Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 198

سورة الأعراف

وَ اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی لَا یَسۡمَعُوۡا ؕ وَ تَرٰىہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ وَ ہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۱۹۸﴾

And if you invite them to guidance, they do not hear; and you see them looking at you while they do not see.

اور ان کو اگر کوئی بات بتلانے کو پکارو تو اس کو نہ سنیں اور ان کو آپ دیکھتے ہیں کہ گویا وہ آپ کو دیکھ رہے ہیں اور وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لاَ يَسْمَعُواْ إِن تَدْعُوهُمْ لاَ يَسْمَعُواْ دُعَأءَكُمْ وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لاَ يُبْصِرُونَ and you will see them looking at you, yet they see not. meaning, they have eyes that stare as if they see, although they are solid. Therefore, the Ayah treated them as if they had a mind (saying, Tarahum, instead of Taraha), since they are made in the shape of humans with eyes drawn on them.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

198۔ 1 اس کا وہی مفہوم ہے جو آیت 193 کا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩٦] مجسموں کی کیفیت :۔ اس آیت میں پھر مشرکوں کے مجسموں کا ذکر ہے کہ وہ ان کی آنکھیں ایسی موٹی موٹی اور کھلی ہوئی بناتے ہیں جن سے آپ کو ایسا معلوم ہو کہ وہ آپ کو دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہیں حالانکہ ان میں بصارت نام کو نہیں ہوتی۔ نیز اس آیت کے مخاطب خود مشرکین اور منکرین بھی قرار دیئے جاسکتے ہیں جو ظاہری آنکھوں سے تو دیکھتے معلوم ہوتے ہیں لیکن دل کی آنکھوں سے کچھ نہیں دیکھتے اور اپنی بصیرت سے کوئی کام نہیں لیتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ ۔۔ : یعنی مشرکین اپنے بتوں کی صورتیں بناتے وقت ان کی آنکھیں ایسی بناتے کہ ان کی طرف دیکھنے والے کو ایسا معلوم ہو کہ وہ سچ مچ دیکھ رہے ہیں، مگر جب وہ بےجان بت ہیں تو دیکھیں گے کیسے ؟ (ابن جریر) یا آیت کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین بظاہر تو آنکھیں رکھتے ہیں مگر بصیرت کے اندھے ہیں، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ (ابن کثیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنْ تَدْعُوْہُمْ اِلَى الْہُدٰى لَا يَسْمَعُوْا۝ ٠ ۭ وَتَرٰىہُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَہُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ۝ ١٩٨ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٩٨) اور اگر ان کو حق کی طرف بلاؤ تو چوں کہ وہ مردہ اور بےروح ہیں کسی بات کا بھی جواب نہیں دیں گے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان بتوں کو دیکھتے ہیں گویا کہ آنکھیں کھول کر آپ کو دیکھ رہے ہیں مگر وہ تو بےجان ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:198) وان تدعوہم الی الھدی۔ ملاحظہ ہو (7:193) ۔ اگر یہاں ہم کی ضمیر مشرکون کی طرف راجع ہے جیسا کہ الحسن کا قول ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا۔ کہ اگر تم ان (مشرکین) کو ہدایت کی طرف پکارو تو وہ نہیں سنیں گے اور تو ان کو دیکھے گا کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں لیکن کچھ دیکھ پا نہیں رہے (یونہی پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ لیکن حقیقت میں پکار کو سمجھ نہیں رہے) ۔ لیکن اکثر مفسرین کے نزدیک ہم کی ضمیر کا مرجع وہ اصنام و اوثان ہیں جن کو مشرکین اللہ کے شریک ٹھہرا رہے تھے۔ اور مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ (یا ہدایت کے لئے بلاؤ) تو اپنی مصنوعی آنکھوں سے معلوم دیں گے کہ دیکھ رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اس قابل ہی نہیں کہ دیکھ سکیں۔ یہ مضمون آیت 1:53 کے بعد دوبارہ لایا گیا ہے کہ ان بتوں کی لاچارگی اور بےبسی ان کے ذہن نشین کرائی جائے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی مشرکین نے اپنے بتوں کی صورتیں بناتے وقت ان کیا آنکھیں ایسی بناتے کہ ان کی طرف دیکھنے والے کو ایس امعلوم ہو کہ وہ سچ مچ دیکھ کر رہے ہیں مگر جب درحقیقت دیکھنے والے کو ایسامعلوم ہو کہ وہ سچ مچ دیکھ کر رہے ہیں مگر جب در حقیقت وہ بےجان بت ہیں تو دیکھوں گے کیسے ( ابن جریر) یا آیت کے معنی یہ کہ مشرکین بظاہر تو آنکھیں رکھتے ہیں مگر بصیرت کے اندھے ہیں اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ( جامع البیان، ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ اوپر جہلاء مشرکین سے محاجہ بلیغہ تھا چونکہ باوجود اس محاجہ کے بھی وہ لوگ غایت عناد سے اپنی جہالت پر مصر رہتے تھے جو مظنہ ہے غصہ کا اسلیے آگے رسول اللہ کو حکم ہے ملاطفت کا اور غصہ آجانے پر تعلیم استعاذہ کا۔ اور بیان ہے ان کے مبتلائے غی رہنے کا جس سے اقناط کلی ہوجائے تاکہ غصہ نہ آئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

معبود ان باطلہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں نہ عبادت گزاروں کی مدد کرسکتے ہیں اوپر کی آیت میں اولاد کے سلسلہ میں شرک اختیار کرنے کا ذکر تھا ان آیات میں بھی مشرکین کو تنبیہ فرمائی ہے اور شرک اختیار کرنے میں جو انہوں نے حماقت کی ہے اسے بیان فرمایا ہے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اسی نے سب کچھ پیدا فرمایا جس نے سب کچھ پیدا فرمایا وہی عبادت کے لائق ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود اپنے خالق جل مجدہ کی مخلوق ہیں وہ کیسے عبادت کے مستحق ہوگئے ؟ مشرکین کا یہ طریقہ ہے کہ جب غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ یہ آڑے وقت میں ہماری مدد کریں گے یہ بھی حماقت کی بات ہے جن کو اللہ کا شریک بناتے ہیں وہ ان شرک کرنے والوں کی کچھ مدد نہیں کرسکتے، ان کی مدد کرنا تو در کنار وہ تو اپنی مدد کرنے سے عاجز ہیں اگر کوئی شخص انہیں توڑ دے پھوڑ دے تو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ انہوں نے جو مورتیاں بنا رکھی ہیں وہ بےجان صورتیں ہیں نہ اپنے پاؤں سے چل سکتے ہیں نہ اپنے ہاتھوں سے پکڑ سکتے ہیں نہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں اور نہ اپنے کانوں سے سن سکتے ہیں ان عاجزوں کو اللہ کا شریک بنانا اور ان سے مدد کی امید کرنا سراپا حماقت اور بےعقلی ہے ان کو پکارو تو بات نہ سنیں اور ہدایت کا راستہ بتاؤ تو اسے اختیار نہ کریں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ بظاہر اپنی مصنوعی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور حقیقت میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا کیونکہ ان کی آنکھیں اصلی نہیں ہیں جن سے وہ دیکھیں، اور کان اصلی نہیں ہیں جن سے وہ سنیں، ان بتوں کو خود ہی تراشتے اور خود ہی اٹھاتے اور رکھتے ہیں اور انہیں پوجتے ہیں۔ یہ حماقت اور شقاوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے معبودوں کا عجز ظاہر فرمایا، اور ساتھ ہی اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب فرمایا کہ ان سے کہہ دیجیے کہ تم اپنے معبودوں کو بلالو اور تم سب مل کر مجھے نقصان پہنچانے کی جو بھی تدبیر کرسکتے ہو کرلو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو ، مطلب یہ ہے کہ یہ معبود ان باطلہ اور ان کی پرستش کرنے والے آپ کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ مشرکین چونکہ اپنے معبودوں کے شر اور ضرر سے ڈراتے تھے۔ کمافی سورة الزمر (وَیُخَوِّفُوْنَکَ بالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ) اس لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کو چیلنج دلوا دیا کہ تم اور تمہارے معبود جو کچھ کرسکتے ہوں کرلیں۔ ان لوگوں کا عجز ظاہر فرما کر ساتھ ہی معبود حقیقی کا مددگار ہونا بیان فرمایا کہ اللہ میرا ولی ہے جس نے کتاب نازل فرمائی اور وہ اپنے نیک بندوں کی مدد فرماتا ہے اور ان کی حفاظت اور حمایت فرماتا ہے جو اس کا ہوگا دنیا و آخرت میں اس کی حفاظت فرماتا ہے (وَ ھُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِیْنَ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

198 اور ان کی عاجزی اور درماندگی کی تو یہ حالت ہے کہ اگر تم ان کو کسی بھلی بات بتانے اور ان کی صحیح رہنمائی کے لئے بھی بلائو تب بھی وہ کچھ نہیں سنتے یعنی سننے سے بالکل عاجز ہیں۔ اور اے مخاطب تو ان کو دیکھتا ہے جیسے وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھ رہے۔ مطلب یہ ہے کہ بت پرست بتوں میں انسانی چہرہ بناتے ہیں اور کان اور آنکھیں وغیرہ تراشتے ہیں دیکھنے والے کو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ دیکھنے والے کو دیکھ رہا ہے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتا وہ ایک پتھر کا محض مجسمہ ہوتا ہے۔