Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 19

سورة الأعراف

وَ یٰۤاٰدَمُ اسۡکُنۡ اَنۡتَ وَ زَوۡجُکَ الۡجَنَّۃَ فَکُلَا مِنۡ حَیۡثُ شِئۡتُمَا وَ لَا تَقۡرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۹﴾

And "O Adam, dwell, you and your wife, in Paradise and eat from wherever you will but do not approach this tree, lest you be among the wrongdoers."

اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو دونوں کھاؤ اور اس درخت کے پاس مت جاؤ ورنہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Shaytan's Deceit with Adam and Hawwa' and Their eating from the Forbidden Tree Allah says; وَيَا ادَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَ مِنْ حَيْثُ شِيْتُمَا وَلاَ تَقْرَبَا هَـذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ

پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ابلیس کو نکال کر حضرت آدم و حوا کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی ۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ بقرہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے ۔ شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا ، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کر دوں ۔ چنانچہ جھوٹ افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے ۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا ۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا تمہیں اس درخت سے صرف اس لئے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( یبین اللہ لکم ان تضلوا ) مطلب یہ ہے کہ ( لئلا تضلوا ) اور آیت میں ہے ( ان تمیدبکم ) یہاں بھی یہی مطلب ہے ۔ ( ملکین ) کی دوسری قرأت ( ملکین ) بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت لام کے زبر کے ساتھ ہے ۔ پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو میں تمہارا خیر خواہ ہوں تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں تم اسے کھا لو بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے قاسم باب مفاعلہ سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے ۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں قاسم آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لئے ۔ اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں حضرت آدم آ گئے ۔ سچ ہے مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے ۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

19۔ 1 یعنی صرف اس درخت کو چھوڑ کر جہاں سے اور جتنا چاہو کھاؤ۔ ایک درخت کا پھل کھانے کی پابندی آزمائش کے طور عائد کی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦] ابلیس کو تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے نکال دیا اور آدم (علیہ السلام) کے بعد اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے فرمایا کہ یہ جنت تمہارا مسکن ہے یہاں سے جو چاہو اور جتنا چاہو کھاؤ پیو البتہ اس ایک درخت کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ یہ درخت کون سا تھا ؟ اس کی صراحت نہیں کی گئی اور نہ اس کی ضرورت ہی تھی۔ اس حکم سے مقصود صرف آدم و حوا (علیہما السلام) کی آزمائش تھی کہ وہ کہاں تک اللہ کا یہ حکم بجا لاتے ہیں اور شیطان جو اپنی چھاتی پر ہاتھ مار کر کہتا ہے کہ میں آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا کیا یہ اس کی چالوں میں آتے ہیں یا نہیں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ۔۔ : اس کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ (٣٥) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The story of Sayyidna &Adam (علیہ السلام) and Iblis mentioned in the present verses has appeared in the fourth section of Surah Al-Baqarah. Detailed comments have been given in the Tafsir of that Surah. If needed, please see Ma‘ariful-Quran, English Translation, Volume I, Pages 170-187.

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (آدم (علیہ السلام) کو) حکم دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بی بی (حواء) جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو (اور جس چیز کو چاہو) دونوں آدمی کھاؤ اور (اتنا خیال رہے کہ) اس (خاص) درخت کے پاس (بھی) مت جاؤ (یعنی اس کا پھل نہ کھاؤ) کبھی ان لوگوں کے شمار میں آجاؤ جن سے نامناسب کام ہوجایا کرتے ہیں، پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ (ان کو وہ ممنوع درخت کھلا کر) ان کا مستور بدن جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھا دونوں کے روبرو بےپردہ کر دے (کیونکہ اس درخت کے کھانے کی یہی تاثیر ہے، خواہ بالذات یا بوجہ ممانعت کے) اور (وہ وسوسہ یہ تھا کہ دونوں سے) کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت (کے کھانے) سے اور کسی سبب سے منع نہیں فرمایا مگر محض اس وجہ سے کہ تم دونوں (اس کو کھاکر) کہیں فرشتے نہ بن جاؤ، یا کہیں ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ (حاصل وسوسہ کا یہ تھا اس درخت کے کھانے سے قوت ملکیت اور دائمی زندگی کی پیدا ہوجاتی ہے، مگر شروع میں آپ کا وجود اس طاقتور غذا کا متحمل نہ تھا، اس لئے منع کردیا گیا تھا، اب آپ کی حالت اور قوت میں ترقی ہوگئی، اور آپ کے قویٰ میں اس کا تحمل ہوگیا تو اب وہ ممانعت باقی نہ رہی) اور ان دونوں کے روبرو (اس بات پر) قسم کھالی کہ یقین جانئے میں آپ دونوں کا (دل سے) خیر خواہ ہوں تو (ایسی باتیں بنا کر) ان دونوں کو فریب سے نیچے لے آیا، (نیچے لانا باعتبار حالت اور رائے کے بھی تھا کہ اپنی رائے عالی کو چھوڑ کر اس دشمن کی رائے پر مائل ہوگئے، اور مقام کے اعتبار سے بھی جنت سے اسفل کی طرف اتارے گئے) پس ان دونوں نے جو درخت کو چکھا (فوراً ) دونوں کا مستور بدن ایک دوسرے کے سامنے کھل گیا، (یعنی جنت کا لباس اتر پڑا اور دونوں شرما گئے) اور (بدن چھپانے کے لئے) دونوں اپنے (بدن کے) اوپر جنت کے (درختوں کے) پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے اور (اس وقت) ان کے رب نے ان کو پکارا، کیا میں تم دونوں کو اس درخت (کے کھانے سے) ممانعت نہ کرچکا تھا اور یہ بتلا چکا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، (اس کے بہکاوے سے بچتے رہنا) دونوں کہنے لگے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا (کہ پوری احتیاط اور تامل سے کام نہ لیا) اور اگر آپ ہماری مغفرت نہ کریں گے اور ہم پر رحم نہ کریں گے تو واقعی ہم بڑے خسارہ میں پڑجائیں گے، حق تعالیٰ نے (آدم و حواء (علیہما السلام) سے) فرمایا کہ (جنت سے) نیچے (زمین پر) ایسی حالت میں جاؤ کہ تم (یعنی تمہاری اولاد) باہم بعضے بعض کے دشمن رہو گئے اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ (تجویز کی گئی) ہے اور (اسباب معیشت سے) نفع حاصل کرنا (تجویز ہوا ہے) ایک وقت (خاص) تک (یعنی موت کے وقت تک اور یہ بھی) فرمایا کہ تم کو وہاں ہی زندگی بسر کرنا ہے اور وہاں ہی مرنا ہے اور اسی میں سے (قیامت کے روز) پھر زندہ ہو کر نکلنا ہے۔ معارف ومسائل حضرت آدم (علیہ السلام) اور ابلیس کا جو واقعہ آیات مذکورہ میں آیا ہے بعینہ یہ سب واقعہ سورة بقرہ کے چوتھے رکوع میں پوری تفصیل کے ساتھ آچکا ہے، اور اس کے متعلق جس قدر سوالات و شبہات ہو سکتے ہیں ان سب کا تفصیلی جواب اور پوری تشریح مع دیگر فوائد کے سورة بقرہ کی تفسیر میں صفحہ 118 سے صفحہ 144 تک لکھ دیا گیا ہے، ضرورت ہو تو وہاں دیکھ لیا جائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّيْطٰنُ لِيُبْدِيَ لَہُمَا مَا وٗرِيَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْاٰتِہِمَا وَقَالَ مَا نَہٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِيْنَ۝ ٢٠ وسوس الوَسْوَسَةُ : الخطرةُ الرّديئة، وأصله من الوَسْوَاسِ ، وهو صوت الحلي، والهمس الخفيّ. قال اللہ تعالی: فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطانُ [ طه/ 120] ، وقال : مِنْ شَرِّ الْوَسْواسِ [ الناس/ 4] ويقال لهمس الصّائد وَسْوَاسٌ. ( وس وس ) الوسوسۃ اس برے خیال کو کہتے ہیں جو دل میں پیدا ہوتا ہے اور اصل میں سے ماخوز ہے جس کے معنی زیور کی چھنکار یا ہلکی سی آہٹ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطانُ [ طه/ 120] تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا ۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْواسِ [ الناس/ 4] شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے جو ( خدا کا نام سنکر ) پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ اور وسواس کے معنی شکار ی کے پاؤں کی آہٹ کے بھی آتے ہیں ۔ شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو بدا بَدَا الشیء بُدُوّاً وبَدَاءً أي : ظهر ظهورا بيّنا، قال اللہ تعالی: وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] ( ب د و ) بدا ( ن ) الشئ یدوا وبداء کے معنی نمایاں طور پر ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] اور ان کیطرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا ۔ وری يقال : وَارَيْتُ كذا : إذا سترته . قال تعالی: قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] وتَوَارَى: استتر . قال تعالی: حَتَّى تَوارَتْ بِالْحِجابِ [ ص/ 32] وروي أن النبيّ عليه الصلاة والسلام «كان إذا أراد غزوا وَرَّى بِغَيْرِهِ» ، وذلک إذا ستر خبرا وأظهر غيره . ( و ر ی ) واریت کذا ۔ کے معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا سر ڈھانکے ۔ تواری ( لازم ) چھپ جانا ۔ قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى تَوارَتْ بِالْحِجابِ [ ص/ 32] یہانتک کہ ( افتاب ) پردے میں چھپ گیا ۔ وریالخبر کے معنی تو ریہ کرنے کے ہیں یعنی اصل بات کو چھپا کر اسے کسی اور طریقہ سے ظاہر کرنا اس طور پر کہ جھوٹ بھی نہ ہو ۔ اور اصل مقصد بھی ظاہر نہ ہونے پائے ) چناچہ حدیث میں ہے ۔ ( 143 ) «كان إذا أراد غزوا وَرَّى بِغَيْرِهِ»کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تو تو ریہ سے کام لیتے ۔ سوْأَةِ ( شرم گاه) وكنّي عن الْفَرْجِ بِالسَّوْأَةِ قال : كَيْفَ يُوارِي سَوْأَةَ أَخِيهِ [ المائدة/ 31] ، فَأُوارِيَ سَوْأَةَ أَخِي [ المائدة/ 31] ، يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] ۔ اور کنایہ کے طور پر سوء کا لفظ عورت یا مرد کی شرمگاہ پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : كَيْفَ يُوارِي سَوْأَةَ أَخِيهِ [ المائدة/ 31] اپنے بھائی کی لاش کو کیونکہ چھپائے ۔ فَأُوارِيَ سَوْأَةَ أَخِي [ المائدة/ 31] کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا ۔ يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] کہ تمہار ستر ڈھانکے ، بَدَتْ لَهُما سَوْآتُهُما [ الأعراف/ 22] تو ان کے ستر کی چیزیں کھل گئیں ۔ لِيُبْدِيَ لَهُما ما وُورِيَ عَنْهُما مِنْ سَوْآتِهِما[ الأعراف/ 20] تاکہ ان کے ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں ۔ کھول دے ۔ نهى النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] ( ن ھ ی ) النهي کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔ ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے اسے فتحہ لام کے ساتھ ملک کہا جاتا ہے اور انسان کو ملک ہیں معلوم ہوا کہ ملک تو ملا ئکۃ میں ہے لیکن کل ملا ئکۃ ملک نہیں ہو بلکہ ملک کا لفظ فرشتوں پر بولا جاتا ہے کی طرف کہ آیات ۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے ۔ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] اور ان باتوں کے بھی پیچھے لگ گئے جو دو فرشتوں پر اتری تھیں ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٩) اور فرمایا آدم (علیہ السلام) وحوا علیھا السلام جنت میں رہو، باقی اس درخت علم سے کچھ نہ کھانا، کبھی تم دونوں نامناسب کام کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(19 ۔ 21) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم وحوا پر سوائے ایک درخت کے کل میوے اور پھل جنت کے مباح کردیے تھے کہ جہاں سے چاہو بےروک ٹوک کھاؤ اس کا حسد شیطان کو ہوا چاہا کہ کسی طرح یہ نعمتیں ان سے چھینی جاویں اس لئے قریب کی راہ سے کہا کہ اس درخت کے پھل سے جو تم کو منع کیا گیا ہے اس میں یہ بھی ‘ ہے کہ کہیں تم فرشتے یا ہمیشہ کے لئے جنت میں رہنے والے نہ ہوجاؤ اور قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اس موقعہ پر حافظ ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے کہ مومن خدا کا نام سن کر دشمن کے دھو کے میں آجاتا ہے سورة بقرہ میں عبد اللہ بن عباس (رض) اور عبداللہ بن مسعود (رض) کا یہ قول گذر جنت میں رہتے تھے مگر تنہائی کے سبب سے اکثر گھبرایا کرتے تھے ایک دن حضرت آدم ( علیہ السلام) جب سو رہے تھے تو ان کی نیند کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت حوا کو حضرت آدم ( علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا کردیا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ رہنے کا یہ دوبارہ حکم حضرت حوالہ کے پیدا ہوجانے کے بعد کا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے اس لئے پسلی کی ہڈی کی طرح ہر عورت کے مزاج میں ایک طرح کی کجی ہے۔ مغازی ابن اسحاق وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایتیں ہیں جس میں انہوں نے فرمایا عورت کی پسلی سے پیدا ہونے کا یہ مطلب ہے کہ حضرت حوا حضرت آدم (علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے اس وقت پیدا ہوئیں جب حضرت آدم سو رہے تھے یہ پیدا ہونا اس طرح کا ہے جس طرح اناج کے بیج یا میوے کی گٹھلی میں سے پیڑ پھوٹ آتا ہے سورة بقر میں یہ بھی گذر چکا ہے کہ جس پیڑ کا پھل کھانے سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی منع کیا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کے موافق وہ گیہوں کا پیڑ ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کے سبب سے شیطان جنت سے نکالا گیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا دونوں مل کر اللہ کے حکم کے موافق جنت میں راحت سے رہنے لگے تو شیطان کو اس کا بڑا قلق ہوا اور اس قلق میں اس نے جنت تک پہنچنے اور حضرت آدم ( علیہ السلام) کے بہکانے کی کوشش کی آخر جنت میں پہنچا اور پہلے حضرت حوا کو بہکا کر گیہوں کے دانے کھلائے اور پھر حوا کی رغبت ڈالنے سے آخر حضرت آدم (علیہ السلام) نے بھی گیہوں کے دانے کھائے جس کے نتیجہ کا ذکر آگے کی آیت میں آتا ہے صحیح بخاری میں ابوہریرہ (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر حوا نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر کے برخلاف شیطان کے کہنے میں نہ آتی اس حدیث سے ان مفسروں کے قول کی پوری تائد ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ شیطان کے بہکانے سے بغیر اجازت حضرت آدم ( علیہ السلام) کے پہلے حوا نے گیہوں کے دانے کھائے اور پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کو بھی ان دانوں کے کھانے کی رغبت دلائی صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شیطان آدمی کے تمام جسم میں اس طرح سرایت کرجاتا ہے جس طرح خون آدمی کے تمام جسم میں پھرتا ہے مطلب یہ ہے کہ اگرچہ شیطان آدمی کو ظاہر میں نظر نہیں آتا لیکن وہ آدمی کے تمام جسم میں سرایت کر کے آدمی کے دل میں اس طرح کا وسوسہ ڈالتا ہے کہ اپنے اس وسوسہ کا اثر آدمی کے تمام جسم میں پھیلا سکتا ہے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حوا کے بہکانے کے خلاف عادت ان کو شیطان نظر بھی آیا اور جھوٹی قسم کھا کر اپنی خیر خواہی انہیں جتلائی جس سے اپنے وسوسہ کے اثر کو اور پکا کردیا برا کام کرنے کے لئے شیطان آدمی کے دل میں جو خیال ڈالتا ہے اس کو وسوسہ کہتے ہیں

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 تشریح کے لے ملاحظہ ہو۔ سورت بقرہ آیت 35)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25: اسکن (تو آباد ہوجا۔ تو سکونت اختیار کر) ۔ کلا (تم دونوں کھاؤ) حیث شئتما (جیسے تم چاہو) لاتقربا (تم دونوں قریب نہ جانا) ۔ الشجرۃ (درخت) وسوس (خیال ڈالا، وسوسہ ڈالا) لیبدی (تاکہ وہ کھول دے وری (چھپایا گیا) سواۃ (شرم گاہیں۔ (بدن کا وہ حصہ جس کو چھپانا چاہیے) ۔ مانھکما (تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ملکین (دو فرشتے ) ۔ قاسم (اس نے قسم کھائی) ۔ دل (مائل کیا۔ جھکایا ) ۔ ذاقا (دونوں نے چکھا ) ۔ بدت (ظاہر ہوگئی ) ۔ طفقا یخصفان (دونوں جوڑنے لگے ) ۔ ورق (پتہ۔ پتے ) ۔ نادی (اس نے پکارا ) ۔ الم انھکما (کیا میں نے تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ظلمنا (ہم نے زیادتی کی۔ ظلم کیا ) ۔ لم تغفر (تو نے معاف نہ کیا ) ۔ مستقر (ٹھکانہ ) ۔ تشریح : آیت نمبر (19 تا 25 ) ۔ ” ان آیات سے چند باتیں سامنے آتی ہیں :۔ ا) بائبل میں بتایا گیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) سوئے ہوئے تھے ان کی پسلی سے حضرت حوا کو نکال کر ان کو آدم (علیہ السلام) کی بیوی بنا دیا گیا۔ یہ ایک اسرائیلی روایت ہے جس کے لئے علماء مفسرین نے فرمایا ہے ” لا تصدق ولا نکذب “ نہ ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ تردید قرآن و سنت میں بھی اس کی کوئی خاص وضاحت نہیں آئی۔ بہر حال ایک بات واضح ہے کہ بیوی جو انسان کی زندگی کی بہترین ساتھی ہوتی ہے اس کے بغیر جنت بھی تشنہ ہے جنت کی ساری نعمتیں حضرت آدم (علیہ السلام) کیلئے بےکیف تھیں جب تک ان کو زندگی کا ساتھی نہیں مل گیا جنت کی نعمتوں کو کیف آور اور روح پرور بنانے کے لئے ان میں معنی اور مقصد، حرکت و برکت ڈالنے کے لئے بیوی کی ضرورت آہی پڑی اور حضرت حوا کو پیدا کی گیا یہ جو بائبل میں آتا ہے کہ شیطان نے پہلے حضرت حوا کو بہکایا پھر انہوں نے حضرت آدم کو بہکایا یہ سراسر جھوٹ ہے۔ یہ بات عورت کو ذلیل و رسوا کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ ہندو اور یونانی دیومالوؤں میں عورت کو ذلیل کرنے کی من گھڑت کہانیاں ہیں بدھ مت بھی اپنا دامن اس قسم کی بےسروپا کہانیوں سے نہ بچا سکا۔ آج عورت کی عظمت کی باتیں کرنے والے بھی فیشن اور ترقی کے نام پر اس کو ذلیل و رسوا کر رہے ہیں۔ آج عورت کو بہترین نسلوں کی اصلاح کے لئے نہیں بلکہ کاروبار کو چمکانے کا آلہ کار بنایا ہوا ہے، صرف دین اسلام ہی وہ دین ہے جس نے عورت ذات کو اس کا حقیقی مقام اور مرتبہ عطا کر کے اس کے ذمے نسلوں کو بنانے اور سنوار نے کی ذمہ داری سپرد کی ہے اسلام نے عورت کو بازار کی زینت یا شمع محفل نہیں بلکہ شمع خانہ بنا کر اس پر خاندان کی تمام تر ذمہ داری ڈال دی ہے۔ یہی عورت کا بہترین مقام ہے۔ 2) ان آیات میں دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ انسان کسی جرثومہ سے پیدا نہیں ہوا (جیسا کہ ڈارون کا دعویٰ ہے) بلکہ تمام دنیا پر خلافت الہٰی کی عظیم الشان ذمہ داری ادا کرنے کے لئے تخلیق کیا گیا ہے جو تمام تر عقل و دانش ، شعور وتمیز اور علم و تہذیب سے مالا مال تھا۔ 3) تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ شیطان سب سے پہلا حملہ اور کاری وار عورت اور مرد کی جنس پر کرتا ہے۔ انہیں ایک دوسرے کے سامنے ننگے پن پر اکساتا ہے جو بدکاری، بدنگاہی، زنا، حرام اولاد اور اسقاط حمل وغیرہ کا دروازہ ہے مغرب میں یہ فعل انفرادی سطح سے اٹھ کر اب قومی سطح تک پہنچ گیا ہے اور حکومتوں کے ایوان بھی اس فعل سے محفوظ نہیں ہیں اسی لئے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ شرم و حیا نصف ایمان ہے یعنی اگر شرم وحیا کا قلعہ ایک دفعہ ٹوٹ گیا تو انسان کو شیطانی کاموں سے کوئی روک نہ سکے گا۔ 4) چوتھی بات یہ ہے کہ شیطان ہمیشہ ” خیر خواہ “ کے بھیس میں آتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ ” میں تمہارا مخلص ہوں، میں تمہارا بھلا چاہتا ہوں، اس میں میری کوئی ذاتی غرض نہیں ہے “ وغیرہ وغیرہ ایسے شیطانوں اور انسانوں سے بچنے کی بہت ضرورت ہے۔ 5) پانچویں بات یہ ہے کہ شیطان کا کام سبز باغ دکھانا ہے اور امیدوں کے کھلونوں سے کھیلنے پر مجبور کرنا ہے۔ ان آیات میں غور کرنے سے یہی نتائج سامنے آتے ہیں کہ شیطان اور اس کی ذریت ہمیشہ خیر خواہ بن کر دین و ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جو سب سے پہلے انسان ہیں اور اللہ کے سب سے پہلے نائب اور خلیفہ ہیں ان کو شیطان ان ہی حربوں سے شکست دینا چاہتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی ندامت کے اظہار پر معاف فرمادیا یہ درحقیقت شیطان کی سب سے پہلی شکست تھی لیکن شیطان دوسرے لوگوں کو بہکانے میں کامیاب ہوگیا جنہوں نے آدم (علیہ السلام) کو گناہگار تصور کر کے (نعوذ باللہ) عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنا دیا اور ان کو یقین دلادیا گیا کہ وہ تمام انسانوں کے گناہوں کو لے کر (نعوذباللہ) پھانسی چڑھ گئے۔ قرآن کریم اور احادیث میں نہ صرف اس واقعہ کی تردید کی گئی ہے بلکہ اہل ایمان کو بتا دیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی اور اس کے بندے ہیں اور آج بھی وہ آسمانوں پر زندہ موجود ہیں جو قیامت کے قریب دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : شیطان کو دھتکارنے اور راندۂ درگاہ کرنے کے بعد آدم (علیہ السلام) اور اس کی بیوی کو جنت میں قیام کرنے کا حکم ہوا۔ اے آدم ! تو اور تیری بیوی جنت میں قیام کرو اور اس درخت کے سوا تم جو چاہو کھا پی سکتے ہو۔ ہاں اگر تم اس کے قریب چلے گئے تو ظالموں کی صف میں شامل ہوجاؤ گے۔ 1 جنت میں رکھنے کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ جنت کی سہولتوں، بہاروں اور نعمتوں کو اچھی طرح دیکھ لیں اور ان سے لطف اندوز ہولیں۔ تاکہ دنیا کی عارضی نعمتوں کو جنت کے مقابلے میں خاطر میں نہ لائیں اور دوبارہ یہاں آنے کی کوشش کریں۔ 2 شاید اس کی یہ بھی حکمت ہو کہ وہ آسمانی نظام کا براہ راست مشاہدہ کریں تاکہ بحیثیت خلیفہ زمین کے انتظامات کرنے میں انہیں سہولت رہے۔ 3 بطور آزمائش اس درخت سے اس لیے منع کیا گیا کہ وہ خدا کے منع کردہ امور سے بچنے کی تربیت پائیں اور غلطی ہونے کی صورت میں معذرت کا رویہ اختیار کریں۔ 4 اس میں یہ حکمت بھی ہوسکتی ہے کہ انہیں شیطان کے ساتھ عداوت اور دشمنی کا مزید مشاہدہ ہو۔ تاکہ دنیا میں جا کر شیطانی اثرات و حرکات سے بچنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہیں۔ آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ کو جنت میں ٹھہراتے ہوئے کھلی اجازت عنایت فرمائی گئی کہ جنت میں جہاں سے چاہو اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہو لیکن ایک بات یاد رکھو کہ اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم ظالموں میں شمار ہوگے۔ جنت میں وہ کون سادرخت تھا جس کے قریب نہ جانے سے منع کیا گیا اس کے بارے میں قرآن مجید اور حدیث مبارکہ میں کوئی وضاحت موجود نہیں بعض مفسرین نے جو کچھ لکھا ہے وہ محض اسرائیلی روایات اور اٹکل پچو ہیں۔ قرآن مجید میں کئی بار یہی الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ اس درخت کے قریب جاؤگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے یہاں اہل علم نے ظلم کے مختلف معانی بیان کیے ہیں لیکن جوہری اعتبار سے سب کا ایک ہی معنیٰ بنتا ہے کہ کسی چیز کو اس کی اصلیت سے آگے پیچھے کرنا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ١٩۔ قرآن کریم نے اس درخت کا نام نہیں لیا کیونکہ درخت کا نام لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اصل بات یہ تھی کہ انہیں صرف منع کرنا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام حلال چیزوں کے استعمال کی اجازت دے دی تھی اور ممنوعات کے استعمال سے روک دیا تھا ۔ ممنوعات کی حد اس لئے ضروری تھی تاکہ انسان کو معلوم ہوجائے کہ وہ اس سے آگے نہیں جاسکتا اور اس کو رادہ واختیار کی جو آزادی دی گئی ہے اس کو استعمال کرکے وہ اپنی خواہشات اور میلانات پر کنٹرول کرنا سیکھے ۔ اور خواہشات اور میلانات پر برتری حاصل کرے ۔ وہ حیوانات کی طرح خواہشات کا غلام نہ ہو بلکہ خواہشات کا حاکم ہو ۔ کیونکہ ایک انسان اور حیوان میں فرق ہی یہ ہے کہ انسان خواہشات پر قابو رکھتا ہے اور حیوان خواہشات پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا ۔ اب ابلیس اپنا وہ کام شروع کرتا ہے جس کے لئے اس نے اپنے آپ کو وقف کرلیا ہے ۔ یہ انسان جسے اللہ نے یہ اعزاز دیا اور جس کی تخلیق کا اعلان عالم بالا کی اس عظیم تقریب میں کیا گیا ‘ جسے تمام فرشتوں نے سجدہ ریز ہو کر سلامی دی اور جس کے سامنے سجدہ ریز نہ ہونے کی بنا پر ابلیس کو عالم بالا سے خارج البلد کیا گیا ۔ یہ مخلوق اپنے اندر دو صلاحیتیں رکھتی ہے ۔ یہ دونوں جانب جاسکتی ہے اور اس مخلوق میں بعض کمزور یونٹ بھی ہیں جن سے اسے پکڑا جاسکتا ہے الا یہ کہ وہ امر الہی پر کاربند ہوجائے ۔ ان کمزور مقامات سے اس پر حملہ کیا جاسکتا ہے اور اس پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ ان کمزور نکات میں سے ایک ہے شہوات نفسانیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا دیکھئے شیطان ان نکات سے کس طرح انسان پر قابو پاتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت آدم اور ان کی بیوی کا جنت میں رہنا اور شیطان کے ورغلانے سے شجرۂ ممنوعہ کو کھانا پھر وہاں سے دنیا میں اتارا جانا شیطان تو مردود اور ذلیل ہو کر نکالا گیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ جنت میں رہو اور خوب بلا روک ٹوک اس میں سے کھاؤ بس اتنی پابندی ہے کہ فلاں درخت کے پاس نہ جانا اس میں نہی کو مؤکد فرمایا کہ کھانا تو کیا اس کے پاس بھی نہ جانا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان دونوں سے پہلے فرمایا تھا کہ (یٰٓاَدَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّکَ وَلِزَوْجِکَ فَلاَ یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقیٰ ) شیطان اس فکر میں تھا کہ خود تو جنت سے نکلا ہی ہے ان کو بھی وہاں سے نکلوائے چناچہ وہ تاک میں لگا رہا اور ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ دیکھو تمہیں اس درخت کے کھانے سے جو منع فرمایا ہے اس کا اصلی سبب یہ ہے کہ اس درخت میں سے جو شخص کھالے گا وہ فرشتہ بن جائے گا اور اسے یہاں ہمیشہ رہنے کی دولت مل جائے گی۔ اور اس نے قسم کھائی کہ میں تمہاری خیر خواہی کی بات کر رہا ہوں جھوٹی قسم کھائی اور فرشتہ بن جانے کی اور ہمیشہ رہنے کی بات ان کے سامنے رکھی وہ اس کی باتوں میں آگئے اور فریب خوردہ ہو کر اس درخت میں سے کھا بیٹھے، ابھی ٹھیک طرح سے کھانے بھی نہ پائے تھے اس درخت کو چکھا ہی تھا کہ ان کے جسم سے کپڑے گرگئے اور ایک دوسرے کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اپنی شرم کی جگہوں کو ڈھکنے کے لیے جنت کے پتے لے کر اپنے جسموں پر جوڑنے لگے (جس سے اسی وقت ظاہر ہوگیا کہ یہاں ہمیشہ رہنا تو کجا اس درخت کو کھا کر یہاں کے کپڑے تک جسم پر نہیں رہ سکتے) ۔ حضرت آدم و حواء کا گناہ پر نادم ہونا اور توبہ کرنا : اللہ جل شانہٗ نے دونوں کو پکارا کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کیا تھا اور کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا بلاشبہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے، دونوں حضرات سچے مومن تھے بغیر کسی حیل و حجت کے اپنا قصور مان لیا اور گناہ کا اقرار کرلیا۔ اور مغفرت طلب کی اور رحمت کی درخواست پیش کردی اور کہا۔ (رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا سکتہ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) (اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر آپ نے ہماری بخشش نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم تباہ کاروں میں سے ہوجائیں گے) اللہ جل شانہٗ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، جیسا کہ سورة بقرہ میں فرمایا ہے۔ (فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِیْمُ ) حضرت آدم اور حضرت حواء ( علیہ السلام) کی خطا تو معاف ہوگئی لیکن چونکہ انسان کی تخلیق اسی لیے تھی کہ اسے زمین کی خلافت سونپی جائے گی اور زمین پر اسے آنا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے جنت سے اتار کر دنیا میں بھیج دیا۔ (قَالَِ اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍٍ عَدُوٌّ) تم یہاں سے اتر جاؤ تم میں بعض بعض کے دشمن ہوں گے۔ (وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ الیٰ حِیْنٍ ) اور تمہارے لیے زمین میں ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک وقت تک نفع حاصل کرنا ہے۔ چناچہ زمین میں آگئے اور بودو باش شروع ہوگئی۔ ہر شخص آتا ہے اور مدت مقررہ تک رہتا ہے اور کچھ نفع حاصل کرتا ہے پھر مرجاتا ہے اور زمین کے اندرچلا جاتا ہے۔ پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو اسی زمین سے نکل کھڑے ہوں گے اور حساب و کتاب کے لیے جمع ہوں گے اسی کو فرمایا۔ (فِیْھَا تَحْیَوْنَ وَفِیْھَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْھَا تُخْرَجُوْنَ ) حضرت آدم اور حضرت حوا ( علیہ السلام) کے قصہ اور ابلیس کی شرارت اور شقاوت کے واقعات کے متعلق بہت سی چیزیں سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں اور وہاں فوائد ضرور یہ متعلقہ واقعہ حضرت آدم (علیہ السلام) لکھ دیئے گئے ہیں (انوار البیان ج ١) من شاء فلیراجع۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

19 اور اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اے آدم (علیہ السلام) تم اور تمہاری زوجہ اس جنت میں سکونت اختیار کروا ور اس میں رہو سہو پھر جس جگہ سے چاہو تم دونوں کھائو لیکن دیکھو اس مخصوص درخت کے قریب نہ جانا اور نہ تم ظالم اور نامناسب کام کرنے والوں میں شمار کئے جائو گے اور تم نافرمان قرار دیئے جائوگے۔ یعنی گیہوں یا انگور کے درخت میں سے کچھ نہ کھانا ورنہ خطا کاروں میں تمہارا شمار ہوجائے گا اور نامناسب کام کرنے والے قرار دے دیئے جائوگے۔