Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 201

سورة الأعراف

اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمۡ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۰۱﴾ۚ

Indeed, those who fear Allah - when an impulse touches them from Satan, they remember [Him] and at once they have insight.

یقیناً جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Whispering of Shaytan and the People of Taqwa Allah says; إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَواْ إِذَا مَسَّهُمْ طَايِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُواْ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ and (indeed) they then see (aright). they become aright and aware of the error of their ways. A Brethren of Devils among Mankind lure to Falsehood Allah said next,

جو اللہ سے ڈرتا ہے ۔ شیطان اس سے ڈرتا ہے طائف کی دوسری قرأت طیف ہے ۔ یہ دونوں مشہور قرأت یں ہیں دونوں کے معنی ایک ہیں بعض نے لفظی تعریف بھی کی ہے ۔ فرمان ہے کہ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جنہیں اللہ کا ڈر ہے جو نیکیوں کے عامل اور برائیوں سے رکنے والے ہیں انہیں جب کبھی غصہ آ جائے ، شیطان ان پر اپنا کوئی داؤ چلانا چاہے ، ان کے دل میں کسی گناہ کی رغبت ڈالے ، ان سے کوئی گناہ کرانا چاہے تو یہ اللہ کے عذاب سے بچنے میں جو ثواب ہے اسے بھی یاد کر لیتے ہیں رب کے وعدے وعید کی یاد کرتے ہیں اور فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں ، توبہ کر لیتے ہیں ، اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطانی شر سے پناہ مانگنے لگتے ہیں اور اسی وقت اللہ کی جناب میں رجوع کر تے ہیں اور استقامت کے ساتھ صحت پر جم جاتے ہیں ۔ ابن مردویہ میں ہے کہ ایک عورت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی جسے مرگی کا دوارہ پڑا کرتا تھا ۔ اس نے درخواست کی کہ میرے لئے آپ دعا کیجئے آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں دعا کروں اور اللہ تمہیں شفا بخشے اور اگر چاہو تو صبر کرو اور اللہ تم سے حساب نہ لے گا ۔ اس نے کہا حضور میں صبر کرتی ہوں کہ میرا حساب معاف ہو جائے ۔ سنن میں بھی یہ حدیث ہے کہ اس عورت نے کہا تھا کہ میں گر پڑتی ہوں اور بیہوشی کی حالت میں میرا کپڑا کھل جاتا ہے جس سے بےپردگی ہوتی ہے اللہ سے میری شفا کی دعا کیجئے ۔ آپ نے فرمایا تم ان دونوں باتوں میں سے ایک کو پسند کر لو یا تو میں دعا کروں اور تمہیں شفا ہو جائے یا تم صبر کرو اور تمہیں جنت ملے اس نے کہا میں صبر کرتی ہوں کہ مجھے جنت ملے ۔ لیکن اتنی دعا تو ضرور کیجئے کہ میں بےپردہ نہ ہو جایا کروں ۔ آپ نے دعا کی چنانچہ ان کا کپڑا کیسی ہی وہ تلملاتیں اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا تھا ۔ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ اپنی تاریخ میں عمر و بن جامع کے حالات میں نقل کرتے ہیں کہ ایک نوجوان عابد مسجد میں رہا کرتا تھا اور اللہ کی عبادت کا بہت مشتاق تھا ایک عورت نے اس پر ڈورے ڈالنے شروع کئے یہاں تک کہ اسے بہکا لیا قریب تھا کہ وہ اس کے ساتھ کوٹھڑی میں چلا جائے جو اسے یہ آیت ( اذامسھم الخ ) ، یاد آئی اور غش کھا کر گر پڑا بہت دیر کے بعد جب اسے ہوش آیا اس نے پھر اس آیت کو یاد کیا اور اس قدر اللہ کا خوف اس کے دل میں سمایا کہ اس کی جان نکل گئی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے والد سے ہمدردی اور غم خواری کی ۔ چونکہ انہیں رات ہی کو دفن کر دیا گیا تھا آپ ان کی قبر پر گئے آپ کے ساتھ بہت سے آدمی تھے ۔ آپ نے وہاں جا کر ان کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی اور اسے آواز دے کر فرمایا اے نوجوان ! آیت ( وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ 46۝ۚ ) 55- الرحمن:46 ) جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے اس کیلئے دو دو جنتیں ہیں ۔ اسی وقت قبر کے اندر سے آواز آئی کہ مجھے میرے رب عزوجل نے وہ دونوں دو دو مرتبے عطا فرما دیئے ۔ یہ تو تھا حال اللہ والوں اور پرہیزگاروں کا کہ وہ شیطانی جھٹکوں سے بچ جاتے ہیں اس کے فن فریب سے چھوٹ جاتے ہیں اب ان کا حال بیان ہو رہا ہے جو خود شیطان کے بھائی بنے ہوئے ہیں ۔ جیسے فضول خرچ لوگوں کو قرآن نے شیطان کے بھائی قرار دیا ہے ایسے لوگ اس کی باتین سنتے ہیں ، مانتے ہیں اور ان پر ہی عمل کرتے ہیں ۔ شیاطین ان کے سامنے برائیاں اچھے رنگ میں پیش کرتے ہیں ، ان پر وہ آسان ہو جاتی ہیں اور یہ پوری مشغولیت کے ساتھ ان میں پھنس جاتے ہیں ۔ دن بدن اپنی بدکاری میں بڑھتے جاتے ہیں ، جہالت اور نادانی کی حد کر دیتے ہیں ۔ نہ شیطان ان کے بہکانے میں کوتاہی برتتے ہیں نہ یہ برائیاں کرنے میں کمی کرتے ۔ یہ ان کے دلوں میں وسو سے ڈالتے رہتے ہیں اور وہ ان وسوسوں میں پھنستے رہتے ہیں یہ انہیں بھڑکاتے رہتے ہیں اور گناہوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں وہ برے عمل کئے جاتے ہیں اور برائیوں پر مداومت اور لذت کے ساتھ جمے رہتے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

201۔ 1 اس میں اہل تقویٰ کی بابت بتلایا گیا ہے کہ وہ شیطان سے چوکنا رہتے ہیں۔ طائف یا طیف، اس تخیل کو کہتے ہیں جو دل میں آئے یا خواب میں نظر آئے۔ یہاں اسے شیطانی وسوسے کے معنی میں استعمال کیا گیا، کیونکہ وسوسہ شیطانی بھی خیالی تصورات کے مشابہ ہے۔ (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩٩] ربط مضمون کے لحاظ سے یہاں شیطانی انگیخت سے مراد ایسا شر یا شرارت سجھانا ہے جو کسی فتنہ و فساد پر منتج ہوتا ہو اور اس آیت میں روئے سخن آپ سے ہٹ کر تمام داعیان حق کی طرف ہوگیا ہے۔ مثلاً فلاں شخص نے جو تمہاری تردید کر کے یا دشنام طرازی کر کے تم پر جو وار کیا ہے اس کا تمہیں ضرور جواب دینا چاہیے اور شیطان کی طرف سے یہ وسوسہ داعی حق کے دل پر کئی دینی مصلحتوں کے خوبصورت لباس میں لپیٹ کر پیدا کیا جاتا ہے لیکن جب یہ اللہ سے ڈرنے والے داعی ایسے وسوسہ پر غور و فکر کرتے ہیں تو اس کے نتائج دیکھ کر ایک دم چونک پڑتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے بروقت انہیں غلط کام کا انجام سجھا دیا اور شیطان کے فتنہ سے بچا لیا۔ تاہم یہ حکم عام ہے خواہ کوئی داعی حق ہو یا نہ ہو اور شیطانی وسوسہ اللہ کی یاد سے غفلت یا کسی بھی گناہ کے کام کی رغبت پر محمول ہو۔ ہر صورت میں جب اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اس شیطانی وسوسہ کے انجام پر غور کرتے ہیں تو یکدم صحیح صورت حال ان کے سامنے آجاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے لگتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ۔۔ : ” طٰۗىِٕفٌ“ ” طَافَ یَطُوْفُ “ کا معنی ہے گھومنا چکر لگانا، تو ” طٰۗىِٕفٌ“ وہ خیال جو ذہن میں آتا ہے، رات خواب میں آنے والا کسی کا خیال بھی ” طَیْفٌ“ یا ” طٰۗىِٕفٌ“ کہلاتا ہے۔ قاموس میں اس کا ترجمہ غضب بھی کیا گیا ہے۔ ” مَسَّ یَمَسُّ (ع) “ کا معنی ہے چھونا، یعنی شیطان کی طرف سے آنے والے خیال یا غصے کے چھونے کے ساتھ ہی انھیں اللہ تعالیٰ کا جلال، آخرت کی جوابدہی اور شیطان کی دشمنی یاد آجاتی ہے، جس سے فوراً ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، ان میں بصیرت اور استقامت پیدا ہوجاتی ہے، وہ اسی وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہوئے اس وسوسے، خیال یا غصے کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں اور اس پر عمل سے باز رہتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ۝ ٢٠١ ۚ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ظرف زمان ہے۔ ( زجاج، ریاشی) (2) یہ ظرف مکان ہے۔ ( مبرد، سیبوبہ) (3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔ مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔ (1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں ( کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے گا۔ ( تفسیر حقانی) (2) ظرف مکان : اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی۔ ( تفسیر ضیاء القرآن) (3) اذا شرطیہ۔ اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے توتجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔ ( تفسیر ماجدی) طَّائِفَةُ وَالطَّائِفَةُ من الناس : جماعة منهم، ومن الشیء : القطعة منه، وقوله تعالی: فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] ، قال بعضهم : قد يقع ذلک علی واحد فصاعدا وعلی ذلک قوله : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] ، والطَّائِفَةُ إذا أريد بها الجمع فجمع طَائِفٍ ، وإذا أريد بها الواحد فيصحّ أن يكون جمعا، ويكنى به عن الواحد، ويصحّ أن يجعل کراوية وعلامة ونحو ذلك . الطائفۃ (1) لوگوں کی ایک جماعت (2) کسی چیز کا ایک ٹکڑہ ۔ اور آیت کریمہ : فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] تویوں کیوں نہیں کیا کہ ہر ایک جماعت میں چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا علم سیکھتے ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ کبھی طائفۃ کا لفظ ایک فرد پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، اور اگر مومنوں میں سے کوئی دوفریق ۔۔۔ اور آیت کریمہ :إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے چھوڑ دینا چاہا ۔ طائفۃ سے ایک فرد بھی مراد ہوسکتا ہے مگر جب طائفۃ سے جماعت مراد لی جائے تو یہ طائف کی جمع ہوگا ۔ اور جب اس سے واحد مراد ہو تو اس صورت میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جمع بول کر مفر د سے کنایہ کیا ہو اور یہ بھی کہ راویۃ وعلامۃ کی طرح مفرد ہو اور اس میں تا برائے مبالغہ ہو ) ( بصر) مبصرۃ بَاصِرَة عبارة عن الجارحة الناظرة، يقال : رأيته لمحا باصرا، أي : نظرا بتحدیق، قال عزّ وجل : فَلَمَّا جاءَتْهُمْ آياتُنا مُبْصِرَةً [ النمل/ 13] ، وَجَعَلْنا آيَةَ النَّهارِ مُبْصِرَةً [ الإسراء/ 12] أي : مضيئة للأبصار وکذلک قوله عزّ وجلّ : وَآتَيْنا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً [ الإسراء/ 59] ، وقیل : معناه صار أهله بصراء نحو قولهم : رجل مخبث ومضعف، أي : أهله خبثاء وضعفاء، وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ مِنْ بَعْدِ ما أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولی بَصائِرَ لِلنَّاسِ [ القصص/ 43] أي : جعلناها عبرة لهم، وقوله عزّ وجل : وَكانُوا مُسْتَبْصِرِينَ [ العنکبوت/ 38] أي : طالبین للبصیرة . ويصحّ أن يستعار الاسْتِبْصَار للإِبْصَار، نحو استعارة الاستجابة للإجابة، وقوله عزّوجلّ : وَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ تَبْصِرَةً [ ق/ 7- 8] أي : تبصیرا وتبیانا . الباصرۃ کے معنی ظاہری آنکھ کے ہیں ۔ محاورہ ہے رائتہ لمحا باصرا میں نے اسے عیال طور پر دیکھا ۔ المبصرۃ روشن اور واضح دلیل ۔ قرآن میں ہے :۔ فَلَمَّا جاءَتْهُمْ آياتُنا مُبْصِرَةً [ النمل/ 13] جن ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں پہنچیں یعنی ہم نے دن کی نشانیاں کو قطروں کی روشنی دینے والی بنایا ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ وَآتَيْنا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً [ الإسراء/ 59] اور ہم نے ثمود کی اونٹنی ( نبوت صالح) کی کھل نشانی دی میں مبصرۃ اسی معنی پر محمول ہے بعض نے کہا ہے کہ یہاں مبصرۃ کے معنی ہیں کہ ایسی نشانی جس سے ان کی آنکھ کھل گئی ۔ جیسا کہ رجل مخبث و مصعف اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے اہل اور قریبی شت دار خبیث اور ضعیب ہوں اور آیت کریمہ ؛۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ مِنْ بَعْدِ ما أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولی بَصائِرَ لِلنَّاسِ [ القصص/ 43] میں بصائر بصیرۃ کی جمع ہے جس کے معنی عبرت کے ہیں یعنی ہم نے پہلی قوموں کی ہلاکت کو ان کے لئے تازہ یا عبرت بنادیا آیت کریمہ ؛۔ وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ [ الصافات/ 179] حالانکہ وہ دیکھنے والے تھے میں مستبصرین کے معنی طالب بصیرت کے ہیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتہ ہے کہ بطور استعارہ استبصار ( استفعال ) بمعنی ابصار ( افعال ) ہو جیسا کہ استجابہ بمعنی اجابۃ کے آجاتا ہے اور آیت کریمہ ؛ وَكانُوا مُسْتَبْصِرِينَ [ العنکبوت/ 38]

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٠١) جو خدا سے ڈرتے ہیں جب ان کے دل میں کوئی خیال گزرتا ہے تو وہ اللہ کی یاد میں لگ جاتے ہیں اور گناہوں سے رک جاتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠١ (اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓءِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا) یعنی جن کے دلوں میں اللہ کا تقویٰ جاگزیں ہوتا ہے وہ ہر گھڑی اپنے فکر و عمل کا احتساب کرتے رہتے ہیں اور اگر کبھی عارضی طور پر غفلت یا شیطانی وسوسوں سے کوئی منفی اثرات دل و دماغ میں ظاہر ہوں تو وہ فوراً سنبھل کر اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جیسے خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اِنَّہٗ لَیُغَانُ عَلٰی قَلْبِیْ وَاِنِّیْ لَاَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ فِی الْیَوْمِ ماءَۃَ مَرَّۃٍ ) (١) میرے دل پر بھی کبھی کبھی حجاب سا آجاتا ہے اور میں روزانہ سو سو مرتبہ اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ لیکن یہ سمجھ لیجیے کہ ہمارے دل پر حجاب اور شے ہے جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر حجاب بالکل اور شے ہے۔ یہ حجاب بھی اس حضوری کے درجے میں ہوگا جو ہماری لاکھوں حضوریوں سے بڑھ کر ہے۔ یہاں صرف بات کی وضاحت کے لیے اس حدیث کا ذکر کیا گیا ہے ورنہ جس حجاب کا ذکر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ہم نہ تو اس کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس کی نوعیت کیا ہوگی اور نہ ہی اس کی مشابہت ہماری کسی بھی قسم کی قلبی کیفیات کے ساتھ ہوسکتی ہے۔ ہم نہ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تعلق مع اللہ کی کیفیت کا تصور کرسکتے ہیں اور نہ ہی مذکورہ حجاب کی کیفیت کا۔ بس اس تعلق مع اللہ کی شدت (intensity) میں کبھی ذرا سی بھی کمی آگئی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حجاب سے تعبیر فرمایا۔ (فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ ) جب وہ چوکنے ہوجاتے ہیں تو ان کی وقتی غفلت دور ہوجاتی ہے ‘ عارضی منفی اثرات کا بوجھ ختم ہوجاتا ہے اور حقائق پھر سے واضح نظر آنے لگتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

101: گناہ کی خواہش نفس اور شیطان کے اثرات سے بڑے بڑے پرہیزگاروں کو بھی ہوتی ہے، لیکن وہ اس کا علاج اس طرح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا دھیان کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، یعنی ان کو گناہ کی حقیقت نظر آجاتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ گناہ سے بچ جاتے ہیں، اور اگر کبھی غلطی ہو بھی جائے تو توبہ کی توفیق ہوجاتی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٠١۔ ٢٠٢۔ اللہ پاک نے جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بتلا دیا کہ اگر تمہارے دل میں شیطان کوئی وسوسہ ڈالے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنی چاہیے اس کے بعد اب عام لوگوں کے واسطے یہ بیان فرمایا کہ آدمی دو ہی قسم کے ہیں بعضے تو وہ ہیں جن کے دل میں خدا کا خوف ہے اور متقی ہیں گناہوں سے بچتے رہتے ہیں اور بعضے وہ جو کافر فاجر ہیں نہ ان کے دل میں خدا کا خوف ہے نہ وہ گناہوں سے بچتے ہیں تو اللہ پاک نے ان دونوں طرح کے آدمیوں کے حال کو یوں بیان فرمایا کہ جو لوگ متقی ہیں جب وہ شیطان کے وسوسہ میں پڑجاتے ہیں اور اس کے ورغلانے سے کوئی لغزش ان سے ہوجاتی ہے تو فورا وہ خدا کے عذاب کو یاد کر کے توبہ و استغفار کرلیتے ہیں ان کی شان میں یہ فرمایا کہ یہ لوگ صاحب بصیرت ہیں ان کے دلوں کے اندر آنکھیں ہیں جن سے یہ خدا کو دیکھتے ہیں اور پہچانتے ہیں۔ حافظ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں ایک بزرگ کے حال میں لکھا ہے کہ ایک جوان مسجد میں جاکر عبادت کیا کرتا گھر میں جاتے دفعہ اس کو یہ آیت یاد آگئی اور بےہوش ہو کر گر پڑا جب ہوش میں آیا تو پھر اس آیت کو یاد کیا اور مرگیا اور رات کو یہ دفن کیا گیا لوگوں نے قبر پر آکر نماز پڑہی پھر ان بزرگ نے پکار کر کہا کہ اے جوان ولمن خاف مقام ر بہ جنتان (٥٥: ٤٦) جس کا مطلب یہ ہے کہ جو خدا کا خوف کرتا ہے اسے دو جنتیں ملتی ہیں قبر کے اندر سے آواز آئی اللہ پاک نے اپنے وعدہ کے موافق دو حنتیں مجھے دی ہیں۔ پھر اللہ پاک نے اس دوسری قسم کے آدمیوں کا حال بیان فرمایا کہ جو لوگ کافر فاجر ہیں وہ اخوان الشیطین ہیں شیطان ان کو ہمیشہ گمراہی کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے اور یہ بھی اس کے ساتھ کھینچتے جاتے ہیں نہ شیطان ان کے بہکانے میں کمی کرتا ہے نہ یہ لوگ اس کی پیروی میں کمی کرتے ہیں۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر وبن العاص (رض) کی حدیث اوپر گذر چکی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے نتیجے کے طور پر وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے ١ ؎ اور اسی طرح صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر (رض) کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شیطان خود تو اپنا تخت سمندر میں بچھا کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے شیاطین کو لوگوں کے بہکانے کے لئے بھیجا کرتا ہے ٢ ؎ اس طرح صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ رہتا ہے جو اس کو نیک کام کی صلاح دیتا رہتا ہے اور ایک شیطان رہتا ہے جو اس کو برے کاموں کی رغبت دلاتا رہتا ہے ٣ ؎ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیتوں اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ اگرچہ شیطان سب لوگوں کے بہکانے کے لئے اپنے شیاطینوں کو بھیجتا رہتا ہے لیکن جو لوگ علم الٰہی میں ٹھہر چکے ہیں وہ اللہ کے فرشتہ کی صلاح کے ہمیشہ پابند رہتے ہیں اور جو لوگ علم الٰہی میں بدقرار پاچکے ہیں وہ ہمیشہ شیاطین کی رغبت کے پابند رہتے ہیں :۔ ١ ؎ صحیح مسلم ج ٢ ص ٢٣٥ باب حجاج آدم و موسیٰ (علیہما السلام) الخ ٢ ؎ صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٧٦ باب تحریش الشیطان الخ ٣ ؎ صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٧٦ باب تحریش الشیطان الخ

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:201) مسھم۔ من یمس (باب نصر) ماضی واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو چھوجائے۔ وہ ان کو پہنچائے۔ وہ ان کو الگ جائے۔ کبھی اس سے مراد قربت صنفی (جماع) بھی ہوتی ہے۔ مثلاً وان طلقتموھن من قبل ان تمسوہن (2:237) اور اگر تم عورتوں کو ان سے مجامعت سے پہلے طلاق دیدو۔ لازم اور متعدی دونوں صورتوں میں استعمال ہوتا ہے۔ طئف۔ وسوسہ۔ خطرہ ۔ پھرجانے والا۔ پھیرے جانے والا۔ پہلے معنی مجازی ہیں۔ اور دوسرے حقیقی طئف طوف سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ طوف کے معنی کسی چیز کے گرد چکر کاٹنا۔ قرآن میں ہے ۔ فلا جناھ علیہ ان یطوف بھما (2:158) اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے (اسی طرح خانہ کعبہ کے گرد چکر کاٹنے کو طواف کہتے ہیں ) اسی طرح جو شخص گھروں کے گرد اگر حفاظت کے لئے چکر لگاتا رہتا ہے اسے طائف کہتے ہیں۔ اور اسی سے جن، خیال ، حادثہ وغیرہ کو بطور استعارہ طائف بولتے ہیں ۔ جیسا کہ آیت ہذا میں ہے اذا مسہم طئف من الشیطن۔ جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے یا جہاں پڑگیا ان پر شیطان کا گزر۔ یعنی جو شیطان انسان پر چکر کاٹتا رہتا ہے اور اس کو شکار کرنا چاہتا ہے اس کا وسوسہ اور خطرہ اثر کر گیا۔ اور فطاف علیہم طئف من ربک (68:19) پھر پھیرا کر گیا اس پر کوئی پھیرا کرنے والا ۔ تیرے رب کی طرف سے۔ یعنی اس پر آفت پھر گئی۔ تذکروا۔ تذکر (باب تفعل) سے ماضی جمع مذکر غائب ۔ وہ چونک گئے۔ انہوں نے یاد کیا۔ (ما امر اللہ بہ ونہی ونہ جس کے کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہوا تھا اور جس سے اس نے منع فرمایا ہوا تھا) یا وہ پاگئے۔ سمجھ گئے۔ شیطان کے وسوسہ کو اور اس کی چال کو۔ مبصرون (تو فورا) ان کی آنکھیں کھل گئیں ۔ وہ حقیقت کو جان گئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی اسی وقت شیطان سے تعوذ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس وسوسہ اور خیالک کی اتباع کو چھوڑ دیتے ہیں۔ واضح رہ کہ نزغہ وسوسہ کی ابتدائی حالت کو کہتے ہیں اور اس سے متاثر ہونا ضروری نہیں ہے مگر طائف اس سوسہ کو کہتے ہیں جو انسان کے دل پر اثر انداز بھی ہوجائے کبیر)3 یعی ان میں بصیرت اور استقا مت کی حالت پیدا ہوجاتی ہے اور اس اقدام سے باز رہتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قرآن کریم ایک داعی کی نفسیاتی تسلی کے لیے ایک دوسرا تاثر بھی دیتا ہے کہ داعی کی مشکلات اس کے حق میں اللہ کے نزدیک سامان قبولیت ہیں اور شیطان کے وسوسوں اور اکساہٹؤں کے دفعیے کے لیے اہم ہتھیار تقوی اور ذکر الٰہی ہے۔ ۔۔۔۔ اس مختصر آیت میں عجیب تاثرات دئیے گئے ہیں۔ جو گہرے حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور یہ تاثرات قرآن کریم کے خوبصورت انداز کلام سے معلوم ہوتے ہیں۔ آیت کے آخر کو ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ فاذا ھم مبصرون۔ " انہیں اچانک نظر آنے لگتا ہے کہ صحیح طریق کار کیا ہے " یہ آخری فقرہ پوری آیت کو بیشمار معانی عطا کرتا ہے حالانکہ سابقہ آیات کے الفاظ میں ان معانی کے لیے کوئی لفظ اشارہ تک نہیں کرتا۔ اس آخری فقرے نے یہ بات بتائی کہ جب انسان کے احساس کو شیطانی خیال چھوتا ہے تو انسان کی فکر و نظر ایک مختصر وقت کے لیے معطل ہوجاتی ہے۔ لیکن تقویٰ ، خدا خوفی اور اللہ کی یاد اور خشیت الٰہی وہ گہرا رابطہ ہے جو دلوں کو اللہ سے جوڑے رکھتا ہے اور انہیں بار بار غفلت سے جگاتا ہے اور ہدایت دیتا رہتا ہے۔ اہل تقوی کو جب حقیقت یاد آجاتا ہے تو ان کی فکر و نظر اور شعور سے پردے اٹھ جاتے ہیں اور وہ اچانک وہ راہ دیکھ لیتے ہیں جن پر انہیں چلنا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان کا مس انسان کو اندھا کردیتا ہے اور اللہ کی یاد انسان کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ مس شیطان ظلمت اور تاریکی ہے اور اللہ کی طرف رجحان نور اور روشنی ہے۔ مس شیطان کا علاج صرف تقوی اور یاد لۃٰ سے ہوسکتا ہے اور جن لوگوں میں تقوی اور ذکر الہی ہو ان پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا۔ متقین کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب شیطان کے اثر سے برا خیال انہیں چھو بھی لے تو وہ چوکنے ہوجاتے ہیں اور صحیح راہ دیکھنے لگتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

شیطان سے بچنے والوں اور شیطان کے دوستوں کا طریقہ آیت بالا (وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ) میں فرمایا کہ جب شیطان کا وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ مانگئے، ان دو آیتوں میں شیطان سے بچنے والوں اور شیطان سے دوستی کرنے والوں کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ان کا طریقہ یہ ہے کہ جب شیطان ان کے دل میں کوئی وسوسہ ڈالے اور بہکانے کی کوشش کرے تو فوراً اللہ کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ ان کے عموم میں مطلقاً اللہ کا ذکر کرنا بھی شامل ہے اور اللہ کے عقاب وثواب کو ذہن میں لا کر شیطان کے وسوسوں سے بچنا اور ان پر عمل نہ کرنا بھی شامل ہے۔ اللہ کا ذکر شیطان کو دور کرنے کے لیے بہت بڑا ہتھیار ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ شیطان انسان کے دل پر مضبوطی کے ساتھ جماہوا ہے۔ سو جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب اللہ کی یاد سے غافل ہوتا ہے تو شیطان وسوسے ڈالنے لگتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ١٩٩) سورة (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ) میں جو (مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ ) فرمایا ہے اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ شیطان وسوسے ڈالتا ہے اور (اللہ کا ذکر کرنے پر) پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ (فَاِذَا ھُمْ مُّبْصِرُوْنَ ) یعنی تقویٰ اختیار کرنے والے جب شیطان کا وسوسہ آنے پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس سے استعاذہ کرتے ہیں تو اس سے فوراً چونک جاتے ہیں اور آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ شیطان کی شرارت فوراً واضح ہوجاتی ہے اور خطا و صواب کا پتہ چل جاتا ہے۔ متقین کا ذکر فرمانے کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو شیطانوں کے بھائی ہیں یعنی ان کے ساتھ ان کا خاص تعلق ہے وہ شیطان کے وسوسوں سے نہیں بچتے۔ بلکہ ان پر عمل کرتے ہیں۔ جب ان کا یہ حال ہے تو شیاطین ان کو گمراہی میں برابر کھینچے لیے جاتے ہیں اور ان کو گمراہ کرنے پر گمراہی میں آگے بڑھانے کے بارے میں کوتاہی نہیں کرتے اور یہ بالکل ظاہر بات ہے کہ جس نے شیطان کا تھوڑا ساتھ دیا اس کی بات کو مانا تو وہ اس کو برابر گمراہی کے راستہ پر چلاتا رہتا ہے اور اسے دوزخ میں پہنچا کر چھوڑتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

191: طائف سے وسسہ مراد ہے۔ اللہ سے پناہ مانگنا متقی اور نیک لوگوں کا دستور ہے۔ جب ان کے دل میں کوئی شیطانی وسوسہ آتا ہے تو فوراً ہوشیار ہوجاتے ہیں اور غلط اور صحیح کو فوراً پہچان لیتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

201 بلاشبہ جو لوگ صاحب تقویٰ اور خدا ترس ہوتے ہیں جب کبھی ان کو کوئی خطرہ اور وسوسہ شیطان کی طرف سے محسوس ہوتا ہے اور شیطانی خیال ان کے قلب کو چھوتا ہے تو وہ چونک جاتے ہیں اور ہوشیار ہوجاتے ہیں اور خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں اور یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ ہٹ جاتا ہے۔ یعنی عام طور سے لوگ شیطانی وسوسوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں لیکن اہل تقویٰ پر جب اس قسم کا کوئی وسوسہ گزرتا ہے تو وہ خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں یا گناہ کے انجام کو یاد کرکے چونک جاتے ہیں اور ان کو صحیح راہ نظر آنے لگتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) سمیع علیم پر فرماتے ہیں یعنی نیک کام کو کہئے اور جاہلوں سے پرے رہئے لڑنے نہ لگئے نہیں تو آپ بھی جاہل بنا اور کار رحمان میں کار شیطان آیا اور اگر ایک وقت شیطان جھڑپ کرادے تو جب یاد آوے شتاب پناہ پکڑے اللہ کی اور سنبھل جاوے اپنے جہل میں چلے نہ جائے۔ 12