The second punishment has been mentioned in verse 168. That is, Jewish populace has been cut into fragments scattered in all the parts of the world they could not integrate themselves into a solid nation. The phrase وَقَطَّعْنَاهُمْ فِي الْأَرْضِ أُمَمًا |"And we divided them on the earth as separate communities|". has refered to this fact. The Arabic word قَطَّعْنَا signifies breaking into pieces. While the word اُمَم is plural of Ummah, which means &a group&, &a party&. The verse means that Allah has divided them into fragments making them scattered on the earth. This indicates that being integrated in a whole, or having an entity as a nation is a blessing of Allah while getting disorganized into parts separated from each other is a punishment from Him. The Muslims have always enjoyed the blessing of having their own entity, and being recognized as an organized people in the world. Starting right from Madinah in the time of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) up to this day they have their own independent rule in various parts of the earth. The presence of Islamic countries from the Far East to the West is an obvious proof of this fact. Their present state in Palestine should not cause any doubt as they have to come together in a place in the last age according to the prophecies made by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He informed us in authentic Traditions that Prophet ` Isa (علیہ السلام) shall come down to the earth from heavens before the end of the world, and all the Christians shall embrace Islam. He shall fight a war against the Jews and put them to death. The culprits of Allah are not summoned through police, or other agencies; they are driven to their place of death by the causes created by the will of Allah. The Prophet ` Isa (علیہ السلام) (Jesus) is to descend from heavens in the land of Syria. He shall fight war with the Jews. The Prophet Isa (علیہ السلام) has been saved the trouble of seeking the Jews in different parts of the world by causing them to gather in Palestine. As to their present political power and sovereignty in the State of Israel, it is a delusion which beguiles only those who are not conversant with the world politics. The so called &State of Israel& is, in fact, a common camp ground of the big powers like America, Russia, and England. It depends upon the aid of its masters for its existence. It has to serve the aims and objectives of its Masters. They are still living in real servitude, and are deprived of their free rule in true sense of the word. The Holy Qur&an has informed us of their disgrace and distress up to the end of time in these words: وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَن يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ ۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ |"And when your Lord declared that he would surely keep sending till the Day of Doom, those who inflict upon them an evil punishment.|" History has recorded that they have been continually persecuted by one people or another right from the time of the Prophet Sulayman (علیہ السلام) to the present age. Their imprisonment by Nebuchadnezzar and persecution at the hands of subsequent kings, then their defeat and ignominious fate at the hands of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Caliph ` Umar al-Faruq (رض) 1, are obvious example of this fact. 1. The recent persecution of the Jews at the hands of Hitler in the second world war is a fresh example of this Qur&anic declaration. (Translator) The second phrase of this verse is this: مِّنْهُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَٰلِكَ |"Some of them are righteous, and some of them are other-wise|". The righteous people among them are those who followed the commandments of the Torah faithfully and did not try to distort them as others did. The people termed as &otherwise& include infidels and those who obstinately disobeyed their prophets and even killed them. The terms &righteous& and &otherwise& may also refer to the people who believed in the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and followed the Qur&anic guidance after it&s revelation. Opposed to them are those believing in the Torah as the word of Allah, disobeyed it or distorted its command¬ment and thus sold out their eternal salvation for petty gains of this world. The last phrase of this verse has said: وَبَلَوْنَاهُم بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ |"And we tested them with good happenings and bad happen¬ings so that they might return.|" The |"good happenings|" refer to their state of prosperity, comfort and ease while &bad happenings& has reference either to their various persecutions and calamities faced by them throughout their history, or it may have referred to some period of famine coming upon them as punishment. Both the methods of testing their obedience were used in their case. Prosperity and wealth were given to them to see if they show their gratefulness to their Lord. When they were a failure in this test, they were made to undergo many punishments already discussed in the foregoing verses. Their perversion of thought and practice had gone to such extent that in the time of prosperity they said: إِنَّ اللَّـهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ |"Allah is poor and we are rich.|" (3:181) while in times of their destitution they said: يَدُ اللَّـهِ مَغْلُولَةٌ |"Allah&s hand is shackled.|" (5:64) Another implication of the verse is that prosperity or poverty, happiness or suffering are sent as a test to mankind in order to judge the faith and love of the created for the Creator. Both, pros¬perity and suffering should be of no real concern to the men of under-standing, as they are temporary and have to end. It is, therefore, not wise to show arrogance for one&s prosperity or being dejected for one&s impoverishment. A Persian poet said: نہ شادی داد سامانے نہ غم آورد نقصانے بہ پیش ھمت ماھرچہ آمد بود مہمانے |"Neither happiness awarded us with real benefit nor did sorrow make us weep. Both came as guests to our resolute spirit.|"
دوسری آیت میں یہودیوں پر ایک اور سزا کا ذکر ہے، جو اسی دنیا میں ان کو دی گئی وہ یہ کہ ان کی آبادی دنیا کے مختلف حصوں میں منتشر اور متفرق ہوگئی، کسی جگہ ایک ملک میں ان کا اجتماع نہ رہا، (آیت) وَقَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا کا یہی مطلب ہے قَطَّعنَا، مصدر تقطیع سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں ٹکڑے ٹکڑے کردینا، اور امم، امة کی جمع ہے جسکے معنی ہیں، ایک جماعت یا ایک فرقہ، مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہود کی قوم کے ٹکڑے ٹکرے زمین کے مختلف حصوں میں متفرق کردیئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی قوم کا ایک جگہ اجتماع اور اکثریت اللہ تعالیٰ کا انعام و احسان ہے اور اس کا مختلف جگہوں میں منتشر ہوجانا ایک طرح کا عذاب الہی، مسلمانوں پر حق تعالیٰ کا یہ انعام ہمیشہ رہا ہے اور انشاء اللہ تا قیامت رہے گا کہ وہ جس جگہ رہے ان کی ایک زبردست اجتماعی قوت وہاں پیدا ہوگئی، مدینہ طیبہ سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور مشرق و مغرب میں اسی کیفیت کے ساتھ حیرت انگیز طریقہ پر بھیلا، مشرق بعید میں، پاکستان، انڈونیشیا وغیرہ مستقل اسلامی حکومتیں اسی کے نتیجہ میں بنیں، اس کے بالمقابل یہودیوں کا حال ہمیشہ یہ رہا کہ مختلف ملکوں میں منتشر رہے، مالدار کتنے بھی ہوں مگر اقتدار و اختیار ان کے ہاتھ نہ آیا۔ چند سال سے فلسطین کے ایک حصہ میں ان کے اجتماع اور مصنوعی اقتدار سے دھوکہ نہ کھایا جائے اجتماع تو ان کا اس جگہ میں آخری زمانہ میں ہونا ہی چا ہئے تھا کیونکہ صادق مصدوق رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث صحیحہ میں قرب قیامت کے لئے یہ خبر دی گئی ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے، نصاری سب مسلمان ہوجائیں گے اور یہودیوں سے جہاد کر کے ان کو قتل کریں گے، خدا کا مجرم وارنٹ اور پولیس کے ذریعہ پکڑ کر نہیں بلایا جاتا بلکہ وہ تکوینی اسباب ایسے جمع کردیتے ہیں کہ مجرم اپنے پاؤں چل کر ہزاروں کوششیں کرکے اپنی قتل گاہ پر پہنچتا ہے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ملک شام دمشق میں ہونے والا ہے، یہودیوں کے ساتھ معرکہ بھی یہیں بننا ہے تاکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ان کا قلع قمع کردینا سہل ہو، قدرت نے دنیا کی پوری عمر میں تو یہیودیوں کو مختلف ملکوں میں منتشر رکھ کر محکومیت اور بےقدری کا عذاب چکھا یا اور آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آسانی کے لئے ان کو ان کے مقتل میں جمع فرمادیا اس لئے یہ اجتماع اس عذاب کے منافی نہیں۔ رہا ان کی موجودہ حکومت اور مصنوعی اقتدار کا قضیہ سو یہاں ایک ایسا دھوکہ ہے جس پر آج کی مہذب دنیا نے اگرچہ بہت خوبصورت ملمع کا پردہ چڑھایا ہوا ہے لیکن کوئی دنیا کی سیاست سے باخبر انسان ایک منٹ کے لئے بھی اس سے دھوکہ نہیں کھا سکتا کیونکہ آج جس خطہ کو اسرائیل مملکت کا نام دیا جاتا ہے وہ در حقیقت روس، امریکہ اور انگلینڈ کی ایک مشترک چھاؤ نی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی وہ محض ان حکومتوں کی امداد سے زندہ ہے اور ان کے تابع فرمان رہنے ہی میں اس کے وجود کا راز مضمر ہے، ظاہر ہے کہ اس حقیقی غلامی کو مجازی حکومت کا نام دے دینے سے اس قوم کو کوئی اقتدار حاصل نہیں ہوجاتا، قرآن کریم نے ان کے بارے میں تا قیامت رسوائی اور خواری کے جس عذاب کا ذکر کیا ہے وہ آج بھی بدستور موجود ہے جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے، (آیت) وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ، یعنی جب کہ آپ کے رب نے پختہ ارادہ کرلیا کہ ان لوگوں پر کسی ایسی طاقت کو قیامت تک مسلط کردے گا جو ان کو برا عذاب چکھائے۔ جیسا کہ اول سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھ سے پھر بخت نصر کے ذریعہ اور آخر میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ سے اور باقیماندہ حضرت فاروق اعظم کے ذریعہ ہر جگہ سے ذلت و خواری کے ساتھ ان کا نکالا جانا مشہور و معروف اور تاریخ کے مسلمات میں سے ہے۔ اس آیت کا دوسرا جملہ یہ ہے (آیت) مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ ، یعنی ان لوگوں میں کچھ لوگ نیک ہیں اور کچھ دوسری طرح کے، دوسری طرح سے مراد کفار فجار بدکار لوگ ہیں مطلب یہ ہے کہ یہودیوں میں سب ایک ہی طرح کے لوگ نہیں، کچھ نیک بھی ہیں، مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو تورات کے زمانہ میں احکام تورات کے پورے پابند رہے، نہ ان کی نافرمانی میں مبتلا ہوئے نہ کسی تاویل و تحریف کے درپے ہوئے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ حضرات ہوں جو نزول قرآن کے بعد قرآن کے تایع ہوگئے، اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے، اس کے بالمقابل وہ لوگ ہیں جنہوں نے تورات کو آسمانی کتاب ماننے کے باوجود اس کی خلاف ورزی کی یا اس کے احکام میں تحریف کرکے اپنی آخرت کو دنیا کی گندی چیزوں کے بدلہ میں بیچ ڈالا۔ آخر آیت میں ارشاد ہے (آیت) وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ، یعنی ہم نے اچھی بری حالتوں سے ان کا امتحان لیا تاکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔ اچھی حالتوں سے مراد ان کو مال و دولت کے ذخیرے اور عیش و عشرت کے سامان دینا ہے، اور بری حالتوں سے مراد یا تو ذلت و خواری کے وہ واقعات ہیں جو ہر زمانہ میں مختلف صورتوں سے پیش آتے رہے اور یا کسی وقت کا قحط و افلاس جو ان پر ڈالا گیا وہ مراد ہے، بہرحال مطلب یہ ہے کہ انسان کی فرماں برداری یا سرکشی کا امتحان لینے کے دو ہی طریقے ہیں، دونوں استعمال کر لئے گئے ایک یہ کہ احسانات و انعامات کرکے اس کی آزمائش کی جائے کہ وہ احسان کرنے والے اور انعام دینے والے کے شکر گزار فرمانبردار ہر تے ہیں یا نہیں، دوسرے یہ کہ ان کو مختلف تکلیفوں اور پریشانیوں میں مبتلا کرکے اس کی آزمائش کی جائے کہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع ہوتے اور اپنی بد اعمالیوں سے توبہ کرتے ہیں یا نہیں۔ لیکن قوم یہود ان دونوں امتحانوں میں فیل ہوگئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر نعمت کے دروازے کھولے، مال و دولت کی فراوانی عطا فرمائی تو کہنے لگے (آیت) اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ ، یعنی ( معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ فقیر ہیں اور ہم غنی، اور جب ان کو افلاس و ناداری سے آزمایا گیا تو کہنے لگے ید اللہ مغلولة، یعنی اللہ کا ہاتھ تنگ ہوگیا۔ فوائد : اس آیت سے ایک فائدہ تو یہ حاصل ہوا کہ کسی قوم کا ایک جگہ اجتماع اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس کا منتشر ہونا عذاب، دوسرا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ اس دنیا کی راحت و کلفت اور خوشی و غم درحقیقت خداوندی امتحان کے مختلف پرچے ہیں جن کے ذریعے اس کے ایمان اور خدا پرستی کی آزمائش کی جاتی ہے، نہ یہاں کی تکلیف کچھ زیادہ رونے دھونے کی چیز ہے نہ کوئی راحت مسرور و غرور ہوجانے کا سامان، عاقبت اندیش عقلمند کے لئے یہ دونوں چیزیں قابل توجہ نہیں۔ نہ شادی داد سامانے نہ غم آورد نقصانے بہ پیش ہمت ماہر چہ آمد بود مہمانے