Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 167

سورة الأعراف

وَ اِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبۡعَثَنَّ عَلَیۡہِمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَنۡ یَّسُوۡمُہُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ؕ اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیۡعُ الۡعِقَابِ ۚ ۖ وَ اِنَّہٗ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۶۷﴾

And [mention] when your Lord declared that He would surely [continue to] send upon them until the Day of Resurrection those who would afflict them with the worst torment. Indeed, your Lord is swift in penalty; but indeed, He is Forgiving and Merciful.

اور وہ وقت یاد کرنا چاہیے کہ آپ کے رب نے یہ بات بتلادی کہ وہ ان یہود پر قیامت تک ایسے شخص کو ضرور مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سزائے شدید کی تکلیف پہنچاتا رہے گا بلاشبہ آپ کا رب جلدی ہی سزا دے دیتا ہے اور بلاشبہ وہ واقعی بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Eternal Humiliation placed on the Jews Allah reminds; وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ ... And (remember) when your Lord declared that He would certainly keep on sending against them, تَأَذَّنَ (Ta'dhdhana) means `declared', according to Mujahid, or `ordained', according to others. This part of the Ayah indicates a vow, لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ (that He will keep on sending against them) against the Jews, ... إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَن يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ ... till the Day of Resurrection, those who would afflict them with a humiliating torment. on account of their disobedience, defying Allah's orders and Law and using tricks to transgress the prohibitions. It was reported that Musa required the Jews to pay the production tax for seven or thirteen years, and he was the first to do so. Also, the Jews fell under the humiliating rule of the Greek Kushdanin, Chaldeans and later on the Christians, who subjugated and disgraced them, and required them to pay the Jizyah (tribute tax). When Islam came and Muhammad was sent, they became under his power and had to pay the Jizyah, as well. Therefore, the humiliating torment mentioned here includes disgrace and paying the Jizyah, as Al-Awfi narrated from Ibn Abbas. In the future, the Jews will support the Dajjal (False Messiah); and the Muslims, along with Isa, son of Mary, will kill the Jews. This will occur just before the end of this world. Allah said next, ... إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ ... Verily, your Lord is quick in retribution, with those who disobey Him and defy His Law, ... وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ and certainly He is Oft-Forgiving, Most Merciful. for those who repent and go back to Him. This Ayah mentions both the mercy, as well as, the punishment, so that no despair is felt. Allah often mentions encouragement and warning together, so that hearts always have a sense of hope and fear.

اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا انجام ذلت و رسوائی اللہ تعالیٰ نے یہود کو اطلاع کر دی کہ ان کی اس سخت نافرمانی و بار بار کی بغاوت اور ہر موقعہ پر نافرمانی ، رب سے سرکشی اور اللہ کے حرام کو اپنے کام میں لانے کیلئے حیلہ جوئی کر کے اسے حلال کی جامہ پوشی کا بدلہ یہ ہے کہ قیامت تک تم دبے رہو ذلت میں رہو لوگ تمہیں پست کرتے چلے جائیں ۔ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی ان پر تاوان مقرر کر دیا تھا سات سال یا تیرہ سال تک یہ اسے ادا کرتے رہے ، سب سے پہلے خراج کا طریقہ آپ نے ہی ایجاد کیا پھر ان پر یونانیوں کی حکومت ہوئی پھر کسرانیوں کلدانیوں اور نصرانیوں کی ۔ سب کے زمانے میں ذلیل اور حقیر رہے ان سے جزیہ لیا جاتا رہا اور انہیں پستی سے ابھرنے کا کوئی موقعہ نہ ملا ۔ پھر اسلام آیا اور اس نے بھی انہیں پست کیا جزیہ اور خراج برابر ان سے وصول ہوتا رہا ۔ غرض یہ ذلیل رہے اس امت کے ہاتھوں بھی حقارت کے گڑھے میں گرے رہے ۔ بالآخر یہ دجال کے سات مل جائیں گے لیکن مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جا کر ان کی تخم ریزی کر دیں گے ، جو بھی شریعت الہ کی مخالفت کرتا ہے ، اللہ کے فرمان کی تحقیر کرتا ہے اللہ اسے جلدی ہی سزا دے دیتا ہے ۔ ہاں جو اس کی طرف رغبت و رجوع کرے ، توبہ کرے ، جھکے تو وہ بھی اس کے ساتھ بخشش و رحمت سے پیش آتا ہے چونکہ ایمان نام ہے خوف اور امید کا اسی لئے یہاں اور اکثر جگہ عذاب و ثواب ، پکڑ دکڑ اور بخشش اور لالچ دونوں کا ایک ساتھ بیان ہوا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

167۔ 1 یعنی وہ وقت بھی یاد کرو ! جب آپ کے رب نے ان یہودیوں کو اچھی طرح باخبر کردیا یا جتلایا تھا، یعنی قسم کھا کر نہایت تاکید کے ساتھ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت عذاب میں مبتلا رکھیں گے، چناچہ یہودیوں کی پوری تاریخ اس ذلت و مسکنت اور غلامی و محکومی کی تاریخ ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دی ہے۔ اسرائیل کی موجودہ حکومت قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کے خلاف نہیں ہے اس لئے کہ وہ قرآن ہی کے بیان کردہ استثنا وَ حَبْلٍ مِنَا النَّاسِ کی مظہر ہے جو قرآنی حقیقت کے خلاف نہیں بلکہ اس کی موید ہے۔ (تفصیل دیکھئے آل عمران۔ 112 کا حاشیہ) 167۔ 2 یعنی اگر ان میں سے کوئی توبہ کرکے مسلمان ہوجائے تو وہ ذلت و رسوائی سے بچ جائے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦٩] یہود کی ذلت و مسکنت کی تاریخی داستان :۔ تاذن کا عربی میں وہی مفہوم ہے جو ہمارے ہاں نوٹس دینے کا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہود کو خبردار کردیا تھا کہ اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو تم پر تا قیامت ایسے حکمران مسلط کر دے گا جو انہیں طرح طرح کے دکھ پہنچاتے رہیں گے۔ ان دکھوں سے مراد ان کی محکومانہ زندگی ہے چناچہ یہود کبھی یونانی اور کلدانی بادشاہوں کے محکوم بنے رہے کبھی بخت نصر کے شدائد کا نشانہ بنے جس نے بیت المقدس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ان یہود کی کثیر تعداد کو غلام بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ پھر یہ لوگ دور نبوی سے پہلے مجوسیوں کے باج گزار رہے۔ پھر اللہ نے مسلمان حکمرانوں کو ان پر مسلط فرما دیا۔ غرض مالدار قوم ہونے کے باوجود انہیں کہیں بھی عزت کی زندگی نصیب نہ ہوسکی اور ہمیشہ محکوم بن کر ذلت کی زندگی گزارتے رہے اور اس بیسویں صدی کے اوائل میں ہٹلر کے ہاتھوں بری طرح پٹے اور اس نے لاکھوں یہودیوں کو بےدریغ قتل کردیا۔ اس بیسویں صدی ہی کے وسط میں چند حکومتوں کے سہارے تھوڑے سے علاقہ پر اپنی حکومت بنائی ہے۔ مگر امن پھر بھی نصیب نہیں اور قیامت کے قریب جب دجال کا ظہور ہوگا تو یہ اس کے مددگار ہوں گے پھر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مسلمان رفقاء کے ہاتھوں سب کے سب تہہ تیغ کردیئے جائیں گے۔ جیسا کہ بیشمار احادیث صحیحہ سے واضح ہوتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ ۔۔ : گزشتہ آیات میں یہود کی آسانی اور سختی کے ساتھ آزمائشوں اور ان کے بعض نیک و بد اعمال کا ذکر فرمایا، اب اس آیت میں بتایا کہ قیامت تک ان پر ایسے لوگ مسلط کیے جاتے رہیں گے جو انھیں بدترین عذاب چکھاتے رہیں گے۔ سورة آل عمران (١١٢) میں فرمایا کہ ان پر ذلت مسلط کردی گئی مگر اللہ کی پناہ اور لوگوں کی پناہ کے ساتھ۔ دیکھیے آیت مذکورہ کی تفسیر۔ یہودیوں کی پوری تاریخ اس حقیقت کی زندہ شہادت ہے، وہ ہر زمانے میں جہاں بھی رہے دوسروں کے محکوم اور غلام بن کر رہے اور آئے دن ان پر ایسے حکمران مسلط ہوتے رہے جنھوں نے انھیں ظلم و ستم کا تختۂ مشق بنایا۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٤ تا ٨) قریب زمانے میں ہٹلر نے ان سے جو سلوک کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، اگر کسی جگہ عارضی طور پر انھیں امن و امان نصیب ہوا بھی اور ان کی برائے نام حکومت قائم ہوئی بھی تو وہ اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ سراسر دوسروں کے سہارے پر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The first two verses (167 and 168) have referred to the two punishments given to the Israelites. Firstly, Allah will keep sending up to the Day of Doom, some individuals or groups of people who will punish and bring disgrace to them. In fact, this is what has been happening to them up to this day. They had been dominated and disdainfully treated by others as has been recorded by history. We may not be in doubt about their present government in a part of Palestine, as it is a common knowledge that the state of Israel is, in fact, a part of the world powers, created by them for their political objectives against the Muslim Ummah. They are still ruled over and dominated by the colo¬nial powers. It is, in fact, a military base of America. The day these powers stop providing them with their aid they shall not be able to maintain their existence for long.

خلاصہ تفسیر اور وہ وقت یاد کرنا چاہئے کہ جب آپ کے رب نے ( انبیاء بنی اسرائیل کی معرفت) یہ بات بتلا دی کہ وہ ان یہود پر ( ان کی گستاخیوں اور نافرمانیوں کی سزا میں) قیامت ( کے قریب) تک ایسے ( کسی نہ کسی) شخص کو ضرور مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سزائے شدید ( ذلت و خواری و محکومیت) کی تکلیف پہنچاتا رہے گا (چنانچہ مدت سے یہودی کسی نہ کسی سلطنت کے محکوم و مقہور ہی چلے آتے ہیں) بلا شبہ آپ کا رب واقعی ( جب چاہے) جلدی ہی سزادے دیتا ہے اور بلاشبہ وہ واقعی ( اگر باز آجاوے تو) بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا ( بھی) ہے اور ہم نے دنیا میں ان کی متفرق جماعتیں کردیں ( چنانچہ) بعضے ان میں نیک ( بھی) تھے اور بعضے ان میں اور طرح کے تھے ( یعنی بد تھے) اور ہم ( نے ان بدوں کو بھی اپنی عنایت اور تربیت و اصلاح کے اسباب جمع کرنے سے کبھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ ہمیشہ) ان کو خوش حالیوں ( یعنی صحت و غنا) اور بد حالیوں ( یعنی بیماری و فقر) سے آزماتے رہے کہ شاید ( اسی سے) باز آجائیں ( کیونکہ گاہے حسنات سے ترغیب ہوجاتی ہے اور گاہے سیئات سے ترہیب ہوجاتی ہے، یہ حال تو ان کے سلف کا ہوا) پھر ( سلف) کے بعد ایسے لوگ ان کے جا نشین ہوئے کہ کتاب ( یعنی تورات) کو ( تو) ان سے حاصل کیا ( لیکن اس کے ساتھ ہی حرام خور ایسے ہیں کہ احکام کتاب کے عوض میں) اس دنیائے دنی کا مال متاع ( اگر ملے تو بےتکلف اس کو) لے لیتے ہیں (اور بیباک ایسے ہیں کہ اس گناہ کو حقیر سمجھ کر) کہتے ہیں کہ ہماری ضرور مغفرت ہوجاوے گی ( کیونکہ ہم ابناء اللہ و احبآء اللہ ہیں ایسے گناہ ہماری مقبو لیت کے روبرو کیا چیز ہیں) حالانکہ ( اپنی بیباکی اور اسخفاف معصیت پر مصر ہیں حتی کہ) اگر ان کے پاس ( پھر) ویسا ہی ( دین فروشی کے عوض) مال متاع آنے لگے تو ( اسی بیباکی کے ساتھ پھر) اس کو لے لیتے ہیں ( اور استخفاف معصیت کا خود کفر ہے، جس پر مغفرت کا احتمال بھی نہیں، تا بہ یقین چہ رسد، چناچہ آگے یہی ارشاد ہے کہ) کیا ان سے اس کتاب کے اس مضمون کا عہد نہیں لیا گیا کہ خدا کی طرف بجز حق ( اور واقعی) بات کے اور کسی بات کی نسبت نہ کریں ( مطلب یہ ہے کہ جب کسی آسمانی کتاب کو مانا جاتا ہے تو اس کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ ہم اس کے سب مضامین مانیں گے) اور ( عہد بھی کوئی اجمالی عہد نہیں لیا گیا جس میں احتمال ہو کہ شاید اس مضمون خاص کا اس کتاب میں ہونا ان کو معلوم نہ ہوگا بلکہ تفصیلی عہد لیا گیا چنانچہ) انہوں نے اس کتاب میں جو کچھ ( لکھا) تھا اس کو پڑھ ( بھی) لیا ( جس سے وہ احتمال بھی جاتا رہا پھر بھی یہ ایسی بڑی بات کا دعوی کرتے ہیں کہ باوجود استخفاف معصیت کے مغفرت کا اعتقاد کئے ہوئے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ پر محض تہمت ہے) اور ( انہوں نے یہ سب قصہ دنیا کے لئے کیا، باقی) آخرت والا گھر ان لوگوں کے لئے ( اس دنیا سے) بہتر ہے جو ( ان عقائد و اعمال قبیحہ سے) پرہیز رکھتے ہیں پھر کیا ( اے یہود) تم ( اس بات کو) نہیں سمجھتے۔ معارف و مسائل : آیات مذکورہ سے پہلی آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بقیہ قصہ ذکر کرنے کے بعد ان کی امت ( یہود) کے غلط کار لوگوں کی مزمت اور ان کے انجام بد کا بیان آیا ہے، ان آیتوں میں بھی ان کی سزا اور برے انجام کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں ان کی دو سزاؤں کا بیان ہے جو دنیا ہی میں ان پر مسلط کردی گئی ہیں۔ اول یہ کہ قیامت تک اللہ تعالیٰ ان پر کسی ایسے شخص کو ضرور مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت سزا دیتا رہے اور ذلت و خواری میں مبتلا رکھے، چناچہ اس وقت سے آج تک ہمیشہ یہود ہر جگہ مقہور و مغلوب اور محکوم رہے، آج کل کی اسرائیلی حکومت سے اس پر شبہ اس لئے نہیں ہوسکتا کہ جاننے والے جانتے ہیں کہ درحقیقت آج بھی اسرائیل کی نہ اپنی کوئی قوت ہے نہ حکومت، وہ روس اور امریکہ کی اسلام دشمن سازش کے نتیجہ میں انہیں کی ایک چھاؤ نی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور آج بھی وہ بدستور انہیں کے محکوم و مقہور ہیں، جس دن جس وقت یہ دونوں اس کی امداد سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں اسی روز اسرائیل کا وجود دنیا سے ختم ہوسکتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْہِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ مَنْ يَّسُوْمُہُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ۝ ٠ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيْعُ الْعِقَابِ۝ ٠ ۚ ۖ وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝ ١٦٧ اذن ( تأذين) : كل من يعلم بشیءٍ نداءً ، قال عالی: ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ [يوسف/ 70] ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ [ الأعراف/ 44] ، وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ [ الحج/ 27] اذنتہ بکذا او اذنتہ کے ایک معنی ہیں یعنی اطلاع دینا اور اعلان کرنا اور اعلان کرنے والے کو مؤذن کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ } ( سورة يوسف 70) تو ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ اے قافلے والو ۔ { فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ } ( سورة الأَعراف 44) تو اس وقت ان ایک پکارنے والا پکارا دیگا ۔ { وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ } ( سورة الحج 27) اور لوگوں میں حج کے لئے اعلان کردو ۔ بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، فالبعث ضربان : - بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة . - وإلهي، وذلک ضربان : - أحدهما : إيجاد الأعيان والأجناس والأنواع لا عن ليس وذلک يختص به الباري تعالی، ولم يقدر عليه أحد . والثاني : إحياء الموتی، وقد خص بذلک بعض أولیائه، كعيسى صلّى اللہ عليه وسلم وأمثاله، ومنه قوله عزّ وجل : فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] ، يعني : يوم الحشر ( ب ع ث ) البعث ( ف ) اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بیجھنا کے ہیں اور انبعث در اصل مطاوع ہے بعث کا مگر متعلقات کے لحاظ سے اس کے معنی مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلا بعثت البعیر کے معنی اونٹ کو اٹھانے اور آزاد چھوڑ دینا کے ہیں اور مردوں کے متعلق استعمال ہو تو قبروں سے زندہ کرکے محشر کی طرف چلانا مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] اور مردوں کو تو خدا ( قیامت ہی کو ) اٹھایا جائے گا پس بعث دو قمخ پر ہے بعث بشری یعنی جس کا فاعل انسان ہوتا ہے جیسے بعث البعیر ( یعنی اونٹ کو اٹھاکر چلانا ) کسی کو کسی کام کے لئے بھیجنا ) دوم بعث الہی یعنی جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو پھر اس کی بھی دوقسمیں ہیں اول یہ کہ اعیان ، اجناس اور فواع کو عدم سے وجود میں لانا ۔ یہ قسم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس پر کبھی کسی دوسرے کو قدرت نہیں بخشی ۔ دوم مردوں کو زندہ کرنا ۔ اس صفت کے ساتھ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھی سرفراز فرمادیتا ہے جیسا کہ حضرت عیسٰی (علیہ السلام) اور ان کے ہم مثل دوسری انبیاء کے متعلق مذکور ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] اور یہ قیامت ہی کا دن ہے ۔ بھی اسی قبیل سے ہے یعنی یہ حشر کا دن ہے قِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، القیامت سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا سرع السُّرْعَةُ : ضدّ البطء، ويستعمل في الأجسام، والأفعال، يقال : سَرُعَ ، فهو سَرِيعٌ ، وأَسْرَعَ فهو مُسْرِعٌ ، وأَسْرَعُوا : صارت إبلهم سِرَاعاً ، نحو : أبلدوا، وسَارَعُوا، وتَسَارَعُوا . قال تعالی: وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] ، وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] ، يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] ( س ر ع ) السرعۃ اس کے معنی جلدی کرنے کے ہیں اور یہ بطا ( ورنگ گردن ) کی ضد ہے ۔ اجسام اور افعال دونوں کے ( ان کے اونٹ تیز رفتاری سے چلے گئے ) آتے ہں ۔ جیسا کہ اس کے بالمقابل ایلد وا کے معنی سست ہونا آتے ہیں ۔ سارعوا وتسارعو ایک دوسرے سے سبقت کرنا چناچہ قرآن میں ہے : وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] اور اپنے پروردگار کی بخشش ( اور بہشت کی ) طرف لپکو ۔ وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] اور نیکیوں پر لپکتے ہیں ۔ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] اس روز زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور جھٹ جھٹ نکل کھڑے ہوں گے ۔ عُقُوبَةُ والمعاقبة والعِقَاب والعُقُوبَةُ والمعاقبة والعِقَاب يختصّ بالعذاب، قال : فَحَقَّ عِقابِ [ ص/ 14] ، شَدِيدُ الْعِقابِ [ الحشر/ 4] ، وَإِنْ عاقَبْتُمْ فَعاقِبُوا بِمِثْلِ ما عُوقِبْتُمْ بِهِ [ النحل/ 126] ، وَمَنْ عاقَبَ بِمِثْلِ ما عُوقِبَ بِهِ [ الحج/ 60] . اور عقاب عقوبتہ اور معاقبتہ عذاب کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَحَقَّ عِقابِ [ ص/ 14] تو میرا عذاب ان پر واقع ہوا ۔ شَدِيدُ الْعِقابِ [ الحشر/ 4] سخت عذاب کر نیوالا ۔ وَإِنْ عاقَبْتُمْ فَعاقِبُوا بِمِثْلِ ما عُوقِبْتُمْ بِهِ [ النحل/ 126] اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی ہے ۔ وَمَنْ عاقَبَ بِمِثْلِ ما عُوقِبَ بِهِ [ الحج/ 60] جو شخص کسی کو اتنی ہی سزا کہ اس کو دی گئی ہے ۔ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٦٧) جس وقت ان کے پروردگار نے انہیں یہ بتلادیا کہ وہ ان پر ضرور ایسے شخص کو مسلط کرے گا جو انہیں سخت ترین سزا جزیہ وغیرہ کی دے گا وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت ہے اللہ تعالیٰ نہ لانے والوں کو سخت ترین سزا جزیہ وغیرہ کی دے گا وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت ہے اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں کو سخت سزا دیتے ہیں، اور جو ایمان لائے اس کے گناہوں کو معاف فرماتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦٧ (وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْہِمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ یَّسُوْمُہُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ ط) اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِِج وَ اِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ) اللہ تعالیٰ کی ایک شان تو یہ ہے کہ وہ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَام اور سَرِیْعُ الْعِقَاب ہے اور اس کی دوسری شان یہ ہے کہ وہ غَفُوْرٌ رَّحِیْمہے۔ اب اس کا دار و مدار انسانوں کے طرز عمل پر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کی کس شان کا مستحق بناتے ہیں۔ اس آیت میں یہود کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے جس قانون اور فیصلے کا ذکر ہو رہا ہے وہ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ کی صورت میں ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

127. The Qur'anic expression 'ta'adhdhana' means almost the same 'he warned; he proclaimed'. 128. Since the 8th century B.C. the Israelites were warned consistently. This is borne out by the contents of the Books of the Prophets Isaiah, Jeremiah, and their successors. Jesus too administered the same warning which is borne out by many of his orations in the New Testament, This was also later confirmed by the Qur'an. History bears out the veracity of the statement made both in the Qur'an and the earlier scriptures. For throughout history, since the time the Jews were warned, they have continually been subjected to abject persecution in one part of the world or another.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :127 اصل میں لفظ تَاذَّن استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم تقریباً وہی ہے جو نوٹس دینے یا خبردار کر دینے کا ہے ۔ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :128 یہ تنبیہ بنی اسرائیل کو تقریباً آٹھویں صدی قبل مسیح سے مسلسل کی جا رہی تھی ۔ چنانچہ یہودیوں کے مجموعہ کتب مقدسہ میں یسعیاہ اور یرمیاہ اور ان کے بعد آنے والے انبیاء کی تمام کتابیں اسی تنبیہ پر مشتمل ہیں پھر یہی تنبیہ مسیح علیہ السلام نے انہیں کی جیسا کہ اناجیل میں ان کی متعدد تقریروں سے ظاہر ہے ۔ آخر میں قرآن نے اس کی توثیق کی ۔ اب یہ بات قرآن اور اس سے پہلے صحیفوں کی صداقت پر ایک بین شہادت ہے کہ اس وقت سے لے کر آج تک تاریخ میں کوئی دور ایسا نہیں گزرا ہے جس میں یہودی قوم دنیا میں کہیں نہ کہیں روندی اور پامال نہ کی جاتی رہی ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

85: یہود کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ واقعی ہر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ان پر کوئی نہ کوئی جابر مسلط ہوتا رہا ہے جس نے ان کو اپنا محکوم بناکر طرح طرح کی تکلیفیں پہچائیں، البتہ ظاہر ہے کہ ہزاروں سال کی تاریخ میں ایسے وقفے بھی آتے رہے جن میں وہ خوش حال رہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آگے خود یہ فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمایا جس سے واضح ہے کہ ان پر خوش حالی کے دور بھی آتے رہے ہیں مگر مجموعی تاریخ کے مقابلے میں وہ کم ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

یہ آیت یہود کی شان میں اتری ہے اللہ پاک نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان فرمایا کہ ہم نے یہود سے یہ بات پکی کرلی تھی کہ اگر تو رات کے احکام کو چھوڑ دو گے تو یاد رکھو قیامت تک پھر تمہیں عزت نصیب نہیں ہونے کی ہمیشہ دوسروں کے ہاتھ میں ذلیل و خوار رہو گے ایسی قوم کو تم پر مسلط کردیں گے جو طرح طرح کے برے عذاب تم پر کیا کرے گی یہ بات خدا کی پوری ہو کر رہی ان لوگوں نے خدا کے حکم کے خلاف کیا اور طرح طرح کے حیلے بھانہ نکال نکال کر مجرم ہوتے رہے کہا جاتا ہے کہ پہلے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) نے خود ان پر خراج لگایا سات برس یاتیرہ برس کا ایک دم خراج لگا دیا تھا پھر سلطنت یونان کے بادشاہوں کے زیر حکومت رہے پھر نصاری کے ہاتھ میں مقہور رہے انہوں نے خوب ان کی گت بنائی خوب ہی خوار و ذلیل کیا جزیہ الگ لیا خراج جدا لگایا پھر جب اسلام کا دور دورہ ہوا تو مسلمان کے زیر حکومت رہ کر برابر خراج و جزیہ دیتے رہے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اللہ پاک نے جو آیت میں یہ فرمایا کہ برا عذاب کرنے والا ان پر مقرر کر دونگا وہ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی امت ہیں آپ کی امت قیامت تک انہیں مقہور رکھے گی اکثر مفسرین کا یہی قول ہے آخر کار یہ ہوگا کہ یہود دجال کے ساتھ اس کے مددگار بن کر نکلیں گے اور مسلمان مع عیسیٰ (علیہ السلام) کے ان کو دجال سمیت قتل کریں گے پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ خدا بہت جلد عذاب کرنے والا ہے اور بہت بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس کے حکم کے خلاف کرتے ہیں اور اس کی شرع سے منہ موڑتے ہیں ان کو بہت جلد پکڑلیتا ہے اور جو شخص اس کی معافی کا طالب ہوتا ہے اور توبہ کرتا ہے اس پر مہربان ہوجاتا ہے اور گناہ اس کے بخش دیتا ہے اللہ پاک نے یہاں اپنی عقوبت کے ساتھ رحمت کا بھی ذکر کردیا ہے تاکہ خطا کاروں کو بالکل نا امیدی نہ ہوجائے اور انسان امید وبیم کی حالت میں رہے اس کے قہر سے ڈرتا بھی رہے اور اس کی رحمت کا خیال کر کے بہتری کی امید بھی رکھے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایتیں جو اوپر گذر چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا پورا حال لوگوں کو معلوم ہوجاوے تو نافرمان لوگوں کے دل میں بھی جنت کے ملنے کی آرزو پیدا ہوجاوے اور اللہ کی رحمت اللہ کے غصہ پر غالب ہے ان حدیثوں کو اس آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:167) تاذن۔ اس نے اعلان کیا۔ اس نے خبر دی۔ اذن سے باب تفعل تاذن جس سنا دینے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ لیبعثن۔ مضارع واحد مذکر غائب تاکید بانون ثقیلہ جواب قسم کے لئے ہے بعث سے وہ ضرور ہی بھیجے گا۔ یسومہم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ سوم مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو تکلیف دیتا ہے یا تکلیف دیگا۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:49 ، 3:14) ہم کی ضمیر کس کی طرف راجع ہے۔ اس میں علماء میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ضمیر اس گروہ کے افراد کے لئے جنہوں نے متواتر حکم عدولی کرتے ہوئے سبت کے روز بھی مچھلیوں کا شکار کیا۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد پوری یہودی امت ہے۔ اور بعض کے نزدیک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمعصر یہودی مراد ہیں۔ اس آیت میں خطاب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 گزشتہ آیات میں یہود کے بعض نیک و بداعمال کا ذکر فرمایا، اور اس آیت میں بتایا کہ قیامت تک ان پر ذلت و خواری مسلط کردی گئی ہے۔ کبیر) یہودیوں کے پوری تاریخ اس حقیقت کی زندہ شہادت ہے۔ وہ ہر زمانے میں جہاں بھی رہے دوسروں کے محکوم اور غلام بن کر رہے اور آئے دن ان پر ایسے حکمران مسلط ہوتے رہے جنہوں نے انہیں اپنے ظلم وستم کا تختہ مشق بنایا ہمارے زمانے میں جرمنی میں ہٹلر نے ان سے جو سلوک کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اگر کسی جگہ عارضی طور پر انہیں امن وامان نصیب ہوا بھی اور ان کی برائے نام حکومت قائم ہوئی بھی تو وہ اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ سراسر دوسروں کے سہاروں پر۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تشریح :ـ آیت نمبر 167 تا 168 یہ ان دو عظیم سزاؤں کا ذکر ہے جو نبی اسرائیل کو اسی دنیا میں دی گئی ہیں یہ سزائیں ان کو اچانک نہیں دی گئیں بلکہ انبیاء کرام کے ذریعہ صدیوں پہلے ان کو مطلع کردیا گیا تھا۔ 1) دوسری سزا یہ ہے کہ ان کا مستقل کوئی وطن نہ ہوگا۔ وہ ہمیشہ مختلف ملکوں میں منتشر رہیں گے یعنی ان کی کوئی اجتماعی طاقت نہ ہوگی۔ ہمیشہ دوسروں کے سہارے زندہ رہیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بخت نصر سے لے کر ہٹلر اور اسٹالن تک صدیوں سے یہودی مقہور ، محکوم اور مغضوب رہے ہیں۔ ہزاروں سال سے آج سے ان کی کوئی سیاسی طاقت نہ بن کسی اور جب بھی بنی ہے تو ان کے نیچے سے زمین کھینچ لی گئی ہے۔ یہ جو آجکل عربوں کے سینے پر فلسطین میں بڑی طاقتوں کے تحت اسرائیلی ریاست بنادی گئی ہے اس کے پس پردہ روسی کمیونسٹوں اور امریکی عیسائیوں کا ہاتھ ہے ان ہی کی سازش سے وہ فلسطین کی بستیوں میں لاکر بسائے گئے ہیں ۔ ان ہی کی مالی اور غذائی امداد پر وہ زندہ ہیں ان ہی کے بخشے وہئے اسلحہ جات پر وہ ساری دنیا میں غنڈہ گردی کررہے ہیں ان ہی کی سیاسی بین الاقوامی پالیسیوں کے تحت وہ مہر ئہ شطرنج بنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے لبنان اور دوسرے ملکوں میں جو کچھ کیا وہ امریکہ برطانیہ اور روس کے گٹھ جوڑ سے کیا ہے۔ جب مصر کے انوار السادات نے 1973 ء میں فلسطین پر حملہ کیا تو چند ہفتوں میں بنی اسرائیل کے چھے چوٹ گئے اور ان کو اپنا وجود خطرہ میں نظر انے لگا۔ یہاں تک کہ مجھے بچائو کا سرخ نعرہ لگا دیا گیاروس اور امریکہ دونوں امداد کو دوڑ پڑے اب جو چند لاکھ یہودیوں کا اجتماع فلسطین میں ہوا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ اوپر سے تو وہ اپنے آپ کو بڑا پر سکون بنائے ہوئے ہیں لیکن انہیں ہر وقت یہ خطرہ لگا رہتا ہے کہ کب مسلمان میں کوئی اصلاح الدین ایوبی اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے لئے وہ ہر اس شخص اور قوم و ملک کو جس میں ذرا بھی اصلاح الدین بن جانے کی صلاحیت ہے اس پر امریکہ روس اور برطانیہ اپنے جنگی جہاز بم اور راکٹ لے کر چڑھ دوڑتے ہیں ساری دنیا انسانیت کی باتیں کرنے والے انسانیت کے سب سے بڑے دشمن بنے ہوئے ہیں لیکن اللہ کا یہ عجیب قانون ہے کہ روش برطانیہ اور امریکہ جنہوں نے اسرائیل کو سہارا دے کر ایک قوت اور طاقت بنانے کی کوشش کی ہے وہ خود بڑی تیزی سے مٹتے چلے جارہے ہیں برطانیہ سمٹتے سمٹتے اپنے جزیرہ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اب دنیا پر اس کی محض ایک دھونس باقی ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے روس کے ٹکڑے اڑگئے ہیں اور مزید تباہی نظر آرہی ہے امریکہ آجکل سپر پاور ہے مگر ایسی بڑی بڑی سیاسی اور اخلاقی غلطیاں کرتا چلا جا رہا ہے کہ اللہ کے قانون کے مطابق اس کا حشر بھی کچھ مختلف نظر نہیں آرہا ہے ۔ اسرائیلی کے یہ سہارے بڑی تیزی کے ساتھ ٹوٹ رہے ہیں اور وہ مسلمان ملک جن کے درمیان یہ اسرائیلی ریاست دند نا رہی ہے ان ملکوں میں اسرائیل اور اس کے پشت پناہو کے خلاف نفرت کا ایسا لاوا پک رہا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ پڑے گا دوسری طرف احادیث میں قریب قیامت کے آثار میں یہ بات بھی شامل ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دمشق میں نازل ہوں گے وہ مسلمانوں کی جماعت لے کر یہودیوں کے خلاف جہاد با لسیف فرمائیں گے اور یہودیوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیں گے اب یہ اللہ کا قانون بھی نظر آرہا ہے کہ تمام یہودیوں کو ملک شام کے قریب ایک جگہ جمع کیا جار ہا ہے روس امریکہ اور برطانیہ چاہتے تو یہودی ریاست الاسکا سائبریا یا آسٹریلیا میں قائم کرسکتے تھے مگر ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے جو انہوں نے یہودیوں کو ان کے مقتل میں جمع کردیا ہے اور یہودی بھی خوب احمق بن رہے ہیں اللہ کا کیا نظام ہے ؟ شاید بہت جلد سامنے آجائے گا ار آئندہ یہودیوں کے لئے پھر وہ وقت آسکتا ہے کہ اگر وہ کسی پتھر کے نیچے بھی چھپنے کی کوشش کریں گے تو پتھر خود بتادے گا فلاں یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی ذلت و خواری ومحکومیت چناچہ مدت سے یہودی کسی نہ کسی سلطنت کے محکوم ومقہور چلے آتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ایک دائمی اعلان (Standing Order) ہے اور جب سے یہ صادر ہوا ہے۔ یہ حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ وقفے وقفے سے یہودیوں کی سرکوبی کے لیے کسی نہ کسی طاقت کو بھیجتا رہا ہے۔ اور عمومی اعتبار سے یہ حکم آئندہ بھی رد بعمل ہوتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ان پر ایسی قوتوں کو مسلط کرتے رہیں گے۔ اور یہ قوتیں ان کو ایسا ہی عذاب دیتی رہیں گی جب بھی وہ پھلیں پھولیں گے اور سرکشی کا رویہ اختیار کریں گے۔ اللہ ان پر ایسی ہی قوتوں کو بھیجتے رہیں گے۔ اور وہ ان پر اچھی ضرب لگاتے رہیں گے کیونکہ یہ ایک ایسا باغی اور سرکش گروہ ہے کہ جب یہ ایک نافرمانی سے نکلتا ہے تو دوسری میں داخل ہوجاتا ہے ، ان کی ایک ٹیڑھ کو اگر درست کردیا جائے تو ان کے اندر دوسری ٹیڑھ پیدا ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات اس طرح نظر آتا ہے کہ ان پر یہ مسلسل لعنت شاید ختم ہوگئی ہے اور شاید یہودی اب باعزت اور صاحب قوت ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تاریخ کے وقفوں میں سے بعض وقفے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر کس کو مسلط کرتا ہے اور سابقہ ادوار ذلت کے بعد ان پر کون سی قوم مسلط ہوتی ہے۔ اللہ نے تو ان کے لیے یہ آرڈر قیامت تک کے لیے نافذ کردیا ہے اور قرآن میں اپنے نبی کو اور اس کی امت کو اس کی اطلاع بھی کردی ہے لیکن اس دائمی فیصلے کے باوجود اللہ کی صفت رحمت ور عفو و درگذر اپنی جگہ قائم ہے۔ ان ربک لسریع العقاب وانہ لغفور رحیم اپنی صفت سرعت عذاب کی وجہ سے وہ ان لوگوں کو پکڑ لیتا ہے جن پر نزول عذاب برحق ہوچکا ہے۔ جیسا کہ ساحلی بستی والوں کو اس نے پکڑا۔ اور اپنی صفت رحمت و مغفرت کی وجہ سے وہ ہر اس شخص کو معاف کرتا ہے جو تائب ہوگیا مثلاً بنی سرائیل میں سے وہ لوگ جو نبی آخر الزمان کو تسلیم کرتے ہوئے ایمان لائے کیونکہ ان کے ہاں تورات میں نبی آخر الزمان کے بارے میں لکھا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی سے انتقام نہیں لیا جاتا اور نہ اس دربار میں کسی کے ساتھ ظلم ہوتا ہے۔ وہاں تو سب کے ساتھ انصاف ہوتا ہے ، بلکہ وہاں تو معافی اور رحمت کے لیے بہانہ درکار ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

164: یہ تخویف دنیوی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اسلاف کو آگاہ کردیا تھا کہ اگر وہ آخر الزمان پیغمبر نبی امی صلی اللہ علی ہو سلم پر ایمان نہ لائے تو قیامت تک ذلیل و خوار رہیں گے اور ان پر ہمیشہ ایسے لوگ مسلط رہیں گے جن کے ہاتھوں وہ سخت تکلیفیں اٹھائیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

167 اور وہ وقت بھی یاد دلائو جب آپ کے پروردگار نے ان یہود کو آگاہ کردیا تھا اور ان کو یہ بات بتادی تھی کہ وہ قیامت تک ان پر کسی نہ کسی ایسے شخص کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت سزا کی تکلیف پہنچاتا ہے گا بلاشبہ آپ کا پروردگار بہت جلد سزا دیتا ہے اور یقین جانو کہ وہ بڑی مغفرت کرنے والا اور نہایت مہربان بھی ہے۔ یعنی یہود ہمیشہ مقہور و مغلوب رہیں گے اور اگر کبھی کوئی عارضی اقتدار مل بھی جائے تو اس کا اعتبار نہیں گناہگاروں کے لئے جس طرح کبھی عذاب میں جلدی ہوجاتی ہے اسی طرح توبہ کرنے والوں کے ساتھ رحمت و مغفرت کا برتائو بھی ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں توریت میں فرمایا تھا کہ جب حکم توریت چھوڑو گے تو تم پر اور بندے مسلط ہوں گے پھر قیامت تک تم ذلیل رہوگے اب یہود کو کہیں کی حکومت نہیں غیر کی رعیت ہیں۔ 12 ۔ فلسطین کی حکومت سے شبہ نہیں ہونا چاہئے وہ حکومت نہیں بلکہ یورپین طاقتوں کی ماتحت ایک معمولی ریاست ہے۔