Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 168

سورة الأعراف

وَ قَطَّعۡنٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اُمَمًا ۚ مِنۡہُمُ الصّٰلِحُوۡنَ وَ مِنۡہُمۡ دُوۡنَ ذٰلِکَ ۫ وَ بَلَوۡنٰہُمۡ بِالۡحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۱۶۸﴾

And We divided them throughout the earth into nations. Of them some were righteous, and of them some were otherwise. And We tested them with good [times] and bad that perhaps they would return [to obedience].

اور ہم نے دنیا میں ان کی مختلف جماعتیں کردیں ۔ بعض ان میں نیک تھے اور بعض ان میں اور طرح کے تھے اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بد حالیوں سے آزماتے رہے کہ شاید باز آجائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Children of Israel scatter throughout the Land Allah tells; وَقَطَّعْنَاهُمْ فِي الاَرْضِ أُمَمًا ... And We have broken them (the Jews) up into various separate groups on the earth: Allah states that He divided the Jews into various nations, sects and groups, وَقُلْنَا مِن بَعْدِهِ لِبَنِى إِسْرَءِيلَ اسْكُنُواْ الاٌّرْضَ فَإِذَا جَأءَ وَعْدُ الاٌّخِرَةِ جِيْنَا بِكُمْ لَفِيفًا And We said to the Children of Israel after him (after Musa died): "Dwell in the land, then, when the final and the last promise comes near, We shall bring you altogether as a mixed crowd (gathered out of various nations)." (17:104) ... مِّنْهُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَلِكَ ... some of them are righteous and some are away from that, some of them are led aright and some are not righteous, just as the Jinns declared, وَأَنَّا مِنَّا الصَّـلِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَلِكَ كُنَّا طَرَايِقَ قِدَداً "There are among us some that are righteous, and some the contrary; we are groups having different ways (religious sects)." (72:11) Allah said here, ... وَبَلَوْنَاهُمْ ... And We tried them, and tested them, ... بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّيَاتِ ... with good and evil, with times of ease, difficulty, eagerness, fear, well-being and affliction, ... لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ in order that they might turn (to Allah). Allah said next,

رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے ۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل سے کہا تم زمین میں رہو سہو ، جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے کجھ بد تھے ، جنات میں بھی یہی حال ہے جیسے سورہ جن میں ان کا قول ہے کہ ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں پھر فرمان ہے کہ میں نے انہیں سختی نرمی سے ، لالچ اور خوف سے ، عافیت اور بلا سے غرض ہر طرح پر کھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں جب یہ زمانہ بھی گذرا جس میں نیک بد ہر طرح کے لوگ تھے ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں ۔ یہ اب تورات کی تلاوت والے رہ گئے ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو وہ حق بات کو بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے جیب بھر دو جو چاہو کہلوا لو ۔ پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا ؟ توبہ کرلیں گے معاف ہو جائے گا پھر موقع آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں ۔ گناہ کیا توبہ کی پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کر لیا ۔ مقصود ان کا دنیا طلبی ہے حلال سے ملے چاہے حرام سے ملے پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے ۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کر دی ۔ بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا آج ایک کو قاضی بناتے ہیں وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم کرتے ہیں اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے پوچھتے ہیں بھئی ایسا کیوں کرتے ہو؟ جواب ملتا ہے اللہ غفور و رحیم ہے پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں حاکموں اور ججوں کا شاکی تھا لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ حالانکہ تم سے مضوبط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو اسی وعدے کا بیان آیت ( وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَلَاتَكْتُمُوْنَهٗ ۡ فَنَبَذُوْهُ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَـــنًا قَلِيْلًا ۭ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ ١٨٧؁ ) 3-آل عمران:187 ) میں ہوا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے ۔ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجرو ثواب کی لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا حرام سے بچے خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے ۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو؟ پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں ، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں ، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں ، نماز کو پابندی ، دلچسپی ، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

168۔ 1 اس میں یہود کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے ان میں سے بعض کے نیک ہونے کا ذکر ہے۔ اور ان دونوں طریقوں سے آزمائے جانے کا بیان ہے کہ شاید وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧٠] اسلاف یہود کا کردار :۔ یعنی یہود کو تفرقہ بازی کے عذاب میں مبتلا کردیا (جس میں آج کل مسلمان بھی مبتلا ہیں) جس کی وجہ سے قوم کی ساکھ ختم ہوجاتی ہے۔ امت کی وحدت پارہ پارہ ہوجاتی ہے اور دنیا کی نظروں میں وہ حقیر بن جاتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرقہ بازی کو عذاب کی ایک مستقل قسم قرار دیا ہے (نیز سورة انعام کی آیت نمبر ٦٥ کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔ &&

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا ۚ: تاکہ ان کی کوئی اجتماعی قوت وجود میں نہ آسکے۔ اس لیے یہودی تمام دنیا میں ٹکڑوں کی شکل میں پھیلے ہوئے ہیں اور جہاں رہتے ہیں اپنی سود خوری اور اس ملک کے خلاف سرگرمیوں اور جاسوسی کی وجہ سے نفرت کی نگاہوں کا نشانہ بنے رہتے ہیں، پھر ان کی برتری کی خواہش اور دنیا کی دولت اور حکومت کو اپنے قبضے میں لینے کی خواہش کے لیے ان کی سازشیں یہودی پروٹوکول کی صورت میں دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور کتنے ہی ملکوں سے انھیں نکالا گیا اور تہ تیغ کیا گیا، اب اگرچہ جرمنی سے غداری کے انعام میں برطانیہ اور امریکہ کے بل بوتے پر وہ عربوں کے قلب میں اسرائیل کے خنجر کی صورت میں پیوست ہوچکے ہیں، مگر ان کی اصل قوت امریکہ اور برطانیہ وغیرہ ہی ہیں۔ یہاں جمع ہو کر بھی وہ ظلم و ستم سے باز آنے کے بجائے فلسطینی عربوں پر ناقابل بیان مظالم ڈھا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے مؤاخذے میں اس دیر کا انجام کیا ہوتا ہے، کیونکہ وہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ ۡ: ان میں سے کچھ نیک ہیں، یعنی وہ جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے، یا جیسے وہ لوگ جنھوں نے ہفتے کے روز مچھلی کے شکار سے منع کیا تھا۔ دیکھیے آل عمران ( ١١٣ تا ١١٥) اور کچھ ان کے علاوہ، یعنی نیک نہیں بلکہ شریر اور بدکار، جیسے سود، رشوت اور دوسرے طریقوں سے حرام کھانے والے اور انبیاء تک کو قتل کر ڈالنے والے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچاننے کے باوجود آپ کی مخالفت کرنے والے۔ وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ۔۔ : کبھی راحت اور آرام دیا اور کبھی تکلیف میں مبتلا کردیا، اسی طرح کبھی خوش حالی عطا فرمائی، کبھی فقر و فاقہ سے دو چار کردیا، تاکہ وہ باز آجائیں، یعنی اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور تورات کے احکام پر عمل کریں۔ شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں : ” یہود کی دولت برہم ہوئی تو آپس کی مخالفت سے ہر طرف نکل گئے اور مختلف مذاہب پیدا ہوئے، یہ احوال اس امت کو سنایا کہ یہ سب کچھ ان پر بھی ہوگا۔ حدیث میں فرمایا ہے کہ اس امت میں بعض بندر اور سور ہوجائیں گے۔ اللہ گمراہی سے پناہ دے۔ “ (موضح) یہ حدیث بخاری میں ہے، فرمایا : ( وَ یَمْسَخُ آخَرِیْنَ قِرَدَۃً وَ خَنَازِیْرَ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ) [ بخاری، الأشربہ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر۔۔ : ٥٥٩٠ ] ” اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندروں اور خنزیروں کی صورت میں مسخ کر دے گا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The second punishment has been mentioned in verse 168. That is, Jewish populace has been cut into fragments scattered in all the parts of the world they could not integrate themselves into a solid nation. The phrase وَقَطَّعْنَاهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ أُمَمًا |"And we divided them on the earth as separate communities|". has refered to this fact. The Arabic word قَطَّعْنَا signifies breaking into pieces. While the word اُمَم is plural of Ummah, which means &a group&, &a party&. The verse means that Allah has divided them into fragments making them scattered on the earth. This indicates that being integrated in a whole, or having an entity as a nation is a blessing of Allah while getting disorganized into parts separated from each other is a punishment from Him. The Muslims have always enjoyed the blessing of having their own entity, and being recognized as an organized people in the world. Starting right from Madinah in the time of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) up to this day they have their own independent rule in various parts of the earth. The presence of Islamic countries from the Far East to the West is an obvious proof of this fact. Their present state in Palestine should not cause any doubt as they have to come together in a place in the last age according to the prophecies made by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He informed us in authentic Traditions that Prophet ` Isa (علیہ السلام) shall come down to the earth from heavens before the end of the world, and all the Christians shall embrace Islam. He shall fight a war against the Jews and put them to death. The culprits of Allah are not summoned through police, or other agencies; they are driven to their place of death by the causes created by the will of Allah. The Prophet ` Isa (علیہ السلام) (Jesus) is to descend from heavens in the land of Syria. He shall fight war with the Jews. The Prophet Isa (علیہ السلام) has been saved the trouble of seeking the Jews in different parts of the world by causing them to gather in Palestine. As to their present political power and sovereignty in the State of Israel, it is a delusion which beguiles only those who are not conversant with the world politics. The so called &State of Israel& is, in fact, a common camp ground of the big powers like America, Russia, and England. It depends upon the aid of its masters for its existence. It has to serve the aims and objectives of its Masters. They are still living in real servitude, and are deprived of their free rule in true sense of the word. The Holy Qur&an has informed us of their disgrace and distress up to the end of time in these words: وَإِذْ تَأَذَّنَ رَ‌بُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَن يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ ۗ إِنَّ رَ‌بَّكَ لَسَرِ‌يعُ الْعِقَابِ |"And when your Lord declared that he would surely keep sending till the Day of Doom, those who inflict upon them an evil punishment.|" History has recorded that they have been continually persecuted by one people or another right from the time of the Prophet Sulayman (علیہ السلام) to the present age. Their imprisonment by Nebuchadnezzar and persecution at the hands of subsequent kings, then their defeat and ignominious fate at the hands of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Caliph ` Umar al-Faruq (رض) 1, are obvious example of this fact. 1. The recent persecution of the Jews at the hands of Hitler in the second world war is a fresh example of this Qur&anic declaration. (Translator) The second phrase of this verse is this: مِّنْهُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَٰلِكَ |"Some of them are righteous, and some of them are other-wise|". The righteous people among them are those who followed the commandments of the Torah faithfully and did not try to distort them as others did. The people termed as &otherwise& include infidels and those who obstinately disobeyed their prophets and even killed them. The terms &righteous& and &otherwise& may also refer to the people who believed in the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and followed the Qur&anic guidance after it&s revelation. Opposed to them are those believing in the Torah as the word of Allah, disobeyed it or distorted its command¬ment and thus sold out their eternal salvation for petty gains of this world. The last phrase of this verse has said: وَبَلَوْنَاهُم بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ |"And we tested them with good happenings and bad happen¬ings so that they might return.|" The |"good happenings|" refer to their state of prosperity, comfort and ease while &bad happenings& has reference either to their various persecutions and calamities faced by them throughout their history, or it may have referred to some period of famine coming upon them as punishment. Both the methods of testing their obedience were used in their case. Prosperity and wealth were given to them to see if they show their gratefulness to their Lord. When they were a failure in this test, they were made to undergo many punishments already discussed in the foregoing verses. Their perversion of thought and practice had gone to such extent that in the time of prosperity they said: إِنَّ اللَّـهَ فَقِيرٌ‌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ |"Allah is poor and we are rich.|" (3:181) while in times of their destitution they said: يَدُ اللَّـهِ مَغْلُولَةٌ |"Allah&s hand is shackled.|" (5:64) Another implication of the verse is that prosperity or poverty, happiness or suffering are sent as a test to mankind in order to judge the faith and love of the created for the Creator. Both, pros¬perity and suffering should be of no real concern to the men of under-standing, as they are temporary and have to end. It is, therefore, not wise to show arrogance for one&s prosperity or being dejected for one&s impoverishment. A Persian poet said: نہ شادی داد سامانے نہ غم آورد نقصانے بہ پیش ھمت ماھرچہ آمد بود مہمانے |"Neither happiness awarded us with real benefit nor did sorrow make us weep. Both came as guests to our resolute spirit.|"

دوسری آیت میں یہودیوں پر ایک اور سزا کا ذکر ہے، جو اسی دنیا میں ان کو دی گئی وہ یہ کہ ان کی آبادی دنیا کے مختلف حصوں میں منتشر اور متفرق ہوگئی، کسی جگہ ایک ملک میں ان کا اجتماع نہ رہا، (آیت) وَقَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا کا یہی مطلب ہے قَطَّعنَا، مصدر تقطیع سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں ٹکڑے ٹکڑے کردینا، اور امم، امة کی جمع ہے جسکے معنی ہیں، ایک جماعت یا ایک فرقہ، مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہود کی قوم کے ٹکڑے ٹکرے زمین کے مختلف حصوں میں متفرق کردیئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی قوم کا ایک جگہ اجتماع اور اکثریت اللہ تعالیٰ کا انعام و احسان ہے اور اس کا مختلف جگہوں میں منتشر ہوجانا ایک طرح کا عذاب الہی، مسلمانوں پر حق تعالیٰ کا یہ انعام ہمیشہ رہا ہے اور انشاء اللہ تا قیامت رہے گا کہ وہ جس جگہ رہے ان کی ایک زبردست اجتماعی قوت وہاں پیدا ہوگئی، مدینہ طیبہ سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور مشرق و مغرب میں اسی کیفیت کے ساتھ حیرت انگیز طریقہ پر بھیلا، مشرق بعید میں، پاکستان، انڈونیشیا وغیرہ مستقل اسلامی حکومتیں اسی کے نتیجہ میں بنیں، اس کے بالمقابل یہودیوں کا حال ہمیشہ یہ رہا کہ مختلف ملکوں میں منتشر رہے، مالدار کتنے بھی ہوں مگر اقتدار و اختیار ان کے ہاتھ نہ آیا۔ چند سال سے فلسطین کے ایک حصہ میں ان کے اجتماع اور مصنوعی اقتدار سے دھوکہ نہ کھایا جائے اجتماع تو ان کا اس جگہ میں آخری زمانہ میں ہونا ہی چا ہئے تھا کیونکہ صادق مصدوق رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث صحیحہ میں قرب قیامت کے لئے یہ خبر دی گئی ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے، نصاری سب مسلمان ہوجائیں گے اور یہودیوں سے جہاد کر کے ان کو قتل کریں گے، خدا کا مجرم وارنٹ اور پولیس کے ذریعہ پکڑ کر نہیں بلایا جاتا بلکہ وہ تکوینی اسباب ایسے جمع کردیتے ہیں کہ مجرم اپنے پاؤں چل کر ہزاروں کوششیں کرکے اپنی قتل گاہ پر پہنچتا ہے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ملک شام دمشق میں ہونے والا ہے، یہودیوں کے ساتھ معرکہ بھی یہیں بننا ہے تاکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ان کا قلع قمع کردینا سہل ہو، قدرت نے دنیا کی پوری عمر میں تو یہیودیوں کو مختلف ملکوں میں منتشر رکھ کر محکومیت اور بےقدری کا عذاب چکھا یا اور آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آسانی کے لئے ان کو ان کے مقتل میں جمع فرمادیا اس لئے یہ اجتماع اس عذاب کے منافی نہیں۔ رہا ان کی موجودہ حکومت اور مصنوعی اقتدار کا قضیہ سو یہاں ایک ایسا دھوکہ ہے جس پر آج کی مہذب دنیا نے اگرچہ بہت خوبصورت ملمع کا پردہ چڑھایا ہوا ہے لیکن کوئی دنیا کی سیاست سے باخبر انسان ایک منٹ کے لئے بھی اس سے دھوکہ نہیں کھا سکتا کیونکہ آج جس خطہ کو اسرائیل مملکت کا نام دیا جاتا ہے وہ در حقیقت روس، امریکہ اور انگلینڈ کی ایک مشترک چھاؤ نی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی وہ محض ان حکومتوں کی امداد سے زندہ ہے اور ان کے تابع فرمان رہنے ہی میں اس کے وجود کا راز مضمر ہے، ظاہر ہے کہ اس حقیقی غلامی کو مجازی حکومت کا نام دے دینے سے اس قوم کو کوئی اقتدار حاصل نہیں ہوجاتا، قرآن کریم نے ان کے بارے میں تا قیامت رسوائی اور خواری کے جس عذاب کا ذکر کیا ہے وہ آج بھی بدستور موجود ہے جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے، (آیت) وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ، یعنی جب کہ آپ کے رب نے پختہ ارادہ کرلیا کہ ان لوگوں پر کسی ایسی طاقت کو قیامت تک مسلط کردے گا جو ان کو برا عذاب چکھائے۔ جیسا کہ اول سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھ سے پھر بخت نصر کے ذریعہ اور آخر میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ سے اور باقیماندہ حضرت فاروق اعظم کے ذریعہ ہر جگہ سے ذلت و خواری کے ساتھ ان کا نکالا جانا مشہور و معروف اور تاریخ کے مسلمات میں سے ہے۔ اس آیت کا دوسرا جملہ یہ ہے (آیت) مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ ، یعنی ان لوگوں میں کچھ لوگ نیک ہیں اور کچھ دوسری طرح کے، دوسری طرح سے مراد کفار فجار بدکار لوگ ہیں مطلب یہ ہے کہ یہودیوں میں سب ایک ہی طرح کے لوگ نہیں، کچھ نیک بھی ہیں، مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو تورات کے زمانہ میں احکام تورات کے پورے پابند رہے، نہ ان کی نافرمانی میں مبتلا ہوئے نہ کسی تاویل و تحریف کے درپے ہوئے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ حضرات ہوں جو نزول قرآن کے بعد قرآن کے تایع ہوگئے، اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے، اس کے بالمقابل وہ لوگ ہیں جنہوں نے تورات کو آسمانی کتاب ماننے کے باوجود اس کی خلاف ورزی کی یا اس کے احکام میں تحریف کرکے اپنی آخرت کو دنیا کی گندی چیزوں کے بدلہ میں بیچ ڈالا۔ آخر آیت میں ارشاد ہے (آیت) وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ، یعنی ہم نے اچھی بری حالتوں سے ان کا امتحان لیا تاکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔ اچھی حالتوں سے مراد ان کو مال و دولت کے ذخیرے اور عیش و عشرت کے سامان دینا ہے، اور بری حالتوں سے مراد یا تو ذلت و خواری کے وہ واقعات ہیں جو ہر زمانہ میں مختلف صورتوں سے پیش آتے رہے اور یا کسی وقت کا قحط و افلاس جو ان پر ڈالا گیا وہ مراد ہے، بہرحال مطلب یہ ہے کہ انسان کی فرماں برداری یا سرکشی کا امتحان لینے کے دو ہی طریقے ہیں، دونوں استعمال کر لئے گئے ایک یہ کہ احسانات و انعامات کرکے اس کی آزمائش کی جائے کہ وہ احسان کرنے والے اور انعام دینے والے کے شکر گزار فرمانبردار ہر تے ہیں یا نہیں، دوسرے یہ کہ ان کو مختلف تکلیفوں اور پریشانیوں میں مبتلا کرکے اس کی آزمائش کی جائے کہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع ہوتے اور اپنی بد اعمالیوں سے توبہ کرتے ہیں یا نہیں۔ لیکن قوم یہود ان دونوں امتحانوں میں فیل ہوگئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر نعمت کے دروازے کھولے، مال و دولت کی فراوانی عطا فرمائی تو کہنے لگے (آیت) اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ ، یعنی ( معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ فقیر ہیں اور ہم غنی، اور جب ان کو افلاس و ناداری سے آزمایا گیا تو کہنے لگے ید اللہ مغلولة، یعنی اللہ کا ہاتھ تنگ ہوگیا۔ فوائد : اس آیت سے ایک فائدہ تو یہ حاصل ہوا کہ کسی قوم کا ایک جگہ اجتماع اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس کا منتشر ہونا عذاب، دوسرا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ اس دنیا کی راحت و کلفت اور خوشی و غم درحقیقت خداوندی امتحان کے مختلف پرچے ہیں جن کے ذریعے اس کے ایمان اور خدا پرستی کی آزمائش کی جاتی ہے، نہ یہاں کی تکلیف کچھ زیادہ رونے دھونے کی چیز ہے نہ کوئی راحت مسرور و غرور ہوجانے کا سامان، عاقبت اندیش عقلمند کے لئے یہ دونوں چیزیں قابل توجہ نہیں۔ نہ شادی داد سامانے نہ غم آورد نقصانے بہ پیش ہمت ماہر چہ آمد بود مہمانے

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَطَّعْنٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا۝ ٠ ۚ مِنْہُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْہُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ۝ ٠ ۡوَبَلَوْنٰہُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّـيِّاٰتِ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝ ١٦٨ قطع القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] ، ( ق ط ع ) القطع کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام اسی سے اعضاء کا قطع کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] میں پہلے تو ) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسرے طرف کے پاؤں کٹوا دونگا الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] أي : كل نوع منها علی طریقة قد سخرها اللہ عليها بالطبع، فهي من بين ناسجة کالعنکبوت، وبانية کالسّرفة «4» ، ومدّخرة کالنمل ومعتمدة علی قوت وقته کالعصفور والحمام، إلى غير ذلک من الطبائع التي تخصص بها كل نوع . وقوله تعالی: كانَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً [ البقرة/ 213] أي : صنفا واحدا وعلی طریقة واحدة في الضلال والکفر، وقوله : وَلَوْ شاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً واحِدَةً [هود/ 118] أي : في الإيمان، وقوله : وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ [ آل عمران/ 104] أي : جماعة يتخيّرون العلم والعمل الصالح يکونون أسوة لغیرهم، وقوله : إِنَّا وَجَدْنا آباءَنا عَلى أُمَّةٍ [ الزخرف/ 22] أي : علی دين مجتمع . قال : وهل يأثمن ذو أمّة وهو طائع وقوله تعالی: وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ [يوسف/ 45] أي : حين، وقرئ ( بعد أمه) أي : بعد نسیان . وحقیقة ذلك : بعد انقضاء أهل عصر أو أهل دين . وقوله : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً قانِتاً لِلَّهِ [ النحل/ 120] أي : قائما مقام جماعة في عبادة الله، نحو قولهم : فلان في نفسه قبیلة . وروي :«أنه يحشر زيد بن عمرو بن نفیل أمّة وحده» وقوله تعالی: لَيْسُوا سَواءً مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ أُمَّةٌ قائِمَةٌ [ آل عمران/ 113] أي : جماعة، وجعلها الزجاج هاهنا للاستقامة، وقال : تقدیره : ذو طریقة واحدة فترک الإضمار أولی. الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ } ( سورة الأَنعام 38) اور زمین پر جو چلنے پھر نے والے ( حیوان ) دو پروں سے اڑنے والے پرند ہیں وہ بھی تمہاری طرح جماعتیں ہیں ۔ میں امم سے ہر وہ نوع حیوان مراد ہے جو فطری اور ت سخیری طور پر خاص قسم کی زندگی بسر کر رہی ہو ۔ مثلا مکڑی جالا بنتی ہے اور سرفۃ ( مور سپید تنکوں سے ) اپنا گھر بناتی ہے اور چیونٹی ذخیرہ اندوزی میں لگی رہتی ہے اور چڑیا کبوتر وغیرہ وقتی غذا پر بھروسہ کرتے ہیں الغرض ہر نوع حیوان اپنی طبیعت اور فطرت کے مطابق ایک خاص قسم کی زندگی بسر کر رہی ہے اور آیت کریمہ :۔ { كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً } ( سورة البقرة 213) ( پہلے تو سب ) لوگ ایک امت تھے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تما لوگ صنف واحد اور ضلالت و کفر کے ہی کے مسلک گامزن تھے اور آیت کریمہ :۔ { وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً } ( سورة المائدة 48) اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ہی شریعت پر کردیتا ۔ میں امۃ واحدۃ سے وحدۃ بحاظ ایمان مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ { وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ } ( سورة آل عمران 104) کے معنی یہ ہیں کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہونی چاہیے جو علم اور عمل صالح کا راستہ اختیار کرے اور دوسروں کے لئے اسوۃ بنے اور آیت کریمہ ؛۔ { إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ } ( سورة الزخرف 22 - 23) ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک متفقہ دین پر پایا ہے ۔ میں امۃ کے معنی دین کے ہیں ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہی ع (25) وھل یاثمن ذوامۃ وھوطائع ( طویل ) بھلا کوئی متدین آدمی رضا اور رغبت سے گناہ کرسکتا ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ } ( سورة يوسف 45) میں امۃ کے معنی حین یعنی عرصہ دارز کے ہیں اور ایک قرات میں بعد امہ ( ربالھاء ) ہے یعنی نسیان کے بعد جب اسے یاد آیا ۔ اصل میں بعد امۃ کے معنی ہیں ایک دور یا کسی ایک مذہب کے متبعین کا دورگزر جانے کے بعد اور آیت کریمہ :۔ { إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا } ( سورة النحل 120) کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم عبادت الہی میں ایک جماعت اور قوم بمنزلہ تھے ۔ جس طرح کہ محاورہ ہے ۔ فلان فی نفسہ قبیلۃ کہ فلاں بذات خود ایک قبیلہ ہے یعنی ایک قبیلہ کے قائم مقام ہے (13) وروی انہ یحشر زیدبن عمرابن نفیل امۃ وحدہ اورا یک روایت میں ہے کہ حشر کے دن زید بن عمر و بن نفیل اکیلا ہی امت ہوگا ۔ اور آیت کریمہ :۔ { لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ } ( سورة آل عمران 113) وہ سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہل کتاب میں کچھ لوگ ( حکم خدا پر ) قائم بھی ہیں ۔ میں امۃ بمعنی جماعت ہے زجاج کے نزدیک یہاں قائمۃ بمعنی استقامت ہے یعنی ذو و طریقہ واحدۃ تو یہاں مضمر متردک ہے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ بلی يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ، وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ الآية [ البقرة/ 155] ، وقال عزّ وجل : إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وسمي التکليف بلاء من أوجه : - أحدها : أن التکالیف کلها مشاق علی الأبدان، فصارت من هذا الوجه بلاء . - والثاني : أنّها اختبارات، ولهذا قال اللہ عزّ وجل : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] . - والثالث : أنّ اختبار اللہ تعالیٰ للعباد تارة بالمسار ليشکروا، وتارة بالمضار ليصبروا، فصارت المحنة والمنحة جمیعا بلاء، فالمحنة مقتضية للصبر، والمنحة مقتضية للشکر . والقیام بحقوق الصبر أيسر من القیام بحقوق الشکر فصارت المنحة أعظم البلاء ین، وبهذا النظر قال عمر : ( بلینا بالضراء فصبرنا وبلینا بالسراء فلم نشکر) «4» ، ولهذا قال أمير المؤمنین : من وسع عليه دنیاه فلم يعلم أنه قد مکر به فهو مخدوع عن عقله «1» . وقال تعالی: وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً [ الأنبیاء/ 35] ، وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاءً حَسَناً [ الأنفال/ 17] ، وقوله عزّ وجل : وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ، راجع إلى الأمرین، إلى المحنة التي في قوله عزّ وجل : يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِساءَكُمْ [ البقرة/ 49] ، وإلى المنحة التي أنجاهم، وکذلک قوله تعالی: وَآتَيْناهُمْ مِنَ الْآياتِ ما فِيهِ بَلؤُا مُبِينٌ [ الدخان/ 33] ، راجع إلى الأمرین، كما وصف کتابه بقوله : قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدىً وَشِفاءٌ وَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ فِي آذانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى [ فصلت/ 44] . وإذا قيل : ابْتَلَى فلان کذا وأَبْلَاهُ فذلک يتضمن أمرین : أحدهما تعرّف حاله والوقوف علی ما يجهل من أمره، والثاني ظهور جو دته ورداء ته، وربما قصد به الأمران، وربما يقصد به أحدهما، فإذا قيل في اللہ تعالی: بلا کذا وأبلاه فلیس المراد منه إلا ظهور جو دته ورداء ته، دون التعرف لحاله، والوقوف علی ما يجهل من أمره إذ کان اللہ علّام الغیوب، وعلی هذا قوله عزّ وجل : وَإِذِ ابْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ [ البقرة/ 124] . ويقال : أَبْلَيْتُ فلانا يمينا : إذا عرضت عليه الیمین لتبلوه بها ( ب ل ی ) بلی الوقب ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا بوسیدہ اور پرانا ہونے کے ہیں اسی سے بلاہ السفرہ ای ابلاہ ۔ کا تج اور ہ ہے ۔ یعنی سفر نے لا غر کردیا ہے اور بلو تہ کے معنی ہیں میں نے اسے آزمایا ۔ گویا کثرت آزمائش سے میں نے اسے کہنہ کردیا اور آیت کریمہ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ «3» [يونس/ 30] وہاں ہر شخص ( اپنے اعمال کی ) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا ۔ میں ایک قرآت نبلوا ( بصیغہ جمع متکلم ) بھی ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہاں ہم ہر نفس کے اعمال کی حقیقت کو پہچان لیں گے اور اسی سے ابلیت فلان کے معنی کسی کا امتحان کرنا بھی آتے ہیں ۔ اور غم کو بلاء کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جسم کو کھلا کر لاغر کردیتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی دسخت آزمائش تھی ۔ ۔ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ الآية [ البقرة/ 155] اور ہم کسی قدر خوف سے تمہاری آزمائش کریں گے ۔ إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ اور تکلف کو کئی وجوہ کی بناہ پر بلاء کہا گیا ہے ایک اسلئے کہ تکا لیف بدن پر شاق ہوتی ہیں اس لئے انہیں بلاء سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ دوم یہ کہ تکلیف بھی ایک طرح سے آزمائش ہوتی ہے ۔ جیسے فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] اور ہم تو لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ان کو معلوم کریں ۔ سوم اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کبھی تو بندوں کو خوش حالی سے آزماتے ہیں کہ شکر گزار بنتے ہیں یا نہیں اور کبھی تنگی کے ذریعہ امتحان فرماتے ہیں کہ ان کے صبر کو جانچیں ۔ لہذا مصیبت اور نعمت دونوں آزمائش ہیں محنت صبر کا تقاضا کرتی ہے اور منحتہ یعنی فضل وکرم شکر گزاری چاہتا ہے ۔ اور اس میں شک نہیں کہ کہا حقہ صبر کرنا کہا حقہ شکر گزاری سے زیادہ آسان ہوتا ہے اس لئے نعمت میں یہ نسبت مشقت کے بڑی آزمائش ہے اسی بنا پر حضرت عمر فرماتے ہیں کہ تکا لیف پر تو صابر رہے لیکن لیکن فراخ حالی میں صبر نہ کرسکے اور حضرت علی فرماتے ہیں کہ جس پر دنیا فراخ کی گئی اور اسے یہ معلوم نہ ہوا کہ آزامائش کی گرفت میں ہے تو و فریب خوردہ اور عقل وفکر سے مخزوم ہے قرآن میں ہے ۔ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً [ الأنبیاء/ 35] اور ہم تم لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں ۔ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاءً حَسَناً «2» [ الأنفال/ 17] اس سے غرض یہ تھی کہ مومنوں کو اپنے ( احسانوں ) سے اچھی طرح آزما لے ۔ اور آیت کریمہ : وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] اور اس میں تمہاراے پروردگار کی طرف سے بڑی ( سخت ) آزمائش تھی میں بلاء کا لفظ نعمت و مشقت دونوں طرح کی آزمائش کو شامل ہی چناچہ آیت : يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِساءَكُمْ [ البقرة/ 49]( تہمارے بیٹوں کو ) تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے ۔ میں مشقت کا بیان ہے اور فرعون سے نجات میں نعمت کا تذکرہ ہے اسی طرح آیت وَآتَيْناهُمْ مِنَ الْآياتِ ما فِيهِ بَلؤُا مُبِينٌ [ الدخان/ 33] اور ان کو نشانیاں دی تھیں جنیہں صریح آزمائش تھی میں دونوں قسم کی آزمائش مراد ہے جیسا کہ کتاب اللہ کے متعلق فرمایا ۔ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدىً وَشِفاءٌ وَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ فِي آذانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى [ فصلت/ 44] ( کسی کا امتحان کرنا ) یہ دو امر کو متضمن ہوتا ہے ( 1) تو اس شخص کی حالت کو جانچنا اور اس سے پوری طرح باخبر ہونا مقصود ہوتا ہے دوسرے ( 2 ) اس کی اچھی یا بری حالت کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا ۔ پھر کبھی تو یہ دونوں معنی مراد ہوتے ہیں اور کبھی صرف ایک ہی معنی مقصود ہوتا ہے ۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف تو صرف دوسرے معنی مراد ہوتے ہیں یعنی اس شخص لہ خوبی یا نقص کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے ۔ کیونکہ ذات ہے اسے کسی کی حالت سے باخبر ہونے کی ضرورت نہیں لہذا آیت کریمہ : وَإِذِ ابْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ [ البقرة/ 124] اور پروردگار نے چند باتوں میں ابراھیم کی آزمائش کی تو وہ ان میں پورے اترے ۔ دوسری معنی پر محمول ہوگی ( یعنی حضرت ابراھیم کے کمالات کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا مقصود تھا ) ابلیت فلانا یمینا کسی سے آزمائش قسم لینا ۔ حسنة والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، والسيئة تضادّها . وهما من الألفاظ المشترکة، کالحیوان، الواقع علی أنواع مختلفة کالفرس والإنسان وغیرهما، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ، أي : خصب وسعة وظفر، وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ أي : جدب وضیق وخیبة «1» ، يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ : كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] والفرق بين الحسن والحسنة والحسنی أنّ الحَسَنَ يقال في الأعيان والأحداث، وکذلک الحَسَنَة إذا کانت وصفا، وإذا کانت اسما فمتعارف في الأحداث، والحُسْنَى لا يقال إلا في الأحداث دون الأعيان، والحسن أكثر ما يقال في تعارف العامة في المستحسن بالبصر، يقال : رجل حَسَنٌ وحُسَّان، وامرأة حَسْنَاء وحُسَّانَة، وأكثر ما جاء في القرآن من الحسن فللمستحسن من جهة البصیرة، وقوله تعالی: الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] ، أي : الأ بعد عن الشبهة، ( ح س ن ) الحسن الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ میں حسنتہ سے مراد فراخ سالی وسعت اور نا کامی مراد ہے الحسن والحسنتہ اور الحسنی یہ تین لفظ ہیں ۔ اور ان میں فرق یہ ہے کہ حسن اعیان واغراض دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی طرح حسنتہ جب بطور صفت استعمال ہو تو دونوں پر بولا جاتا ہے اور اسم ہوکر استعمال ہو تو زیادہ تر احدث ( احوال ) میں استعمال ہوتا ہے اور حسنی کا لفظ صرف احداث کے متعلق بو لاجاتا ہے ۔ اعیان کے لئے استعمال نہیں ہوتا ۔ اور الحسن کا لفظ عرف عام میں اس چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو بظاہر دیکھنے میں بھلی معلوم ہو جیسے کہا جاتا ہے رجل حسن حسان وامرءۃ حسنتہ وحسانتہ لیکن قرآن میں حسن کا لفظ زیادہ تر اس چیز کے متعلق استعمال ہوا ہے جو عقل وبصیرت کی رو سے اچھی ہو اور آیت کریمہ : الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ سَّيِّئَةُ : الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] سَّيِّئَةُ : اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :، ، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] جو برے کام کرے رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٦٨) اور ہم نے ان کو جدا جدا جماعتیں کردیا اور وہ ساڑھے نو خاندان وراء النہر کی طرف تھے اور بقیہ مومن خاندان بنی اسرائیل کے تھے یا یہ کہ بقیہ بنی اسرائیل کے خاندان کافر تھے اور ہم نے ان کی فراخی، خوشحالی اور قحط ہر قسم کی سختیوں سے آزمایش کی تاکہ وہ اپنی معصیت اور کفر سے رجوع کرسکیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦٨ (وَقَطَّعْنٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا ج) ۔ بنی اسرائیل کا یہ دور انتشار (Diaspora) ٧٠ عیسوی میں شروع ہوا ‘ جب رومن جنرل ٹائٹس نے ان کے معبد ثانی (2nd Temple) کو شہید کیا (جو حضرت عزیر (علیہ السلام) کے زمانے میں دوبارہ تعمیر ہوا تھا) ۔ ٹائٹس کے حکم سے یروشلم میں ایک لاکھ تینتیس ہزار یہودیوں کو ایک دن میں قتل کیا گیا اور بچ جانے والوں کو فلسطین سے نکال باہر کیا گیا۔ چناچہ یہاں سے ملک بدر ہونے کے بعد یہ لوگ مصر ‘ ہندوستان ‘ روس اور یورپ کے مختلف علاقوں میں جا بسے۔ پھر جب امریکہ دریافت ہوا تو بہت سے یہودی خاندان وہاں جا کر آباد ہوگئے۔ اس آیت میں ان کے اسی انتشار کی طرف اشارہ ہے کہ پوری دنیا میں انہیں منتشر کردیا گیا اور اس طرح ان کی اجتماعیت ختم ہو کر رہ گئی۔ دوسری طرف وہ جہاں کہیں بھی گئے وہاں ان سے شدید نفرت کی جاتی رہی ‘ جس کے باعث ان پر یورپ میں بہت ظلم ہوئے۔ عیسائیوں کی ان سے نفرت اور شدید دشمنی کا ذکر قرآن میں بھی ہے : (فَاَغْرَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ط) ( المائدۃ : ١٤) پس ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت تک کے لیے ڈال دیا۔ یہ دشمنی یہودیوں کے ان گستاخانہ عقائد کی وجہ سے تھی جو وہ حضرت مسیح اور حضرت مریم (علیہ السلام) کے بارے میں رکھتے تھے۔ پھر جنگ عظیم دوم میں ہٹلر کے ہاتھوں تو یہودیوں پر ظلم کی انتہاہو گئی۔ اس کے حکم پر پورے مشرقی یورپ سے یہودیوں کو اکٹھا کر کے concentration camps میں جمع کیا گیا اور ان کے اجتماعی قتل کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ‘ جس کے لیے لاکھوں لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے جدید آٹو میٹک پلانٹ نصب کیے گئے۔ چناچہ مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کو اجتماعی طور پر ایک بڑے ہال میں جمع کیا جاتا ‘ وہاں ان کے کپڑے اتروائے جاتے اور بال مونڈدیے جاتے (بعد میں ان بالوں سے قالین تیار کیے گئے جو نازیوں نے اپنے دفتروں میں بچھائے) ‘ اور پھر انہیں وہاں سے بڑے بڑے گیس چیمبر زمین داخل کردیا جاتا۔ وہاں مرنے کے بعد مشینوں کے ذریعے سے لاشوں کا چورا کیا جاتا اور پھر خاص قسم کے کیمیکلز کی مدد سے انسانی گوشت کو ایک سیاہ رنگ کے سیال مادے میں تبدیل کر کے کھیتوں میں بطور کھاد استعمال کیا جاتا۔ یہ سب کچھ بیسویں صدی میں آج کے اس مہذب دور میں ہوا۔ اس طریقے سے ہٹلر کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ یہودی قتل ہوئے۔ یہود کے اس قتل عام کو Holocaust کا نام دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ساٹھ لاکھ کی تعداد مبالغے پر مبنی ہے ‘ اصل تعداد چالیس لاکھ تھی۔ چالیس لاکھ ہی سہی ‘ اتنی بڑی تعداد میں قتل عام قومی سطح پر کتنا دردناک عذاب ہے ! یہ ان کی تاریخ کے اب تک کے حالات و واقعات میں سے (مَنْ یَّسُوْمُہُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ ط) کی ایک جھلک ہے۔ اور اس سلسلے میں قیامت تک مزید کیا کچھ ہونے والا ہے اس کی خبر ابھی پردۂغیب میں ہے۔ بہر حال یہودیوں کا آخری وقت بہت جلد آنے والا ہے ‘ مگر جیسے چراغ کا شعلہ بجھنے سے پہلے بھڑکتا ہے ‘ بالکل اسی انداز سے آج کل ہمیں ان کی حکومت اور طاقت نظر آرہی ہے۔ اور شاید یہ سب کچھ اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ عربوں (جو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخاطب اول اور وارث اوّل ہونے کے باوجود دین سے پیٹھ پھیرنے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں) کو ایک مغضوب علیہم قوم کے ہاتھوں ہزیمت سے دو چار کر کے سزا دینا اور To add insult to injury کے مصداق اس ذلیل قوم کے ہاتھوں عربوں کی تذلیل مقصود ہے۔ اندریں حالات ایسا نظر آتا ہے کہ وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب مسجد اقصیٰ شہید کردی جائے گی اور اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جو طوفان اٹھے گا وہ یہودیوں کا سب کچھ بہا کرلے جائے گا ‘ لیکن ان کے اس سلسلۂ عذاب کی آخری شکل حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ظہور کے بعد سامنے آئے گی۔ جیسے پہلے تمام رسولوں کے منکرین ان کی موجودگی میں ختم کردیے گئے تھے (چھ رسولوں اور ان کی قوموں کے واقعات تکرار کے ساتھ قرآن میں آئے ہیں) اسی طرح حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے منکرین کو بھی ان کی موجود گی میں ختم کیا جائے گا۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کی طرف اللہ کے رسول تھے : (وَرَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ .........) (آل عمران : ٤٩) ۔ یہودی نہ صرف آپ ( علیہ السلام) کے منکر ہوئے بلکہ (بزعم خویش) انہوں نے آپ ( علیہ السلام) کو قتل بھی کردیا۔ لہٰذا بحیثیت قوم ان کا اجتماعی استیصال بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) ہی کے ہاتھوں ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(168 ۔ 170) ۔ یہود کی سلطنت جب تباہ ہوئی تو آپس میں ایسی پھوٹ پڑگئی جس سے یہ مختلف شہروں میں کچھ ادھر کچھ ادھر ہوگئے۔ اور مختلف مذہب پیدا ہوگئے اسی بات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ ہم نے یہود کو متفرق گروہ بنا دیا اور دنیا کے اطراف میں ایک کو دوسرے سے جدا کردیا سلطنت کی باگ ان کے ہاتھ سے نکال دی یہ لوگ ہر سرزمین میں پریشان ہوگئے کوئی شاخ ان کی باقی نہ رکھی جہاں بستیاں ہیں وہاں دوسرے کے زیرحکومت میں پھر فرمایا کہ بعض ان میں صالح اور نیک بخت ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلے اپنے دین پر قائم رہے کوئی تبدیل اور تحریف کتاب آسمانی میں انہوں نے نہیں کی اور مرتے دم تک خدا کے احکام پر عمل کرتے رہے اور جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت تک باقی رہے وہ آپ پر ایمان لائے اور بعضے یہود ایسے بدکردار ہیں جنہوں احکام الٰہی کو بدل ڈالا اور اپنے دین سے پھرگئے اس میں طرح طرح کی تراش وخراش کی۔ اللہ نے ان کو ہر طرح سے جانچا کبھی تندرستی اور کبھی تکلیف و رنج ان پر نازل کیا کبھی عذاب بھیج کر آزمایا کہ شاید اپنے فعل پر نادم ہو کر حق کی طرف رجوع کریں لیکن کچھ نہ ہوا جو اولاد بھی ان کی پیدا ہوئی وہ بھی ایسی ناخلف ہوئی کہ توریت کے وارث بن کر دنیا کی طمع کرنے لگی ان کے نزدیک رشوت کا لینا ایک ادنی بات تھی۔ سدی کا قول ہے کہ بنی اسرائیل میں جب کوئی قاضی بنتا تھا رشوت لے کر فیصلہ کردیا کرتا تھا قوم کے نیک بخت لوگ جمع ہو کر قاضی بننے والے شخص سے یہ قول وقرار لیتے تھے کہ تم ایسا کام ہرگز نہ کرنا مگر جب کوئی قاضی ہوا اور لگا رشوت لینے جب اس سے یہ بات کہی جاتی تھی کہ تم عہد کرچکے تھے کہ رشوت نہ لو گے اب یہ کیا بات ہے اس عہد کو بھول گئے تو جواب دیتا تھا کہ خدا بخش دے گا بنی اسرائیل کی قوم مل کر اس پر طعن وتشنیع کرتے تھے پھر اس قاضی کے مرنے کے بعد ان لوگوں میں سے کوئی قاضی ہوتا تو وہ بھی وہی حرکت کرنے لگتا تھا سدی کے اس قول کے موافق آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب طعن تشنیع کرنے والوں میں کچھ لوگ قاضی ہوئے اور ان کے سامنے دنیا کی دولت آئی تو منہ میں پانی بھر آیا حلال حرام کچھ نہ سمجھا اور جس طرح بن پڑا اس کے لینے میں دربغ نہ کیا اور پھر یہ امید رکھی کہ خدا معاف کریگا۔ اسی کو اللہ پاک نے فرمایا کہ کیا اس سے تورات میں یہ عہد نہیں لے لیا گیا تھا کہ حق کے سوا اور کچھ نہ کہنا حق کو کبھی نہ چھپانا پھر اس کے بعد اللہ جل شانہ نے یہ فرمایا کہ آخرت تو اسی کے حصہ میں ہے جو خدا سے ڈرتا ہوا اور وہاں جو کچھ بہتری ہونے والی ہے انہی متقیوں کو ہوگی یہ لوگ تو سمجھے کے اندھے کچھ بھی عقل سے کام نہیں لیتے ہیں نور دنیا کی طلب میں مدہوش ہو رہے ہیں نہ حلال سمجھتے ہیں نہ حرام جو کچھ سامنے آجاتا ہے کئے چلے جاتے ہیں پھر اللہ پاک نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی جو کتاب کو اس طرح مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں کہ اس ہر ایک امر ونہی کو بجالاتے ہیں نماز بھی پڑھتے ہیں ایسے لوگوں کے حق میں فرمایا کہ ہم صلاحیت اور نیکی پر قائم رہنے والوں کا بدلہ اور اجر ضائع نہیں کرتے ہیں آخرت میں اس کا اجرا نہیں دیں گے :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:168) قطعنہم۔ ملاحظہ ہو 7:160 ۔ ہم نے ان کو بانٹ دیا۔ تقسیم کردیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 تاکہ ان کی کوئی اجتماعی قوت وجود میں نہ آسکے، آج یہودی اگرچہ ایک ریاست کی شکل میں یاک جگہ یعنی فلسطین میں جمع ہورنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر دوسری حکومتوں کی پشت پناہی اور عرب دشمنی کے تحت یہ سب کچھ ہو رہا ہے، معلوم نہیں اس کا انجام کیا ہوگا۔3 یا جیسے ولوگ جنہوں نے ہفتہ کو روز مچھلی کا شکار کرنے والوں کو منع کیا تھا، رازی)4 یعنی نیک نہیں بلکہ شریر اور بدکار جیسے سود کھانے اور انبیا ( علیہ السلام) تک تک کو قتل کر ڈالنے والے، (کبیر)5 کبھی راحت اور چین دیا اور کبھی تکالیف میں مبتلا کردیا۔ اس طرح کبھی خوشحالی نصیب ہوئی اور کبھی فقرو فاقہ سے دو چار ہوئے ( ابن کثیر)6 یعنی اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور توراۃ کے احکام پر عمل کریں شاہ صا حب فرماتے ہیں کہ یہود کی دولت بر ہم ہوئی تو آپس کی مخالفت سے ہر طرف نکل گئے اور مختلف مذاہب پیدا ہوئے یہ احوال اس امت کو سنا یا ہے کہ یہ سب کچھ ان پر بھی ہوگا، حدیث میں فرمایا ہے کہ اس امت میں بعض بندر اوسئور ہوجائیں گے۔ اللہ گمراہی سے پناہ دے، ( از مو ضح )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ کیونکہ گاہے حسنات سے ترغیب ہوجاتی ہے اور گاہے سیات سے ترہیب ہوجاتی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ یہ دنیا میں منتشر رہیں گے۔ یہودیوں پر ہمیشہ کے لیے درج ذیل عذاب مسلط کیے گئے ہیں۔ ١۔ دولت مند ہونے کے باوجود ان پر مسکنت کا مسلط ہونا جس وجہ سے یہودی کبھی مستغنی اور سیر چشم نہیں ہوتا۔ ٢۔ یہودی اپنے دشمنوں کی نظر میں ہی نہیں اپنے دوستوں اور حلیفوں کی نظر میں بھی ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔ ٣۔ یہودی سیاسی مانگت بنے بغیر دنیا میں کبھی آزاد حکومت قائم نہیں کرسکتے۔ ٤۔ یہودی ہمیشہ دنیا میں منتشر رہیں گے۔ یہودیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ بھی اعلان اور فیصلہ ہے کہ یہ دنیا میں ہمیشہ منتشر اور در بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہیں گے۔ یہاں قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آج تو یہودی منظم ہونے کے ساتھ ایک مملکت کے مالک ہیں اس میں کوئی شک نہیں بظاہر یہودی منظم دکھائی دیتے ہیں اور اسرائیل کے نام پر ان کی حکومت بھی قائم ہے۔ قرآن مجید یہاں وضاحت کرتا ہے کہ یہودیوں میں صالح لوگ بھی ہیں اور برے بھی۔ صالح سے مراد اگر دنیوی طور پر شریف النفس انسان لیے جائیں تو ان کی نہایت ہی قلیل تعداد یہودیوں میں ہمیشہ رہی ہے اور رہے گی اگر دین کے حوالے سے صالح کا مفہوم لیا جائے تو حقیقت میں صالح وہی شخص ہوگا جو نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو اپنی نعمتوں اور احسانات کے ساتھ بھی آزمایا اور مختلف قسم کے عذاب اور دنیوی نقصانات کے ساتھ بھی، لیکن یہ لوگ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے کے بجائے الٹے پاؤں ہی چلنے والے ہیں۔ یاد رہے کہ اتفاق و اتحاد اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا انعام ہے انتشار اللہ کا عذاب اور آگ ہے۔ (آل عمران : ١٠٤) مسائل ١۔ یہودی دنیا میں ہمیشہ منتشر رہیں گے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ انھیں ہر طرح آزمائش میں ڈالتا ہے مگر انھوں نے اپنی اصلاح نہیں کی۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کے بعد یہ قصہ تاریخی خطوط پر آگے بڑھتا ہے۔ حضرت موسیٰ آپ کے خلفاء انبیاء اور آپ کے بعد نسلاً بعد نسل آنے والے لوگوں سے آگے بڑھ کر اب اس نسل سے بات ہو رہی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں موجود ہے اور جماعت مسلمہ اور اس کے درمیان مقابلہ ہے یہ آیات بھی مدنی ہے اور ان کو یہاں اس لیے رکھا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے قصے کو مکمل کردیا جائے۔ یہ اس وقت کے حالات ہیں جب یہودی اس کرۂ ارض پر دور تک پھیل گئے تھے۔ ان کی مختلف جماعتیں بن گئی تھیں اور انہوں نے مختلف مذاہب اور عقائد اپنا لیے تھے۔ ان کے مسلک اور مشرب مختلف ہوگے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ نیک تھے اور کچھ عام لوگ تھے ، کہیں ان کی آزمائشیں ہوتی رہیں ، کبھی خوشحال بن کر انہیں آزمایا جاتا اور کبھی بد حال بنا کر ، تاکہ وہ راہ راست کی طرف لوٹ آئیں اور راہ ہدایت پا لیں اور سیدھے راستے پر چلیں۔ وَقَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا ۚمِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ ۡ وَبَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ۔ ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے بہت سی قوموں میں تقسیم کردیا۔ کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ اس سے مختلف۔ اور ہم ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمائش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں اللہ کی طرف سے آزمائش بھی ایک قسم کی رحمت ہوتی ہے اور ان آزمائشوں کی وجہ سے انسان مسلسل اللہ کو یاد کرتا رہتا ہے اور انسان غافل نہیں رہتا ، کیونکہ غافل لوگ ہلاکت میں جا پڑتے ہیں

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بنی اسرائیل کی آزمائش اور ان کی حُبِ دنیا کا حال ان آیات میں اول تو یہودیوں کے اس حال کا تذکرہ فرمایا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں منتشر فرما دیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں تھوڑے تھوڑے کچھ یہاں کچھ وہاں سکونت اختیار کرتے گئے۔ ان کی جمعیت اور جماعت منتشر رہی۔ اجتماعیت جو اللہ کا انعام ہے اس سے محروم رہے۔ پھر فرمایا (مِنْھُمُ الصَّالِحُوْنَ ) (ان میں کچھ لوگ نیک تھے) (وَ مِنْھُمْ دُوْنَ ذٰلِکَ ) (اور کچھ لوگ دوسری طرح کے یعنی برے لوگ تھے) اچھے لوگ توریت اور انجیل پر قائم رہے اور پھر اللہ کے آخری رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آخری کتاب پر ایمان لائے اور برے لوگ شر پسند کفر پر جمے رہے اور اپنی اس شر پسندی کے مزاج کی وجہ سے آخر الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لائے۔ (وَ بَلَوْنٰھُمْ بالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ) (اور ہم نے ان کی آزمائش کی انہیں خوشحالیوں میں بھی رکھا اور بدحالیوں میں بھی، تاکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں) اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشحالی کے ذریعے بھی امتحان ہوتا ہے اور بد حالی کے ذریعے سے بھی، سمجھدار لوگ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہر حال میں رجوع کرتے ہیں اور آزمائش میں کامیاب ہوئے ہیں۔ لیکن یہودیوں نے کچھ اثر نہ لیا ہر طرح کے امتحان میں فیل ہوئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

165: اور ہم نے ان کی جمعیت کو متفرق کردیا اور زمین کے مختلف حصوں میں ان کو منتشر کر کے ان کی قوت و شوکت کو ختم کردیا۔ ہر زمانے میں ان میں کچھ اچھے لوگ بھی رہے ہیں جو اپنے اصلی دین پر قائم رہے یا جنہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ پایا اور آپ پر ایمان لائے لیکن اکثریت فاسق اور کافر ہی رہی۔ “ وَ بَلَوْنٰھُمْ الخ ” اور ہم خوشحالی اور قحط سالی اور دیگر طریقوں سے آرام و راحت اور تکلیف و شدت سے ان کی آزمائش بھی کرتے رہے تاکہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلیں اور اللہ کے دین کی سچے دل سے پیروی کرنے میں لگ جائیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

168 اور ہم نے بنی اسرایئل کو زمین میں متفرق جماعتوں میں تقسیم کردیا کچھ ان میں نیک بھی تھے اور بعضے ان کے برعکس یعنی نیک بھی تھے اور بد بھی اور ہم نے ان کو آرام و آسائش اور خوش حالیوں سے بھی آمای اور رنج و مصائب، بیماری اور فقر سے بھی ان کو آزمایا یعنی مختلف طریقوں سے ان کی آزمائش ہوئی تاکہ شاید وہ باز آجائیں۔ کیونکہ کبھی راحت و عیش سے بھی ترغیب ہوتی ہے جس طرح آلام و مصائب سے خوف و ترہیئت ہوتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود کی دولت برہم ہوئی تو آپس کی مخالفت سے ہر طرف نکل گئے اور مذہب مختلف پیدا ہوئے۔ یہ احوال اس امت کو سنایا کہ یہ سب کچھ ان پر بھی ہوگا۔ حدیث شریف میں فرمایا ہے کہ اس امت میں بعضے بندر اور سور ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ گمراہی سے پناہ دے۔