : جعل صورهم المشاهدة کصور القردة . وقیل : بل جعل أخلاقهم كأخلاقها وإن لم تکن صورتهم کصورتها . والقُرَادُ جمعه : قِرْدَانٌ ، والصّوف القَرِدُ : المتداخل بعضه في بعض، ومنه قيل : سحاب قَرِدٌ ، أي : متلبّد، وأَقْرَدَ ، أي : لصق بالأرض لصوق القراد، وقَرَدَ : سکن سکونه، وقَرَّدْتُ البعیر : أزلت قراده، نحو : قذّيت ومرّضت، ويستعار ذلک للمداراة المتوصّل بها إلى خدیعة، فيقال : فلان يُقَرِّدُ فلانا، وسمّي حلمة الثّدي قرادا کما تسمّى حلمة تشبيها بها في الهيئة . ( ق ر د ) القردۃ بندر اس کی جمع قرود وقردۃ ہے اور آیات کریمہ : ۔ كُونُوا قِرَدَةً خاسِئِينَ [ البقرة/ 65] ذلیل و خوار بندر ہوجاؤ ۔ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنازِيرَ [ المائدة/ 60] اور جن کو ان میں سے بندر ۔۔۔۔ بنا دیا ۔ کو بعض نے ظاہر ی معنی پر حمل کیا ہے یعنی انہیں سچ مچ بندر بنا دیا گیا تھا بعض نے کہا ہے کہ انکے اخلاق واطور بندروں ایسے ہوگئے تھے ۔ نہ کہ وہ سچ مچ بندر بنا دیئے گئے تھے ۔ القراد چیچڑی ۔ جمع قردان ۔ صرف قرد الجھی ہوئی اون ( جو کاتی نہ جاسکے ) اسی سے تہ بر تہ چھائے ہوئے بادل کو سحاب قردۃُ کہا جاتا ہے ۔ اقر د چیچڑی کی طرح زمین کے ساتھ چمٹ جانا قرد چیچڑی کی طرح ساکن ہوجانا اور قر دت الابل کے معنی اونٹ سے چیچڑ دور کرنے کے ہیں مخذ جیسے قذبت ومرضت کا محاورہ ہے اور استعار کے طور پر قرد کے معنی چاپلوسی کے ذریعہ کیس کو دھوکا دینا بھی آتے ہیں چناچہ محاورہ ہے ۔ فلاں مدارات سے اسے فریب دے رہا ہے اور پستان کے سر سے کو قراد کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی شکلی بھی چیچڑی جیسی ہوتی ہے ۔ خسأ خَسَأْتُ الکلب فَخَسَأَ ، أي : زجرته مستهينا به فانزجر، وذلک إذا قلت له : اخْسَأْ ، قال تعالیٰ في صفة الكفّار : اخْسَؤُا فِيها وَلا تُكَلِّمُونِ [ المؤمنون/ 108] ، وقال تعالی: قُلْنا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خاسِئِينَ [ البقرة/ 65] ، ومنه : خَسَأَ البَصَرُ ، أي انقبض عن مهانة، قال : خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] . ( خ س ء ) خسات الکلب فخساء میں نے کہتے کو دھکتارا تو وہ دور ہوگیا ۔ اور کسی کو دھکتارنے کیے لئے عربی میں اخساء کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں کفار کے متعلق فرمایا ۔ اخْسَؤُا فِيها وَلا تُكَلِّمُونِ [ المؤمنون/ 108] اس میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو ۔ قُلْنا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خاسِئِينَ [ البقرة/ 65] تو ہم نے ان سے کہا ک ذلیل و خوار بند ر ہوجاؤ ۔ اسی سے خساء البصر کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں نظر درماندہ ہوکر منقبض ہوگئی ۔ قرآن میں ہے :۔ خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] . کہ وہ نظر درماندہ اور تھک کر لوٹ آئے گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٦٦) جو ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کرتے تھے ان کو بچالیا اور مچھلیاں پکڑنے والوں کو سخت عذاب میں گرفتار کردیا اور ان کو کہہ دیا گیا کہ تم بندر ذلیل بن جاؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦٦ (فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُہُوْا عَنْہُ قُلْنَا لَہُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِءِیْنَ ) آخر کار ان پر عذاب اس صورت میں آیا کہ ان کی انسانی شکلیں مسخ کر کے انہیں بندر بنا دیا گیا اور پھر انہیں ہلاک کردیا گیا۔ یہ اس واقعہ کی تفصیل ہے جس کا اجمالی ذکر سورة البقرۃ اور سورة المائدۃ میں بھی آچکا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ عذاب ان گروہوں میں سے صرف اس گروہ پر آیا تھا جو گناہ میں براہ راست ملوث تھا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ نہی عن المنکر کرنے والے لوگوں کے بارے میں واضح طور پر بتادیا گیا : (اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْہَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ ) کہ ہم نے ان کو بچالیا جو بدی سے روک رہے تھے اور جو گناہگار تھے ان کے بارے میں بھی صراحت سے بتادیا گیا : (وَاَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍم بَءِیْسٍم) کہ ہم نے پکڑ لیا ان لوگوں کو جو گناہ میں ملوث تھے ایک بہت ہی برے عذاب میں۔ جب کہ تیسرے گروہ کے بارے میں سکوت اختیار کیا گیا ہے۔ اس طرح ان لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر کوئی شخص براہ راست کسی گناہ کا ارتکاب کرنے سے بچا رہتا ہے تو فریضہ نہی عن المنکر میں کوتاہی ہونے کی صورت میں بھی وہ دنیا میں اس گناہ کی پاداش میں آنے والے عذاب سے بچ جائے گا۔ یہ نظریہ در اصل بہت بڑی غلط فہمی پر مبنی ہے اور اس کے پیچھے وہ انسانی نفسیات کار فرما ہے جس کے تحت انسان ذمہ داری سے فرار چاہتا ہے اور پھر اس کے لیے دلیلیں ڈھونڈتا اور بہانے تراشتا ہے۔ اسی طرح کی بات کا تذکرہ سورة المائدۃ کی آیت ١٠٥ کی تشریح کے ضمن میں بھی ہوچکا ہے۔ اس آیت کے حوالے سے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو خصوصی خطبہ ارشاد فرمانا پڑا تھا کہ لوگو ! تم (عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْج لاَ یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَیْتُمْ ط) کا بالکل غلط مفہوم سمجھ رہے ہو۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ دعوت و تبلیغ ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تمہاری ذمہ داری نہیں ہے ‘ بلکہ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ تم اس سلسلے میں اپنی پوری کوشش کرو ‘ اپنا فرض ادا کرو ‘ لیکن اس کے باوجود بھی اگر لوگ کفر یا گناہ پر اڑے رہیں تو پھر ان کا وبال تم پر نہیں ہوگا۔ یہاں اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ نہی عن المنکر نص قرآنی کے مطابق فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس ماحول میں اللہ تعالیٰ کے کسی واضح حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہو تو ان حالات میں گناہ کا ارتکاب کرنے والوں کو نہ روکنا ‘ نہی عن المنکر کا فرض ادانہ کرنا ‘ بذات خود ایک جرم ہے۔ لہٰذا اس واقعہ میں اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا کے زمرے میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اگرچہ براہ راست تو گناہ میں ملوث نہیں تھے ‘ لیکن مجرموں کو گناہ کرتے ہوئے دیکھ کر خاموش تھے۔ اس طرح یہ لوگ اللہ کی نافرمانی سے لوگوں کو نہ روکنے کے جرم کے مرتکب ہو رہے تھے۔ اس ضمن میں نص قطعی کے طور پر ایک حدیث قدسی بھی موجود ہے اور ایک بہت واضح قرآنی حکم بھی۔ پہلے حدیث ملاحظہ فرمائیں ‘ یہ حدیث مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنے مرتب کردہ خطبات جمعہ میں شامل کی ہے۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اَوْحَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلٰی جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ اَنِ اقْلِبْ مَدِیْنَۃَ کَذَا وَکَذَا بِاَھْلِھَا۔ قَالَ : یَا رَبِّ اِنَّ فِیْھِمْ عَبْدَکَ فُلاَناً لَمْ یَعْصِکَ طَرْفَۃَ عَیْنٍ ) قَالَ : (فَقَالَ : اِقْلِبْھَا عَلَیْہِ وَ عَلَیْہِمْ ‘ فَاِنَّ وَجْھَہٗ لَمْ یَتََمَعَّرْ فِیَّ سَاعَۃً قَطُّ ) (١) اللہ تعالیٰ نے جبرائیل ( علیہ السلام) کو وحی کی کہ فلاں فلاں شہر کو اس کے باسیوں پر الٹ دو ۔ جبرائیل ( علیہ السلام) نے عرض کیا کہ پروردگار ‘ اس میں تو تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے کبھی پلک جھپکنے کی دیر بھی تیری معصیت میں نہیں گزاری۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اس پر) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ الٹو اس بستی کو پہلے اس پر اور پھر دوسروں پر ‘ اس لیے کہ اس کے چہرے کا رنگ کبھی ایک لمحے کے لیے بھی میری غیرت کی وجہ سے متغیر نہیں ہوا۔ یعنی اس کے سامنے میرے احکام پامال ہوتے رہے ‘ شریعت کی دھجیاں بکھرتی رہیں اور یہ اپنی ذاتی پرہیزگاری کو سنبھال کر ذکر اذکار ‘ نوافل اور مراقبوں میں مصروف رہا۔ یہ دوسروں سے بڑھ کر مجرم ہے ! اب اس سلسلے میں نص قرآنی کے طور پر سورة الانفال کی آیت ٢٥ کا یہ واضح حکم بھی ملاحظہ کرلیجئے : (وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لاَّ تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً ج) اور ڈرو اس فتنہ (عذاب) سے جو خصوصیت کے ساتھ انہی لوگوں پر واقع نہیں ہوگا جو تم میں سے گنہگار ہیں۔ یعنی جب کسی قوم میں بحیثیت مجموعی منکرات پھیل جائیں اور اس وجہ سے ان کے لیے اس دنیا میں کسی اجتماعی سزا کا فیصلہ ہوجائے تو پھر ایسی سزا کی لپیٹ میں صرف گنہگار لوگ ہی نہیں آئیں گے۔ اس لحاظ سے یہ بہت تشویش ناک بات ہے۔ مگر آیت زیر مطالعہ میں (اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْہَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ ) کے الفاظ میں امید دلائی گئی ہے کہ جو لوگ اپنی استطاعت کے مطابق ‘ آخری وقت تک امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہیں گے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انہیں بچا لے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

126. For details see Towards Understanding the Q ur'an, vol. 1, alBaqarah 2: n. 83, pp. 81-2,

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :126 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ بقرہ ، حاشیہ نمبر۸۳ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

84: اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی صورتیں مسخ کرکے انہیں واقعی بندر بنادیا گیا، ہمارے دور کے بعض لوگ اس قسم کی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے قرآن کریم میں تاویلات بلکہ تحریفات کا دروازہ کھول دیتے ہیں، عجیب بات یہ ہے کہ جب ڈارون کسی قطعی دلیل کے بغیر یہ کہے کہ بندر ترقی کرکے انسان بن گیا تھا تو اسے ماننے میں انہیں تامل نہیں ہوتا ؛ لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے قطعی کلام میں یہ فرمائیں کہ انسان تنزل کرکے بندر بن گیا تو یہ حضرات شرما کر اس کی تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:166) عنوا۔ انہوں نے سرکشی کی۔ نافرمانی کی۔ سرتابی میں حد سے گزر گئے۔ شرارت میں انتہاء کو پہنچ گئے۔ عتو سے۔ نھوا۔ نہی سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب ان کو منع کیا گیا۔ قردۃ۔ جمع۔ قرد واحد۔ بندر۔ لنگور۔ خسئین۔ ذلیل ۔ خوار۔ خسنا سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا واقعی بندر بنا دیے گئے تھے یا ان میں صرف بندروں جیسی صفات پیدا کردی گئی تھیں بظاہر نظم قرآن سے معلوم ہو تو ہے کہ اسن کا یہ مسخ ہونا اخلاقی نہیں بلکہ جسمانی تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مسخ ہونے کے بعد وہ صرف تین دن زندہ ان کی کوئی نسل نہیں چلی۔ ( ابن کثیر) بعض کہتے ہیں کہ پہلے ان پر نافرمانی کی وجہ سے عذاب بھیجا گیا جیسا کہ یہاں بعذاب بیئس فرمایا ہے لیکن جب اس پر بھی باز نہ آئے تو انہیں مسخ کی سزا دی گئی اور بعض کہتے ہیں کہ عذاب بئیس سے مراد یہی مسخ ہے واللہ اعلم ( فتح القدیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور بد اعمالیوں کا تسلسل جس وجہ سے ان پر وقفہ، وقفہ سے عذاب آتے رہیں گے۔ غورو فکرکے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اصلاح اور ہدایت کے لیے ان گنت انبیاء مبعوث فرمائے۔ جنھوں نے انتھک جدوجہد کی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مختلف عذاب اور بیش بہا انعامات کے ذریعے صدیوں تک بار بار اپنی اصلاح کا موقعہ دیا۔ لیکن یہ قوم اصلاح کے بجائے بگاڑ اور فساد کو ترجیح دیتی رہی۔ جس بنا پر ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آخری فیصلہ صادر فرماتے ہوئے اعلان کیا کہ اب قیامت تک ان پر ایسے لوگ مسلط کیے جائیں گے جو انھیں اذیت ناک سزاؤں اور عذاب میں مبتلا کرتے رہیں گے۔ تاریخ کا طالب علم قرآن کی اس سچائی کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ بخت نصر سے لے کر جرمنی کے ہٹلر تک جو شخص بھی ان پر مسلط ہوا۔ اس نے انھیں اس طرح اپنی گرفت میں جکڑا اور تشدد کا نشانہ بنایا کہ دنیا سمجھنے لگی کہ اب یہودیوں کا ایک فرد بھی باقی نہیں رہے گا۔ آئندہ بھی نہ معلوم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد سے پہلے ان کی بد اعمالیوں کی سزا دینے کے لیے اللہ تعالیٰ ان پر کتنے لوگ مسلط کرے گا جو انھیں وقفہ وقفہ کے بعد تہس نہس کرتے رہیں گے۔ قرب قیامت جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائیں گے تو وہ اس قدر ان کے خلاف جہاد کریں گے کہ کوئی یہودی ان سے بچ نہیں پائے گا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی یہودی کسی دیوار یا درخت کی اوٹ میں چھپنے کی کوشش کرے گا تو وہ درخت بھی پکار اٹھے گا۔ ایسا کیوں ہوتا رہا اور ہوگا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جب ظالم اور نافرمان کو پکڑ تا ہے تو بسا اوقات اس کی پکڑ اس قدر آناً فانًا ہوتی ہے کہ ظالم سنبھلنا چاہے تو سنبھل نہ پائے یہاں تک کہ اسے معافی مانگنے کا موقعہ بھی نہیں نصیب ہوتا۔ لیکن یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کا عتاب ظالموں کے لیے ہے نیک اور تائب ہونے والوں کے لیے وہ بڑا معاف فرمانے اور انتہائی رحم و کرم کرنے والا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَا تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی یُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْیَہُودَ فَیَقْتُلُہُمُ الْمُسْلِمُونَ حَتّٰی یَخْتَبِءَ الْیَہُودِیُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ فَیَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ یَا مُسْلِمُ یَا عَبْدَ اللّٰہِ ہٰذَا یَہُودِیٌّ خَلْفِی فَتَعَالُ فَاَقْتُلْہُ إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّہٗ مِنْ شَجَرِ الْیَہُودِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الفتن واشراط الساعۃ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہود یوں سے لڑائی نہ کریں مسلمان ان کو مسلمان قتل کریں گے یہاں تک کہ یہودی پتھروں اور درختوں کے پیچھے چھپیں گے۔ تو پتھر اور درخت پکار اٹھے گا اے مسلمان اے اللہ کے بندے یہ میرے پیچھے یہودی ہے آؤ۔ اس کو قتل کرو غرقد کا درخت ایسا نہیں کرے گا کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔ “ مسائل ١۔ یہودیوں پر وقفہ وقفہ کے بعد اللہ تعالیٰ سخت گیر فاتح مسلط کرتا رہے گا۔ ٢۔ قیامت سے پہلے بھی انھیں مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کیا جائے گا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ عذاب دینے والا بھی ہے اور معاف کرنے والا بھی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا عذاب اور بخشش : ١۔ اے نبی ! میرے بندوں کو بتاؤ کہ میں بخشنے، رحم کرنے والا ہوں اور میرا عذاب بھی دردناک ہوگا۔ (الحجر : ٤٩) ٢۔ جو توبہ کرے اور اصلاح کرے تیرا رب بڑا غفور الرحیم ہے۔ (النحل : ١١٩) ٣۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ تمہیں معاف کر دے کیونکہ وہ غفور الرحیم ہے۔ (النور : ٢٢) ٤۔ اللہ جلد پکڑنے والا اور غفور الرحیم ہے۔ (الانعام : ١٦٦) ٥۔ اللہ اپنے بندوں کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا کیونکہ وہ غفور الرحیم ہے۔ (التوبۃ : ٩٩) ٦۔ اللہ سب گناہوں کو معاف کردینے والا اور غفور الرحیم ہے۔ (الزمر : ٥٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انسان کی تخلیق بھی لفظ (کن) سے ہوئی تھی اور اس کی خلق میں تبدیلی بھی لفظ کو نو قردۃ خاسئین سے ہوئی یعنی " ذلیل و خوار بندر بن جاؤ " چناچہ وہ ذلیل و خوار بندر بن گئے کیونکہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں کوئی حکم نہیں۔ اور نہ اسے کوئی رد کرسکتا ہے۔ اس سزا کے بعد ، سب پر اللہ تعالیٰ نے ابدی لعنت کا حکم فرمایا اور صرف ان لوگوں کو مستثنی کیا جو نبی آخر الزمان پر ایمان لائیں گے ، اس لیے کہ وہ ایک عرصے تک یہی نافرمانیاں کرتے رہے اور اب ان کا زمانہ معصیت ختم ہوگیا اور مشیت الہیہ نے ان کے حق میں یہ دائمی حکم صادر کردیا جو اٹل ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

166 پس جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ اس کام میں حد سے بڑھ گئے تو ہم نے ان کو کہا اور حکم دیا کہ تم ذلیل ہونے والے بندر ہوجائو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں منع کرنے والوں نے شکار کرنے والوں سے ملنا چھوڑ دیا اور بیچ میں دیوار اٹھالی ایک دن صبح کو اٹھے تو دوسروں کی آواز نہ سنی دیوار پر سے دیکھا ہر گھر میں بندر وہ آدمیوں کو پہچان کر اپنے قرابت داروں کے پائوں پر سر رکھنے لگے اور رونے لگے آخر برے حال سے تین دن میں مرگئے۔ 12